Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors
Abdul Haleem Mansoor
Abdul Majid Daryabadi
Abdul Mateen Muniri
Abdur Raqeeb M.J Nadwi
Ahmed Hatib Siddiqui
Asif Jilani
Athar Hashmi
Bhatkallys
Dr Badrul Hasan Qasmi
Dr. F Abdur Rahim
Dr Haneef Shabab
Dr. Tahir Masud
Hafiz Naumani
Kaldip Nayar
Masoom Muradabadi
Masud Ahmed Barkati
Mohammed Mateen Khalid
Muhammed Furqan
Nizamuddin Nadwi
Riyazur Rahman Akrami Nadwi
Suhail Anjum
یکم نومبر: جدید شاعری کے پیش رو معروف اصلاح پسند بچوں کے شاعر اسمٰعیل میرٹھی کا یومِ وفات ھے
از: ابوالحسن علی بھٹکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تاریخ پیدائش : 12 نومبر 1844ء تاریخ وفات : 01 نومبر 1917 ء مولانا اسمٰعیل میرٹھی،12نومبر 1844 عیسوی کو میرٹھ میں پیدا ہوئے۔ اب یہ محلہ اسمٰعیل نگر کے نام سے موسوم ہے۔ آپ کے والد کا نام شیخ پیر بخش تھا اور یہی آپکے پہلے استاد بھی تھے۔ اس دور کے رواج کے مطابق مولانا نے ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی ۔ پہلے فارسی اور پھر دس برس کی عمر میں ناظرہ قرآن مجید کی تعلیم مکمل کی۔1857 کی جنگِ آزادی کی تحریک کے وقت 1
کل 31 اکتوبر خوبصورت لب و لہجے کے معروف شاعر وفا حجازی کا یومِ وفات ہے
------------------------------------------------------------- سال پیدائش ۔ امرتسر ۔ نامعلوم تاریخ وفات ۔ کبیروالا ۔ 31 اکتوبر 1984ء کبیروالا کی سرزمین ھر دور مین ادبی لحاظ سے ھمیشہ زرخیز رھی ھے ۔ بیدل حیدری ، خادم رزمی اور وفا حجازی اپنے دور کے اردو اور پنجابی ادب کی نامور شخصیات تھے ۔ طالب بٹالوی ، قمر رضا شہزاد ، فیصل ھاشمی ساغر مشہدی ، حسنین اصغر تبسم اور منیر راھی جیسے معروف شاعروں کا تعلق بھی اسی سرزمین کبیروالا سے ھے ۔ وفا حجازی کا اصل نام عطاء الرحمٰن تھا ۔ آپ کی والدہ محترمہ کا تعلق
اکتوبر 31 : اردو اور پنجابی کی ممتاز باغی شاعرہ سارا شگفتہ کا یوم پیدائش ہے
از: ابوالحسن علی بھٹکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اردو اور پنجابی کی ممتاز شاعرہ سارا شگفتہ 31 اکتوبر 1954ء کو گوجرانوالہ میں پیدا ہوئی تھیں، وہ پنجابی اور اردو دونوں میں شاعری کرتی تھیں، ان کی شاعری کی مرغوب صنف نثری نظم تھی جو ان کے ایک الگ اسلوب سے مرصع تھی۔ سارا شگفتہ کی پنجابی شاعری کے مجموعے بلدے اکھر، میں ننگی چنگی اور لکن میٹی اور اردو شاعری کے مجموعے آنکھیں اور نیند کا رنگ کے نام سے اشاعت پذیر ہوئے۔ ان کی ناگہانی موت نے ان کی زندگی اور شاع
اکتوبر 31 :-: پنجابی زبان کی نامور شاعرہ، مسلمہ ادیبہ اور افسانہ نگار امرتا پریتم کی برسی ہے
از : ابوالحسن علی بھٹکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ امرتا پریتم گوجرانوالہ میں پیدا ہوئیں۔ ان کی سو سے زائد کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں شاعری کے علاوہ کہانیوں کے مجموعے، ناول اور تنقیدی مضامین کے انتخابات بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ہندوستان اور پاکستان کے بٹوارے پر ان کے ایک ناول پنجر پر اسی نام سے فلم بھی بن چکی ہے۔ وہ بھارتی ایوان ِ بالا کی رکن رہی ہیں اور انہیں پدم شری کا اعزاز بھی حاصل ہو ا اس کے علاوہ انہیں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ اور دیگر اعزازات بھی حاصل ہو ئے جن میں پنجابی ادب کے لیے گی
صومالیہ میں ترکی کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ۔۔۔۔از: فرحین شیخ
تین دہائیوں سے جاری خانہ جنگی کے خوفناک مناظر نے صومالیہ کو ایک تھیٹر بنا دیا ہے،کچھ لوگ یہ مناظر دیکھ کر خوشی سے تالیاں پیٹتے ہوئے اپنی حیوانی نفسیات کی تسکین کرتے ہیں، توکچھ لوگ انگلیاں دانتوں میں داب کر دانستہ نظریں پھیر لیتے ہیں اورکچھ خوف کے مارے آنکھیں موند کر، دہشت اور وحشتناک مناظر سے وقتی طور پر خود کو باہر محسوس کرکے مطمئن کرلیتے ہیں۔ نائن الیون کے بعد دہشت گردی کی جنت بننے والا صومالیہ جو عرصہ دراز سے مصنوعی طور پر پیداکردہ اور’’خودغرضی ساختہ ‘‘ قحط کا بھی شکار ہے، اب وہاں ترکی کی م
بھٹکل نامدھاری سنگھا اپنے لیڈروں کی حمایت میں۔۔کیا ہم ایسا نہیں کرسکتے؟! )دوسری اور آخری قسط)۔۔از: ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے........... بھٹکل اسمبلی حلقے کا نامدھاری طبقہ بحیثیت مجموعی ایک زمانے سے بظاہر ہی سہی کانگریس، جنتا دل اور اس طرح کی دوسری سیکیولر پارٹیوں سے وابستگی کے لئے جاناجاتارہا ہے۔لیکن پولیس کے ہاتھوں اس طبقے کے چند نوجوان قائدین کی گرفتاری اوران پر لگائے گئے سنگین الزامات کے خلاف جس طرح سڑک اورسرکاری دفاترپرنامدھاریوں نے متحدہ مورچہ سنبھالا اوراپنی سیاسی وسماجی قیادت کے سلسلے میں جس سنجیدگی اور مؤثر حکمت عملی کا مظاہرہ کیا ہے وہ یقیناًلائق ستائش ہے۔کیونکہ جن نوجوان لیڈران کی گر
اکتوبر 30: آج اردو کی نامور شاعرہ محترمہ ثمینہ راجا کی برسی ہے
از: ابوالحسن علی بھٹکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ثمینہ راجا 11 ستمبر 1961ء کو رحیم یار خان میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے اردو زبان و ادب میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ عملی زندگی میں انہوں نے کئی اہم شعبوں میں خدمات انجام دیں۔ پاکستان ٹیلی ویژن میں انہوں نے علم و ادب کے فروغ کے لیے بھر پور کردار ادا کیا۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے زیرِ اہتمام کامیاب اردو مشاعروں کا انعقاد ان کی فعال، ہر دل عزیز اور مؤثر شخصیت کا مرہون منت تھا۔ انہوں نے عالمی شہرت کے حامل ادیبو
اکتوبر 29: نامور شاعر صباؔ اکبر آبادی کی برسی ہے
از: ابوالحسن علی بھٹکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صبا اكبرآبادي كا تعلق اس سرزمين سے هے جهاں كي مٹّي فنونِ لطيفه كے لئے زرخيز ماني جاتي هے۔يه وهي سرزمين هے جس نے فنِ تعمير كي بهترين اور لاثاني مثال تاج محل اور فنِ شاعري كي بے نظير مثال غزليات غالب دنيا كے سامنے پيش كي جا سكتي هے۔ تاج محل اگر دنيا كا ساتواں عجوبه هے تو٫٫ ديوانِ غالب٬٬بقول بجنوري ايك الهامي كتاب هے۔ اسي مٹّي سے مير تقي مير اور عوامي شاعري كا بلند مرتبت شاعر نظير اكبر آبادي كا بھي ت
کتنے حسیں افق سے ہویدا ہوئی ہے تو۔۔۔۔۔از: سہیل انجم
سپریم کورٹ کے وکیل اسد علوی نے دشنام طرازی پر اپنے شاندار کالم، مطبوعہ روزنامہ انقلاب، 28 اکتوبر، سے خاکسار کے قلم کو مہمیز لگا دی۔ انھوں نے بہت ہی خوبصورت انداز میں سماج، ادب اور گالیوں کے باہمی رشتے پر اظہار خیال کرکے ایک خوابیدہ موضوع کو بیدار کر دیا۔ انھوں نے غالب، چرکین اور کیف بھوپالی کے حوالوں سے اپنی بات کو مزین کیا اور عزیز حسن بقائی کے ماہنامہ ’پیشوا‘ کے گالی نمبر کا بھی حوالہ دیا۔ چرکین کی شاعری یا اردو اور دیگر زبانوں میں برازیات کی شاعری پر پھر کبھی اظہار خیال ہوگا،
تبصرہ کتب :1- اسلام ، انسانی حقوق کا پاسپان ۔۔۔ 02-مجلہ پیغام صائب 2017 ۔۔۔۔ تحریر : ملک نواز اعوان
نام کتاب:اسلام ،انسانی حقوق کا پاسبان مصنف: حضرت مولانا سید جلال الدین عمری حفظہ اللہ۔ امیر جماعت اسلامی ہند صفحات: 184 قیمت 90 روپے بھارتی ناشر:مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی 25 ڈی 307 ‘ دعوت نگر ابوالفضل انکلیو جامعہ نگر نئی دہلی 110025 بھارت فون نمبر:26984347/2698165۲ فیکس:26987858 ای میل:mmipub@nda.srl.net ویب گاہ:www.mmipublishers.net حضرت مولانا سید جلال الدین عمری حفظہ اللہ (پ:1935ء) عالم اسلام کے ایک جید عالم دین، بہترین خطیب، ممتاز محقق اور صاحبِ طرز مصنف کی حیثیت سے معرو
سچی باتیں ۔۔۔ نماز جمعہ ۔۔۔ تحریر : مولانا عبد الماجد دریابادی رحمۃ اللہ علیہ
یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِ اللّٰہِ وَذَرُ والْبَیع۔ یہ کسی بشر کا کلام نہیں ،سب کے پیدا کرنے والے اور پالنے والے کا کلام ہے ،پا رہ ۲۸سورۃ الجمعہ میں ارشاد ہوتاہے کہ اے ایمان والو جب ہفتہ کا وہ دن آجائے جسے جمعہ کہتے ہیں اور نماز جمعہ کا وقت آجائے تواپنے سارے کام کاج چھوڑ کر اس نماز کی طرف لپکو اور ذروالبیع کارو بار، لین دین ، معیشت وتجارت کے سارے مشاغل اتنی دیر کے لئے ملتوی کر دو اور یہ نہ سمجھو کہ ہر ج کار
خبر لیجئے زباں بگڑی ۔۔۔ مرنج و مرنجان ۔۔۔ تحریر : اطہر ہاشمی
مرنجاں مرنج بہت عام سی اصطلاح ہے، اردو میں اکثر استعمال ہوتی ہے۔ لیکن اس کا مطلب اور محلِ استعمال کیا ہے، اس کے بارے میں ہمیں بھی تردد رہا۔ لغت کے مطابق تو یہ ’’مرنج مرنجاں‘‘ ہے جب کہ اردو میں اس کی ترتیب بدلی ہوئی دیکھی، یعنی مرنجاں پہلے آتا ہے اور مرنج و مرنجاں کے بیچ میں ایک واؤ بھی رکھا ہوا ہے، لیکن اردو میں عام طور پر واؤ کے بغیر اور مرنجاں مرنج ہی استعمال ہوتا ہے۔ فارسی کا لفظ ہے اور اس کا مطلب ہے وہ شخص جو ہر حالت میں خوش رہے۔ جیسے یہ مصرع انسان میں مرنج و مرنجاں عزیز ہے قرآن کریم کے
تبصرہ کتب ۔۔ بحر الفصاحت ۔حصہ چہارم ۔۔۔ تحریر : ملک نواز احمد اعوان
نام کتاب:بحرا لفصاحت . حصہ چہارم (تیسرا جزیرہ) علم الفصاحت و بلاغت مرتب:سید قدرت نقوی صفحات: 42 قیمت 450 روپے ناشر: ڈاکٹر تحسین فراقی، ناظم مجلسِ ترقی ادب 2کلب روڈ۔ لاہور فون : 042-99200856, 99200857 ای میل : majlista2014@gmail.com ویب سائٹ : www.mtalahore.com نام کتاب : بحرالفصاحت .حصہ پنجم علم البیان مصنف : حکیم مولوی نجم الغنی خاں رام پوری صفحات : 240 قیمت 300 ناشر : ڈاکٹر تحسین فراقی ناظم مجلس ترقی ادب 2کلب روڈ۔ لاہور حکیم نجم الغنی خان رام پوری اپنے زمانے کی نابغہ روزگار ش
اکتوبر 24 : نامور شاعر جناب آغا شورش کاشمیری کا یومِ وفات ہے
از: ابوالحسن علی بھٹکلی آغا شورش کاشمیری کا نام عبدالکریم اور تخلص الفت تھا۔ وہ 14 اگست 1917ء کو امرتسر میں ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام نظام الدین تھا۔ انکے دادا بہتر روزگار کی تلاش میں لاہور آئے تھے، پھر پورا خاندان یہیں رہائش پذیر ہو گیا۔ شورش نوعمری میں ہی والدہ کے سایۂ عاطفت سے محروم ہو گئے۔ والدہ کی وفات کے بعد دادی نے ان کی پرورش کی۔ شورش کو بچپن سے لکھنے پڑھنے کا شوق تھا اور وہ بڑے محنتی طالب علم تھے۔ شورش نے 1932ء میں دیوسماج ہائی اسکول لاہور سے میٹرک کا امتحان
اکتوبر 24 ، 1991: اردو کی معروف افسانه نگار ادیبہ عصمت چغتائی کی برسی ہے
از: ابوالحسن علی بھٹکلی عصمت چغتائی کی پیدائش 21 اگست، 1915ء میں ہندوستان کے شہر بدایوں میں ہوئی۔ اور ۷۶ سال کی عمر میں ۱۹۹۱ء میں ان کا انتقال ہوگیا۔ فلمی سفر ضدی یہ فلم ۱۹۴۸ میں عصمت چغتائی نے لکھی تھی۔ ۱۹۵۰ میں آرزو فلم کے انھوں نے ڈاءیلاگ بھی لکھے اور اسکرین پلے بھی جب کہ کہانی بھی عصمت چغتائی کی ہی تھی۔ ۱۹۵۸ ء میں سونے کی چڑیا فلم کی کہانی بھی انھوں نے ہی لکھی۔ ۱۹۷۴ ء میں ایک فلم آئی تھی جس کا نام گرم ہوا تھا جو عصمت چغتائی کے ایک افسانہ کو بنیاد بنا کر بنائی گئی تھی۔ اس فل
اکتوبر 24 :-: نامور شاعر اور نغمہ نگار ساحر لدھیانوی کی برسی ہے
از: ابوالحسن علی بھٹکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ساحر کا اصل نا م عبدالحئی تھا، وہ 8 مارچ1921ء لدھیانہ کے ایک جاگیردار خاندان میں پیدا ہوئے۔ طالبِ علمی کے زمانے میں ہی ان کا شعری مجموعہ تلخیاں شائع ہوچکا تھا، جس نے اشاعت کے بعد دھوم مچا دی تھی۔ سن 1949 میں وہ لاہور سے بمبئی گئے اور اسی سال ان کی پہلی فلم 'آزادی کی راہ' ریلیز ہوئی۔ لیکن اصل شہرت موسیقار ایس ڈی برمن کے ساتھ 1950 میں فلم نوجوان میں ان کے لکھے ہوئے نغموں کو نصیب ہوئی ان میں سے ای
بہت مشکل ہے دنیا کا سنورنا۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی
ہم تاریخ کے طالب علم نہیں ہیں اس لئے ہم نہیں بتاسکتے لیکن سنا ہے کہ اجودھیا کی عمر دو ہزار برس سے زیادہ نہیں ہے۔ اس لئے ہم نہیں بتا سکتے ہیں کہ یہ انسانیت کی دھرتی لاکھوں برس سے ہے یا اس وقت سے جب ایران سے آنے والے آریوں نے اسے انسانیت کی دھرتی بنا لیا۔ یہ بات تو ہر ہندو جو رام چندر جی کو بھگوان مانتا ہے وہ کہتا ہے کہ ان کا زمانہ لاکھوں برس پہلے تھا۔ اور یہ بھی سب مانتے ہیں کہ آج جو ملک پر حکومت کررہے ہیں یہ چار ہزار برس پہلے بھی ہندوستان میں نہیں تھے۔ اور جو تھے وہ اب ملک میں پہاڑوں کے دامن میں
اکتوبر 23 : کو مشہور و معروف شاعر اور ادیب آنند نارائن ملاؔ کا یومِ پیدائش ہے
از؛ ابوالحسن علی بھٹکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ملاؔ صاحب 23 اکتوبر 1901ء کو لکھنؤ میں پیدا ہوۓ۔ والد کا نام جگت نرائن ملا تھا جو لکھنؤ کے مشہور وکیل تھے اور لکھنو کی اہم شخصیت تھے۔اردو اور فارسی کی تعلیم گھر پر حاصل کی۔1923 میں انگریزی میں ایم کیا۔1925 میں وکالت کا امتحان پاس کر کے لکھنو میں وکالت شروع کی۔ملا صاحب نے انگریزی میں شاعری 1917 میں شروع کی۔طالب علمی کے زمانے میں انیسؔ،غالبؔا اور علام اقبالؔ کے اشعار کے اردو ترجمے کۓ۔اس طرح سے عالمی ادب سے واقفیت کا موقع