Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors
Abdul Haleem Mansoor
Abdul Majid Daryabadi
Abdul Mateen Muniri
Abdur Raqeeb M.J Nadwi
Ahmed Hatib Siddiqui
Asif Jilani
Athar Hashmi
Bhatkallys
Dr Badrul Hasan Qasmi
Dr. F Abdur Rahim
Dr Haneef Shabab
Dr. Tahir Masud
Hafiz Naumani
Kaldip Nayar
Masoom Muradabadi
Masud Ahmed Barkati
Mohammed Mateen Khalid
Muhammed Furqan
Nizamuddin Nadwi
Riyazur Rahman Akrami Nadwi
Suhail Anjum
مایاوتی کرو یا مرو کے دروازہ پر۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی
اُترپردیش کی سابق وزیر اعلیٰ اور بی ایس پی کی صدر مس مایاوتی نے راجیہ سبھا کی رکنیت سے استعفیٰ دے کر اپنی ساڑھے تین مہینے کی جلن پر پانی ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے اُترپردیش اسمبلی کا الیکشن کسی کے بھی سمجھانے کے باوجوتنہا لڑا۔ انہیں یقین تھا کہ وہ کسی سہارے کے بغیر وزیراعلیٰ بنیں گی۔ بدنصیب مسلمانوں نے بھی یہ طے کرلیا ہے کہ وہ عقل کی کوئی بات نہیں کریں گے۔ مایاوتی کی طرح انہوں نے بھی سمجھ لیا کہ اُترپردیش میں ایک بار ملائم سنگھ اور ایک بار مایاوتی باری باری حکومت بناتے رہیں گے اور اس بار بار
یہ کیسی رات ۔۔۔ فرزانہ اعجاز
وہ کتنا سہانا دن تھا،دو دن بعد اسکے گھر پر بہت سے لوگ رات کے کھانے پر آنے والے تھے،وہ اسی کے انتظامات میں مصروف تھی کہ پاس کے کمرے سے اسکے شوہر نے اسے آواز دیکر بلایا، جہاں وہ کمپیوٹر پر اپنی 'ڈاک' دیکھ رہے تھے،کہنے لگے '—دیکھو ، تمہارا چھوٹا بیٹا کیا کہہ رہا ہے—'وہ کچن کا کام چھوڑ کر گئ اور 'ای میل ' پر نظر ڈالی، لکھا تھا ----'ابو۔ یہاں ابھی آدھی رات ہے ، ہم سو رہے تھے کہ خواب دیکھا کہ'آپکے گھر کے دروازے کی کسی نے گھنٹی بجائ ،آپ نے دروازہ کھولا،آنے والے نے کچھ کہا اور آپ نے گھبرا کر ' ارے-کب-کہ
جولائی 19 : نامور شاعر ساغرؔ صدیقی کی برسی ہے
جولائی 19 : نامور شاعر ساغرؔ صدیقی کی برسی ہے تحریر : ابو الحسن علی بھٹکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔-- ساغر صدیقی اپنی اجڑی پجڑی،لٹی پٹی،بے رونق اور سنسان زندگی کی صفیں لپیٹ کر 19 جولائی 1974ء کو اپنی زندگی کے تمام اچھے برے نقش،تمام محاسن و مصائب،تمام راز اور تمام اسرار اپنے دامن میں سمیٹ کر چپ چاپ قبر کی آغوش میں ہمیشہ کی نیند سو گیا تھا۔اس کے جاننے والوں کو اس سانحہ کی خبر اسوقت ملی جب وہ پیوند خاک ہو چکا تھا۔اب کوئی شخص اسے کالی چادر اوڑھے،ننگے سر،ننگے پاؤ
حکومت ملنا آسان ہے کرنا بہت مشکل ہے۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی
یہ بہت پرانی روایت ہے کہ جب پارلیمنٹ کا اجلاس شروع ہونے والا ہوتا ہے تو اسپیکر تمام پارٹیوں کو بلاتا یا بلاتی ہیں۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ اجلاس کو سکون سے چلایا جائے جو عوام کے فائدے کے بل (Bill) ہوں ان پر ضروری بحث کرکے ان کو پاس کرایا جائے ہلڑ ہنگامہ، شور شرابہ کرکے وقت برباد نہ کیا جائے اور وہی گھسا پٹا حساب کہ پارلیمنٹ کا ایک منٹ کتنے کا ہے اور ایک گھنٹہ کتنے لاکھ روپئے کا ہے؟ یہ سب کہتے وقت کسی کو یاد نہیں آتا کہ جب وہ حزب مخالف کی بنچوں پر بیٹھے تھے تو انہوں نے کتنی غنڈۃ گردی کی تھی اور کتنے ک
فسطائیت کا گھناؤنا چہرہ۔۔۔ہجوم کے ہاتھوں"انصاف اور قتل "کا نیا سلسلہ! (دوسری قسط)۔۔۔از: ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے........... گزشتہ قسط میں ہم نے فسطائیت یا فاشزم کی تعریف ، اجزائے ترکیبی اور بنیادی خصوصیات کا تفصیلی جائزہ لیا جس کی روشنی میں یہ بات صاف ہوگئی کہ ہندوستان کا موجودہ نظام حکومت جمہوریت کے دائرے سے نکل کر فاشزم کے مدار میں پوری طرح داخل ہونے کے لئے تیار ہوچکا ہے۔جس کے ایک گھناؤنے روپ کے طور پر ہجوم کے ہاتھوں" انصاف اور قتل" یا mob lynchingکا سفاکانہ دور شروع ہو گیا ہے جو خود اپنے آپ میں فاشزم کا جزئے لاینفک ہوتا ہے ۔تاریخ اور حالات حاضرہ پر نظر رکھنے والوں کے لئے یہ کوئی
یاترا کا فروغ، یاتریوں کی ترقی۔۔۔۔از: کلدیپ نیئر
جب جنگجو سامنے آکر حملہ کریں تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں نتائج کا کوئی خوف نہیں ہے۔کشمیر میں امرناتھ یاترا سے لوٹنے والے سات یاتریوں کی حملے میں ہلاکت کے ردعمل میں کی گئی کارروائی بھی کچھ ایسی ہی کہانی بیان کرتی ہے۔ حملہ آوروں نے پولیس یا فوج پر حملہ کرنے میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا جیسے کہ وہ بخوبی جانتے ہوں کہ یاترا کی حفاظت پر مامور فورسز کو نقصان پہنچانے کے ان کے عزم کے مقابلے میں جوابی حملہ انھیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ کارروائی لشکر طیبہ کی
اُردو کی طلب، طالب اور مطلوب ... تحریر : ندیم صدیقی
سنہ ۱۹۵۷ تا ۱۹۶۳ تک سمپورنانند یوپی کے وزیر اعلیٰ رہے اور اُنھیں کے دورِ حکومت میں اُردو کو ریاست بدر کیا گیا۔ اب جو یوپی میں اُردوکی صورتِ حال ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ بیشک اب اُردو کانام لینے والوں میں صرف مسلمان ہی رہ گئے ہیں، اُردوکے تعلق سے یہ جو چند نام ہندوؤں کے آتے ہیں وہ یا تو پچاس ساٹھ بر س عمر کے یا اس سے زیادہ سِن و سال کے لوگ ہیں اور اس وقت گنا جائے تو یہ حضرات ملک کی اتنی بڑی آبادی میں چند ہی رہ گئے ہیں۔ نئی نسل کے لوگوں میں یہ تعداد اِن سے بھی کہیں کم ہے۔ پاکستان کے مشہور
نہ نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی ۔۔۔از:حفیظ نعمانی
یہی ٹھہری جو شرطِ وصلِ لیلیٰ تو استعفیٰ مرا باحسرت و یاس اُترپردیش کی حکومت کو ہائی کورٹ نے حکم دیا ہے کہ وہ گوشت کی دُکانوں کے لائسنس جاری کرے اور مذبح بنائے۔ جہاں جانور ذبح ہوسکیں۔ حکومت کے سامنے ایک راستہ تو یہ تھا کہ وہ کان دباکر بیٹھ جاتی۔ لیکن اس کے بعد پھر ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں فریادی جاکر فریاد کرتے۔ ہندو حکومت نے وہ طریقہ اختیار کیا کہ رادھا کو نچانا ہے تو نومن تیل لاؤ۔ دُکان کھولنا ہے تو کم از کم دس لاکھ روپئے کا انتظام کیا جائے اور گوشت کی دُکان کے بجائے تاج محل بنایا جائے۔
مولانا ابو الجلال ندوی - ایک مایہ ناز محقق ۔۔۔ تحریر : نعیم الدین اصلاحی
برعظیم پاک و ہند میں 1857ء کے ناکام جہاد اور انگریزی تسلط کے قیام کے بعد احیائے دین اور آزادی کے لیے جو عظیم جدوجہد ہوئی ہے اس کا پہلا مرحلہ قدیم علمی و تحقیقی روایت کا اجرائے ثانیہ ہے۔ علی گڑھ، دیوبند اور ندوۃ العلماء اس جدوجہد کے سنگ ہائے میل ہیں۔ ان اساطین میں ایک اہم نام علامہ شبلی نعمانی کا ہے، جو 1857ء میں پیدا ہوئے اور 1914 میں رحلت فرما گئے۔ ان کے آخری منصوبوں میں ’’سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کی اشاعت، علماء و مصنفین کی تربیت کے لیے ایک ادارے ’’دارالمصنفین‘‘ کا قیام اور علمی جریدے ’
سچی باتیں ۔۔۔ مومن کا احترام ۔۔۔ : مولانا عبد الماجد دریابادی
وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا (58)الأحزاب اور جو لوگ مؤمن مردوں اورمؤمن عورتوں کو ایذادیتے ہیں ،بغیر اس کے انھوں نے کچھ کیا ہو،وہ موذی بہتان اور گناہ صریح کا بار اپنے اوپر لاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ بعد انبیا ئے کرام کے کوئی مسلمان معصوم نہیں ہوسکتا، امت کے ہر فرد سے کچھ نہ کچھ خطائیں ،لغزشیں یا گناہ سرزد ہوں گے لیکن محض اس بنا پر کہ ہر شخص سے گناہ وخطا کا امکان ہے، بغیر ثبوت کسی مسلمان پر کوئی جرم عاید
China’s Uighur Muslims struggle under ‘police state’
BEIJING: Worshippers quietly passed through metal detectors as they entered the central mosque in China’s far western city of Kashgar under the stern gaze of stone- faced police officers. The increasingly strict curbs imposed on the mostly Muslim Uighur population have stifled life in the tense Xinjiang region, where beards are partially banned and no one is allowed to pray in public. For years, the square outside the mosque in Kashgar was packed with teeming crowds as worshippers jostled
فوج کا سپہ سالار ۔۔۔ از :اطہر ہاشمی
آج پہلے اپنی خبر لیتے ہیں۔ گزشتہ دنوں جسارت میں ایک مضمون شائع ہوا جس میں مضمون نگار نے بغیر کسی تردد کے ’’بے مہابہ‘‘ لکھ ڈالا۔ فاضل مضمون نگار سے کون پوچھے کہ یہ کیا ہے؟ یہ دراصل ’’بے محابا‘‘ ہے اور اس میں ہائے ہوز (ہاتھی والی ’ہ‘) نہیں بلکہ ہائے حطی (حلوہ والی ’ح‘) آتی ہے۔ اس غلطی سے ہمیں ایک فائدہ ہوا کہ لغت میں محابا کا مطلب تلاش کرلیا۔ دراصل بہت سے الفاظ ایسے ہیں جن کا مفہوم اور استعمال تو معلوم ہوتا ہے لیکن لغوی معنی یا ان کی اصل کا علم نہیں ہوتا۔ ’’محابا‘‘کے لغوی معنی باہم نزدیک کرنا، آپس
ٹک ٹک دیدم ۔ پارٹ 02 ۔۔۔ از : فرزانہ اعجاز
شکاگو جب زرا بہتر ہوے تو آہستہ آہستہ گھر سے نکل کر ٹہلنے جانے لگے ، اکیلے جاتے تھے ، شلوار سوٹ پہنے ہوۓ، لیکن کسی قسم کا خوف نہیں محسوس ہوا ، سونے کا زیور بھی پہنے رہتے ہیں ،راستے مین ملنے والے اجنبی مرد عورت سب ہمیشہ مسکرا کر ’وش‘ کرتے ہیں ،ہم نے کسی کی آنکھوں میں نفرت یا لچر پن کبھی نہیں دیکھا ۔اب چونکہ گرمی شروع ہو گئ ہے ،لوگ زیادہ تر ادھورے کپڑے پہنے گھوما کرتے ہیں لیکن کوئ کسی کی طرف ’میلی یا گندی‘ نظرسے نہیں دیکھتا ۔ افسوس کہ ہمارے ملک میں بوڑھی عورت یا ننھی سی بچی کوئ بھی محفوظ نہیں رہ
امتحان لالو کا نہیں نتیش کا ہے۔۔۔از: حفیظ نعمانی
وزیر اعظم نریندر مودی نے اُترپردیش کو فتح کرنے کے بعد بنگال اور بہار کو نشانہ بنایا ہے۔ اب تک ملک میں یہی تین صوبے ہندوستان کہے جاتے تھے اور ان ہی تینوں صدیوں میں بی جے پی کہیں نہیں تھیں۔ آج ہم ہر ہندو سے جس نے مارچ میں ہونے والے الیکشن میں بی جے پی کو ووٹ دیا تھا معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ وہ ایمانداری سے بتائے کہ کیا کبھی اس نے سنا تھا کہ مسلمانوں کا کوئی وفد اکھلیش یادو سے ملا اور اس نے قبرستان کے لئے زمین مانگی؟ یا ہندوؤں کا کوئی وفد ملا جس نے شمسان کے لئے وزیر اعلیٰ سے زمین مانگی؟ یا 70 برس می
ملک کو ضرورت اپنے اور نئے دستور کی ہے۔۔۔از: حفیظ نعمانی
مسلمانوں کے آنے سے پہلے ہندوستان ایک ملک نہیں رجواڑوں میں بٹا ہوا تھا۔ وہ بھی ایک سماج تھا۔ ایک راجہ کے بیٹے کی شادی دوسرے راجہ کی بیٹی سے ہوجایا کرتی تھی۔ رجواڑہ میں دوستی بھی ہوتی تھی اور اختلاف بھی، باتیں بڑی ہوں یا چھوٹی۔ بات بات پر تلوار نکل آتی تھی۔ لیکن وہ بھی ایک نظام تھا جو چل رہا تھا۔ ہندوستان میں ہر طرف سے مسلمان آتے رہے اور کچھ دنوں رہ کر واپس جاتے رہے۔ وہ آئے اور اپنی ایک یادگار چھوڑ گئے بالکل ایسے ہی جیسے آج کے نوجوان ملک کی تاریخی عمارتوں کو دیکھنے جاتے ہیں تو ان عمارتوں کے در و
وزیر اعلیٰ کی ڈگر سیدھی اور نرم۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی
آدتیہ ناتھ یوگی کا اْترپردیش کا وزیر اعلیٰ بننا پردیش کی ایک اعتبار سے خوش نصیبی ہے۔ آزادی سے پہلے اور بعد میں دو بار پنڈت گووند ولبھ پنت اور اْن کے بعد ڈاکٹر سمپورنانند کا وزیر اعلیٰ بننا ہندوؤں کو خوش کرنے کے لئے تھا۔ پنت جی نے ایودھا میں انہیں رام جنم بھومی دی اور سمپورنانند نے اردو کو مسلمانوں کی زبان بتاکر اْترپردیش سے نکال دیا۔ اس کے بعد گپتا جی، کملاپتی ترپاٹھی، نرائن دت تیواری، ہیم وتی نندن بہوگنا، چودھری چرن سنگھ، راجہ وشوناتھ پرتاپ سنگھ یا ملائم سنگھ اور مایاوتی ان سب کو کانگریس نے بنا
مجتبی حسین کے بہترین سفر نامے ۔۔۔ از : راحت علی صدیقی قاسمی
زیر تبصرہ کتاب ’’مجتبیٰ حسین کے بہترین سفرنامے‘‘ چھ سفروں پر مشتمل کتاب ہے ،مجتبیٰ حسین مزاح نگاری میں عظیم نام ہے ،ان کی تحریروں کی مقبولیت سرحدوں کی پابند نہیں ہے ،وہ پوری دنیا میں اردو داں طبقے کے دلوں پر حکمرانی کرتے ہیں ،مشتاق احمد یوسفی اور مجتبیٰ حسین دو ایسی عظیم شخصیات ہیں جنہوں نے طنز و مزاح کی دنیا میں بلند مقام حاصل کیا ہے اور یہ ثابت کردیا کہ طنز و مزاح قہقہہ بار ہی نہیں کرتا بلکہ بسا اوقات سماج کے درد و کرب پر اشکبار بھی کردیتا ہے ،البتہ مزاح نگار بڑی نفاست اور لطافت کے ساتھ اپنا و
مسئلہ قبرص حل نہ ہوسکا۔۔۔از: ڈاکٹر فرقان حمید
عالمِ اسلام کو اس وقت جن اہم مسائل کا سامنا ہے ان میں مسئلہ فلسطین، مسئلہ کشمیر اور مسئلہ قبرص سر فہرست ہیں اور ان تینوں مسائل کے حل نہ ہونے کی وجہ ہی سے عالم ِ اسلام کو اس بات کا یقین ہوتا چلا جارہا ہے کہ دنیا کسی صورت بھی ان مسائل کے حل کی جانب کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے اور نہ ہی وہ ان مسائل کو حل کرنے میں کوئی سنجیدہ اقدام اٹھا رہی ہے۔ اگرچہ یورپی یونین اور اقوام متحدہ نے مسئلہ قبرص کو حل کرنے کی جانب مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین سے زیادہ کوششیں صرف کی ہیں اور یوں لگتا تھا کہ یہ مسئلہ بس اب حل