Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors
Abdul Haleem Mansoor
Abdul Majid Daryabadi
Abdul Mateen Muniri
Abdur Raqeeb M.J Nadwi
Ahmed Hatib Siddiqui
Asif Jilani
Athar Hashmi
Bhatkallys
Dr Badrul Hasan Qasmi
Dr Haneef Shabab
Dr. F Abdur Rahim
Dr. Tahir Masud
Hafiz Naumani
Kaldip Nayar
Masoom Muradabadi
Masud Ahmed Barkati
Mohammed Mateen Khalid
Muhammed Furqan
Nizamuddin Nadwi
Riyazur Rahman Akrami Nadwi
Suhail Anjum
ندائے ملت اور مسلم یونیورسٹی نمبر کو سرسید ایکسیلینسی ایوارڈ۔۔۔۔۔ از: حفیظ نعمانی
ندائے ملت کا مسلم یونیورسٹی نمبر جسے یکم اگست 1965 ء کو نکلنا تھا مرکزی حکومت کے حکم اور اترپردیش حکومت کی تعمیل حکم کی بدولت وہ نکلتے ہی بحق سرکار ضبط کرلیا گیا تھا اور ہم جیسے نکالنے والوں اور آپ جیسے انتظار کرنے والوں کے لئے ایک بھولی بسری کہانی بن گیا تھا۔ اس کے بارے میں میری کتاب رودادِ قفس کے ہندی ایڈیشن کی رونمائی کی تقریب میں برسوں ممتاز وزیر رہنے والے ڈاکٹر سید عمار رضوی نے فرمایا کہ جس کتاب یا اخبار کو حکومت ضبط کرتی اور پابندی لگاتی ہے اس کی مدت 30 برس ہوتی ہے۔ اس کے بعد اگر وہ پھر با
سچی باتیں ۔۔۔ افترا پردازیاں ۔۔۔ تحریر : مولانا عبد الماجد دریابادی ،
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جب بعض منافقین کی شرارت سے امت کی سب سے بڑی مؤمنہ صدیقہ پر ایک نہایت گندی تہمت لگی اور اس کے چرچے پھیلے تو کلام مجید میں یہ دو آیتیں نازل ہوئیں۔ ’’لَوْ لَا اِذْسَمِعْتُمُوْہُ ظَنَّ الْمُؤمِنُونَ وَالْمُؤ مِنَاتُ بِاَنْفُسِھِمْ خَیْرًا وَقَالُوْا ھٰذَا اِفْک ٌمّبِیْنٌ‘‘(نور۔ع ۔۲) جب تم لوگوں نے یہ گندی حکایت سنی تھی تو مسلمان مردوں اور عورتوں نے اپنے لوگوں سے متعلق گمان نیک سے کام کیوں نہ لیا اورچھوٹتے ہی یہ کیوں نہ کہہ دیا کہ یہ صریح افتراء
فرزانہ اعجاز سے گفگتو۔۔۔از : ڈاکٹر شاہنواز جہاں
’غربت میں ہوں اگر ہم، رہتا ہے دل وطن میں سمجھو وہیں ہمیں بھی ۔ دل ہو جہاں ہمارا ‘ اقبال کا یہ شعر ہمیں ان لوگوں کی یاد دلاتا ہے ،جو وطن سے ہزاروں میل دور ہوتے ہوۓ بھی ، وطن کی یادوں کو دل میں بساۓہوۓ ہیں ،ممالک غیر میں رہتے ہوۓ بھی اپنے شہر اور وہاں کے لوگوں کے لۓ اور اپنی مادری زبان کے لۓ انکے دل میں محبت کو، الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں ہے ، ایسی ایک شخصیت ہیں ، محترمہ فرزانہ اعجاز صاحبہ،لگ بھگ چالیس سالوں سے اپنے وطن دور ہونے کے باوجود انکا دل اپنے وطن ہی میں لگا ہے ، جب میں نے انک
یک صدی سے زائد عرصے سے شائع ہونے والا ماہنامہ ۔ رہنمائے تعلیم ۔۔۔۔ تحریر : سہیل انجم دہلی
اردو کے ادبی رسائل و جرائد کی تاریخ میں ماہنامہ رہنمائے تعلیم نمایاں حیثیت کا حامل ہے۔ اس نے نہ صرف ایک صدی سے زائد کی عمر پائی بلکہ اب بھی مسلسل اور بلا ناغہ شائع ہو رہا ہے۔ اس کی اشاعت 113 ویں سال میں داخل ہو گئی ہے اور غالباً یہ ایک ریکارڈ ہے۔ اس کا جون 2017کا شمارہ اس کے بانی ایڈیٹر سردار جگت سنگھ اور ان کے بیٹے سردار ہر بھجن سنگھ تھاپر کی خدمات پر مشتمل ہے۔ سردار جگت سنگھ ایک اسکول ٹیچر تھے۔ انھوں نے اسے 1905 میں پنڈی کھیپ (موجودہ پاکستان) سے جاری کیا تھا۔ چونکہ وہ ایک اسکول ٹیچر تھے اس لیے
علی گیرین ، فرنگی محلی۔۔۔۔ تحریر : فرزانہ اعجاز
’ علی گیرین ‘ فرنگی محلی فرزانہ اعجاز کوئ بھی گروہ۔ قوم یا انسان اس وقت تک مکمل نہیں بن سکتا جبتک اس نے مکمل تعلیم و تربیت نہ حاصل کر لی ہو ، محسن قوم حضرت سر سید احمد خان نے بس یہی ایک نکتہ سمجھ لیا اور جی جان سے اس کوشش میں مصروف ہو گۓ کہ انکے ملک والے، انکی قوم والے اپنے مروج علم کے ساتھ ساتھ انگریزی تعلیم بھی صحیح طریقے سے حاصل کریں ،تب کہیں جاکر انکی حالت سدھرے گی ، ایسا بھی نہیں تھا کہ سب کی حالت ابتر تھی، ہاں، یہ بات ضرور تھی کہ زمانے کی ترقی سے مستفید ہونے کے لۓجس علم و سمجھ کی ضرورت
Adhaan heard at Alhambra Palace in Spain after 525 years
The Alhambra Palace, Qalat Al-Hamra in Arabic, is a palace and fortress complex located in Granada, Andalusia, Spain. A video showing a man calling the Adhaan at the Alhambra Palace, Granada in Spain has gone viral. Mouaz Al-Nass, a man of Syrian origin called the adhaan. He said he felt the walls had missed ‘hearing the call to Allah.’ The Alhambra Palace was built by the Muslim Rulers of Granada. Muslims came to Spain in 711 and ruled for almost 800 years. In 1492, Granada came under Chr
خبرلیجئے زباں بگڑی --- مجہول اور مہتمم بالشان۔۔۔ تحریر: اطہر ہاشمی
جسارت کے ایک کالم نگار نے ’’مجہول الحواس‘‘ کی ترکیب استعمال کی ہے۔ اگر مجہول کا مطلب معلوم ہوتا تو یہ سہو نہ ہوتا۔ مجہول کا مطلب ہے نامعلوم، غیر معلوم، وہ فعل جس کا فاعل معلوم نہ ہو۔ علاوہ ازیں سست، کاہل، آرام طلب، نکھٹو کو بھی کہتے ہیں۔ جبر و مقابلہ (الجبرا) میں نامعلوم رقم کو بھی کہتے ہیں۔ ان معانی کو سامنے رکھ کر دیکھیں تو حواس کے ساتھ مجہول پورا نہیں اترتا، کیونکہ حواس نامعلوم ہوتے ہیں نہ ایسا فعل جس کا فاعل تلاش کرنا پڑے۔ لکھنے والے نے شاید مجہول النسب سے قافیہ ملایا ہے۔ مجہول النسب کا مطلب
Shocking reality of Bhatkal Government Hospital
Horror stories of patients getting neglected and missing doctors have long disturbed patients visiting the local government hospital in Bhatkal. Bhatkallys.com recently visited the hospital and documented the poor state of affairs at the medical facility. Zaorez Haneef Shabab reports on the curious case of lost doctors and stranded patients. Bhatkallys News Bureau/ I. Zaorez Shabab Bhatkal, 12 October 2017: Getting a quick blood test can’t take longer than a few minutes but a patient visit
سچی باتیں ۔۔۔ اگلوں کا احترام ۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی
وَالَّذِیْنَ جَآؤُا مِنْ بَعْدِھِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذَیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِِیْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوبِنَا غِلَّا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْ۔ حشر۔ع ۔ا اور وہ مؤمنین جو ان لوگوں کے بعد آئے کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار بخش دے ہم کو اور ہمارے ان بھائیوں کو جو ایمان لانے میں ہم سے سابق ہوئے اور ہمارے دلوں میں میل نہ رکھنا ان کی طرف سے جو ایمان لائے۔ کسی بندہ کا نہیں خدا کا کلام ہے،مؤمنین کے لئے ایک عام دستور العمل ارشاد ہوتا ہے ۔مؤمنین کا شعار
اکتوبر 8:-:معروف شاعر جناب شاعر جمالی کی برسی ہے
از: ابوالحسن علی بھٹکلی -------------------------------------------------------- شاعر جمالی کا پورا نام سید نظرالحسنین تھا ۔آپ کے والد کا نام سید شوکت علی اور و الدہ کا نام حامدہ بیگم ہے۔ شاعر جمالی کی پیدائش 15جون، 1943ء کو شہر بہرائچ کے مردم خیز محلہ، قاضی پورہ میں ہوئی تھی۔آپ نے ایم ۔اے۔(اردو)تک کی تعلیم حاصل کی اور جون پور میں محکمہ صحت میں ہیلتھ سپر وائزر ہوئے اور جون پور سے ہی رٹائر ہوئے۔ شاعر جمالی کے والد، والدہ اور بھائی وٖغیرہ نے بعد میں شہربہرائچ سے نانپارہ جاکر وہیں سکونت اختیار کر
دُنیا 21 ویں صدی میں ہے اور گجرات میں مونچھ سب سے بڑا مسئلہ ہے از: حفیظ نعمانی
ہندوستان میں کوئی صوبہ ایسا نہیں ہے جہاں دلت طبقہ کے لوگوں کے ساتھ اونچی ذات کے ہندوؤں کا سلوک انہیں ذلیل سمجھنے کا نہ ہو لیکن خبروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ گجرات کا ہندو ضرورت سے زیادہ ہی انہیں ذلیل سمجھتا ہے۔ یہ واقعہ صرف گجرات میں ہی دیکھا کہ ایک مری ہوئی گائے کی کھال اُتارتے ہوئے انہیں پکڑا اور ہر قسم کے الفاظ میں صفائی دی کہ وہ مری ہوئی گائے تھی ہم نے اسے نہیں مارا لیکن ان کی بات نہیں سنی گئی اور ان کے کپڑے اُتارکر اور ایک بڑی کار سے باندھ کر گھنٹوں مارا اور باری باری مارا اور اس منظر کو چھپان
اکتوبر 07: معروف شاعر، ادیب، نقاد، ناول نگاراور کالم نگار انیس ناگی کا یومِ وفات ہے
از: ابوالحسن علی بھٹکلی --------------------------------------------------------- معروف شاعر، ادیب، نقاد، ناول نگار، کالم نگار انیس ناگی 10ستمبر 1939ء کو شیخوپورہ میں مولوی ابراہیم ناگی کے گھر پیدا ہوئے۔ انکا خاندانی نام یعقوب علی ناگی اور قلمی نام انیس ناگی تھا۔اردو کے معروف افسانہ نگار منٹو پر انکا بے شمار کام ہے اور انکے ناولوں میں اہم ترین ناول ‘‘زوال‘‘ ہے جس میں ایک ڈھلتی عمر کے بیوروکریٹ کے بتدریج بے رحمانہ ذہنی اور جسمانی انتشار کو بڑے موثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ انکا دوسرا مقب
اکتوبر 05: برصغیر کی بے باک صحافی ،کالم نگار ، ادیبہ ، افسانہ نگار، ڈرامہ نگار اور شاعرہ زاہدہ حناؔ کا یومِ پیدائش ہے
از: ابوالحسن علی بھٹکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ برصغیر کی بے باک کالم نگار ، ادیبہ ، افسانہ نگار اور شاعرہ زاہدہ حناؔ 05 اکتوبر 1946ء کو صوبہ بہار کے شہر سہسرام میں پیدا ہوئیں ۔ انتدائی تعلیم گھر پر ہی اپنے والد صاحب سے شروع کی سوا چار کی عمر میں انھیں والد نے پڑھانا شروع کیا معاشی حالات کی وجہ سے پہلی مرتبہ ان کا سکول میں داخلہ ساتویں کلاس میں ہوا تھا۔ بچپن ان کا بہت اداس اور صرف کتابیں پڑھتے ہی گزرا۔ بچپن سے ہی بہت ذہین تھیں۔ لکھنا انھوں نے نو برس کی عمر سے شروع کر دیا تھا 9
تبصرہ کتب : پاکستانی معاشرے میں مطلقہ خواتین و دیگر کتابیں ۔۔۔ تبصرہ نگار : ملک نواز احمد اعوان
پاکستانی معاشرے میں مطلقہ خواتین کے سماجی و قانونی مسائل (شرعی تناظر میں تجزیاتی مطالعہ) مصنفہ: ڈاکٹر سیّدہ سعدیہ صفحات:437 قیمت: 600 روپے ناشر:ڈاکٹر سیّدہ سعدیہ فون: 0333-4492062 زیر نظر کتاب ’’پاکستانی معاشرے میں مطلقہ خواتین کے سماجی و قانونی مسائل‘‘ (شرعی تناظر میں تجزیاتی مطالعہ) اصل میں محترمہ سیّدہ سعدیہ کا پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے جو نہایت اہم موضوع پر لکھا گیا، جس پر ان کو پی ایچ ڈی کی ڈگری پنجاب یونیورسٹی سے دی گئی۔ یہ مقالہ بڑی محنت اور دقتِ نظر سے لکھا گیا ہے اور اردو کے دینی
اوراقِ ناخواندہ۔ شخصی خاکوں، وفیات کا ایک متاثر کن متنوع مجموعہ ۔۔۔تبصرہ نگار: محمود عالم صدیقی
نام کتاب: اوراقِ ناخواندہ مصنف : ڈاکٹر طاہر مسعود قیمت: گیارہ سو روپے ناشر: ہما پبلشنگ ہاؤس، کراچی 0300-2539605 بٹوارے کے بعد اردو صحافت کے حوالے سے چار بڑے ستون مجید لاہوری، ابن انشاء، مشفق خواجہ اور عطاء الحق قاسمی کی صورت میں نظر آتے ہیں۔ منٹو، ابراہیم جلیس، شورش کاشمیری، محمودہ سلطانہ، رئیس امروہوی، سید ضمیر جعفری، شفیع عقیل، انتظار حسین، شبنم رومانی، نصیر انور خاکہ نگاری اور فکاہی کالم کے نامور امین رہے ہیں۔ فکاہی کالم نگاری کا یہ سلسلہ منو بھائی، مستنصر حسین تارڑ، طاہر مسعود، احسان بی
خبرلیجئے زباں بگڑی۔۔۔ ایک کالم طوعا و کرہا ۔۔۔تحریر: اطہر ہاشمی
سمندر پار سے محترم عبدالمتین منیری کے توسط سے ایک خاتون عابدہ رحمانی کا خط یا اعتراض موصول ہوا ہے۔ کاکسس بازار کے حوالے سے وہ لکھتی ہیں ’’یہ نام کاکسس بازار ہے اور اسی نام سے معروف ہے cox's bazar۔ ۔ ۔ اطہر ہاشمی صاحب زیبِ داستان کے لیے کاسس بازار اور کاکس بازار لکھ رہے ہیں۔ ہم 1969ء کے آخر میں مشرقی پاکستان کے زمانے میں وہاں گئے تھے۔ انتہائی شفاف اور خوبصورت ساحلِ سمندر ہے۔ ریت میں بے انتہا مونگے اور سیپیاں ہیں، وہاں موجود مونگے سے آرائشی اشیا بنانے والے ٹوکری میں ریت بھر کر پانی میں ڈالتے او
Google doodle marks 103rd birth anniversary of Ghazal Queen Begum Akhtar
Hyderabad: Today is the 103rd birth anniversary of Ghazal Queen Begum Akhtar. Akhtari Bai Faizabadi, also known as Begum Akhtar was born on 7 October 1914, in Faizabad. She was a well-known Indian singer of Ghazal, Dadra, and Thumri genres of Hindustani classical music. She received the Sangeet Natak Akademi Award for vocal music, and was awarded Padma Shri and Padma Bhushan (posthumously) by Govt. of India. She was given the title of Malika-e-Ghazal (Queen of Ghazals). Google today has dedic
سچی باتیں ۔۔۔ مومن کی ایک علامت ۔۔۔ تحریر : مولانا عبد الماجد دریابادی مرحوم
مؤمن کی ایک علامت کلام مجید میں ایک موقع پر جہاں مسلمانوں کی مدح آئی ہے وہاں منجملہ دوسری علامتوں کے ایک علامت ان مسلمانوں کی یہ ارشاد ہوئی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے مقابلہ میں فروتنی برتنے والے، ایک دوسرے کے حق میں درگزر سے کام لینے، ایک دوسرے کے مقابلہ میں نرمی اختیار کرنے والے ہوتے ہیں۔’’رُحَمَاء بَیْنَھُمْ‘‘کے مختصر لفظوں میں یہ سارا مفہوم آجاتا ہے ایک دوسری جگہ مومنوں کی شان یہ بتائی گئی ہے ’’اِنَّمَاالْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ‘‘مومن ایک دوسرے کے محض ہوا خواہ ہی نہیں ،محض دوست ہی نہیں