Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors
Abdul Haleem Mansoor
Abdul Majid Daryabadi
Abdul Mateen Muniri
Abdur Raqeeb M.J Nadwi
Ahmed Hatib Siddiqui
Asif Jilani
Athar Hashmi
Bhatkallys
Dr Badrul Hasan Qasmi
Dr Haneef Shabab
Dr. F Abdur Rahim
Dr. Tahir Masud
Hafiz Naumani
Kaldip Nayar
Masoom Muradabadi
Masud Ahmed Barkati
Mohammed Mateen Khalid
Muhammed Furqan
Nizamuddin Nadwi
Riyazur Rahman Akrami Nadwi
Suhail Anjum
Masala Dosa
Masala Dosa Masala Dosa is a variant of the popular South Indian food dosa and has its origins in Tuluva Mangalorean cuisine made popular by the Udupi hotels all over India. It is made from rice, lentils, potato, methi, curry leaves and served with chutneys and sambar. 2 cups Short Grain Rice1/2 cup Urad Dal1 tea spoon Fenugreek Seeds1/2 tea spoon Salt For the dosaPut rice in a bowl, rinse well and cover with 4 cups cold water. Put urad dal and fenugreek seeds in a small bowl,
رجب طیب ایردوان کا سفر !
رجب طیب ایردوان کو آخر کیا ہوگیا ہے؟ ۲۰۰۳ء میں جب وہ برسر اقتدار آئے تھے تب اس بات کی بھرپور توقع تھی کہ ترکی میں بڑے پیمانے پر سیاسی اور معاشی اصلاحات نافذ کی جائیں گی مگر اس کے بجائے ترکی لبرل طریقے سے ہٹ کر خالص آمرانہ اور مطلق العنان حکمرانی کی سمت گیا ہے۔ ویسے ایردوان کے دور میں سخت گیر قسم کی اسلامی حکمرانی کی گنجائش پیدا نہیں ہوئی جیسا کہ ان کا پس منظر دیکھتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا۔ اس کے بجائے رجب طیب ایردوان مشرق وسطیٰ کے روایتی حکمران کی حیثیت سے ابھرے ہیں جو بیشتر اختیارات اپ
بھان متی نے کنبہ جوڑا
بھان متی نے کنبہ جوڑا از: آصف جیلانی امریکا کے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران یہ اعلان کر کے ہل چل مچا دی تھی کہ صدر منتخب ہونے کے بعد وہ تمام مسلمانوں پر امریکا کے دروازے بند کر دیں گے ، لیکن جب اس پر ہر طرف سے شور اٹھا تو انہوں نے ، اعلان قدرے نرم کردیا لیکن اب انہوں نے اپنی کابینہ میں جن وزیروں کو شامل کیا ہے ، وہ ان سے بھی زیادہ کٹر اسلام دشمن اور مسلمانوں کے مخالف ہیں۔ یہی نہیں ، منتخب صدر کی کابینہ ، بھان متی کا کنبہ نظر آتی ہے۔ ستم ظریفی ہے کہ ٹرمپ جو 1968 میں ایڑھی ک
ملک جل رہا ہے اور بھاگوت پردہ میں ہیں
ملک جل رہا ہے اور بھاگوت پردہ میں ہیں از: حفیظ نعمانی دنیا بھر میں مختلف ایجنسیاں سروے کرنے میں مصروف ہیں۔ ہندوستان میں بھی کوئی ایجنسی یہ دیکھ رہی ہے کہ ملک میں جو طبقے ہیں ان کے ذہن میں حکومت کے لائق کون ہے؟ ہندو رام مندر کے لیے اور مسلمان بابری مسجد کے لیے کتنے سنجیدہ ہیں؟ ۲۰۰۴ء اور ۲۰۱۴ء کے درمیان ذہنوں میں کتنی تبدیلی آئی ۔انگریزی اخبارات کے علاوہ ہندی اور اردو اخبار پڑھنے والے کیا سوچ رہے ہیں؟ ایک ایجنسی ’’سی ایس ڈی ایس‘‘ برسوں سے ہندوستان میں فرقہ واریت کا سروے کررہی ہے۔ اس کا کہنا ہ
موٹی موٹی کتابیں چند گھنٹوں میں کیسے پڑھیں؟
پڑھیں کیسے؟ یہ ایک سوال ہے جو گزشتہ کئی مہینوں سے دوست احباب اور سوشل میڈیا پر فالو کرنے والے کثرت سے پوچھ رہے ہیں۔ اب میں خود کوئی پڑھنے پڑھانے والا بندہ تو ہوں نہیں، یہی وجہ ہے کہ جواب دینے سے ہمیشہ معذرت برتی، مگر اب جب کہ اِصرار در اِصرار بڑھتا ہی جارہا ہے تو سوچا صرف اتنا لکھ دوں کہ میں کیسے پڑھتا ہوں۔ صحیح یا غلط کا فیصلہ قارئین اور اہل علم کریں گے۔ پڑھیں کیسے؟ سے پہلے بھی کئی سوال ہیں جو پوچھنے چاہئیں۔ مثلاً، پڑھیں کیوں؟ پڑھیں کیا؟پڑھیں کب؟ وغیرہ وغیرہ اور پڑھیں کیسے کے بعد پوچھنا چاہیئے
قرآن کے بعداب جمعہ کی چھٹی اور درسی کتابیں فسطائی نشانے پر (دوسری قسط) از:ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے……….. قرآن پر پابندی کی اپیل کلکتہ ہائی کورٹ سے خارج ہونے کے بعدچاند مل چوپڑا نے جون 1985میں ایک اور ریویو پٹیشن داخل کی اور وہ بھی خارج کردی گئی۔اس کے بعد قرآن مخالف اس مہم کو زندہ رکھنے کے لئے The Calcutta Quran Petition کے نام سے سیتا رام گوئل اور چاند مل چوپڑا نے 1986 میں باقاعدہ ایک کتاب شائع کی ہے۔اگست 1986میں کتاب کی اشاعت کے لئے چاند مل چوپڑا کو گرفتار کیا گیا جبکہ سیتا رام گوئل گرفتاری سے بچنے کے لئے روپوش ہوگیا۔مگر بعد میں اس کتاب کے کئی ایڈیشن نکل چکے ہیں
اُردو سے کیا ملتا ہے؟ ‘‘ اور لتا منگیشکر کا اعتراف !
از: ندیم صدیقی گزشتہ بدھ کو اُردو کے تمام قارئین نے لتا منگیشکر کے حوالے سے یہ خبر ضرور پڑھی ہوگی ، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ’’ اُردو کے بہتر تلفظ کی وجہ سے مجھے عروج نصیب ہوا۔‘‘ لتا منگیشکر کو گائیکی کی دُنیا میں آدھی صدی سے کہیں زیادہ مدت گزر چکی ہے۔ انکے گائے ہوئے نغمے ہمارے دَور کے کلاسک سرمایہ بن چکے ہیں۔ انہوں نے اپنے انٹروِیو میں واضح طور پر کہا ہے کہ ’’ ان کے گانے پر کے ایل سہگل کے طرز کا کافی اثر ہے اور سہگل صاحب جس طرح سے ارد
بابری مسجد کی شہادت کے بعد مستقبل کا سوال
بابری مسجد کی شہادت کے بعد مستقبل کا سوال از:حفیظ نعمانی ہر سال کی طرح اس سال بھی ۶؍ دسمبر کو بابری مسجد کی برسی منائی گئی اور وہ سب ہوا جو ہر سال ہوتا تھا۔جوش،ولولہ،جذبہ، دھرنا، جلسے، جلوس، قرآن خوانی اور انصاف کے انتظارمیں ۲۴؍برس انتظار اور جو مجرم ہیں ان کو بڑے بڑے عہدے۔یہ سب کرنے والے وہ ہیں جو ہر سال فیشن کے طور پر یہ سب کرتے ہیں اور ان میں کوئی نہیں ہے جس نے یہ اعلان کیا ہو یا عمل کیا ہو کہ ۲۵ ٹرک سنگ مرمر، سیکڑوں بورے سیمنٹ، پتھری اور مورنگ کا ذخیرہ کردیا ہے اور اعلان کردیا ہوتا
خدا را مخلصوں کی تبلیغی جماعت کو صحیح منہج پر کام کرنے دیں
از: نجیب قاسمی سنبھلی تقریباً ایک سال سے عالمی تبلیغی مرکز حضرت نظام الدین ؒ کے متعلق بعض خبریں اخباروں میں وقتاً فوقتاً شائع ہورہی ہیں، جن سے امت مسلمہ کا درد رکھنے والے حضرات کو کافی تکلیف اور تشویش ہے کہ فاضل دارالعلوم دیوبند حضرت مو لانا محمد الیاس کاندھلویؒ (۱۸۸۵۔۱۹۴۴) نے ۱۹۲۰ء میں امت مسلمہ کی اصلاح کے لئے مخلصانہ کوشش کرتے ہوئے ایک ایسی جماعت کی بنیاد ڈالی تھی جس کی ایثار وقربانی کی بظاہر کوئی نظیر اس دور میں نہیں ملتی، اور یہ جماعت ایک مختصر عرصہ میں دنیا کے چپہ چپہ میں یہاں تک کہ عربوں
ملک زادہ کو اعظم گڑھ کا خراج محبت
از: حفیظ نعمانی محب و عزیز عمیر منظرصاحب تشریف لائے اور چند منٹ کے بعد انھوں نے بیگ سے ایک کتاب نکال کر دی اور کہا کہ ملک زادہ ڈاکٹر منظور پر جو آل انڈیا سیمینار اعظم گڑھ میں ہوا تھا یہ کتاب اس میں پڑھے گئے مقالوں کا مجموعہ ہے۔ میری دلچسپی کو دیکھتے ہوئے مزید وضاحت کی کہ یہ ممتاز ادیبوں کو موضوع دے کر لکھوائے گئے مقالے ہیں۔ یقیناآپ پسند کریں گے۔ یہ عام بات ہے کہ کسی بھی شخصیت پر کوئی کتاب چھاپی جاتی ہے اور مضمون نگار کو پابند نہیں کیا جاتا تو کتاب کا تین چوتھائی حصہ ان مضامین اور واقعات سے ب
Can national anthem really instill patriotism?
On November 30, the Supreme Court of India ordered all the cinema halls in India to play national anthem to ‘‘instill committed patriotism and nationalism’’. It said, ‘‘all the cinema halls in India shall play the national anthem before the feature film starts and all present in the hall are obliged to stand up to show respect to the national anthem.” The apex court judgment reminded me of a dialogue by Aishwarya Rai Bacchan in the movie Hum Kisi Se Kam Nahi, where she tells the character of Sa
بابری مسجد یوم شہادت : پڑھیں ، چھ دسمبر 92 کو ایودھیا کی آنکھوں دیکھی صورت حال
نئی دہلی۔ دو دہائی سے بھی زیادہ وقت گزر چکا ہے، لیکن کچھ باتیں ذہن میں ایسے بیٹھ جاتی ہیں جو ہمیشہ یاد رہتی ہیں۔ آپ اسے بھلانا بھی چاہیں تب بھی یہ ممکن نہیں ہوتا۔ 6 دسمبر 1992 کا دن بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ آج یہ لڑائی لڑی جا رہی ہے کہ رام جنم بھومی۔ بابری مسجد کی متنازعہ 2.77 ایکڑ زمین پر مالکانہ حق کس کا ہے۔ تاہم 30 ستمبر 2010 کو الہ آباد ہائی کورٹ نے اس زمین کو ہندو، مسلمان اور نرموہی اکھاڑے میں بانٹنے کا فیصلہ سنایا تھا لیکن اس فیصلے سے کوئی بھی فریق خوش نہیں تھا اور اب معاملہ سپریم کورٹ میں ہ
قرآن کے بعد اب جمعہ کی چھٹی اور درسی کتابیں فسطائی نشانے پر۔۔۔۔۔از:ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے........... وطن عزیز ہندوستان کے حالات مسلمانوں کے لئے جس طرح تنگ ہوتے جارہے ہیں اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ ملت اسلامیہ ہند پر ابتلاء و آزمائش کا ایک کڑا دور آیا ہی چاہتا ہے۔ دن بہ دن وضع کیے جارہے نئے نئے قوانین سے عام آدمی کا جینا جہاں ایک طرف مشکل ہوتاجارہا ہے ، وہیں پر مسلمانوں اور اسلامی شعائر سے متعلقہ معاملات میں سرکاری نظریات اور احکامات الارم بجارہے ہیں کہ اطمینان و سکون کا موسم بس ہوا ہونے والا ہے۔ اور جو لوگ علامہ اقبال ؒ کے اس شعر: ملا کو جو ہے ہند میں سجدے ک
آنکھوں میں سرور عشق نہیں چہرے پہ یقیں کا نور نہیں
از:حفیظ نعمانی لوک سبھا الیکشن میں نریندر مودی نے وزیر اعظم کے امیدوارکی حیثیت سے اتر پردیش کے دورے کے موقع پر کہا تھا کہ تم میرا ساتھ دوگے تو میں اترپردیش کو بھی گجرات بنا دوں گا۔ اور جب سپا لیڈر ملائم سنگھ نے کہا کہ ہم خود اسے گجرات بنائیں گے تو جواب میں مودی نے کہا تھا کہ گجرات بنانے کے لیے ۵۶ انچ کی چھاتی چاہیے۔ اترپردیش کے شریف آدمی دھوکہ میں آگئے اور مودی کا ایسا ساتھ دیا کہ کسی صوبہ نے نہیں دیا۔ لیکن افسوس کہ یہ بھی جھوٹ نکلا اس لیے کہ گجرات وہ ہے جہاں ایک مہیش شاہ کے گھر میں 13860کروڑ
Why target Zakir Naik? Indian constitution allows propagation of religion
Indian constitution gives its citizens the Right to Religion. Article 25 of the constitution clearly says that Indian citizens have the right to Profess, Practice and Propagate their religion. This constitutional guarantee cannot be misinterpreted or subverted in any manner. The recent ban on Mumbai based Islamic Research Foundation (IRF) is totally un-constitutional as this organisation has been undertaking its work within the parameters of Indian Constitution from last 26 years. Islamic
وہ آئینہ کیا جو سچ نہ بولے وہ روشنی کیا جو گھر جلا دے
از:حفیظ نعمانی مخصوص لوگوں کی ایک میٹنگ میں وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے وہ سب کہہ دیا جو ان کے دل میں تھا ۔ ایک معروف صحافی سے عوامی گفتگو کرتے وقت انھوں نے اعتراف کیا کہ ان کی پرشانت کشور سے گفتگو ہوئی تھی، لیکن یہ بھی وضاحت کردی کہ میری گفتگو شری ملائم سنگھ کے بعد ہوئی تھی اور وہ بھی اس حق میں ہیں کہ کانگریس کے ساتھ اتحاد کرکے الیکشن لڑیں تو ۳۰۰ سیٹیں جیت کر حکومت بنا سکتے ہیں لیکن یہ کہنا بھی نہیں بھولے کہ ہم اگر اکیلے بھی لڑیں گے تب بھی حکومت ہماری ہی بنے گی۔ اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا
یہاں تو کل بھی رات تھی یہاں تو اب بھی رات ہے
از: حفیظ نعمانی اترپردیش کے وزیر اعلیٰ مسٹر اکھلیش یادو نے لکھنؤ میں میٹرو کو چلا کر دکھانے کے بعد کہہ دیا کہ اب ہم الیکشن کے لیے تیار ہیں۔ وہ پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ ہم سماجوادی اپنے از: حفیظ نعمانیوکاس (ترقی) پر الیکشن لڑیں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اکھلیش پہلے وزیر اعلیٰ ہیں جنھوں نے بہت سنجیدگی اور لگن کے ساتھ وکاس پر توجہ کی ہے اور ان کا سب سے زیادہ زور لکھنؤ کو حسین بنانے اور لکھنؤ کو آگرہ اور دہلی سے جوڑنے اور اس طرح کے ترقیاتی کاموں پر رہا ہے۔ میٹرو ان کا سب سے اہم خواب تھا۔ ان کے
بیکل اُتساہی - نئے عہد کا سب رنگ شاعر۔۔۔۔ از:ڈاکٹر محمد حسین مُشاہدؔ رضوی
زندگی جھوٹ ہے سب حیلے بہانے کرلو موت اک سچ ہے کلیجے سے لگانا ہوگا حسانِ وقت ، پدم بھوشن عالی قدر سرِ معانی بیکلؔ اتساہی کا اصل نام لودی محمد شفیع خاں تھا۔ آپ یکم جون ۱۹۲۸ء بروز جمعہ موضع گورر موا پور ، اُترولہ ضلع گونڈہ کے ایک جاگیردار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد لودی محمد جعفر خاں اور والدہ بسم اللہ بی بی خلیل زئی پورے علاقے میں ایک ممتاز مقام رکھتے تھے۔ بیکلؔ اتساہی کی پرورش و پرداخت نہایت صحت مند ،جاگیردارانہ لاڈ و پیار سے رعب و جلال کے گھن گرج ماحول میں ہوئی۔