Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors
Abdul Haleem Mansoor
Abdul Majid Daryabadi
Abdul Mateen Muniri
Abdur Raqeeb M.J Nadwi
Ahmed Hatib Siddiqui
Asif Jilani
Athar Hashmi
Bhatkallys
Dr Badrul Hasan Qasmi
Dr Haneef Shabab
Dr. F Abdur Rahim
Dr. Tahir Masud
Hafiz Naumani
Kaldip Nayar
Masoom Muradabadi
Masud Ahmed Barkati
Mohammed Mateen Khalid
Muhammed Furqan
Nizamuddin Nadwi
Riyazur Rahman Akrami Nadwi
Suhail Anjum
سب سے بڑا روپیہ ۔۔۔ از : فرزانہ اعجاز
روز صبح پابندی سے اخبار پڑھنا اسکی عادت تھی، جب تک وہ تازہ اخبار پورا پڑھ نہ لیتی ، اسے چین نہیں آتا تھا ،پہلا صفحہ وہ بہت دھیان سے پڑھتی اور اندر کی خبروں کی سرخیاں سرسری دیکھتی ، اگر کوئ سرخی اہم لگتی تو وہ خبر تفصیل سے پڑھا کرتی تھی ، اسکی۔ تازہ اخبار صبح صبح پڑھنے کی عادت بہت پرانی تھی ،اتنی پرانی کہ جب اسکے گھر میں ریڈیو بھی نہیں تھا اور اسکے شہر میں ٹیلی ویژ ن بھی نہیں تھا ،اس نے نیا نیا اردو پڑھنا سیکھا تھا ،بلکہ سیکھ رہی تھی ، ابو کے لۓ اخبار دیوڑھی سے اٹھا کر لاتے لاتے راستے بھر وہ ٹو
عید کا چاند اور مسلمانان بھٹکل کا مسلک... تحریر : عبد المتین منیری
عید الفطر کی دل کی گہرائیوں کے ساتھ مبارکباد۔ اللہ تعالی ہم سب کے اعمال صالحہ قبول کرے۔ اکل کوا۔ مہاراشٹر سے ہمارے ایک دوست نے کل بھٹکل میں عیدکے چاند کی رویت پر سوشل میڈیا پر مسلمان بھٹکل اور کیرالا کے مسلک پر بحث و مباحثہ اوران کی طرف بعض غلط باتیں منسوب ہونے کی اطلاع دی ہے ۔ اور یہ استفسار کیا ہے کہ گجرات کا ساحل ہندوستان میں سب سے بڑا ہے ، وہاں چاند نظر نہیں آیا تو بھٹکل اور کیرالہ میں کیسے نظر آسکتا ہے ۔ اور اس سلسلے میں اظہار خیال کرنے کو کہا ہے ۔ اسی کی تعمیل کرتے ہوئے یہ چند سطور تحریر
کس کھوج میں ہے تیغِ ستم گر لگی ہوئی؟۔۔۔از: آصف جیلانی
ایک سو سال قبل ، پہلی عالم گیر جنگ کے نتیجہ میں مشرق وسطی کے جو حصے بخرے ہوئے تھے،مسلمانوں کا اتحاد بکھر گیا تھا اور ان کی قوت پارہ پارہ ہوگئی تھی ، اب پھر ایک بار مشرق وسطیٰ اسی نوعیت کے شدید زلزلے کی زد میں ہے ۔ زلزلہ کہنا قدرے نرم لفظ ہوگا ، کیونکہ یہ زلزلہ صرف مشرق وسطیٰ ہی کو تہہ و بالا نہیں کرے گا بلکہ مشرق وسطیٰ سے دور دور علاقوں کو تاراج کردے گا۔ کئی مہینوں سے جاری داعش کے گڑھ مغربی موصل میں داعش کے خلاف ، امریکی اور عراقی فوجوں ، کرد پیش مرگہ اور شیعہ ملیشیا کی مشترکہ جنگ موصل کی آٹھ س
عید کا ریشمی جوڑا ۔۔۔ از: فرزانہ اعجاز
ابھی ایک ’عید میلے‘ سے واپس آۓ ہیں ، اس خیال کے ساتھ کہ‘زمانہ کہاں سے کہاں پہنچ گیا ہے ۔ ‘اپنے پیارے شہر لکھنؤ سے شکاگو تک کے ’سفر زندگی ‘ نے کیا کیا منظر دکھلاۓ اور کیا کیا حیران کن تبدیلیاں نظر نواز کی ہیں ، ایک ایسے سادہ سے متوسط اور ’توکل علی اللہ‘والے ماحول مین پرورش پانے کی ’عادت ‘ ابھی تک اکثر دل دماغ کو ’جھنجھوڑ‘ دیتی ہے۔ آج بھی کچھ ایسا ہی محسوس ہو رہا ہے، یادوں کی ایک ’ یلغار ‘ ہے جو بار بار ،لگاتار ہو رہی ہے ۔ ہم نے ایک ایسے ماحول اور زمانے میں آنکھ کھولی جو ’بکھر بھی رہا تھا اور س
سچی باتیں ۔ روپئہ کا حقیقی مصرف۔۔۔ از : مولانا عبد الماجد دریابادی
."الشیطان یعدکم الفقر ویأمرکم بالفحشاء واللّٰہ یعدکم مغفرۃمنہ وفضلا واللّٰہ واسع علیم" شیطان تمھیں تنگدستی سے ڈراتا ہے اور تمھیں بخل کا حکم دیتا ہے اور اللہ تمھیں اپنی طرف سے بخشش اور فضل کا وعدہ دیتاہے اور اللہ کشائش والا علم والا ہے آیۂ بالا سورہ بقرہ رکوع ۳۷میں واقع ہوئی ہے اوپر سے یہ مضمون چلاآرہا ہے کہ مسلمانوں کو رسم ورواج کی مد میں،ریا ونمائش ، جاہ ونفس کی راہ میں خرچ کرنے سے بچنا چاہیے اور اپنی دولت اللہ کی رضاجوئی کے لئے نیک کاموں میں خرچ کرنا چاہیے اور اس خرچ کو فضول ولا حاصل نہ سمج
کہ اور کہہ کی بحث۔۔۔ از : اطہر ہاشمی
میرپور آزاد کشمیر سے پر وفیسر غازی علم الدین نے زبان کی خبر لی ہے۔لکھتے ہیں کہ ’’کہہ،بہہ اور سہہ‘کا املا میرے نزدیک صحیح نہیں ہے۔ یہ اُن غلط العام کلمات میں شامل ہیں جو آج کل ،غلط طور پر مروّج ہوگئے ہیں ۔اردو مصدر جانا ،کھانا ،پینا،لکھنا ،پڑھنا اور رہنا وغیرہ سے صیغۂ امر بنانے کے لیے مصدر کا آخری حصہ ’نا‘حذف کردیا جاتا ہے مثلاًجانا سے جا،کھانا سے کھا ،پینا سے پی،لکھنا سے لکھ،پڑھنا سے پڑھ اور رہنا سے رَہ وغیرہ۔اسی قاعدے کے تتبع میں بہنا ،سہنا اور کہنا سے صیغۂ امر بَہ(ب +ہ)،سَہ(س+ہ)اور کَہ(ک+ہ)تشک
تشہیر بمعنی رسوائی ۔۔۔ از : اطہر ہاشمی
اخبارات و دیگر ذرائع ابلاغ میں ’’ہمراہ‘‘ کا بہت غلط استعمال ہورہا ہے۔ مثلاً کسی تصویر میں ’’فلاں صاحب بھی ہمراہ ہیں‘‘۔ یا ’’عدالت نے حکم دیا ہے کہ دستاویزات کے ہمراہ پیش ہوں‘‘۔ اب یہ تو سب کو معلوم ہے کہ ہم راہ کا تعلق راہ سے ہے، جیسے فلاں صاحب اس سفر میں ہمراہ ہیں، یعنی رفیق، یا سفر میں ساتھی ہیں۔ جیسے ’’میں تمہارے ہمراہ لاہور گیا‘‘۔ ایک مصرع ہے کیوں نہ ہوں فتح و ظفر میدان میں ہمراہ رکاب ’ہم‘ فارسی کا لفظ ہے اور اس سے کئی الفاظ بنتے ہیں جیسے ہم سبق، ہم آواز، ہم آغوش، ہم کنار، ہم آہنگ، ہم دوش۔
آخری بات۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی
حفیظ نام کے گنہگار پر پاک پروردگار کے اتنے احسانات ہیں کہ جب خیال آتا ہے کہ میدان حشر میں ان کا حساب دینے کا وقت آیا تو کیا ہوگا؟ تو کانپ جاتا ہوں میرے مولا نے طبیعت میں ضد نہیں دی اور نہ جہالت دی۔ اگر کسی نے کسی غلطی پر توجہ دلائی تو فوراً تسلیم کرکے معافی مانگ لی۔ میں نے جو برسوں پہلے الوداع کا مسئلہ کو اٹھایا تھا تو یہ کوئی علم کا مسئلہ نہیں تھا۔ بات صرف یہ تھا کہ جب آخری جمعہ میں جمعۃ الوداع ہے تو 30 رمضان کو جو آخری جمعہ پڑا تو اسے الوداع کے طور پر کیوں نہیں منایا گیا؟ اور یہ کسی ایک شہر، ا
سزا ۔۔۔ از: فرزانہ اعجاز
ثریا ایک اچھی لڑکی تھی، اچھی ہی نہیں بلکہ بہت ہی اچھی لڑکی، دراصل اچھی تو اس کے آس پاس کی سب ہی لڑکیاں تھیں۔ لیکن ثریا کی بات ہی اور تھی ،یعنی یہ کہ وہ بہت سی اچھی لڑکیوں میں سب سے اچھی لڑکی تھی ، صورت شکل میں اچھی، مزاج میں اچھی، گن ڈھنگ میں اچھی ،پڑھائ میں بھی بہت اچھی ، خاندان تو سب کا ایک ہی تھا ،اعلا خاندان ،کسی محفل میں جب تمام لوگ جمع ہوتے تو لڑکوں کی مائیں ہر لڑکی میں اپنی ہونے والی اچھی بہو کا عکس ڈھونڈا کرتی تھیں ،اور گھوم پھر کر سب کی نظریں ثریا ہی پر آکر ٹھہرجاتی تھیں ، اسکی سہیلی
سخن شناسی ۔ چینی گڑیا اور گڑیا چینی ۔۔۔ از : سہیل احمد صدیقی
اردو میں حرف ’چ‘ کا چکر بہت طویل بھی ہے اور دل چسپ بھی، اس سے شروع ہونے والے اکثر الفاظ کا استعمال مثبت ہے ، جیسے چاہنا ، چاہت ، چپکے چپکے کسی کو یادکرنا ہو یا چھپ چھپ کر کچھ کھانا ہو،اورکسی سے بچ کر کہیں دیوار سے چپک کر کھڑے ہونا ہویاچڑیوں کاچہچہانا یا چہچاہٹ ، چہا(ممولہ=ایک خوبصورت آبی پرندہ)، چونچ ، چومنا ، چَم چَم ، چقندر،چچا، چچی، چَین، چمن، چنگیر، چھم چھم (بارش کی ہو، موسیقی کی ہو یا بچوں کے کھیل میں ہو)،چھولے کی چاٹ ہو یا آلو کی (کچالو)، یامزے مزے میں کچھ کھاپی کر چاٹنا ہو....نئے نئے آم
صدر جمہوریہ کی تلاش میں وقت کی بربادی۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی
24 جولائی کو موجودہ صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی صاحب کی مدتِ کار ختم ہورہی ہے۔ اب نئے صدر کی تلاش ہمیشہ کی طرح پوری سرگرمی سے ہورہی ہے۔ جب موجودہ صدر اُمیدوار تھے تو حکومت کانگریس کی تھی اور اس کے اُمیدوار موجودہ صدر تھے جن کو تین سال اس پارٹی کی حکومت میں ہوچکے ہیں جو الیکشن کے وقت مخالف تھی۔ ان تین برسوں میں ہمیں یاد نہیں کہ کسی مسئلہ میں صدر اور وزیر اعظم کے درمیان ٹکراؤ ہوا ہو؟ اس کی وجہ صاف ہے کہ صدر محترم اپنی مرضی سے کوئی کام نہیں کرتے۔ اور یہ آج کی بات نہیں ہے۔ ہمارے سامنے اس وقت کی ایک دستا
سچی باتیں ۔ رواداری ۔۔۔ از : مولانا عبد الماجد دریابادی
وَلَاتَسُبُّواالَّذِیْنَ یَدْعُوْنَِ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوااللّٰہَ عَدْوًابِغَیْرِعِلْمٍ (انعام۔۱۳ع) اور تم لوگ برا نہ کہو جن کو وہ پکارے ہیں اللہ کے سوائے کہ وہ براکہہ بیٹھیںاللہ کو بے ادبی سے نہ سمجھ کر خلاصہ ارشاد یہ ہے کہ مسلمانوں کو دوسری قوموں کے پیشواؤں کے برا کہنے سیے قطعًاروک دیا گیا ہے اور جو مسلمان ایسا کرے گا اس پر خود اپنے اللہ کے برا کہلوانے کی ذمہ داری عاید کی گئی ہے !الّٰلہم احفظنا۔ امام بخاری اپنی صحیح کی ک
آبروئے اردو ادب و صحافت ۔جناب حفیظ نعمانی صاحب ۔۔۔۔تحریر : فرزانہ اعجاز
’ جب بھی ’اردو ادب و اردو صحافت ‘ کی فہرست بنائ جاۓ گی تو شہر مراد آباد کے ماتھے پر جگمگاتے جھومر ’سنبھل ‘ کا ذکر بار بار آۓ گا ۔اسی سنبھل کے ایک منفرد اور مدبر خاندان کے ایک ’ مرد مجاہد مولانا منظور نعمانی کے فرزند دلپسند ہمارے چچا جناب ’حفیظ نعمانی صاحب‘سے کچھ سوالات کرنے کی ہماری خواہش ضرور تھی مگر ’ ہمت ‘ نہیں ۔ لیکن ، دل نہیں مانا اور ہمت جٹا کر ’ہم انٹر ویو کی آگ میں کود پڑے ‘۔اب ہم ’ پار ‘ ہوں یا ’ڈوب ‘جایئں گے ، یہ ہمارے سوالات کی مضبوطی پر منحصر ہے، اگر چہ انہیں یا انکے خاندان کو کسی
بے روزگاری کی سزا بھیڑ ۔۔۔از: حفیظ نعمانی
جھگڑا دو آدمیوں میں ہو، دو خاندانوں میں ہو یا دو فرقوں میں اس کی ذمہ دار پولیس نہیں ہے۔ پولیس کا کام اس وقت شروع ہوتا ہے جب مرنے والا مرچکا ہو، زخمی ہوچکا ہو اور گھر یا دُکان جل گئے ہوں۔ اور اس کے بعد حکومت کا عمل شروع ہوتا ہے کہ وہ پولیس کو اس کی مرضی کے کام کرنے دے رہی ہے یا اپنی پالیسی اور اپنے ووٹ اور دوسرے کے ووٹ کی بنیاد پر اسے دبا رہی ہے؟ سہارن پور کی ساری داستان ابتدا سے ٹی وی چینل دکھا رہے ہیں۔ اور یہ بھی محسوس ہورہا ہے کہ وہ بھی اپنی سیاست کررہے ہیں۔ سہارن پور میں پارلیمنٹ کا ممبر تو
بانو آپا ۔۔۔ از :فرزانہ اعجاز
ہم ’چوتھے‘ کلاس میں تھے کہ ہمارے اسکول ’تعلیم گاہ نسواں انٹر کالج ‘کے ’بڑے کلاسز‘ کے لۓ ایک نئ انگلش ٹیچرآیئں ۔آئ تو وہ صرف بڑے کلاسز کے لۓ تھیں مگر انکی منفرد شخصیت نے تمام لڑکیوں کو اپنی طرف متوجہ کر لیا ،چہرے پر صبح کشمیر کی تازگی لۓ ۔جلدی جلدی پلکیں جھپکاتی اورسخت پردہ نشین مگر فر فر انگریزی بولتی ہوئ استانی ۔ اور ہم تو یوں بھی متوجہ ہوۓ کہ وہ ہماری سگی پھوپھی کی ’انگریزی کی استانی‘ تھیں ،اگرچہ اس وقت ہم انگریزی نہیں پڑھتے تھے کیونکہ اس وقت انگریزی زبان کلاس چھہ سے شروع ہوتی تھی ،’ان
پرانی سسرال میں نئی دولھن کی آزمائش۔۔۔از: حفیظ نعمانی
کسی بھی ملک یا صوبہ کے لئے ناتجربہ کاری سب سے بڑی مصیبت ہے۔ اُترپردیش کی حکومت میں وزیر اعلیٰ سے لے کر اسٹیٹ منسٹروں تک جو ٹیم ہے ان میں شاید ہی کوئی ہو جو 15 سال پہلے بی جے پی کی حکومتوں میں وزیر رہا ہو؟ اور اگر ایسے دو چار ہوں گے بھی تو اس خانہ میں پہونچ چکے ہوں گے کہ نیا خون انہیں آثارِ قدیمہ سمجھتا ہوگا اور سوچتا ہوگا کہ پرانے زمانہ اور آج کے زمانہ کے فرق کو وہ نہیں سمجھ سکتے۔ جو پارٹی یا پارٹیاں حزب مخالف کی کرسیوں پر یا باہر ہوتی ہیں وہ ہر دن حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ہم ہوتے ت
گائے کے بارے میں ویر ساورکر کا تبصرہ۔۔از:حفیظ نعمانی
ہندو مہا سبھا ، آر ایس ایس ، جن سنگھ ، وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل قبیلہ میں ایک نام بہت احترام سے لیا جاتا ہے۔ اور وہ ہے ویر ساورکر جن کے بارے میں اس قبیلہ کی زبان پر رہتا ہے کہ یہ وہ منفرد شخصیت ہے جسے انگریزوں نے بھی جیل میں ڈالا اور کالے پانی بھیجا اور بعد میں کانگریس کی حکومت نے بھی جیل میں بند کیا ۔ ایک مرتبہ جب مایاوتی نے بی جے پی کے ساتھ مل کر حکومت بنائی تھی اس وقت ہریانہ ایک زعفرانی لیڈر اترپردیش کے گورنر تھے۔ اردو اکادمی کی ایک تقریب میں ان کی تقریر ہم نے بھی سنی تھی انہوں نے ذکر
ابو کا طوطا - بے زبانی کی زبان --- از : فرزانہ اعجاز
'لپ چھپ- لپ چھپ'— ہمیشہ کی طرح ،وہ دوڑتی بھاگتی ہوئ اپنے ابو کے گھر گئ اور زوردار آواز کے ساتھ داخلی دروازہ کھولتی ہوئ 'امی –ابو' کو پکارتی گھر میں گھسی ہی تھی کہ داہنی طرف کے دالان سے ایک آواز آنے لگی ---'یہ کون آیا --- یہ کون آیا ۔''بے اختیار وہ ادھر دیکھنے لگی اور سوچنے لگی کہ' یہ کس کی مجال ہے کہ وہ اپنے ابو کے گھر یعنی اس کے 'میکے' میں اس سے پوچھے کہ 'یہ کون آیا ؟ ارے کون کون ؟ 'گھر کی مالکن آئ ہے ،،،،اسکا جی چاہا کہ وہ ' پوچھنے والے سے خود پوچھے کہ ' بھائ تم کون ہو؟'' مگر آواز انسانوں و