Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors
Abdul Haleem Mansoor
Abdul Majid Daryabadi
Abdul Mateen Muniri
Abdur Raqeeb M.J Nadwi
Ahmed Hatib Siddiqui
Asif Jilani
Athar Hashmi
Bhatkallys
Dr Badrul Hasan Qasmi
Dr Haneef Shabab
Dr. F Abdur Rahim
Dr. Tahir Masud
Hafiz Naumani
Kaldip Nayar
Masoom Muradabadi
Masud Ahmed Barkati
Mohammed Mateen Khalid
Muhammed Furqan
Nizamuddin Nadwi
Riyazur Rahman Akrami Nadwi
Suhail Anjum
انور جلال پوری ۔۔۔ روشنائی کا سفیر ۔۔۔ تحریر : راحت علی صدیقی قاسمی
روشنائی کا سفیر، قلم کا خادم مشاعروں کی زینت رخصت ہوگیا، مشاعروں کی فضاء تاریک ہوگئی، اہل اردو کے قلوب میں غم چہروں پر افسردگی کے آثار نمایاں ہیں، مشاعروں پر حکومت کرنے والی شخصیت، ایک عہد تک مشاعروں میں گونجنے والی آواز اب کانوں میں نہیں پڑیگی، سامعین کے قلوب پر حکومت کرتی وہ دلکش آواز ہمیشہ کے لئے خاموش ہوگئی، موت کے سخت ترین حملہ نے اسے بھی خاموش کر دیا، جو بولتا تو رات بھر بولتا رہتا، جس کی آواز سامعین کے قلوب پر دستک دیتی، فضا پر سکوت وجمود طاری کردیتی، لوگ گفتگو میں محو ہوجاتے، زبان سے الف
بیمار قوم پرستی کی علامت کیوں بن گئے جوہر؟۔۔۔۔۔۔۔۔از: محمد علم اللہ
چار جنوری یوم وفات کی مناسبت سے خاص کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں، جن کا نقش آپ کے ذہن پر کنداں ہوجاتا ہے اور پھر وہ مٹائے نہیں مٹتا۔ اُنھی میں سے ایک مولانا محمد علی جوہر کی شخصیت ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں نے مولانا محمد علی جوہر کے بارے میں پہلی مرتبہ کب اور کیا سنا؟ لیکن ان کے بارے میں اتنا سنا کہ ان کی شخصیت کا ایک ہیولا سا میرے ذہن میں بن گیا۔ شیروانی، مخملی دوپلی ٹوپی اور گاندھی نما گول شیشے والی عینک زیب تن کیے ہوئے، ایک با رُعب شخصیت، جو انتہائی مختصر مدت میں بہت سے کام انجام دے کر، اس د
تبصرہ : مولانا ابو الجلال ندوی ۔۔۔ رفیع الزماں زبیری
مولانا ابوالجلال ندوی شمالی ہند کے علما کے ایک نامور خاندان کے فرد تھے۔ ندوہ سے اور پھر دارالمصنفین اعظم گڑھ سے تعلق تھا۔ ہندی، فارسی، عربی اور انگریزی پر عبور تھا۔ قرآن، تفسیر، حدیث، فقہ کے عالم تھے، لسانیات اور ادبیات عالم ان کا خاص موضوع تھا تاریخ و تحقیق کے آدمی تھے، دماغ ان کا ہزاروں کتابوں کا حافظ تھا۔ احمد حاطب صدیقی نے جو ان کے چھوٹے بھائی کے بیٹے ہیں، ان کی یاد داشتیں مرتب کی ہیں۔ یہ یادداشتیں دیدہ، شنیدہ اور خواندہ ہیں۔ اس کتاب کا عنوان بھی یہی ہے۔ مولانا ابوالجلال کے آبائی گاؤں محی ا
ایک صدی کی شخصیت - تحریر: عبد المتین منیری
یہ تاثرات انڈین اسلامک سنٹر دبی کے زیر اہتمام منعقدہ تعزیتی اجلاس میں ۲۷ رمضان المبارک ۱۴۲۰ھ مطابق ۴ جنوری ۲۰۰۰ء پیش کئے گئے تھے . قند مکرر کے طور دوبارہ پیش کیا جارہا ہے بیسویں صدی کے اختتام اور اکیسویں صدی کے آغاز پر جہاں ساری دنیا جشن کے شادیانے بجارہی تھی اور نئی صدی کے پر جوش استقبال کی تیاریوں میں مگن تھی، مسلمانا ن عالم ایک عظیم سانحہ سے دوچار ہوگئے ۔ ان کے عظیم قائد و رہنما و مفکر حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی عمر عزیز کی ۸۶ بہاریں طاعت خداوندی اور رہنمائی
خبرلیجئے زباں بگڑی ۔۔۔۔ مڈھ بھیڑ یا مٹھ بھیڑ ۔۔۔ تحریر : اطہر ہاشمی
ایک ادبی رسالے میں افسانے کا عنوان دیکھا ’’مٹھ بھیڑ‘‘۔ ہم اس کو آج تک مڈبھیڑ پڑھتے رہے تو تجسس ہوا کہ صحیح کیا ہے۔ لغات دیکھیں تو معلوم ہوا کہ نہ صرف دونوں صحیح ہیں بلکہ ’’مُٹ بھیڑ‘‘ بھی ہے۔ مطلب تو قارئین کو معلوم ہی ہے: مقابلہ، آمنا سامنا، دوبدو ہونا، گتھ جانا، اتفاقیہ ملاقات وغیرہ۔ اب جیسا جس کا معاملہ ہو وہ استعمال کرلے۔ نوراللغات نے نیا شوشا چھوڑا کہ اصل میں تو یہ لفظ ’’منڈ بھیڑ‘‘ ہے۔ داغؔ کا ایک شعر ہے: غیر سے مڈھ بھیڑ ناصح کی ہوئی اس نے حضرت کا بڑا پیچھا لیا مڈھ (ہندی) کا ایک مطلب سر
سچی باتیں ۔۔۔ضابطہ عمل ۔۔۔تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی مرحوم
سورۂ مائدہ کے شروع میں ایک بڑی سی آیت ہے اس کے پہلے ٹکڑے میں مسلمانوں کو شعائر اللہ کی تعظیم پر توجہ دلائی ہے دوسرے جزء میں یہ ارشاد ہوتا ہے کہ وَلَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ اَنْ صَدُّوْکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اَنْ تَعْتَدُوْا۔ اور یہ نہ ہو کہ کسی قوم کی دشمنی اس بنا پر کہ اس نے تمھیں مسجدحرام میں داخل ہونے سے روک دیا تمھیں اس بات پر آمادہ کردے کہ تم اس کے ساتھ زیادتی کرنے لگو۔ یعنی دشمن کے بھی اور پھر ایسے دشمن کے جو خانۂ کعبہ کی راہ روکے ہوئے ہے،حقوق ہوتے ہیں مسل
پچیس سال پہلے کی وہ سرد راتیں اور جیل یاترا!!(دوسری قسط)۔۔۔۔۔۔۔از: ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے........... haneefshabab@gmail.com جیسا کہ میں نے اپنے مضمون کی پچھلی قسط میں کہا تھاکہ پولیس نے براہ راست ایس پی اوم پرکاش کی نگرانی میں فسادات میں ملوث ہندو نوجوانوں ، ہندو جاگرن ویدیکے کے سرگرم لیڈروں اوربھگوابریگیڈ کے دیگر بڑے اورچھوٹے لیڈروں کے خلاف ہلّہ بول دیا تھااورجو بھی ہاتھ لگا اسے سیدھے جیل بھیجنے کی کارروائی جاری تھی۔ غیر مسلم علاقوں میں سنسنی اور خوف کے ماحول کو صاف محسوس کیا جاسکتا تھا۔ پولیس کے ڈر سے غیر مسلم مرد اپنے گھروں سے بھاگ کر نامعلوم مقامات پر
Meet Noorul Hasan, the youngest IPS Officer
Hyderabad: The youngest IPS Officer, Noorul Hasan took charge as the ACP of Dharamabad Division of Nanded District in Maharashtra State. The 22-year-old Noorul Hasan hails from Peelibheet District of UP. He studied in a Govt. school up to 8th standard. After passing 10th class, he went to Raibareili along with his father and studied Intermediate through Hindi Medium. Later, he joined Aligarh Muslim University in 2009 for B.Tech. He improved his proficiency in English language during his studi
تین طلاق پر تین سال کی سزا۔۔۔از: مولانا محمد ولی صاحب رحمانی ( جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)
۲۲؍ اگست ۲۰۱۷ء کی تاریخ تھی، سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے تین طلاق کے موضوع پر اپنا فیصلہ سنادیا، جس میں پانچوں ججوں کے فیصلہ میں کئی جگہ اختلاف رائے تھا، اس لیے فیصلہ اکثریتی فیصلہ سے ہؤا، اس فیصلہ میں خاص طور پر دو باتیں تھیں، ایک تو یہ کہ پرسنل لا بنیادی حق ہے، اس لیے اس میں نہ سپریم کورٹ تبدیلی کرسکتی ہے، اور نہ پارلیمنٹ اس کے خلاف قانون سازی کرسکتی ہے، فیصلہ کا دوسرا حصہ یہ تھا کہ اگر کسی نے بیک وقت تین طلاق دی تووہ طلاق کالعدم ہوگی، اور ازدواجی زندگی پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا، اس فیص
سچی باتیں ۔۔۔ آگ کے شعلے ۔۔۔ تحریر : مولانا عبد الماجد دریابادی مرحوم
سنہ 1930ء کے آخر میں انٹرپارلیمنٹری یونین نے ایک کمیٹی اس تحقیق کے لئے مقرر کی تھی کہ یورپ میں آیندہ جنگ چھڑی تو اس کی نوعیت کیا ہوگی کمیٹی میں بڑے بڑے ماہرینِ سائنس اور بڑے بڑے فنِ حرب شامل تھے کمیٹی کے نتائج تحقیق ایک کتاب کی صورت میں شائع ہوئے ہیں ان کا خلاصہ بعض ولایتی اخبارات کے واسطے سے ہندوستان بھی پہنچاہے یہ محققین لکھتے ہیں کہ پچھلی جنگ عمومی میں طیاروں کی خود کوئی مستقل حیثیت نہ تھی محض بری وبحری فوج کے معین ومعاون کی حیثیت تھی اب اصلی میدانِ جنگ ہوائی یا فضائی ہوگا اور طیارے اس
خبرلیجئے زباں بگڑی ۔۔ تحقیقی مجلہ تحقیق کی تحقیق ۔۔۔تحریر : اطہر ہاشمی
شش ماہی تحقیقی مجلہ ’’تحقیق ‘‘ شعبہ اردو‘ جامعہ سندھ جام شورو کا بڑا دقیع مجلہ ہے‘ جس میں بہت قیمتی مضامین شائع ہوتے ہیں۔ اس کے مدیر پروفیسر شعبۂ اردو اور ڈین فیکلٹی آف آرٹس (رئیس کلیہ فنون) ڈاکٹر سید جاوید اقبال ہیں۔ ان کی طرف سے تحقیق کا شمارہ نمبر 31 اور 32 ایک ساتھ ملے ہیں‘ بہت شکریہ۔ ان میں زبان بالخصوص اردو کے حوالے سے کئی تحقیقاتی مضامین شامل ہیں۔ خود ڈاکٹر سید جاویداقبال کا ایک مقالہ ’’اردو فرہنگ نگاری تشکیل و تحقیق: ایک جائزہ‘‘ شمارہ نمبر 31 میں شامل ہے۔ اس کی مجلس مشاورت میں اردو کے ب
جمہوریت کا مستقبل۔۔۔ تحریر : راحت علی صدیقی قاسمی
انسانوں کی عزت و ناموس, جان و مال کی حفاظت جمہوریت کا نمایاں وصف ہے، حکمراں منتخب کرنے کا عوام کو مکمل اختیار ہوتا ہے، حکمراں خوف زدہ رہتے ہیں، عوام بے خوف, خوش پُر سکون رہتی ہے، اس کے برخلاف بادشاہت میں انسان کچلا جاتا تھا، اس کی عزت نیلام کی جاتی تھی، اس کی آبرو سے کھیلا جاتا تھا، اس کے عقائد پر چوٹ پہنچائی جاتی تھی، اس کے حقوق تلف ہوتے ہیں، بسا اوقات اس کی جان تک لینے سے دریغ نہیں کیا جاتا تھا، بادشاہ جس کو چاہتا اذیت دے سکتا تھا، اس کے حقوق تلف کرسکتا تھا، ٹیکس کے نام پر اس کی دولت ہڑپ سکتا
خبر لیجئے زباں بگڑی ۔۔۔ مقَدِس اور مُقدّس۔۔۔ تحریر : اطہر ہاشمی
امریکی صدر کی طرف سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت بنانے کے اعلان کے بعد ذرائع ابلاغ میں بیت المقدس کا نام کثرت سے آرہا ہے۔ اخبارات میں تلفظ تو ہوتا نہیں، البتہ برقی ذرائع ابلاغ اور ان کے ذریعے نشر ہونے والی تقاریر میں اس شہرِ مقدس کا مختلف تلفظ سننے میں آرہا ہے یعنی بیت المقّدس، بیت المقدِس اور بیت المَقدس۔ ان میں سے تیسرا تلفظ غلط ہے، پہلے دو صحیح ہیں۔ تاہم معانی میں ذرا سا فرق ہے۔ مُقَدّس (ع) بضم اول و فتح دوم و سوم۔ دال پر تشدید ہے۔ اب یہ تو قارئین کو معلوم ہی ہے کہ ضم کا مطلب
Meet burqa-clad Ola driver Rizwana Shaikh
Mumbai: 30-year-old, Rizwana Shaikh, is a stay-at-home mum by day and Ola driver by night. Rizwana grew up in Lucknow but moved to Mumbai after her marriage to a Jogeshwari businessman. Today women have entered the male bastion and have started driving taxis and autos. With GPS tracking their every move, there are no security concerns for them. She claims in the eight months she has been on the roads at night seldom has she come across any trouble-maker. However she refuses to go ahead with t
As Rahul takes the reins of Congress, he must learn from past mistakes
Amidst celebration and loud cheers, Rahul Gandhi formally took charge as the Congress president at a function held at Akber Road, New Delhi. No one in Congress opposed his appointment as president. Now it remains to be seen whether people of this country accept him as their leader or not. At present Rahul Gandhi has proved that if anyone can stand against Modi it is him. BJP failed to dub Rahul as ‘Pappu’ as Rahul gave many sleepless nights to BJP leaders, especially during Gujarat elections. En
سچی باتیں ۔۔۔ خدا فراموشی اور خود فراموشی ۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی
آپ انگریزی تعلیم یافتہ ہیں اور ریل کے کسی اونچے درجہ میں سفر کررہے ہیں اس وقت آپ کے اور آپ کے دوسرے ساتھیوں کے ہاتھ میں انگریزی اخبارات کا ہونا لازمی ہے یہ اخبارات کون سے ہوتے ہیں ؟ یہی پانیر ، اسٹیٹسمین، ٹائمس آف انڈیا، ہندوستان ٹائمس، لیڈر، بمبیٔ کرانیکل ہیں یا کوئی اور ؟ان اخبارات میں سے کوئی مسلمانوں کا بھی اخبار ہے؟ کوئی واقعات عالم کو مسلمان کے نقطۂ نظر سے بھی دیکھتاہے ؟ کوئی آپ کی نمائندگی کرتاہے؟ رپورٹر، ہو یا ایسوسی ایٹیڈ پریس ، ،فری پریس ہو یا کوئی اور کوئی بھی ہوا یجنسی آپ کے
راہول گاندھی کا مذہب۔۔۔ تحریر : آصف جیلانی
پچھلے دنوں ہندوستان کی ریاست گجرات میں ریاستی اسمبلی کے انتخاب کی مہم کے آغاز پر جب کانگریس کے صدر راہول گاندھی سومنات کے مندر گئے تو مندر کے رجسٹر میں انہیں غیر ہندو لکھا گیا تھا جس پر زبردست ہنگامہ برپا ہوگیا تھا ۔ کانگریس کے ترجمان رندیپ سرجے والا نے شور مچایا تھاکہ یہ کانگریس کے خلاف سازش ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ راہول ہندو ہیں اور مقدس دھاگہ جنیو پہنتے ہیں۔ اس تنازعہ پر مجھے راہول کے دادا فیروز گاندھی یاد آگئے جن کامیں سن ساٹھ میں دلی میں پڑوسی تھا۔ میں پارلیمنٹ کے قریب رائے سینا ہاسٹل میں ر
خبر لیجئے زباں بگڑی ۔۔۔ مَقدِس اور مُقدّس۔۔۔ تحریر : اطہر ہاشمی
امریکی صدر کی طرف سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت بنانے کے اعلان کے بعد ذرائع ابلاغ میں بیت المقدس کا نام کثرت سے آرہا ہے۔ اخبارات میں تلفظ تو ہوتا نہیں، البتہ برقی ذرائع ابلاغ اور ان کے ذریعے نشر ہونے والی تقاریر میں اس شہرِ مقدس کا مختلف تلفظ سننے میں آرہا ہے یعنی بیت المقّدس، بیت المقدِس اور بیت المَقدس۔ ان میں سے تیسرا تلفظ غلط ہے، پہلے دو صحیح ہیں۔ تاہم معانی میں ذرا سا فرق ہے۔ مُقَدّس (ع) بضم اول و فتح دوم و سوم۔ دال پر تشدید ہے۔ اب یہ تو قارئین کو معلوم ہی ہے کہ ضم کا مطلب