Search results

Search results for ''


سفر تمام ہوا نیند آئی جاتی ہے حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

آؤ کہ آج ختم کریں داستان عشق اب ختمِ عاشقی کے فسانے سنائیں ہم دس سال تک ہندوستان کے نائب صدر اور راجیہ سبھا کے چیئرمین کی ذمہ داریاں خوش اسلوبی سے پوری کرکے حامد انصاری صاحب سرکاری پابندیوں سے آزاد ہوگئے۔ انہوں نے رُخصت ہوتے ہوئے جو کچھ کہا اس کے ایک ایک لفظ سے محسوس ہورہا تھا کہ یہ دس برس انہوں نے پھولوں ہی پر نہیں کانٹوں پر بھی گذارے ہیں۔ اور یہ تو پانچ برس پہلے بھی ہم نے لکھا تھا اور پھر دُہرایا بھی تھا کہ جب صدر کا انتخاب ہورہا تھا تو حامد انصاری صاحب نائب صدر تھے اور ہمیشہ تو نہیں لیکن ب

کیا وزیراعلیٰ یوگی نے ہتھیار ڈالدیئے؟ ۔۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

اُترپردیش کے وزیراعلیٰ نے حلف لینے کے بعد بڑے تیور کے ساتھ کہا تھا کہ اب ریاست میں قانون کی حکومت ہوگی وہ تمام غنڈے اور بدمعاش جن کی پہلے حکومتیں پردہ پوشی اور ہمت افزائی کرتی رہی ہیں وہ یا تو سدھر جائیں یا صوبہ چھوڑکر کہیں اور منھ کالا کریں۔ اس اعلان کے چند روز کے بعد ہی انہوں نے یہ دیکھنا شروع کیا کہ سابق وزیر اعلیٰ نے کہاں کہاں کھایا ہے؟ اور اسی دن سے صرف ان کا ایک ہی کام ہے کہ گومتی ندی کے کنارے کنارے بنائی ہوئی تفریح گاہوں میں کیا کیا یا قبرستانوں کی چہار دیواری میں کتنا کھایا لکھنؤ آگرہ جو

سچی باتیں ۔۔۔ جزائے اعمال ۔۔۔ تحریر : مولانا عبد الماجد دریابادی

Bhatkallys Other

کلام مجید کے تیسویں پارہ کے وسط میں سورہ غاشیہ ہے جس میں قیامت کا بیان ہے اس کے شروع میں آتا ہے وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ خَاشِعَةٌ ۔ عَامِلَةٌ نَاصِبَةٌ ، تَصْلَى نَارًا حَامِيَةً ۔ کتنے چہرے ہیں جو اس روز ذلیل و خوار ہوں گے ،محنت کرنے والے تھکے ماندے اشخاص اس روز کون ہوں گے ؟ اسکے جواب میں صحیح بخاری میں حضرت ابن عباس کا قول ملتاہے۔’’وقال ابن عباس عاملۃٌناصبۃ النصاری‘‘ (کتاب التفسیر)کہ اس سے مراد نصاریٰ ہیں اورمتعدد مفسروں نے اسی قول کو نقل و اختیار کیا ہے،یہی وہ گروہ ہے جسے جلتی ہوئی آگ میں جھونکا

اللہ رے سناٹا آواز نہیں آتی۔۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

پوری ذمہ داری سے کہا جاسکتا ہے کہ ملک کے جو حالات آج ہیں ایسے بدتر حالات کبھی اور کسی کی حکومت میں نہیں رہے۔ اور جتنی خاموشی اور دہشت آج نظر آرہی ہے ایسے کبھی نہیں تھی۔ سب سے پہلے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا نے یہ بیڑہ اُٹھایا تھا کہ وہ ہر مہینے دو مہینے کے بعد گاؤں سے مردوں اور عورتوں کو نکال لاتے تھے اور یہ سرکار نکمی ہے، یہ سرکار بدامنی ہے۔ سڑی گلی سرکار کو ایک دھکا اور دو اور جتنے نعرے تھے وہ لگاتے ہوئے شہر کا چکر لگاکر واپس قیصر باغ آجاتے تھے۔ پھر جب سی پی آئی سمٹ کر ایک لیڈر اتل کمار انجان تک

سفر نامه هند۔۔(پہلی قسط)۔۔۔از: ڈاکٹر محمد اكرم ندوی

Bhatkallys Other

​جولائى 09 سنه 2017 كى شام كو آكسفورڈ سے لندن ہيتهرو ايرپورٹ كے لئے نكلا، اور جٹ ايرويز كى ايكـ فلائٹ سے هندوستان كے لئے پا به ركاب هوا، يه سفر والد محترم مد ظله كى ملاقات اور وطن كى زيارت كے علاوه علمى، فكرى اور دعوتى اغراض ومقاصد پر مشتمل تها، اس لئے يه بات ذهن كے نهاں خانه ميں جا گزين تهى كه واپسى پر اس سفر كى تفصيلات قلمبند كرنى هے، سفر سے انسان جو كچهـ سيكتها هے كتابوں سے ممكن نهيں، شبلى نے كتنى سچى بات كهى: "مجھ كو معلوم هوا كه انسان جب تک دنيا كے بڑے بڑے حصے نه ديكهے انسان نهيں هوسكتا، اف

سچی باتیں ۔۔۔ دشمنوں کے حقوق ۔۔۔۔ تحریر : مولانا عبد الماجد دریابادی

Bhatkallys Other

سورۂ مائدہ کے پہلے رکوع کی دوسری آیت میں ایمان والوں کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد ہے وَلاَیَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ اَنْ صَدُّوْکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِالْحَرَامِ اَنْ تَعْتَدُوْا۔ اورامادہ نہ کردے تمھیں اس قوم کی دشمنی جس نے تمھیں مسجد حرام سے نکالاکہ تم اس پر زیادتی کرنے لگو۔اور پانچ آیتوں کے بعد دوسرے رکوع میں ایمان والوں ہی سے ارشاد ہوتا ہے۔ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى تو وہ ضرور مستحق ہیں جس کا حکم آپ کو اپنے دشمنوں اور

کیا کرناٹکامیں لسانی اورصوبائی جنون ،نئے طوفان کا پیش خیمہ ہے ؟! ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ 

Bhatkallys Other

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے...........  ہندوستان کی جنوبی ریاستوں میں لسانی اور صوبائی عصبیت اور شمالی ریاستوں سے اورخاص کر ہندی زبان سے چِڑ کوئی نئی بات نہیں ہے۔کرناٹکا، کیرالہ، آندھرا پردیش اور تملناڈوکے علاوہ بنگال، آسام، بہار، مہاراشٹرا جیسی ریاستیں بھی کسی نہ کسی مسئلے پر شمال کے ساتھ برسرپیکارہیں۔مگر غیر ہندی داں بیلٹ کے طور پر اپنی پہچان رکھنے والی ریاستوں میں ہندی زبان کی شدید مخالفت تملناڈو کی طرف سے شروع ہوئی جس کا سلسلہ ملک کی آزادی سے پہلے کت زمانے سے جاملتا ہے۔ تب سے ہندی مخالف قیادت کام

لیے اور لئے کا آسان نسخہ --- تحریر : اطہر ہاشمی

Bhatkallys Other

اردو کے لیے مولوی عبدالحق مرحوم کی خدمات بے شمار ہیں۔ اسی لیے انہیں ’’باباے اردو‘‘کا خطاب ملا۔ زبان کے حوالے سے اُن کے قول ِ فیصل پر کسی اعتراض کی گنجائش نہیں۔ گنجائش اور رہائش کے بھی دو املا چل رہے ہیں، یعنی گنجایش، رہایش۔ وارث سرہندی کی علمی اردو لغت میں دونوں املا دے کر ابہام پیدا کردیا گیا ہے۔ چنانچہ آج کل یہ دونوں ہی رائج ہیں۔ رشید حسن خان نے ہمزہ کے بجائے ’ی‘ سے لکھا ہے یعنی گنجایش، ستایش وغیرہ۔ بات ہورہی تھی باباے اردو کی۔ ہرچند کہ خطائے بزرگاں گرفتن خطا است۔ لیکن اپنی رائے کا اظہار تو

قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان کے وجود کے تحفظ کے لےکراردو معاشرہ کو سنجیدگی سے موثر لائحہ  عمل مرتّب کرنے کی ضرورت۔۔۔از: ڈاکٹر اطہر فاروقی

Bhatkallys Other

  (ہفت روزہ”ہماری زبان“ کے 15تا 21اگست 2017 ، جلد نمبر-76،شمارہ نمبر-31 میں ڈاکٹر اطہر فاروقی جنرل سکریٹری انجمن ترقی اردو (ہند)کی ایک اہم تحریر قومی کونسل براے فروغِ اُردو زبان کے سلسلے میں شائع ہوئی ہے جسے یہاں نقل کیا جارہا ہے۔)   قومی کونسل براے فروغِ اردو زبان کا وجود خطرے میں ہے۔اس خطرے کا مقابلہ اور سدِّ باب کرنے کے لےے آج اردو معاشرے کو ماضی سے کہیں زیادہ تدبر سے کام لےنے کی ضرورت ہے۔ جس پالیسی کے تحت کونسل کا وجود معرضِ خطر میں آگیا ہے، وہ موجودہ حکومت کی ایک ایسی پال

43% elderly in India face psychological problems: Study

Bhatkallys Other

New Delhi: Forty-three out of 100 elderly people in India are victims of psychological problems due to loneliness, and other relationship issues, a new study has said. Based on the feedback from 50,000 older persons across the country during the months of June and July this year, the study by Agewell Foundation revealed almost half of the elderly population were not taken care of by their families. “Forty-three per cent older persons are facing psychological problems due to loneliness, rel

شہید بابری مسجد کے مسلک کا مسئلہ؟۔۔۔از:حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

برسوں سے اودھ نامہ میں لکھتے رہنے کے بعد آج یہ کہنے کا حق رکھتا ہوں کہ میرے کسی دوست نے میرے مضمون میں شیعہ سُنی مسئلہ پر میرے قلم سے کوئی مضمون شاید نہ دیکھا ہوگا۔ ہوسکتا ہے برسبیل تذکرہ کوئی جملہ قلم سے نکل گیا ہو۔ بابری مسجد جس کا اب صرف نام ہے وجود بھی نہیں ہے اس کے شیعہ یا سُنی ہونے پر مقدمہ بازی یا فریق مقدمہ بننا پڑھ کر اس لئے جھٹکا لگا کہ جن صاحب کے نام سے یہ خبر چھپی ہے میں ان کی جرأت راست گوئی اور اوقاف میں بددیانتی پر مستقل حملہ آور رہنے کی وجہ سے بہت متاثر ہوں۔ اگر 1946 ء میں سُنی او

وزیر اعظم بنتے بنتے نتیش رام دیو جونیئر بن گئے۔۔۔از: حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے جو کیا حافظہ پر زور ڈالنے کے بعد بھی ہندوستان کی 72 سالہ تاریخ میں ایسا دوسرا وقعہ یاد نہیں آیا کہ بھرے پرے خاندان سے نکل کر گئے اور استعفیٰ دے دیا اور دوسرے دن خاندان کے ہر فرد کے دشمن سے ہاتھ ملاکر پھر وزیر اعلیٰ بن گئے۔ ان کی ہر بات سے معلوم ہورہا ہے کہ یہ ہفتہ، دو ہفتہ کی نہیں مہینوں کی بنائی ہوئی سازش ہے اور نتیش اس زمانہ میں جتنی بار بھی دہلی گئے ہیں وہ اپنے آقا سے راز و نیاز کرتے رہے ہیں۔ اور صرف 20 مہینے کی سرکار کے نائب وزیر اعلیٰ کے اوپر سی بی آئی کا حمل

تاریخی فیصلہ۔۔۔۔از: آصف جیلانی

Bhatkallys Other

بلا شبہ میاں نواز شریف کو نااہل قرار دینے کے بارے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخی فیصلہ ہے۔ تاریخی اس اعتبار سے کہ قیام پاکستان کے بعد پچھلے ستر سال کے دوران، پہلی بار ایک منتخب وزیر اعظم کو سپریم کورٹ کے پانچ ججوں پر مشتمل بینچ نے مکمل اتفاق رائے سے نااہل قرار دیا ہے ۔ تاریخی اس لحاظ سے کہ اتنے اہم مقدمہ میں سپریم کورٹ نے پہلی بار مکمل اتفاق رائے سے یہ فیصلہ دیا ہے ۔ اب تک جتنے بھی اہم مقدمات میں فیصلے دیے گئے ہیں وہ اتفاق رائے کے بجائے منقسم اور اختلافی رہے ہیں، بشمول مولوی تمیز الدین خان کے مق

بہاریوں کے ساتھ نتیش کی غداری۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

بہار میں جو کچھ ہوا وہ حیران کردینے والا نہیں ہے۔ وزیر اعظم مودی نے جو 20 مہینے کانٹوں پر گذارے ہیں ان میں سب سے زیادہ وہ چبھنے والے کانٹے دہلی اور بہار کے تھے۔ انہوں نے کون سا منتر پڑھا یہ تو نہیں معلوم لیکن یہ سب دیکھ رہے ہیں کہ ہر وقت گرجنے اور برسنے والا اروند کجریوال ایک بے ضرر وزیر اعلیٰ بنا ہوا ہے جیسے اس کے منھ میں دانت ہی نہ ہوں۔ بہار مودی کے سینہ پر مونگ دل رہا تھا لالو اپنے اوپر ہونے والے ہر حملہ کا مقابلہ کررہے تھے بی جے پی کے صوبہ دار سوشیل مودی نے صرف ایک فرض سمجھ لیا تھا وہ روز پ

تبصرہ کتب : اسلام - انسانی حقوق کا پاسبان۔ ۔۔ تبصرہ نگار : ملک نواز احمد اعوان

Bhatkallys Other

نام کتاب : اسلام انسانی حقوق کا پاسبان مصنف : مولانا سید جلال الدین عمری صفحات : 184 قیمت 90 ناشر : مرکزی مکتبہ اسلامی پبلیشرز ۔ نئی دہلی 25 فون نمبر : 26981652/26984347 mmipub@nda.sri.net : ایمیل www.mmipublishers.net حضرت مولانا سید جلال الدین عمری حفظہ اللہ (پ:1935ئ) عالم اسلام کے ایک جید عالم دین، بہترین خطیب، ممتاز محقق اور صاحبِ طرز مصنف کی حیثیت سے معروف ہیں۔ قرآنو سنت سے گہری واقفیت کے ساتھ جدید افکار پر ان کی اچھی نظر ہے۔ موضوع کا تنوع، اسلوب کی انفرادیت، طرزِ استدلال کی ندرت اور

سارہ شگفتہ - ایک افسانہ ایک حقیقت ۔۔۔۔ : تحریر : ڈاکٹر طاہر مسعود

Bhatkallys Other

پچھلے دنوں میرے ایک دوست نے فیس بُک پر پڑھا جانے والا ایک اقتباس غالباً کسی مضمون کا، مجھے ای میل کیا اور اس واقعے کی تصدیق چاہی جس کاذکر اقتباس میں کیا گیا تھا۔ یہ واقعہ اردو دنیا کی ایک شاعرہ سارہ شگفتہ کی بابت تھا جس میں ان کی پہلی شادی کے بعد ان کے شوہر جو خود بھی شاعر تھے، کی شاعرہ کے ساتھ کی جانے والی مفروضہ زیادتیوں کی تفصیل نہایت دردمندانہ انداز میں بیان کی گئی تھی۔ میں نے اپنے دوست کو جواب دیا کہ بھائی میں اس سارے واقعے بلکہ واقعات کا عینی شاہد ہوں۔ واقعہ یہ ہے کہ مذکورہ خاتون جو اسی پہ

نیک اختر ۔۔۔۔ تحریر : اطہر ہاشمی

Bhatkallys Other

ہمارے صحافی اور ادیب کسی بھی لفظ کے آگے ’’یت‘‘ (ی ت) بڑھاکر اسم صفت بنالیتے ہیں۔ اس طرف پروفیسر علم الدین نے بھی توجہ دلائی تھی۔ ایک مضمون میں ’’معتبریت‘‘ پڑھا۔ غنیمت ہے کہ اعتباریت نہیں لکھا۔ لیکن اعتبار میں کیا خرابی ہے؟ یا اپنے آپ پر اعتبار نہیں کہ اس طرح ’’معتبریت‘‘ قائم نہیں ہوسکے گی۔ جامعہ کراچی میں اردو کے استاد اور زبان پر دسترس رکھنے والے پروفیسر رؤف پاریکھ ایک اخبار میں زبان کے حوالے سے مضامین بھی لکھ رہے ہیں۔ گزشتہ ایک مضمون میں انہوں نے عام ہوجانے والی کئی اصطلاحوں کی وجۂ تسمیہ بھی

سچی باتیں ۔۔۔دین کے دشمن : تحریر ۔۔۔ مولانا عبد الماجد دریابادی

Bhatkallys Other

دین کے دشمن وَذَرِ الَّذِينَ اتَّخَذُوا دِينَهُمْ لَعِبًا وَلَهْوًا وَغَرَّتْهُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا (انعام ۔ ع ۸) اوران لوگوں کو چھوڑ دیجیے جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنا رکھا ہے اور دنیا کی زندگی نے جنھیں دھوکے میں ڈال رکھاہے۔ مذہب کی سنجیدہ اہمیت آج کن کے دلوں سے جاتی رہی ہے؟ احکام مذہب کے ساتھ ہنسی اور تمسخر آج کن کا شعار ہوگیا ہے؟ فٹ بال اور کرکٹ ،ہاکی اور ٹینیس ،گھوڑ دوڑ اور پو لو ،تھیٹر اور سینما،تاش اور شطرنج سے بھی کم اہمیت ووقعت نمازو روزہ کی کن کی نظرو ں میں رہ گئی ہے ؟