Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors
Abdul Haleem Mansoor
Abdul Majid Daryabadi
Abdul Mateen Muniri
Abdur Raqeeb M.J Nadwi
Ahmed Hatib Siddiqui
Asif Jilani
Athar Hashmi
Bhatkallys
Dr Badrul Hasan Qasmi
Dr Haneef Shabab
Dr. F Abdur Rahim
Dr. Tahir Masud
Hafiz Naumani
Kaldip Nayar
Masoom Muradabadi
Masud Ahmed Barkati
Mohammed Mateen Khalid
Muhammed Furqan
Nizamuddin Nadwi
Riyazur Rahman Akrami Nadwi
Suhail Anjum
میں سونیا گاندھی سے متفق نہیں
از: کلدیپ نیئر کاش کہ میں کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کے اس بیان سے اتفاق کر سکتا کہ ان کی ساس مسز اندرا گاندھی کے کردار کی سب سے نمایاں خوبی ان کی شفقت اور ہمدردی تھی۔ جو انسان شخصی آزادی کو اولین اہمیت دیتا ہو وہ ایک لاکھ سے زیادہ افراد کو بغیر مقدمہ چلائے جیل میں نہیں ڈال سکتا جیسا کہ مسز گاندھی نے 1975ء کی ایمرجنسی کے دوران کیا، نہ صرف یہ کہ اندرا نے پریس کا گلا گھونٹ دیا بلکہ معاشرے کے ساتھ ایسا سلوک کیا کہ صحیح اور غلط ، اخلاقی اور غیر اخلاقی کے درمیان جو باریک سا خط امتیاز ہوتا ہے وہ
تنظیم اور سیاسی میدان کے کھیل(آٹھویں اور آخری قسط( ۔۔۔۔۔از: ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے........... میرا احساس ہے کہ بھٹکل کا سیاسی منظر نامہ بدلنے کے لئے مجلس اصلاح و تنظیم کو اپنی سیاسی حکمت عملی زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے بدلنا ہوگا ۔ خاص کرکے غیر مسلم برادری سے ہم نے سیاسی محاذ پرمفاہمت اور تعاون کی جو توقعات پال رکھی ہیں، ان کا دوبارہ حقائق پر مبنی جائزہ لینا ہوگا۔بار بار تجربات کی روشنی میں اب یہ بات تقریباً صاف او رواضح ہوچکی ہے کہ ہم تنہا اپنے ووٹوں سے اسمبلی یا پارلیمانی سیٹ جیت نہیں سکتے ۔ اور غیر مسلم برادری کا سیکیولر کہلانے والا طبقہ بھی ہم
Harminder Singh Mintoo arrested but Muslims youths killed in Bhopal encounter
New Delhi: Khalistan Liberation Front’s President, Harminder Singh Minto who had escaped from jail was arrested alive at the Hazrath Nizamuddin Railway Station. It is very surprising to note that whenever similar incidents of escaping the prisoners from jails happen and if they are Muslims, they are not arrested but killed in fake encounters by the police. This speaks of double standards of the police. It may be mentioned that Vikhar and his colleagues were killed in an encounter with police
ڈاکٹر ذاکر نائیک ، تحریر: ڈاکٹر ظفر الاسلام خان
ڈاکٹر ظفر الاسلام خان ایڈیٹر ملی گزٹ مبلغ اسلام ڈاکٹر ذاکر نائک اور ان کے اداروں پر ٹوٹنے والی مصیبت پر بالعموم ملت میں خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ ڈھاکہ سے آنے والی ایک جھوٹی خبر کا بہانہ بنا کر ان کے خلاف ایک ماحول بنایا گیاحالانکہ اس خبر کی تردید اگلے ہی دن ہوگئی تھی ۔ دھیرے دھیرے نوبت یہاں تک پہنچی کہ ان کے ادارے اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن اور دیگر تعلیمی اور خیراتی اداروں کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا ہے۔ ان اداروں کے آفسوں پر قبضہ کرلیا گیا ہے ،ان کے عالمی معیار کے اسکول پر بھی قبضہ کی تیاری ہوری ہ
الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوانے کام کیا
از: حفیظ نعمانی رب کریم کا احسان ہے کہ ان آنکھوں نے وہ دن بھی دیکھے ہیں کہ بیل گاڑی کے اوپر بڑا سا تخت رکھا ہے، اس پر صاف گدے اور گاؤ تکیے رکھے ہیں اور تخت پر پنڈت گوبند بلبھ پنت اور سنبھل کے عالم دین مولانا محمد اسمٰعیل صاحب اور کانگریس کے دوسرے مجاہد آزادی بیٹھے ہیں اور اس گاڑی کو بیلوں کے بجائے عوام کھینچ رہے ہیں اور میلوں دور جو جلسہ گاہ ہے وہاں تک لیجانے میں فخر محسوس کررہے ہیں۔ اور آزادی کی جد و جہد کے لیے جہاں کہیں امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری ، شیخ الاسلام مولانا حسین اح
بیسویں صدی کے آخری انقلابی کا سفر۔۔۔۔۔۔از:وسعت اللہ خان
آٹھ اکتوبر دو ہزار پانچ کو شمالی پاکستان اور کشمیر میں جو تباہ کن زلزلہ آیا اس کے بعد دنیا بھر سے امدادی ٹیمیں آنا شروع ہو گئیں۔ان میں سب سے بڑی میڈیکل ٹیم کیوبا کی تھی۔تین سو ڈاکٹروں اور نیم طبی عملے پر مشتمل ٹیم۔ان ڈاکٹروں کو افریقہ میں جنگ و قحط سے آلودہ علاقوں میں کام کرنے کا وسیع تجربہ تھا۔عجیب ٹیم تھی۔دو حصوں میں بٹ کر چوبیس گھنٹے کام کرتی تھی۔جنریٹرز کی روشنی میں زخمیوں کے آپریشن دن رات جاری رہتے۔شائد سب سے زیادہ آپریشن اسی ٹیم نے کیے۔پھر ایک دن خاموشی سے پورا کیمپ اور سب آلات پاک
بزرگوں کا قول جلدی کا کام شیطان کا
از: حفیظ نعمانی یاد ہوگا کہ پرانے نوٹ بند ہونے کے ساتھ ہی نریندر مودی نے وزیر اعظم کی حیثیت سے اعلان کیا تھا کہ ایک ہزار کے نوٹ کے بدلے اب دو ہزار کا نوٹ اور ۵۰۰ کا نیا نوٹ آگیا ہے۔ وہ پرانے نوٹوں کے بدلے میں ملے گا۔ اور یہ بھی سب کو یاد ہوگا کہ ایک ہفتہ تک صرف ۲ ہزار کے نیلے نوٹ بینک سے دئے جاتے رہے۔ ایک ہفتہ کے بعد ایک دن ٹی وی پر ۵۰۰ کے نئے نوٹ ایسے دکھائے گئے جیسے یہ وزیر اعظم نے خود چھاپے ہیں اور بتایا گیا کہ دہلی اور بھوپال میں یہ نوٹ دیکھے گئے۔ نوٹ بندی کے ۱۳ ؍ دن کے بعد لکھنؤ میں ذکر
بہت دور تک رات ہی رات ہوگی
از: حفیظ نعمانی وزیر اعظم کو نہ جانے کیا سوجھی کہ انھوں نے اپنے نادر شاہی فیصلوں کے بارے میں عوام کی رائے جاننا چاہی اور سوالوں کے ذریعہ معلوم کیا کہ آپ کی کیا رائے ہے؟ ٹی وی چینل کا تعلق بے شک صحافت سے ہے لیکن اپنے اشتہارات کی آمدنی کی وجہ سے وہ حکومت کے اشاروں پر دم ہلادیتے ہیں۔یہی رائے کے جواب میں ہوا کہ اخباروں نے تو سوال چھاپ دیے لیکن جواب شاید نہ آئے اور نہ چھپے۔ البتہ ٹی وی کے ہر چینل میں وزیر اعظم کو خوش کرنے کے لیے جوابات کا اعلان اس طرح کیا گیا جیسے ان کے ہر فیصلہ کو عوام نے پسند کی
ٹوٹا پھوٹا ناچ رہا ہے اچھا خاصا ٹوٹ گیا
از: حفیظ نعمانی مودی حکومت نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ شادی کے اخراجات کے لیے بینک سے ڈھائی لاکھ روپے نکالے جاسکیں گے۔ اس اعلان کا یہ مطلب نہیں تھا کہ حکومت اپنے ملک کے شہریوں کی ہر شادی میں ڈھائی لاکھ روپے کی مدد کررہی ہے۔ بلکہ یہ تھا کہ لڑکی یا لڑکے کے باپ ، ماں،بھائی یا وہ خود اپنے ان لاکھوں روپے میں سے جو انھوں نے شادی کے لیے جمع کیے تھے ڈھائی لاکھ نکال سکتے ہیں۔ اس رقم کے نکالنے کے لیے ریزروبینک نے جیسی شرطیں لگائی ہیں ان سے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ روپیہ ان کا نہیں ریزرو بینک کا ہے اور ش
نوٹوں کی مار کا پرسنل لا بورڈ کے اجلاس پر بھی اثر
از: حفیظ نعمانی ملک میں بڑے نوٹوں کے بند ہونے کا اعلان ایسے ہوا جیسے قیامت کا صور پھونک دیا۔ ملک میں اس سے پہلے کئی مسائل ایسے چھڑے ہوئے تھے جن سے پورے ملک کا تعلق تھا اور کچھ ایسے چھڑے تھے جن سے صرف اقلیتوں کا تعلق تھا۔ عوام کی زبان سے سرکار کے بیانات اور سپریم کورٹ تک خالص مسلم مسئلہ تین طلاق اور تمام اقلیتوں سے جڑا ہوا یکساں سول کوڈ کی آواز سے ملک گونج رہا تھا۔ ان حالات میں مسلمانوں کے لیے رہنما خطوط واضح کرنے کے لیے مسلم پرسنل لا بورڈ نے کلکتہ میں مجلس عاملہ کا تین روزہ اجلاس اور آخری دن
تنظیم اور سیاسی میدان کے کھیل (ساتویں قسط) ۔۔۔۔۔از:ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے۔۔۔۔۔۔ جیسا کہ میں نے گزشتہ قسط میں کہا کہ اب ہمارے یہاں محترم جوکاکو شمس الدین اور ایس ایم یحییٰ جیسی سیاسی شخصیات نہیں رہیں۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس طرح کا سماجی ماحول بھی اب نہیں رہا جہاں غیر مسلم برادران وطن اورمقامی مسلمانوں کے بیچ سماجی قربت ، سیاسی ہم آہنگی اورباہمی تعاون کے راستے آسانی سے دستیاب تھے۔مسلمانوں کی قیادت کوپروان چڑھانے اوربرداشت کرنے کا جذبہ دیگر برادران وطن کے اندر موجود تھا۔ ڈاکٹر چترنجن نے آر ایس ایس کے نمائندے اور بی جے پی کے قائد کی حیثیت سے
The Bhopal episode and the return of the hostage theory
By Firdaus Ahmed, The Milli Gazette Online | Nov 19, 2016 The killings of eight undertrial prisoners after an alleged breakout of a high security prison in Bhopal are a message. This message is internally and externally directed. In its external orientation, it is a message by the security establishment to Pakistan that Indian Muslims are hostage to Pakistani good behavior. In its internal orientation it is a reminder to India’s Muslims that they are at the mercy of the majority and had on
اب دیکھوکیا دکھائے نشیب و فرازدہر
از: حفیظ نعمانی دو دن ہاتھ پرہاتھ رکھے بیٹھے رہے کہ کیا لکھیں؟ پڑھنے والے ہوں یا سننے والے، نوٹ کی بات کے علاوہ نہ پڑھنا چاہتے ہیں نہ سننا چاہتے ہیں اور نہ سوچنا۔ کل سے پہلے صورتِ حال واضح نہیں ہوئی تھی۔ کل صورت حال کافی واضح ہوگئی ہے کہ کم از کم چھ مہینے تک صورت حال یہی رہے گی۔ کل پہلی بار بینکوں کے ذمہ داروں نے سامنے آکر کہا کہ ایک دن میں تقسیم کرنے کے لیے ۴ یا پانچ لاکھ روپیہ آتا ہے جسے ہم دو ہزار ہر کسی کو دے کر جا ن چھڑاتے ہیں۔ ایک مختصر جسم و قامت کا سکریٹری روز پریس کانفرنس کرتا ہے او
مودی کا اقتصادی الیکشن
از: حفیظ نعمانی مجبوریوں کو عقل کے سانچے میں ڈھال کر جب کچھ نہ بن سکا مرا ایماں بنا دیا وزیر اعظم نریندر مودی کو الیکشن کا بہت شوق ہے۔ انھوں نے اس حساس مسئلہ کو جس کا تعلق صرف حکومت اور عوام سے تھا انتخابی عنوان دے دیا۔ انھوں نے اپنے کاموں اور فیصلوں پر تنقید کرنے والوں کی پارٹیاں بنا دیں۔ کالا دھن پارٹی، بھرشٹاچار پارٹی اور خود بگلا بھگت پارٹی کے صدر بن گئے۔ اب جوکہے کہ بے سوچے سمجھے اور بغیر تیاری کا نتیجہ ہے کہ عوام خون کے آنسو رورہے ہیں تو اسے کالا دھن پارٹی کا آدمی قرار دے دیا جاتا ہے۔
باغوں میں بہار ہے۔۔۔از:قاسم سید
ہندستان اور امریکہ بیک وقت بلیک سے وہائٹ میں تبدیلی کے عمل سے گزر رہے ہیں۔ ہندوستان نے بلیک منی کو ختم کرنے کے لئے سرجیکل اسٹرائیک کی ہے جس سے دہشت گردی، بدعنوانی اور کالادھن 50 دنوں کے اندر ختم کردیا جائے گا، وہیں امریکہ کے قدامت پسندوں نے سیاہ فام اوبامہ کی جگہ سفید فام ڈونالڈ ٹرمپ کو وہائٹ ہائوس پہنچادیا۔ دنیا کی دو بڑی جمہوریتوں میں یہ فیصلے نتائج کے اعتبار سے دوررس ہوسکتے ہیں۔ نسلی انتہاپسندی کو سند دینے کا رجحان دنیا کو کہاں تک لے جائے گا، اس کا سردست اندازہ لگانا مشکل ہے۔ یوروپی ممالک میں
تنظیم اور سیاسی میدان کے کھیل (چھٹی قسط) ۔۔۔۔۔از:ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ
میں نے اس مضمون کی سابقہ قسطوں میں اس طرف اشارہ کیا ہے کہ سیاسی محاذ پر تنظیم کا موجودہ بحران بڑی حد تک سیاسی زمینی حقائق سے چشم پوشی،پارٹی پالیٹکس اور شخصیات کی سیاسی انانیت کے ٹکراؤ کا نتیجہ ہے۔ ورنہ یہ معاملہ اس قدر پیچیدہ اور ہتک آمیز شکست کا باعث نہ ہوتا۔ اوراگر ہم اس انتخابی نتیجہ اور اس سے پیدا ہونے والے بحران کو ہلکے میں لیں گے اور جذباتی فیصلے کریں گے تو اس سے مزید نقصان ہی ہونے کے اندیشے اپنی جگہ موجود ہیں۔ اور مجھے لگتا ہے کہ اس کی شروعات ہونے کے اشارے بھی ملنے لگے ہیں۔ کاش دانشمندی
لمحوں نے خطا کی تھی، صدیوں نے سزا پائی
از: حفیظ نعمانی بات زیادہ دن پرانی نہیں صرف ۱۹ مہینے پرانی ہے کہ نریندر بھائی مودی نے بالکل اسی انداز ، اسی لہجے اور اتنی ہی لجاجت سے قوم سے کہا تھا کہ مجھے حکومت دے دو اور صرف سو دن دے دو تو میں وہ لاکھوں کروڑ کالادھن دنیا کے بینکوں سے نکال کر لاؤں گا جو نہرو گاندھی پریوار اور ان کے ساتھیوں نے ۴۰ برس میں جمع کیا ہے۔ پھر دیکھنا کہ ہر کسی کے نام کے کھاتے میں ۱۵ لاکھ روپے آجائیں گے اس لیے کہ یہ روپیہ سرکارکا نہیں آپ کا ہے۔ اور اس سے بھی 20مہینے ہوئے ہیں کہ ایک سنیاسی بابا رام دیوکے پاس ایک موٹ
تاش کی بیگم پر ترپ کا پتا
از: کلدیپ نیئر جب ملک کا موڈ دائیں بازو کی طرف ہو تو آپ ہلیری کے لیے ووٹ ڈالنے کی توقع نہیں کر سکتے جو اگرچہ بائیں بازو کی نہیں ہیں پھر بھی مرکز سے قدرے بائیں طرف کی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح سفید فاموں کی بالادستی کی عکاس ہے جن کی شرح تقریباً 63 فیصد ہے لیکن پھر بھی انھیں اپنے تئیں اقلیت میں ہونے کا خوف ہے۔ یہ سوچ اگرچہ بدقسمتی کے مترادف ہے لیکن اس سے مفر بھی ممکن نہیں کیونکہ امریکا آج ایسا ہی ہے۔ ایک بار پھر تنہا رہ جانے کا خوف کار فرما نظر آرہا ہے۔ امریکا میں ان لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے ج