Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors
Abdul Haleem Mansoor
Abdul Majid Daryabadi
Abdul Mateen Muniri
Abdur Raqeeb M.J Nadwi
Ahmed Hatib Siddiqui
Asif Jilani
Athar Hashmi
Bhatkallys
Dr Badrul Hasan Qasmi
Dr Haneef Shabab
Dr. F Abdur Rahim
Dr. Tahir Masud
Hafiz Naumani
Kaldip Nayar
Masoom Muradabadi
Masud Ahmed Barkati
Mohammed Mateen Khalid
Nizamuddin Nadwi
Riyazur Rahman Akrami Nadwi
Suhail Anjum
Adab Wa Sahafat May Zuban Ki Ahmiat
ادب وصحافت میں زبان کی اہمیت معصوم مرادآبادی زبان بنیادی طورپر خیالات کی ترسیل اور مکالمہ قایم کرنے کا ذریعہ ہے۔اس کے ساتھ ساتھ یہ ایک تہذیبی اور سماجی ضرورت بھی ہے۔زبان کا تعلق صوتیات، عمرانیات، طبعیات، تاریخ اور جغرافیہ جیسے علوم سے ہے۔زبان ہی انسان کو دیگر مخلوقات سے ممیز کرتی ہے۔زبان سے ہی انسان کی علمی، اخلاقی اور تہذیبی شناخت کا تعین ہوتا ہے۔جو کچھ ہمارے دل ودماغ میں جنم لیتا ہے، اسے ہم زبان کے ذریعہ ہی دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔اگر ہمارے پاس ایک مرصع اور مربوط زبان نہیں ہوگی تو ہم اپنے مخاط
Maut Ka Waqt . Abdul Majid Daryabadi
تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ پچھلے مہینہ کے وسط میں الہ آباد سے خبر آئی، کہ ہائیکورٹ کے ایک مشہور جج، مسٹر بنرجی، اچھے خاصے توانا وتندرست، ایک دعوت سے فارغ ہوکر، رات کو ساڑھے گیارہ بجے سونے لیٹے، اور سوتے کے سوتے رہ گئے۔صبح آدمی جگانے گیا، تومعلوم ہوا، دیرہوئی روح پرواز کرچکی ہے!…… الہ آباد صوبہ کا صدر مقام، بڑے سے بڑے ڈاکٹر موجود، فون پر خبر پاکر، موٹر میں، دَم بھر میں آسکتے تھے۔ جج صاحب خود اتنے معزز عہدہ پر۔ ہر دوا اور ہر تدبیر پر سب کچھ خرچ کرس
Maslaki IKhtilaf Ki Had
بر صغیر کے مسلمانوں میں مسلکی بنیاد پر آپس میں منافرت ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ لیکن اس کو اس قدر بڑھا دینا کہ مخالف مسلک والوں کی دینی منفعت متاثر ہو جائے اور اس کو دین داری سمجھنا کہاں تک صحیح ہے ؟ ایک بار کا واقعہ ہے کہ مملکت سے سعودی علماء کا ایک وفد ہندوستان گیا ہوا تھا۔ را قم الحروف بھی ان کے ساتھ تھا۔ وفد ایک شہر پہنچا تو ان سے دو مسلک کے لوگ ملنے آئے اور دونوں نے اپنے اپنے مدرسے میں آنے کی دعوت دی جسے وفد نے قبول کر لیا۔ دوسرے دن ایک مدرسے کے لوگ وفد کو اپنے یہاں لے گئے ، مدرسے
Baray Alfaz Ka Bayan Ho Jay... Ahmed Hatib Siddiqui
اِلٰہ آباد (بھارت) سے تعلق رکھنے والے ممتاز ماہر لسانیات پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم نے نوی ممبئی (بھارت) سے تعلق رکھنے والے ماہرِ زبان جناب نادر خان سرگروہ کی، گزشتہ جمعے کے کالم میں شائع ہونے والی، رائے سے اختلاف کرتے ہوئے اپنا تبصرہ ارسال فرمایا ہے: ’’نادر خان سرگروہ صاحب کا یہ فرمانا درست نہیں ہے کہ لفظ ’نو‘ اصلاً سنسکرت کا ہے۔ ماہرین اشتقاقیات اس کو اصلاً پروٹو اِنڈو یورپین (PIE) کا بتاتے ہیں۔ یعنی اِس کا وجود اُس زبان میں تھا جس سے ہند، ایران اور یورپ کی ت
Sab Say Bada Dushman by Abdul Majid Daryabadi
سچی باتیں (۴؍نومبر ۱۹۳۲ء)۔۔۔ سب سے بڑا دشمن تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی بچپن میں جب چلتے چلتے ، رات میں اینٹ کی، پتھرکی، کرسی کے پایہ کی، کسی چیز کی ٹھوکر لگ جاتی تھی، اورآپ گرپڑتے تھے، تو بے اختیار غصہ اُسی چیز پر آجاتاتھا، یا نہیں؟ اورآپ اسی کو بُرا بھلا کہنا شروع کردیتے، بلکہ کبھی کبھی مار بھی بیٹھتے تھے، یا نہیں؟ اسے خوب یادکرلیجئے، اور اگر اپنا بچپن کا زمانہ نہ یادآئے ، تو اس وقت اس کا مشاہدہ اپنے بچوں یا دوسروں کے بچوں میں کرلیجئے۔ اب آپ ذرا اور بڑے ہوگئے۔ لکھنے
Hum To Chalay Sursral... by Ahmed Hatib Siddiqui
آج کی بات شروع کرنے سے پہلے اپنی لاعلمی کا اعتراف کرتے چلیں۔ اپنے پچھلے کالم میں ہم نے لکھا تھا کہ ’نو‘ فارسی کا ہے۔ کالم پڑھ کر نَوی ممبئی (بھارت) سے تعلق رکھنے والے مشہور ماہر لسانیات محترم نادر خان سرگروہ نے اپنے ایک صوتی پیغام کے ذریعے سے مطلع کیا: ’’لفظ ’نو‘ اصلاً سنسکرت ہے اور یہ فارسی اور سنسکرت دونوں میں مشترک ہے، جیسے بیشتر الفاظ مشترک ہیں۔ نو کے معنیٰ ہیں نیا، نُتن۔ اسی سے ’نوورش‘ نیا سال اور ’نوبھارت‘ نیا بھارت
Ittifaq Alfaz wa Maani By Dr. F Abdur Raheem
جلوہ ہائے پابہ رکاب۔۔۔ ( 8) اتفاق الفاظ و اختلاف معانی ۔۔۔ ۔۔۔ تحریر: ڈاکٹر ف۔ عبد الرحیم کوئی چالیس پینتالیس سال پہلے کی بات ہے۔ حج کے ایام تھے اور میں منی میں تھا۔ آج کل حاجیوں کے لیے جو سہولتیں میسر ہیں اس زمانے میں ان کا خواب و خیال میں ہی تصور کیا جاسکتا تھا۔ ان دنوں منی میں پانی کی بہت قلت ہوتی تھی اور یمنی لوگ ٹینوں میں پانی لا کر بیچتے تھے۔ میں اپنے خیمے میں بیٹھا ہوا تھا۔ خیمے میں اردو اور تمل بولنے والے حاجی تھے، ایک یمنی سقا پانی بیچتے ہوئے وہاں پہنچا، اس نے آکے پوچھا: ت
ْAnbiya Ki Dawat... Abdul Majid Daryabadi
سورۂ یٓس میں، ایک شخص اپنے ہم قوموں سے، وقت کے پیغمبروں پر ایمان لانے کی سفارش کرتاہے، اور پیغمبروں کا وصف مشترک یہ بتاتاہے، قال یاقوم اتبعوا المرسلین اتبعوا مَن لا یسألکم أجرًا۔ کہ یہ وہ حضرات ہیں ، جو اپنی شبانہ روز کی مشغولیت کی کوئی اُجرت نہیں مانگتے، اپنی دن رات کی خدماتِ دینی کا کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتے۔ اسی طرح سورۂ شعراءؔمیں حضرت نوحؑ، حضرت ہودؑ، حضرت صالحؑ، حضرت لوطؑ، حضرت شعیبؑ، پانچ انبیاء جلیل القدر کی زبان سے یہ قول نقل فرمایاگیاہے، وما أسألکم علیہ من أجر اِن
Ram Manidr Ke Bad Uniform Civil Code
بی جے پی کے ایجنڈے میں یوں تو بہت سے ایسے اہم نکات ہیں جن کی بنیاد پر وہ عوام کے ایک طبقے کو اپنا ہمنوا بنانے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ لیکن ان میں تین کلیدی ایجنڈے رہے ہیں۔ وہ ہیں ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر، جموں و کشمیر سے دفعہ 370 کا خاتمہ اور ملک میں یکساں سول کوڈ کا نفاذ۔ اس نے دو ایجنڈے پورے کر لیے ہیں۔ یعنی ایودھیا میں رام مندر بن گیا اس کا افتتاح بھی ہو گیا۔ جموں و کشمیر سے دفعہ 370 کا خاتمہ بھی ہو گیا۔ اب اس کی نظر ملک میں یکساں سول قانون یا یکساں سول کوڈ نافذ کرنے پر ہے۔ اس بارے میں وقتا
Nau Bayahta Alfaz. Ahmed Hatib Siddiqui
غلطی ہائے مضامین۔۔۔ نو بیاہتا الفاظ۔۔۔ - احمد حاطب صدیقی ہفتۂ رفتہ کے کالم کی بات ہے۔ بال بچوں والے ایک بیاہتا بزرگ نے لفظ ’نوبیاہتا‘ پر اعتراض جڑ دیا۔ دلیل اُن کی درست ہے۔ مگر عرض ہے کہ بے شک ’نو‘ فارسی کا ہے اور ’بیاہتا‘ ہندی کا۔ لیکن اب تو اُردو نے ان دونوںکا بیاہ کرکے ’نوبیاہتا‘بنا لیا ہے۔ اُردو میں ایسے اوربھی بہت سے بیاہتا اور نوبیاہتا مرکبات مل جاتے ہیں۔ مشتاق احمد یوسفی کی ’’زرگزشت‘‘ میں چاچا فضل دین کے
Dr. Rafiuddin Hashimi Ki wafat
آج ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی صاحب کی رحلت کی خبر سن کربہت رنج ہوا، کتاب وتحقیق کی ایک عظیم شخصیت سےاردودنیا محروم ہوگئی، ابھی دو ماہ قبل آپ کی کتابیات اقبال کے تازہ ایڈیش کا اجرا ہوا تھا، جسے آپ کا بہت عظیم کارنامہ شمار کیا گیا تھا۔ مرحوم کو قریب سے جاننے والے ان شاء اللہ آپ کے علم و تحقیق، شرافت واخلاق اور سیرت کے قابل اسوہ روشن پہلؤوں کو اجاگر کریں گے، اقبال کے محققین تو بہت ہوئے ہیں لیکن ان میں اقبال کی فکر سے مکمل آہنگی رکھنے والی شخصیات شاید ایک ہاتھ کی انگلی پر گنی جاسکیں، ڈاکٹر صاحب
Gaun kay Tel ka Hirat angez ilaja...(07)... Dr, Abdul Rahim
جلوہ ہائے پابہ رکاب۔۔۔ ( 7) گاؤں کے تیل سے حیرت انگیز علاج ۔۔۔ تحریر: ڈاکٹر ف۔ عبد الرحیم یہ ۱۹۴۷ کی بات ہے۔ میرے بائیں قدم کے ٹخنے پر ایک چھوٹا سا پھوڑا نکلا، دو چار دن میں یہ بڑھ کر ایک چھوٹی سی طشتری کی شکل اختیار کر گیا۔ اس کی گیرائی اس زمانے کے روپے کے برابر تھی۔ قصبے کے سب سے بڑے اور مشہور (ڈاکٹر (ڈاکٹر عبد اللہ کا علاج شروع ہوا، چار پانچ دن وہ مرہم پٹی کرتے رہے، لیکن ذرہ بھر بھی فائدہ نہیں ہوا، میں نے ان کا علاج چھوڑ دیا اور ہمارے یہاں کے میونسپل ہسپتال میں علاج شروع
٘Mashwarah - Abdul Majid Daryabadi
سچی باتیں (۲۱؍اکتوبر ۱۹۳۲ء)۔۔۔ مشورہ۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ اگرآپ کے جسم میں کوئی بیماری پیدا ہوچکی ہو، اور آپ کو اُس کی خبر نہ ہو، اور کوئی شخص آپ کو اُس پر مطلع کردے، توآپ اُس شخص کے شکرگزار ہوں گے، یا اُلٹے اُس کے دشمن ہوجائیں گے؟ آپ کے گھر میں خدا نخواستہ آگ لگ چکی ہے، اور آپ بے خبر پڑے سورہے ہیں، ایسی حالت میں کوئی صاحب آکر آپ کو جھنجھوڑ کر اُٹھا دیتے ہیں، توآپ ان صاحب کو اپنا دوست وہواخواہ تسلیم کریں گے یا انھیں اپنا بدخواہ اور دشمن قرار دیں
Bachchoun Ka Adab. Dr, Fayyaz Ahmed
بچوں کا ادب، ایک سماجی ذمہ داری ڈاکٹر فیاض احمد گزشتہ چند سالوں کے دوران سرکاری اور غیر سرکاری دونوں سطح پر بچوں کے ادب پر بہت کام ہوا. ہے۔ جہاں سرکاری سطح پر اسے ایک مخصوص شعبہ کے طور پر جانچنے اور پرکھنے کا عمل شروع ہوا ہے وہیں قومی و بین الاقوامی پبلشروں نے کتابیں لکھنے کی سمت میں نئے نکات کی نشاندہی کی ہے۔ بچوں کے ادب کیلئے ایوارڈ دینے کی منصوبہ بندی بھی شروع ہو رہی ہے اور نئے ادبیوں کی تلاش بھی۔ پہلے ایسی صورتحال بڑے پیمانے پر کم ہی دیکھنے میں آتی تھی۔اردو اور ہندی میں پہلے مصنف سن
Moulana Islahi Ka Dubarah Zikr Khair--- Abdul Mateen Muniri
*بات سے بات : مولانا اصلاحی کا دوبارہ ذکر خیر* *تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل )* دلی خوشی ہوئی جب دو روز بعد اصلاحی اور ندوی فکر کے تعلق سے ہماری پوسٹ کو علم وکتاب میں پذیرائی ملی، اس سے محسوس ہوا کہ احباب اس بزم پر پوسٹ ہونے والے پیغامات کو اہمیت سے دیکھتے ہیں۔ یہ اس بزم کے لئے شرف کی بات ہے۔ ایک دوست نے مولانا امین احسن اصلاحی کے جماعت سے وابستگی کے دور کو جلسے جلوس سے تعبیر کرنے پر تعجب کا اظہار کیا ہے، جس کی وضاحت مولانا خلیل الرحمن چشتی صاحب نے بخوبی کردی ہے، اس پر مز
Mashaallah say achanak say. Ahmed Hatib Siddqui
گزشتہ جمعے کو حروفِ ربط ’میں‘ اور ’کو‘ پر بات ہوئی تھی۔ بات ایسی تھی کہ پڑھتے ہی ہمارے ایک باتونی دوست آدھمکے۔ ہم اپنی فکرِ سخن میں غلطاں و پیچاں و حیراں و پریشاں تھے کہ کوئی موضوع نہیں مل رہا، کیاکریں؟ موصوف نے آتے ہی اپنی گفتگو کا ربط پچھلے کالم کے حروفِ ربط سے جوڑ دیا: ’’میاں! تم فقط دو حروف کو رو رہے ہو، یہاں ایک تیسرا حرفِ ربط بھی ہے جو آج کل شدید بے ربطی کا شکار ہے‘‘۔ جھنجھلا کر کہا: ’’تینوں حروف پر چار حرف۔
Moulana Farahi Aur Nadwa... Abdul Mateen Muniri
دو روز قبل علم وکتاب گروپ کے ایک معزز ممبر نے جناب حسان عارف صاحب کا ایک کالم پوسٹ کیا ہے جس کا عنوان ہے"کیا انڈیا کے اصلاحی حلقے اور ندوی حلقے میں مماثلت ہے؟" یہ کالم خورشید ندیم صاحب کے ایک کالم کے جواب میں لکھا گیا ہے، ہمیں احسان صاحب کی اس عبارت نے متوجہ کیا کہ " فکر فراہی علما کا انداز فکر بالکل دوسرا ہے اور ندوی علما کا بالکل دوسرا ہے۔ قرآن مجید کے فہم و تدبر کے حوالے سے کوئی چیز ایسی نہیں ہے کہ یہ کہا جا سکے کہ دونوں میں مماثلت ہے۔ یہ بات صحیح نہیں ہے"۔ ہم نے خور
Sachchi Batain 1932-10-14 - Abdul Majid Daryabadi
..سچی باتیں (۱۴؍اکتوبر ۱۹۳۲ء) تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ عن عمر بن الخطاب أن رجلًا علیٰ عہد النبی ﷺ کان اسمہ عبد اللہ و کان یلقب حمارًا وکان یضحک رسول اللہﷺ وکان رسول اللہﷺ قد جلدہ‘ فی الشراب فأتی بہ یومًا فأمر بہ فجلد فقال رجل من القوم اللہم ألعنہ بأکثر ما یؤتی بہ فقال النبیﷺ: لا تلعنوا فواللہ ما علمت الا أنہ یحب اللہ ورسولہ۔ (صحیح بخاری، کتاب الحدود) حضرت عمرؓ سے روایت ہے ، کہ حضور ﷺ کے زمانہ میں ایک