Search results

Search results for ''


اترپردیش کا انتخابی دنگل

Bhatkallys Other

از:حفیظ نعمانی سنا ہے اترپردیش کے الیکشن میں 30ریلی امت شاہ کریںگے اور وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ بھی اتنی ہی ریلیوں سے خطاب کریںگے۔ اپنی پہلی ریلی امت شاہ نے اٹاوہ میں کی اور وہاں کے رہنے والوں کو وہ دن یاد دلائے جب صوبہ میں بی جے پی کی حکومت تھی اور کلیان سنگھ وزیر اعلیٰ تھے جن پر سپریم کورٹ میں جھوٹا حلف نامہ دینے کا الزام ہے اور جن کی حکومت 6دسمبر 1992کی شام کو صدر نے برخاست کردی تھی۔ بی جے پی کے صدر صوبہ کو 25سال پرانی باتیں یاد دلا رہے ہیں جبکہ چوتھائی صدی میں کروڑوں ووٹر وہ ہوگئے جو پ

شریعت میں تبدیلی کے خلاف دستخطی مہم میں تیزی کی اپیل

Bhatkallys Other

از:حفیظ نعمانی آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر مولانا سید محمد رابع حسنی الندوی نے ملک کے مسلمانوں سے ایک اپیل کی ہے کہ بورڈ کی دستخطی مہم انتہائی سنجیدگی سے چلائی جائے ۔ جوش اور جذبہ کے اظہار کے لیے نہ جلوس نکالے جائیں، نہ نعرے لگائے جائیں، نہ جلسے کیے جائیں اور احتجاج کے اظہار کے لیے نہ کالی پٹی باندھی جائے۔ مسئلہ مقابلہ کا نہیں ہے بلکہ صرف ان سب کو سمجھانے کا ہے جن کے ہاتھ میں حکومت کی باگ ڈور ہے اور وہ نہیں جانتے کہ اسلام کیا ہے؟اور افسوس اس کا ہے کہ جو دو چار ایسے بھی ان کے ساتھ ہیں

اسلام مکمل ہے اس میں دخل برداشت نہیں ہوگا

Bhatkallys Other

از:حفیظ نعمانی اپنے ملک ہندوستان کی حیثیت ایک چھوٹی دنیا کی ہے۔ ہم نے ملک کو ہر طرف سے دیکھا ہے لیکن یہ نہیں کہہ سکتے کہ پورا ملک دیکھ لیا جیسے ہم مہوبہ کبھی نہیں گئے۔ اس وجہ سے یہ معلوم نہیں کہ وہاں آبادی کا تناسب کیا ہے۔ مسلمان کتنے ہیں اور غیر مسلم کتنے ہیں؟ لیکن وزیر اعظم کی مہوبہ میں تقریر سے اندازہ ہورہا ہے کہ شاید وہاں مسلمانوں کی آبادی بہت زیادہ ہے۔ اسی لیے وزیر اعظم نے تین طلاق کے مسئلہ پر بولتے ہوئے کہا کہ اس پر سیاست نہیں کرنا چاہیے۔ انھوں نے اس معاملہ پر سیاست کرنے والوں اور ٹی

جے،این،یوکا سیکولر نظام اور نجیب کی گم شدگی۔۔۔محمد رکن الدین مصباحی

Bhatkallys Other

جواہر لعل نہرو یونیورسٹی،نئی دہلی، اپنے سیکولر نظام کی وجہ سے پوری دنیا میں منفرد مقام رکھتی ہے. دراصل یہ یونیورسٹی آغاز ہی سے چند نظریات کی وجہ سے عام و خاص سب میں مقبول ہے. اس یونیورسٹی کے قیام کا مقصد صرف تعلیم سے آراستگی ہی نہیں ہے بلکہ سماج کو ظلم وستم اور ناانصافی سے آزادی دلانابھی ہے. سیاسی مفاد سے اوپر اٹھ کر ہمیشہ سے اس دانشگاہ کے طلبا نے اپنی سماجی و یکجہتی سوچ کو پروان چڑھایا ہے. اس اتحاد واتفاق ،اخوت ومحبت اور آپسی بھائی چارہ کو وہ سبھی محسوس کر سکتے ہیں جنہوں نے جے, این, یو کی سیکو

کب کس وقت کیا ہوجائے کچھ نہیں معلوم!

Bhatkallys Other

از:حفیظ نعمانی دس دن پہلے جب ہم نے شری ملائم سنگھ کی چھوٹی بیگم اور ان کے راج کمار کا ذکر کیا تھا تو یہ معلوم نہیں تھا کہ محترمہ کا اسم گرامی کیا ہے، لیکن ہم نے صرف اس اشارہ پر کہ جب شیو پال اور اکھلیش میں پہلی جھڑپ ہوئی تھی تو چھوٹی بیگم کے فرزند شیوپال کی حمایت میں تھے۔ پوری کہانی بتائی تھی۔ دو دن پہلے ٹی وی پر ان کو دکھا بھی دیا گیا۔ ان کا نام سادھنا بھی بتا دیا گیا اور اب یہ بات بھی سامنے آگئی کہ اکھلیش بابو کی بیوی ڈمپل ایم پی سے ان کی تلخ کلامی بھی ہوچکی ہے اور اصل مسئلہ وہی ہے کہ میرے

معصوم انسان اور منفرد اسلوب کا افسانہ نگار م . ناگ ۔۔۔از:۔ ایم مبین

Bhatkallys Other

۲۱ ،اکتوبر ۲۰۱۶ ؁ء کو ہندوستانی پرچار سبھامیں ’’ افسانے میں حقیقت ،حقیقت میں افسانہ ‘‘ پروگرام کے تحت افسانہ پڑھنا تھا اور اس پر اظہارخیال بھی کرنا تھا۔ساتھ میں م ناگ بھی افسانہ پڑھنے والے تھے۔ پروگرام شروع ہونے سے قبل ہی پروگرام کے منتظم سنجیو نگم صاحب نے مجھے بتا دیا تھاکہ ناگ صاحب کی طبیعت خراب ہے۔ وہ نہیں آنے والے ہیں یہ سن کر مجھے تھوڑی مایوسی بھی ہوئی تھی، کیونکہ مجھ ناگ کو اپنا نیا افسانوی مجموعہ ’’ دکھ کا گاوں ‘‘ بھی دینا تھا۔دو دن پہلے ہی خبر آئی تھی ناگ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ لیکن میں

تنظیم اور سیاسی میدان کے کھیل (تیسری قسط) ۔۔۔۔۔از:ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ

Bhatkallys Other

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے۔۔۔۔۔ بات ہورہی تھی انتخابی سیاست میں کھیلی جانے والی غیر اخلاقی اور بعض دفعہ غیر شرعی چالوں کی۔ ایسابھی نہیں ہے کہ سیاسی لیڈران اورپارٹی کے ہمہ وقتی کارکنان اس سے ناواقف ہوتے ہیں یا اس طرح کی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے باکل پرہیز کرتے ہیں۔گندگی کے اس کھیل میں کون کس حد تک ملوث ہوتا ہے یہ جاننے کے لئے بس ایک واقعہ کی طرف مبہم اشارہ کردیتا ہوں۔عرصہ پہلے ایک اسمبلی اور پارلیمانی الیکشن کے اختتام پر خاص علاقے میں سیاسی پارٹی سے وابستہ کارکنوں کے ایک غیر مقامی مسلم لیڈر نے مجھے ب

ڈپٹی محمد سعید خاں۔جنہیں زمانے کی ستم ظریفیوں نے تاریخ کے تاریک گوشوں میں دفن کردیا۔۔۔از: ڈاکٹر جسیم محمد

Bhatkallys Other

۔از: ڈاکٹر جسیم محمد ہندوستان کی آزادی کی تاریخ محض ان چند عظیم المرتبت ہستیوں سے عبارت نہیں جن کے نام تاریخ کے روپہلے صفحات پر امر ہوگئے بلکہ ملک کی آزادی میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں ایسے مجاہدین اور شہدا ء کی قربانیاں بھی شامل ہیں جنہیں تاریخ کے صفحات میں یا تو جگہ نہیں مل سکی یا پھر زمانے کی ستم ظریفیوں نے انہیں تاریخ کے تاریک گوشوں میں دفن کردیا۔ ایسے ہی ملک کی آزادی کے لئے اپنا سب کچھ قربان کردینے والے عظیم مجاہد تھے ڈپٹی محمد سعید خاں جنہوں نے سرکاری ملازمت میں رہتے ہوئے نہ صرف وطن عزیز ک

اے دل ہے مشکل: جمہوریت شکنی کی زدمیں ۔۔۔۔از:نایاب حسن

Bhatkallys Other

دنیاکی سب سے بڑ ی جمہوریت ہونے کے مدعی ہندوستان میں گزشتہ ڈھائی سالوں سے مسلسل جوواقعات وحادثات رونماہورہے ہیں،ان سے ساری دنیاوالوں کوپتاچل گیاہے کہ ہندوستانی جمہوریت کس درجے کی ہے اورہندوستانی عوام کا شعور،فہم وادراک کی قوت اور حقائق بینی ومعروضیت سے کتناناطہ ہے،افسوس ہے کہ جمہوری قدروں کوپامال کرنے والے سنگین وہلاکت ناک حالات کادائرہ ملک کے کسی ایک خطے تک محدودنہیں ہے؛بلکہ چاروں سمتوں میں پھیل چکاہے،اس سے بھی زیادہ افسوس کامقام یہ ہے کہ سب سے بڑی جمہوریت میں ننگِ جمہوریت حادثات سے نہ توعوامی ط

ایک مرتبہ میں دی گئیں تین طلاقوں پر تین واقع ہونے پر اجماع امت

Bhatkallys Other

از:محمد نجیب سنبھلی شریعت اسلامیہ نے طلاق دینے کا اختیار مرد کو دیا ہے، اگرچہ عورت کو بھی اس حق سے یکسر محروم نہیں کیا ہے بلکہ اسے بھی یہ حق ہے کہ وہ چند شرائط کے ساتھ قاضی کے پاس اپنا موقف پیش کرکے طلاق حاصل کرسکتی ہے جس کو خلع کہا جاتا ہے۔ غرضیکہ قرآن وحدیث کی روشنی میں امت مسلمہ کا اجماع ہے کہ عورت کو مرد کی طرح طلاق کا اختیار حاصل نہیں ہے، چنانچہ وہ اپنا حق قاضی سے رجوع کئے بغیر استعمال نہیں کرسکتی ہے، لیکن شوہر جب چاہے اور جس وقت چاہے اپنی بیوی کو قاضی سے رجوع کئے بغیر طلاق دے سکتا ہے، ا

ترے لہو سے شرافت کبھی نہ جائے گی۔۔۔از: حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

از: حفیظ نعمانی پاک پروردگار کی عطا کی ہوئی اتنی عمر جس کا تصور بھی نہیں کیا تھا اس میں نہ جانے کیا کیا دیکھا۔ گھوڑے کو گدھا بنتے دیکھا اور سفید کو کالا ہوتے دیکھا۔ اور یہ بھی دیکھا کہ جو برف کی طرح ٹھنڈا تھا وہ آگ بن گیا اور آگ کی طرح شعلہ تھا وہ پھول بن گیا۔ زیادہ دنوں کی نہیں صرف 2009 ء کی بات ہے کہ سنجے گاندھی کے فرزند ارجمند اور فیروز اور اندرا گاندھی کے نبیرہ ورون گاندھی کو بی جے پی نے پارلیمنٹ کا ٹکٹ دیا۔ کچھ نہیں معلوم کہ انہوں نے کسی سے مشورہ کیا یا کسی بے وقوف نے انہیں سکھایا کہ کال

طلاق کیا ہے اور ضرورت کے وقت طلاق دینے کا صحیح طریقہ

Bhatkallys Other

از:محمد نجیب سنبھلی اگر میاں بیوی کے درمیان اختلافات دور نہ ہوں تو قرآن کریم (سورۃ النساء ۳۵) کی تعلیم کے مطابق دونوں خاندان کے چند افراد کو حکم بناکر معاملہ طے کرنا چاہئے۔ غرضیکہ ہر ممکن کوشش کی جانی چاہئے کہ ازدواجی رشتہ ٹوٹنے نہ پائے، لیکن بعض اوقات میاں بیوی میں صلح مشکل ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے دونوں کا مل کر رہنا ایک عذاب بن جاتا ہے، تو ایسی صورت میں ازدواجی تعلق کو ختم کرنا ہی طرفین کے لئے مناسب معلوم ہوتا ہے۔ اسی لئے شریعت اسلامیہ نے طلاق کو جائز قرار دیا ہے۔ طلاق میاں بیوی کے درمیان نک

پھر وہی مندر کا قضیہ

Bhatkallys Other

از: کلدیپ نیئر جب الیکشن آنے والے ہوتے ہیں تو مندر مسجد کا قضیہ دوبارہ شروع ہو جاتا ہے۔ بابری مسجد دسمبر 1992ء میں منہدم کی گئی اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ذمے داری انتہا پسند ہندوؤں پر آئی جنہوں نے بھارتی سپریم کورٹ کا یہ حکم بھی نہ مانا کہ ’’اسٹیٹسں کو‘‘ قائم رکھا جائے، البتہ یہ تنازعہ عملی طور پر ختم ہو گیا۔ اس وقت کے وزیراعظم نرسیمہا راؤ نے وعدہ کر لیا کہ مسجد کے مقام پر جو چھوٹا سا مندر بنا دیا گیا ہے وہ اسے گرا دیں گے۔ لیکن وہ بخوبی جانتے تھے کہ اس طرح ہندوؤں کے جذبات مشتعل ہو سکتے ہی

تنظیم اور سیاسی میدان کے کھیل (دوسری قسط) ۔۔۔۔۔از:ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ

Bhatkallys Other

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے……….. سابقہ قسط میں اس طرف اشارہ کیا گیا تھا کہ تنظیم کے اجتماعی سیاسی فیصلے کی خلاف ورزی اور تنظیم کے حمایت یافتہ یا مجوزہ امیدوار کے خلاف باغی امیدواروں کا میدان میں آنا یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا ہے۔ اور ایسے امیدوار ماضی میں کبھی ہارسے دوچار ہوئے ہیں تو کبھی جیت بھی درج کی ہے۔مگر اس مرتبہ کے واقعے کو لے کر سوشیل میڈیا میں جو طوفان مچا اور جس قسم کا hypeپیدا کیا گیا وہ ماضی میں دیکھنے کو نہیں ملا۔ کیا اس سے پہلے تادیبی کارروائی نہیں ہوئی ؟: یہ بات اپنی جگہ ریکارڈ پر مو

بی جے پی اقتدار میں مسلمان چوطرفہ ذہنی بہران کا شکار۔۔۔تحریر:سید فاروق احمدسید علی

Bhatkallys Other

یکساں سول کوڈ اوراقلیتوں کا بلیک میل ناقابل قبول امید کہ مزاج گرامی بخیر ہوں گے ۔مگر وقت حالات اور حکومت ہمیں بخیر رہنے کی اجازت نہیں دے رہا ہے کیونکہ بات ہی کچھ ایسی ہورہی ہے کہ حکومت وقت مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کرنے پر لگا ہوا ہے۔ پچھلے ۶۷ سالوں سے حکومتیں بدلتی رہی ہیں مگر سب کا موقف ایک ہی رہا ہے کہ کسی نہ کسی طریقہ اور بہانے سے مسلمانوں کو پریشان کیا جائے انہیں تکالیف دی جائے انہیں غلام بنایا جائے۔ مگر موجودہ حکومت ان سابقہ تمام حکومتوں سے دو ہاتھ آگے بڑھ کر وہ سب کچھ کرنے کے لئے کمربس

مسلم پرسنل لا میں مداخلت کیسے برداشت کر لیں!۔۔۔۔۔از:ندیم احمد انصاری

Bhatkallys Other

اس وقت ہندستان کے سیاسی حالات میں جو دھما چوکڑی مچی ہوئی ہے، اس نے یہ امر بالکل واضح کر دیا ہے کہ دو سالہ حکومت نے تمام محاذ پر منہ کی کھائی اور اب اس کی حالت اس کھسیانی بلّی کی سی ہو گئی ہے جو کھمبا نوچنے پر مجبور ہے۔ کبھی بابری تو کبھی دادری، کبھی مہنگائی تو کبھی سرجیکل اسٹرائک، یہ سب پینترے ہیں جو اس نے موقع بہ موقع اپنی کرسی کی حفاظت کرتے ہوئے لوگوں کی توجہ دوسری طرف موڑنے کے لیے کھیلے ہیں، لیکن اس کی طرف سے زہر میں ڈوبا ہوا سب سے خطرناک تیر ان سب کے بعد ’یونیفارم سول کوڈ‘ کے نام سے سامنے آ

یکساں سول کوڈ سے جڑے سوالات۔۔۔۔از:رویش کمار

Bhatkallys Other

جمعرات کو آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے پریس کانفرنس کر کہا کہ وہ لاء کمیشن کے سوالنامے کا بائیکاٹ کرتے ہیں- آپ جانتے ہیں کہ لاء کمیشن نے پرسنل لاء میں اصلاحات کو لے کر اپنی ویب سائٹ پر 16 سوالات پر 45 دن کے اندر عوام سے رائے مانگی ہے- آپ اپنی رائے ای میل یا ڈاک سے لاء کمیشن کو بھیج سکتے ہیں- پرسنل لاء بورڈ اس سوالنامے سے متفق نہیں ہے- اس کے جواب میں جمعہ کو مرکزی شہری ترقی کے وزیر وینکیا نائیڈو نے کہا کہ پرسنل لاء بورڈ اپنا فیصلہ کسی دوسرے پر نہ تھوپے اور اسے سیاسی نہ بنائے- اگر آپ کو لاء کمی

کیوں نہ اسے آخری معرکہ سمجھا جائے؟

Bhatkallys Other

از: حفیظ نعمانی بی جے پی جب جن سنگھ تھی تب بھی اس کے تین نعرے تھے رام مندر، یکساں سول کوڈ اور کشمیر کی دفعہ 370۔ رام مندر بنانے کا کام تو سپریم کورٹ کے ہاتھ میں چلا گیا، کشمیر کی دفعہ 370 کو چھیڑکر دیکھا تو اس میں اس کا امکان بھی نظر آیا کہ ہوسکتا ہے کہ مودی صاحب کو خود اس کی کبھی ضرورت پیش آجائے۔ اب لے دے کے یکساں سول کوڈ رہ گیا سو اسے انہوں نے اُترپردیش کے الیکشن کا ہتھیار بنا لیا ہے۔ بی جے پی یعنی آر ایس ایس یعنی شری نریندر بھائی مودی ہمیشہ سے یہ چاہتے ہیں کہ الیکشن اس طرح ہو کہ سارے مسلما