Search results

Search results for ''


آنچہ من گم کردہ ام آنچہ من گم کردہ ام۔۔۔ جواں سال وباکمال بیٹے کی موت کا غم

Bhatkallys Other

از: ڈاکٹر بدر الحسن قاسمی آہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  میرا لخت جگر ’’محمد‘‘ جس کے لئے اﷲ نے عمر کی صرف32 بہاریں ہی لکھی تھیں۔ کویت میں پیدا ہوا، خالص عربی ماحول میں نشو و نما پائی، عربی مدارس و جامعات میں تعلیم حاصل کی اور تقریبا 5/6 سالوں کی غریب الوطنی اور شب و روز کی محنت کے بعد اُردن یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے کے بعد اُردن ہی کی ایک دوسری یونیورسٹی میں ماجستیر(ایم، اے) کے مرحلہ تک پہنچا، تمہیدی کورس کے بعد مقالہ کیلئے ایک نئے اور اچھوتے موضوع کا خاکہ پیش کرکے منظوری لی کہ اچانک اس کا وقت موعود آ پہنچا

شکست کا خوف اور رام مندر پر پسپائی... از: سہیل انجم

Bhatkallys Other

نفرت و جنون کا آتش فشاں جب پھٹتا ہے تو دوسرے بھی اس کے شکار ہوتے ہیں اور اپنے بھی۔ اس آتش فشاں کو ہوا دینے والے بھی اس کی زد میں آتے ہیں اور دوسروں کے ساتھ ساتھ وہ بھی تباہی و بربادی سے دوچار ہوتے ہیں۔ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے نام پر بھڑکائے جانے والے نفرت و جنون کے جوالہ مکھی کے شعلوں کی آنچ جب بی جے پی سمیت پورے سنگھ پریوار پر آنے لگی تو اس جوالہ مکھی کو ٹھنڈا کرنے کی کوششیں کی جانے لگیں۔ رام مندر کے نام پر گزشتہ دو تین ماہ سے جو ہنگامہ آرائی جاری تھی وہ اب کمزور پڑ گئی

مسلمانوں کو جو کھلونا سمجھے گا وہ نقصان اُٹھائے گا۔۔۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

آج 9 فروری کے اودھ نامہ میں ایک خبر نے جھنجھوڑکر رکھ دیا کہ کانگریس کے صدر راہل گاندھی اترپردیش کے جنرل سکریٹری کی طرح صدر بھی دو بنانے پر غور کررہے ہیں۔ اس میں چونکانے والی بات یہ ہے کہ مشرقی اضلاع کے صدر کوئی پنڈت جی ہوں گے اور مغربی اضلاع کے میاں صاحب۔ یعنی وہ مسلمان جن کو گجرات میں اچھوت سمجھا گیا تھا اور برسوں سے پارٹی کوشش یہ کرتی ہے کہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں مسلمان کم سے کم آئیں۔ خبر کے ذمہ دار سید کاظم رضا شکیل ہیں جو ادارہ کے ذمہ دار رکن ہیں انہوں نے مسلمان صدر کا نام بھی عمران مسع

خبرلیجے زباں بگڑی۔۔۔ چولی دامن کا ساتھ۔۔۔ تحریر: اطہر ہاشمی

Bhatkallys Other

ایک عمومی اصطلاح ہے ’چولی دامن کا ساتھ‘۔ چولی کو عموماً خواتین کا پہناوا سمجھا جاتا ہے تو یہ سوال اٹھنا لازم ہے کہ چولی کا دامن سے کیا تعلق۔ دراصل پہلے شرفا عموماً انگرکھا پہنتے تھے۔ اس کے اوپر کا حصہ تنگ ہوتا تھا اور اس کو چولی کہتے تھے۔ دامن یا چولی کا باقی حصہ منسلک ہوتا تھا۔ اسی لیے چولی دامن کا ساتھ ہو گیا۔ لغت کے مطابق ’’انگرکھے کے دامن کا اوپری حصہ، اوپر کے دھڑکا کپڑا۔ یعنی چولی اور دامن انگرکھے کے دو جز ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ جڑے رہتے ہیں گویا لازم و ملزوم امیر مینائی کا شعر ہے:جنوں اب

سچی باتیں۔۔۔مسلمان کون ہے؟۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی

Bhatkallys Other

09/01/1925 مسلمان کون ہے؟ خدا کا قانون بتاتاہے کہ وہی جو سارے جہانوں کے رب کا کہنا مانے۔ کام تو یہ کچھ بڑا اور کٹھن نہیں ہے، پر دیکھو اور دل کو ٹٹولو تو جان جاؤ گے کہ رب کاکہنا ماننے والے کتنے ہیں اور نہ ماننے ولے کتنے۔ مگر جو کہنا مانتے ہیں وہ بھی مسلمان کہتے جاتے ہیں اور جو نہیں مانتے لوگ ان کو بھی مسلمان ہی جانتے ہیں۔شاید رب کا کہنا ماننے کا مطلب لوگوں نے نہیں سمجھا۔ رب کا کہنا ماننے کا کیا مطلب ہے؟ یہی کہ رب نے جو قانون بھیجا ہے اس کے موافق سب کام کئے جائں۔ بات تو یہ بھی بڑی سہل ہے مگر مشک

عیدگاہ کے بعد حج ہاؤس بنے گا شادی گھر۔۔۔از:حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

کوئی بھی جائیداد وقف کی جاتی ہے تو سب سے اہم بات یہ ہوتی ہے کہ وقف کرنے والے کی منشاء کیا ہے؟ اسی طرح جو عمارت بنائی جاتی ہے اس کے بنانے والے کے دماغ میں یہ ہوتا ہے کہ وہ کس کام کے لئے بنائی گئی ہے؟ ملک پر جب انگریز حکومت کررہے تھے تو لکھنؤ کے کمشنر نے عیش باغ میں زمین کا ایک ٹکڑا مسلمانوں کو دیا تھا کہ وہ وہاں عیدین کی نماز پڑھ لیا کریں اور شرط یہ تھی کہ اگر تین سال تک عیدین کی نماز مسلمانوں نے وہاں پابندی سے ادا کی تو اس زمین کو عیدگاہ کے لئے مسلمانوں کو دے دیا جائے گا۔ اس زمانہ میں دینی علم ک

خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ قواعد یا وقوائد۔۔۔ تحریر: اطہر علی ہاشمی

Bhatkallys Other

گزشتہ دنوں ”صحیح املا کیسے لکھا جائے“ کے موضوع پر ایک ورکشاپ میں شرکت کا موقع ملا۔ یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ طالبات میں خاص طور پر صحیح اردو لکھنے اور املا درست کرنے کی لگن ہے۔ لطیفہ یہ ہوا کہ جن چند الفاظ کے املا کی تصحیح کرنے کی کوشش کی تھی اسی دن کے اخبار میں وہ غلطیاں موجود تھیں۔ مثلاً ”اہلیان“، ”خردبرد“ وغیرہ۔ لطیفہ یہ ہے کہ چند دن پہلے ایک ٹی وی چینل پر مشاعرہ ہورہا تھا جس میں ایک شاعر نے ”اشیائے خَرد“ کی مہنگائی کا شکوہ کیا۔ مشاعرے میں جناب اعجاز رحمانی جیسے استاد بھی موجود تھے لیکن سرِ بزم

خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔’کے‘ اور’ کہ‘ کا فرق اور استعمال ۔۔۔تحریر:اطہر علی ہاشمی

Bhatkallys Other

پہلے بہت دور سے بھیجے گئے ایک صاحبِ علم کا خط۔ یہ محبت نامہ پروفیسر محمد حمزہ نعیم، ایم اے عربی، ایم اے علوم اسلامیہ، ڈپلومہ ریاض یونیورسٹی سعودیہ، سابق پرنسپل گورنمنٹ کالج جھنگ نے بھیجا ہے۔ پروفیسر صاحب نے 7 اکتوبر 2018ء کو روزنامہ ’اسلام‘ میں وہ مضمون پڑھ لیا جس میں ’علاوہ‘ اور ’سوا‘ پر بات کی گئی ہے۔ ہم نے تو اپنے محدود علم کے مطابق فرق واضح کیا تھا کہ بہت سے لوگ سوا کی جگہ علاوہ استعمال کرجاتے ہیں، تاہم پروفیسر محمد حمزہ نعیم نے اس پر بڑی وضاحت سے گفتگو کی ہے۔ وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ ایسے عن

چینی قیادت: ناقابلِ شکست

Bhatkallys Other

چین جس تیزی سے ابھرا ہے اُسے دیکھتے ہوئے دنیا کا اُس کی طرف متوجہ ہونا کسی بھی طور حیرت انگیز نہیں۔ آج کی دنیا چین کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننا چاہتی ہے۔ یہ بات کیا کم حیرت انگیز ہے کہ اِتنی زیادہ آبادی کے باوجود چین نے عالمی سطح پر اپنے آپ کو منوانے میں غیر معمولی کامیابی ہی حاصل نہیں کی بلکہ اب عالمی سیاست و معیشت پر نمایاں تصرّف کی کوشش میں مصروف ہے۔ دنیا بھر میں لوگ یہ جاننے کے لیے بے تاب ہیں کہ چینی قیادت معاشرے پر کس طور تصرّف قائم رکھے ہوئے ہے۔ ایک ارب ۴۰ کروڑ کی آبادی کو قابو میں

مولانا واضح رشید اعلیٰ اللہ مقامہ۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

علی کا گھر بھی کیا گھر ہے کہ اس گھر کا ہر ایک بچہ جہاں پیدا ہوا شیر خدا معلوم ہوتا ہے 1945ء میں جب والد ماجد بریلی سے ہمیں لے کر ندوہ میں داخل کرانے کیلئے آئے تو ندوہ میں ہی مولانا علی میاں کے ساتھ مہمان خانہ میں قیام ہوا۔ اس وقت دارالعلوم ندوہ کے مہتمم مولانا محمد عمران خاں صاحب تھے اور ناظم مولانا علی میاں کے بڑے بھائی ڈاکٹر سید عبدالعلیؒ تھے۔ ہمارا داخلہ عربی کے تیسرے درجہ میں ہوا اور شبلی ہاسٹل میں رہنے کے لئے کمرہ ملا درجہ میں پہلے دن آئے تو ان لڑکوں سے تعارف ہوا جو شہر میں رہتے تھے اور ا

تبصرہ کتب۔۔۔ بنام ممد حسن عسکری۔نو دریافت خطوط: محمد یاسر عرفات مسلم

Bhatkallys Other

   کسی فرد کی قلبی و نفسی کیفیات اور علمی و ادبی میلانات اور رجحانات سے آگاہی کے لیے اس کے لکھے گئے یا اس کو لکھے گئے خطوط ایک اہم ذریعہ ہیں۔ہماری علمی اور ادبی تاریخ میں مکاتیب کو نہایت اہمیت حاصل ہے۔ بلاشبہ خط کو تہذیبِِ انسانی کے محیرالعقول عجائبات میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ تحقیق کے باب میں بھی مکاتیب کو بنیادی معلومات کا بہترین ماخذ تصور کیا جاتا ہے۔ کیونکہ خط میں مخاطب فردِ واحد ہوتا ہے جس کے باعث لکھنے والا بلاتکلف ذہن و قلب کی کیفیات رقم کرتا چلا جاتا ہے۔ علامہ اقبالؔ شاعر کے اد

خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ حرف گیری ۔۔۔۔ تحریر: اطہر علی ہاشمی

Bhatkallys Other

کچھ الفاظ ایسے ہیں جن کے صحیح املا میں ابہام ہوجاتا ہے، مثلاً ’جز‘ یا ’جزو‘۔ ساتھی پوچھ بیٹھیں تو ہم خود اُلجھ جاتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ ’جز‘ ہو یا ’جزو‘ دونوں ہی صحیح ہیں… یہ فارسی کے الفاظ ہیں۔ ان کے استعمال میں تھوڑا سا فرق ہے۔ ’جز‘ جزو کا مخفف ہے، فارسی اور اُردو میں جب مضاف ہوتا ہے تو وائو کے ساتھ لکھتے ہیں۔ ’جز‘ کا مطلب ہے: غیر، سوائے، بدون، بغیر، بیشتر اس جگہ بجز مستعمل ہے، اس معنیٰ میں اضافت کے ساتھ مستعمل نہیں۔ اردو میں 16صفحوں کو بھی جز کہتے ہیں۔ پریس وغیرہ میں ’جز بندی‘ کا استعمال عام ہے

ارباب فضل وکمال کا قافلہ۔۔۔تحریر:ڈاکٹر بدر الحسن قاسمی۔الکویت

Bhatkallys Other

گزشتہ چند ماہ کے واقعات وحوادث پر نظر ڈالی جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ارباب فضل وکمال کا قافلہ بڑی تیزی سے نظروں سے اوجھل ہوتا جارہا ہے اور ہر جانے والا اپنے بعد اپنے علمی دینی ودعوتی حلقے میں ایسا خلا چھوڑ کر جارہا ہے جس کا پر ہونا بظاہر اسباب ممکن نظر نہیں آتا جس سے تشویش کا پیدا ہونا طبعی ہے، شیخ الحدیث مولانا محمد یونس جونپوریؒ، مولانا محمد اسلم قاسمیؒ، مولانا محمد سالم قاسمیؒ کے بعد مولانا اسرار الحق قاسمیؒ، مولانا حسیب الرحمن قاسمیؒ (شیخ الحدیث دار العلوم حیدرآباد) کے بعد اب مولانا زبیر احم

’ کیاسانور فاریسٹ ڈیسیز ‘کی ساحلی کرناٹکا پر دستک ۔ کیا ہے یہ مرض ؟۔۔۔۔۔از:! ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ 

Bhatkallys Other

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے...........  آج کل کرناٹکاکے ساحلی اضلاع میں وبائی مرض ’بندر بخار‘ Monkey Feverیا ’کیاسانور فاریسٹ ڈیسیز‘کا چرچا سنائی دے رہا ہے۔کیونکہ شیموگہ ضلع کے ساگر تعلقہ کے بعد اب اس مرض نے متصلہ ضلع اُڈپی، شمالی کینرا اور سداپور وغیرہ میں بھی دستک دے دی ہے جس کی وجہ سے عوام کے اندر خوف و دہشت کا سا عالم پید ا ہوگیا ہے۔اس سے پہلے ملیریا، چکُن گُنیا، چوہے کے بخارrat fever،زرد بخار، ڈینگیdengue بخار وغیرہ کے معاملات الگ الگ مقامات سے سامنے آرہے تھے۔ جس پر قابو پانے کے لئے محکمہ صحت

مصیبت زدوں سے حوصلہ پایا۔۔۔۔۔از: مولانا محمد الیاس بھٹکلی ندوی

Bhatkallys Other

تقریباً چار سال پرانی بات ہے ،ہمارے جامعہ کے صدرشعبہ حفظ کے حافظ کبیرالدین صاحب کا دورہ قلب کے بعد آپریشن ہوا،جامعہ کے اساتذہ کے ساتھ حافظ صاحب کو دیکھنے ہم لوگ منگلور یونیٹی ہسپتال پہنچے ،ہنستے کھیلتے زندہ دل حافظ صاحب کو آپریشن کے کپڑوں میں پہلی دفعہ جس بے بسی کی حالت میں دیکھا اس کو میں بیان نہیں کرسکتا،آپریشن کے کپڑوں میں زندہ لاش کی طرح نرسوں کے رحم وکرم پرتھے،پیاس سے بے چین تھے،لیکن ڈاکٹروں کی ہدایت پر ان کو ایک قطرہ پانی بھی نہیں دیا جارہاتھا (I.C.U )ایمرجنسی وارڈ میں تھے، صرف ایک ایک آدم

ہے یہ گنبد کی صدا جیسی کہے ویسی سنے۔۔۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کا مشترکہ محاذ بن جانے اور 38-38 سیٹوں پر لڑنے کا فیصلہ کرنے سے بیحد ناراض اُترپردیش کانگریس کے انچارج غلام نبی آزاد نے پریس کانفرنس میں یہ اعلان کرکے کہ وہ 80 سیٹوں پر بی جے پی کا مقابلہ کریں گے اسے ہرائیں گے اور نتائج چونکانے والے ہوں گے یہ ظاہر کردیا کہ وہ سب سے ناراض ہیں۔ ایک رپورٹر کے کہنے کے مطابق وہ بیحد غصہ میں نظر آئے۔ آزاد صاحب نے ظاہر تو یہ کیا کہ ان کا غصہ بی جے پی پر ہے لیکن جاننے والے جانتے ہیں کہ اکھلیش اور مایاوتی کی بے نیازی نے ان کی بہت توہی

فقیہ ملت مولانا زبیر احمد قاسمی :مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ تجھے ۔۔۔از:شمس تبریز قاسمی

Bhatkallys Other

فقیہ ملت مولانا زبیر احمد قاسمی میرے استاذ ،میرے مخدوم ،میر ے محسن ،میرے مربی اور مخلص رہنما تھے ۔طالب علمی کے سفر میں میرا سب سے طویل عرصہ اپنے اسی عظیم استاذ کے ساتھ گزرا ۔اشرف العلوم میں داخلہ ہونے کے بعد مولانا کی خدمت میں مسلسل رہنے کا شرف حاصل ہوا۔2009 میں مادر علمی کو الوادع کہنے کے بعد بھی رابطہ رہا اور ہمیشہ ان کی عنایتیں ،شفقتیں اور محبتیں مجھ پرجاری رہیں ۔سچ پوچھئے تو وہ میرے صرف استا

رہنمائے کتب ۔۔۔ فرائد اللغۃ -01- تحریر : عبد المتین منیری

Bhatkallys Other

(نام کتاب :  فرائد اللغۃ (الجزء الاول مصنف  : الاب ہنریکوس لامنس الیسوعی ناشر : المطبعۃ الکاثولیکیہ للآباء الیسوعیین ۔ بیروت صفحات :  357    اللہ تعالی نے عربی زبان کے ذریعہ دنیا کے انسانوں تک اپنا کلام پہنچایا ، اس میں اللہ تعالی کی آخری کتاب قرآن پاک نازل ہوئی ، جو اس بات کی دلیل تھی کہ اس زبان میں ایک لامحدود ذات کے کلام کو من و عن پیش کرنے کی قدرت وصلاحیت موجود ہے، بلاغت اور فصاحت میں اس کا مقابلہ دنیا کی کوئی اور زبان نہیں کرتی،کسی زبان کی بلاغت کی ایک علامت  یہ ہے کہ اس میں ایسے الفاظ