Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors
Abdul Haleem Mansoor
Abdul Majid Daryabadi
Abdul Mateen Muniri
Abdur Raqeeb M.J Nadwi
Ahmed Hatib Siddiqui
Asif Jilani
Athar Hashmi
Bhatkallys
Dr Badrul Hasan Qasmi
Dr Haneef Shabab
Dr. F Abdur Rahim
Dr. Tahir Masud
Hafiz Naumani
Kaldip Nayar
Masoom Muradabadi
Masud Ahmed Barkati
Mohammed Mateen Khalid
Muhammed Furqan
Nizamuddin Nadwi
Riyazur Rahman Akrami Nadwi
Suhail Anjum
ٹرمپ کے دور کا آغاز، طوفانوں کے جھرمٹ میں
از: آصف جیلانی ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم طوفان سے کم نہیں تھی، لیکن اب ٹرمپ کے صدارتی دور کا آغاز ، ایک نہیں بلکہ کئی طوفانوں کے جھرمٹ میں ہو رہا ہے۔ کئی دہائیوں کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ امریکا کے نئے صدر شدید تنازعات کے ساتھ اپنی معیاد شروع کر رہے ہیں۔ انتخابی مہم اور انتخابی جیت کے بعد ، ڈونلڈ ٹرمپ جو گہر افشانی کرتے رہے ہیں اس کے پیش نظر اس بارے میں کوئی شبہ نہیں کہ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالتے ہی میکسیکو کی سرحد سے لے کر چین تک افق پر تباہ کن طوفان امڈ آئیں گے۔ یہ طوفان چار علاقوں میں نمای
کانگریس بھی اکھلیش کو بوجھ لگنے لگی
از: حفیظ نعمانی اترپردیش میں بہار کے طرز پر متحدہ محاذ کی بات سال بھر سے چل رہی تھی۔ یہ تو ممکن ہی نہیں تھا کہ اکھلیش یادو کے ساتھ مایاوتی اتحاد کرلیں اور اگر وہ پیش کش کرتیں بھی تو اب کانگریس کے علاوہ کون تھا جو ان پر بھروسہ کرتا؟ کانگریس نے پرشانت کشور کے ذریعہ چاہا تھا کہ سماج وادی پارٹی اور کانگریس مل کر الیکشن لڑیں۔ اس سلسلہ میں ملائم سنگھ اور اکھلیش یادو سے گفتگو ہوئی تھی۔ چودھری اجیت سنگھ بھی چاہتے تھے کہ وہ بھی اس محاذ کا حصہ بن جائیں اور اکھلیش یادو نے بھی کئی بار کہا تھا کہ اگر ہم ا
امت شاہ کے دربار میں حاضری این ڈی کی سزا
از: حفیظ نعمانی ایسا بڑھاپا جس میں اتنا مجبور ہوجانا پڑے کہ اپنی رائے نہ ہو اور دوسروں کا حکم حرف آخر ہو سزا سے کم نہیں ہے۔ دو دن سے سابق وزیر اعلیٰ اترپردیش ، سابق وزیر اعلیٰ اتراکھنڈ اور سابق گورنر راجستھان شری نرائن دت تواری گفتگو کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ انہیں اپنی جوانی کی ایک غلطی کی سزا تو ۶ فٹ کے ایک بیٹے اور اس کی ماں کی شکل میں ملی ہے جو اب ان کی پتنی ہیں۔ اور دوسری سزا یہ ملی ہے کہ بتایا جارہا ہے کہ تواری جی اپنے بیٹے کو بی جے پی میں ایسے ہی داخل کرانے لے گئے ہیں جیسے اسے اس وقت کسی
سیاسی آوارگی بھی بند ہونا چاہیے
از: حفیظ نعمانی زیادہ دنوں کی بات نہیں ہے کہ بہوجن سماج پارٹی کے ہاؤس میں حزب مخالف لیڈر سوامی پرساد موریہ ہوا کرتے تھے وہ تو کماری مایاوتی پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ ان سے بھی ٹکٹ دینے پیسے کے مانگ رہی تھیں اس لیے انھوں نے پارٹی سے استعفیٰ دے دیا اور مایاوتی کہتی ہیں کہ وہ اپنے بیٹے اور بیٹی کے لیے بھی ٹکٹ مانگ رہے تھے اس لیے میں انہیں نکالنے والی ہی تھی کہ وہ بھاگ گئے۔اب یہ تو خدا جانے کہ اصلیت کیا تھی؟ لیکن ان کے باہر آنے پر وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے بھی ایسے جذبات کا اظہار کیا تھا جیسے انہی
بدلتے روز و شب، نیا سال اور کیلنڈر کی کہانی
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے……….. از:ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ نئے سال کا جشن منانے کے حوالے سے بات جو شروع ہوئی تو مطالعہ اور تحقیق کے دوران کئی حقائق ایسے سامنے آئے جن کے تعلق سے اکثر ذہن میں سوال اٹھا کرتے تھے۔ اورکچھ باتیں جو ذہن و دل پر پہلے ہی سے واضح تھیں ان کے لئے دلائل بھی ہاتھ لگے۔ ہمارا دانشور طبقہ تو ان نکات سے آشنا ہوگا ہی، مگر میں چاہتا ہوں کہ ہمارے باشعور اور تعلیم یافتہ نوجوان دوستوں کے ساتھ ان معلومات کو شیئر کروں۔ کیونکہ نئے سال کا جشن منانے کے سلسلے میں ماڈرن طبقے کے علاوہ کچ
مودی کو مہاتما گاندھی بنانے کی کوش
از: کلدیپ نیئر اس بات پر یقین کرنا مشکل ہے کہ کھڈی بورڈ نے وزیراعظم نریندر مودی کی اس تصویر کی اشاعت کے لیے اجازت دی ہے جس میں انھیں مہاتما گاندھی کے انداز سے چرخہ کاتتے ہوئے دکھایا گیا ہے حالانکہ یہ وزیراعظم کے آفس کی اجازت کے بغیر کیا گیا ہے۔ غالباً کسی نے نچلی سطح سے بورڈ کو ایسا کرنے کا کہا ہو گا لیکن عوام کی طرف سے اس قدر شور و غوغا پیدا ہوا کہ اس کی تردید لازمی ہو گئی۔ حتیٰ کہ وزیراعظم کے دفتر کی طرف سے کسی ٹھوس موقف کا اظہار نہیں کیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے پر بڑی سختی سے انتبا
پارٹی ٹوٹی نہیں منتقل ہوئی ہے
از:حفیظ نعمانی اگر سماج وادی پارٹی کی گھر بدلی کی کہانی غور سے پڑھی جائے تو معلوم ہو جائے گا کہ یہ اصلی مال کا بورڈ لگا کر نقلی مال بیچنے کی سزا ہے جو ملائم سنگھ کو بڑھاپے میں ملی ہے۔ وہ جمہوریت کا بورڈ لگائے ہوئے تھے اور آمریت کا کاروبار کررہے تھے۔ ان کا بار بار یہ کہنا کہ میں نے تنکا تنکا جوڑ کر یہ پارٹی بنائی تھی، یہی آمریت ہے۔ تنکا تنکا جوڑ کر گھونسلہ بنتا ہے باغ نہیں بنتا۔ الیکشن کمشنر نے جو فیصلہ کیا وہ جمہوریت پر کیا ہے آمریت پر نہیں۔ الیکشن جمہوریت کا سب سے روشن چہرہ ہے اور ۲۲۸ میں ۲۰
مزہ اس ملاپ میں ہے جو صلح ہوجائے جنگ ہوکر
از:حفیظ نعمانی ملائم سنگھ نے دیکھ لیا کہ اب ان کے پاس کچھ نہیں بچا ہے اور لڑنے کا وقت نہیں ہے تو انھوں نے لالو جیسے دوست اور خاندان کے دباؤ میں آکر وہ فیصلہ کیا جس سے دشمنوں کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے اور اکھلیش نے پھر ثابت کیا کہ وہ صرف جسمانی طور پر ہی نہیں دماغی طور پر بھی بہت پھرتیلے ہیں۔ انھوں نے ملائم سنگھ کو پوری طرح شیشے میں اتارنے کے صرف ایک گھنٹے کے اندر اندر ان کے سامنے وہ خوبصورت پوسٹر رکھ دیا جس میں ملائم سنگھ کی تصویر پر بڑی تھی اور اکھلیش کی چھوٹی۔ اور دوسرا پوسٹر بھی جس م یں درم
ٹرمپ کی کابینہ، تضادات سے بھرپور پٹارہ
از: آصف جیلانی امریکا کے منتخب صدر ،ڈونلڈ ٹرمپ نے جب اپنی کابینہ کے اراکین نامزد کئے تھے تو اس وقت کہا گیا تھا کہ یہ بھان متی کا کنبہ ہے لیکن اب سینیٹ کی کمیٹی کے سامنے ، نامزدگیوں کی سماعت کے دوران ، کابینہ کے اراکین کے جو نظریات اور موقف سامنے آئے ہیں ،ان کے پیش نظر کابینہ تضادات سے بھر پور پٹارہ نظر آتی ہے۔ بہت سے اہم امور اور مسائل کے بارے میں ان کا موقف منتخب صدر ٹرمپ سے بالکل مختلف اور ان کے نظریات کے بر عکس نظر آتے ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران، ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ امریکا میں مس
صدارتی نظام کے پہلے مرحلے میں کامیابی۔۔۔۔از: فرقان حمید
ایردوان ترکی کا ایک ایسا سپوت ہے جس نے ناکامیوں کو ٹھوکر مارکر اپنے لئے کامیابی کی راہ ہموار کی ہے۔ ان کی زندگی کا مقصد پسے ہوئے اور مظلوم ترکوں کے ساتھ ماضی میں کئے جانے والے ظلم و ستم اور زیادتیوں کا ازالہ کروانا ہے۔ اسی سوچ کے ساتھ انہوں نے اپنے سیاسی سفر کا آغا زکیا۔ ایردوان ترکی کے ایک ایسے رہنما ہیں جن کو مختلف چالوں، حربوں اور بغاوتوں کے ذریعے اقتدار سے ہٹانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے لیکن یہ چالباز کبھی اپنی کوششوں میں کامیاب نہیں ہوسکے بلکہ ان حربوں اور ناکام بغاوتوں کے بعد ایردوان کی مقب
ہر شاخ پہ الّو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہوگا
از:حفیظ نعمانی سماج وادی پارٹی میں اب تلواریں باہر آگئی ہیں، کہیں سے کوئی آواز ایسی نہیں آتی جس میں مصالحت کا اشارہ ہو۔ اعظم خاں بھی اپنی پوری طاقت اور صلاحیت قربان کرکے اب خاموش ہیں۔ سنا ہے کہ آخری ٹیلی فون ملائم سنگھ نے اپنے بیٹے کو کیا تھا کہ اب بھی مان لو کہ میں قومی صدر ہوں لیکن رام گوپال کو وہ چھوڑنے پر تیار نہیں ہوئے۔ آج شہرت کی حد تک انتخابی نشان کا فیصلہ ہوجائے گا۔ اب اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ سائیکل کسے ملی یا کسی کو بھی نہیں ملی۔ اس لیے کہ دونوں نے متبادل پارٹی اور نشان تیار کر
مسلمانوں کو بچانے والے اور مروانے والے کیا برابر ہوسکتے ہیں؟
از:حفیظ نعمانی دیش نیتا مہاتما گاندھی کی پہچان صرف چرخہ نہیں ہے۔وہ کھدر کی دھوتی بھی ہے جس میں اتنا کپڑا بھی نہیں ہوتا تھا جتنا مودی جی کی ایک پگڑی میں ہوتا ہے اور ایک پہچان یہ بھی ہے کہ انھوں نے زیادہ تو برت اس لیے رکھے کہ ملک کی اقلیت مسلمانوں کو نہ مارا جائے اور نہ ستایا جائے۔ ان کی پرارتھنا سبھا میں رگھوپتی راگھو راجا رام ہی نہیں قرآن پاک کی آیات اور انجیل کی تعلیم کا بھی کچھ حصہ سنایا جاتا تھا۔ وغیرہ وغیرہ۔ اور مودی جی کی پہچان یہ ہے کہ وہ پروین تگڑیاں کے ساتھ ایک زمانے میں گجرات میں ہن
نیم فوجی دستوں میں بے چینی خطرناک ہے
از:حفیظ نعمانی ملک کی فوج کے جو انوں اور نیم فوجی دستوں کے جوانوں میں بے چینی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ دماغی تناؤ کی وجہ سے خود کشی کرنا یا اپنے ساتھیوں یا افسروں کو ذرا ذرا سی بات پر ناراض ہو کر گولی مار دینا جیسے واقعات بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔ کسی دشمن ملک سے جنگ ہورہی ہو تو فوج کے جوان یا افسر اپنی کامیابی سے زیادہ کچھ نہیں سوچتے۔ لیکن جب حالات پر امن ہوں تو روٹی کو بھی دیکھا جاتا ہے کہ وہ برابر سِکی ہوئی ہے یا ایک طرف سے کچی اور ایک سے جلی تو نہیں ہے؟ اور دال سبزی کو بھی دیکھا جاتا ہے کہ اس
کیا ہم اورزیادہ برے دنوں کے استقبال کی تیاری کریں؟
از:حفیظ نعمانی پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے آخری دنوں میں کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے کہنا شروع کیا تھا کہ مجھے پارلیمنٹ میں بولنے نہیں دیا جارہا ہے۔ میرے پاس وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف ان کے بھرشٹاچار کے ثبوت ہیں۔ میں جب پارلیمنٹ میں ظا ہر کروں گا تو زلزلہ آجائے گا۔ اس کے جواب میں ان سے مطالبہ کیا جانے لگا تھا کہ آپ ان ثبوتوں کو باہر کیوں نہیں ظاہر کرتے؟ تاکہ بڑا نہ سہی چھوٹا زلزلہ آجائے؟ اجلاس کے بعد ا بتدا وزیر اعظم نے گجرات میں کی اور کہا کہ لوگ مجھے پارلیمنٹ میں بولنے نہیں دے ر
غیر ممکن ہے کہ حالات کی گتھی سلجھے
از:حفیظ نعمانی سماج وادی پارٹی کی کشتی بھنور میں ہے اور بار بار ایسا لگتا ہے کہ وہ کنارے آگئی لیکن پھر پانی کا ریلا آتا ہے اور کشتی کو بھنور میں لے جاتا ہے۔۱۰ ؍جنوری کو بار بار دہلی میں ملائم سنگھ نے کہا کہ جب کوئی تنازعہ ہی نہیں ہے تو مصالحت کاہے کی؟ او ر یہ کہ میرے اور بیٹے کے درمیان جو کچھ ہے وہ بہت معمولی ہے۔ اور یہ بھی بار بار کہا کہ قومی صدر میں ہوں اور وزیر اعلیٰ اکھلیش ہی رہے گا۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ ان خبروں کے بعد لکھنؤ میں یہ چرچا ہونے لگا کہ دونوں باپ بیٹوں کی مشترکہ پری
چوری اور سینہ زوری؟
از:حفیظ نعمانی یہ بات آج کی نہیں ہمیشہ سے یہ ہوتا آرہا ہے کہ جس کے ہاتھ میں حکومت ہوئی ہے اور وہ غلطی کرتا ہے تو اسے صحیح ثابت کرنے کے لیے اور زیادہ غلطیاں کرتا جاتا ہے۔ مسز اندراگاندھی نے ایمرجنسی لگائی اور پورا ملک چیخ پڑا تو انھوں نے اس کے فائدے گنانے شروع کیے اور یہ تو ہم نے بھی دیکھا کہ کلکتہ جہاں یہ مشہور تھا کہ اگر لکھنؤ آنا ہے یا کہیں دور جانا ہے تو ایک مہینہ پہلے رزرویشن کرانا پڑتا ہے۔ اسی کلکتہ سے ہم ایک دوست کے ساتھ جب واپس آنے لگے اور اپنے میزبانوں سے کہا کہ بلیک میں یا دوگنے پیسے
Protection of identity not at the cost of alienation
Bhatkallys News Service | By Shafaat Shahbandari | 12 Jan 2017 [caption id="attachment_72267" align="alignright" width="256"] Shafaat Shabandri[/caption] Nawayaths are a singular race, and a rare gem of India's rich and divergent cultural heritage. While India has many precious jewels hidden in its vast treasures, rarely one would come across a community as striking as the Nawayaths. It's a confluence of majestic rivers flowing through the western ghats, all the way to the Arabian Sea.
بنگلور کے واقعہ کی گونج پورے ملک میں
از:حفیظ نعمانی بنگلور اور دہلی کے شرمناک واقعات نے اتنی اہمیت اختیار کرلی ہے کہ این ڈی ٹی وی انڈیا کا پروگرام ’’ہم لوگ‘‘ کل صرف اس کے گرد گھومتا رہا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اب تک بنگلور سے ایسی خبریں تو آتی تھیں کہ وہاں لڑکوں نے لڑکیوں کی آوارہ گردی یا بے راہ روی پر دوڑایا، سزادی یا انہیں اس کا پابند کیا کہ وہ کسی بھی یوم کے موقع پر لڑکوں کے ساتھ آوارہ گھومتی نظر نہ آئیں۔ لیکن یہ خبر شاید پہلی بار آئی ہے اور اس لئے اسے ایک ہفتہ ہوجانے کے باوجود بار بار اور ہر دن دکھایا جارہا ہے کہ دن کے ڈ