Search results

Search results for ''


ابھی تک تن اردو ہی میں پڑے ہوئے ہو ۔۔۔۔ تحریر : ندیم صدیقی

Bhatkallys Other

جامعہ ملیہ اسلامیہ (دہلی) کے پروفیسر خالد محمود معروف ہی نہیں ایک امتیازی تشخص کے حامل ادیب و شاعر ہیں۔ اخبار کےلئے ان سے ایک گفتگو ہو رہی تھی تو انہوں نے ایک افسوس ناک بات ہمیں سنائی۔ کہنے لگے:’’ جب میں پی ایچ ڈی کر رہا تھا تو میرے کمرے میں اُردو کی کتابیں بکھری ہوئی تھی کہ اسی دوران ہمار ے ہاں ایک بزرگ رشتے دارخاتون کا آنا ہوا، اتفاق سے وہ میرے کمرے میں تشریف لائیں اور جب اُنہوں نے میرے اِرد گرد اُردو کی کتابیں بکھری ہوئی دیکھیں تو اُن کے منہ سے برجستہ جو جملہ نکلا وہ میرے لئے ناقابلِ فراموش

دُکھ سہیں بی فاختہ اور کوّ ے انڈے کھائیں ۔۔۔از:حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

دہلی میں یہ بات عام تھی کہ مسز شیلا دکشت نے پندرہ برس مسلسل اس لئے حکومت کی کہ انہوں نے دلی والوں کو میٹرو کا تحفہ دیا تھا۔ لکھنؤ میں کامیابی کے اس فارمولے کو اگر یہ سن کر ہی اپنایا گیا تو یہ اس لئے غلط ہے کہ لکھنؤ کو دہلی بننے میں ابھی پچاس برس لگیں گے۔ جب کبھی دہلی جانا ہوا تو ہم جیسے لکھنؤ والے کو محسوس ہوا کہ ایک دن میں صرف ایک دوست سے ہی ملا جاسکتا ہے۔ دہلی میں کسی جگہ کے بارے میں یہ کہنا کہ چالیس کلومیٹر ہے ایسا ہی ہے جیسے لکھنؤ میں کوئی کہہ دے کہ دس منٹ کا راستہ ہے۔ دہلی میں ہمارے ایک بیٹ

ٹک ٹک دیدیم ۔۔۔ تحریر : فرزانہ اعجاز

Bhatkallys Other

انسان جب اس دنیا میں آتا ہے تو اسکا ذہن مکمل طور پر ایک سادہ سلیٹ یا ایک سادہ ورق کے مانند ہوتا ہے ۔پھر گزرتا ہوا وقت اس سادہ کاغذ یا سادہ سلیٹ پر حالات اور واقعات کی آڑی ترچھی لکیریں کبھی گہری اور کبھی ہلکی لکیریں اور نقش و نگارکی بہت واضح تصاویر بناتا چلا جاتا ہے ، اکثر یہ لکیریں یا تصویریں دھندھلا جاتی ہیں اور کچھ تا زندگی ایسی واضح اور نمایاں رہتی ہیں کہ ’آج ہی کی بات ‘ محسوس ہوتی ہیں ۔ دوسرے کسی بھی انسان کی طرح ہم بھی سادہ سلیٹ کی طرح اس دنیا میں آۓ ۔ فرق صرف یہی ہے کہ ایک مختلف ماحول میں

سچی باتیں ۔۔۔ عزت کا معیار۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی مرحوم

Bhatkallys Other

کلام مجید ،سورۂ توبہ میں  ایک آیت میں  اُن اہلِ کتاب سے جو اللہ کے دشمن ہیں،جنگ کرنے کا حکم وارد ہوا ہے،اور آیۂ پاک کا خاتمہ ان الفاظ پر ہوا ہے، حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ۔ یہاں  تک کہ وہ جزیہ دینا منظور کریں،اور ذلیل ہوکررہیں،’’صَاغِرُوْن‘‘کے مفہوم میں  وہ لوگ داخل ہیں،جو دب کر،محکوم ہوکر،پست وگمنام ہو کر رہیں۔اس حالت میں  کون لوگ ہیں؟آیۂ کریمہ کے شروع کے الفاظ ہیں:  الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّه

لکیریں کھینچ دینا پھر لکیروں کو مٹا دینا۔۔۔۔ از:حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

ذیقعدہ کے آخری ہفتہ سے یہ فکر روز بروز بڑھ رہی تھی کہ عیدالاضحی کیسے منائی جائے گی؟ حکومت کی طرف سے نہ کوئی بیان تھا اور نہ مسلم تنظیموں کی طرف سے کوئی آواز ہر طرف سکوت اور سناٹا تھا۔ عازمین حج کے معاملہ میں جو حکومت کا رویہ رہا وہ قابل تعریف کہا جائے گا۔ کئی برس سے خادم الحجاج کا مسئلہ اختلاف کی وجہ سے پھنسا ہوا تھا اسے بھی حکومت نے صاف کردیا اور مرکزی حج کمیٹی کا وہی فیصلہ باقی رکھا کہ مسلمان سرکاری ملازم ہی جائیں گے۔ آخر میں اُترپردیش کے خادموں کا مسئلہ اٹک گیا کہ حکومت ان کا خرچ ادا کرے۔ اور

جناب اب کتابیں کون پڑھتا ہے ۔۔۔۔ تحریر : ندیم صدیقی

Bhatkallys Other

غالب اکادیمی(دہلی) کے ایک سمینارسے فارغ ہوکر ہم اسی کے دفتر میں اکادیمی سیکریٹری عقیل صاحب کے ساتھ بیٹھے تھے ، ہم سے پہلے الہ ٰ آباد کے ایک ادیب اور  میرٹھ کے ایک  پروفیسر وہاں سے اٹھ کر گئے تھے۔ کرسی پر ہماری نظر پڑی تو  وہاں ایک کتاب دیکھی جو الہ آباد والے ادیب کی تصنیف تھی  اور میرٹھ کے پروفیسر صاحب کو ہدیہ کی گئی تھی نیچے  الہ آباد والے ادیب کے  دستخط نے  سارا راز کھول دیا۔ ہم نے عقیل صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے عرض کی کہ۔۔۔ ’’ پروفیسر صاحب تو  یہ کتاب یہاں بھول گئے۔ ‘‘ عقیل صاحب نے  پہلے ت

ستمبر 05 :-: اردو کے مایہ ناز ادیب ابو الفضل صدیقی کا یومِ پیدائش ہے

Bhatkallys Other

از: ابوالحسن علی بھٹکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابوالفضل صدیقی اردو زبان کے وہ ممتاز، منفرد اور صاحبِ اسلوب افسانہ نگار ہیں، جن کے ذکر کے بغیر بقول ڈاکٹر جمیل جالبی ’’تاریخِ ادب مکمل نہیں ہو سکتی۔‘‘ ابوالفضل صدیقی نے بڑی فعال، بھرپور، غم و الم، نشیب و فراز، اقبال و زوال سے پُر ایک سچی حقیقی زندگی گزاری۔ انھوں نے زندگی کے تمام رخ اور انداز دیکھے، ہر طرح اور طور سے اسے برتا اور بڑی بالغ نظری سے ان سے سبق حاصل کیا۔ ان کا مشاہدہ گہرا تھا اور قدرت نے انھیں

ستمبر 04:-: عہد حاضر کے سب سے بڑے مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی صاحب کا یومِ پیدائش ہے

Bhatkallys Other

از: ابوالحسن علی بھٹکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مشتاق احمد یوسفی ایک رجحان ساز اور صاحب اسلوب مزاح نگار ہیں، یوسفی صاحب اردو کے مزاحیہ ادب کا ایک ایسا نام ہیں جنھیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ آپ کے بارے میں اگر میں (ناچیز) یہ کہوں کہ آپ مزاح کی امتیازی اور جداگانہ روایت کے موجد بھی ہیں اور آخری رکن بھی۔ انھوں نے بلاشبہ اردو ادب کو مزاح کے میدان میں بے پایاں عزت دی۔ اردو مزاح کا کوئی بھی دور ان کے بغیر ناممکن ہے، یوسفی صاحب اردو زبان وادب کے صف اول کے ادیبوں

ستمبر 04 : ممتاز شاعر غلام محمد قاصر کا یومِ پیدائش ہے

Bhatkallys Other

از: ابوالحسن علی بھٹکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غلام محمد قاصر 4 ستمبر 1941ء کو پہاڑپور، ڈیرہ اسماعیل خان کے مقام پر پیدا ہوئے تھے۔ وہ ایک خوش گو شاعر تھے اور ان کے شعری مجموعے تسلسل، آٹھواں آسمان بھی نیلا ہے اور دریائے گماں اردو کے اہم شعری مجموعوں میں شمار ہوتے ہیں۔ غلام محمد قاصر کی کلیات بھی ’’اک شعر ابھی تک رہتا ہے‘‘ کے نام سے اشاعت پذیر ہوچکی ہے۔انہوں نے پاکستان ٹیلی وژن کے لئے بھی کئی ڈرامے تحریر کئے جو ناظرین میں بے حد مقبول ہوئے۔ 20 فروری 1999

آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا ۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

یہ بات ایک مہینہ پہلے بھی شکایت کے طور پر لکھیم پور سے ہی آئی تھی کہ ایکھ کے کھیتوں میں پالتو گائے، بیل، بھینس، سانڈ دندناتے پھر رہے ہیں اور گنے کی پیڑیوں کو برباد کررہے ہیں۔ کسانوں کی شکایت یہ تھی کہ نیل گائے تو آدمی کو دیکھ کر بھاگ جاتی ہیں لیکن یہ گائیں اور بیل پلے ہوئے ہیں انہیں جب تک نہ مارو یہ کھت نہیں چھوڑتے۔ ان ہی دنوں میں بارہ بنکی کے مشہور گاؤں کھجنہ میں ایک زمین دیکھنے کے لئے میرے بیٹے اور نواسے کو جانا پڑا۔ وہاں بھی دیکھا کہ ہر کھیت کے چاروں طرف بانس گڑے ہیں اور رسیاں بندھی ہیں۔ خیال

اسے پہلے پڑھئے اور فیصلہ کیجئے ۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

میں قارئین کرام سے معافی چاہتا ہوں کہ یہ مضمون کم از کم گذشتہ کل ورنہ اور پہلے لکھنا چاہئے تھا۔ تاخیر صرف اس وجہ سے ہی ہوئی کہ وہ جو لکھنؤ سے لاکھوں روپئے بھیجے گئے تھے اور تاکید کی گئی تھی کہ اس کا سامان خرید کر اس طرح تقسیم کیا جائے کہ ایک بھی بدقسمت بھوکا نہ رہے۔ اس کی تفصیل اب آئی ہے اور درجنوں فوٹوؤں کے ساتھ آئی ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ ان حضرات نے ہم سے زیادہ سلیقہ سے پیکیٹ بنائے جس میں چاول، ستو، تیل، دال، نمک، مرچ اور ضرورت کا صابن، شکر، چائے کی پتی وغیرہ وغیرہ سب رکھا۔ بہار میں پان

سچی باتیں ۔۔۔ بے حیائی کے چرچے ۔۔۔ : تحریر : مولانا عبد الماجد دریابادی مرحوم

Bhatkallys Other

  إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ - وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ وَأَنَّ اللَّهَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ۔َ(نور۔ع۔۱)  جو لوگ یہ چاہتے ہیں  کہ ایمان والوں  میں  بے حیائی کی باتوں  کا چرچا ہوتارہے ،ان کے لیے دردناک عذاب ہے دنیا میں  بھی اور آخرت میں  بھی اور اللہ جانتاہے ،اور تم نہیں  جانتے۔  آیت قرآن کی ہے تفسیر میں  کسی کا اختلاف نہیں ،مفہوم واضح

اگست 31: معروف افسانہ نگار اور شاعرہ امرتا پریتم کا یوم پیدائش ہے 

Bhatkallys Other

از: ابوالحسن علی بھٹکلی اُن کی پیدائش 31 اگست 1919 کی ہےاور جائے پیدائش گوجرانوالہ! تقسیمِ ہند کے بعد انھوں نے دہلی میں سکونت اختیار کر لی لیکن تقسیمِ پنجاب کی خونی لکیر عبور کرنے کا گمبھیر تجربہ ساری عمر ایک ڈراؤنے خواب کی طرح اُن کے تعاقب میں رہا۔بٹوارے کے بطن سے پھوٹنے والی لہو کی ندی پار کرتے ہوئے امرتا پریتم نے اُن ہزاروں معصوم خواتین کی آہ وبکا سُنی جو جُرمِ بےگُناہی کی پاداش میں زندہ درگور کر دی گئی تھیں۔ اس موقع پر امرتا نے وارث شاہ کی دہائی دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’ اے دکھی انسایت کے

کیا حکومت بھی اب عدلیہ کو دے دی جائے۔۔۔از: حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

بابا گرمیت رام رہیم کو اس مقام تک پہونچانے میں سب سے اہم کردار ہریانہ کی سرکاروں کا ہے۔ جب ہائی کورٹ نے اس خط کی بنیاد پر سی بی آئی سے تحقیقات کرانے کا فیصلہ کیا تو اس وقت کے وزیر اعلیٰ اوم پرکاش چوٹالہ نے سختی کے ساتھ مخالفت کی تھی۔ بات وہی ہے کہ ہر کسی کو الیکشن میں کامیابی کے لئے ووٹ چاہئے۔ اور اگر مداری کے پاس بھی پچاس ووٹ ہیں تو وہ قابل احترام ہے۔ گرمیت رام نام کے بنے ہوئے بابا کے ماننے والے کروڑوں ہیں۔ یہ تو معلوم ہے کہ گنا کسی نے نہیں ہے لیکن کوئی پانچ کروڑ بتا رہا تھا کوئی چھ اور سات کرو

اگست 29:  آج ممتاز ادیب اور شاعر شہاب دہلوی کی برسی ہے

Bhatkallys Other

از: ابوالحسن علی بھٹکلی  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شہاب دہلوی ایک نابغہ روزگار مورخ اور با کمال ادیب تھے جو 20 اکتوبر، 1922ء کو دہلی، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام سید مسعود حسن رضوی تھا اور آپ دلی کے معزز علمی و ادبی گھرانے کے چشم و چراغ تھے.آپ کے والد سیّد منظور حسن رضوی شاعری، ادیب اور سلسلہ چشتیہ کی معروف روحانی شخصیت تھے جن کی مشہور تصنیف “حیات اویس” ہے۔ آپ کے تایا سید محمود الحسن اثر کا شمار دلی کے ممتاز شعراء‌اور ادباء میں‌ہوتا تھا.آپ کے دادا سید میر حسن رضوی عظیم شاعر، ادیب اور ص

  اگست 29: اردو شاعری کے صف اول کے مرثیہ گو شاعر مرزا سلامت علی دبیر کا یوم پیدائش ہے

Bhatkallys Other

از: ابوالحسن علی بھٹکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دبیرؔ مرزا سلامت علی ۔ ولادت: 29 اگست 1803ء دہلی ۔ تلمذ: سید مظفر حسین ضمیر ۔ تمام عمر مرثیہ گوئی میں صرف کر دی ۔ وفات 8 مارچ 1875ء لکھنؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خاندانی شاعر نہ تھے۔ لڑکپن میں مرثیہ پڑھتے تھے۔ اس شوق نے منبر کی سیڑھی سے مرثیہ گوئی کے عرش کمال پر پہنچا دیا۔ میر مظفر حسین ضمیر کے شاگرد ہوئے اور کچھ استاد سے پایا ۔ اسے بلند اور روشن کر کے دکھایا۔ تمام عمر میں کسی اتفاقی سبب سے کوئی غزل یا شعر

بھٹکل میں پروان چڑھتاہائی فائی شادی کلچر!۔۔۔۔از: ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ 

Bhatkallys Other

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے........... شہر بھٹکل الحمدللہ ایک زمانے سے غالب اسلامی تشخص والے اپنے مخصوص کلچر اور معاشرے کے لئے معروف رہا ہے۔ اس میں یہاں کی نوائط برادری میں موجود پابندئ صوم وصلوٰۃ، خیر خواہی، ملّی اخوت،علم وآگہی اور شعائر اسلامی سے بے پناہ لگاؤ جیسے اوصاف حمیدہ کا بنیادی کردار ہے۔جس کے اثرات غیر نوائط مسلم برادریوں پر بھی نمایاں ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ عربی النسل ہونے کی وجہ سے نوائط برادری کے نوجوانوں کی فطرت میں پائی جانے والی تجارتی مہم جوئی اوران کا اینٹرپرائزنگ کردارانہیں ہر جگہ

اگست 28: معروف شاعر رگھوپتی سہائے فراقؔ گورکھپوری کی سالگرہ ہے

Bhatkallys Other

از: ابوالحسن علی بھٹکلی رگھوپتی سہائے فراقؔ گورکھپوری فراق گورکھپوری 28 اگست 1896ء بروز جمعہ دن بارہ بجے گورکھپور شہر میں پیدا ہوۓ۔ان کے والد منشی پرشاد عبرتؔ بھی بہت بڑے شاعر تھے ۔ان کے والد نے تین شادیاں کی تھیں فراق گورکھپوری کی والدہ ان کے والد کی تیسری بیوی تھیں ۔ان کے 5 بھائی اور 3 بہنیں تھیں۔فراق گورکھپوری بچپن سے ہی بہت ذہین تھے۔1913ء میں گورنمنٹ جوبلی ہائی سکول گرکھپور سے سیکنڈ ڈویژن میں اسکول لیونگ سرٹیفیکیت کا امتحان پاس کیا۔اور میور سنٹرل کالج الٰہ آباد سے ایف اے میں داخلہ لیا