Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors
Abdul Haleem Mansoor
Abdul Majid Daryabadi
Abdul Mateen Muniri
Abdur Raqeeb M.J Nadwi
Ahmed Hatib Siddiqui
Asif Jilani
Athar Hashmi
Bhatkallys
Dr Badrul Hasan Qasmi
Dr Haneef Shabab
Dr. F Abdur Rahim
Dr. Tahir Masud
Hafiz Naumani
Kaldip Nayar
Masoom Muradabadi
Masud Ahmed Barkati
Mohammed Mateen Khalid
Nizamuddin Nadwi
Riyazur Rahman Akrami Nadwi
Suhail Anjum
چینی قیادت: ناقابلِ شکست
چین جس تیزی سے ابھرا ہے اُسے دیکھتے ہوئے دنیا کا اُس کی طرف متوجہ ہونا کسی بھی طور حیرت انگیز نہیں۔ آج کی دنیا چین کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننا چاہتی ہے۔ یہ بات کیا کم حیرت انگیز ہے کہ اِتنی زیادہ آبادی کے باوجود چین نے عالمی سطح پر اپنے آپ کو منوانے میں غیر معمولی کامیابی ہی حاصل نہیں کی بلکہ اب عالمی سیاست و معیشت پر نمایاں تصرّف کی کوشش میں مصروف ہے۔ دنیا بھر میں لوگ یہ جاننے کے لیے بے تاب ہیں کہ چینی قیادت معاشرے پر کس طور تصرّف قائم رکھے ہوئے ہے۔ ایک ارب ۴۰ کروڑ کی آبادی کو قابو میں
مولانا واضح رشید اعلیٰ اللہ مقامہ۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی
علی کا گھر بھی کیا گھر ہے کہ اس گھر کا ہر ایک بچہ جہاں پیدا ہوا شیر خدا معلوم ہوتا ہے 1945ء میں جب والد ماجد بریلی سے ہمیں لے کر ندوہ میں داخل کرانے کیلئے آئے تو ندوہ میں ہی مولانا علی میاں کے ساتھ مہمان خانہ میں قیام ہوا۔ اس وقت دارالعلوم ندوہ کے مہتمم مولانا محمد عمران خاں صاحب تھے اور ناظم مولانا علی میاں کے بڑے بھائی ڈاکٹر سید عبدالعلیؒ تھے۔ ہمارا داخلہ عربی کے تیسرے درجہ میں ہوا اور شبلی ہاسٹل میں رہنے کے لئے کمرہ ملا درجہ میں پہلے دن آئے تو ان لڑکوں سے تعارف ہوا جو شہر میں رہتے تھے اور ا
تبصرہ کتب۔۔۔ بنام ممد حسن عسکری۔نو دریافت خطوط: محمد یاسر عرفات مسلم
کسی فرد کی قلبی و نفسی کیفیات اور علمی و ادبی میلانات اور رجحانات سے آگاہی کے لیے اس کے لکھے گئے یا اس کو لکھے گئے خطوط ایک اہم ذریعہ ہیں۔ہماری علمی اور ادبی تاریخ میں مکاتیب کو نہایت اہمیت حاصل ہے۔ بلاشبہ خط کو تہذیبِِ انسانی کے محیرالعقول عجائبات میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ تحقیق کے باب میں بھی مکاتیب کو بنیادی معلومات کا بہترین ماخذ تصور کیا جاتا ہے۔ کیونکہ خط میں مخاطب فردِ واحد ہوتا ہے جس کے باعث لکھنے والا بلاتکلف ذہن و قلب کی کیفیات رقم کرتا چلا جاتا ہے۔ علامہ اقبالؔ شاعر کے اد
خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ حرف گیری ۔۔۔۔ تحریر: اطہر علی ہاشمی
کچھ الفاظ ایسے ہیں جن کے صحیح املا میں ابہام ہوجاتا ہے، مثلاً ’جز‘ یا ’جزو‘۔ ساتھی پوچھ بیٹھیں تو ہم خود اُلجھ جاتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ ’جز‘ ہو یا ’جزو‘ دونوں ہی صحیح ہیں… یہ فارسی کے الفاظ ہیں۔ ان کے استعمال میں تھوڑا سا فرق ہے۔ ’جز‘ جزو کا مخفف ہے، فارسی اور اُردو میں جب مضاف ہوتا ہے تو وائو کے ساتھ لکھتے ہیں۔ ’جز‘ کا مطلب ہے: غیر، سوائے، بدون، بغیر، بیشتر اس جگہ بجز مستعمل ہے، اس معنیٰ میں اضافت کے ساتھ مستعمل نہیں۔ اردو میں 16صفحوں کو بھی جز کہتے ہیں۔ پریس وغیرہ میں ’جز بندی‘ کا استعمال عام ہے
ارباب فضل وکمال کا قافلہ۔۔۔تحریر:ڈاکٹر بدر الحسن قاسمی۔الکویت
گزشتہ چند ماہ کے واقعات وحوادث پر نظر ڈالی جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ارباب فضل وکمال کا قافلہ بڑی تیزی سے نظروں سے اوجھل ہوتا جارہا ہے اور ہر جانے والا اپنے بعد اپنے علمی دینی ودعوتی حلقے میں ایسا خلا چھوڑ کر جارہا ہے جس کا پر ہونا بظاہر اسباب ممکن نظر نہیں آتا جس سے تشویش کا پیدا ہونا طبعی ہے، شیخ الحدیث مولانا محمد یونس جونپوریؒ، مولانا محمد اسلم قاسمیؒ، مولانا محمد سالم قاسمیؒ کے بعد مولانا اسرار الحق قاسمیؒ، مولانا حسیب الرحمن قاسمیؒ (شیخ الحدیث دار العلوم حیدرآباد) کے بعد اب مولانا زبیر احم
’ کیاسانور فاریسٹ ڈیسیز ‘کی ساحلی کرناٹکا پر دستک ۔ کیا ہے یہ مرض ؟۔۔۔۔۔از:! ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے........... آج کل کرناٹکاکے ساحلی اضلاع میں وبائی مرض ’بندر بخار‘ Monkey Feverیا ’کیاسانور فاریسٹ ڈیسیز‘کا چرچا سنائی دے رہا ہے۔کیونکہ شیموگہ ضلع کے ساگر تعلقہ کے بعد اب اس مرض نے متصلہ ضلع اُڈپی، شمالی کینرا اور سداپور وغیرہ میں بھی دستک دے دی ہے جس کی وجہ سے عوام کے اندر خوف و دہشت کا سا عالم پید ا ہوگیا ہے۔اس سے پہلے ملیریا، چکُن گُنیا، چوہے کے بخارrat fever،زرد بخار، ڈینگیdengue بخار وغیرہ کے معاملات الگ الگ مقامات سے سامنے آرہے تھے۔ جس پر قابو پانے کے لئے محکمہ صحت
مصیبت زدوں سے حوصلہ پایا۔۔۔۔۔از: مولانا محمد الیاس بھٹکلی ندوی
تقریباً چار سال پرانی بات ہے ،ہمارے جامعہ کے صدرشعبہ حفظ کے حافظ کبیرالدین صاحب کا دورہ قلب کے بعد آپریشن ہوا،جامعہ کے اساتذہ کے ساتھ حافظ صاحب کو دیکھنے ہم لوگ منگلور یونیٹی ہسپتال پہنچے ،ہنستے کھیلتے زندہ دل حافظ صاحب کو آپریشن کے کپڑوں میں پہلی دفعہ جس بے بسی کی حالت میں دیکھا اس کو میں بیان نہیں کرسکتا،آپریشن کے کپڑوں میں زندہ لاش کی طرح نرسوں کے رحم وکرم پرتھے،پیاس سے بے چین تھے،لیکن ڈاکٹروں کی ہدایت پر ان کو ایک قطرہ پانی بھی نہیں دیا جارہاتھا (I.C.U )ایمرجنسی وارڈ میں تھے، صرف ایک ایک آدم
ہے یہ گنبد کی صدا جیسی کہے ویسی سنے۔۔۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی
سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کا مشترکہ محاذ بن جانے اور 38-38 سیٹوں پر لڑنے کا فیصلہ کرنے سے بیحد ناراض اُترپردیش کانگریس کے انچارج غلام نبی آزاد نے پریس کانفرنس میں یہ اعلان کرکے کہ وہ 80 سیٹوں پر بی جے پی کا مقابلہ کریں گے اسے ہرائیں گے اور نتائج چونکانے والے ہوں گے یہ ظاہر کردیا کہ وہ سب سے ناراض ہیں۔ ایک رپورٹر کے کہنے کے مطابق وہ بیحد غصہ میں نظر آئے۔ آزاد صاحب نے ظاہر تو یہ کیا کہ ان کا غصہ بی جے پی پر ہے لیکن جاننے والے جانتے ہیں کہ اکھلیش اور مایاوتی کی بے نیازی نے ان کی بہت توہی
فقیہ ملت مولانا زبیر احمد قاسمی :مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ تجھے ۔۔۔از:شمس تبریز قاسمی
فقیہ ملت مولانا زبیر احمد قاسمی میرے استاذ ،میرے مخدوم ،میر ے محسن ،میرے مربی اور مخلص رہنما تھے ۔طالب علمی کے سفر میں میرا سب سے طویل عرصہ اپنے اسی عظیم استاذ کے ساتھ گزرا ۔اشرف العلوم میں داخلہ ہونے کے بعد مولانا کی خدمت میں مسلسل رہنے کا شرف حاصل ہوا۔2009 میں مادر علمی کو الوادع کہنے کے بعد بھی رابطہ رہا اور ہمیشہ ان کی عنایتیں ،شفقتیں اور محبتیں مجھ پرجاری رہیں ۔سچ پوچھئے تو وہ میرے صرف استا
رہنمائے کتب ۔۔۔ فرائد اللغۃ -01- تحریر : عبد المتین منیری
(نام کتاب : فرائد اللغۃ (الجزء الاول مصنف : الاب ہنریکوس لامنس الیسوعی ناشر : المطبعۃ الکاثولیکیہ للآباء الیسوعیین ۔ بیروت صفحات : 357 اللہ تعالی نے عربی زبان کے ذریعہ دنیا کے انسانوں تک اپنا کلام پہنچایا ، اس میں اللہ تعالی کی آخری کتاب قرآن پاک نازل ہوئی ، جو اس بات کی دلیل تھی کہ اس زبان میں ایک لامحدود ذات کے کلام کو من و عن پیش کرنے کی قدرت وصلاحیت موجود ہے، بلاغت اور فصاحت میں اس کا مقابلہ دنیا کی کوئی اور زبان نہیں کرتی،کسی زبان کی بلاغت کی ایک علامت یہ ہے کہ اس میں ایسے الفاظ
ہوسپٹن : برصغیر میں جہاں پہلے پہل حفظ قرآن کا باقاعدہ نظام قائم ہوا ۔۔۔ عبد المتین منیری ۔ بھٹکل
ہندوستان کے مغربی ساحل پر گوا کے جنوب میںقومی شاہراہ نمبر (۱۷) کے ساتھ ساتھ ریاست کرناٹک کے علاقے کینرا کی سرحدمیں جب ہم داخل ہوتے ہیں تومغربی گھاٹ کے جنگلوں اور اس کے آبشاروں سے نکل کر بحر عرب میں گرنے والی ندیو ں اور دریاؤں کا ایک سلسلہ شروع ہو جاتاہے، ان میں سے کالی اور مرجان ندی سے گذر نے کے بعد ایک لمبی چوڑی ندی آتی ہے جوشراوتی کہلاتی ہے۔یہ ندی گیرسوپا کے مشہور عالم آبشار جوگ فال سے نکل کر کھاڑی پر ناریل کے درختوں سے بھرے پرے چھوٹے چھوٹے جزیرے 
خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ لائق،ڈس لائق اور نالائق۔۔۔ تحریر: اطہر علی ہاشمی
تلفظ کو چھوڑیے، مزے مزے کی سرخیاں اخبارات میں نظر نواز ہورہی ہیں… روزنامہ جسارت میں29 دسمبر کو صفحہ اوّل پر چار کالمی سرخی ہے ’’لائق ڈس لائق کی پالیسی نہیں چلے گی‘‘۔ جس صحافی نے یہ سرخی نکالی ہے اسے داد دینے کو جی چاہتا ہے، لیکن صورتِ حال یہ ہے کہ داد کم پڑ جائے گی۔ مذکورہ سرخی نکالنے والے فاضل سب ایڈیٹر نے ’لائیک‘ کو ’’لائق‘‘ کردیا، یہ اس کی لیاقت کا ثبوت ہے، لیکن اصل قصور تو بیان دینے والے کا ہے۔ وہ پسند، ناپسند بھی کہہ سکتے تھے جس کو بگاڑنا آسان نہ ہوتا۔ اب یہ مذکورہ سب ایڈیٹر بتائیں گے کہ لا
ریزرویشن بل بھاگتے بھوت کی لنگوٹی۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی
مودی سرکار نے لوک سبھا میں جیسے ڈرامائی انداز میں 10 فیصدی ریزرویشن بل پیش کرکے سب کو سکتہ میں ڈال دیا وہ ایسا ہی اعلان ہے جیسا 2014 ء کے الیکشن سے پہلے انہوں نے کہا تھا کہ کانگریس کے وزیروں اور لیڈروں نے دنیا کے دوسرے ملکوں میں 80 لاکھ کروڑ روپیہ جمع کررکھا ہے جس کے بارے میں انتظام کرلیا ہے کہ اسے اپنی حکومت بننے کے 100 دن کے اندر وہاں سے لے آیا جائے گا اور ہر ہندوستانی کے بینک اکاؤنٹ میں پندرہ پندرہ لاکھ روپئے جمع کردیئے جائیں گے اس لئے کہ یہ روپیہ سرکار کا نہیں آپ کا ہے۔ ہر ہوشمند ہندوستانی ک
تذکرہ انجمن اور عرب و دیار ہند کے مصنف ، مورخ بھٹکل ، مولانا خواجہ بہاء الدین اکرمی ندوی ۔ قسط 02
تحریر : عبد المتین منیری۔ بھٹکل سرخ وسفید جسم پر ململی سفید برّاق قمیص ،اُجلی لنگی ، سر پر دوپلی ٹوپی ، ڈاڑھی کا کوئی بال بکھر ا ہوا نہیں .پابندی سے اس پر کنگھی اور حنا کا خضاب ،نماز جمعہ کے لئے بن ٹھن کر جب نکلتے تو بڑھاپے میں بھی ان پر پڑی ہوئی نگاہیں نہیں ہٹتی تھیں ۔ شاید وہ بھٹکل کے پہلے عالم دین تھے جنھوں نے روایتی ذرائع کے بجائے تجارت کو تلاش معاش کا ذریعہ بنایا ۔ اگر وہ چاہتے تو دین کے ذریعہ خوب دنیا کماسکتے تھے ، ہم نے انہیں بڑھاپے ہی اس وقت دیکھا جب ان کے جسم کا رو
قوم مسلم کا خونِ شہیداں۔۔گؤ رکھشا،ہجومی قتل،شدھی تحریک اور سوامی شردھانند (تیسری قسط) ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے........... ’قومِ مسلم کا خون شہیداں.....‘مضمون کی سابقہ قسط پڑھنے کے بعد گوا سے ہمارے ایک کرم فرما نے ہم سے کہا کہ فرقہ وارانہ فسادات کا جب ذکر چلا ہے تو سوامی شردھا نندکے قتل کے بعد ہونے والے فسادات اوراس کے پس منظر میں مولاناسیدابوالاعلیٰ مودودیؒ کی معرکۃ الآراء تصنیف ’الجہاد فی الاسلام‘ کے تعلق سے کچھ ذکر آنا چاہیے تھا۔ میں نے سابقہ قسط کو 1927-28کے عرصے تک لاکر ختم کیاتھا۔ اس لئے ہمارے کرم فرما کی بروقت نشاندہی کے بعد اس ضمن میں مزید مطالعہ اور تحقیق کرنا ضروری ہوگی
تذکرہ انجمن اور عرب ودیار ہند کے مصنف، مورخ بھٹکل ،مولانا خواجہ بہاء الدین اکرمی ندوی - قسط 01
تحریر : عبد المتین منیری۔ بھٹکل بھٹکل میں انجمن حامی مسلمین کے قیام کے یاد گار لمحات کی یاد میں صدی تقریبات کا بگل بج چکا ہے ، ۴/جنوری سے ان کا آغاز ہوگیا ہے،اس دوران قوم کے ان محسنین کو یاد ِآتے ہیں ، جنہوں نے قوم کی نشات ثانیہ کے لئے قربانیاں دیں ، اور اس مقصد کے حصول کے لئے اپنا سبھی کچھ نچھاور کیا ہے ، ا یسے میں یادوں کےدریچے سے ایک ایسی شخصیت کا چہرہ جھانک رہا ہے ، مطالعہ جن کا اوڑھنا بچھونا تھا ، تحقیق و تصنیف کے میدان میں کچھ کر دکھانے کی تڑپ ان کے رگ و پے میں سمائی ہوئی تھی
خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ سر تسلیمے خم ہے۔۔۔ تحریر : اطہر ہاشمی
تلفظ بگاڑنے کی ذمے داری ہمارے برقی ذرائع ابلاغ بخوبی نباہ رہے ہیں۔ ابھی کل کی بات ہے (یکم جنوری 2019ء) نیب کے چیئرمین جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال اپنے ادارے پر تنقید کے جواب میں کہہ رہے تھے ’’سرِ تسلیم خم ہے‘‘۔ انہوں نے حیرت انگیز طور پر صحیح تلفظ ادا کیا، لیکن جب ایک چینل کے نیوز کاسٹر نے ان کی بات دہرائی تو سرکو تسلیمِ خم کردیا یعنی سرے تسلیم کے بجائے سر تسلیمِ خم فرمایا (تسلیمے خم)۔ جب یہ صورتِ حال ہو تو کوئی کہاں تک غلط تلفظ سے بچے۔ پھر بھی کئی لوگوں کو اس کی فکر رہتی ہے۔ لتمبر، خیبر پختون خ
سیاحت ماجدی کی مختصر سیاحت۔۔۔ تحریر : ڈاکٹر اسلم انصاری
مولانا عبدالماجد دریابادیؒ کے نام نامی سے تو کان نوعمری ہی میں آشنا ہو گئے تھے ۔کالج کے زمانہء طالب علمی میں ان کے کالم پڑھنے کا بھی اتفاق ہوتا رہتاتھا ۔یہ کالم جوان کے مخصوص طرزِ بیان کے مظہر ہوتے تھے پاکستان کے ایک ممتا ز اخبار میں ’صدقِ جدید‘ سے نقل ہوتے تھے ۔ میں ان کے یہ کالم پڑھتا تو تھا لیکن ان کا طرزِ بیان مجھے خاصا غیر مانوس لگتا تھا ۔حیرت ہوتی تھی کہ یہ بزرگ کس طرح لکھتے ہیں ؟ ایسا لگتاتھا جیسے کوئی سامنے بیٹھا باتیں کر رہا ہے ۔ہلکے پھلکے طنز کے تیر بھی چلائے جاتا ہے اور ہمدردانہ پند و