Search results

Search results for ''


پروردگار سی بی آئی کو فرض ادا کرنے کی توفیق دے۔۔۔از:حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

گذشتہ سال اکتوبر میں بھوپال میں آٹھ مسلمان لڑکوں کو پولیس نے گولیوں سے بھون دیا۔ بعد میں بتایا گیا کہ یہ سی می کے لوگ تھے جو ایک پولیس افسر کو مارکر جیل سے فرار ہوگئے تھے۔ اس قتل پر مدھیہ پردیش کے بدنام وزیر اعلیٰ نے پولیس والوں کی تعریف میں زمین آسمان ایک کردیا۔ وزیر اعلیٰ چوہان کی اُڑائی ہوئی دھول جب صاف ہوئی تو سیکڑوں سوال کھڑے ہوگئے اور ہم نے بھی جو ہمارے اوپر فرض تھا وہ لکھا۔ دس مہینے کی جدوجہد کے بعد خدا خدا کرکے سپریم کورٹ نے حکومت سے معلوم کیا ہے کہ اس کی سی بی آئی جانچ کیوں نہیں کرائی گ

صدر مکھرجی کے ساتھ نہ جانے کیا کیا گیا؟۔۔از: حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

تیرہویں سابق صدر جمہوریہ شری پرنب مکھرجی نے اپنے جانشینی کو قصرِ صدارت کی چابیاں حوالے کرنے سے پہلے اپنی پانچ سال کی بھڑاس اس طرح نکالی کہ انہوں نے پوری تقریر کے وقت اپنے دونوں ہاتھ اوپر رکھے تاکہ ہر دیکھنے والا دیکھ لے کہ وہ مودی سرکار کی لکھی ہوئی تقریر نہیں سنا رہے ہیں بلکہ وہ کہہ رہے ہیں جو اُن کے دل میں ہے۔ اور یہ سہولت انہیں پانچ سال کے بعد ملی ہے۔ ملک کی آزادی کے بعد جب اُترپردیش میں کانگریسی ننگے ہوگئے اور انہوں نے اپنے دلوں کا وہ سارا زہر جو مسلمانوں کے خلاف بھرا ہوا تھا وہ سب سے پہلے

کچھ سنہری یادیں ۔مسقط ۔۔۔ : از فرزانہ اعجاز

Bhatkallys Other

مسقط اسکول تو سب ہی اچھے ہوتے ہیں،اس لۓ کہ علم کی روشنی پھیلاتے ہیں، کچھ  اسکول ،ملگجی ۔اور کچھ اسکول اجلی اجلی روشنی۔ہر اسکول اور ہر استاد کا بس ایک ہی مقصد ہوتا ہے حتی الامکان طلبا اور طالبات کو علم کی جگر مگر کرتی روشنی سے ’منور‘ کرنا ۔۔ ننھی سی عمر میں آنکھیں ملتے ملتے جب ہم پہلی بار  اسکول گۓ تو تصور میں دادی کے گھر کےتخت کا وہ چوکہ تھا جس پر بیٹھ کر ہم ۔،پارہ۔ پڑھا کرتے تھے،اسکول کی ڈسک اور لمبی لمبی بنچیں ہمارے لۓ نئ بھی تھیں اور حیران کن بھی،جن پر بچے اپنا ،بستہ، بھی رکھتے اور کچھ د

موت کا ایک دن معینّ ہے۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

ایک اُردو اخبار کے مالک تشریف لائے اور انہوں نے بتایا کہ ہم لوگ وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ یوگی سے ملنے گئے تھے۔ (ان سے یہ نہیں معلوم کیا کہ کون کون؟) ان سے کہا کہ اُردو اخباروں کے اشتہار بند ہوگئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہر اخبار کو اشتہار نہیں دیا جائے گا۔ اور بھی باتیں ہوئی ہوں گی جو بے مطلب ہیں۔ ہم نے کہا کہ گئے کیوں تھے؟ یہ تو سب دیکھ رہے ہیں کہ جب سے یوگی سرکار آئی ہے اُردو کے صرف ایک اخبار کو جس کا مالک ہندو ہے اسے اشتہار دیا جارہا ہے۔ اور مرکزی حکومت کے پورے پورے صفحے کے اشتہار بھی اور یوپی

ایک انفرادیت پسند صدر…۔۔۔۔از: کلدیپ نیئر

Bhatkallys Other

صدر پرناب مکھرجی کے دور حکومت کا جائزہ لینا کوئی مشکل کام نہیں جو اپنی پانچ سالہ مدت مکمل کرکے صدارت کے منصب سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ وہ ایک غلط انتخاب تھے اور انھیں اس منصب پر بیٹھنا ہی نہیں چاہیے تھا۔ پرناب مکھرجی سنجے گاندھی کے دلپسند شخص تھے جب کہ سنجے گاندھی از خود ایک ماورائے آئین اتھارٹی تھے، جس نے کہ ایمرجنسی کے دوران ملک پر مطلق العنان حکمرانی کی۔ یہ اس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی کی آمرانہ حکومت تھی جس نے شہریوں کے بنیادی حقوق تک سلب کر لیے۔ پرناب مکھرجی اس وقت وزیر تجارت تھے جو سنجے گان

فسطائیت کا گھناؤنا چہرہ۔۔گؤ آتنک واد اور وزیراعظم کی پینترے بازی! (تیسری اور آخری قسط) ۔۔۔۔از: ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ 

Bhatkallys Other

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے...........  گزشتہ قسط میں اس بات کا سرسری جائزہ لیا گیا تھا کہ سابقہ ڈھائی تین سال کے عرصے میں مودی راج میں گائے ماتا کے نام پر دہشت پھیلانے والے گؤ آتنکیوں نے سوچی سمجھی اسکیم کے تحت ہجوم کی شکل میں درجنوں مسلمانوں کو سر عام قتل کرڈالا ہے ۔اس طرح ہجوم کی شکل میں جان لیوا حملے کا کرنے کااہم مقصد قانون کی آنکھ میں دھول جھونکنا ہوتا ہے جس سے انفرادی معاملہ بنانے اورعدالت میں کسی پر جرم ثابت کرنے میں پولیس کو دشواری پیش آ تی ہے۔ ہم نے اسی ضمن میں اس بات کا بھی اشارہ کیاتھ

وزیر اعلیٰ لیڈر ہوتا ہے جیلر نہیں۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

اُترپردیش جیسی بڑی ریاست کا کسی دھرم گرو کو وزیر اعلیٰ بنانے کا فیصلہ ہی غلط تھا۔ یہ غلطی نریندر مودی نے کی یا موہن بھاگوت نے ان سے کرائی بہرحال غلطی ہے۔ مذہبی رہنما وہ ہندو ہو، مسلمان ہو یا عیسائی فادر اختلاف برداشت نہیں کرسکتا۔ اس کی زندگی اس طرح گذرتی ہے کہ سامنے 100 آدمی بھی بیٹھتے ہیں اور وہ گروہ یا پیر یا فادر جو کہتا ہے سب گردن ہلاکر اسے مانتے ہیں اور کوئی نہیں ہوتا جو کہے کہ وہ غلط ہے جو آپ کہہ رہے ہیں صحیح یہ ہے۔ ایسے لوگوں کی زندگی صرف ایسی گذرتی ہے کہ جو اُن کے منھ سے نکل گیا وہ ٹھیک

تار ۔ مذکر ہے یا مونث ؟ ۔۔۔۔۔ تحریر : اطہر ہاشمی

Bhatkallys Other

تار۔ مذکر یا مونث؟ اردو میں ہم ایسے کئی الفاظ بے مُحابا استعمال کرتے ہیں جن کا مفہوم اور محل واضح ہوتا ہے لیکن کم لوگ جن میں ہم بھی شامل ہیں‘ ان الفاظ کے معانی پر غور کرتے ہیں۔ اب اسی لفظ ’’بے مُحابا‘‘ کو دیکھ لیجیے، استعمال صحیح کیا ہے لیکن اگر ’’بے‘‘ ہے تو ’’محابا‘‘ بھی کچھ ہوگا۔ ’’بے‘‘ تو فارسی کا حرفِ نفی ہے، یعنی بغیر مُحابا کے۔ ۔ ۔ اور مُحابا کی شکل کہہ رہی ہے کہ یہ عربی ہے۔ عربی میں اس کے کئی معانی ہیں مثلاً لحاظ، مروت، پاسداری، صلح، اطاعت، فروگزاشت، ڈر، خوف، احتیاط۔ اردو میں بے مُحابا ع

سچی باتیں ۔۔۔ دشمنوں کا شعار۔۔۔ از : مولانا عبد الماجد دریابادی

Bhatkallys Other

 يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِينَ اتَّخَذُوا دِينَكُمْ هُزُوًا وَلَعِبًا مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَالْكُفَّارَ أَوْلِيَاءَ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (57) وَإِذَا نَادَيْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ اتَّخَذُوهَا هُزُوًا وَلَعِبًا ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا يَعْقِلُونَ (58)المائدة                 اے ایمان والو،کافروںاور اہل کتاب میں سے جو لوگ تمھارے دین کو ہنسی اور کھیل قراردیئے ہوئے ہیں انھیں اپنا دوست نہ بناؤاور اللہ سے ڈرتے رہواگر

مایاوتی کرو یا مرو کے دروازہ پر۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

اُترپردیش کی سابق وزیر اعلیٰ اور بی ایس پی کی صدر مس مایاوتی نے راجیہ سبھا کی رکنیت سے استعفیٰ دے کر اپنی ساڑھے تین مہینے کی جلن پر پانی ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے اُترپردیش اسمبلی کا الیکشن کسی کے بھی سمجھانے کے باوجوتنہا لڑا۔ انہیں یقین تھا کہ وہ کسی سہارے کے بغیر وزیراعلیٰ بنیں گی۔ بدنصیب مسلمانوں نے بھی یہ طے کرلیا ہے کہ وہ عقل کی کوئی بات نہیں کریں گے۔ مایاوتی کی طرح انہوں نے بھی سمجھ لیا کہ اُترپردیش میں ایک بار ملائم سنگھ اور ایک بار مایاوتی باری باری حکومت بناتے رہیں گے اور اس بار بار

یہ کیسی رات ۔۔۔ فرزانہ اعجاز

Bhatkallys Other

وہ کتنا سہانا دن تھا،دو دن بعد اسکے گھر پر بہت سے لوگ رات کے کھانے پر آنے والے تھے،وہ اسی کے انتظامات میں مصروف تھی کہ پاس کے کمرے سے اسکے شوہر نے اسے آواز دیکر بلایا، جہاں وہ کمپیوٹر پر اپنی 'ڈاک' دیکھ رہے تھے،کہنے لگے '—دیکھو ، تمہارا چھوٹا بیٹا کیا کہہ رہا ہے—'وہ کچن کا کام چھوڑ کر گئ اور 'ای میل ' پر نظر ڈالی، لکھا تھا ----'ابو۔ یہاں ابھی آدھی رات ہے ، ہم سو رہے تھے کہ خواب دیکھا کہ'آپکے گھر کے دروازے کی کسی نے گھنٹی بجائ ،آپ نے دروازہ کھولا،آنے والے نے کچھ کہا اور آپ نے گھبرا کر ' ارے-کب-کہ

جولائی 19 : نامور شاعر ساغرؔ صدیقی کی برسی ہے

Bhatkallys Other

جولائی 19  : نامور شاعر ساغرؔ صدیقی کی برسی ہے تحریر : ابو الحسن علی بھٹکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔-- ساغر صدیقی اپنی اجڑی پجڑی،لٹی پٹی،بے رونق اور سنسان زندگی کی صفیں لپیٹ کر 19 جولائی 1974ء کو اپنی زندگی کے تمام اچھے برے نقش،تمام محاسن و مصائب،تمام راز اور تمام اسرار اپنے دامن میں سمیٹ کر چپ چاپ قبر کی آغوش میں ہمیشہ کی نیند سو گیا تھا۔اس کے جاننے والوں کو اس سانحہ کی خبر اسوقت ملی جب وہ پیوند خاک ہو چکا تھا۔اب کوئی شخص اسے کالی چادر اوڑھے،ننگے سر،ننگے پاؤ

حکومت ملنا آسان ہے کرنا بہت مشکل ہے۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

یہ بہت پرانی روایت ہے کہ جب پارلیمنٹ کا اجلاس شروع ہونے والا ہوتا ہے تو اسپیکر تمام پارٹیوں کو بلاتا یا بلاتی ہیں۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ اجلاس کو سکون سے چلایا جائے جو عوام کے فائدے کے بل (Bill) ہوں ان پر ضروری بحث کرکے ان کو پاس کرایا جائے ہلڑ ہنگامہ، شور شرابہ کرکے وقت برباد نہ کیا جائے اور وہی گھسا پٹا حساب کہ پارلیمنٹ کا ایک منٹ کتنے کا ہے اور ایک گھنٹہ کتنے لاکھ روپئے کا ہے؟ یہ سب کہتے وقت کسی کو یاد نہیں آتا کہ جب وہ حزب مخالف کی بنچوں پر بیٹھے تھے تو انہوں نے کتنی غنڈۃ گردی کی تھی اور کتنے ک

فسطائیت کا گھناؤنا چہرہ۔۔۔ہجوم کے ہاتھوں"انصاف اور قتل "کا نیا سلسلہ! (دوسری قسط)۔۔۔از: ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ 

Bhatkallys Other

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے...........  گزشتہ قسط میں ہم نے فسطائیت یا فاشزم کی تعریف ، اجزائے ترکیبی اور بنیادی خصوصیات کا تفصیلی جائزہ لیا جس کی روشنی میں یہ بات صاف ہوگئی کہ ہندوستان کا موجودہ نظام حکومت جمہوریت کے دائرے سے نکل کر فاشزم کے مدار میں پوری طرح داخل ہونے کے لئے تیار ہوچکا ہے۔جس کے ایک گھناؤنے روپ کے طور پر ہجوم کے ہاتھوں" انصاف اور قتل" یا mob lynchingکا سفاکانہ دور شروع ہو گیا ہے جو خود اپنے آپ میں فاشزم کا جزئے لاینفک ہوتا ہے ۔تاریخ اور حالات حاضرہ پر نظر رکھنے والوں کے لئے یہ کوئی

یاترا کا فروغ، یاتریوں کی ترقی۔۔۔۔از: کلدیپ نیئر

Bhatkallys Other

جب جنگجو سامنے آکر حملہ کریں تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں نتائج کا کوئی خوف نہیں ہے۔کشمیر میں امرناتھ یاترا سے لوٹنے والے سات  یاتریوں کی حملے میں ہلاکت کے ردعمل میں کی گئی کارروائی بھی کچھ ایسی ہی کہانی بیان کرتی ہے۔ حملہ آوروں  نے پولیس یا فوج پر حملہ کرنے میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا جیسے کہ وہ بخوبی جانتے ہوں کہ یاترا کی حفاظت پر مامور فورسز کو نقصان پہنچانے کے ان کے عزم کے مقابلے میں جوابی حملہ انھیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ امکان  ظاہر کیا جارہا ہے کہ کارروائی لشکر طیبہ کی

اُردو کی طلب، طالب اور مطلوب ... تحریر : ندیم صدیقی

Bhatkallys Other

سنہ ۱۹۵۷ تا ۱۹۶۳ تک سمپورنانند یوپی کے وزیر اعلیٰ رہے اور اُنھیں کے دورِ حکومت میں اُردو کو ریاست بدر کیا گیا۔ اب جو یوپی میں اُردوکی صورتِ حال ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ بیشک اب اُردو کانام لینے والوں میں صرف مسلمان ہی رہ گئے ہیں، اُردوکے تعلق سے یہ جو چند نام ہندوؤں کے آتے ہیں وہ یا تو پچاس ساٹھ بر س عمر کے یا اس سے زیادہ سِن و سال کے لوگ ہیں اور اس وقت گنا جائے تو یہ حضرات ملک کی اتنی بڑی آبادی میں چند ہی رہ گئے ہیں۔ نئی نسل کے لوگوں میں یہ تعداد اِن سے بھی کہیں کم ہے۔ پاکستان کے مشہور

نہ نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی ۔۔۔از:حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

یہی ٹھہری جو شرطِ وصلِ لیلیٰ تو استعفیٰ مرا باحسرت و یاس اُترپردیش کی حکومت کو ہائی کورٹ نے حکم دیا ہے کہ وہ گوشت کی دُکانوں کے لائسنس جاری کرے اور مذبح بنائے۔ جہاں جانور ذبح ہوسکیں۔ حکومت کے سامنے ایک راستہ تو یہ تھا کہ وہ کان دباکر بیٹھ جاتی۔ لیکن اس کے بعد پھر ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں فریادی جاکر فریاد کرتے۔ ہندو حکومت نے وہ طریقہ اختیار کیا کہ رادھا کو نچانا ہے تو نومن تیل لاؤ۔ دُکان کھولنا ہے تو کم از کم دس لاکھ روپئے کا انتظام کیا جائے اور گوشت کی دُکان کے بجائے تاج محل بنایا جائے۔

مولانا ابو الجلال ندوی - ایک مایہ ناز محقق ۔۔۔ تحریر : نعیم الدین اصلاحی

Bhatkallys Other

برعظیم پاک و ہند میں 1857ء کے ناکام جہاد اور انگریزی تسلط کے قیام کے بعد احیائے دین اور آزادی کے لیے جو عظیم جدوجہد ہوئی ہے اس کا پہلا مرحلہ قدیم علمی و تحقیقی روایت کا اجرائے ثانیہ ہے۔ علی گڑھ، دیوبند اور ندوۃ العلماء اس جدوجہد کے سنگ ہائے میل ہیں۔ ان اساطین میں ایک اہم نام علامہ شبلی نعمانی کا ہے، جو 1857ء میں پیدا ہوئے اور 1914 میں رحلت فرما گئے۔ ان کے آخری منصوبوں میں ’’سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کی اشاعت، علماء و مصنفین کی تربیت کے لیے ایک ادارے ’’دارالمصنفین‘‘ کا قیام اور علمی جریدے ’