Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors
Abdul Haleem Mansoor
Abdul Majid Daryabadi
Abdul Mateen Muniri
Abdur Raqeeb M.J Nadwi
Ahmed Hatib Siddiqui
Asif Jilani
Athar Hashmi
Bhatkallys
Dr Badrul Hasan Qasmi
Dr Haneef Shabab
Dr. F Abdur Rahim
Dr. Tahir Masud
Hafiz Naumani
Kaldip Nayar
Masoom Muradabadi
Masud Ahmed Barkati
Mohammed Mateen Khalid
Muhammed Furqan
Nizamuddin Nadwi
Riyazur Rahman Akrami Nadwi
Suhail Anjum
بے جان بولتا ہے مسیحا کے ہاتھ میں۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی
سہارا کے گروپ ایڈیٹر سید فیصل علی نے مودی سرکار کے ایک وزیر اور وہ بھی مسلمان وزیر سے انٹرویو لیتے ہوئے کیسے یہ سمجھ لیا کہ وہ ان سے ان شرمناک واقعات کی تائید کرالیں گے جن کی وجہ سے پوری حکومت مسلمانوں کی نگاہ میں ان کی بدترین مخالف ہے؟ وزیر تو حکومت کا نمائندہ ہوتا ہے ملک میں جہاں کہیں کوئی ایسی بات ہوگی جس سے حکومت کی طرف انگلی اٹھے گی تو وہ اس کی صفائی دینا اپنا فرض سمجھے گا۔ فیصل صاحب یہ کہلانا چاہتے تھے جو نائب صدر حامد انصاری صاحب نے کہا تھا کہ ملک میں فضا ایسی بنتی جارہی ہے کہ مسلمان اپنے
ایردوان اور سیکولرازم۔۔۔۔۔از: ڈاکٹر فرقان حمید
ترکی کے عظیم رہنما رجب طیب ایردوان کے دور سے قبل جب ہم ترکی میں سیکولرازم کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں وہ سیکولرازم مذہب اسلام کےمخالف ہونے کے ساتھ ساتھ یک طرفہ نام نہاد سیکولراز م کے طور پر دکھائی دیتا ہے حالانکہ سیکولرازم کی اصطلاح دینے والوں نے اسے ریاست کے معاملات یا امور میں کسی بھی مذہب کو برتری نہ دینے بلکہ تمام مذاہب کے ساتھ غیر جانبداری سے پیش آنے اور ملکی امور میں کسی ایک مذہب یا فرقے کو دوسرےپر فوقیت نہ دینے سے تعبیر کیا تھا۔ جدید جمہوریہ ترکی کے بانی غازی مصطفیٰ کمال نے بھی جب ملک میں
اگر اب بھی نہ جاگے تو۔۔۔۔از: محمد الیاس ندوی بھٹکلی
(نئی نسل میں ارتداد کا طوفان) (عالم اسلا م کے حالات کے پس منظر میں ایک فکر انگیز تحریر) ہوش اڑادینے والے واقعات :۔ ۱) اسی رمضان المبارک سے قبل شعبان میں کوکن میں جامعہ حسینیہ سری وردھن کے سالانہ جلسہ سے واپس ہوتے ہوئے ایک جگہ ساحلی خطہ میں طالبات کے تقسیمِ انعامات کے پروگرام میں حاضری کے دوران ہمارے دوست مولوی عبدالمطلب صاحب مروڑجنجیرہ نے یہ ہوش اڑادینے والی خبرِ صاعقہ اثر سنائی کہ چندماہ قبل قریب کی بستی میں دو مسلم طالبات نے اسلام کو خیر باد کہہ کر ارتداد کی ظلمتوں میں قدم رکھا،دل دہلادینے وا
کیا کرناٹکامیں لسانی اورصوبائی جنون ،نئے طوفان کا پیش خیمہ ہے ؟!(تیسری اور آخری قسط )۔۔۔از: ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ
آزادی کے بعد کچھ عرصے تک جنوبی ہند میں وقفے وقفے سے ہندی مخالف مظاہرے ہوتے رہے اور پھر بعد میں یہ طوفان کچھ تھم سا گیا تھا۔مگرآج کل ایک بار پھر منافرت اور مخالفت کے اس سمندر میں نئی ہلچل پیداہوگئی ہے ۔ اس کے پیچھے پائے جانے والے بنیادی اسباب کا جائزہ اس مضمون کی سابقہ قسطوں میں لیا جا چکا ہے۔ اب نئے سرے سے اس میں جو اُبال آیا ہوا ہے اس میں مرکزی حکومت کی طرف سے پورے ملک میں ہندی زبان کے نفاذ کے لئے کی جانے والی ایک اور پہل کا بڑا ہاتھ سمجھا جارہا ہے۔جس کے تحت کیندریہ ودیالیہ(KV) اور CBSE سے الحا
حسن شبر محتشم وانیا ۔۔۔ ایک ہنس مکھ اور خوش مزاج قومی کارکن کی جدائی ۔۔۔ تحریر : عبد المتین منیری
ابھی عشاء نماز پڑھ کراپنے فلیٹ لوٹ رہا تھا کہ خبر آئی کہ جناب حسن شبر وانیا صاحب نے اس دار فانی کو خیر باد کہ دیا ہے ، مغرب کے بعد ان کے سینے میں کچھ درد سا محسوس ہوا ، اور اسپتال پہنچتے پہنچتے آخری وقت آپہنچا ، مدت سے شوگر کے مریض تھے ، لیکن کسے معلوم تھا کہ اتنی جلد وہ ہمیں داغ جدائی دے جائیں گے ۔اس دنیا میں آپنے زندگی کی ﴿68﴾ بہاریں دیکھیں ۔ آپ کی حیثیت ایک فرد کی نہیں تھی بلکہ وہ ایک مجلس کے مانند تھے ، ان کی رحلت کی ساتھ مسقط و عمان میں بسنے والے اہل بھٹکل ایک ایسی باغ و بہار شخصیت سے محروم
آنکھ نے جو کچھ کہ دیکھا:ایک تجزیہ ۔۔۔تحریر : ڈاکٹر عباس رضا نیر
محترمہ فرزانہ اعجاز کا شمار ادیبوں کی اس فہرست میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی تصنیف و تالیف سے شہر لکھنو کا نام روشن کیا ہے۔وہ باذوق شاعرہ،افسانہ نگار اور صاحبِ طرز ادیبہ ہیں اور سماجی اور ادبی حلقوں میں کافی معروف و مشہو ر ہیں۔ان کا تعلق لکھنو کے مشہور فرنگی محل خاندان سے ہے۔وہ خاندان جس میں آج سے پچاس برس قبل بھی تعلیم نسواں کا رواج تھا۔علاوہ اس کے گھر کا ماحول بھی بے حد علمی و ادبی تھا۔حیات اللہ انصاری کے خاندان سے تعلق رکھنے والی فرزانہ اعجاز کا بچپن بھی قدآور علمی شخصیات کے درمیان گزرا،یہی وجہ ہ
لال قلعہ سے وزیراعظم کی چوتھی تقریر ۔۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی
15 اگست 2017 ء کو لال قلعہ سے وزیراعظم نریندر مودی کی یہ چوتھی تقریر تھی۔ اور اس کے بعد 15 اگست 2018 ء کو وہ اس پارلیمنٹ کی آخری تقریر کریں گے۔ اس تقریر میں انہیں صرف یہ بتانا تھا کہ گذرے ہوئے تین برسوں میں انہوں نے اور ان کی حکومت نے کس کا کتنا ساتھ دیا اور ملک کا کتنا وکاس کیا؟ اور جن بے روزگار نوجوانوں نے 2014 ء میں ہر قدم پر مودی مودی کے نعرے لگائے تھے اور کسی دوسرے کے منھ سے ایک لفظ بھی سننے کے بجائے بس مودی مودی کے نعرے لگائے تھے ان میں سے کتنوں کو روزگار ملا۔ اور انہوں نے نعرے لگانے چھوڑے
سینٹ جانسن اسکول ۔ لال اسکول ۔۔۔ : از : فرزانہ اعجاز
زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ جب ’اسکول دو طرح کے ہوا کرتے تھے ، ایک تو سرکاری یا غیر سرکاری اسکول یا دوسری طرح کے اسکول جو انگریزی میڈیم اسکول یا ’مشن اسکول ‘ کہلاتے تھے ۔جہاں سینیئر کیمرج اور جویئر کیمرج کے امتحان ہوا کرتے تھے ، جنکی کاپیاں پانی کے جہازوں میں لد لدا کر لندن جاتی تھیں اور مہینوں بعد وہاں سے ’ ، رزلٹ ‘ آتا تھا ،سنتے ہیں کہ کبھی کاپیاں کسی سمندر میں ڈوب جاتی یا مرطوب ہوا کی وجہ سے کاپیوں پر لکھی تحریر مٹ جاتی تھی ،پتہ نہیں سنا تھا ۔ ایسے اسکول جنوری میں اپنا نیا تعلیمی سال شروع کرتے
Keep children away from Blue Whale Challenge
New Delhi: Blue Whale Challenge has claimed several lives across the globe. In the name of a challenge, the deadly game urges children to commit suicide. Those who accept the challenge are encouraged to complete a number of given tasks which get more and more sinister and at the end of the game, the player is forced to take their own life in order to win the game. The Blue Whale suicide game goes by many names including ‘A Silent House,’ ‘A Sea of Whales’ and ‘Wake Me Up At 4:20 am.’ It ta
تبصرہ کتب : محدثین اندلس
نام کتاب :محدثینِ اندلس مصنفہ :ڈاکٹر جمیلہ شوکت پروفیسر امریطس۔ شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ پنجاب۔ لاہور صفحات : 532 قیمت 800 روپے ناشر : یو ایم ٹی پریس۔ پبلشنگ ہاؤس یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی۔ C-11 جوہر ٹاؤن لاہور ای میل : umtpress@umt.edu.pk ویب گاہ : www.umt.edu.pk اندلس یا ہسپانیہ یا اسپین وہ ملک ہے جس پر مسلمانوں نے سیکڑوں سال حکومت کی ہے۔ اب ان کا وجود وہاں مفقود ہے۔ اندلس، یورپ کے جنوب مغرب میں ایک جزیرہ نما ہے جس کے تین طرف سمندر اور ایک طرف خشکی ہے۔ مشرق میں بحیرہ روم
اردو کاجذب اُس کی گیرائی اور سمائی ۔۔۔ تحریر: ندیم صدیقی
ریگل سینما (ممبئی) اور جس سرکل پر میوزیم واقع ہے، عین اُسی کے سامنےسرکاؤس جی جہانگیر ہال ہے ، جو، اب ہماری ناقص معلومات کے مطابق آرٹس گیلری میں تبدیل ہوگیا ہے۔ شاید آج لوگوں کو یہ یقین کرنے میں تردد ہو کہ اسی جہانگیر ہال میں ہم نے اُردو مشاعرہ سنا ہے۔ یومِ ِاقبال کے موقع پر’ اُردو ادب عالیہ‘ کے زیر ِاہتمام جلسہ ومشاعرہ منعقد ہواتھا ۔ اس جلسے کی مسندِ صدارت پر ڈاکٹر ظ انصاری جلوہ افروز تھے تو اسی جلسے میں ہم نے پہلی بار مشہورمراٹھا وِدوان، فارسی کے اسکالر سیتو مادھو راؤ پاگڑی کی تقر
آفت زدہ افرادکی اعانت ہماراانسانی ودینی فریضہ ۔۔۔۔از: مولانااسرارالحق قاسمی
اسلام نے ویسے تو ہمیشہ ہی اپنے بھائیوں،پڑوسیوں اور جس معاشرے میں ہم رہتے ہیں وہاں کے لوگوں کے ساتھ بلاتفریق مذہب و ملت احسان اور اچھے برتاؤ،خیرخواہی و ہمدردی کا حکم دیاہے مگر بعض خاص موقعوں اور ناگہانی حالات میں ہماری یہ ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔قدرت کی جانب سے بعض دفعہ ہماری آزمائش کے لئے اور کبھی کبھی ہماری بداعمالیوں کی وجہ سے بھی مصیبت و آفت کا سامنا کرنا پڑتاہے ،ایسے حالات میں سب سے پہلے توہمیں اپنے روزمرہ کے اعمال اور اپنے کردار و اخلاق کا جائزہ لینا چاہئے کہ ہم بطورمسلمان اپنے دین اور دینی اح
چھلنی بھی بولی جس میں 72 چھید۔۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی
گورکھ پور میڈیکل کالج میں ایک ہفتہ پہلے جو کچھ ہوا اور اس کا سلسلہ برابر جاری ہے اس کے متعلق حکومت اور اپوزیشن وہی کررہی ہیں جو ہمیشہ ہوتا رہا ہے کہ حکومت کہتی ہے کہ اس کی کوئی غلطی نہیں ہے اور حزب مخالف کی ہر پارٹی کا دعویٰ ہے کہ صرف حکومت کی غلطی ہے۔ گورکھ پور کے معاملہ میں ہم جیسوں کا خیال تھا کہ شاید وہ نہ ہو جو ہر حکومت کرتی رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ریاست کے وزیر اعلیٰ کلف دار سفید کرتہ اور دودھ کی طرح سفید دھوتی پہنے ہوئے نہیں ہیں بلکہ وہ کپڑے اور اسی رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے جن کے پہننے ک
فرنگی بیماریاں۔ اطہر ہاشمی
ہمارے ہاں بہت کچھ باہر سے آتا ہے حتیٰ کہ کبھی کبھار وزیراعظم بھی۔ ہمارے اداروں کے نام بھی فرنگی ہیں۔ اور تو اور بیماریاں بھی انگریزی یا لاطینی میں حملہ آور ہوتی ہیں۔ چکن گونیا کا شکار ہوئے تو یہی سوچتے رہے کہ اپنی زبان میں اسے کیا نام دیں۔ لیکن یہی کیا، ڈینگی بخار، یلو فیور، نیگلریا وغیرہ بھی ہیں۔ ملیریا، ٹائیفائیڈ اور نمونیہ تو اپنے ہی سے لگتے ہیں۔ کسی ڈاکٹر سے جاکر کہیں کہ باری کا بخار، یا تپِ محرقہ یا میعادی بخار ہے تو وہ ذہنی حالت پر شک کرے گا۔ ممکن ہے کوئی حکیم صاحب سمجھ لیں کہ یہ ملیریا او
سچی باتیں ، عورت پرستی ۔۔۔ تحریر : مولانا عبد الماجد دریابادی
عورتوں کی آزادی آپ دیکھ رہے ہیں کہ آپ کے دیکھتے دیکھتے کہاں سے کہا ں پہنچی۔ابھی یہی بحث چھڑی ہوئی تھی کہ عورتوں کو تعلیم دینا بھی چاہیے یا نہیں کہ آپ کی قوم کی عورتوں نے تعلیم حاصل کرنی شروع کردی ،اور آپ کے فیصلہ کا انتظار نہیں کیا،زنانہ مدرسے کھل گئے ،زنانہ کالج کھل گئے ،لیڈیز کانفرنس کے اجلاس ہونے لگے ،زنانے رسالے نکلنے لگے ،زنانے اخبار چھپنے لگے ،برقعے اور نقاب رخصت ہونے لگے ،ڈولی اورپالکی کی جگہ ’’عجائب گھر‘‘رہ گئی ،پردہ کلب اور مزید ترقی کر کے بے پردہ کلب کھلنے لگے ،جو بیچاریاں ب
وہ لڑکیاں ۔۔۔ تحریر : فرزانہ اعجاز
ویسے تو وہ عام سی لڑکیاں ہیں ۔اتنی عام کہ ہر گلی ہر محلے اور ہر متوسط گھر میں پائ جاتی تھیں اور اب بھی پائ جاتی ہیں ،میلی کچیلی ۔ننھی منی لڑکیاں جو اکثر اپنی اماں کے ساتھ َسر کھجاتی اور ناک سڑکتی ،اپنی متحیر ملگجی آنکھوں سے اطراف کا حیرانی سے جائزہ لیتی کسی گاؤں یا قصبے سے ۔ گھروں میں وارد ہوا کرتی ہیں ۔ اگر قسمت سے ’اماں ‘ کو نوکری مل گئ تو پھر اماں اس گھر کے ’ بڑے بڑے کام کرتی یعنی جھاڑو برتن یا کھانا پکاتیں اور انکی ننھی منی بچی اپنے ننھے منے ہاتھوں سے ننھا منا کام کرتی ، اماں کی مدد کرتی یا
کیا کرناٹکامیں لسانی اورصوبائی جنون ،نئے طوفان کا پیش خیمہ ہے ؟ (دوسری قسط)۔۔۔از: ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے........... ہندی زبان کو قومی زبان(راشٹر بھاشا) قرار دینے اوراسے پورے ملک میں نافذکرنے کا جو معاملہ ہے وہ ابتدا ہی سے متنازعہ رہا ہے۔1950میںآئین ہند کی منظوری کے ساتھ یہ طے ہواتھا کہ آئندہ 15برسوں تک دستوری طور پر 1965تک ہندی زبان کے ساتھ انگریزی کے لئے بھی سرکاری زبان کا درجہ باقی رکھا جائے گا اورپھر اس کے بعد صرف ہندی کو ہی قومی زبان کا درجہ دیا جائے گا۔اس پالیسی کے تحت سرکاری طورپر ملک بھر میں ہندی لاگو کرنے کے لئے وقتاً فوقتاً مختلف اسکیمیں اپنائی جانے لگیں۔اور غیر ہ
اگر سیکولرازم بچانا ہے تو جے پی کا راستہ اپناؤ۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی
بہار کے گیارہ کروڑ عوام کے ساتھ نتیش کمار نے جو فریب اور غداری کی ہے اس کے خلاف جے ڈی یو کے سابق صدر شرد یادو میدان میں آگئے ہیں۔ نتیش کمار کے ساتھ جو ایم ایل اے ہیں ان میں اکثر سیکولر ذہن کے ہیں جس کا ثبوت یہ ہے کہ وہ اگر کمیونل ہوتے تو بی جے پی کا ٹکٹ لیتے اور اگر نہ ملتا تب بھی اس کا الیکشن لڑاتے۔ ان تمام سیکولر ذہن والوں کو ہمت کرکے باہر آجانا چاہئے اور اگر دوبارہ الیکشن کی نوبت آتی ہے تو یقین ہے کہ وہ اور زیادہ ووٹوں سے کامیاب ہوں گے۔ شرد یادو جو دو بار مسلسل صدر رہے اور یہ کہہ کر تیسری با