Search results

Search results for ''


بے جان بولتا ہے مسیحا کے ہاتھ میں۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

سہارا کے گروپ ایڈیٹر سید فیصل علی نے مودی سرکار کے ایک وزیر اور وہ بھی مسلمان وزیر سے انٹرویو لیتے ہوئے کیسے یہ سمجھ لیا کہ وہ ان سے ان شرمناک واقعات کی تائید کرالیں گے جن کی وجہ سے پوری حکومت مسلمانوں کی نگاہ میں ان کی بدترین مخالف ہے؟ وزیر تو حکومت کا نمائندہ ہوتا ہے ملک میں جہاں کہیں کوئی ایسی بات ہوگی جس سے حکومت کی طرف انگلی اٹھے گی تو وہ اس کی صفائی دینا اپنا فرض سمجھے گا۔ فیصل صاحب یہ کہلانا چاہتے تھے جو نائب صدر حامد انصاری صاحب نے کہا تھا کہ ملک میں فضا ایسی بنتی جارہی ہے کہ مسلمان اپنے

ایردوان اور سیکولرازم۔۔۔۔۔از: ڈاکٹر فرقان حمید

Bhatkallys Other

ترکی کے عظیم رہنما رجب طیب ایردوان کے دور سے قبل جب ہم ترکی میں سیکولرازم کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں وہ سیکولرازم مذہب اسلام کےمخالف ہونے کے ساتھ ساتھ یک طرفہ نام نہاد سیکولراز م کے طور پر دکھائی دیتا ہے حالانکہ سیکولرازم کی اصطلاح دینے والوں نے اسے ریاست کے معاملات یا امور میں کسی بھی مذہب کو برتری نہ دینے بلکہ تمام مذاہب کے ساتھ غیر جانبداری سے پیش آنے اور ملکی امور میں کسی ایک مذہب یا فرقے کو دوسرےپر فوقیت نہ دینے سے تعبیر کیا تھا۔ جدید جمہوریہ ترکی کے بانی غازی مصطفیٰ کمال نے بھی جب ملک میں

اگر اب بھی نہ جاگے تو۔۔۔۔از: محمد الیاس ندوی بھٹکلی

Bhatkallys Other

(نئی نسل میں ارتداد کا طوفان) (عالم اسلا م کے حالات کے پس منظر میں ایک فکر انگیز تحریر) ہوش اڑادینے والے واقعات :۔ ۱) اسی رمضان المبارک سے قبل شعبان میں کوکن میں جامعہ حسینیہ سری وردھن کے سالانہ جلسہ سے واپس ہوتے ہوئے ایک جگہ ساحلی خطہ میں طالبات کے تقسیمِ انعامات کے پروگرام میں حاضری کے دوران ہمارے دوست مولوی عبدالمطلب صاحب مروڑجنجیرہ نے یہ ہوش اڑادینے والی خبرِ صاعقہ اثر سنائی کہ چندماہ قبل قریب کی بستی میں دو مسلم طالبات نے اسلام کو خیر باد کہہ کر ارتداد کی ظلمتوں میں قدم رکھا،دل دہلادینے وا

کیا کرناٹکامیں لسانی اورصوبائی جنون ،نئے طوفان کا پیش خیمہ ہے ؟!(تیسری اور آخری قسط )۔۔۔از: ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ 

Bhatkallys Other

آزادی کے بعد کچھ عرصے تک جنوبی ہند میں وقفے وقفے سے ہندی مخالف مظاہرے ہوتے رہے اور پھر بعد میں یہ طوفان کچھ تھم سا گیا تھا۔مگرآج کل ایک بار پھر منافرت اور مخالفت کے اس سمندر میں نئی ہلچل پیداہوگئی ہے ۔ اس کے پیچھے پائے جانے والے بنیادی اسباب کا جائزہ اس مضمون کی سابقہ قسطوں میں لیا جا چکا ہے۔ اب نئے سرے سے اس میں جو اُبال آیا ہوا ہے اس میں مرکزی حکومت کی طرف سے پورے ملک میں ہندی زبان کے نفاذ کے لئے کی جانے والی ایک اور پہل کا بڑا ہاتھ سمجھا جارہا ہے۔جس کے تحت کیندریہ ودیالیہ(KV) اور CBSE سے الحا

حسن شبر محتشم وانیا ۔۔۔ ایک ہنس مکھ اور خوش مزاج قومی کارکن کی جدائی ۔۔۔ تحریر : عبد المتین منیری

Bhatkallys Other

ابھی عشاء نماز پڑھ کراپنے فلیٹ لوٹ رہا تھا کہ خبر آئی کہ جناب حسن شبر وانیا صاحب نے اس دار فانی کو خیر باد کہ دیا ہے ، مغرب کے بعد ان کے سینے میں کچھ درد سا محسوس ہوا ، اور اسپتال پہنچتے پہنچتے آخری وقت آپہنچا ، مدت سے شوگر کے مریض تھے ، لیکن کسے معلوم تھا کہ اتنی جلد وہ ہمیں داغ جدائی دے جائیں گے ۔اس دنیا میں آپنے زندگی کی ﴿68﴾ بہاریں دیکھیں ۔ آپ کی حیثیت ایک فرد کی نہیں تھی بلکہ وہ ایک مجلس کے مانند تھے ، ان کی رحلت کی ساتھ مسقط و عمان میں بسنے والے اہل بھٹکل ایک ایسی باغ و بہار شخصیت سے محروم

آنکھ نے جو کچھ کہ دیکھا:ایک تجزیہ ۔۔۔تحریر : ڈاکٹر عباس رضا نیر

Bhatkallys Other

محترمہ فرزانہ اعجاز کا شمار ادیبوں کی اس فہرست میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی تصنیف و تالیف سے شہر لکھنو کا نام روشن کیا ہے۔وہ باذوق شاعرہ،افسانہ نگار اور صاحبِ طرز ادیبہ ہیں اور سماجی اور ادبی حلقوں میں کافی معروف و مشہو ر ہیں۔ان کا تعلق لکھنو کے مشہور فرنگی محل خاندان سے ہے۔وہ خاندان جس میں آج سے پچاس برس قبل بھی تعلیم نسواں کا رواج تھا۔علاوہ اس کے گھر کا ماحول بھی بے حد علمی و ادبی تھا۔حیات اللہ انصاری کے خاندان سے تعلق رکھنے والی فرزانہ اعجاز کا بچپن بھی قدآور علمی شخصیات کے درمیان گزرا،یہی وجہ ہ

لال قلعہ سے وزیراعظم کی چوتھی تقریر ۔۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

15 اگست 2017 ء کو لال قلعہ سے وزیراعظم نریندر مودی کی یہ چوتھی تقریر تھی۔ اور اس کے بعد 15 اگست 2018 ء کو وہ اس پارلیمنٹ کی آخری تقریر کریں گے۔ اس تقریر میں انہیں صرف یہ بتانا تھا کہ گذرے ہوئے تین برسوں میں انہوں نے اور ان کی حکومت نے کس کا کتنا ساتھ دیا اور ملک کا کتنا وکاس کیا؟ اور جن بے روزگار نوجوانوں نے 2014 ء میں ہر قدم پر مودی مودی کے نعرے لگائے تھے اور کسی دوسرے کے منھ سے ایک لفظ بھی سننے کے بجائے بس مودی مودی کے نعرے لگائے تھے ان میں سے کتنوں کو روزگار ملا۔ اور انہوں نے نعرے لگانے چھوڑے

سینٹ جانسن اسکول ۔ لال اسکول ۔۔۔ : از : فرزانہ اعجاز

Bhatkallys Other

زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ جب ’اسکول دو طرح کے ہوا کرتے تھے ، ایک تو سرکاری یا غیر سرکاری اسکول یا دوسری طرح کے اسکول جو انگریزی میڈیم اسکول یا ’مشن اسکول ‘ کہلاتے تھے ۔جہاں سینیئر کیمرج اور جویئر کیمرج کے امتحان ہوا کرتے تھے ، جنکی کاپیاں پانی کے جہازوں میں لد لدا کر لندن جاتی تھیں اور مہینوں بعد وہاں سے ’ ، رزلٹ ‘ آتا تھا ،سنتے ہیں کہ کبھی کاپیاں کسی  سمندر میں ڈوب جاتی یا مرطوب ہوا کی وجہ سے کاپیوں پر لکھی تحریر مٹ جاتی تھی ،پتہ نہیں سنا تھا ۔ ایسے اسکول جنوری میں اپنا نیا تعلیمی سال شروع کرتے

Keep children away from Blue Whale Challenge

Bhatkallys Other

New Delhi: Blue Whale Challenge has claimed several lives across the globe. In the name of a challenge, the deadly game urges children to commit suicide. Those who accept the challenge are encouraged to complete a number of given tasks which get more and more sinister and at the end of the game, the player is forced to take their own life in order to win the game. The Blue Whale suicide game goes by many names including ‘A Silent House,’ ‘A Sea of Whales’ and ‘Wake Me Up At 4:20 am.’ It ta

تبصرہ کتب : محدثین اندلس

Bhatkallys Other

 نام کتاب :محدثینِ اندلس مصنفہ :ڈاکٹر جمیلہ شوکت پروفیسر امریطس۔ شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ پنجاب۔ لاہور صفحات : 532   قیمت 800 روپے  ناشر : یو ایم ٹی پریس۔ پبلشنگ ہاؤس یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی۔ C-11 جوہر ٹاؤن لاہور ای میل : umtpress@umt.edu.pk  ویب گاہ : www.umt.edu.pk اندلس یا ہسپانیہ یا اسپین وہ ملک ہے جس پر مسلمانوں نے سیکڑوں سال حکومت کی ہے۔ اب ان کا وجود وہاں مفقود ہے۔ اندلس، یورپ کے جنوب مغرب میں ایک جزیرہ نما ہے جس کے تین طرف سمندر اور ایک طرف خشکی ہے۔ مشرق میں بحیرہ روم

اردو کاجذب اُس کی گیرائی اور سمائی ۔۔۔ تحریر: ندیم صدیقی

Bhatkallys Other

  ریگل سینما  (ممبئی)  اور جس سرکل پر میوزیم واقع ہے، عین اُسی کے سامنےسرکاؤس جی جہانگیر ہال ہے ، جو، اب ہماری ناقص معلومات کے مطابق آرٹس گیلری میں تبدیل ہوگیا ہے۔ شاید آج لوگوں کو یہ یقین کرنے میں تردد ہو کہ اسی جہانگیر ہال میں ہم نے اُردو مشاعرہ سنا ہے۔  یومِ ِاقبال کے موقع پر’ اُردو ادب عالیہ‘ کے زیر ِاہتمام جلسہ  ومشاعرہ منعقد ہواتھا ۔ اس جلسے کی مسندِ صدارت پر ڈاکٹر ظ انصاری جلوہ افروز تھے تو اسی  جلسے میں ہم نے پہلی  بار مشہورمراٹھا  وِدوان، فارسی کے اسکالر سیتو  مادھو راؤ پاگڑی کی تقر

آفت زدہ افرادکی اعانت ہماراانسانی ودینی فریضہ ۔۔۔۔از:  مولانااسرارالحق قاسمی

Bhatkallys Other

اسلام نے ویسے تو ہمیشہ ہی اپنے بھائیوں،پڑوسیوں اور جس معاشرے میں ہم رہتے ہیں وہاں کے لوگوں کے ساتھ بلاتفریق مذہب و ملت احسان اور اچھے برتاؤ،خیرخواہی و ہمدردی کا حکم دیاہے مگر بعض خاص موقعوں اور ناگہانی حالات میں ہماری یہ ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔قدرت کی جانب سے بعض دفعہ ہماری آزمائش کے لئے اور کبھی کبھی ہماری بداعمالیوں کی وجہ سے بھی مصیبت و آفت کا سامنا کرنا پڑتاہے ،ایسے حالات میں سب سے پہلے توہمیں اپنے روزمرہ کے اعمال اور اپنے کردار و اخلاق کا جائزہ لینا چاہئے کہ ہم بطورمسلمان اپنے دین اور دینی اح

چھلنی بھی بولی جس میں 72 چھید۔۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

گورکھ پور میڈیکل کالج میں ایک ہفتہ پہلے جو کچھ ہوا اور اس کا سلسلہ برابر جاری ہے اس کے متعلق حکومت اور اپوزیشن وہی کررہی ہیں جو ہمیشہ ہوتا رہا ہے کہ حکومت کہتی ہے کہ اس کی کوئی غلطی نہیں ہے اور حزب مخالف کی ہر پارٹی کا دعویٰ ہے کہ صرف حکومت کی غلطی ہے۔ گورکھ پور کے معاملہ میں ہم جیسوں کا خیال تھا کہ شاید وہ نہ ہو جو ہر حکومت کرتی رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ریاست کے وزیر اعلیٰ کلف دار سفید کرتہ اور دودھ کی طرح سفید دھوتی پہنے ہوئے نہیں ہیں بلکہ وہ کپڑے اور اسی رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے جن کے پہننے ک

فرنگی بیماریاں۔ اطہر ہاشمی

Bhatkallys Other

ہمارے ہاں بہت کچھ باہر سے آتا ہے حتیٰ کہ کبھی کبھار وزیراعظم بھی۔ ہمارے اداروں کے نام بھی فرنگی ہیں۔ اور تو اور بیماریاں بھی انگریزی یا لاطینی میں حملہ آور ہوتی ہیں۔ چکن گونیا کا شکار ہوئے تو یہی سوچتے رہے کہ اپنی زبان میں اسے کیا نام دیں۔ لیکن یہی کیا، ڈینگی بخار، یلو فیور، نیگلریا وغیرہ بھی ہیں۔ ملیریا، ٹائیفائیڈ اور نمونیہ تو اپنے ہی سے لگتے ہیں۔ کسی ڈاکٹر سے جاکر کہیں کہ باری کا بخار، یا تپِ محرقہ یا میعادی بخار ہے تو وہ ذہنی حالت پر شک کرے گا۔ ممکن ہے کوئی حکیم صاحب سمجھ لیں کہ یہ ملیریا او

سچی باتیں ، عورت پرستی ۔۔۔ تحریر : مولانا عبد الماجد دریابادی

Bhatkallys Other

  عورتوں  کی آزادی آپ دیکھ رہے ہیں  کہ آپ کے دیکھتے دیکھتے کہاں  سے کہا ں  پہنچی۔ابھی یہی بحث چھڑی ہوئی تھی کہ عورتوں  کو تعلیم دینا بھی چاہیے یا نہیں  کہ آپ کی قوم کی عورتوں  نے تعلیم حاصل کرنی شروع کردی ،اور آپ کے فیصلہ کا انتظار نہیں  کیا،زنانہ مدرسے کھل گئے ،زنانہ کالج کھل گئے ،لیڈیز کانفرنس کے اجلاس ہونے لگے ،زنانے رسالے نکلنے لگے ،زنانے اخبار چھپنے لگے ،برقعے اور نقاب رخصت ہونے لگے ،ڈولی اورپالکی کی جگہ ’’عجائب گھر‘‘رہ گئی ،پردہ کلب اور مزید ترقی کر کے بے پردہ کلب کھلنے لگے ،جو بیچاریاں  ب

وہ لڑکیاں ۔۔۔ تحریر : فرزانہ اعجاز

Bhatkallys Other

ویسے تو وہ عام سی لڑکیاں ہیں ۔اتنی عام کہ ہر گلی ہر محلے اور ہر متوسط گھر میں پائ جاتی تھیں اور اب بھی پائ جاتی ہیں ،میلی کچیلی ۔ننھی منی لڑکیاں جو اکثر اپنی اماں کے ساتھ َسر کھجاتی اور ناک سڑکتی ،اپنی متحیر ملگجی آنکھوں سے اطراف کا حیرانی سے جائزہ لیتی کسی گاؤں یا قصبے سے ۔ گھروں میں وارد ہوا کرتی ہیں ۔ اگر قسمت سے ’اماں ‘ کو نوکری مل گئ تو پھر اماں اس گھر کے ’ بڑے بڑے کام کرتی یعنی جھاڑو برتن یا کھانا پکاتیں اور انکی ننھی منی بچی اپنے ننھے منے ہاتھوں سے ننھا منا کام کرتی ، اماں کی مدد کرتی یا

کیا کرناٹکامیں لسانی اورصوبائی جنون ،نئے طوفان کا پیش خیمہ ہے ؟ (دوسری قسط)۔۔۔از: ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ 

Bhatkallys Other

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے...........  ہندی زبان کو قومی زبان(راشٹر بھاشا) قرار دینے اوراسے پورے ملک میں نافذکرنے کا جو معاملہ ہے وہ ابتدا ہی سے متنازعہ رہا ہے۔1950میںآئین ہند کی منظوری کے ساتھ یہ طے ہواتھا کہ آئندہ 15برسوں تک دستوری طور پر 1965تک ہندی زبان کے ساتھ انگریزی کے لئے بھی سرکاری زبان کا درجہ باقی رکھا جائے گا اورپھر اس کے بعد صرف ہندی کو ہی قومی زبان کا درجہ دیا جائے گا۔اس پالیسی کے تحت سرکاری طورپر ملک بھر میں ہندی لاگو کرنے کے لئے وقتاً فوقتاً مختلف اسکیمیں اپنائی جانے لگیں۔اور غیر ہ

اگر سیکولرازم بچانا ہے تو جے پی کا راستہ اپناؤ۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

بہار کے گیارہ کروڑ عوام کے ساتھ نتیش کمار نے جو فریب اور غداری کی ہے اس کے خلاف جے ڈی یو کے سابق صدر شرد یادو میدان میں آگئے ہیں۔ نتیش کمار کے ساتھ جو ایم ایل اے ہیں ان میں اکثر سیکولر ذہن کے ہیں جس کا ثبوت یہ ہے کہ وہ اگر کمیونل ہوتے تو بی جے پی کا ٹکٹ لیتے اور اگر نہ ملتا تب بھی اس کا الیکشن لڑاتے۔ ان تمام سیکولر ذہن والوں کو ہمت کرکے باہر آجانا چاہئے اور اگر دوبارہ الیکشن کی نوبت آتی ہے تو یقین ہے کہ وہ اور زیادہ ووٹوں سے کامیاب ہوں گے۔ شرد یادو جو دو بار مسلسل صدر رہے اور یہ کہہ کر تیسری با