Search results

Search results for ''


ملک و ملت کے گلِ صدرنگ قاضی عدیل عباسی۔۔۔حفیظ نعمانی(دوسری قسط)۔

Bhatkallys Other

اب آئیے کہ مولانا حسرؔ ت موہانی کے جواب کے بعد کان پور جانے کا مسئلہ کیسے حل ہو؟ قاضی عدیل مسلسل سست رہنے لگے آخرکار نئی نویلی دولھن نے معلوم کیا کہ اتنے چپ چپ کیوں رہتے ہیں؟ قاضی صاحب نے جواب دیا کہ گھر کا ماحول تمہارے سامنے ہے اور میں جنگِ آزادی میں حصہ لے کر جیل جانا چاہتا ہوں۔ وفا کی پیکر نے کہا کہ جاؤ روکا کس نے ہے؟ قاضی صاحب نے کہا کہ میرے پاس تو ایک روپیہ بھی نہیں ہے اور گھر میں کسی سے کہہ بھی نہیں سکتا۔ تب سچی رفیقۂ حیات نے کہا کہ میرے ابا دس روپئے دے گئے ہیں وہ لو اور چپکے سے نکل جاؤ۔

الف سے آم شریف ۔۔۔ از : سہیل احمد صدیقی

Bhatkallys Other

آم پسندی کے حوالے سے سب سے مشہور لطیفہ یا واقعہ مرزا غالبؔ کے ساتھ پیش آیا۔ یہ موسم، آم شریف کا موسم ہے۔ اسے شریف (یعنی شرف و عزت کا حامل) کا لقب مابدولت نے بہت سال پہلے، گھریلو بات چیت میں ’’عنایت‘‘ کیا تھا۔ اب ہماری ایک چہیتی ہمشیرہ جب کبھی ہمارے مُنھ سے یہ ترکیب سنتی ہے تو فوراً ہنس کر استفسار کرتی ہے: ’کیوں باقی پھل بدمعاش ہیں کیا؟‘ (براہ کرم اس لقب کو سیاست کی نذر نہ کیا جائے۔ اس سے آم کی بے عزتی ہوگی جو ہمیں ہرگز گوارا نہیں)۔ ایک ضروری وضاحت کردیں کہ مُنہ لکھ کر مُنھ بولنا، صوتی اعتب

جی چاہتا ہے  ؟ کس نے کہا ’ مت خریدیے‘!۔۔۔از: ندیم صدیقی

Bhatkallys Other

آج اس کالم کو لکھنے  سے پہلے ہم نے اسی اخبار میں(عالِم نقوی کے) ایک مضمون میں مولانا علی میاںؒ ندوی کے تعلق سے  جوکچھ پڑھا وہی  اس کالم کو لکھنے کا سبب بنا۔  اکثر کہا جاتا ہے کہ’ اب  ہمارے ہاں حق گو نہیں  رہے۔‘  لوگوں کا یہ بھی خیا ل ہے کہ حق گو تو ہمارے ہاں گاجر مولی کی طرح موجود ہیں یہ اور بات کہ  جب آزمائش کا وقت آتا ہے تو یہی’ حق گو‘ لوگ صرف Go ہی گو  ہو جاتے ہیں۔     ۔۔۔دراصل  زندگی کا ہر شعبہ آج بازار بن گیا  ہے اوربازار کے اپنے آداب ، اپنے اصول ہوتے ہیں البتہ کچھ لوگ بازار سے صرف گزر

ملک و ملت کے گلِ صدرنگ قاضی عدیل عباسی۔۔۔ از: حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

20 ویں صدی میں مسلمانوں میں جو تاریخ ساز ہستیاں چھائی رہیں ان میں ایک نام قاضی محمد عدیل عباسی کا بھی ہے جن کے بارے میں حیات اللہ انصاری جیسے کسی کو خاطر میں نہ لانیو الے صحافی نے بھی لکھا ہے۔ ’’عدیل عباسی مجھے اکثر یاد آتے ہیں اور جب بھی یاد آتے ہیں نئے انداز میں یاد آتے ہیں۔ کبھی جرنلسٹ بن کر آتے ہیں تو کبھی مصنف بن کر کبھی سیاسی مفکر اور لیڈر بن کر آتے ہیں تو کبھی اُردو کے خادم بن کر کبھی دینی تعلیم کے رہبر ہوتے ہیں تو کبھی میرے دوست۔ جب وہ زندہ تھے تو اس بات کی طرف کبھی دھیان نہیں گیا کہ ان

یادیں یادیں لہو میں ڈوبی یادیں۔۔۔از:حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

بابری مسجد کو شہید کرکے فخر کرنے والے یہ کیوں سوچ رہے تھے کہ ان کے خلاف مقدمہ نہ چلے؟ بی جے پی کے برسوں سب سے بڑے کہے جانے والے ایل کے اڈوانی اس مسجد کو شہید کرانے کے سب سے بڑے مجرم ہیں اور 1998 ء میں بی جے پی کی حکومت بنوانے میں وہ خود کو اس کا اہم کردار کہتے تھے۔ بی جے پی کی قیادت کے یہ سب مہرے جنکی آج شرم سے گردن لٹکی ہوئی نظر آرہی ہے یہ گردن 25 سال اس بات پر اکڑی رہی ہے کہ ہم نے غلامی کی نشانی کو مٹا دیا۔ سی بی آئی کی کوشش سے جب سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا کہ ان سب کے خلاف سی بی آئی کی خصوصی

مذبح کے لئے جانوروں کی فروخت پر پابندی۔۔ایک تیر سے کئی شکار ۔۔از:ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ

Bhatkallys Other

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے........... چلئے خدا خدا کرکے ہندوستان میں کسی کے تو اچھے دن آگئے!خواہ مخواہ لوگ چیخ وپکار مچائے ہوئے تھے کہ مودی سرکار نے اچھے دن کا جو وعدہ کیا تھا، وہ کبھی پورا ہونے والا نہیں ہے اور وہ وعدہ صرف انتخانی جملہ بن کر رہ گیا ہے۔ اب انسانوں کے لئے نہیں تو کیاہوا، گؤ ماتا اور اس کے ونش سے تعلق رکھنے والے تمام بڑے جانوروں کے لئے تو اچھے دن آ ہی گئے نا!ویسے بھی اس دیس میں گؤرکھشا کے سامنے انسانوں کی اہمیت کیا ہے اس کا عملی مظاہرہ تو مودی مہاراج ،یوگی مہاراج، ساکشی مہاراج،آدرنیہ

ا ب کیا ضرورت رہ گئی بوچڑ خانوں کی۔۔۔از: حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

گؤ پوجا اور گؤ رکشا ہوتے ہوتے ملک میں اس کی قربانی پر آخرکار پابندی کا مودی سرکار نے اعلان کر ہی دیا اور سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ گائے بچھڑا بیل بھینس اور اونٹ پر یہ پابندی لگائی ہے کہ اس کو خریدتے وقت یہ لکھ کر دینا پڑے گا کہ ان کو ذبح نہیں کیا جائے گا۔ اب سوال ہے ان گایوں اور بھینسوں کا جو بوڑھی ہوگئی ہیں اور اس بیل اور اونٹ کا جو کھیتی اور باربرداری کے لائق نہیں رہ گئے ہیں ان کا کیا ہوگا؟ ایسے جانوروں کو گھروں میں کوئی رکھ نہیں سکتا یہ ہندوستان ہے یہاں جانور کی تو بات ہی کیا 70 سال پہلے جب ملک

دل کو روؤں کہ یا جگر کو میں۔۔۔ از: حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ ہمیں نہیں جانتے لیکن ہم انہیں جانتے ہیں اور کروڑوں آدمی انہیں جانتے ہیں۔ انہوں نے بی جے پی کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کی بہت کوشش کی لیکن مرحوم مفتی صاحب کامیاب ہوگئے۔ اب ان کی دختر محبوبہ مفتی وزیر اعلیٰ ہیں اور عمر عبداللہ انہیں اس پر مجبور کررہے ہیں کہ وہ چھوڑچھاڑ کر بھاگ جائیں۔ ہم نہیں جانتے کہ وہ کیوں ان کی حمایت کررہے ہیں جو خودکشی کو دعوت دے رہے ہیں اور انہیں پوری دنیامیں پتھر باز کہا جارہا ہے۔ کشمیر میں حکومتِ ہند کے ایک بڑے عہدہ پر میرے بھتیجے برسوں

آتشِ نفس کی یاری نے مجھے خاک کیا۔۔۔ از: حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

ہمارے ملک میں جو پارٹی بنتی ہے وہ بنتے ہی آل انڈیا ہوجاتی ہے۔ 2012 ء کے صوبائی الیکشن سے پہلے ایک ڈاکٹر جو مشہور سرجن تھے ان کو نہ جانے کیا سوجھی کہ انہوں نے مسلمانوں کی ایک پارٹی بنالی اور نام رکھا پیس پارٹی اور پوری طرح الیکشن میں کود پڑے یہاں تک کہ شیخ چلی کی طرح اپنے کو وزیر اعلیٰ بنا لیا اور ایک ہندو کو وزیر داخلہ اور نائب وزیر اعلیٰ بنانے کا اعلان کردیا۔ انہوں نے وہ راستہ اختیار کیا کہ جو مایاوتی کرتی ہیں کہ ٹکٹ اس اعلان کے ساتھ دیتی ہیں کہ 20 فیصدی دلت ووٹ بھی ان کو ملیں گے۔ ڈاکٹر صاحب جن

مسلم یونی ورسٹی ، برج کورس اور ڈاکٹر راشد شاز --- ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

Bhatkallys Other

سر سیداحمد خاں رحمہ اللہ کے بعض عقائد اور نظریات (مثلاً جنت ، جہنم ، فرشتے ، جنات ، نیچر ، معجزات وغیرہ) جمہورِ امّت سے مختلف تھے _ مخالفتوں کے باوجود انھوں نے اپنے نظریات سے رجوع نہیں کیا ، لیکن جب انھوں نے مدرسۃ العلوم ، پھر ایم اے او کالج قائم کیا تو اپنے نظریات کو اس سے الگ رکھا اور انھیں کالج کے طلبہ پر تھوپنے کی کوشش نہیں کی _ کالج میں شعبہ دینیات کی تاسیس کی تو اس کا پہلا سربراہ دار العلوم دیوبند کے بانی مولانا قاسم نانوتوی کے داماد مولانا عبد اللہ انصاری کو بنایا _ مدرسہ/کالج کی تاسیس کے

امداد کیجیے، مگر غریبوں کو رُسوا تو نہ کیجیے!۔۔از:ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ

Bhatkallys Other

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے........... دنیا میں انسانوں کے پاس مال و زر کی کمی و بیشی اورمعیشت کی مختلف تقسیم اللہ تعالیٰ کے طے کردہ نظام کے مطابق ہوتی ہے۔اگرکسی کے پاس مال کی زیادتی اور خوشحالی کا سامان ہے تو وہ بھی اللہ کی عنایتوں کا ہی ثمرہ ہے اور اگر کوئی محروم و تنگ حال ہے تو وہ بھی اللہ کی مصلحت اور نظام ہستی چلانے کے منصوبے کا حصہ ہے۔اس پس منظر میں دنیا میں ایک دوسرے کے کام آنا اوراپنی خون پسینے کی کمائی اور اللہ رب العالمین کی طرف سے عنایت کردہ مال وزر کو غریبوں اور محروموں کی فلاح و بہبود

کہاں چراغ جلائیں ہوا ہے چاروں طرف۔۔۔ از:حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

کروڑوں کان یہ سننے کے لئے لگے ہیں کہ پانچ محترم ججوں نے کیا فیصلہ کیا؟ اور فیصلہ متفقہ ہے یا پانچ میں اکثریت کے بل پر ہے۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ایک سکریٹری فضل الرحیم صاحب کے نام سے ایک اور حلف نامہ سپریم کورٹ میں داخل کیا گیا ہے جس میں جدید اور مثالی نکاح نامہ کا یقین دلایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ نکاح پڑھانے والوں کو ایڈوائزری دی جائے گی کہ نکاح پڑھاتے وقت لڑکے اور لڑکی کو بتادیا جائے کہ طلاق ثلاثہ ناپسندیدہ فعل ہے۔ ہم کیسے مان لیں کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ ان خبروں سے بے خبر ہے جو اس کی مخالف

مودی کا سفر پتلی گلی سے اکھنڈ بھارت تک۔۔۔از: حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

سیاسی حلقوں میں یہ بحث شروع ہوگئی ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی ’’کانگریس مکت بھارت‘‘ کے نعرہ سے چلے تھے اور اس میں کامیاب بھی ہوتے نظر آرہے ہیں۔ لیکن ابھی اسے وہ دانت سے کیوں پکڑے ہوئے ہیں؟ ابتدا میں انہوں نے بڑے بڑے گھپلے بڑی بڑی بدعنوانیاں اور بھرشٹاچار کو اس کا سبب بتایا تھا اور یہ بات آج بھی وہ کہتے رہتے ہیں کہ تین سال میں ایک بھی بھرشٹاچار کا معاملہ سامنے نہیں آیا۔ ہمارے خیال سے یہ بات ضمنی ہے اصل بات وہ ہے جو اب آدتیہ ناتھ یوگی کو وزیر اعلیٰ بنانے سے سامنے آئی ہے کہ اُترپردیش میں اب زعفرانی

عدالت کا پہلا جرأت مندانہ فیصلہ۔۔۔از: حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

یہ خبر تو بار بار آپ نے پڑھی ہوگی کہ 5 سال سے 20 سال تک جیل میں بند رکھ کر عدالت نے اس لئے باعزت بری کردیا کہ پولیس کوئی ثبوت اور کوئی ایسا گواہ پیش نہیں کرسکی جس سے یہ ثابت ہوجاتا کہ ملزم نے واقعی وہ جرم کیا ہے یا وہ جرائم کئے ہیں جن کی بناء پر اسے جیل میں رکھا گیا۔ لیکن یہ پہلی بار پڑھ رہے ہوں گے کہ ’’عدالت نے صوبائی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ ملزمین کی تعلیمی لیاقت کے اعتبار سے جتنے دن انہوں نے جیل کی صعوبت برداشت کی ہے، انہیں اس کا معاوضہ دیا جائے‘‘۔ اس موضوع پر لکھنے کا سبب یہی ہدایت بنی ہ

یادیں یادیں لہو میں ڈوبی یادیں۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

26 مئی 2014 ء کو شری نریندر مودی کے وزیر اعظم کے حلف لینے کے بعد سے اب تک تقریباً تین سال میں مسلمانوں کے بہت سے وفود ان سے ملے ہوں گے اور کسی نے بھی ملاقات کے بعد یہ نہیں کہا کہ ان کا رویہ سرد اور بیزاری کا تھا۔ بلکہ ہر کسی نے اطمینان کا ہی اظہار کیا اور کہا کہ وہ تو خود چاہتے ہیں کہ مسلمان یا کوئی بھی ہو وہ اپنے مسائل پر بات کرنے کے لئے آئے۔ چند دن پہلے جمعیۃ علماء ہند (اسعدی) کے صدر مولانا محمد عثمان صاحب اور جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی اسعدی دانشوروں کے ایک بڑے وفد کے ساتھ وزیر اعظم سے مل

اے خاصۂ خاصان رسل وقت دعا ہے۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

سپریم کورٹ میں طلاق ثلاثہ پر بحث ختم ہوگئی اور عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا یعنی فیصلہ اب اطمینان سے کسی وقت سنا دیا جائے گا۔ پوری کارروائی سے اندازہ ہوتاہے کہ بات نکاح نامہ پر آکر رُک گئی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے بورڈ سے معلوم کیا ہے کہ کیا وہ قاضیوں کو پابند کرسکتا ہے کہ وہ نکاح نامہ میں یہ شرط شامل کرلیں کہ تین طلاق کا قبول کرنا نہ کرنا لڑکی کے اختیار میں ہو۔ یعنی اس کی رائے کو بھی شامل کیا جائے؟ ہمیں مقدمہ کی کارروائی سے ہٹ کر چند باتیں عرض کرنا ہیں۔ اسلام میں نکاح کے لئے مستند اور رجسٹرڈ قاضی اور

وقت پرنمازکی ادائیگی نے خطرناک حادثہ سے بچایا ۔۔۔از:مولانامحمد الیاس ندوی بھٹکلی

Bhatkallys Other

۱۹۸۷ء کازمانہ، جامعہ اسلامیہ بھٹکل سے میری عا لمیت کاآخری سال، جامعہ میں شہر سے طلباء کولانے لے جانے کے لیے پہلی دفعہ نئی بس خریدی گئی تھی، ہمارے مربی ومحسن مرحوم منیری صاحب کی نظامت کاسنہرادورتھا، وہ طلباء سے اپنی غیرمعمولی محبت وشفقت کی وجہ سے اکثران کے نازنخرے بھی برداشت کرتے تھے، ان کی اس پرکشش طبیعت ومزاج کودیکھتے ہوئے ہم لوگوں نے ان سے ایک دن اس کامطالبہ کردیاکہ ہمیں جامعہ کی گاڑی پکنک جانے کے لیے فراہم کردیں، ان کے دوسرے رفقاء نے ان کوسختی سے منع بھی کیاکہ مدرسہ کی گاڑی کی پرمٹ صرف شہرکے

نشست اور شکست کا تلفظ --- تحریر : اطہر ہاشمی

Bhatkallys Other

            کئی الفاظ ایسے ہیں جن کا تلفظ پریشان رکھتاہے۔ ان الفاظ میں’نشست اور شکست ‘ بھی شامل ہیں۔کئی لوگوں سے ان کا تلفظ مختلف ہی سنا ۔کوئی ’ن‘ اور ’ش‘ پر زبر لگاکر بولتا ہے اور کوئی انہیں زیر کردیتا ہے ۔جب کہ ’’نَشَست‘‘ میں ’ن‘ اور ’ش‘دونوں برابر ہے (بالفتح) ۔یہ نَشَستن کا حاصل مصدر ہے۔دوسری طرف ’’شِکَست ‘‘ ہم قافیہ تو ہے لیکن یہاں ’ش‘ بالکسر اور ’ک‘ پر زبر ہے ۔یعنی ’’شِکَست‘‘۔  شاید امانتؔ کے اس شعر سے نَشَست کا تلفظ واضح ہوجائے: اس  سے بہتر  کوئی  پہلو  نہیں ملتا  سرِدست تن کی کرسی پہ عج