Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors
Abdul Haleem Mansoor
Abdul Majid Daryabadi
Abdul Mateen Muniri
Abdur Raqeeb M.J Nadwi
Ahmed Hatib Siddiqui
Asif Jilani
Athar Hashmi
Bhatkallys
Dr Badrul Hasan Qasmi
Dr. F Abdur Rahim
Dr Haneef Shabab
Dr. Tahir Masud
Hafiz Naumani
Kaldip Nayar
Masoom Muradabadi
Masud Ahmed Barkati
Mohammed Mateen Khalid
Muhammed Furqan
Nizamuddin Nadwi
Riyazur Rahman Akrami Nadwi
Suhail Anjum
ٹک ٹک دیدم ۔ قسط 01 ۔۔۔ از :فرزانہ اعجاز
ویسے تو کئ بار یہاں آنا جانا ہوتا رہا ، لیکن اس بار حالات زرا مختلف تھے، کیونکہ سلطنت آف مسقط و عمان میں اپنی زندگی کے بہترین پینتیس سال گزارنے کے بعد اب پھر سے کسی دوسرے ملک میں آشیانہ بنانا پڑ رہا تھا ،ابھی تک تو ہندوستان میں آتے جاتے موسموں کی طرح ہم بھی تین تین ماہ کے لۓ امریکہ آتے جاتے رہتے تھے ،کبھی گرمی میں کبھی سردی میں اور کبھی بہار میں ، اور ہمیشہ یہی ہوتا تھا کہ ادھر ہمارا سوٹ کیس کھلا اور ادھر ’بند ‘ ہونے کی باری آگئ۔لیکن اس بار یہ پروگرام زرا زیادہ ’لمبا ‘ ہونے والا تھا ، سو، بجاے
آج مورخہ 3 جولائی:-: معروف شاعر ،افسانہ نگار ، ڈرامہ نگار اور نقاد کمار پاشیؔ کی سالگرہ ہے
تحریر : ابو الحسن علی بھٹکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کمار پاشی ایک منفرد شاعر ، افسانہ نگار اور سنجیدہ ادیب تھے ۔ آپ کا اصل نام شنکردت کمار تھا کمار پاشی قلمی نام تھا ۔ آپ بہاولپور میں 03 جولائی 1935 ء کو پیدا ھوئے ۔ آپ کا خاندان 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد دلی چھوڑ کر بہاولپور آن بساتھا ۔ لیکن تقسیم برصغیر کے بعد وہ دوبارہ دلی چلے گئے ۔ اس وقت کمار پاشی کی عمر تقریبا 12 برس تھی ۔ اس کم سنی میں ھجرت کے دکھ کی وجہ سے سنجیدگی کا عنصر ان پر شروع ھی سے غالب رھا ۔ تعلیم و
انیس شاہ جیلانی: اردو کا یار جانی۔۔۔۔از: زاہدہ حناء
فجر کی اذان ہورہی تھی، کمرے میں ملگجا اندھیرا تھا۔ میں نے کروٹ بدلی۔ عید میں ابھی کئی گھنٹے تھے۔ اچانک موبائل جاگ اٹھا۔ دوسری طرف چترا پریتم تھے۔ ایک نوجوان مصور جن سے برسوں پہلے تعارف ہوا تھا۔ ان سے ایسی بے تکلفی نہیں تھی کہ وہ منہ اندھیرے مجھے فون کریں۔ ’’خیریت؟‘‘ میری زبان سے بے اختیار نکلا۔ ’’جی ایک بری خبر دے رہا ہوں۔ سید انیس شاہ جیلانی اب ہم میں نہیں رہے۔‘‘ چترا کی آواز آئی۔ میرا دل بیٹھ گیا۔ ان کا جانا کوئی ناگہانی خبر تو نہ تھی لیکن دوست 100 برس کی عمر میں بھی جدا ہوں تو اذی
یہ تو بس ۔۔۔ اردو ہی کا رونا روتا ہے۔۔۔۔تحریر: ندیم صدیقی
یہی کوئی نصف صدی اُدھر کی بات ہے کہ اُردو کے ایک ادیب جو کسی مدرسے کے پڑھے ہوئے تھے انہوں نے ذاتی محنت سے اپنے اندر علم کے مزید چراغ جلائے، روس۔ ہند دوستی کا زمانہ تھا۔ روس میں اُردو کا بول بالا ہوا اور باقاعدہ روسی اور اُردو زبان ہند اور روس میں پڑھی اور پڑھائی جانے لگی۔ وہ لوگ جو ہماری عمر کے ہیں انھیں دہلی سے ’’ سوویت دیس‘‘ کے نام سے جاری ہونے والا اُردو کا میگزین ضرور یاد ہوگا، کیا شاندار ماہنامہ تھا آرٹ پیپر پر چہاررنگی یہ جریدہ، اُس وقت اُردو کا سب سے زیادہ دلکش میگزین تھا۔ یہ جو ، اب دُ
دعوتی کام کی پبلسٹی کرنے والو جاگو!۔۔بُرے دن آنے والے ہیں!! ۔۔از:ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے........... ایک مسلمان کے لئے اپنے دین پر قائم رہنا احسن بات ہے ، لیکن دین کے قیام کے لئے غیر مسلموں میں دعوتی کام کرنامستحسن ترین اور دین کا مطلوب و مقصود کام ہے، جس کی توفیق جس کسی کو بھی ملے اس کے لئے اخروی فوز و فلاح میں بھلا کس کو شک ہوسکتا ہے۔ دین کا درد اپنے دل میں رکھنے والے ہمارے اکابرین اور دانشوروں کو بجا طور پر یہ شکایت رہی ہے کہ ہندوستان میں جس انداز اور جس پیمانے پرماضی میں غیر مسلموں میں دعوتی کام ہونا چاہیے تھا وہ نہیں ہوا۔ صدیوں تک اس ملک پرکسی نہ کسی زا
حامی اور ہامی ۔۔۔ تحریر : اطہر ہاشمی
پچھلے شمارے میں کالم کا اختتام کہتر اور مہتر پر ہوا تھا۔ اس ضمن میں ایک بڑا دلچسپ قصہ ہے۔ تہران کی کارپوریشن کے سربراہ لاہور آئے۔ وہ مہتر تہران کہلاتے تھے۔ علامہ اقبال نے لاہور کارپوریشن کے چیئرمین (غالباً شہاب الدین) کا تعارف کرایا ’’اور یہ مہتر لاہور ہیں‘‘۔ جو لوگ سمجھتے تھے کہ اردو میں مہتر کس کو کہتے ہیں انہوں نے تو لطف اٹھایا مگر مہتر لاہور خفیف ہوکر رہ گئے، ایرانی مہتر بھلا کیا سمجھتا۔ فارسی میں مہتر سردار کو بھی کہتے ہیں ۔ لیکن کارپوریشن یا بلدیہ کے سربراہ کو مہتر کہنا زیادہ مناسب ہے، گو
ممتاز تاز شاعر محبوب خزاں کا یومِ پیدائش ہے
محبوب خزاںؔ کا اصل نام محمد محبوب صدیقی تھا۔ وہ اُتر پردیش کے ضلع بلیہ کے ایک موضع چندا دائر کے ایک معزز گھرانے میں یکم جولائی 1930ء کو پیدا ہوئے۔ 12 برس کی عمر میں اُن کے والد انتقال کر گئے اور اُن کی تعلیم و تربیت بڑے بھائی محمد ایوب صدیقی نے کی۔ اُنھوں نے 1948 میں الٰہ آباد یونی ورسٹی سے گریجویشن کیا اور پاکستان آگئے، یہاں سے اُنھوں نے سول سپیریئر سروسز (سی ایس ایس) کیا۔اُن کی پہلی تقرری شہر ادب و ثقافت ،لاہور میں اسسٹنٹ اکاؤنٹنٹ جنرل کی حیثیت سے ہوئی ،پھر ڈھاکہ بھیج دیئے گئے جب کہ تہران م
سچی باتیں ۔ تقوی کی اہمیت ۔۔۔ از : مولانا عبد الماجد دریابادی
وَمَن یَتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہُ مَخْرَجًاوَیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَایَحْتَسِبْ وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلٰی اللّٰہِ فَھُوَحَسْبُہُ اِنَّ اللّٰہَ بَالِغُ اَمْرِہِ قَدْجَعَلَ اللّٰہُ لِکُلِّ شِیْئٍ قَدْرًا۔ اور جو کوئی اللہ سے تقویٰ اختیار کرتا ہے اللہ اس کے لیے کشائش پیدا کردیتا ہے اور جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتااسے روزی دیتا ہے اور جو کوئی اللہ پر توکل رکھے پس وہ اس کے لیے کافی ہے یقینااللہ اپنا ہر کا م پورا کرلیتاہے اللہ نے ہر شے کا اندازہ ٹھہرارکھا ہے۔ یہ کسی شاعر کا کلام نہیں ،کسی انش
عید سعید اور کسی کی دید۔۔۔از: سہیل احمد صدیقی
عیدالفطر یا عرف عام میں میٹھی عید یا چھوٹی عید ہمارے لیے دینی و دنیوی ہر لحاظ سے باعث مسرت ہے۔ (ضمنی نکتہ: درست لفظ دُنیَوی ہے ، ’ے‘ پر زبر کے ساتھ، دنیاوی نہیں)۔ اصل خوشی تو خدا کے اُن نیک بندوں کی ہوتی ہے جو رمضان المبارک کے پورے روزے، پورے اہتمام سے رکھتے ہیں، فرائض وسُنَن و نوافل کا خوب خوب التزام کرتے ہیں اور ہمہ وقت اپنے رب کو راضی کرنے میں مشغول رہتے ہیں۔ دینی حوالے سے تو یہ تصور مستحکم ہے، مگر دنیا دار عید کو بھی کسی دنیوی تہوار (تیوہار) کی طرح اور کسی بھی دین دار سے کہیں زیادہ جوش و خ
سب سے بڑا روپیہ ۔۔۔ از : فرزانہ اعجاز
روز صبح پابندی سے اخبار پڑھنا اسکی عادت تھی، جب تک وہ تازہ اخبار پورا پڑھ نہ لیتی ، اسے چین نہیں آتا تھا ،پہلا صفحہ وہ بہت دھیان سے پڑھتی اور اندر کی خبروں کی سرخیاں سرسری دیکھتی ، اگر کوئ سرخی اہم لگتی تو وہ خبر تفصیل سے پڑھا کرتی تھی ، اسکی۔ تازہ اخبار صبح صبح پڑھنے کی عادت بہت پرانی تھی ،اتنی پرانی کہ جب اسکے گھر میں ریڈیو بھی نہیں تھا اور اسکے شہر میں ٹیلی ویژ ن بھی نہیں تھا ،اس نے نیا نیا اردو پڑھنا سیکھا تھا ،بلکہ سیکھ رہی تھی ، ابو کے لۓ اخبار دیوڑھی سے اٹھا کر لاتے لاتے راستے بھر وہ ٹو
عید کا چاند اور مسلمانان بھٹکل کا مسلک... تحریر : عبد المتین منیری
عید الفطر کی دل کی گہرائیوں کے ساتھ مبارکباد۔ اللہ تعالی ہم سب کے اعمال صالحہ قبول کرے۔ اکل کوا۔ مہاراشٹر سے ہمارے ایک دوست نے کل بھٹکل میں عیدکے چاند کی رویت پر سوشل میڈیا پر مسلمان بھٹکل اور کیرالا کے مسلک پر بحث و مباحثہ اوران کی طرف بعض غلط باتیں منسوب ہونے کی اطلاع دی ہے ۔ اور یہ استفسار کیا ہے کہ گجرات کا ساحل ہندوستان میں سب سے بڑا ہے ، وہاں چاند نظر نہیں آیا تو بھٹکل اور کیرالہ میں کیسے نظر آسکتا ہے ۔ اور اس سلسلے میں اظہار خیال کرنے کو کہا ہے ۔ اسی کی تعمیل کرتے ہوئے یہ چند سطور تحریر
کس کھوج میں ہے تیغِ ستم گر لگی ہوئی؟۔۔۔از: آصف جیلانی
ایک سو سال قبل ، پہلی عالم گیر جنگ کے نتیجہ میں مشرق وسطی کے جو حصے بخرے ہوئے تھے،مسلمانوں کا اتحاد بکھر گیا تھا اور ان کی قوت پارہ پارہ ہوگئی تھی ، اب پھر ایک بار مشرق وسطیٰ اسی نوعیت کے شدید زلزلے کی زد میں ہے ۔ زلزلہ کہنا قدرے نرم لفظ ہوگا ، کیونکہ یہ زلزلہ صرف مشرق وسطیٰ ہی کو تہہ و بالا نہیں کرے گا بلکہ مشرق وسطیٰ سے دور دور علاقوں کو تاراج کردے گا۔ کئی مہینوں سے جاری داعش کے گڑھ مغربی موصل میں داعش کے خلاف ، امریکی اور عراقی فوجوں ، کرد پیش مرگہ اور شیعہ ملیشیا کی مشترکہ جنگ موصل کی آٹھ س
عید کا ریشمی جوڑا ۔۔۔ از: فرزانہ اعجاز
ابھی ایک ’عید میلے‘ سے واپس آۓ ہیں ، اس خیال کے ساتھ کہ‘زمانہ کہاں سے کہاں پہنچ گیا ہے ۔ ‘اپنے پیارے شہر لکھنؤ سے شکاگو تک کے ’سفر زندگی ‘ نے کیا کیا منظر دکھلاۓ اور کیا کیا حیران کن تبدیلیاں نظر نواز کی ہیں ، ایک ایسے سادہ سے متوسط اور ’توکل علی اللہ‘والے ماحول مین پرورش پانے کی ’عادت ‘ ابھی تک اکثر دل دماغ کو ’جھنجھوڑ‘ دیتی ہے۔ آج بھی کچھ ایسا ہی محسوس ہو رہا ہے، یادوں کی ایک ’ یلغار ‘ ہے جو بار بار ،لگاتار ہو رہی ہے ۔ ہم نے ایک ایسے ماحول اور زمانے میں آنکھ کھولی جو ’بکھر بھی رہا تھا اور س
سچی باتیں ۔ روپئہ کا حقیقی مصرف۔۔۔ از : مولانا عبد الماجد دریابادی
."الشیطان یعدکم الفقر ویأمرکم بالفحشاء واللّٰہ یعدکم مغفرۃمنہ وفضلا واللّٰہ واسع علیم" شیطان تمھیں تنگدستی سے ڈراتا ہے اور تمھیں بخل کا حکم دیتا ہے اور اللہ تمھیں اپنی طرف سے بخشش اور فضل کا وعدہ دیتاہے اور اللہ کشائش والا علم والا ہے آیۂ بالا سورہ بقرہ رکوع ۳۷میں واقع ہوئی ہے اوپر سے یہ مضمون چلاآرہا ہے کہ مسلمانوں کو رسم ورواج کی مد میں،ریا ونمائش ، جاہ ونفس کی راہ میں خرچ کرنے سے بچنا چاہیے اور اپنی دولت اللہ کی رضاجوئی کے لئے نیک کاموں میں خرچ کرنا چاہیے اور اس خرچ کو فضول ولا حاصل نہ سمج
کہ اور کہہ کی بحث۔۔۔ از : اطہر ہاشمی
میرپور آزاد کشمیر سے پر وفیسر غازی علم الدین نے زبان کی خبر لی ہے۔لکھتے ہیں کہ ’’کہہ،بہہ اور سہہ‘کا املا میرے نزدیک صحیح نہیں ہے۔ یہ اُن غلط العام کلمات میں شامل ہیں جو آج کل ،غلط طور پر مروّج ہوگئے ہیں ۔اردو مصدر جانا ،کھانا ،پینا،لکھنا ،پڑھنا اور رہنا وغیرہ سے صیغۂ امر بنانے کے لیے مصدر کا آخری حصہ ’نا‘حذف کردیا جاتا ہے مثلاًجانا سے جا،کھانا سے کھا ،پینا سے پی،لکھنا سے لکھ،پڑھنا سے پڑھ اور رہنا سے رَہ وغیرہ۔اسی قاعدے کے تتبع میں بہنا ،سہنا اور کہنا سے صیغۂ امر بَہ(ب +ہ)،سَہ(س+ہ)اور کَہ(ک+ہ)تشک
تشہیر بمعنی رسوائی ۔۔۔ از : اطہر ہاشمی
اخبارات و دیگر ذرائع ابلاغ میں ’’ہمراہ‘‘ کا بہت غلط استعمال ہورہا ہے۔ مثلاً کسی تصویر میں ’’فلاں صاحب بھی ہمراہ ہیں‘‘۔ یا ’’عدالت نے حکم دیا ہے کہ دستاویزات کے ہمراہ پیش ہوں‘‘۔ اب یہ تو سب کو معلوم ہے کہ ہم راہ کا تعلق راہ سے ہے، جیسے فلاں صاحب اس سفر میں ہمراہ ہیں، یعنی رفیق، یا سفر میں ساتھی ہیں۔ جیسے ’’میں تمہارے ہمراہ لاہور گیا‘‘۔ ایک مصرع ہے کیوں نہ ہوں فتح و ظفر میدان میں ہمراہ رکاب ’ہم‘ فارسی کا لفظ ہے اور اس سے کئی الفاظ بنتے ہیں جیسے ہم سبق، ہم آواز، ہم آغوش، ہم کنار، ہم آہنگ، ہم دوش۔
آخری بات۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی
حفیظ نام کے گنہگار پر پاک پروردگار کے اتنے احسانات ہیں کہ جب خیال آتا ہے کہ میدان حشر میں ان کا حساب دینے کا وقت آیا تو کیا ہوگا؟ تو کانپ جاتا ہوں میرے مولا نے طبیعت میں ضد نہیں دی اور نہ جہالت دی۔ اگر کسی نے کسی غلطی پر توجہ دلائی تو فوراً تسلیم کرکے معافی مانگ لی۔ میں نے جو برسوں پہلے الوداع کا مسئلہ کو اٹھایا تھا تو یہ کوئی علم کا مسئلہ نہیں تھا۔ بات صرف یہ تھا کہ جب آخری جمعہ میں جمعۃ الوداع ہے تو 30 رمضان کو جو آخری جمعہ پڑا تو اسے الوداع کے طور پر کیوں نہیں منایا گیا؟ اور یہ کسی ایک شہر، ا
سزا ۔۔۔ از: فرزانہ اعجاز
ثریا ایک اچھی لڑکی تھی، اچھی ہی نہیں بلکہ بہت ہی اچھی لڑکی، دراصل اچھی تو اس کے آس پاس کی سب ہی لڑکیاں تھیں۔ لیکن ثریا کی بات ہی اور تھی ،یعنی یہ کہ وہ بہت سی اچھی لڑکیوں میں سب سے اچھی لڑکی تھی ، صورت شکل میں اچھی، مزاج میں اچھی، گن ڈھنگ میں اچھی ،پڑھائ میں بھی بہت اچھی ، خاندان تو سب کا ایک ہی تھا ،اعلا خاندان ،کسی محفل میں جب تمام لوگ جمع ہوتے تو لڑکوں کی مائیں ہر لڑکی میں اپنی ہونے والی اچھی بہو کا عکس ڈھونڈا کرتی تھیں ،اور گھوم پھر کر سب کی نظریں ثریا ہی پر آکر ٹھہرجاتی تھیں ، اسکی سہیلی