Search results

Search results for ''


سچی باتیں ۔۔۔ مومن کا احترام ۔۔۔ : مولانا عبد الماجد دریابادی

Bhatkallys Other

وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا (58)الأحزاب اور جو لوگ مؤمن مردوں اورمؤمن عورتوں کو ایذادیتے ہیں ،بغیر اس کے انھوں نے کچھ کیا ہو،وہ موذی بہتان اور گناہ صریح کا بار اپنے اوپر لاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ بعد انبیا ئے کرام کے کوئی مسلمان معصوم نہیں ہوسکتا، امت کے ہر فرد سے کچھ نہ کچھ خطائیں ،لغزشیں یا گناہ سرزد ہوں گے لیکن محض اس بنا پر کہ ہر شخص سے گناہ وخطا کا امکان ہے، بغیر ثبوت کسی مسلمان پر کوئی جرم عاید

China’s Uighur Muslims struggle under ‘police state’

Bhatkallys Other

BEIJING: Worshippers quietly passed through metal detectors as they entered the central mosque in China’s far western city of Kashgar under the stern gaze of stone- faced police officers. The increasingly strict curbs imposed on the mostly Muslim Uighur population have stifled life in the tense Xinjiang region, where beards are partially banned and no one is allowed to pray in public. For years, the square outside the mosque in Kashgar was packed with teeming crowds as worshippers jostled

فوج کا سپہ سالار ۔۔۔ از :اطہر ہاشمی

Bhatkallys Other

آج پہلے اپنی خبر لیتے ہیں۔ گزشتہ دنوں جسارت میں ایک مضمون شائع ہوا جس میں مضمون نگار نے بغیر کسی تردد کے ’’بے مہابہ‘‘ لکھ ڈالا۔ فاضل مضمون نگار سے کون پوچھے کہ یہ کیا ہے؟ یہ دراصل ’’بے محابا‘‘ ہے اور اس میں ہائے ہوز (ہاتھی والی ’ہ‘) نہیں بلکہ ہائے حطی (حلوہ والی ’ح‘) آتی ہے۔ اس غلطی سے ہمیں ایک فائدہ ہوا کہ لغت میں محابا کا مطلب تلاش کرلیا۔ دراصل بہت سے الفاظ ایسے ہیں جن کا مفہوم اور استعمال تو معلوم ہوتا ہے لیکن لغوی معنی یا ان کی اصل کا علم نہیں ہوتا۔ ’’محابا‘‘کے لغوی معنی باہم نزدیک کرنا، آپس

ٹک ٹک دیدم ۔ پارٹ 02 ۔۔۔ از : فرزانہ اعجاز

Bhatkallys Other

شکاگو جب زرا بہتر ہوے تو آہستہ آہستہ گھر سے نکل کر ٹہلنے جانے لگے ، اکیلے جاتے تھے ، شلوار سوٹ پہنے ہوۓ، لیکن کسی قسم کا خوف نہیں محسوس ہوا ، سونے کا زیور بھی پہنے رہتے ہیں ،راستے مین ملنے والے اجنبی مرد عورت سب ہمیشہ مسکرا کر ’وش‘ کرتے ہیں ،ہم نے کسی کی آنکھوں میں نفرت یا لچر پن کبھی نہیں دیکھا ۔اب چونکہ گرمی شروع ہو گئ ہے ،لوگ زیادہ تر ادھورے کپڑے پہنے گھوما کرتے ہیں لیکن کوئ کسی کی طرف ’میلی یا گندی‘ نظرسے نہیں دیکھتا ۔ افسوس کہ ہمارے ملک میں بوڑھی عورت یا ننھی سی بچی کوئ بھی محفوظ نہیں رہ

امتحان لالو کا نہیں نتیش کا ہے۔۔۔از: حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

وزیر اعظم نریندر مودی نے اُترپردیش کو فتح کرنے کے بعد بنگال اور بہار کو نشانہ بنایا ہے۔ اب تک ملک میں یہی تین صوبے ہندوستان کہے جاتے تھے اور ان ہی تینوں صدیوں میں بی جے پی کہیں نہیں تھیں۔ آج ہم ہر ہندو سے جس نے مارچ میں ہونے والے الیکشن میں بی جے پی کو ووٹ دیا تھا معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ وہ ایمانداری سے بتائے کہ کیا کبھی اس نے سنا تھا کہ مسلمانوں کا کوئی وفد اکھلیش یادو سے ملا اور اس نے قبرستان کے لئے زمین مانگی؟ یا ہندوؤں کا کوئی وفد ملا جس نے شمسان کے لئے وزیر اعلیٰ سے زمین مانگی؟ یا 70 برس می

ملک کو ضرورت اپنے اور نئے دستور کی ہے۔۔۔از: حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

مسلمانوں کے آنے سے پہلے ہندوستان ایک ملک نہیں رجواڑوں میں بٹا ہوا تھا۔ وہ بھی ایک سماج تھا۔ ایک راجہ کے بیٹے کی شادی دوسرے راجہ کی بیٹی سے ہوجایا کرتی تھی۔ رجواڑہ میں دوستی بھی ہوتی تھی اور اختلاف بھی، باتیں بڑی ہوں یا چھوٹی۔ بات بات پر تلوار نکل آتی تھی۔ لیکن وہ بھی ایک نظام تھا جو چل رہا تھا۔ ہندوستان میں ہر طرف سے مسلمان آتے رہے اور کچھ دنوں رہ کر واپس جاتے رہے۔ وہ آئے اور اپنی ایک یادگار چھوڑ گئے بالکل ایسے ہی جیسے آج کے نوجوان ملک کی تاریخی عمارتوں کو دیکھنے جاتے ہیں تو ان عمارتوں کے در و

وزیر اعلیٰ کی ڈگر سیدھی اور نرم۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

آدتیہ ناتھ یوگی کا اْترپردیش کا وزیر اعلیٰ بننا پردیش کی ایک اعتبار سے خوش نصیبی ہے۔ آزادی سے پہلے اور بعد میں دو بار پنڈت گووند ولبھ پنت اور اْن کے بعد ڈاکٹر سمپورنانند کا وزیر اعلیٰ بننا ہندوؤں کو خوش کرنے کے لئے تھا۔ پنت جی نے ایودھا میں انہیں رام جنم بھومی دی اور سمپورنانند نے اردو کو مسلمانوں کی زبان بتاکر اْترپردیش سے نکال دیا۔ اس کے بعد گپتا جی، کملاپتی ترپاٹھی، نرائن دت تیواری، ہیم وتی نندن بہوگنا، چودھری چرن سنگھ، راجہ وشوناتھ پرتاپ سنگھ یا ملائم سنگھ اور مایاوتی ان سب کو کانگریس نے بنا

مجتبی حسین کے بہترین سفر نامے ۔۔۔ از : راحت علی صدیقی قاسمی

Bhatkallys Other

زیر تبصرہ کتاب ’’مجتبیٰ حسین کے بہترین سفرنامے‘‘ چھ سفروں پر مشتمل کتاب ہے ،مجتبیٰ حسین مزاح نگاری میں عظیم نام ہے ،ان کی تحریروں کی مقبولیت سرحدوں کی پابند نہیں ہے ،وہ پوری دنیا میں اردو داں طبقے کے دلوں پر حکمرانی کرتے ہیں ،مشتاق احمد یوسفی اور مجتبیٰ حسین دو ایسی عظیم شخصیات ہیں جنہوں نے طنز و مزاح کی دنیا میں بلند مقام حاصل کیا ہے اور یہ ثابت کردیا کہ طنز و مزاح قہقہہ بار ہی نہیں کرتا بلکہ بسا اوقات سماج کے درد و کرب پر اشکبار بھی کردیتا ہے ،البتہ مزاح نگار بڑی نفاست اور لطافت کے ساتھ اپنا و

مسئلہ قبرص حل نہ ہوسکا۔۔۔از: ڈاکٹر فرقان حمید

Bhatkallys Other

عالمِ اسلام کو اس وقت جن اہم مسائل کا سامنا ہے ان میں مسئلہ فلسطین، مسئلہ کشمیر اور مسئلہ قبرص سر فہرست ہیں اور ان تینوں مسائل کے حل نہ ہونے کی وجہ ہی سے عالم ِ اسلام کو اس بات کا یقین ہوتا چلا جارہا ہے کہ دنیا کسی صورت بھی ان مسائل کے حل کی جانب کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے اور نہ ہی وہ ان مسائل کو حل کرنے میں کوئی سنجیدہ اقدام اٹھا رہی ہے۔ اگرچہ یورپی یونین اور اقوام متحدہ نے مسئلہ قبرص کو حل کرنے کی جانب مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین سے زیادہ کوششیں صرف کی ہیں اور یوں لگتا تھا کہ یہ مسئلہ بس اب حل

آج پاکستان کے معروف شاعر اور نغمہ نگار سیف الدین سیفؔ کی برسی ہے

Bhatkallys Other

از : ابو الحسن علی بھٹکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ : سیف الدین سیف، ایک اچھے شاعر اور فلمساز تھے۔ سیف الدین سیف 20 مارچ 1922 کو امرتسر میں پیدا یوئے۔ سیف الدین سیف کو شروع ہی سے شاعری سے لگاؤ تھا اور کالج کے زمانے میں انہوں نے بہت سی عمدہ غزلیں کہیں۔ قیامِ پاکستان سے قبل انہوں نے کئی فلموں کیلئے گیت بھی لکھے مگر یہ فلمیں ریلیز نہ ہو سکیں۔ فلم ‘تیری یاد’ جو آزادی سے پہلے بننا شروع ہوئی تھی، 1948 میں پاکستان میں ریلیز ہوئی۔ سیف نے اس فلم کے نغمات تحریر کیئے جنہیں بیحد سرا

نرگس، نرگسی کوفتے اور نرگسیت۔۔۔ سہیل احمد صدیقی

Bhatkallys Other

آج کچھ ذکرہوجائے نرگس کا۔ ہائے نرگس….کس کس حوالے سے یادکریں…کہیے آپ کا خیال کس نرگس کی طرف گیا۔ ہمارے عزیز دوست صوفی نویدالظفرسہروردی کی طرح برصغیر کی نام ور فن کارہ نرگس کی طرف….یا ہماری فلمی اداکارہ نرگس یا کوئی اور جسے یاد کرکے وہ نغمہ لبوں پر مچلنے لگے ؎ اے نرگس مستانہ ، بس اتنی شکایت ہے…۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ نرگس[Narcissus] تو ایک خوب صورت پھول کا نام ہے۔ موسم بہار میں کھِلنے والا یہ حسین پھول سفید، زرد اور نارنجی سمیت مختلف رنگوں میں دست یاب ہے۔ جَل نرگس یا آبی نرگس اور زرد نرگس تو ہ

مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ تجھے۔۔۔از:فضیل احمد ناصری

Bhatkallys Other

رمضان کی طویل رخصت گزار کر جمعہ ہی کو دیوبند پہونچا ہوں، ہمارے جامعہ میں داخلے کی کارروائیاں جاری ہیں، لکھنے کا موقع بالکل بھی نہیں مل پا رہا، اس دوران علمی شخصیات کی رحلت کی خبریں موصول ہوتی رہیں اور دل و دماغ کی دنیا زیر و زبر کرتی رہیں، دو دن قبل مراد آباد کے مشہور محدث حضرت مولانا نسیم غازی المظاہری کے انتقال کی خبر ملی تھی اور آج شیخ العالم محدثِ کبیر حضرت مولانا یونس صاحب جون پوری کے وصال کا سانحہ- انا للہ وانا الیہ راجعون- یہ دونوں شخصیتیں اپنی اپنی جگہ آفتاب و ماہتاب تھیں، مولانا

حضرت مولانا محمد یونس جونپوری شیخ الحدیث جامعہ مظاہرعلوم سہارنپور۔۔۔۔از:عبداللہ خالد قاسمی

Bhatkallys Other

ایک سونحی خاکہ پیدائش:۲۵؍ رجب ۱۳۵۵ھ ۲؍ اکتوبر ۱۹۳۷ء مقام پیدائش:کھیتا سرائے ضلع جونپور پانچ سال ۱۰؍ ماہ میں والدہ کا انتقال ابتدائی تعلیم :گاؤں کا مکتب عربی تعلیم کی ابتدا: ۱۳؍ سال کی عمر میں مدرسہ ضیاءالعلوم مانی کلاں ضلع جونپور میں داخل ہوئے ،فارسی سے لے کر نورالانوار تک کی کتابیں وہیں پڑھیں مظاہرعلوم میں داخلہ :شوال ۱۳۷۷ھ میں مظاہر علوم میں داخلہ لیا ،۱۳۸۰ھ میں دورہ سے فراغت یہیں سے حاصل کی معین مدرس: مظاہرعلوم میں ۱۳۸۱ھ میں معین مدرس مقرر ہوئے شیخ الحدیث کے عہدہ پر:ش

ممتاز شاعر،افسانہ نگار،صحافی،ادیب ،مدیر اور کالم نگار احمد ندیم قاسمی کی برسی ہے۔

Bhatkallys Other

از : ابو الحسن علی بھٹکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احمد ندیمؔ قاسمی پیدائشی نام احمد شاہ قلمی نام عنقا تخلص ندیم ولادت 20 نومبر 1916ء خوشاب ابتدا لاہور، پاکستان وفات 10 جولائی 2006ء لاہور اصناف ادب شاعری، افسانہ ذیلی اصناف غزل، نظم ادبی تحریک ترقی پسند تصنیف اول :پہلی نظم 1931 میں مولانا محمد علی جوہر کی وفات پر احمد ندیم قاسمی (20 نومبر 1916ء تا 10 جولائی 2006ء) پاکستان کے ایک معروف ادیب، شاعر، افسانہ نگار، صحافی، مدیر اور کالم نگار تھے۔ افسانہ اور شاعری میں

آج معروف شاعر اور ادیب محسنؔ زیدی کا یوم پیدائش ہے

Bhatkallys Other

از : ابو الحسن علی بھٹکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محسن زیدی اردو زبان کے معروف شاعر تھے ان کا مکمل نام سید محسن رضا زیدی تھا ۔ محسن ان کا قلمی نام ھے ۔ آپ اترپردیش کے علاقے بہرائچ میں 10 جولائی 1935ء کو پیدا ھوئے ۔ آپ کے والد کا نام سید علی رضا زیدی اور والدہ محترمہ کا نام صغریٰ بیگم تھا ۔ آپ نے ابتدائی تعلیم پرتاپ گڑھ کے سکول سے حاصل کی ۔ آپ نے بی اے اور ایم اے معاشیات لکھنؤ یونیورسٹی سے کیا اور اکنامکس مین ماسٹر زکی ڈگری الہ آباد یونیورسٹی سے حاصل کی ۔ اس کے بعد آپ نے

آج معروف نغمہ نگار اسد بھوپالی کا یوم پیدائش ہے

Bhatkallys Other

از : ابو الحسن علی بھٹکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسد بھوپالی۔ 10جولائی1921ء کو بھوپال میں پیدا ہونے والے اسد بھوپالی کو زندہ رکھنے کے لیے فلم ’’ٹاور ہائوس‘‘ کے لیے لکھا گیا ان کا یہ نغمہ ہی کافی ہے ’’اے میرے دل ناداں تم غم سے نہ گھبرانا‘‘ ان کے والد کا نام منشی احمد خان تھا اور وہ ان کے سب سے بڑے بیٹے تھے۔ اسد بھوپائی کا اصل نام اسد اللہ خاں تھا انہوں نے فارسی ‘عربی‘ اردو اور انگریزی میں رسمی تعلیم حاصل کی۔ وقت کے ساتھ لوگ انہیں اسد بھوپالی ک

سونیا کو آخری فیصلہ کردینا چاہئے۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

راہل گاندھی کی بہن پرینکا گاندھی کے بارے میں ہر زبان پر ایک ہی تبصرہ ہے کہ وہ اپنی دادی اندرا گاندھی کی تصویر ہیں۔ اور ہمیں بھی اس کے اندر اور باہر اندرا گاندھی نظر آتی ہیں۔ لیکن یہ بات ایک معمہ ہے کہ وہ شاید پندرہ برس سے سیاست کے اسٹیج پر آتی ہیں اور صرف اپنی ماں اور بھائی کے حلقوں میں ان کے لئے ووٹ مانگ کر گھر آجاتی ہیں۔ عام طور پر پورے ملک اور خاص طور پر اُترپردیش کا ہر کانگریسی پرینکا پرینکا کے نعرے لگاتا ہے ان کے نام کے پوسٹر چھپواتا ہے اور کانگریس کی قیادت کی اہم کرسی انہیں دینے کو کہتا ہے

⁠⁠⁠⁠⁠آج معروف شاعر اقبال عظیم کا یومِ پیدائش ہے۔

Bhatkallys Other

از: ابوالحسن علی بھٹکلی معروف شاعر اقبال عظیم 8 جولائی 1913ء کو میرٹھ میں پیدا ہوئے ۔اُن کے والدسید مقبول عظیم کا تعلق سہارن پور سے تھا۔ خود لکھنؤ اور اودھ میں پروان چڑھے ۔لکھنؤ یونیورسٹی سے 1934ء میں بی اے کی سند حاصل کی۔ پھر آگرہ چلے گئے جہاں سے 1943ء میں آگرہ یونیورسٹی سے ایم اے کی سند حاصل کی۔اُنہیں ڈھاکا یونیورسٹی سے ریسرچ اسکالر شپ ملی اور ’’ٹیچرز ٹریننگ کالج ، لکھنؤ‘‘ سے تدریسی تربیت بھی حاصل کی۔اقبال عظیم نے باقاعدہ تدریس کا آغاز’’گورنمنٹ جوبل کالج ، لکھنؤ ‘‘ سے کیا۔ساڑھے گیارہ برس یوپی