Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors
Abdul Haleem Mansoor
Abdul Majid Daryabadi
Abdul Mateen Muniri
Abdur Raqeeb M.J Nadwi
Ahmed Hatib Siddiqui
Asif Jilani
Athar Hashmi
Bhatkallys
Dr Badrul Hasan Qasmi
Dr Haneef Shabab
Dr. F Abdur Rahim
Dr. Tahir Masud
Hafiz Naumani
Kaldip Nayar
Masoom Muradabadi
Masud Ahmed Barkati
Mohammed Mateen Khalid
Muhammed Furqan
Nizamuddin Nadwi
Riyazur Rahman Akrami Nadwi
Suhail Anjum
میرے پیارےاردگان! رک جاؤ – زبیر منصوری
میرے منہ میں خاک ! مگر مجھے صاف نظر آ رہا ہے کہ مسلمانوں کا ہر دلعزیز لیڈر طیب اردگان تیزی سے اس کھائی کی طرف لڑھک رہا ہے جہاں اس سارے انقلاب کے “منصوبہ ساز” اسے دھکیلنا چاہتے تھے.عین ممکن ہے کہ یہ انقلاب پلان ہی ناکامی کے لیے کیا گیا ہو. اردگان جسے مخالف کی لوز بال سمجھ بیٹھا ہے، وہ دراصل بالر کی “پلانڈ لوز ڈلیوری” تھی اور وہ چاہتا تھا کہ اردگان کریز سے باہر آ کر چھکا مارے اور بائونڈری پر پہلے سےموجود کھلاڑی اسے کیچ کر لے کارروائیوں کا پھیلتا دائرہ دراصل ترک معاشرے کی تقسیم کی طرف بڑھ رہا ہے
تبلیغی جماعت میں بڑے آپریشن کی ضرورت۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی
از: حفیظ نعمانی خبر ہمیں بے شک تاخیر سے ملی لیکن اس لئے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ دوسرے ذرایع سے کافی پہلے سے اڑتی اڑتی خبریں آرہی تھیں کہ مرکز تبلیغ بستی نظام الدین میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے ۔اور اختلاف نیچے نہیں ،اوپر بلکہ سب سے اوپر ہے ۔کئی سال پہلے میوات سے خبریں آئی تھیں کہ وہاں بہت بڑا اجتماع ہوا ۔لیکن دہلی سے بڑوں میں کوئی نہیں آیا جبکہ بانئ جماعت حضرت مولانا الیاس ؒ کے دل میں میوات والے انکا سرمایہ تھے ۔اس لئے کہ کام ہی میوات سے شروع ہوا تھا ۔اور اسے ملک اور دنیا میں پھیلانے میں بھی میوات کا
چھکّا سنگھ سدّھو کا آخری چھکّا۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی
از: حفیظ نعمانی 2014کے لوک سبھا کے الیکشن میں شری نریندرمودی کو کچھ بھی کرنے کی چھوٹ دیدی گئی تھی۔ انہوں نے ایسی ایسی تبدیلیاں کیں کہ عام حالات ہوتے تو پارٹی میں بغاوت ہوجاتی۔ اترپردیش کے ایک بہت بڑے لیڈر مرلی منوہر جوشی کو الہ آباد کے بجائے کانپور سے کھڑے ہونے کا حکم دیا کلراج مشرا جہاں سے چاہتے تھے وہاں سے انہیں ہٹا دیا۔ لکھنؤ کی وہ سیٹ جو اٹل جی کے بعد لال جی ٹنڈن کی ہونا چاہئے تھی وہاں سے راج ناتھ سنگھ کو کھڑا کر دیا اور امرت سر جوسدّھو کی سیٹ تھی جہاں سے دوباروہ الیکشن جیت چکے تھے ان سے
مدارسِ اسلامیہ کا نیا تعلیمی سال: چند گذارشات۔۔۔۔ از: مولانا سید احمد ومیض ندویؔ
استاذ حدیث وشعبہ صدر دعوۃ دار العلوم حیدرآباد دوڈھائی ماہ کی طویل تعطیلات کے بعد مدارسِ اسلامیہ کی تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز ہو رہا ہے، ہرطرف جدید وقدیم داخلوں کی ہماہمی ہے، بہت سے اداروں میں باقاعدہ تعلیم شروع ہوچکی ہے، اضلاع اور اطراف واکناف کے تشنہ گانِ علوم ان مدارس کا رخ کر رہے ہیں۔ مدارسِ اسلامیہ ملک وملت بلکہ انسانیت کی تقدیر بدلنے میں کیا کچھ رول ادا کرسکتے ہیں، یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے، بقول مولانا علی میاں ندویؒ ’’مدرسہ ہرمرکز سے بڑھ کر مستحکم، طاقتور، زندگی کی صلاحیت رکھنے والا ا
ناکام بغاوت کے بعد اردوان کوسنگین مشکلات کا سامنا۔۔۔۔از: آصف جیلانی
از: آصف جیلانی بلا شبہ عوام کی طاقت کے بل پرترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے فوج کے ایک دھڑے کی بغاوت ناکام بنا دی ہے لیکن انہیں اب پہاڑ ایسی مشکلات کا سامنا ہے۔ یورپی یونین اور امریکا کے وزراء خارجہ نے صدر اردوان کو خبر دار کیا ہے کہ وہ ناکام فوجی بغاوت کے بعد فوج اور عدلیہ کے خلاف انتقامی کاروائیوں کے سلسلہ میں قانون کی حکمرانی کا احترام ملحوظ خاطر رکھیں ۔ برسلز میں یورپی یونین کے 28وزراء خارجہ اور امریکا کے وزیر خاجہ جان کیری نے اپنے اجلاس میں کہا ہے کہ ناکام بغاوت کے ذمہ داروں کو بلا شبہ
اردوان کو خطرہ صرف اردوان سے ہے – آصف محمود
طیب اردوان بلاشبہ اپنی بہت سی خوبیوں کی وجہ سے مقبول ترین رہنماءوں میں شامل ہوتے ہیں۔ ہم پاکستانی ان کے ویسے ہی مقروض ہیں کہ جب ہماری اپنی حکومت خاموش رہی، اس وقت طیب اردوان نے بنگلہ دیش سے سفیر واپس بلا لیا تھا۔ ان کی مقبولیت کے بارے میں بھی ہماری آراء غلط ثابت ہوئیں۔ خیال تھا کہ اپنی آمرانہ پالیسیوں کی وجہ سے وہ خاصے غیر مقبول ہو چکے ہوں گے اور ان کے حق میں ترکی میں کوئی خاص آواز نہیں اٹھے گی لیکن ہم نے دیکھا کہ انہوں نے کال دی اور عوام نے ٹینکوں کا رخ موڑ دیا ۔ کوئی اور مانے نہ مانے، میں تسلی
تختہ پلٹنا مشکل تر ہوتا جا رہا ہے ؟ از: وسعت اللہ خان
دو وارداتیں ایسی ہیں جو مکمل ہوجائیں تو کوئی سزا نہیں۔ادھوری رہ جائیں تو قانوناً قابلِ گرفت ہیں۔ ایک خود کشی اور دوسرا کسی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش۔ دونوں طرح کی وارداتوں میں اگر ارادہ پختہ ، منصوبہ بندی مکمل اور آلہِ واردات موثر نہ ہو اور ایکشن سرعت سے نہ ہو تو کٹہرا اور سلاخیں مقدر ہو سکتی ہیں۔خودکشی کا عمل چونکہ ذاتی ہے لہٰذا اس میں کامیابی کا تناسب تختہ الٹنے کی کوشش کے مقابلے میں زیادہ ہے۔جب کہ تختہ پلٹانے کے لیے ایک سے زائد افراد کو منصوبے کا حصہ بنانا پڑتا ہے۔یہ عمل ایک طرح کا جوا ہے
اب دیکھو کیا دکھائے نشیب وفراز دہر؟۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی
از: حفیظ نعمانی کل کا دن سال کے خوبصورت دنوں میں سے ایک حسین دن تھا میری بیٹی جو جدہ میں رہتی ہے وہ اپنے شوہر اور بیٹے کے ساتھ آئی ہوئی ہے ۔گھر کے دوسرے بڑوں اور بچوں کی بھی چھٹی تھی ۔غرض کہ سب نے دن کے چند گھنٹے گھر سے باہر گذارنے کی خواہش ظاہر کی اور میں نے دل کی گہرائی سے خدا حافظ کہہ دیا ۔مغرب کی اذان کے دوران سب واپس آگئے ۔معلوم کرنے پر بتا یا کہ جنیشور مشرا پارک گئے تھے ۔اور پھر اس پارک کی ایسی تعریف کی کہ جیسے وہ بھی لکھنؤ کا ایک عجوبہ ہو ۔اس سے زیادہ حیرت یہ سن کر ہوئی کہ اگر کوئی سیا
ایدھی:خدا خدمت والوں کو پسند کرتا ہے
جاوید چوہدری یہ 1951ء کی بات ہے، نوجوان تاجر نے کپڑے کا کاروبار شروع کیا، وہ مارکیٹ سے کھدر خریدتا تھا اور معمولی منافع لے کر سارا کپڑا بیچ دیتا تھا، وہ ایک صبح کپڑا مارکیٹ گیا، مارکیٹ میں دو راہ گیروں کے درمیان لڑائی ہوئی اور ایک نے دوسرے کو چھری مار دی، زخمی سڑک پر گرا اور تڑپنے لگا، لوگ جمع ہوئے اور زخمی کو دیکھنے لگے، وہ نوجوان بھی تماشائیوں میں شامل ہو گیا، وہ کبھی زخمی کو دیکھتا تھا اور کبھی لوگوں کو، کوئی شخص مدد کے لیے تیار نہیں تھا، وہ زخمی پٹھان تھا، وہ پشتو میں دہائی دے رہا تھا، زخمی
ترک بغاوت ڈرامہ نہیں: استنبول سے خلیل طاقار
ان تمام لوگوں کے نام جو ترکی میں ہونے والی اس خونی بغاوت اور بین الاقوامی سازش کو ڈرامہ سمجھتے ہیں! اس خونی بغاوت کو ڈرامہ وہ لوگ کہتے ہیں جنھیں اس سازش کی ناکامی کی ذلت اٹھانی پڑی۔ آپ مطمئن رہیے کہ ہم ترکی کے لوگ سیدھے سادہ ہوسکتے ہیں لیکن بے وقوف لوگ نہیں ہیں جو ہر کسی کی جھوٹی بات پر یقین کرلیں۔ تین دن سے ترکی میں جو ہوا ہے اور ہورہا ہے اور ترک پولیس، فوج کے ایک حصے اور ترکی کے عوام نے اس سازش کو روکنے کی خاطر جو قربانیاں دی ہیں اسے نہ بغاوت کرنے والے وہ لوگ سمجھ سکتے ہیں اور نہ اس المناک
ادبی صفحہ ۔ ندیم صدیقی
ندیم صدیقی مطلع جب تک آدمی اپنے حلقے اور شناساؤں کے درمیان بے ضرر ہو کر رہتا ہے وہ اسے جینے دیتے ہیں لیکن کچھ دنوں کے بعد اس کے تعزیتی جلسے جلوسوں سے فارغ ہونے کے بعد اپنی ادبی فہرست سے اس کا نام کاٹنے میں دیر نہیں لگاتے۔ میں تو اب زندہ نہیں ہوں مگر یہ بات عالم بالا میں آجانے کے بعد لکھ رہاہوں کہ اوّل تو زیادہ تر فہرستوں میں میرا نام رہا ہی نہیں لیکن جب بھی ادبی حوالوں میں اب اگر میرا نام آئے گا وہ کاٹے جانے کے لئے نہیں آئے گا یہ گمان مجھے اس لئے بھی ہے کہ بقول ِفراق: ’ادیب کی زند
مظلوموں کی مدد کے لئے کمر کسنے کی درخواست ۔ حفیظ نعمانی
از: حفیظ نعمانی دادری سانحہ میں گریٹر نویڈا کورٹ نے اخلاق (شہید)کے کنبہ پر گؤ کشی کا کیس درج کرنے کا حکم دے دیا ہے ۔واضح ہو کہ ایک شخص نے شکایت کی تھی کہ گاؤں میں گؤ کشی ہوئی ہے ۔اور جو گوشت ملا تھا و ہ فارنسگ جانچ میں ثابت ہوگیا کہ گائے کا ہے ۔اخلاق مرحوم کے بھائی جان محمد ،انکی ماں اصغری،انکی بیوی اکرامن ،ان کابیٹا دانش ،انکی بیٹی شائستہ اور رشتہ دار ملزم بنائے گئے ہیں ۔ ستمبر2015میں (تاریخ درج نہیں ہے)مشتعل ہجوم نے محمد اخلاق کے گھر میں گھس کر اسے مار مار کر شہیدکردیا تھا ۔بھیڑ کا غصہ اس اف
انقلابِ محمدی ﷺ ۔ محمد عبد اللہ بھٹی
دنیا بھر سے آئے ہوئے عاشقانِ رسول ﷺ سے مسجد نبوی ﷺ کا چپہ چپہ مہک اور چمک رہا تھا عشقِ رسول ﷺ کی آنچ سے عاشقوں کے چہرے گلنار ہو رہے تھے دنیا بھر سے عاشقوں کے یہ قافلے صدیوں سے پروانوں کی طرح مدینہ کا رُخ کر تے ہیں اور پھر یہاں آکر برسوں کے زنگ آلودہ دلوں اور بے نور روحوں کو روشنی سے منور کر کے واپس جا تے ہیں ۔ میں خو شگوار حیرت سے پروانوں کو دیکھ رہا تھا جو دیوانہ وار مقناطیسی کشش کی طرح دور دراز کے علاقوں سے یہاں آئے تھے ۔ میں چشم تصور سے مسجد نبوی ﷺ کچے د لان کو دیکھ رہا تھا جہا ں سے چودہ صدی
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
از قلم مدثر احمد 9986437327 نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی علامہ اقبال نے یہ شعر بہت پہلے اس قو م کے حالات و جذبات کو دیکھتے ہوئے شاید اسی لئے کہا تھا کہ اس قوم میں جذبات و احساسات اور شجاعت کی کمی نہیں ہے بلکہ اس قوم کو بس بیدار کرنے اور اسکے منصب کو یاد دلانے کی ضرورت ہے۔ موجودہ حالات ہر کسی کی نظر کے سامنے ہیں ، اخبارات کیا کررہے ہیں ، ٹی وی میڈیا کیا کررہاہے ، کس طرح سے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہاہے اور کو نسی تنظیم اور ادارہ مسلمانوں کے ح
بھاجپا مکت اتر پردیش کا نعرہ لیکر اُتری کانگریس
حفیظ نعمانی کل کی شام اور رات ہر اس آدمی کے لئے دلچسپ رہی ہوگی جسکا تعلق سیاست سے ہو یا صحافت سے۔دوپہر میں ایک اعلان کیا گیا تھا کہ آج رات تک بتادیا جائیگا کہ وزیر اعلیٰ کے لئے کانگریس کا چہرہ کون سا ہوگا؟جبکہ ایک ہفتہ سے یہ اشارے دئے جارہے تھے کہ دہلی کی سابق وزیر اعلیٰ مسز شیلا دکشت کوکانگریس اترپردیش کی وزیر اعلیٰ بنانا چاہتی ہے ۔خداخدا کرکے شام ہوئی اور اس سے زیادہ شور شرابہ میں شیلاجی کا اعلان کیا گیا جتنے شور اور جو ش سے مسٹر راج ببر کی صدارت کا اعلان کیا گیا تھا۔ اسی کے ساتھ اعلان کیا گی
اٹھ کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے
۔ڈاکٹر جسیم محمد ابھی بنگلہ دیش کے ڈھاکہ شہراور ترکی کے استنبول میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے زخم خشک نہیں ہونے پائے تھے کہ گذشتہ دنوں فرانس کے نیس میں ہونے والے دہشت گردانہ حملہ نے انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ یہ ایسے دہشت گردانہ حملے ہیں جن کی جس قدرمذمت کی جائے کم ہے کیونکہ یہ دہشت گردانہ حملے تمام انسانیت پر حملوں کے مترادف ہیں۔ دنیا کا کوئی مذہب دہشت گردی کی تعلیم نہیں دیتا اور جو لوگ اس قسم کے حملوں میں معصوم اور بے گناہ انسانوں کی جان سے کھیلتے ہیں وہ جانوروں سے بھی بدتر ہیں۔ادھر
’’آخ تٗھوآپ کی شاعری پر۔۔۔ آخ تٗھو!‘‘
مُمبئی میں اُردو کے ایک ممتاز شاعر وادیب اور بالخصوص زبان و فن کے منتہی محمد اظہر حسین نقوی معروف بہ پرتوؔ لکھنوی تھے۔ ان سے ایک انٹرویو میں ہم نے پوچھا کہ حضرت آپ کون کون سی زبان جانتے ہیں؟ جواب ملا : میاں اُردو، فارسی، ہندی کچھ انگریزی اور عبرانی۔ عبرانی کا نام سنتے ہی ہم نے ان کی طرف تجسس بھری نظروں سے دیکھا اور پوچھا کہ حضور والا ! عبرانی سیکھنے کی کیا ضرورت آن پڑی؟ اب ان کا جواب جو سنا تو پھر حیرت کے ساتھ ہم ایک عجب کیفیت سے دوچار ہوئے۔ انہوں نے کہا تھا : میاں جوانی میں م
جدید تعلیم کے ساتھ اخلاقی تعلیم کی اہمیت اور افادیت
عمر فراہی umarfarrahi@gmail.com تعلیم ایک ایسا موضوع ہے جو اٹھارہویں صدی کے بعد سے ہی ہمارے درمیان ایک سنجیدہ بحث اور تحقیق کا عنوان بن چکا ہے -اس لئے جب ہم اس موضوع پر بحث کرنے کی جرات کرتے ہیں توہمیں ہندوستان میں جدید درس وتدریس اور تعلیمی قافلے کے روح رواں سرسید احمد خان, صابو صدیق, مولانا شبلی, مولانا حمیدالدین فراہی اور مولانا علی میاں ندوی سے لیکر ڈاکٹر رفیق ذکریا غلام وستانوی, ولی رحمانی , ڈاکٹر ذاکر نایک اور مبارک کاپڑی کی کاوشیں بھی ذہن میں ضرور رکھنی چاہیںےاور یہ بات بھی ذہن میں