Search results

Search results for ''


Al Hasa Farmer's flood markets with ‘Rutab’

Bhatkallys Other

Saudi Gazatte | 26 July 2016 AL-AHSA — Markets in the eastern city of Al-Ahsa and other parts of the Kingdom are flooded with a variety of Rutab (ripe and soft) dates as extreme temperature has made the fruits ripe earlier than expected. In the beginning of the season, supply of Rutab dates normally is less with prices going up, said Mubarak Al-Khanin, a farmer who estimated Rutab prices at SR20 to SR45 per kg. “Al-Gharr, which is one of best varieties, is sold for SR40 per kg in the begi

معزز جنگی مجرم صاحبان۔۔۔از: وسعت اللہ خان

Bhatkallys Other

جب صدام حسین کو انسانیت سوز اور جنگی جرائم کی پاداش میں اکتیس دسمبر دو ہزار چار کی شب پھانسی دی گئی تو دورِ جدید کے ’’ چنگیز خان اور عرب ہٹلر ’’ کے خاتمے اور عراق کو دورِ جمہوریت سے سرفراز کرنے کے مشن کی کامیابی پر تالیاں بجانے والوں کی صفِ اول میں جارج بش اور ٹونی بلئیر سب سے نمایاں تھے۔ صدام حسین کی پھانسی سے ساڑھے تین ماہ قبل پندرہ ستمبر کو اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے الفاظ چبائے بغیر کہا ’’ ہاں عراق پر امریکی قیادت میں حملہ غیر قانونی تھا۔یہ اقوا

گاندھی کو کس نے مارا؟۔۔۔از: سہیل حلیم

Bhatkallys Other

ڈیا میں کانگریس پارٹی کے نائب صدر راہل گاندھی کے سامنے ایک لمحۂ فکریہ ہے: یا تو وہ یہ ثابت کریں کہ مہاتما گاندھی کے قتل میں ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس کا ہاتھ تھا یا پھر آر ایس ایس سے معافی مانگیں۔ مہاتاما گاندھی کو آزادی کے صرف پانچ مہینے بعد 30 جنوری 1948 کو قتل کیا گیا تھا اور ان کے قتل کے جرم میں ناتھو رام گوڈسے کو پھانسی دی گئی تھی۔ گوڈسے کا تعلق آر ایس ایس اور ہندو مہاسبھا سے تھا اور مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد اس وقت کے وزیر داخلہ سردار ولبھ بھائی پٹیل نے آر ایس ایس پر عارضی پابندی بھ

تیری ذہنیت کا غم ہے ،غمِ بال وپر نہیں ہے۔۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

از:حفیظ نعمانی جو کچھ گجرات کے اونا میں دلتوں کے ساتھ ہوا یا بی جے پی اتر پردیش کے نائب صدر دیا شنکر سنگھ نے سابق وزیر اعلیٰ مس مایاوتی کو کہا ۔یا جو دادری کے بساڑہ گاؤں میں مرحوم اخلاق احمد اور انکے گھر والوں کے ساتھ ہوا وہ نہ حادثہ تھا ،نہ سانحہ بلکہ اس ذہنیت کا مظاہر ہ تھا جو انکے دھرم سے بنتی ہے ۔ بات اخلاق کے گھر سے شروع کریں تو اگر دماغوں اور دلوں میں دشمنی نہ بھری ہوتی تو اس خبر کے بعد کہ اخلاق کے گھر میں گائے کا گوشت ہے ۔ہو نا یہ چاہئے تھا کہ وہ دو چار بزرگ جو برسوں سے انکے پڑوس میں رہ

گیسوئے اردو کی حجامت۔۔۔۔ از:اطہر علی ہاشمی

Bhatkallys Other

از:اطہر علی ہاشمی علامہ اقبالؒ نے داغ دہلوی کے انتقال پر کہا تھا : گیسوئے اردو ابھی منت پذیر شانہ ہے ایم اے اردو کے ایک طالب علم نے اس پر حیرت کا اظہار کیا کہ داغ نے یہ وضاحت نہیں کی کہ کس کے شانے کی بات کی جارہی ہے جب کہ غالب نے صاف کہا تھاکہ: تیری زلفیں جس کے شانوں پر پریشاں ہو گئیں اس سوال پر ہم بھی پریشان ہوکر رہ گئے۔ داغ دہلوی نے جس شبہ یا شکوے کا اظہار کیا تھا وہ ایسا غلط بھی نہیں۔ ٹی وی چینلوں پر گیسوئے اردو کی جس طرح حجامت بنائی جارہی ہے وہ اس کا ثبوت ہے۔ چلیے، ’’مشاق‘‘ طیارے کے

روزنامہ ممبئی اردو نیوز کا تازہ کالم’’ شب و روز ‘‘

Bhatkallys Other

جادو کے سات الفاظ! کوئی ہفتے بھر پہلے کی بات ہے کہ ہم ممبئی کے ایک مشہور مسلم علاقے کی اِنتہائی مصروف سڑک سے گزر رہے تھے کسی زمانے میں اس سڑک پر دو رویہ ٹرام چلا کرتی تھی جس پر ہم ہی نہیں ہماری عمر کے اکثر لوگ سفر کر چکے ہیں۔ ٹرام بند ہوئی تو اس پر بس چلنے لگی۔ اب عالم یہ ہے کہ اس سڑک پر دُکانوں کے باہر دونوں جانب سڑک پر بڑی بڑی چار پائیوں پر دُکانیں لگی ہوئی ہیں جن پر ہزاروں نہیں لاکھوں روپے کا کاروبار ہوتا ہے چونکہ یہ علاقہ ممبئی کے مسلم علا قوں کا گنجان ترین محلّہ ہے۔ گلی اندر گلی خاصی آب

2017کا معرکہ اور تیاریاں۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

از: حفیظ نعمانی دو دن پہلے لکھنو میں چھوٹی بڑی ایک درجن سے زیادہ مسلم پارٹیوں کا ایک محاذ بنایا گیا ہے ۔جو آنے والا الیکشن ملکر لڑے گا ۔اس سے پہلے بلکہ بہت پہلے سے ڈاکٹر ایوب صاحب ایک مہنگے اخبار کے پورے اور پہلے صفحہ پر اپنی پارٹی کا اشتہار دیکر ہر سیاسی اور ملی پارٹی کو ڈرا رہے ہیں کہ وہ کروڑوں روپئے خرچ کرکے اس بار الیکشن میں 2012کے الیکشن کی اس ذلت کا پورا بدلہ لیں گے جس میں 2سو سے زیادہ سیٹیں جیتنے کا خواب دیکھنے والی پیس پارٹی کو صرف تین سیٹوں پر سمٹنا پڑا تھا ۔ ڈاکٹر صاحب کا ہر اشتہار ا

ترکی:ناکام انقلاب کے بعدکامنظرنامہ!۔۔۔۔۔ از:نایاب حسن

Bhatkallys Other

گزشتہ15،16جولائی کی درمیانی شب میں ترکی فوج کے ایک جتھے کی جانب سے وہاں کی حکومت کوہائی جیک کرنے کی کوشش کی گئی،جسے سربراہِ مملکت کے ذہنی استحضار،دانش مندی اور وہاں کے دلیرعوام کے پختہ سیاسی شعور نے ناکام بنادیا۔یہ ایک ایسا واقعہ تھا،جوشعلۂ مستعجل کی مانند اچانک رونماہوااور پھر اچانک ہی انجام پذیر بھی ہوگیا،ترکی کی موجودہ سیاسی و اسٹریٹیجک حیثیت کے پیشِ نظردنیاکے بیشتر بڑے چھوٹے ممالک کی نگاہیں وہاں کے حالات پر ٹکی ہوئی تھیں کہ دیکھیے یہ رات کیسی صبح لاتی ہے،میڈیاکے ایک طبقے نے تویہ طے بھی کرلیا

ریاست غصے سے نہیں چلتی......از: وسعت اللہ خان

Bhatkallys Other

یہاں تک تو ٹھیک تھا کہ جن جن پر اردوان حکومت کا تختہ الٹنے کی ناکام سازش کا ماسٹر مائنڈ یا براہِ راست ملوث ہونے کا شبہہ ہوتا انھیں حراست میں لے کر عام ، خصوصی یا فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے جاتے۔ مگر یہاں تو معاملہ ہی دوسرا نظر آ رہا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ ہر طبقہِ زندگی میں موجود سیاسی و نظریاتی مخالفین کی فہرستیں پہلے سے تیار تھیں اور بس موقع کا انتظار تھا۔ خود اردوان کہہ چکے ہیں کہ ناکام ’’کُو‘‘ کی شکل میں خدا نے موقع دیا ہے کہ ملک کو متوازی کینسر سے نجات دلائی جائے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ک

2016 on track to be hottest year ever: UN

Bhatkallys Other

Global temperatures for the first six months of this year have shattered previous records, setting 2016 on track to be the hottest year ever, the UN weather agency has said. Arctic sea ice melted early and fast, another indicator of climate change and carbon dioxide levels, which are driving global warming, have reached new highs, World Meteorological Organization (WMO) said yesterday. "Another month, another record. And another. And another. Decades-long trends of climate change are reachin

کیا یہ اردوپریس پر حملے کی شروعات ہے؟......از: ڈاکٹرظفرالاسلام خاں

Bhatkallys Other

لندن کے اخبار ڈیلی میل(۱)نے ۶جولائی ۲۰۱۶کے شمارے میں  کسی طفیل احمد کا لکھا ہوا مضمون"مسلم نوجوانوں کو انتہا پسند بنانے کا الزام انٹرنیٹ پر کیو ں لگایاجائے،اخباروں نے خود ہی اپنی مرضی سے یہ لکھا ہے" شائع کیا ہے۔ طفیل احمد پہلے بی بی سی کی اردو سروس میں کام کرتے تھے اور اب اچانک"اسلامی ماہر" کے طورپر ابھرے ہیں کیونکہ تسلیمہ نسرین، طارق فتح وغیرہ کی طرح وہ بھی وہی لکھتے ہیں جو دشمنان اسلام‌کو خوش کرنے والا ہوتا ہے۔ ان خدمات کی عوض  طفیل کو اب صہیونی پروپیگنڈا تنظیم میمریMEMRIنے اپنے یہاں ملازمت دے

اے بے کسی سنبھال اٹھا تا ہوں سر کو میں ۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

از: حفیظ نعمانی گجرات کے اوٹا میں مردہ گائے کی کھال اتارنے والے دلت لڑکوں کے ساتھ جو کچھ اونچی ذات کے ہندؤں نے کیا ۔اور جس بے رحمی کے ساتھ انہیں باندھ کر اور ننگا کرکے دیر تک مارا اور پھر وہ منظر پورے ملک کے ٹی وی چینلوں پر دکھایا گیا ۔اگر سکھوں کے لڑکوں کے ساتھ کیا گیا ہوتا تو صرف گجرات نہیں دہلی پنجاب ہی نہیں آدھا ہندوستان پھونک دیا گیا ہوتا۔یہ صرف اتفاق تھا کہ پارلیمنٹ کے اجلاس چل رہے تھے اور وزیر داخلہ شری راج ناتھ سنگھ کٹہرے میں تھے ۔اس لئے انھوں نے ایک جملہ تو یہ کہا کہ وزیر اعظم اس خبر

میرے پیارےاردگان! رک جاؤ – زبیر منصوری

Bhatkallys Other

میرے منہ میں خاک ! مگر مجھے صاف نظر آ رہا ہے کہ مسلمانوں کا ہر دلعزیز لیڈر طیب اردگان تیزی سے اس کھائی کی طرف لڑھک رہا ہے جہاں اس سارے انقلاب کے “منصوبہ ساز” اسے دھکیلنا چاہتے تھے.عین ممکن ہے کہ یہ انقلاب پلان ہی ناکامی کے لیے کیا گیا ہو. اردگان جسے مخالف کی لوز بال سمجھ بیٹھا ہے، وہ دراصل بالر کی “پلانڈ لوز ڈلیوری” تھی اور وہ چاہتا تھا کہ اردگان کریز سے باہر آ کر چھکا مارے اور بائونڈری پر پہلے سےموجود کھلاڑی اسے کیچ کر لے کارروائیوں کا پھیلتا دائرہ دراصل ترک معاشرے کی تقسیم کی طرف بڑھ رہا ہے

تبلیغی جماعت میں بڑے آپریشن کی ضرورت۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

از: حفیظ نعمانی خبر ہمیں بے شک تاخیر سے ملی لیکن اس لئے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ دوسرے ذرایع سے کافی پہلے سے اڑتی اڑتی خبریں آرہی تھیں کہ مرکز تبلیغ بستی نظام الدین میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے ۔اور اختلاف نیچے نہیں ،اوپر بلکہ سب سے اوپر ہے ۔کئی سال پہلے میوات سے خبریں آئی تھیں کہ وہاں بہت بڑا اجتماع ہوا ۔لیکن دہلی سے بڑوں میں کوئی نہیں آیا جبکہ بانئ جماعت حضرت مولانا الیاس ؒ کے دل میں میوات والے انکا سرمایہ تھے ۔اس لئے کہ کام ہی میوات سے شروع ہوا تھا ۔اور اسے ملک اور دنیا میں پھیلانے میں بھی میوات کا

چھکّا سنگھ سدّھو کا آخری چھکّا۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

از: حفیظ نعمانی 2014کے لوک سبھا کے الیکشن میں شری نریندرمودی کو کچھ بھی کرنے کی چھوٹ دیدی گئی تھی۔ انہوں نے ایسی ایسی تبدیلیاں کیں کہ عام حالات ہوتے تو پارٹی میں بغاوت ہوجاتی۔ اترپردیش کے ایک بہت بڑے لیڈر مرلی منوہر جوشی کو الہ آباد کے بجائے کانپور سے کھڑے ہونے کا حکم دیا کلراج مشرا جہاں سے چاہتے تھے وہاں سے انہیں ہٹا دیا۔ لکھنؤ کی وہ سیٹ جو اٹل جی کے بعد لال جی ٹنڈن کی ہونا چاہئے تھی وہاں سے راج ناتھ سنگھ کو کھڑا کر دیا اور امرت سر جوسدّھو کی سیٹ تھی جہاں سے دوباروہ الیکشن جیت چکے تھے ان سے

مدارسِ اسلامیہ کا نیا تعلیمی سال: چند گذارشات۔۔۔۔ از: مولانا سید احمد ومیض ندویؔ

Bhatkallys Other

استاذ حدیث وشعبہ صدر دعوۃ دار العلوم حیدرآباد دوڈھائی ماہ کی طویل تعطیلات کے بعد مدارسِ اسلامیہ کی تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز ہو رہا ہے، ہرطرف جدید وقدیم داخلوں کی ہماہمی ہے، بہت سے اداروں میں باقاعدہ تعلیم شروع ہوچکی ہے، اضلاع اور اطراف واکناف کے تشنہ گانِ علوم ان مدارس کا رخ کر رہے ہیں۔ مدارسِ اسلامیہ ملک وملت بلکہ انسانیت کی تقدیر بدلنے میں کیا کچھ رول ادا کرسکتے ہیں، یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے، بقول مولانا علی میاں ندویؒ ’’مدرسہ ہرمرکز سے بڑھ کر مستحکم، طاقتور، زندگی کی صلاحیت رکھنے والا ا

ناکام بغاوت کے بعد اردوان کوسنگین مشکلات کا سامنا۔۔۔۔از: آصف جیلانی

Bhatkallys Other

از: آصف جیلانی بلا شبہ عوام کی طاقت کے بل پرترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے فوج کے ایک دھڑے کی بغاوت ناکام بنا دی ہے لیکن انہیں اب پہاڑ ایسی مشکلات کا سامنا ہے۔ یورپی یونین اور امریکا کے وزراء خارجہ نے صدر اردوان کو خبر دار کیا ہے کہ وہ ناکام فوجی بغاوت کے بعد فوج اور عدلیہ کے خلاف انتقامی کاروائیوں کے سلسلہ میں قانون کی حکمرانی کا احترام ملحوظ خاطر رکھیں ۔ برسلز میں یورپی یونین کے 28وزراء خارجہ اور امریکا کے وزیر خاجہ جان کیری نے اپنے اجلاس میں کہا ہے کہ ناکام بغاوت کے ذمہ داروں کو بلا شبہ

اردوان کو خطرہ صرف اردوان سے ہے – آصف محمود

Bhatkallys Other

طیب اردوان بلاشبہ اپنی بہت سی خوبیوں کی وجہ سے مقبول ترین رہنماءوں میں شامل ہوتے ہیں۔ ہم پاکستانی ان کے ویسے ہی مقروض ہیں کہ جب ہماری اپنی حکومت خاموش رہی، اس وقت طیب اردوان نے بنگلہ دیش سے سفیر واپس بلا لیا تھا۔ ان کی مقبولیت کے بارے میں بھی ہماری آراء غلط ثابت ہوئیں۔ خیال تھا کہ اپنی آمرانہ پالیسیوں کی وجہ سے وہ خاصے غیر مقبول ہو چکے ہوں گے اور ان کے حق میں ترکی میں کوئی خاص آواز نہیں اٹھے گی لیکن ہم نے دیکھا کہ انہوں نے کال دی اور عوام نے ٹینکوں کا رخ موڑ دیا ۔ کوئی اور مانے نہ مانے، میں تسلی