Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors
Abdul Haleem Mansoor
Abdul Majid Daryabadi
Abdul Mateen Muniri
Abdur Raqeeb M.J Nadwi
Ahmed Hatib Siddiqui
Asif Jilani
Athar Hashmi
Bhatkallys
Dr Badrul Hasan Qasmi
Dr Haneef Shabab
Dr. F Abdur Rahim
Dr. Tahir Masud
Hafiz Naumani
Kaldip Nayar
Masoom Muradabadi
Masud Ahmed Barkati
Mohammed Mateen Khalid
Muhammed Furqan
Nizamuddin Nadwi
Riyazur Rahman Akrami Nadwi
Suhail Anjum
امریکی صدر کے سیاسی گرو
از: آصف جیلانی امریکا کی سیاست کے پوشیدہ رازوں کے کھوجیوں کا کہنا ہے کہ امریکا کے نئے صدر ٹرمپ ، امریکا کے لئے کیا چاہتے ہیں اور اسے کس سمت لے جانا چاہتے ہیں؟ ان کے حامی یہ قطعی نہیں جانتے ۔ ان کی ریپبلکن پارٹی کو بھی اس کا ادراک نہیں ، حتی کہ خود ٹرمپ بھی یہ نہیں جانتے ،اس لئے اس وقت وہ اندھیرے میں ٹامک ٹویاں مار رہے ہیں۔ ٹرمپ کی سیاسی منزل کیا ہوگی ؟ اس کا ادراک صرف ایک شخص کو ہے ۔ یہ 63سالہ اسٹیفن بینن ہیں جو ٹرمپ کی شہ نشین کے پیچھے بے حد بااثر قوت ہیں ۔ انہیں ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں حکم
آگرہ اور میں ۔۔۔ از عمران عاکف خان
از عمران عاکف خان آگرہ کا بہت نام سنا،بہت قصے سنے،آگرہ یہ اور آگرہ وہ،کبھی اسے ’مغل اعظم‘ اکبر نے اپنا پائے تخت بنایا تھا،شاہ جہاں نے اسے تاج محل،لال قلعہ،مغل گارڈن جیسے عظیم تحفے دیے۔اس سنہری دور کے بعدمیاں نظیر اکبر آبادی، جیسے عوامی شاعر اور میر تقی میر و مرزا غالب کی جائے پیدایش سے اسے نسبت خاص ہے،پھر جب یہ دور ختم ہوا تو عاشق حسین سیماب اکبر آبادی نے قصر الادب کے نام سے ایک علمی و ادبی محل تعمیروہاں کیا۔ اسی آگرہ کو میں بھی ایک ادبی پروگرام کے بہانے دیکھنے گیا۔حالاں کہ آگرہ وال
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
از: حفیظ نعمانی ایک اخبار نے سرخی لگائی ہے کہ ’’بجٹ میں نوٹ بندی سے زخمی لوگوں کے لیے مرہم‘‘ اور اس کے بعد تفصیل میں بتایا گیا ہے کہ کسانوں کو قرض کے لیے ۱۰ لاکھ کروڑ، گاؤں کے مزدوروں کے لیے منریگا میں ۴۸۰۰۰ کروڑ، اور چھوٹے نیز درمیانی صنعت کاروں کے ٹیکس میں کمی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وزیر مالیات ارون جیٹلی کو گھوم پھر کر دیکھنے کی توفیق تو کیا ہوتی انھوں نے شاید ٹی وی دیکھنے کی زحمت بھی نہیں کی۔ انھوں نے سب سے پہلے کسانوں کو قرض دینے بات کی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جیٹلی صاحب یہ سمجھتے ہیں
بے جان بولتا ہے مسیحا کے ہاتھ میں
از: حفیظ نعمانی یہ اس وقت کی بات ہے جب ملک کی تقسیم کا مسلم لیگ مطالبہ کررہی تھی اور کانگریس جس میں ہندؤں کے ساتھ کافی تعداد میں مسلمان اور بڑے بڑے عالم بھی تھے اس کی مخالفت کررہے تھے۔ اس وقت دہلی سے مسلم لیگ کے اردو کے ۲ ؍اخبار نکلتے تھے۔ جنگ اور انجام۔ جنگ مسلم لیگ کا سرکاری اخبار تھا اور انجام کی یہ حیثیت نہیں تھی۔ انجام بھی شاید ۶ صفحات ہی کا تھا۔ اس کے صفحہ ۳ پر اوپر ہمیشہ ایک کارٹون ہوا کرتا تھا جس کا عنوان ہمیشہ ع ’’بے جان بولتا ہے مسیحا کے ہاتھ میں‘‘ ہوا کرتا تھا اور کارٹون میں ہمیشہ
پروفیسر خلیل الرحمن اعظمی - علم کسی کا قرض نہیں رکھتا
پروفیسر خلیل الرحمان اعظمی :علم کسی کا قرض نہیں رکھتا از ۔ ندیم صدیقی ابھی بہت وقت نہیں گزرا جب روس میں اُردو کا بول بالا تھا، دہلی سے روس کا ترجمان ’ سوویت دیس‘‘ باقاعدگی سے اور خاصے اہتمام سے ماہ بہ ماہ اُردو زبان میں بھی شائع ہوتا تھا۔ اُس دور کے تمام نہ سہی مگر اکثر ادیب و شاعر روس جاتے تھے اور روس میں اُردو اور روسی، روسی اور اردو تراجم کاکام بھی خوب ہوا تھا۔ جو اُردو ادب میں ایک یادگار حیثیت کا حامل ہے۔ اسی طرح اُردو کا ایک مرکز
یہ روش تو بدلنی ہوگی۔۔۔۔۔از: قاسم سید
سیاست مجبوریوں کا سودا اور ضرورتوں کا تبادلہ ہے۔ کم از کم ہندوستانی تناظر میں پارلیمانی سیاست کے کوئی اصول و آداب نہیں ہیں۔ نظریاتی مفاہمت اب عام بات ہوگئی ہے۔ سیکولر اور فرقہ پرست کی تعبیر و تعریف اپنی اہمیت و افادیت کھوچکے ہیں۔ اب وہ بال کی طرح باریک لکیر بھی بے رحمی کے ساتھ مٹادی گئی ہے، جو اس فرق کو واضح کرتی تھی۔ کب کون سا پہلوان کس طرف چلا جائے کہنا یا پیش گوئی کرنا مشکل ہوگیا ہے، مگر مسلمانان ہند کی اس بات کے لئے تعریف کرنی پڑے گی کہ انھوں نے سیکولرازم کو اس کی اصل روح کے ساتھ سمجھا اور
پِل اور پُل
از: اطہر ہاشمی ہمارے ٹی وی اینکرز ہی نہیں، بظاہر پڑھے لکھے تجزیہ کار بھی اردو کے الفاظ کا تلفظ بگاڑتے ہیں تو اس کا ایک فائدہ بھی ہے۔ کچھ لوگ غلط تلفظ سن کر اسے صحیح کرنے پر تل جاتے ہیں۔ اب کوئی صاحب تُل کو تَل یا تِل نہ پڑھیں کہ یہ لفظ زیر اور زبر کے ساتھ بھی ہے اور مطلب ہر ایک کا جدا۔ یہ احتیاط اس لیے کہ گزشتہ جمعرات کو جب ہماری مقدس و محترم قومی اسمبلی میں دھینگا مشتی ہوئی تو ایک ٹی وی کے نیوز اینکر بتا رہے تھے کہ فریقین ایک دوسرے پر پَل پڑے۔ یہ پَل بالفتح اور بروزن جل یا پاگل، بادل کا ہم قاف
الیکشن کی سیاست اور مسلمان
از: حفیظ نعمانی مولانا ابوالکلامآزادؒ کو امام الہند مانیں نہ مانیں لیکن ان کی فراست کے بارے میں صرف ان کے مخالف ہی مخالفت کرسکتے ہیں ورنہ یہ سب نے تسلیم کیا ہے کہ وہ ملک اور مسلمانوں میں سب سے زیادہ دور اندیش تھے۔ ہم ان خوش نصیبوں میں ہیں جنھوں نے اس لکھنؤ میں انہیں تقریر کرتے ہوئے دیکھا اور سنا تھا اور انھوں نے 1948میں جیسے درد بھرے انداز میں کہا تھا کہ جو ہونا تھا وہ ہوگیا لیکن اب ہندوستان میں مسلمانوں کو اپنی الگ کوئی سیاسی پارٹی بنانے کی ضرورت نہیں اور مولانا نے جمعیۃعلماء ہند سے بھی جو ا
ایک اورایک گیارہ
از: حفیظ نعمانی لکھنؤ نے کل جودیکھا اس کے بارے میں اندازہ تھا کہ کچھ ایساہی ہوگا لیکن خطرہ کے بادل بھی اس لیے ڈرا رہے تھے کہ جو اتحاد نعروں اور بینڈ باجوں کے شور میں ہونا چاہیے تھا وہ ایسے ہوا تھا جیسے کسی کی ۱۳ویں یامسلمان کا تیجہ ہورہا ہے اور ہر کوئی اندازہ کررہا تھا کہ مارے باندھے کا سودا ہے۔ لیکن کل جو ہوا اور جس انداز میں ہوا اس کے بعد اس کا خطرہ نہیں رہا کہ انجام کیا ہوگا؟ جس کھلے دل سے راہل اور اکھلیش ایک دوسرے کے ساتھ تھے اور جس اپنائیت کا مظاہرہ کررہے تھے وہ مصنوعی نہیں ہوسکتا۔ اکھل
وزیر اعظم ظالم ہیں یا مظلوم فیصلہ آپ کریں
از: حفیظ نعمانی اپنے ملک کے وزیر اعظم پر بے انتہاظلم ہوں اور اس کے بارے میں کچھ نہ لکھا جائے یہ اس سے بھی بڑا ظلم ہے۔ جالندھر کے ایک انتخابی جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے درد بھرے انداز میں کہا کہ تین مہینوں میں میرے اوپر کیا کیا ظلم ہوئے ہیں یہ میں ہی جانتا ہوں لیکن میں ظلم کے سامنے جھکتا نہیں ہوں۔ یہ بات ہم نہیں کئی حضرات نے کہی ہے کہ مودی جی کو جھوٹ بولنا بہت پسند ہے۔ وہ یہاں بھی شاید اس لیے جھوٹ بول گئے کہ کوئی دوسرا یہ نہ کہہ دے کہ وزیر اعظم گزشتہ تین مہینوں میں ۱۲۵ کروڑ عوام پر
بدلتے روز و شب، نیا سال اور کیلنڈر کی کہانی۔۔(قسط نمبر ۲)
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے……….. از:ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ دنیامیں بدلتے موسموں کے لحاظ سے زمانے کو دنوں اور مہینوں میں تقسیم کرنے کا رواج قدیم زمانے سے رہا ہے۔ انسانی تاریخ میں سب سے پہلا کیلنڈر کس نے ایجاد کیا اس بارے میں کوئی یقینی بات سامنے نہیں آتی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ تقریباً تمام قدیم تہذیبوں کے اپنے کیلنڈر رہے ہیں۔ ماناجاتا ہے کہ مصری تہذیب نے سب سے پہلے چاند کی گردش کو بنیاد بناکر قمری کیلنڈر استعمال کرنے کے بجائے سورج کے گرد زمین کی گردش کو بنیاد بناکر شمسی کیلنڈر ایجاد کیا تھا
افتخار امام صدیقی کو ۔ ہندی والوں کا اعزاز دینا
تحریر: ندیم صدیقی کوئی بیس بر س اُدھر کی بات ہے کہ ہم نے ایک ایسے معذور امریکی شخص کو دیکھا کہ جو دونوں ٹانگوں سے محروم تھا کسی حادثے میں اُس کی ٹانگیں چلی گئی تھیں مگر وہ جو کہتے ہیں حوصلہ اور ہمت ہو تو کسی طرح کی جسمانی معذوری کوئی معنیٰ نہیں رکھتی۔ اس امریکی معذور شخص کی جرأت ، ہمت نیز حوصلے کوہم بھلا نہیں سکے۔ اُس کی دونوں اصلی ٹانگوں کی جگہ مصنوعی ٹانگیں لگی ہوئی تھیں اور وہ معذورں کی ایک ریس میں حصہ
اتحاد کی گولی کڑوی مگر مفید ہے
از: حفیظ نعمانی وہ منظر ہماری طرح نہ جانے کتنے لوگوں کی آنکھوں میں گھوم رہا ہوگا جب کانگریس کمیٹی کے دفتر کے باہر سماج وادی پارٹی سے کانگریس کے اتحاد کا اعلان ہورہا تھا اور صوبائی صدر راج ببر ایسے بیٹھے تھے جیسے ۸؍نومبر 2016کی رات کو نوٹوں سے بھرے بریف کیس ردّی کاغذبنادئے گئے تھے اور ۱۰؍ کی صبح کو ان کے گھر پر بارات آنے والی ہو اور وہ نہ استقبال کرنے کے قابل ہوں اور نہ بارات کو روکنے کی پوزیشن میں ہوں۔ اور دکھ اس کا بھی تھا کہ یہ اعلان کرتے وقت کہ کانگریس 105سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑا کریگی م
مَلک، مِلک اور مُلک
تحریر : اطہر ہاشمی آئیے آج پہلے اپنی خبر لیتے ہیں۔ سنڈے میگزین کے تازہ شمارے (22 تا 28 جنوری) میں ایک دلچسپ نظم ہے، صفحہ 24 پر۔ پہلا شعر ہے: بوچھار میں کلکاریاں بھرتا ہوا بچہ ماں ہول رہی ہے کہیں گر جائے نہ چھجہ شعر اچھا ہے، اس میں نیا پن ہے۔ لیکن شاعر کو شاید کلکاریاں کا مطلب نہیں معلوم۔ اول تو یہ کہ کلکاریاں بھری نہیں جاتیں، ماری جاتی ہیں اور اس عمل سے چھجے کے گرنے کا کوئی خدشہ نہیں ہوتا، ماں خوامخواہ ہول رہی ہے۔ شاید شاعر کا خیال ہے کہ کلکاریاں بھرنے کا مطلب اچھل، کود کرنا ہے۔ کلکاری
فی الوقت کے لئے
تحریر : اطہر ہاشمی گزشتہ دنوں عمرو عیار کے حوالے سے کچھ لکھا تھا، جس پر اسلام آباد سے محبی ظفر محمود شیخ کی فرمایش موصول ہوئی کہ ’’عمرو‘‘ کے صحیح تلفظ پرگ بھی توجہ دلا دیں۔ ان کی یہ فرمایش یا فہمائش گزشتہ پیر کو ایک اخبار میں نصف صفحے کا اشتہار دیکھ کر یاد آگئی۔ یہ ایک بینک کا اشتہار ہے جس کے مضمون میں ایک جملہ ہے ’’اتھمار گروپ کے چیئرمین شہزادہ امربن محمد الفیصل۔۔۔‘‘ اس اشتہار کا متن انگریزی میں ہوگا جس کا ترجمہ شائع ہوا ہے۔ ہمارا گمان ہے کہ اتھمار تو ’اثمار‘ ہوگا، کیوں کہ انگریزی میں ’’ث‘‘ کو
ہم کے ٹہرے لکھنوی ۔ تحریر : فرزانہ اعجاز
اپنے پیارے شہر لکھنؤ کے بارے میں اچھی اچھی باتیں لکھنا یا کہنا ایسا ہی لگتا ہے جیسے کوئ ’اپنے منھ میاں مٹھو بن رہا ہو ، ‘ لیکن ، وہ جو ایک شعر ہے نا کہ ’دوری نے کردیا ہے ، تجھے اور بھی قریب ۔۔۔۔ تیرا خیال آکے نہ جاۓ تو کیا کروں ‘۔۔۔ کچھ ایسا ہی معاملہ لکھنؤ چھوڑکر جانے والے لکھنویوں کے ساتھ اکثر ہوتا رہا ہے ، وہ اپنی مرضی خوشی سے جایئں یا کسی مجبوری کے تحت ، لکھنؤ انکے ساتھ ساتھ ہر جگہ موجود رہتا ہے ، دھیمے سروں میں بہنے والی دریاۓ گومتی کے اطراف بسا پرسکون اور خوبصورت شہر لکھنؤ ،وہ لکھنؤ کہ
کس منہ سے اپنے آپ کو کہتا ہے عشق باز
از: حفیظ نعمانی ملک میں جب اور جہاں الیکشن کی بات ہورہی ہے تو ذکر اترپردیش اور پنجاب کا ہورہا ہے۔ اترپردیش میں بی جے پی اور بی ایس پی دو پارٹیوں نے یہ سوچ لیا تھا کہ کانگریس اور سماج وادی پارٹی الگ الگ لڑیں گی تو مسلمان ووٹ تین جگہ تقسیم ہوجائیں گے اور نمبر ہمارا آجائے گا۔ ایک امید یہ بھی تھی کہ ملائم سنگھ کو سائیکل کا نشان مل جائے گا یا سائیکل کسی کو نہیں ملے گی تو سماج وادی ووٹ دو جگہ تقسیم ہوجائے گا۔ غرض کہ دونوں پارٹیوں کی ساری عمارت اس پر موقوف تھی کہ پرائی اینٹیں ملیں گی تو ہمارا گھر بھ
اوباما کا دور۔۔امیدوں کی کہکشاں کی گمشدگی کا دور
از: آصف جیلانی امریکا کا وہ تاریخی دور ختم ہوگیا جو پہلی بار ایک افریقی امریکی صدر کے انتخاب سے شروع ہوا تھا ، جس سے وابستہ امیدو ں کی جو کہکشاں ابھری تھی وہ آٹھ سال بعد ناکامیوں کی تاریکیوں میں گم ہوگئی۔سنہ 2008میں انتخابی مہم کے دوران ، اوباما نے بش کے دور میں قائمکئے گئے گوانتا ناموبے کے عقوبت خانہ کو امریکی تاریخ کا افسوس ناک باب قرار دیا تھا اور وعدہ کیا تھا کہ وہ انتخاب جیتنے کے بعد فوراً گوانتاناموبے کو بند کردیں گے ، صدارت کا حلف اٹھانے کے دو روز بعد انہوں نے اس عقوبت خانہ کے 779قیدیو