Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors
Abdul Haleem Mansoor
Abdul Majid Daryabadi
Abdul Mateen Muniri
Abdur Raqeeb M.J Nadwi
Ahmed Hatib Siddiqui
Asif Jilani
Athar Hashmi
Bhatkallys
Dr Badrul Hasan Qasmi
Dr Haneef Shabab
Dr. F Abdur Rahim
Dr. Tahir Masud
Hafiz Naumani
Kaldip Nayar
Masoom Muradabadi
Masud Ahmed Barkati
Mohammed Mateen Khalid
Muhammed Furqan
Nizamuddin Nadwi
Riyazur Rahman Akrami Nadwi
Suhail Anjum
Suhail Anjum article on waqf board
بی جے پی کے زیر قیادت مرکزی حکومت اپنے سابقہ دو ادوار میں بھی مسلمانوں کے شرعی معاملات میں مداخلت کرتی رہی ہے اور موجودہ حکومت بھی کر رہی ہے۔ وہ ایسے مواقع ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکالتی ہے کہ مسلمانوں کے مذہبی شعار پر بھی حملہ کیا جائے اور ان کے مفادات پر بھی۔ اس کی متعدد مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ دو حلیف جماعتوں کی بیساکھیوں پر چلنے والی موجودہ حکومت نے اب مسلمانوں کی لاکھوں کروڑ کی اوقاف املاک کو ہڑپنے کی چال چلی ہے۔ اس نے 1923 کے وقف ایکٹ کو منسوخ کر دیا اور 1995 کے وقف ایکٹ میں 44 ترامیم کی ہیں۔ یہ
Dr. Muahmmad Ismail Nadwi by Abdul Mateen Muniri
مشہور ماہر لسانیات ڈاکٹر ف۔ عبد الرحیم صاحب اپنے ذاتی مشاہدات پر مبنی سلسلہ جلوہ ہائے پابہ رکاب کی اٹھارویں قسط میں مصر میں آپ کے پیشرو ہندوستان کے دانشور ڈاکٹر محمد اسماعیل ندوی مرحوم کا تذکرہ کیا ہے، جس میں آپ نے بیان کیا ہے کہ : "مصر جانے سے پہلے میں نے سنا تھا کہ قاہرہ میں ڈاکٹر اسماعیل نامی ایک بڑے ہندوستانی عالم رہتے ہیں۔ 1964ء میں جب میں قاہرہ پہنچا تو ان سے ملاقات ہوئی۔ ان کا تعلق تمل ناڈو کے شہر میل و شارم سے تھا۔ ہائی اسکول کے بعد انہوں نے ندوۃ ا
Misr May aik Hindustani Alim e Deen by Dr F Abdur Raheem
مصر جانے سے پہلے میں نے سنا تھا کہ قاہرہ میں ڈاکٹر اسماعیل نامی ایک بڑے ہندوستانی عالم رہتے ہیں۔ 1964ء میں جب میں قاہرہ پہنچا تو ان سے ملاقات ہوئی۔ ان کا تعلق تمل ناڈو کے شہر میل و شارم سے تھا۔ ہائی اسکول کے بعد انہوں نے ندوۃ العلما میں پڑھائی جاری رکھی۔ ندوہ سے فراغت کے بعد وہ قاہرہ چلے گئے اور قاہرہ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد وہ وہیں رہنے لگے۔ جامعہ عین شمس میں مدرسة الألسن کے نام سے ایک ادارہ ہے جہاں دنیا کی مختلف زبانیں پڑھائی جاتی ہیں۔ ڈاکٹر اسماعیل صاحب ا
Janay Shaikh Ko Shab May Kia Sujhi. Ahmed Hatib
بڑھاپا بھلا اور کسے کہتے ہیں؟ قوتِ برداشت کم سے کم تر ہوتی جاتی ہے اور مزاج نازک سے نازک تر۔ زبان وبیان کی بڑی بڑی غلطیاں تو کھٹکتی ہی تھیں، اب چھوٹی چھوٹی غلطیاں بھی کھٹکنے لگی ہیں۔ پچھلے دنوں پڑھا کہ ’’قائدِاعظم محمد علی جناح 25 دسمبر 1876ء میں پیدا ہوئے‘‘۔ دل چاہا کہ فاضل مصنف کو فوراً فون کرکے فاصلاتی رابطے پر پڑھایا جائے کہ صاحب! اس فقرے کے اندر حرفِ ربط ’میں‘ بالکل بے موقع استعمال کیا گیا ہے۔ مگر دماغ نے یہ کہہ کر دل کی اس چاہت پر پونچھا پھیر دیا کہ &rsq
Khiyanat wa rishwat by Abdul Majid Daryabadiu
ابھی چند روز کا ذِکر ہے،کہ ایک دوست نے ایک مذہبی ماہوار رسالہ نکالنے کا ارادہ کیا۔ ’’ڈِکلریشن‘‘ داخل کرنا قانونًا ضروری ہے۔ بیچارے کلکٹری عدالت میں گئے۔ ’ڈکلریشن‘ کا فارم محض معمولی ہوتاہے، جس کی خانہ پُری ایک بچہ بھی کرسکتاہے۔ دفتر کے بابو صاحب ایک منٹ میں سادہ فارم دے سکتے تھے۔ نہ دیا۔ کئی کئی دن انھیں دوڑنا پڑا، جب جاکر فارم ملا۔ بابو صاحب شاید اپنے ’’حق‘‘ کے طالب تھے، اُنھیں توقع یہ تھی، کہ پہلے ان کی مٹھی گرم ہولے گی، جب وہ اتنی خد
Misruoun Kay Duaiyah Jumlay.. Dr F. Abdur Rahim
مصری نہایت زندہ دل ہوتے ہیں۔ ان میں ہنسنے ہنسانے اور پاکیزہ مذاق کرنے کا بڑا رواج ہے۔ ہر موقع کے لیے انہوں نے مناسب دعائیہ جملے وضع کیے ہیں جسے سن کر انسان خوشی اور اطمینان محسوس کرتا ہے۔ ذیل میں کچھ مثالیں پیش خدمت ہیں: ۱۔ کسی کو کھانا کھاتے ہوئے دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں «ہنیئا» یعنی یہ کھانا تمہارے لیے صحت مند ثابت ہو۔ ۲۔ کوئی کھانا کھا رہا ہو، اور پاس سے گزرنے والے کو اپنے ساتھ کھانے کی دعوت دے، تو وہ کہے گا ((عشت)) یعنی جیتے رہو۔ ۳۔ کسی کو وضو کرتے ہ
choot chat . by Abdul Majid Daryabadi
گاندھی جی، اس سن وسال میں، اور ضعف وناتوانی کے باوجود، ۲۱دن کے فاقہ کا جو عظیم الشان مجاہدہ کررہے ہیں، اسے آپ نے دیکھا؟ اُن کی رائے اور روش صحیح ہو یا غلط، یہاں اس سے بحث نہیں، سوال صرف اُن کی عظیم الشان قربانی کا ہے۔ اس کے قبل بھی اسی سلسلہ میں وہ کیسے کیسے پاپڑ بیل چکے ہیں، کیا کچھ نہیں کرچکے، تحریر، تقریر، الحا، زاری، ساری ہی تدبیریں، آج سے نہیں، ایک مدت سے کرتے چلے آرہے ہیں، اوراب سب طرف سے ہارکر اور تھک کر بالآخر اپنی جان کو یوں ہلکان کرنا شروع کیاہے۔ اور پھر گاندھی جی تنہا بھی نہ
Sachchi Batain. Dajjal ka Fitnah
مئی کا مہینہ شروع ہوئے کئی دن ہوچکے۔ کالجوں میں بڑی چھٹیاں شروع ہوگئیں۔ اُستاد اور شاگرد ہوسٹلوں کو خالی کرکرکے اپنے اپنے گھر، اور بعض پہاڑ پر روانہ ہوگئے۔اسکول بھی بند ہونے ہی پر ہیں۔ دیوانی کی عدالتوں میں بھی سناٹا نظرآنے لگا۔ ہائیکورٹ، چیف کورٹ، ججی، سب ججی، منصفی، سب ہی کہیں ’’تعطیلات کلاں‘‘ آگئیں۔ قصبات ودیہات تک مدرسے بند ہونے لگے۔ میونسپل بورڈ اور ڈسٹرکٹ بورڈ کے ابتدائی مکتبوں کے مدرّسین اور شاگردوں کے چھُٹی منانے کا زمانہ آگیا ۔ا ور تو اور خالص ’’قو
Sachchi Batain. 10 Muharram
اگر آپ مسلمان، اور سُنّی مسلمان ہیں، تو حشرونشر اور روز قیامت پر ضرور آپ کو عقیدہ ہوگا۔ پھر اُس روز اگر شہید کربلا امام حسین علیہ السلام کا اور آپ کا سامنا ہوگیا، اور وہ مُحرّم کی بابت کچھ سوالات آپ سے کربیٹھے ، تو کیا آ پ اُن کا تشفی بخش اور معقول جواب دے سکیں گے؟ اگر امام مظلوم نے سوال کردیا، کہ تم محرّم میری توہین ورسوائی کے لئے مناتے تھے ، یا میری عزت و تعظیم کے لئے؟ میں نے دسویں محرم بھوک اور پیاس کی شدت کے ساتھ گزاری ، اور تم میرانام لے لے کر اُس روز خوب مزے مزے کے حلوے پکاتے او
Ahmed Gharib Seth. Muhammad Siddiq Maimani
احمد غریب مرحوم۔۔۔ تحریر: محمد صدیق المیمنی صدق جدید لکھنؤ۔ 11؍اگست 1967ء (چند روز قبل انجمن خدام النبی ۔ صابو صدیق مسافر خانہ۔ ممبئی کے سابق جنرل سکریٹری اور ملت اسلامیہ ہندیہ کے محسن اور عظیم خادم احمد غریب سیٹھ مرحوم کا تذکرہ آپ علم وکتاب گروپ پر ہوا تھا، اور احباب نے آپ کی زندگی پر روشنی ڈالنے والے مضامین کی اشاعت کی شدید خواہش کا اظہار کیا تھا، اتفاق سے مولانا عبد الماجد دریابادی کے ہفت روزہ صدیق جدید لکھنو کے شمارہ مورخہ ۱۱ اگست 1967ء احمد غریب سیٹھ کی رحلت پر آپ کے چھوٹے ب
Kaha yeh jaferi nay
تازہ ترین خبروں کے مطابق مسافر بس حادثے کا شکار ہوگئی تھی۔ خبر پڑھنے والی خاتون زخمیوں کے نام مع ولدیت بتا رہی تھیں۔ ایک زخمی بچی کا نام رُخسانہ ولد محمد شفیع بتایا گیا۔ ’وَلَد‘ کے لام کو ساکن پڑھنے کی غلطی عام ہوگئی ہے، سو یہ غلطی تو ہوئی، کیوں کہ خبر پڑھنے والی خاتون کو شاید کسی نے کبھی نہیں بتایا ہوگا کہ وَلَد کے لام پر زبر ہے۔ ہمارے برقی ذرائع ابلاغ میں شاید طے ہوگیا ہے کہ خبر خواں کو فقط نک سک سے درست ہونا چاہیے، تلفظ درست ہو یا نہ ہو، اس کا ابلاغ سے کوئی تعلق نہیں۔ لہٰذا
Sachchi batain... Hub Jah
عین جس وقت یہ سطورحوالۂ قلم ہورہی ہیں، انگریزی اخبارات میں تارپرتار، بڑے بڑے جلی عنوانات کے ساتھ، دوکالمی چوکالمی سرخیوں کے ساتھ ، چھَپ رہے ہیں، کہ ایورسٹ کی مہم اقبال سرکار سے سر ہوگئی۔ ایورسٹ، کوہستانِ ہمالیہ کی سب سے بلند چوٹی کا نام ہے۔ فرنگی محققوں کا بیان ہے کہ اس سے بلند تر پہاڑ دنیا میں کوئی نہیں۔ ۲۹ ہزار فٹ سے زائد بلند ہے۔ اب تک اس پر پہونچنے کی ہمت دنیائے متمدن کے کسی انسان کو نہیں ہوئی تھی۔ بعض سادھووں مہاتماؤں کے قصے جو مشہور ہیں، اُن کی حیثیت افسانہ سے زائد نہیں۔ کوششیں انگ
Hafiz Sajjad Ilahi by Abdul Mateen Muniri
آج علی الصبح اس خبر نے دل اداس کردیا کہ حافظ سجاد الہی صاحب نے لاہور میں داعی اجل کو لبیک کہا۔ آپ کا غائبانہ تعارف گذشتہ پندرہ بیس سال سے تھا، جبکہ ماہنامہ معارف اعظم گڑھ وغیرہ میں آپ کا نام پاکستان میں نمائندے کی حیثیت سے کئی سال سے نظر سے گذرتا تھااس دوران آپ سے فون پر کبھی کبھار بات بھی ہوتی رہی، اور ایک دو بار دبی میں عمرہ سے واپسی پر مختصر ملاقات کا شرف بھی حاصل ہوا۔ مرحوم سے ملاقات اور بات چیت میں ایک سادگی، اپنائیت ، اخلاص اور اہل علم کی خدمت کی خواہش کا احساس پایا جاتا تھا،
sachchi Batain- Darja qutubiat
سچی باتیں (۳۱؍مارچ ۱۹۳۳ء)۔۔۔ درجہ قطبیت بعض بزرگوں کی زبان سے ایک حکایت یوں سننے میں آئی ہے، کہ حضرت شاہ جیلانیؒ ، ایک بار شب کو بعد تہجد، اپنی خانقاہ سے باہرنکل، روانہ ہوئے۔ ایک مخلص خادم بھی چپکے سے ساتھ لگ لئے۔ حضرتؒ شہر بغداد کی شہر پناہ کے پھاٹک تک پہونچے۔ پھاٹک مضبوط قفلوں سے مقفل فورًا کھُل گیا، اور حضرتؒ شہر کے باہر ، چند ہی قدم بعد ایک دوسرا شہر دکھائی دیا۔ خادم حیران، کہ یاالٰہی ، یہ بغداد سے متصل دوسری آبادی کون؟وہاں یہ منظر دکھائی دیا، کہ ایک بزرگ کا انتقال ہور
Mout Kay Farishtay ka Ihtram . Abdul Majid Daryabadi
وسطِ فروری کا مہینہ ہے ۔ جرمنی کا علاقہ سارؔ، صنعتی کاموں کے لئے مشہور ہے۔ اس میں ۴۱ہزار کی آبادی کا ایک شہرنیون کرچینؔ ہے۔ جہاں گیس کے بڑے بڑے کارخانے ہیں۔ اور ایک عظیم الشان گیس پیما (گیسومیٹر) ڈھائی سو فیٹ بلند لوہے کی چادروں کا بنا ہوا ہے، جس کے اندر ایک لاکھ ۲۰ہزار میٹر گیس کا خزانہ جمع ہے۔ صبح ہوئی، لوگ اُٹھے، اور اپنے روزمرہ کے کاروبار میں مشغول ہوئے۔ دوپہر ہوئی، سہ پہر آیا، اے لیجئے، شام ہونے لگی، دفتر والے اپنے اپنے دفتروں سے، اور کارخانہ والے اپنے اپن کارخانوں سے چھُٹی پاپاکر، گھروں
Sabit Qadmi. By Abdul Majid Daryabadi
یا أیہا الذین آمنوا اذا لقیتم فئۃً فاثبتوا واذکروا اللہ کثیرًا لعلکم تفلحون۔ (الانفال۔ع۶) اے ایمان والو، جب تم سے اور کسی گروہ سے (میدان جنگ میں) مقابلہ پیش آجائے، تو ثابت قدم رہو، اورذکرِ الٰہی کثرت سے کرتے رہو، تاکہ تمہیں فلاح ہو۔ تذکرہ میدانِ جنگ اور معرکۂ جہاد کا ہورہاہے۔ اس موقع اور وقت کے خطرات ظاہر ہیں۔ قیاس یہ ہوتاہے کہ اُس وقت تو سارا زور خالص جنگی مشاغل پر ہوگا، اور حکم یہ ملے گا کہ جس طرح اور جس حد تک بھی ممکن ہو، اپنی ساری قوتون کا مرکز اسی کو بنائے رکھو۔ لیکن برعکس اس کے،
Insani Jazbat . By Abdul Majid Daryabadi
آ ج سے ۲۰۔۲۲سال قبل جب میری علمی اور قلمی زندگی کی ابتداء تھی، د ل طرح طرح کے پُرغرور جذبات سے لبریز تھا، اور اپنے متعلق ایک عجیب حُسن ظن قائم تھا۔ جی چاہتاتھا کہ اپنی کوئی سی بھی تحریر ضائع نہ ہو۔ کٹے پٹے مسودات تک جی میں آتاتھا، کہ محفوظ ہی رہ جائیں، تو اچھاہے۔ معمولی اور خانگی خطوط تک کی اہمیت دل میں رچی ہوئی تھی۔ اسپنسرؔ کی ’’لائف‘‘ لکھی گئی، ملؔ کے خطوط (Letters) کا مجموعہ شائع ہوا۔ اپنی شخصیت بھی اپنی نظر میں ان لوگوں سے کچھ کم نہ تھی۔ ہم بھی بڑے آدمی ہ
Apni Fikr. By Abdul Majid Daryabadi
’’نواب ہستنا پور کے حالات آپ نے شاید نہیں سُنے۔ انسان کا ہے کو ہے، جانور ہے پورا جانور۔ بے حیائی کی حد کردی۔ عیاشی سب ہی رئیس روساء کرتے ہیں،مگر یہ تو خرمستیوں میں بالکل اندھا ہوگیاہے، وہ وہ گندی حرکتیں ایجاد کی ہیں، کہ شیطان بھی پناہ مانگ جائے‘‘۔ اور مہاراجہ پاٹلی پتر کو آپ کچھ کم سمجھتے ہیں؟ آپ کے نواب سے بھی چار قدم آگے ہے۔ نواب کو کچھ تو دنیا کی لاج ہے، اور یہ کمبخت تو غیرت کا بالکل گھول کر پی گیاہے۔ باپ ،بھائی، ماں بہن، کسی کی بھی شرم ولحاظ نہیں۔ لوگ کہتے ہیں،