Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors
Abdul Haleem Mansoor
Abdul Majid Daryabadi
Abdul Mateen Muniri
Abdur Raqeeb M.J Nadwi
Ahmed Hatib Siddiqui
Asif Jilani
Athar Hashmi
Bhatkallys
Dr Badrul Hasan Qasmi
Dr Haneef Shabab
Dr. F Abdur Rahim
Dr. Tahir Masud
Hafiz Naumani
Kaldip Nayar
Masoom Muradabadi
Masud Ahmed Barkati
Mohammed Mateen Khalid
Muhammed Furqan
Nizamuddin Nadwi
Riyazur Rahman Akrami Nadwi
Suhail Anjum
دلتوں سے نفرت نہ کرو اُن کو علم سکھاؤ۔۔۔از: حفیظ نعمانی
بہوجن سماج پارٹی میں طرہ کہ اور مایاوتی کی غلامی میں ہاؤس کے اندر نیلی ٹوپی پہن کر پانچ برس تک غنڈہ گردی کرنے والے موریہ نے جب مایاوتی کو چھوڑا تھا تو الزام لگایا تھا کہ ٹکٹ دینے کے لئے وہ مجھ سے بھی پیسے مانگ رہی تھیں۔ جس کے جواب میں مایاوتی نے کہا تھا کہ صرف اپنے لئے نہیں بیٹے اور بیٹی کے لئے بھی ٹکٹ مانگ رہے تھے اور انہیں اندازہ ہوگیا تھا کہ میں انہیں نکالنے والی ہوں اس لئے وہ بھاگ گئے۔ انہوں نے جب پارٹی چھوڑی تو سماج وادی پارٹی کو اُمید تھی کہ وہ اُن کے ساتھ آجائیں گے۔ لیکن 70 سال سے دلت کی
روٹیاں سیدھی کرنا ۔۔۔۔ از: اطہر ہاشمی
سنڈے میگزین کے تازہ شمارے (۳۰!اپریل تا۶مئی) میں دونئے محاورے نظر سے گزرے ۔یہ ٹھیک ہے کہ زبان وہی برقرار رہتی اور وسعت پاتی ہے جس میں انجذاب کی صلاحیت ہو،یعنی وہ دوسری زبانوں کے الفاظ کو اپنے اندر جذب کرکے ان کو اپنے طور پر نئے معنی بھی پہناسکے۔لیکن کسی بھی زبان میں محاوروں سے چھیڑ چھاڑنہیں کی جاتی۔ مذکورہ شمارے میں ایک ادیبِ طبیب شیر شاہ سید کا انڑویوشائع ہوا ہے جسے تحریر کرنے والے بھی ایک شاعر اور ادیب ڈاکٹر نثار احمد نثارہیں ۔ڈاکٹر شیر شاہ کے افسانوں کے مجموعوں کی تعداد ۸ہے او
راج ببر بھی شوق پورا کرکے دیکھ لیں
از: حفیظ نعمانی قانونی طور پر ہمارا تعلق نہ کبھی کانگریس سے رہا اور نہ سماج وادی پارٹی سے بلکہ کسی بھی سیاسی پارٹی کی ممبر شپ یا عہدے یا ذمہ داری کا کوئی تعلق نہیں رہا۔ لیکن کانگریس کے حق میں بھی بہت کچھ لکھا اور کہا اور اس کی مخالفت میں بھی اگر حالات کا تقاضہ ہوا تو گھوڑے دوڑائے۔ 2017 ء کا الیکشن کتنا نازک تھا اس کا اندازہ آج ہر اس آدمی کو ہورہا ہوگا جو بی جے پی کی سیاست کو غلط سمجھ رہا تھا۔ اور یہ بھی اسے اندازہ ہورہا ہوگا جو وہ اب دیکھ رہا ہے کہ یہ تو سوچا بھی نہیں تھا۔ مس مایاوتی اگر خود
ندائے ملت کی خصوصی اشاعت(مسلم یونیورسٹی نمبر)۔۔۔از: حفیظ نعمانی
یہ وہ نمبر ہے جس کی 15ہزار کاپیاں چھپی تھیں جن میں سے صرف 1550ہم اپنی مرضی سے باہر بھیج سکے باقی 13450حکومت نے ضبط کرلیں یہ بات ۲۹؍ اپریل کی ہے کہ میرے بھانجے میاں اویس سنبھلی کا فون آیا کہ مسلم یونیورسٹی نمبر جو آپ کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ ہے وہ کب سے نہیں دیکھا؟ میں نے بتایا کہ ۳۱؍ جولائی 1965کی رات کو اسے آخری بار ۴؍ بجے دیکھا تھا اس کے کے بعد ۹ مہینے جیل میں گذر گئے پھر الٰہ آباد ہائی کورٹ میں اس کی واپسی کی کے چکر میں بار بار الہ آباد ہائی کورٹ جانا ہوا۔ اور وہاں ناکامی کے بعد سپریم
کامن سول کوڈ صرف مسلمانوں کا مسئلہ تھوڑی ہے؟ !( پہلی قسط)۔۔۔از:ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ
ہندوستان میں یونیفارم سول کوڈ کے نفاذ کی راہیں ہموار کرنے کی کوششوں کا سلسلہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ایک زمانے سے یہ مسئلہ وقفے وقفے سے سر اٹھاتا اور سرخیوں میں اچھلتا رہا ہے۔مگر اب کے تشویش ضرور اس بات پر ہے کہ مرکز میں فسطائیت کی علمبردار طاقت کے برسر اقتدار آجانے اور پورے ملک میں زعفرانی آندھی تیز ہوجانے کی وجہ سے سے اب اسے عملی طورپر لاگو کرنے کی طرف پوری قوت اور شدت سے قدم اٹھائے جانے کے آثار نظر آرہے ہیں اور امکانات بڑھتے جارہے ہیں۔ مگرمسئلے کا پیچیدہ پہلویہ ہے کہ فسطائی سنگھ پریوار نے ماحو
ہماری غفلت کا ہی یہ نتیجہ ہے۔۔۔از:حفیظ نعمانی
ممتاز صحافی سہیل انجم ایک ایسے دوست ہیں جن کی دوستی قابل فخر ہے۔ وہ آج کے ان چند صحافیوں میں ہیں جو اُردو صحافت پر چھائے ہوئے ہیں۔ مسلم لڑکیوں کو ہندو بنانے کی وہ مہم جو بنگال میں بی جے پی نے لوجہاد کے جواب میں چلائی ہے۔ اس کی رپورٹ پر انہوں نے فکر کا اظہار کیا ہے۔ کوئی شک نہیں کہ ہر مسلمان کو وہ چاہے جس پیشے سے وابستہ ہو اس خبر سے تکلیف ہوگی۔ لیکن ہندوستان ایک ملک کے بجائے ایک چھوٹی سی دنیا ہے اور مختلف علاقوں کے اپنے اپنے حالات ہیں۔ مغربی بنگال وہ علاقہ ہے جہاں مسلمانوں میں غربت اور جہالت سب س
حیدرآباد پر ۱۹۴۸ کے فوجی حملے کے بارے میں نئی کتاب
سنہ ۱۹۴۸ میں ریاست حیدرآباد پر ہندوستانی افواج نے ہر طرف سے حملہ کرکے قبضہ کرلیا اور اس پورے عمل کو ’’پولیس ایکشن‘‘ کا نام دیا گیا۔ اس حملے کے دوران ہزاروں بے قصور مسلمان مارے گئے، لاتعداد عورتوں کی عصمتیں تار تار کی گئیں اور بے شمار گھروں کو لوٹا اور تباہ کیا گیا۔ اس حملے کی تفاصیل اب تک بڑی حد تک پردۂ نسیان میں پڑی رہی ہیں اور آج تک ان کا اعتراف نہیں کیا گیا ہے۔ اب اس حملے کا شکار ہونے والے ایک شخص نے آگے آکر حملے سے پہلے ، اس کے دوران اور بعد میں جو کچھ ہوا اسے ریکارڈ پر رکھا ہے۔ اس حملے
کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے۔۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی
راجستھان کی ریاست الور میں یکم اپریل کو یعنی تقریباً ایک مہینہ پہلے ایک شرمناک واقعہ پیش آیا تھا کہ جے پور کے مویشی میلے سے دودھ دینے والی گائیں خریدکر چند مسلمان ہریانہ لئے جارہے تھے الور میں ان کی گاڑی کو روک کر غنڈوں کی ایک بھیڑ نے ان مسلمانوں کو اتارا اور الزام لگایا کہ وہ گایوں کو اسمگل کرکے لئے جارہے ہیں۔ گائے لانے والوں کے پاس خریداری کی رسیدیں تھیں وہ دکھانے پر بھی بھیڑ نہیں مانی اور مارپیٹ شروع کردی جن میں ایک پہلو خاں نام کے مسلمان کو سب نے پیٹ پیٹ کر لاتوں گھونسوں سے اتنا مارا کہ اس ن
ہندی اور انگریزی کا جھگڑا
از: کلدیپ نیئر پہلے یہ کام اس وقت کے وزیر داخلہ گلزاری لال نندہ نے کیا تھا جب انھوں نے ہندی زبان کو خصوصی اہمیت دینے کا سوال اٹھایا تھا۔ اب مرکزی وزیر مملکت برائے امور داخلہ کرن ریجی جو نے وہی بات کی ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ گلزاری لال نندہ کے اعلان پر تامل ناڈو کے بہت سے لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے خود کو آگ لگا لی تھی۔ مگر شکر ہے کہ اس مرتبہ ایسا نہیں ہوا۔ نندہ نے مرکزی حکومت کے اداروں کو ہدایت کی تھی کہ فائلوں پر نوٹ ہندی زبان میں لکھے جائیں اور افسر لوگ اپنا مؤقف بھی ہندی زبان م
دوہرا یا دہرا ۔۔۔ از : اطہر ہاشمی
خاکساری اور انکساری پر ہمارا کالم(۷تا۱۳ اپریل) فرائیڈے اسپیشل کے ذمہ داران کو اتنا پسند آیا کہ اگلے ہفتے بھی وہی لگادیا تاکہ جو پڑھنے سے رہ گیا ہو وہ بھی پڑھ لے۔اس کالم کے حوالے سے عزیزم کلیم چغتائی نے تبصرہ کیاکہ انکسا ر کو انکساری لکھنے کا جرم عرصہ دراز تک ان سے بھی سرزد ہوتارہاتا آنکہ استادِ محترم مشکور حسین یاد نے تحریری توبیخ کی کہ یہ آپ کیا انکساری لکھتے رہتے ہیں، درست لفظ انکسار ہے۔ اس پر بھی کلیم چغتائی باز نہ آئے تو دوسرے بڑے استادِ محترم ڈاکٹر فرمان فتح
حمیت نام ہے جس کا، گئی تیمور کے گھر سے! (دوسری اور آخری قسط)
حمیت نام ہے جس کا، گئی تیمور کے گھر سے دوسری اور آخری قسط آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے........... ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ اسلاف کے پاک سروں کی عظمت کے طفیل جنہیں سرداری کا اعزاز ملا تھا جب ملک گیر سطح پران کے سر محض دنیاوی لذّتِ فانی کے لئے اغیارکے در پر خم ہونگے تو حمیت ملّی سے سرشار دلوں کا خون کے آنسو رونا فطری رد عمل ہے۔طرفہ تماشہ تویہ ہے کہ دعوت دین کے علمبردارکہ جن پر نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینے کی ذمہ داری سب سے زیادہ عائد ہوتی ہے،وہ سیاسی و سماجی قائدین کی اسی نامبارک و نا مسعود جر
ایڈوانی گروپ کی سزا میں دو سال کا اضافہ ۔۔۔از: حفیظ نعمانی
سپریم کورٹ کے محترم جج صاحبان نے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے ہندو نواز فیصلہ کو مسترد کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ ایل کے ایڈوانی سے لے کر ونے کٹیار تک بی جے پی کے ان تمام لیڈروں پر مقدمہ چلتا رہے گا جن پر 6 دسمبر 1992کو مسجد کو منہدم کرنے کی سازش کا مقدمہ ۲۵ برس سے رائے بریلی کی عدالت میں چل رہا تھا۔ اور ان کے ماتھے پر جو اپرادھی لکھ دیا گیا تھا وہ اتنے ہی روشن الفاظ میں لکھا رہے گا جو مقدمہ قائم کرتے وقت لکھ دیا گیا تھا۔ دن کی روشنی میں انجام دیا جانے والا شرم ناک واقعہ اور ۱۹۹۵ء سے رتھ یاترا کے ذ
مترجم و مفسر قرآن علامہ عبداللہ یوسف علی۔۔۔از: آصف جیلانی
ایک 81/سالہ کمزور شخص جو کئی سال سے وسطی لندن کی سڑکوں پر بے مقصد گھومتا پھرتا نظر آتا تھا، دسمبر 1953ء کی سخت سردی میں ویسٹ منسٹر کی ایک عمارت کے دروازے کی سیڑھیوں پر کسمپرسی کے عالم میں پڑا ہوا تھا۔ پولس نے اسے فوراً ویسٹ منسٹر اسپتال میں داخل کردیا۔ دوسرے روز اسپتال سے فارغ کرنے کے بعد اسے چیلسی میں بوڑھے لوگوں کی ایک پناہ گاہ میں بھیج دیا گیا۔ 10/دسمبر کو اس مفلس پر دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا۔ اس شخص کا کوئی عزیز رشتہ دار اس کی میت لینے نہیں آیا۔ پولس نے جب پاکستان ہائی کمیشن سے شنا
جسٹس سچر کو قیادت کے لیے آمادہ کیا جائے۔۔۔از: حفیظ نعمانی
وزیر اعظم مودی نے اڑیسہ میں ایک دن پہلے مسلمانوں سے جڑنے کے لیے زمینی سطح پر کام کرنے کی طرف اشارہ کیا تھا جس سے توقع تھی کہ وزیر اعظم صرف تین طلاق والی تفریح باز مسلم خواتین کے ساتھ ہی نہیں بلکہ مسلم سماج کے پسماندہ طبقہ کے لیے بھی سنجیدہ ہورہے ہیں۔ حالاں کہ ریاست الور میں گائیں لے جانے کے جرم میں جسے پیٹ پیٹ کر مارا گیا یا تین دن پہلے دو اونٹ لے جانے والوں کو راستہ روک کر مارا وہ مسلمانوں کے پسماندہ طبقہ سے ہی تعلق رکھتے ہیں اور اس طرح کی سیکڑوں حرکتیں ان تین برسوں میں ہوچکی ہیں جن میں مودی سر
حمیت نام ہے جس کا، گئی تیمور کے گھر سے! (پھلی قسط)
حمیت نام ہے جس کا، گئی تیمور کے گھر سے پھلی قسط آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے........... ملک کی موجودہ صور ت حال کا تجزیہ کرتے وقت جہاں مسلم قوم کی بہت سی دوسری کوتاہیوں یا محرومیوں کا تذکرہ کیا جاتا ہے، وہیں پر ایک مؤثر سیاسی لیڈرشپ کے فقدان کا ذکر بڑے اہتمام سے ہوتا ہے اوربجا طور پر اس خلاء کو پُر کرنے کی شدید ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔اس لئے کہ ملک کے سیاسی سمندرمیں جو طوفان اٹھ رہا ہے اس کے انتہائی تباہ کن ہونے کے صاف اشارے مل رہے ہیں اور ظاہری عوامل اس بات کا بھی اشارہ کررہے ہیں کہ یہ طوف
نظام کی تبدیلی۔ ترک عوام کا فیصلہ۔۔۔از: ڈاکٹر فرقان حمید
ترکی میں 15جولائی کی ناکام بغاوت کے بعد ملک کے سیاسی نظام کی تبدیلی کے بارے میں برسراقتدار جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (آق پارٹی) کے رہنمائوں نے عوام کو واضح پیغامات دینے شروع کردیئے تھےتاہم ملک میں نظام کی تبدیلی کے بارے میں ماضی میں ہمیشہ ہی کوشش کی گئی لیکن کوئی بھی رہنما اس سلسلے میں کوئی ٹھوس قدم اٹھانے میں کامیاب نہ ہوسکا۔ اگرچہ صدر رجب طیب ایردوان کے استنبول کے مئیر ہونے کے دور ہی سے ملک میں سیاسی نظام کی تبدیلی کے بارے میں بحث و مباحثہ شروع ہوگیا تھا لیکن ان کے وزیراعظم بننے کے بعد ا
This tree lures birds with a free lunch and then kills them
Plants in the genus Pisonia don’t appear to be particularly menacing. The trees lack the thorns of acacia, the poisonous fruit of the manchineel tree and the botanical jaws of Venus flytraps. But Pisonia trees, which are found from Hawaii and New Zealand all the way to India, have a dark secret. Search among their roots and you’re likely to find gardens of tiny, delicate bones. This is because Pisonia, or “birdcatcher trees” as they’re more commonly known, produce sticky seedpods that entrap
بورڈ کا فیصلہ: تین ہرحال میں تین ہی مانی جائے گی۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ایک ایسا معتمدادارہ تھا کہ سال میں کہیں ایک اجلاس ہوجایا کرتا تھا جس میں اس سال میں پیش آنے والے اہم واقعات پر یا مستقبل میں کسی خطرہ پر غور ہو کرآگے کامنصوبہ بنالیا جاتا تھا اور پھر ایک جلسہ عام کرکے تمام مسلمانوں کو دین اور شریعت پر عمل کرنے کی تلقین کی جاتی تھی۔ اسے مسلمانوں کی بدقسمتی کہا جائیگا کہ اب سال میں صوبوں صوبوں اور شہر شہر بورڈ کے مصروف اور دینی کام کرنے والوں کوسب کام چھوڑ کر جلسے کرنے پڑے رہے ہیں۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ مسلمانوں کا ایک طبقہ جس میں تعلی