Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors
Abdul Haleem Mansoor
Abdul Majid Daryabadi
Abdul Mateen Muniri
Abdur Raqeeb M.J Nadwi
Ahmed Hatib Siddiqui
Asif Jilani
Athar Hashmi
Bhatkallys
Dr Badrul Hasan Qasmi
Dr Haneef Shabab
Dr. F Abdur Rahim
Dr. Tahir Masud
Hafiz Naumani
Kaldip Nayar
Masoom Muradabadi
Masud Ahmed Barkati
Mohammed Mateen Khalid
Muhammed Furqan
Nizamuddin Nadwi
Riyazur Rahman Akrami Nadwi
Suhail Anjum
آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا ۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی
یہ بات ایک مہینہ پہلے بھی شکایت کے طور پر لکھیم پور سے ہی آئی تھی کہ ایکھ کے کھیتوں میں پالتو گائے، بیل، بھینس، سانڈ دندناتے پھر رہے ہیں اور گنے کی پیڑیوں کو برباد کررہے ہیں۔ کسانوں کی شکایت یہ تھی کہ نیل گائے تو آدمی کو دیکھ کر بھاگ جاتی ہیں لیکن یہ گائیں اور بیل پلے ہوئے ہیں انہیں جب تک نہ مارو یہ کھت نہیں چھوڑتے۔ ان ہی دنوں میں بارہ بنکی کے مشہور گاؤں کھجنہ میں ایک زمین دیکھنے کے لئے میرے بیٹے اور نواسے کو جانا پڑا۔ وہاں بھی دیکھا کہ ہر کھیت کے چاروں طرف بانس گڑے ہیں اور رسیاں بندھی ہیں۔ خیال
اسے پہلے پڑھئے اور فیصلہ کیجئے ۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی
میں قارئین کرام سے معافی چاہتا ہوں کہ یہ مضمون کم از کم گذشتہ کل ورنہ اور پہلے لکھنا چاہئے تھا۔ تاخیر صرف اس وجہ سے ہی ہوئی کہ وہ جو لکھنؤ سے لاکھوں روپئے بھیجے گئے تھے اور تاکید کی گئی تھی کہ اس کا سامان خرید کر اس طرح تقسیم کیا جائے کہ ایک بھی بدقسمت بھوکا نہ رہے۔ اس کی تفصیل اب آئی ہے اور درجنوں فوٹوؤں کے ساتھ آئی ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ ان حضرات نے ہم سے زیادہ سلیقہ سے پیکیٹ بنائے جس میں چاول، ستو، تیل، دال، نمک، مرچ اور ضرورت کا صابن، شکر، چائے کی پتی وغیرہ وغیرہ سب رکھا۔ بہار میں پان
سچی باتیں ۔۔۔ بے حیائی کے چرچے ۔۔۔ : تحریر : مولانا عبد الماجد دریابادی مرحوم
إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ - وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ وَأَنَّ اللَّهَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ۔َ(نور۔ع۔۱) جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں بے حیائی کی باتوں کا چرچا ہوتارہے ،ان کے لیے دردناک عذاب ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور اللہ جانتاہے ،اور تم نہیں جانتے۔ آیت قرآن کی ہے تفسیر میں کسی کا اختلاف نہیں ،مفہوم واضح
اگست 31: معروف افسانہ نگار اور شاعرہ امرتا پریتم کا یوم پیدائش ہے
از: ابوالحسن علی بھٹکلی اُن کی پیدائش 31 اگست 1919 کی ہےاور جائے پیدائش گوجرانوالہ! تقسیمِ ہند کے بعد انھوں نے دہلی میں سکونت اختیار کر لی لیکن تقسیمِ پنجاب کی خونی لکیر عبور کرنے کا گمبھیر تجربہ ساری عمر ایک ڈراؤنے خواب کی طرح اُن کے تعاقب میں رہا۔بٹوارے کے بطن سے پھوٹنے والی لہو کی ندی پار کرتے ہوئے امرتا پریتم نے اُن ہزاروں معصوم خواتین کی آہ وبکا سُنی جو جُرمِ بےگُناہی کی پاداش میں زندہ درگور کر دی گئی تھیں۔ اس موقع پر امرتا نے وارث شاہ کی دہائی دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’ اے دکھی انسایت کے
کیا حکومت بھی اب عدلیہ کو دے دی جائے۔۔۔از: حفیظ نعمانی
بابا گرمیت رام رہیم کو اس مقام تک پہونچانے میں سب سے اہم کردار ہریانہ کی سرکاروں کا ہے۔ جب ہائی کورٹ نے اس خط کی بنیاد پر سی بی آئی سے تحقیقات کرانے کا فیصلہ کیا تو اس وقت کے وزیر اعلیٰ اوم پرکاش چوٹالہ نے سختی کے ساتھ مخالفت کی تھی۔ بات وہی ہے کہ ہر کسی کو الیکشن میں کامیابی کے لئے ووٹ چاہئے۔ اور اگر مداری کے پاس بھی پچاس ووٹ ہیں تو وہ قابل احترام ہے۔ گرمیت رام نام کے بنے ہوئے بابا کے ماننے والے کروڑوں ہیں۔ یہ تو معلوم ہے کہ گنا کسی نے نہیں ہے لیکن کوئی پانچ کروڑ بتا رہا تھا کوئی چھ اور سات کرو
اگست 29: آج ممتاز ادیب اور شاعر شہاب دہلوی کی برسی ہے
از: ابوالحسن علی بھٹکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شہاب دہلوی ایک نابغہ روزگار مورخ اور با کمال ادیب تھے جو 20 اکتوبر، 1922ء کو دہلی، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام سید مسعود حسن رضوی تھا اور آپ دلی کے معزز علمی و ادبی گھرانے کے چشم و چراغ تھے.آپ کے والد سیّد منظور حسن رضوی شاعری، ادیب اور سلسلہ چشتیہ کی معروف روحانی شخصیت تھے جن کی مشہور تصنیف “حیات اویس” ہے۔ آپ کے تایا سید محمود الحسن اثر کا شمار دلی کے ممتاز شعراءاور ادباء میںہوتا تھا.آپ کے دادا سید میر حسن رضوی عظیم شاعر، ادیب اور ص
اگست 29: اردو شاعری کے صف اول کے مرثیہ گو شاعر مرزا سلامت علی دبیر کا یوم پیدائش ہے
از: ابوالحسن علی بھٹکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دبیرؔ مرزا سلامت علی ۔ ولادت: 29 اگست 1803ء دہلی ۔ تلمذ: سید مظفر حسین ضمیر ۔ تمام عمر مرثیہ گوئی میں صرف کر دی ۔ وفات 8 مارچ 1875ء لکھنؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خاندانی شاعر نہ تھے۔ لڑکپن میں مرثیہ پڑھتے تھے۔ اس شوق نے منبر کی سیڑھی سے مرثیہ گوئی کے عرش کمال پر پہنچا دیا۔ میر مظفر حسین ضمیر کے شاگرد ہوئے اور کچھ استاد سے پایا ۔ اسے بلند اور روشن کر کے دکھایا۔ تمام عمر میں کسی اتفاقی سبب سے کوئی غزل یا شعر
بھٹکل میں پروان چڑھتاہائی فائی شادی کلچر!۔۔۔۔از: ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے........... شہر بھٹکل الحمدللہ ایک زمانے سے غالب اسلامی تشخص والے اپنے مخصوص کلچر اور معاشرے کے لئے معروف رہا ہے۔ اس میں یہاں کی نوائط برادری میں موجود پابندئ صوم وصلوٰۃ، خیر خواہی، ملّی اخوت،علم وآگہی اور شعائر اسلامی سے بے پناہ لگاؤ جیسے اوصاف حمیدہ کا بنیادی کردار ہے۔جس کے اثرات غیر نوائط مسلم برادریوں پر بھی نمایاں ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ عربی النسل ہونے کی وجہ سے نوائط برادری کے نوجوانوں کی فطرت میں پائی جانے والی تجارتی مہم جوئی اوران کا اینٹرپرائزنگ کردارانہیں ہر جگہ
اگست 28: معروف شاعر رگھوپتی سہائے فراقؔ گورکھپوری کی سالگرہ ہے
از: ابوالحسن علی بھٹکلی رگھوپتی سہائے فراقؔ گورکھپوری فراق گورکھپوری 28 اگست 1896ء بروز جمعہ دن بارہ بجے گورکھپور شہر میں پیدا ہوۓ۔ان کے والد منشی پرشاد عبرتؔ بھی بہت بڑے شاعر تھے ۔ان کے والد نے تین شادیاں کی تھیں فراق گورکھپوری کی والدہ ان کے والد کی تیسری بیوی تھیں ۔ان کے 5 بھائی اور 3 بہنیں تھیں۔فراق گورکھپوری بچپن سے ہی بہت ذہین تھے۔1913ء میں گورنمنٹ جوبلی ہائی سکول گرکھپور سے سیکنڈ ڈویژن میں اسکول لیونگ سرٹیفیکیت کا امتحان پاس کیا۔اور میور سنٹرل کالج الٰہ آباد سے ایف اے میں داخلہ لیا
رام رحیم نہیں ہوسکتے اور رحیم رام نہیں۔۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی
بابا گرمیت رام رحیم کہے جانے والے کو اُن کے ڈیرہ سچا سودا میں 15 برس پہلے کے ایک جرم میں سی بی آئی نے ملوث پایا اور خصوصی عدالت نے دفعہ 376 کا ملزم مان لیا جس کی سزا 28 اگست کو سنائی جائے گی۔ بابا سے اندھی عقیدت رکھنے والوں کو اندازہ ہوگیا تھا کہ 25 اگست کو جو فیصلہ ہوگا اس میں بابا بے قصور ثابت نہیں ہوں گے۔ وہ رفتہ رفتہ 22 اگست سے ڈیرہ کے علاقہ میں جمع ہورہے تھے اور ہریانہ حکومت دیکھ رہی تھی اور سمجھ رہی تھی کہ اگر بابا کو سزا ہوگئی تو بابا کے ماننے والے کیا کریں گے؟ لیکن ہریانہ میں وزیراعلیٰ
اگست 26 : کو ممتاز شاعر " غم کے شاعر" فانی بدایونی کا یومِ پیدائش ہے
از: ابوالحسن علی بھٹکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مختصر تعارف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اصل نام شوکت علی والد کا نام محمد شجاعت علی خاں مقام ولادت: قصبہ اسلام نگر ضلع بدایوں ۔ تاریخ ولادت : 13 ستمبر 1879ء ۔ درس و تدریس کی بسم اللہ پانچ برس کی عمر میں ہوئی اور 1892ء تک تعلیم قدیم کے اصول پر عربی،فارسی کے میدان میں تحصیل علم کرتے رہے۔ 1901ء میں بی اے کا ڈپلوما لیا ۔او 1908ء میں وکالت ہائی کورٹ کے ساتھ ایل ایل بی کی ڈگری لی ۔ انٹرنس کی سند گورنمنٹ سکول بدایوں سے اور ایف اے اور بی اے ک
تلوار ڈاکٹر کفیل پر کیوں؟۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی
اپنے وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے جب ملک میں ایمرجنسی لگائی تھی تو تمام مخالف سیاسی پارٹیوں کو غیرقانونی قرار دے دیا تھا اور اس کے عہدیداروں اور کارکنوں کو جیل میں ڈال دیا تھا۔ یہ اتفاق تھا کہ ان میں کوئی مسلمانوں کی جماعت نہیں تھی۔ جنوبی ہند کے کیرالہ میں مسلم لیگ تھی مگر جنوبی ہند میں اندرا گاندھی کے خلاف کوئی تحریک نہیں تھی۔ شمالی ہند میں جمعیۃ علماء تھی وہ ہمیشہ سے کانگریس کے ساتھ رہی تھی۔ لے دے کر جماعت اسلامی تھی جس کا پاکستانی یونٹ تو سیاست میں حصہ لیتا تھا لیکن جماعت اسلامی ہند دور د
جس کا دم گھٹے وہ چلی جائے۔۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی
یہ کیسی عجیب بات ہے کہ دین اور شریعت کی تعلیم کم از کم آٹھ سال حاصل کرنے کے بعد عالم دین بنتا ہے۔ اور پھر دن رات اسی میں مصروف رہنے کے بعد اسے یہ مقام حاصل ہوتا ہے کہ وہ بتائے کہ اس معاملہ میں شریعت کیا کہتی ہے اور مسلمان وہ مرد ہو یا عورت اُسے کیا کرنا چاہئے۔ لیکن اسلام کے ساتھ اس کے ماننے والوں نے ہی یہ مذاق کرنا شروع کردیا ہے کہ جس نے عربی کے علاوہ کسی زبان میں دین کی دو چار کتابیں پڑھ لیں یا قرآن عظیم کا ترجمہ پڑھ لیا اس نے گز بھر کی زبان نکال کر شرعی معاملات میں فیصلہ دینا شروع کردیا۔ اور س
ورنہ خدا جانے کیا ہوتا۔۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی
کھتولی ریل حادثہ ایک سیدھا اور صاف حادثہ ہے جس کے بارے میں کہا گیا کہ ریلوے کے اعلیٰ افسران سے لے کر ٹریک کی مرمت کرنے والے مستریوں اور مزدوروں میں کوئی رابطہ نہیں تھا اور جسے پربھو بھروسے کا عنوان دیا گیا تھا۔ ملک اور خاص طور پر اُترپردیش میں جو فتنہ پرداز اور مسلمانوں کی طرف سے کینہ رکھنے والے ایک طبقہ اور میڈیا کے بعض چینلوں کو اس وقت تک مزہ نہیں آتا جب تک اس میں دہشت گردی یعنی انڈین مجاہدین یا داؤد ابراہیم کا ہاتھ نظر نہ آئے۔ اور انہوں نے کہنا شروع کردیا کہ بہرحال دہشت گردی کے ہاتھ کو بھی نظ
نوچی کا بھونڈا استعمال--- تحریر : اطہر ہاشمی
جسارت کے ایک بہت مقبول اور قارئین کے پسندیدہ کالم نگار، ادیب وشاعر ’’بالخصوص‘‘ کو عموماً باالخصوص لکھتے ہیں، یعنی ایک الف کا اضافہ کردیتے ہیں۔ لیکن اس سے تلفظ بھی بگڑ جاتا ہے اور با۔الخصوص ہوجاتا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے بالکل میں بھی ایک الف بڑھا دیا جائے۔ اب تو کچھ لوگوں کو بالکل میں ایک الف بھی گوارہ نہیں اور ان کی دلیل ہے کہ جیسے بولا جاتا ہے ویسے ہی لکھنا چاہیے۔ ہمارے یہ لسانی دانشور اس اصول کا اطلاق انگریزی پر نہیں کرتے، مثلاً نالج کے شروع میں یہ جو فضول سا K ہے اسے نہ لکھا کریں۔ انگریزی میں
اگست 25: ممتاز شاعر احمد فرازؔ کی برسی ہے
از: ابوالحسن علی بھٹکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احمد فراز کی پیدائش 12/جنوری سنہ1931 کو نوشہرہ 'صوبہ سرحد' میں ہوئی تھی۔ ان کے والد برق کوہاٹی بھی اپنے عہد کے ایک نامور شاعر تھے۔ پاکستان کے صوبہ سرحد میں فارغ بخاری، رضا ہمدانی، خاطر غزنوی اور محسن احسان کے ساتھ برق کوہاٹی کا نام بھی لیا جاتا ہے۔ اسی طرح احمد فراز اردو شاعری کا ایک معتبر نام ہے اور ان کی غزلوں کا ایک بڑا سرمایہ آنے والے عہد میں بھی اردو شائقین کو مالامال کرتا رہے گا۔ ان کی شاعری کا خمیر
اگست 25: کو ماہرِ لسانیات، صحافی، مرثیہ گو اور اردو کے نامور شاعر نسیم امروہوی کا یومِ پیدائش ہے
از: ابوالحسن علی بھٹکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نام: سید قائم رضا تخلص:1964 تک قائمؔ اس کے بعد نسیمؔ والد کا نام سید برجیس حسین برجیسؔ ۔جد علی ۔ سید حیدر حسین یکتاؔ جن سے شعر و سخن کا سلسلہ شروع ہوا والدہ سیدہ تقوی۔ پیدائش 24 اگست 1908ء وقت اذان صبح شدید برسات مقام امروہی ضلع مراد آباد،یوپی بھارت۔ کتابی تعلیم کا آغاز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 21 دسمبر 1911ء عمر ساڑھے تین سال ختم قرآن و ابتدائی اردو۔12 جون 1914ء جمعرات عمر 6 سال آغاز شعر گوئی۔ تعلیم الٰہ آباد بورڈ سے منشی
سچی باتیں ،مالک الملک ۔۔۔۔ تحریر :مولانا عبد الماجد دریابادی علیہ الرحمۃ
مئی 28 کو بمبئی کے ایک ریلوے اسٹیشن پر ایک اسپیشل ٹرین آکر رکی ،یہ اسپیشل امیر امان اللہ خان سابق تاجدار افغانستان کی تھی ،ڈیڑھ سال پیشتر بھی انھیں شاہ افغانستان کا دورہ بمبئی میں ہوا تھا اس وقت سارا شہر ان کی زیارت کا مشتاق ہو کر امنڈ آیا تھا تو پوں کی سلامی سر ہوئی تھی گارڈ آف آنر پیشوائی کو حاضر تھا ،صوبہ بمبئی کا گورنر ادنیٰ خدمت گزارکی حیثیت سے موجود تھا اور وائسرائے کو اگر باموقع بخار نہ آگیا ہوتا تو خود انھیں کو حاضر ہونا تھا آج نہ توپوں کی سلامی تھی ،نہ گارڈ آف آنر کی سلامی تھی ،ن