Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors
Abdul Haleem Mansoor
Abdul Majid Daryabadi
Abdul Mateen Muniri
Abdur Raqeeb M.J Nadwi
Ahmed Hatib Siddiqui
Asif Jilani
Athar Hashmi
Bhatkallys
Dr Badrul Hasan Qasmi
Dr Haneef Shabab
Dr. F Abdur Rahim
Dr. Tahir Masud
Hafiz Naumani
Kaldip Nayar
Masoom Muradabadi
Masud Ahmed Barkati
Mohammed Mateen Khalid
Muhammed Furqan
Nizamuddin Nadwi
Riyazur Rahman Akrami Nadwi
Suhail Anjum
رجت شرما کا سیاسی مذاق
از:حفیظ نعمانی انڈیاٹی وی چینل کے مالک رجت شرما پرانے صحافی ہیں مگر ہمیشہ سے یک رُخے ہیں، ۲۰۱۴ء کے لوک سبھا الیکشن سے پہلے بھی وہ بی جے پی کے ترجمان تھے لیکن لوک سبھا الیکشن کے موقع پر تو انھوں نے مودی نوازی کا ایسا حق ادا کیا کہ اگر بی جے پی نواز چینلوںکو ایک پلڑے میں رکھا جائے اور ا نڈیا ٹی وی کو دوسرے پلڑے میں تو وہی جھک جائے گا۔ وزارت عظمیٰ کے امیدوار نریندر بھائی مودی سے ایک انٹر ویو لیا تھا، وہ ا نٹرویو آپ کی عدالت پروگرام میں نہ جانے کتنی بار دکھایا اور ہر دن موقع بہ موقع اس کے ٹکڑے ٹ
ٹی ایم سی دکانوں کا مسئلہ ......بھول کہاں ہوئی ؟! (چوتھی اور آخری قسط)۔۔از: ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے........... میونسپل کاونسل کی قرارداد کے بعد دن ٹلتے رہے اور خود ٹی ایم سی نائب صدر نے ایک بار اسٹانڈنگ کمیٹی چیرمین کے روبرومجھ سے کہا کہ:"ڈی سی سے میری بات ہوگئی ہے۔ اوراب یہ دکانیں سابقہ کرایہ داروں کو ہی دینی ہیں۔ البتہ جنہوں نے اپنی دکانیں زیادہ کرایے پر دوسروں کو دے رکھی ہیں ان کے خلاف اقدام ہوگا۔" اور یہ بات وہ جب بھی ہم لوگوں کے سامنے کہتے توہم فوراً ان کی حمایت کرتے اور پورے تعاون کا وعدہ کرتے رہے تھے۔ خاص بات یہ ہے کہ اس طرح دکانیں سب لیز پر اٹھانے اور گھر بیٹھ
ٹی ایم سی دکانوں کا مسئلہ ......بھول کہاں ہوئی؟(تیسری قسط)۔۔۔۔از: ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ
گزشتہ دو قسطوں میں یہ بات سمجھانے کی کوشش کی گئی کہ مقامی کاروباری حالات اور میونسپالٹی کی ملکیت والی دکانوں کے کرایہ داروں کا مسئلہ کیا ہے اوریہ کس طرح دھیرے دھیرے ایک تصادم اور سنگھر ش کی راہ پر چل پڑا۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ نئے چیف افیسر نے کرایہ داروں کے ساتھ جو ٹکراؤ کی راہ اپنائی اس کے پیچھے بھی ایک بنیادی سبب اس کا اپنا مفاد تھا۔اور سارے مسئلے کو پیچیدہ بنانے میں اسی عنصر کا بڑا رول رہا۔ چیف افیسر کو اپنے ریکارڈ کی فکر تھی: چونکہ میونسپل کاونسل کے افسران کی طرف سے دکانداروں کے خلاف گمراہ
تازہ ادبی صفحہ۔۔۔۔
ندیم صدیقی مطلع ’’ مَیں جب کوئی نظم کہتا ہوں تو اُس وقت وہ مجھے بہت اچھی لگتی ہے۔ ساتھ ہی ایسا بھی محسوس ہوتا ہے، جیسے ایک بہت بڑا بوجھ میرے سَر پر تھا جو اُتر گیا، ایک سکون اور تسکین کا احساس ہوتا ہے، لیکن نظم کہنے کے بعد جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا ہے، (یہ)احساس کمزور ہوتا جاتا ہے، پھر ایک خلش سی ہونے لگتی ہے اور جی کہتا ہے جو کہنا چاہتا تھا وہ پھر رہ گیا، یہی احساس ہے جو میرے لئے آج بھی مہمیز بنا ہوا ہے۔۔‘‘ ٭ اختر الایمان خوشبو ذہن کو ماؤف کر دیتا ہے لفظوں
نئے مذہب ’مزارپرستی‘ پر ہائی کورٹ کی مہر
از:حفیظ نعمانی اس واقعہ کو 35سال سے زیادہ ہی ہوگئے ہوںگے کہ ہمارا پریس امین آباد میں تھا اور ہم بھی برسوں سے باغ گونگے نواب میں رہتے تھے، مسجد سوداگران میں ہم بھی نماز پڑھتے تھے اور محلہ کے بڑے چھوٹے بھی اس مسجد میں آتے تھے، ایک دن چند جانے پہچانے نوجوان آئے اور کہا کہ ہمیں عرس کے پوسٹر چھپوانا ہیں اور ٹکٹ بھی، پھر بتایا کہ وہ جو امین آباد تھانے کے سامنے مزار ہے ہم نے ان کا نام میاں اختر علی شاہ رکھ دیا ہے اور ۲۰ دن کے بعد ان کا عرس ہے، ان نوجوانوں کو جتنا سمجھا سکتے تھے ہم نے سمجھایا، بع
یوپی میں وزیر اعلیٰ مسلمان-سیاسی کھیل یا مذاق؟:
حفیظ نعمانی ہندوستان میں تقسیم کے بعد امام الہند مولانا ابوالکلام آزادؒ نے اسی لکھنؤ میں 1948میں مسلمانوں کو مشورہ دیا تھا کہ تم اپنی کوئی الگ سیاسی جماعت نہ بنانااور جس سیاسی پارٹی کے نظریات سے تم اتفاق کرو اس میں شامل ہوجانا،ہم اس بات کو گرہ میں باندھے ہوئے ہیں۔ دو برس پہلے تک حالات دوسرے تھے اور اب جو حالات ہیں وہ حکومتوں اور پارٹیوں کی 68سالہ بدکاریوں کا نتیجہ ہیں، آزادی کے بعد یہ تو سوچا جاسکتا تھا کہ کانگریس کی حکومت اگر نہیں ہوئی تو سوشلسٹ پارٹی یا کمیونسٹ پارٹی کی حکومت بن جائے گی،
کانگریس کو اپنا گھر درست کرنا ہو ہوگا
از: کلدیپ نیئر کیا کانگریس پھر سے اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہو سکے گی؟ یہ وہ سوال تھا جو مجھ سے پوچھا گیا اور دوسرا سوال تھا کہ کیا اب بھی پارٹی کی کوئی ’’اہمیت‘‘ باقی رہ گئی ہے۔ دوسرے سوال کا جواب پہلے دیتے ہوئے میں کہوں گا کہ یہ 150 سال پرانی تنظیم ہے جس کے وفادار لوگ ملک کے دور دراز کے علاقوں میں بھی موجود ہیں لہٰذا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس کی اہمیت باقی نہیں رہی۔ کانگریس نے تحریک آزادی کی قیادت کی اور ملک پر پانچ دہائیوں سے زیادہ عرصہ تک حکمرانی کی۔ میری نسل کے لیے جواہر لعل نہرو او
ٹی ایم سی دکانوں کا مسئلہ ......بھول کہاں ہوئی ؟! (دوسری قسط) ۔۔از: ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے.... بھٹکل کے اس بدلتے کاروباری منظر نامے میں اچانک ایک نیا زاویہ اس وقت ابھر کر سامنے آیا جب ڈپٹی کمشنر کی ہدایت کے حوالے سے چیف آفیسر کی جانب سے ٹاؤن میونسپالٹی کی 150کے قریب دکانوں کو خالی کرکے اسے میونسپالٹی کے حوالہ کرنے کے احکام جاری ہوئے۔اور اس کے بعد ان دکانوں کے کرایہ داروں اورمیونسپالٹی کے بیچ ایک تنازعہ کھڑا ہوگیا جو پچھلے تقریباً ایک سال سے اٹکا ہوا تھا۔ کیا نیلامی پہلی بار ہورہی تھی؟ : دراصل نیلامی کے ذریعے میونسپالٹی کی دکانیں کرایے پر دینے کا یہ کوئی پہلا
سوت نہ کپاس … لے لٹھم لٹھا
از:حفیظ نعمانی آگرہ میں بی ایس پی ریلی میں مس مایاوتی مستقل بی جے پی پر برستی رہیں، انھوں نے آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے بارے میں کہا کہ وہ جو انھوں نے ہندوئوںکو زیادہ بچے پیدا کرنے کا حکم دیا ہے، کیامودی ان بچوں کے لیے روٹی تعلیم اور روزی کا انتظام کا کریںگے؟ ان کے علاوہ بھی ہر طرف سے کہا جارہاہے کہ موہن بھاگوت صاحب نے مسلمانوں کے مقابلہ کے لیے ہندوئوں کو زیادہ بچے پیدا کرنے کا حکم دیا ہے۔ آر ایس ایس کی طرف سے اس کی وضاحت میں کہا گیا ہے کہ بات صرف اتنی تھی کہ آگرہ کے ہی ایک پر
طیب اردوان، بشار الاسد کے حمایتی بن گئے
ایک وقت تھا جب ترکی کے صدر طیب اردگان بشار الاسد کے نہ صرف سخت خلاف تھے بلکہ اس کی حکومت گرانے کے لیے انہوں نے داعش کی نہ صرف بھرپور امداد کی بلکہ خطے میں اسے پھلنے پھولنے دیاجس کی وجہ سے آج مشرق وسطیٰ ایک بحران سے دوچار ہے ۔ شام میں گزشتہ پانچ برسوں سے جاری خونریز خانہ جنگی نے مشرقِ وسطیٰ کے خطے کو غیر مستحکم کر دیا ہے۔ اس دوران طیب اردگان نے ہمیشہ صدر اسد کی مخالفت کی اور سعودی عرب کے کیمپ کا حصہ بنتے ہوئے داعش کی امداد کی۔ لیکن اب وہ صدر اسد کی حمایت کرنے پر کیوں آمادہ دکھائی دے رہے ہیں؟
حج و عمرہ کامکمل طریقہ۔۔۔۔از: ڈاکٹر عبدالحمید اطہر ندوی
مسلمان حج کاسفرکرنے سے پہلے اپنی ذمے داریوں اور حقوق کو اداکرے، اگر اس پرقرض ہوتوقرض اداکرے یاقرض خواہ سے حج کے سفرکی اجازت لے، اگرکسی مسلمان کو تکلیف دی ہوتواس سے معافی مانگے۔ حج کے لیے نیک ساتھیوں کاانتخاب کرے، خصوصاً دین کی سمجھ بوجھ رکھنے والے افراد کے ساتھ سفر کرے، فریضۂ حج کی صحیح اورمکمل طورپرادائیگی کے لیے یہ ضروری ہے۔ سفرسے پہلے حج کے ضروری احکام سیکھے، امام غزالی رحمۃاﷲعلیہ نے ہرحاجی کوحج کے احکام سیکھنافرضِ عین قراردیاہے۔ جب حج کاسفرشروع کرے تواپنے گھرسے ہی احرام باندھناجائزہے، ورن
ٹی ایم سی دکانوں کا مسئلہ ......بھول کہاں ہوئی ؟!۔۔از: ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے.۔۔۔ (پہلی قسط) آج کل بھٹکل میں ٹاؤن میونسپالٹی کی طرف سے نیلام کی گئی دکانوں کو لے کر گرما گرم بحث چل رہی ہے۔سوشیل میڈیاپر مختلف زاویوں سے اس موضوع پر مضامین اور تبصروں کا سلسلہ چل پڑا ہے۔ اس میں زیادہ تر ایک طرف اس پہلو کو اجاگر کیا جارہا ہے کہ دکانوں کی اس نیلامی میں کوئی ملی بھگت اورسازش ہے ۔ دوسری طرف اسے مسلم نوجوانوں کی طرف سے دکانوں کو زیادہ سے زیادہ کرایے پر حاصل کرنے کے چکر میں اپنے برادرانِ وطن سے حق تلفی کرنے کا رجحان بتایا جارہا ہے۔ لیکن سب سے اہم بات یہ ہ
ایک مستقل پلیٹ فارم کی ضرورت
از: حفیظ نعمانی اتراکھنڈ اور اتر پردیش کے سابق گورنر عزیز قریشی نے ابھی نہیں اس وقت بھی جب راجیہ سبھا کا الیکشن ہورہا تھا، کہا تھا کہ انھیں کانگریس اور سماج وادی کے اس رویہ سے بہت دکھ ہوا ہے کہ دونوںنے ملک کے کسی مسلمان کو اس قابل نہیں سمجھا کہ وہ ان کو راجیہ سبھا میں بھیجیں، یہ اپنا اپنا سوچنے کا انداز ہے، بہرحال ایک بڑے سیاسی لیڈر کا یہ الزام اپنی جگہ برحق ہے۔ کانگریس ۲۰۰۴ء اور ۲۰۰۹ء میں صرف مسلم ووٹوں کی مدد کی وجہ سے مرکزی حکومت بنا سکی تھی، اور اس کانگریس کو مسلمانوں نے ۲۷ برس سے ا
کشمیرکو نیک نام گورنر کے سپرد ہونا چاہیے
از: حفیظ نعمانی کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ امن کی تلاش میں ساتھیوں کے ساتھ دہلی آئے ہیں اور انھوں نے وزیر اعظم کے بجائے صدر محترم سے فریاد کی ہے کہ کشمیر میں تشدد کی پالیسی ختم کی جائے اور پاکستان سے کشمیر کے مسئلہ میں مذاکرات پر حکومت کو آمادہ کیا جائے، عمر عبداللہ کی حیثیت وہی ہے جو ملک میں پنڈت نہرو کے بعد راجیو گاندھی کی تھی جو نہرو کے نواسے تھے اور عمر عبداللہ شیخ عبداللہ کے پوتے ہیں، انھوں نے یہ کہہ کر کہ وہ ملک کی خارجہ پالیسی پر کوئی بات کرنے نہیں آئے ہیں، یہ وزیر اعظم او
شرمسار جمہوریت:جو بچی ہے مقتلِ شہر میں
از: آصف جیلانی پاکستان کی سپریم کورٹ کے جسٹس ثاقب نے اپنے ایک اہم فیصلہ میں کہا ہے کہ پارلیمانی جمہوریت میں وزیر اعظم نہ تو صدر کا متبا دل ہوتا ہے اور نہ ہی اسے مطلق العنان حکمران کی حیثیت حاصل ہے۔وزیراعظم حکومت کا سربراہ ضرور ہے لیکن تمام اہم فیصلوں کی مجاز حکومت ہے جو وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ پر مشتمل ہوتی ہے ۔ گو جسٹس ثاقب نے یہ فیصلہ ، بعض نجی کمپنیوں کی طرف سے ٹیکسوں میں اچانک اضافہ کے خلاف دایر کی گئی ایک درخواست پر دیا ہے جس میں ایک وزارت کی طرف سے ٹیکسوں میں اضافہ کو چیلنج کیا گی
بہار میں نتیش کمار کی آزمائش
از: حفیظ نعمانی بہار میں اپریل سے شراب بند ہے، خبر آئی کہ زہریلی شراب پینے سے ۱۴آدمیوں کی موت ہوگئی، حزب مخالف بی جے پی لیڈروں نے مطالبہ کردیا کہ نتیش کمار کو استعفیٰ دے دینا چاہیے، وہ شراب بندی میں ناکام ہوگئے،یہ ان کی نہیں ہر مخالف لیڈر کی عادت ہے، دکھ اس بات سے ہوا کہ ٹی وی چینل کے وہ منجھے ہوئے نیوز ریڈر اس پر تبصرہ کریں اور بجائے نتیش کو سہارا دینے کے یہ کہیں کہ انھوں نے تیاری کے بغیر بہار میں شراب بندی کردی، اور یہ نہیں بتائیں کہ تیاری میں کیا کرنا چاہیے تھا؟ نتیش کمار نے اتر
آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم۔۔۔۔از:سید انور الزماں
ہندوستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب جب یہاں کی سیاسی ،سماجی اور تہذیبی فضاء پر تاریکی کے بادل چھائے اور یہاں کی عوام کو رہنما کی ضرورت پڑی تب تب اس سر زمین سے ایسی ہستیاں ابھری ہیں جنہوں نے اپنی ذہانت کے باعث ذہنی طور پر پسماندہ لوگوں کی رہنمائی کرکے ان کی بقاء کیلئے اپنا مخصوص ومتعین کردار ادا کیا۔ ہر دور میں یہ عظیم اور قابل تقلید شخصیات عوام الناس کے لیے غیر معمولی اہمیت کی حامل رہی ہیں۔ اس لئے ان کو زندگی میں اور موت کے بعد بھی عوام کے طرف سے انتہائی وقار اور احترام کے ساتھ خراج تحس
عالمی انتشار، مشرق وسطیٰ و ترکی کا بحران۔۔۔۔از:میراث زِروانی
بین الاقوا می حالات حا ضرہ میں گذشتہ کچھ عر صہ سے سا منے آ نے وا لی تصاد م خیز ،پر تشدد اور پیچیدہ کیفیت نے دنیا کے مستقبل کے با رے میں پا ئی جا نے وا لی غیر یقینی اور تشویش کو پہلے سے کہیں زیا دہ بڑ ھا دیا ہے ،یہ کیفیت ظاہر کر تی ہے کہ دنیا کے تمام معاشرے اور ریا ستیں ایک ایسے بحران میں داخل ہو چکی ہیں جس سے نکلنے کی ہر تد بیر اسے مزید گہرا اور وسیع بنا رہی ہے ،قومی ،علا قا ئی اور سیاسی و فو جی تنازعات کی اشکال میں شدت اختیار کر نے والا یہ بحران درا صل اس سر ما یہ درا نہ و سامرا جی اقتصادی زوال