Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors
Abdul Haleem Mansoor
Abdul Majid Daryabadi
Abdul Mateen Muniri
Abdur Raqeeb M.J Nadwi
Ahmed Hatib Siddiqui
Asif Jilani
Athar Hashmi
Bhatkallys
Dr Badrul Hasan Qasmi
Dr Haneef Shabab
Dr. F Abdur Rahim
Dr. Tahir Masud
Hafiz Naumani
Kaldip Nayar
Masoom Muradabadi
Masud Ahmed Barkati
Mohammed Mateen Khalid
Muhammed Furqan
Nizamuddin Nadwi
Riyazur Rahman Akrami Nadwi
Suhail Anjum
جب ماں ہی بیگانہ ہو جائے !
بادشاہت کا ادارہ کم ازکم سات ہزار برس پرانا ہے، پیشوائی کا ادارہ بھی لگ بھگ اتنا ہی پرانا ہے مگر بالغ رائے دہی یعنی ’’ون مین ون ووٹ‘‘ کا عملی اطلاق زیادہ سے زیادہ دو سو برس پرانا ہے۔ جمہوریت کے جتنے بھی نقصانات گنوا دیں مگر ایک فائدہ ضرور ہے۔ مری گری جمہوریت میں بھی ایک ریوالونگ ڈور ہوتا ہے جس کے ذریعے عوامی توقعات پر پورے نہ اترنے والے شخص کو پرامن طریقے سے باہر نکالا جا سکتا ہے یا توقعات پر پورے اترنے والے کو دوبارہ اندر آنے کا موقع مل جاتا ہے۔ بادشاہت اور پیشوائی میں ریوالونگ ڈور نہیں ہوت
Caught between the two lands (Part 2)
In order to develop a dynamic and vibrant community, it is imperative that we take bold steps. By Shafaat Shahbandari | Bhatkallys.com | 02-Nov-2016 An old adage goes that every problem has a solution. But for a problem as grave as the one we are discussing, there can neither be a single solution, nor could it be overcome immediately. The first step in finding a solution to every problem is to acknowledge that there is a problem. If a person is unaware of the problem, he will not look
ایک الیکشن بغیر کالی دولت کے
از: حفیظ نعمانی ہر آدمی ہر معاملہ کو اپنی عینک سے دیکھتا ہے۔ وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے بڑے نوٹ بند ہونے کا سبب اترپردیش کا الیکشن بتایا ہے۔ کل کمال خاں نے کہا تھا کہ اب الیکشن ایسے ہی ہوگا جیسے 1952اور بعد میں ہوتے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کالا دھن جتنا الیکشن میں کام آتا تھا اتنا ۵ سال میں کام نہیں آتا تھا۔ ملک کا الیکشن صرف دولت کی وجہ سے ہی سیاسی ورکروں کے ہاتھوں سے نکل کر سماج کے ناپسندیدہ عناصر کے ہاتھوں میں آتا جارہا تھا اور اس کا نتیجہ تھا کہ ہندوستان کی پارلیمنٹ میں دوسو کے قریب وہ
ٹرمپ کی فتح، دنیا خوف و خدشات میں مبتلا
از:آصف جیلانی دنیا بھر کے دانشمند لوگوں کو توقع تھی کہ امریکا گہری کھائی کے دہانے پر پہنچ کرعین وقت پر پیچھے ہٹ کر کھائی میں گرنے سے بچ جائے گا اور ایک ہٹ دھرم، دروغ گو اور متعصب ڈانلڈ ٹرمپ کو دنیا کی سپر طاقت کا صدر منتخب نہیں کرے گا ۔ دنیا کو توقع تھی کہ اس بار بھی، امریکا ، ایک خاتون کو صدر منتخب کر کے 2008کی طرح تاریخ رقم کرے گا جب کہ پہلی بار ایک سیاہ فام کو صدر منتخب کیا تھا۔ کوئی 218 انتخابی ووٹوں کے مقابلہ میں276ووٹوںِ اور پانچ کروڑ چھیاسی لاکھ بہتر ہزار عوامی ووٹوں کے مقابلہ میں پ
کوثر جنت کی ایک نہر ہے، جس سے قیامت کے دن امتِ محمدی سیراب ہو گی
از: نجیب احمد سنبھلی سورۃ الکوثر کا آسان ترجمہ : (اے پیغمبر!) یقین جانو ہم نے تمہیں کوثر عطا کردی ہے۔ لہٰذا تم اپنے پروردگار (کی خوشنودی) کے لئے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔ یقین جانو تمہارا دشمن ہی وہ ہے جس کی جڑ کٹی ہوئی ہے(مقطوع النسل) یعنی تمہارے دشمن کا نام لینے والا کوئی نہیں ہوگا۔ شان نزول: جس وقت حضور اکرم ﷺ کے صاحبزادے (حضرت قاسم رضی اللہ عنہ) کا بچپن میں انتقال ہوا تو کفار مکہ خاص کر عاص بن وائل آپ کو ’’ابتر‘‘ کہہ کر طعنہ دینے لگا۔ ابتر کا مطلب جس کی نسل آگے نہ چلے (مقطوع النسل) یعنی جس
سَنگھ کی منہ بولی بیٹیاں
از:حفیظ نعمانی روز نامہ انقلاب کا شمار ملک کے بڑے اخباروں میں اس وقت بھی ہوتاتھا جب وہ مسلمانوں کی ملکیت میں تھا، پھر جب اسے ہندی کے دینک جاگرن کے مالکوں نے خرید لیا تو اس کا حلقہ اور زیادہ بڑا ہوگیا۔ اب وہ اوپر سے اردو والوں کا ترجمان ہے اور اندر سے بی جے پی کی مدد کرتا ہے۔ وہ کچھ دنوں سے مسلمانوں کے سب سے بڑے بورڈ ’’مسلم پرسنل لا بورڈ‘‘ پر بہت ہوشیاری سے حملے کرتا ہے۔ ایک بار بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا ولی رحمانی کی طرف سے سوال بھی خود ہی تیار کیا اور جواب بھی خود ہی دے دیا۔ مولانا رحمانی
تنظیم اور سیاسی میدان کے کھیل (پانچویں قسط) ۔۔۔۔۔از:ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے سیاسی بازی گری کی اس شطرنج میں مقامی ایم ایل اے کی طرف سے جو چال چلی گئی اور اس نے جس طرح اپنے مہرے کو آگے بڑھا یا وہ اس کی مہارت کا مظاہرہ تھا۔ اب اگر اسے مکاری یا غداری کا نام دے کر جی خوش کرلیں تو اس سے کہیں پر بھی اور کسی کوبھی فرق پڑنے والا نہیں ہے۔ دوسری طرف تنظیم کو جس طرح شہہ مات کا مزہ چکھنا پڑا ہے وہ یقیناًدور رس نتائج کا حامل ہے۔ اگر اس میں چھپے ہوئے پیغام کوہم نے سنجیدگی سے سمجھنے کی کوشش نہیں کی اور اپنی بساط کے مہروں کو نئی سوجھ بوجھ کے ساتھ آگے بڑھانے کے م
امریکا کا صدارتی انتخاب۔۔۔۔۔۔پیچھے ٹھاٹھیں مارتا سمندر ،آگے کھائی
از:آصف جیلانی گردوپیش پیچھے ٹھاٹھیں مارتا سمند ر اور آگے گہری کھائی یہ امریکا کی بد نصیبی ہے کہ۸ نومبر کے صدارتی انتخاب میں ، دو بڑے امیدواروں، ریپلیکن پارٹی کے ڈانلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹک پارٹی کی ہلری کلنٹن کے درمیان مقابلہ کے بارے میں امریکی عوام کی ایک بڑی تعداد کی یہ رائے ہے کہ ، ان دونوں میں سے کوئی بھی صدر کے عہدہ پر متمکن ہونے کا اہل نہیں ہے۔ ایک طرف ساٹھ فی صد امریکی عوام ، ڈانلڈ ٹرمپ کی ’’جنونی‘‘ پالیسیوں سے خایف ہیں اور انہیں ہٹلرسے تشبیہ دیتے ہیں ۔ دوسری جانب ۵۷فی صد امریکی عوام ہ
چت بھی میری پٹ بھی میری، میں ہوں ملائم سنگھ
از:حفیظ نعمانی جیسے بھی ہوئی سماج وادی پارٹی کی سلور جبلی تمام ہوگئی۔ دوسرے لیڈروں میں کرناٹک کے دیو گوڑا، بہار کے شرد یادو اور لالو، میرٹھ کے ا جیت سنگھ اور دوچار دوسرے لیڈر بھی آئے اور ملائم سنگھ یادو کی قیادت میں سیکولر محاذ بنانے پر اتفاق ظاہر کر گئے۔ لیکن ملائم سنگھ سے اختلاف رکھنے والے پورا دن ملائم سنگھ کی کج ادائیاں اور بے وفائیاں بھی گناتے رہے اور یہ حقیقت ہے کہ اس معاملہ میں ان کی تاریخ پر کئی داغ ہیں۔ شرد یادو اور لالو یادو نے شاید صرف یادو ہونے کی وجہ سے شرکت کو ضروری سمجھا ورنہ ب
بول، یہ تھوڑاوقت بہت ہے!۔۔۔۔از:نایاب حسن
حالیہ دنوں میں لگاتارحالات اس تیزی سے بدل رہے ہیں کہ ذہن و دماغ پرحیرانی سی طاری ہوئی جاتی ہے،ایک مسئلے کو دبانے کے لیے دوسرامسئلہ پیدا کیا جا رہاہے،ایک حادثہ ٹل نہیں پاتاکہ دوسراحادثہ رونماہوجاتاہے۔یکساں سول کوڈکے شورشرابوں اوران کے جواب میں نمایندہ مسلم اداروں کی’’تحفظِ شریعت کانفرنسوں‘‘کے دوران اچانک بھوپال میں ایک اندوہ ناک واقعہ رونماہوا،فرضی انکاؤنٹرکا،جس میں مدھیہ پردیش کی حکومت،وہاں کی پولیس سب راست طورپر شریک رہی۔آٹھ مسلم قیدیوں کومنظم منصوبہ بندی کے ساتھ پہلے جیل سے نکالاگیا،پھرایک مقا
خوش فہمیاں مع غلط فہمیاں
از: محمد الیاس ندوی بھٹکلی بہت پرانا نہیں بلکہ قریب کا واقعہ ہے ،شہر کے کھلے میدان میں ایک بڑا عوامی جلسہ تھا،سامعین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی،میں بھی مدعوتھا،لیکن میں اس وقت پہنچاجب جلسہ شروع ہوکرکارروائیاں عین شباب پر تھیں، میں اپنی عادت کے عین مطابق پیچھے سے آکر وہاں موجود ایک خالی کرسی پر بیٹھنے لگا،جلسہ کے داعیوں میں سے ایک صاحب کی مجھ پر نظر پڑی ، وہ دوڑے دوڑے آئے اور ناظم اجلاس سے کہہ کر مائیک سے ہی مجھے دعوتِ اسٹیج دے کر اوپر لے گئے پہلی صف میں موجود ۷/۶ کرسیاں شہر کے نامور علماء وقائد
اور کلدیپ نیر آپ بھی
از:حفیظ نعمانی اصل مسئلہ تین طلاق نہیں یکساں سول کوڈ ہے۔ جماعت اسلامی کے انگریزی ترجمان نے اپنے پہلے صفحہ پر اس مسئلہ پر ایک مضمون لکھا ہے۔ بزرگ صحافی کلدیپ نیر صاحب کو اس مضمون سے بہت تکلیف ہوئی ہے۔جماعت یا اخبار سے ہمارا کوتعلق نہیں ہے لیکن اس بہانے کلدیپ صاحب جس طرح سامنے آئے ہیں وہ اس لیے حیران کردینے والا ہے کہ وہ ایک عام ہندو صحافی نہیں ہیں بلکہ دنیا بھر میں گھومے بھی ہیں اور انگریزی ہی نہیں اردو کے بھی بڑے صحافی ہیں۔ اور دوسرے مذاہب پر بھی ان کی نظر ہے اور ہر طبقہ اور مسلک کے لوگوں سے
قاتل تنہا رہ جائے گا۔۔۔۔از:وسعت اللہ خان
یورپ میں بلیاں نہیں پائی جاتی تھیں۔ رومنوں نے جب مصر فتح کیا تو وہاں سے بلیاں روم لائی گئیں اور پھر ملائم بالوں والی ریشمی بلیاں اشرافیہ کا اسٹیٹس سمبل بن گئیں۔ چند سو برس بعد روم عیسائی ہو گیا اور پاپائے روم کا سکہ ہر جانب چلنے لگا۔ جانے کیوں یہ عقیدہ بارہویں و تیرہویں صدی کے دوران عام لوگوں میں پھیلتا چلا گیا کہ بلیاں منحوس اور شیطان کی چیلی ہوتی ہیں۔ چنانچہ بلیوں کا صفایا ہونا شروع ہو گیا۔ چودھویں صدی میں یورپ کو طاعون نے آ لیا اور سات برس (تیرہ سو چھیالیس تا تریپن) میں اس کالی موت نے یور
کون جیتا، کون ہارا؟
از: آصف جیلانی پاناما لیکس کے بارے میں تحقیقات کے لئے ، ٹرمز آف ریفرنس طے ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے تحقیقاتی کمیشن کے قیام کاجو فیصلہ کیا ہے اس کے فورا بعد، تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے ، اسلام آباد بند کرنے کا فیصلہ ترک کرنے ، اور جشن اور یوم تشکر منانے کا جو اعلان کیا ہے اس پر عام طور پر لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ کون جیتااور کون ہارا؟ یہ سوال اس وجہ سے بھی نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے کہ خود عمران خان نے اسلام آباد بند کرنے کو ایک اہم میچ قرار دیا تھا اور انہوں نے اپنے کارکنوں کو کھلاڑی قرا
کاش ہاشم پورہ سے سبق لیا ہوتا۔۔از:قاسم سید
طاقت اور عددی قوت کو فیصلہ کن حیثیت دینے، ہجوم کو انصاف کا حق، قانون کے رکھوالوں کو ناپسندیدہ عناصر کو اپنے حساب سے نمٹانے کی اجازت، آئینی اداروں کی بے وقعتی اور نظرانداز کئے جانے کے خطرناک اشارے اپنے اندر بہت سے طوفان سمیٹے ہوئے ہیں۔ طوفان میں پوشیدہ بجلیوں کو اپنا ہدف معلوم ہے اور کنٹرول روم کے بٹن سے حرکت میں آتی ہیں۔ مظفرنگر سے دادری اور تلنگانہ سے بھوپال تک ہونے والے واقعات سے یہ سبق ضرور لینا چاہیے کہ جب معاملہ اقلیتوں سے متعلق ہو تو ان پر سوال اٹھانا، ملک سے غداری، بغاوت اور قومی سلامتی
اکھلیش رتھ صرف سواری نہیں سیاسی لکیر بھی ہے
از:حفیظ نعمانی بچپن میں جب اردو پڑھی تھی تو الف سے انار، ب سے بکرا کے کافی بعد رے سے رتھ پڑھا تھا اور کتاب میں جو تصویر رتھ کی بتائی گئی تھی وہ نہ اس رتھ جیسی تھی جیسا رتھ ایڈوانی جی نے اپنی زہر افشانی کے لیے بنوایاتھا اور نہ اس رتھ جیسی تھی جو کل ٹی وی پر وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کا دکھایا گیا تھا، جس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس میں بیٹھے ہوئے اکھلیش کو عوام آسانی سے دیکھ سکیں گے۔ رتھ میں ہی ایک چھوٹا ساوزیر اعلیٰ کا دفتر بنایا گیا ہے اور انٹر نیٹ وائی فائی جیسی سہولتیں بھی ہیں۔ یہ رتھ ایک
مقدموں کا فیصلہ پولیس نے ہی کردیا
حفیظ نعمانی جیلوں میں جو بھی بند ہوتے ہیں انھیں تین خانوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ (۱) حوالاتی جن کے مقدمات زیر سماعت ہوں۔ وہ چاہے دس سال سے بند ہوں چاہے ۱۰ دن سے۔ (۲) قیدی وہ جن کے مقدمہ کا فیصلہ ہوگیا ہو اور انھیں سزا دے دی گئی ہو۔ وہ پہلے دن سے رِہا ہونے تک قیدی ہی کہے جاتے ہیں اور ان کا ایک جیسا لباس ہوتا ہے۔ یہ جیلوں پر موقوف ہے۔ (۳) وہ جن کی تین چوتھائی سزا پوری ہوگئی ہو اور صرف ایک چوتھائی سزا باقی ہو۔ انھیں لال ٹوپی لال پائجامہ اور پیلا کرتہ پہنادیا جاتا ہے۔ انھیں پکا کہا جاتا ہے اور ان
تنظیم اور سیاسی میدان کے کھیل (چوتھی قسط) ۔۔۔۔۔از:ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے........... سابقہ قسط میں اجمالی طور پر بتایاگیا کہ مجلس اصلاح و تنظیم کو سیاسی محاذ پرکن پیچیدگیوں کا سامنا ہے ۔یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ تنظیم کو قانونی شکنجے میں جکڑنے کی کوشش پر تو اس وقت قابو پالیا گیا، مگر اس طرح کے ملت دشمن عناصر کا خاتمہ کرنا نہ کل ممکن تھانہ ہی آج ایسا ہوسکتا ہے۔یہ ہرزمانے میں سرگرم رہتے آئے ہیں اور رہیں گے۔بات صرف اتنی ہے کہ ہمیں اپنے قدم سوچ سمجھ کر اورہوشمندی کے ساتھ اٹھانے چاہئیں۔ جذباتی انداز میں اور جلد بازی میں لیے گئے فیصلوں میں ملی مفاد کا