Search results

Search results for ''


بغیر لیڈر کا ملک پاکستان۔۔۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

سری نگر کشمیر کے علاقہ میں سی آر پی ایف کی ایک زیرتعمیر عمارت میں آکر چھپنے والے لشکر طیبہ کے دو دہشت گردوں سے 22 گھنٹے گولیوں کا تبادلہ ہوا جس میں دونوں دہشت گردوں کے مرنے کے بعد دیکھا گیا تو اپنے بھی سات جوان پاکستانی گولیوں کا نشانہ بنے جن میں پانچ کشمیری مسلمان تھے اور دو دوسری ریاستوں کے ہندو۔ یہ اس کشمیر کے بیٹے تھے جس کو آزاد کرانے کے لئے لشکر طیبہ کے بانی حافظ سعید نے اپنے کہنے کے مطابق بندوق اٹھائی ہے۔ ہندوستان میں جب مسلم لیگ کے پرچم کے نیچے ملک کی تقسیم اور پاکستان کے مطالبہ نے زور پ

مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ممبران کو لڑانے کے لئے سوشل میڈیا کا استعمال۔۔۔۔۔از: قاسم سید

Bhatkallys Other

ارکان سے گفتگو ریکارڈ کرکے ایک دوسرے کے خلاف بھڑکانے کی مذموم کوشش، تدبر و تحمل کے مظاہرہ کی ضرورت مولانا سلمان ندوی کے معاملہ نے ملی سیاست میں طوفان برپا کردیا ہے۔ ایک طرف مولانا سلمان ندوی کو ہر قسم کی صلواتیں سنائی جارہی ہیں اور ہر طرح کے غیر مہذب الفاظ سے حملہ کیاجارہا ہے۔ وہیں مولانا سلمان ندوی کے عقیدت مندوں اور خیر خواہوں کی جانب سے بورڈ کے فیصلہ کو بہانہ بناکر اسے مطعون کیاجارہا ہے اور سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ ذاتی طور پر کی گئی فونک باتوں کو ریکارڈ کرکے سوشل میڈیا پر ڈالا جارہا

بابری مسجد ، پرسنل لا بورڈ اور مولانا سلمان ندوی ۔۔۔ تحریر: سید سعادت اللہ حسینی

Bhatkallys Other

بابری مسجد ، پرسنل لا بورڈ اور مولانا سلمان ندوی صاحب وغیرہ سے متعلق جو واقعات گذشتہ چند دنوں میں پیش آئے ان کے بارے میں ہر طرف سےسوالات کی بوچھار ہے۔ ان مسائل پر اپنی گذارشات اختصار کے ساتھ درج کررہاہوں۔اللہ تعالی ہم سب کی صحیح اور مبنی بر عدل و اعتدال ، سوچ کی طرف رہنمائی فرمائے آمین۔ ۱۔ یہ کہنا کہ بابری مسجد کی جگہ حوالہ کردی جائے تو فرقہ پرست قوتوں کے پاس ۲۰۱۹ کے لئے کوئی ایشو نہیں رہے گا، بڑی کمزور بات ہے۔اس کے بالمقابل واقعہ یہ ہے کہ، ان قوتوں کا اصل مسئلہ اب یہی ہے کہ یہ ایشو اب باقی ن

مسلم پرسنل لا بورڈ اور مولانا سلمان ندوی... تحریر : مولانا ندیم الواجدی

Bhatkallys Other

اختلاف رائے ہماری معاشرتی اور اجتماعی زندگی کا لازمی حصہ ہے، وہ قومیں فکری اعتبار سے بے حس کہی جائیں گی جو اپنے افکار ونظریات میں تنوع نہ رکھتی ہوں، اختلاف رائے کے ساتھ ساتھ وسیع النظری بھی ہونی چاہئے، یہ ضروری نہیں ہے کہ جو کچھ ہم کہتے ہوں وہی صحیح ہو ارو جو ہم سوچتے ہوں و ہی درست ہو، دوسرے لوگ بھی صحیح سوچ سکتے ہیں اور صحیح کہہ سکتے ہیں، ہوسکتا ہے ہمارے اور دوسروں کے نظریات میں ٹکراؤ ہو، یہ بھی ممکن ہے ہمارے نظریات زیادہ صحیح ہوں، اور دوسروں کے غلط ہوں، لیکن کسی کی اس بنا پر تحقیر کرنا کہ اس

ایڈوکیٹ شاہد اعظمی اور نوشاد قاسمجی کی شہادت رنگ لارہی ہے ! (پہلی قسط)۔۔۔از: ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ 

Bhatkallys Other

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے...........  haneefshabab@gmail.com 11فروری کوایڈوکیٹ شاہد اعظمی شہید کی آٹھویں برسی تھی۔ اس موقع پر ’دی وائر ‘ میں شاہد پرایک خصوصی تحریرپڑھنے کے بعد تحریک ملی کہ ملک کی جیلوں میں اپنی جوانی کے سنہرے دور کو ضائع کرنے پر مجبور مسلم نوجوانوں پر لاگو کیے گئے قوانین اور ا ن ملزموں کو پنجۂ ستم سے آزاد کرنے کے لئے اپنے آپ کو وقف کرنے والوں کے تعلق سے کچھ تفصیلی بات کی جائے۔ فسطائی ایجنڈے کے مطابق مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کے الزامات کے تحت قید وبند کی صعوبتوں سے گزارنے کا

خبر لیجئے زباں بگڑی ۔۔ آسامی یا اسامی ۔۔۔ تحریر : اطہر ہاشمی

Bhatkallys Other

گزشتہ پیر (5 فروری) کے جسارت سمیت کئی اخبارات میں ’’آسامی‘‘، ’’آسامیاں‘‘ نظر سے گزرا کہ خالی آسامیاں پُر کی جائیں گی۔ یہ سرکاری خبر ایجنسی اے پی پی کی جاری کردہ خبر تھی اور اس میں آسامیاں ہی لکھا گیا تھا۔ نیوز ڈیسک پر بیٹھے ہوئے فاضل سب ایڈیٹرز نے تصحیح کرنے کے بجائے مکھی پر مکھی مار دی۔ اس طرح شہر سے مکھیاں تو کم ہوگئی ہوں گی لیکن آسامی (الف پر مد) کا مطلب تو آسام کا رہنے والا ہے جیسے چاٹگامی، بلگرامی وغیرہ۔ یہ لفظ ’’اسامی‘‘ ہے۔ اسی طرح کچھ اخبارات میں ’’آئمہ‘‘ پڑھنے میں آیا۔ یہاں بھی الف پر مد

کشمیر چاہئے کشمیری نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ نے اپنے خاص تیور کے ساتھ کہا ہے کہ کسی نے ایسی ماں کا دودھ نہیں پیا ہے جو کشمیر کو ہم سے الگ کردے۔ لیکن یہ نہیں بتایا کہ انہوں نے کیا کتیا کا دودھ پیا ہے جو کشمیر کے بیٹوں کو دیکھ کر پاگل کتوں کی طرح ان پر دوڑتے ہیں؟ بات صرف ہریانہ چنڈی گڑھ کی نہیں ہے آج سے 25 سال پہلے ہمارے بیٹے کے ایک دوست کشمیر سے کان پور یونیورسٹی میں ایم اے کا پرائیویٹ امتحان دینے آئے تھے اور انہوں نے ہمارے گھر لکھنؤ میں قیام کیا تھا۔ پروگرام کے اعتبار سے تو انہیں ایک ہفتہ میں فارغ ہوجانا تھا لیکن یہ

ہم نے بھی بھینس کے آگے بین بجادی۔۔۔از: حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

کاس گنج کے شرمناک واقعہ کو 10 دن ہورہے ہیں ہمیں یقین ہے کہ ہمارا کالم شوق سے پڑھنے والے ضرور سوچ رہے ہوں گے کہ ہم اب تک کیوں خاموش ہیں؟ واقعہ یہ ہے کہ ہم نے تو ایسے ہی حالات سے متاثر ہوکر 1962 ء میں ہفت روزہ ندائے ملت نکالا تھا۔ اور برسوں ہم سے جو ہوسکا وہ ہم نے کیا اور جس قدر ہوسکا وہ ملت کے دردمندوں سے لکھوایا۔ لیکن موجودہ حکومت کے مزاج کو دیکھتے ہوئے ہم یہ سوچ کر خاموش ہیں کہ جب اوپر سے نیچے تک سب ایک ہی رنگ میں رنگے ہیں اور سب کچھ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت ہورہا ہے تو کیا کہیں اور کس س

اگر اب بھی مودی نہ سمجھے تو! ۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

یہ تو سب کو معلوم ہوچکا ہوگا کہ راجستھان اور بنگال میں ضمنی الیکشن میں کیا ہوا۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ کیوں ہوا؟ 26 مئی 2014 ء کے بعد سے ملک میں جو حکومت آئی ہے اس میں ایک مخصوص ذہنیت کے عناصر کو اتنی چھوٹ دی گئی ہے کہ ملک کی شناخت ہی تبدیل ہوگئی۔ یہ کوئی راز کی بات نہیں ہے کہ مسلمان گائے کا گوشت کھاتے تھے اور یہ بھی دیکھنے اور جاننے والے ابھی ملک میں کروڑوں ہندو ہوں گے جنہوں نے انگریزوں کی حکومت میں اور اس کے بعد بھی کافی دنوں تک ان صوبوں میں گائے کی قربانی کے لئے گایوں کی ہندوؤں کے ہاتھوں خر

اب یہ ہانڈی بھی منکال کے سر پر نہ پھوڑیں تو پھرکیاکریں؟!۔۔۔ از:ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ 

Bhatkallys Other

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے...........  آخر وہی ہوا جس کا اندیشہ جاگتے ذہن اور کھلی آنکھوں سے جائزہ لینے والے ظاہر کررہے تھے کہ اس مرتبہ اسمبلی الیکشن میں ہمارے مرکزی ادارے مجلس اصلاح و تنظیم کی قیادت کو بھاری چیلنج کا سامنا ہے اور پورے اسمبلی حلقے کی مسلم جماعتوں کو متحد رکھتے ہوئے ملّی مفاد کو سامنے رکھ کر کوئی اجتماعی فیصلہ کرنا اور پھر اس کو نافذکروانا آسان بات نہیں ہوگی۔ اس کے لئے جماعتی سطح پر باہمی رابطے اور مشوروں کا سلسلہ جلد سے جلد شروع کرنا چاہیے ۔ لیکن کیا کیا جائے کہ فیصلہ کن ادارے کی

خبر لیجئے زباں بگڑی ۔ ۔۔ کسر اور کَسَر ۔۔۔ تحریر : اطہر ہاشمی

Bhatkallys Other

ڈاکٹر انعام الحق جاوید فیصل آبادی بڑے استاد اور مزاح میں ہمارے پسندیدہ شاعر ہیں۔ اردو میں انگریزی کا تڑکا لگاتے ہیں تو مزا آجاتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب ایم اے اردو اور ایم اے پنجابی میں تغمائے زر (گولڈ میڈل) رکھتے ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی سے پنجابی میں پی ایچ ڈی ہیں۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں شعبہ پاکستانی زبانوں کے چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ اکادمی ادبیات پاکستان سے ہوتے ہوئے مقتدرہ قومی زبان سے منسلک ہوگئے۔ کئی ایوارڈ حاصل کرچکے ہیں اور برسوں سے اردو کو اپنا اوڑھنا اور پنجابی کو بچ

جگر مراد آبادی کے خطوط - قسط 02 - تحریر : محمد رضا انصاری فرنگی محلی

Mufti Mohammed Raza Anasari Yadaun Kay Chiragh

   ۷۸۶ گونڈہ مولاۓ مخلص و مکرم زاد لطفہ علیکم السلام ورحمتہ اللہ برکاتہ آپکے دو مکتوبات نظر نواز ہوۓ،میری علالت کا سلسلہ جاری ہے ۔روزانہ لکھنؤ جانے کا ارادہ کرتا ہوں اور روزانہ ختم کر دینا پڑتا ہے ، کل کسی ٹرین سے غالبا ً روانہ ہو سکوں ۔ میرا یہ عالم ہے کہ جیسے اب کسی چیز میں کوئ دلکشی باقی نہیں رہ گئ ہے یہی علامت ہے کہ غالبا ً زمانہ طلبی کا قریب تر آتا جا رہا ہے ، میں نے یہ محسوس کر کے کہ صحت بھی جواب دیتی  جارہی ہے،خدا جانے کس وقت دنیاۓ اعتبار کو الفراق کہہ دین

پچیس سال پہلے کی وہ سرد راتیں اور جیل یاترا !! (پانچویں اور آخری قسط)۔۔از:ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ 

Bhatkallys Other

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے...........  haneefshabab@gmail.com غالباً جیل میں وہ چھٹا یا ساتواں دن تھاجب ہمارا انتظار اور اضطراب ختم ہوگیا اور ہمیں یہ خوشخبری مل گئی کہ ہماری ضمانت ہوگئی ہے۔ بھٹکل سے ہمیں چھڑانے اور اپنے ساتھ لے جانے کے لئے ہمارے ہمدرد اور نوجوان ساتھیوں کا وفدصبح کے وقت بیلگام سنٹرل جیل پہنچا۔ چونکہ وہ اتوار کا دن تھااس لئے جیلر کے آنے اور کاغذی کارروائی انجام دینے میں کافی تاخیر ہوئی۔ ہماری جمع شدہ رقم واپس لینے کے بعد اندر قیدیوں سے لی گئی ادھار سودے کی رقم اور کچھ تھوڑی بہت

سچی باتیں ۔۔۔ حیات دنیوی کی حقیقت ۔۔۔ تحریر : مولانا عبد الماجد دریابادی مرحوم

Bhatkallys Other

قَدْخَسِرَ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِلِقَاء اللّٰہِ حَتّٰی اِذَا جَاء تْھُمُ السَّاعَۃُ   بِغْتَۃً قَالُوْا   یٰحَسْرَتَنَا عَلٰی مَا فَرَّطْنَا فِیْھَا وَھُمْ یَحْمِلُوْن اَوْزَارَھُمْ عَلٰی ظُھُوْرِھِمْ اَلَا سَاء مَایَزِرُوْنَ، وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا اِلَّا لَعِبٌ وَلَھْوٌ وَلَدَارُ الْاٰ خِرَۃُ خَیْرٌلِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۔(انعام۔ع۔۴) نھوں نے اللہ سے ملنے کو جھٹلائے رکھا وہ بڑے خسارے میں  آ پڑے یہاں  تک کہ جب وہ وقت مقرر آپہنچا تو کہنے لگے ہائے افسوس ہماری کوتا ہیو

خبر لیجئے زباں بگڑی ۔ فرزین اور شاطر --- تحریر : اطہر ہاشمی

Bhatkallys Other

مفتی منیب الرحمن مدظلہٗ بڑے عالم ہیں اور تعلیم و تعلم میں مصروف رہتے ہیں۔ بھلا انہوں نے کب شطرنج کھیلی ہوگی جو وقت ضائع کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ چنانچہ انہوں نے جسارت میں 20 جنوری کو شائع ہونے والے اپنے بہت دلچسپ مضمون ’’میڈیا کے محبوب‘‘ میں علامہ اقبالؒ کے شعر: شاطر کی عنایت ہے تُو فرزیں میں پیادہ فرزیں سے بھی پوشیدہ ہے شاطر کا ارادہ میں لکھا ہے کہ ’’فرزیں بساطِ شطرنج کے مہروں میں شاہ کو کہتے ہیں‘‘۔ شطرنج کی اصطلاحات سے اُن کی لاعلمی قابلِ فہم ہے، لیکن اچھا تھا کہ شطرنج کھیلنے والے کسی شخ

جگر مراد آبادی کے خطوط 01- تحریر : مفتی محمد رضا فرنگی محلی

Bhatkallys Other

’ جگر ‘ صاحب [علی سکندر’جگر‘ مرادآبادی ]۔ وفات گونڈہ میں نو ستمبر1960ء مطابق 16 ربیع الاول جمعہ 1380ھ ، کچھ افتاد طبع اور کچھ مشاعروں میں مصروف تر زندگی کی بدولت خط و کتابت کے جھمیلے میں کم پڑتے تھے ، ایسے ضروری خطوط بھی ، جن میں انکی منفعت مضمر ہو ،جواب سے اکثر و بیشتر محروم رہ جاتے تھے ، یہ تو بعض مخلصین کی خیر خواہی تھی کہ ایسے ضروری خط موصول ہوتے ہی وہ جواب لکھوا دیتے یا ان سے پوچھ کر لکھ دیتے تھے ۔ میرے سلسلے میں ایک حسن اتفاق یہ بھی تھا کہ وہ مہینے دو مہینے میں ایک پھیرا لکھنؤ کا ضرور کرت

حج کمیٹی  کو بااختیار بنائیں۔۔۔۔از: محمد طاهر مدنی

Bhatkallys Other

اس وقت عازمین حج کے مسائل زیر بحث ہیں، جب سے حکومت نے اچانک سبسڈی کے خاتمے کا اعلان کیا ہے، مختلف زاویوں سے بحث و گفتگو ہورہی ہے. موجودہ صورتحال یہ ہے کہ حج کمیٹی بااختیار نہیں ہے، مکمل طور پر حکومت کے کنٹرول میں ہے، صرف درخواستوں کو جمع کرنا اور قرعہ اندازی کرانا اس کا کام ہے اور حج کے سلسلے میں بنیادی امور حکومت کے ہاتھ میں ہیں. دو اہم کام ہیں، جن میں اصلاح کی سخت ضرورت ہے؛ ایک عازمین حج کے ہوائی سفر کا مناسب انتظام اور دوسرے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں رہائش کا معقول بندوبست. ہوائی سفر کیلئ

پچیس سال پہلے کی وہ سرد راتیں اور جیل یاترا ! (چوتھی قسط ۔۔۔۔از: ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ 

Bhatkallys Other

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے...........  haneefshabab@gmail.com اللہ کا بڑا احسان یہ ہوا تھاکہ ہمیں دیگر عادی مجرموں اورقیدیوں کے ساتھ کمروں میں بند نہیں کیا گیا تھا بلکہ ہم 22قیدیوں کو بہت وسیع و عریض علاحدہ ہال میں ایک ساتھ رہنے کی سہولت فراہم کردی گئی تھی۔جہاں ہم پاک و صاف رہنے اور نمازیں وغیرہ پڑھنے کے لئے بالکل آزاد تھے۔ہم نے سب سے پہلے ڈاکٹر چترنجن اور ان کے ساتھیو ں کی طرف سے عنایت کردہ ناشتے (اڈلی او رچٹنی) پر ہاتھ صاف کیا،جو کہ اس وقت بڑی نعمت ثابت ہوئی۔پھر ڈاکٹر چترنجن کی طرف سے دئے گئے