Search results

Search results for ''


ہوسپٹن  :  برصغیر میں جہاں پہلے پہل حفظ قرآن کا باقاعدہ نظام قائم ہوا  ۔۔۔  عبد المتین منیری ۔ بھٹکل

Abdul Mateen Muniri Nawayat And Bhatkal

     ہندوستان کے مغربی ساحل پر گوا کے جنوب میںقومی شاہراہ نمبر (۱۷) کے ساتھ ساتھ ریاست کرناٹک کے علاقے کینرا کی سرحدمیں جب ہم  داخل ہوتے ہیں تومغربی گھاٹ کے جنگلوں  اور اس کے آبشاروں سے نکل کر بحر عرب میں گرنے والی ندیو ں اور دریاؤں کا ایک سلسلہ شروع ہو جاتاہے، ان میں سے کالی اور مرجان ندی سے گذر نے کے بعد  ایک لمبی چوڑی ندی آتی ہے جوشراوتی کہلاتی ہے۔یہ ندی گیرسوپا کے مشہور عالم آبشار جوگ فال سے نکل کر کھاڑی پر ناریل کے درختوں سے بھرے پرے چھوٹے چھوٹے جزیرے 

خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ لائق،ڈس لائق اور نالائق۔۔۔ تحریر: اطہر علی ہاشمی

Bhatkallys Other

تلفظ کو چھوڑیے، مزے مزے کی سرخیاں اخبارات میں نظر نواز ہورہی ہیں… روزنامہ جسارت میں29 دسمبر کو صفحہ اوّل پر چار کالمی سرخی ہے ’’لائق ڈس لائق کی پالیسی نہیں چلے گی‘‘۔ جس صحافی نے یہ سرخی نکالی ہے اسے داد دینے کو جی چاہتا ہے، لیکن صورتِ حال یہ ہے کہ داد کم پڑ جائے گی۔ مذکورہ سرخی نکالنے والے فاضل سب ایڈیٹر نے ’لائیک‘ کو ’’لائق‘‘ کردیا، یہ اس کی لیاقت کا ثبوت ہے، لیکن اصل قصور تو بیان دینے والے کا ہے۔ وہ پسند، ناپسند بھی کہہ سکتے تھے جس کو بگاڑنا آسان نہ ہوتا۔ اب یہ مذکورہ سب ایڈیٹر بتائیں گے کہ لا

ریزرویشن بل بھاگتے بھوت کی لنگوٹی۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

مودی سرکار نے لوک سبھا میں جیسے ڈرامائی انداز میں 10 فیصدی ریزرویشن بل پیش کرکے سب کو سکتہ میں ڈال دیا وہ ایسا ہی اعلان ہے جیسا 2014 ء کے الیکشن سے پہلے انہوں نے کہا تھا کہ کانگریس کے وزیروں اور لیڈروں نے دنیا کے دوسرے ملکوں میں 80 لاکھ کروڑ روپیہ جمع کررکھا ہے جس کے بارے میں انتظام کرلیا ہے کہ اسے اپنی حکومت بننے کے 100 دن کے اندر وہاں سے لے آیا جائے گا اور ہر ہندوستانی کے بینک اکاؤنٹ میں پندرہ پندرہ لاکھ روپئے جمع کردیئے جائیں گے اس لئے کہ یہ روپیہ سرکار کا نہیں آپ کا ہے۔ ہر ہوشمند ہندوستانی ک

تذکرہ انجمن اور عرب و دیار ہند کے مصنف ، مورخ بھٹکل ، مولانا خواجہ بہاء الدین اکرمی ندوی ۔ قسط 02

Bhatkallys Other

تحریر : عبد المتین منیری۔ بھٹکل سرخ وسفید جسم پر ململی سفید برّاق قمیص ،اُجلی لنگی ، سر پر دوپلی ٹوپی ، ڈاڑھی کا کوئی بال بکھر ا ہوا نہیں .پابندی سے اس پر کنگھی اور حنا کا خضاب ،نماز جمعہ کے لئے بن ٹھن کر جب نکلتے تو بڑھاپے میں  بھی ان پر پڑی  ہوئی نگاہیں نہیں ہٹتی تھیں ۔                 شاید وہ بھٹکل کے پہلے عالم دین تھے جنھوں نے روایتی ذرائع کے بجائے تجارت کو تلاش معاش کا ذریعہ بنایا ۔  اگر وہ چاہتے تو دین کے ذریعہ خوب دنیا کماسکتے تھے ،  ہم نے انہیں بڑھاپے ہی اس وقت دیکھا جب ان کے جسم کا رو

قوم مسلم کا خونِ شہیداں۔۔گؤ رکھشا،ہجومی قتل،شدھی تحریک اور سوامی شردھانند (تیسری قسط) ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ 

Bhatkallys Other

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے...........  ’قومِ مسلم کا خون شہیداں.....‘مضمون کی سابقہ قسط پڑھنے کے بعد گوا سے ہمارے ایک کرم فرما نے ہم سے کہا کہ فرقہ وارانہ فسادات کا جب ذکر چلا ہے تو سوامی شردھا نندکے قتل کے بعد ہونے والے فسادات اوراس کے پس منظر میں مولاناسیدابوالاعلیٰ مودودیؒ کی معرکۃ الآراء تصنیف ’الجہاد فی الاسلام‘ کے تعلق سے کچھ ذکر آنا چاہیے تھا۔ میں نے سابقہ قسط کو 1927-28کے عرصے تک لاکر ختم کیاتھا۔ اس لئے ہمارے کرم فرما کی بروقت نشاندہی کے بعد اس ضمن میں مزید مطالعہ اور تحقیق کرنا ضروری ہوگی

تذکرہ انجمن اور عرب ودیار ہند کے مصنف، مورخ بھٹکل ،مولانا خواجہ بہاء الدین اکرمی ندوی - قسط 01

Bhatkallys Other

تحریر : عبد المتین منیری۔ بھٹکل          بھٹکل میں انجمن حامی مسلمین کے قیام کے یاد گار لمحات کی یاد میں صدی تقریبات کا بگل بج چکا ہے ، ۴/جنوری سے ان کا آغاز ہوگیا ہے،اس دوران قوم کے ان محسنین کو یاد ِآتے ہیں ، جنہوں نے قوم کی نشات ثانیہ کے لئے قربانیاں دیں ، اور اس  مقصد کے حصول کے  لئے اپنا سبھی کچھ نچھاور کیا ہے ، ا یسے میں یادوں کےدریچے سے ایک ایسی شخصیت کا چہرہ جھانک رہا ہے  ، مطالعہ جن کا  اوڑھنا بچھونا تھا ، تحقیق و تصنیف کے میدان میں کچھ کر دکھانے کی تڑپ ان کے رگ و پے میں سمائی ہوئی تھی

خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ سر تسلیمے خم ہے۔۔۔ تحریر : اطہر ہاشمی

Bhatkallys Other

تلفظ بگاڑنے کی ذمے داری ہمارے برقی ذرائع ابلاغ بخوبی نباہ رہے ہیں۔ ابھی کل کی بات ہے (یکم جنوری 2019ء) نیب کے چیئرمین جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال اپنے ادارے پر تنقید کے جواب میں کہہ رہے تھے ’’سرِ تسلیم خم ہے‘‘۔ انہوں نے حیرت انگیز طور پر صحیح تلفظ ادا کیا، لیکن جب ایک چینل کے نیوز کاسٹر نے ان کی بات دہرائی تو سرکو تسلیمِ خم کردیا یعنی سرے تسلیم کے بجائے سر تسلیمِ خم فرمایا (تسلیمے خم)۔ جب یہ صورتِ حال ہو تو کوئی کہاں تک غلط تلفظ سے بچے۔ پھر بھی کئی لوگوں کو اس کی فکر رہتی ہے۔ لتمبر، خیبر پختون خ

سیاحت ماجدی کی مختصر سیاحت۔۔۔ تحریر : ڈاکٹر اسلم انصاری

Bhatkallys Other

مولانا عبدالماجد دریابادیؒ کے نام نامی سے تو کان نوعمری ہی میں آشنا ہو گئے تھے ۔کالج کے زمانہء طالب علمی میں ان کے کالم پڑھنے کا بھی اتفاق ہوتا رہتاتھا ۔یہ کالم جوان کے مخصوص طرزِ بیان کے مظہر ہوتے تھے پاکستان کے ایک ممتا ز اخبار میں ’صدقِ جدید‘ سے نقل ہوتے تھے ۔ میں ان کے یہ کالم پڑھتا تو تھا لیکن ان کا طرزِ بیان مجھے خاصا غیر مانوس لگتا تھا ۔حیرت ہوتی تھی کہ یہ بزرگ کس طرح لکھتے ہیں ؟ ایسا لگتاتھا جیسے کوئی سامنے بیٹھا باتیں کر رہا ہے ۔ہلکے پھلکے طنز کے تیر بھی چلائے جاتا ہے اور ہمدردانہ پند و

عالمی کانفرنس برائے اسلامی اتحاد ۔۔۔تحریر:۔۔ڈاکٹر بدر الحسن قاسمی۔ کویت

Bhatkallys Other

مکہ مکرمہ میں منعقد ہونے والی اسلامی اتحاد کانفرنس دسمبر ۲۰۱۸ء کی ۱۲ اور ۱۳؍تاریخ کو مکہ مکرمہ میں ایک بڑی عالمی کانفرنس منعقد ہوئی جس کا عنوان: -        عالمی کانفرنس برائے اسلامی اتحاد -        افراد امت کو ملت سے خارج کرنے کے نقصانات -        ‘‘وطنی حکومت’’ کے تصور اور اس کی مشترکہ قدروں کی حمایت رکھا گیا تھا۔ کانفرنس کا انعقاد ‘‘رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ’’ کی دعوت پر اور سعودی عرب کے بادشاہ معظم کی سرپرستی میں ہوا اور اس کا افتتاح مکہ مکرمہ کے گورنر شاہزادہ خالد الفیصل نے کیا۔ ارض ح

ہمارے استاد۔۔۔ مولانا رشید اشرف صاحب۔۔۔ تحریر : ابن الحسن عباسی

Bhatkallys Other

دار العلوم کراچی میں ہمارے ہر دل عزیز استاد مولانا رشید اشرف صاحب کل شام، مسافران آخرت میں شامل ہو گئے، دو سال قبل ان پر فالج کا حملہ ہوا تھا، اس وقت ان کی صحت یابی کی دعا کے لئے درج ذیل ایک شذرہ لکھ کر سوشل میڈیا پر اس ناکارہ نے نشر کردیا تھا: "حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کی جن کتابوں کو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہے ان میں ان کے سنن ترمذی شریف کے درسی افادات پر مشتمل کتاب درس ترمذی ہے، سنن ترمذی شریف کی اردو شروح میں جو قبول عام اسے حاصل ہے، شاید ہی کسی اور شرح کو ہو... لاتعداد طلبہ و

شریک مطالعہ۔۔۔ تحریر : نعیم الرحمن

Bhatkallys Other

فروغ ِ مطالعہ اور کتب بینی کے لیے اردو میں کئی اچھی کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں نامور مصنف اور دانش ور محمد کاظم کی ’’کل کی بات‘‘ اور منفرد مزاح نگار محمد خالد اختر کے ’فنون‘ میں کتابی تبصروں کو آج نے ’’ریت پر لکیریں ‘‘ کے نام سے شائع کیا۔ تبصرۂ کتب پر رفیع الزماں زبیری صاحب کی کئی کتابیں شائع ہوچکی ہیں لیکن ایمل مطبوعات نے معروف اہلِ علم کی مطالعاتی زندگی پر مبنی بہت ہی خوب صورت کتاب ’’میرا مطالعہ‘‘ کے نام سے شائع کی۔ اس شاہکار کتاب کے مؤلف عرفان احمد ہیں اور اس کی تدوین عبدالرؤف نے کی ہے

قوم نوائط کا ایک مایہ ناز سپوت ۔۔۔ بانی انجمن ایف ،اے حسن: از:  ایف، اے محمد الیاس جاکٹی ندوی 

Bhatkallys Other

تاریخ نوائط ایک ورق (سنہرا باب) پہلی صدی ہجری کے اوائل میں اشاعت اسلام کی غرض سے تشریف لانے والے ان عربی النسل مسلمانوں پر مشتمل بحیرہ عرب کے مشرقی ساحل پر آباد ایک چھوٹی سی بستی ،چند ہزار کی آبادی گنے چنے محلے، نہ صرف ہر محلہ میں ایک مدرسہ ،بلکہ کئی کئی مدرسے ،پورے شہر میں جملہ ۲۳ دینی مدارس ، درجنوں حافظ پورے گاؤں میں نہیں بلکہ ہر خاندان میں ،ہر بچی حافظ قرآن ،ہر خاتون برقعہ پوش ،مسجدیںآباد،ہر شخص نہ صرف نمازی بلکہ تہجد گذار ، مسلمان دیندار،ثقافت عربی ،تہذیب اسلامی ،اس کا چشم دید گواہ مشہور

جہد مسلسل و اخلاص عمل کی ایک عمدہ مثال ۔۔۔از:مولانا بدر الحسن قاسمی

Bhatkallys Other

مولانا اسرار الحق قاسمیؒ جہد مسلسل واخلاص عمل کی ایک عمده مثال مولانا بدر الحسن قاسمی ۔ الکویت عربی زبان کے نامور ادیب اور بلند پایہ مصنف احمد امین نے ‘‘موت ’’ کے حتمی ہونے کی تعبیر اس طرح کی ہے:‘‘الموت قافیۃ کل حیّ’’ (ہر زندہ شخص کی انتہا موت ہے)۔لیکن قرآن کریم کی تعبیر اس سے زیادہ دقیق اور معنی خیز ہے (کل نفس ذائقۃ الموت) ‘‘ہر نفس کو موت کا مزا چکھنا ہے’’۔اللہ رب العزت نے جس طرح ‘‘زندگی’’ بنائی ہے اسی طرح ‘‘موت’’ کی بھی تخلیق کی ہے  (خلق الموت والحیاۃ لیبلوکم أیکم أحسن عملاً)۔  اب نہ تو ہر ش

قوم مسلم کا خونِ شہیداں آخرکب رنگ لائے گا ؟)!دوسری قسط( ۔۔۔۔۔از:ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ 

Bhatkallys Other

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے...........  ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف جو فسادات کا سلسلہ چل پڑا ہے اس کا جائزہ لینے کی ضرورت اس وجہ سے بھی آن پڑی ہے کہ اس کے پیچھے فسطائی ایجنڈا ہے اور ایک منظم پالیسی کے تحت اسے آگے بڑھا یا گیا ہے۔ اور آج ا س کا گراف عروج پر پہنچ چکا ہے تو فسادات کی تاریخ کے مطالعے سے حقیقی ایجنڈے کو سمجھنا آسان ہوجائے گا۔ مضمون کی سابقہ قسط پرجہاں بہت سے احباب نے ستائشی کلمات کہے وہیں،ہمارے ممبئی کے گروپ میں ایک ساتھی کچھ برہم سے نظر آئے۔ ان کا ردعمل یہ تھا کہ سب سے زیادہ فسادات ت

اُردو زبان  کا پہلا صحافی۔ منشی پیارے لال شاکر میرٹھی... عابد رضا بیدار

Bhatkallys Other

اس مراسلہ میں ہم ایک نیا تحفہ پیش کرتے ہیں۔ یہ ایک تعارف ہے اردو زبان کے سب سے پہلے صحافی کا۔ ان کا نام تھا منشی پیارے لال شاکر میرٹھی۔ انہوں نے کئی صحافتی جریدوں پر کام کیا تھا اور پوری عمر اسی کام میں صرف کی ۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے میرٹھ  (اُتر پردیش) کے رہنے والے تھے اور مذہباً عیسائی تھے۔ یہ مضمون جو یہاں تعارف کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے یہ انکے گزشتہ پرچے العصر کی پانچ سالہ اشاعت کا نچوڑ ہے۔ العصر لکھنؤ سے شایع ہوتا تھا کیونکہ شاکر میرٹھ سے لکھنؤ منتقل ہو گئے تھے اور العصر کی اشاعت کے دور

نماز تقریب نہیں عبادت ہے۔۔۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

جیسے جیسے دن گذرتے گئے ہندو اور مسلمانوں کی دوری بڑھتی گئی اور یہ لعنت آر ایس ایس کی ہے جس نے ہر ہندو کے دماغ میں یہ بٹھا یا کہ مسلمان ملچھ ہوتے ہیں اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پولیس کا ایس پی جسے ہر مذہب کے بارے میں سب کچھ معلوم ہونا چاہئے تھا وہ نوئیڈا میں کہہ رہا ہے کہ ’’صرف نماز ہی نہیں بلکہ ہر مذہبی تقریب کے لئے اجازت لینی ہوگی‘‘ وہ یہ بات اس لئے کہہ رہا ہے کہ وہ نماز کو تقریب سمجھ رہا ہے۔ نوئیڈا میں جو سرکاری اور غیرسرکاری مسلمان ملازم ظہر کی نماز ایک پارک میں پڑھ لیتے ہیں اس کے بارے میں اگر ایس

Kid saved from slavery by Kailash Satyarthi is now a Lawyer fighting for a rape survivor

Bhatkallys Other

“That person who helps others simply because it should or must be done, and because it is the right thing to do, is indeed without a doubt, a real superhero.” This is a quote by Stan Lee that flashes at the very end of ‘Spider-Man: Into The Spider-Verse’ and encapsulates the core meaning of being a superhero. And if we take a look at Kailash Satyarthi’s body of work, he’s as much of a superhero as the fictional ones we see on-screen. Today, my son Amar Lal stood in the court for a 17 yrs o

شہپر آتش ۔۔ عبد الکلام ۔۔۔ تحریر: آصف جیلانی

Bhatkallys Other

سن ساٹھ کے عشرے کے اوایل میں جب میں دہلی میں ہندوستان کے ممتاز ساینس دان اے پی جے عبدالکلام سے ملا تو دھان پان ایسے شخص کو دیکھ کر جس کے بال بیچ کی مانگ کے ساتھ شانوں تک بکھرے ہوئے تھے اور جس کے خواب زدہ چہرے پر گھنی بھنویں دو کمانوں کی مانند نظر آتی تھیں ان پرخوابوں میں گم ایک شاعر کا زیادہ گمان ہوتا تھا۔ عبد الکلام امریکی خلائی تحقیقی ادارے ناسا میں مختصر تربیتی کورس مکمل کرنے کے بعد امریکا سے وطن لوٹے تھے اور وہ ہندوستان کے پہلے راکٹ کی تیاری میں مصروف تھے۔ جب عبدالکلام ناسا میں تھے تو ان ک