Search results

Search results for ''


احسان دانش ۔۔۔ از : راحت علی صدیقی قاسمی

Bhatkallys Other

تکالیف مصائب و شدائد حالات کی سختی نے احسان دانش کو بچپن ہی میں محبوس کر لیا تھا ،وقت کی غرقاب لہروں نے اس کے ہاتھوں سے کتابیں چھین کر بیلچے تھما دئے تھے ،نرم و نازک نحیف جسم کو مزدوری کا تحفہ دیا تھا ،دھوپ کی شدت گرم ہوا کے تھپیڑے ،بھوک پیاس سے ٹوٹتا جسم ،سرمایہ دارانہ ذہنیت کے افراد سے مقابلہ آراء ،شب روز اس کا امتحان لیا جارہا تھا ،زندگی ساون کی بھیانک رات میں تبدیل ہوگء تھی ،سورج طلوع ہونے کی امیدیں بھی دم توڑ چکیں تھیں ،حالات اعلان کر رہے تھے ، اس شخص کے نصیب کا فیصلہ سنا رہے تھے ،اور عیاں

جمعۃ الوداع کے بارے میں مزید وضاحت۔۔۔ از: حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

اودھ نامہ 7 جون کے صفحہ 4 پر ’’رمضان المبارک میں یوگی کے دو تحفے‘‘ کے عنوان سے میری معروضات ایک مضمون کی شکل میں چھپی ہیں۔ جن کا حاصل یہ تھا کہ میں شاید 6 برس سے معلوم کررہا ہوں کہ جمعۃ الوداع کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اور یہ اس سال کی بات ہے کہ لکھنؤ اور پورے ملک میں آخری جمعہ کو 30 رمضان المبارک تھی اور مسلمانوں کا روزہ تھا اور اس سے پہلے جمعہ کو جمعۃ الوداع تہوار کے طور پر منا لیا گیا تھا اور اس کا خاص خطبہ جو بعض سُنیوں کی مسجد میں پڑھا گیا۔ ’’الوداع والوداع یا شہر رمضان الوداع‘‘ بھی پڑھ لیا گیا

اگست کنونشن کو مودی یوگی کی پالیسیاں کامیاب بنائیں گی۔۔۔از: حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

اس میں کوئی شک نہیں کہ بہار میں آج بھی سب سے زیادہ مقبول سیاسی لیڈر لالو پرساد یادو ہیں۔ نتیش کمار نے بیشک ایک صاف ستھری شبیہ بنائی ہے اور بے داغ وزیر اعلیٰ کے طور پر سب ان کا احترام اور ان کی قدر کرنے پر مجبور ہیں۔ لالو یادو اگست میں پٹنہ میں حزب مخالف کا ایک اجتماع کرنے جارہے ہیں۔ ان کی دعوت کو اطلاع کی حد تک ملک کی غیربی جے پی پارٹیوں میں سے زیادہ تر نے منظور کرلیا ہے۔ اترپردیش میں کانگریس کے بعد جو دو پارٹیاں سامنے آئیں وہ ایس پی اور بی ایس پی ہیں۔ قسمت سے دونوں کو پوری طرح اقتدار کا موقع مل

(تیسری اور آخری قسط) مذبح کے لئے جانوروں کی فروخت پر پابندی۔۔ایک تیر کئی شکار....از: ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ

Bhatkallys Other

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے........... آستھا کے نام پر گؤ رکھشا کی مہم چلانے والوں نے ماضی میں بھی بارہا تشدد کا راستہ اختیار کیا ہے، لیکن اکثر واقعات محدود پیمانے پر ہوا کرتے تھے۔ سب سے پہلی بڑی اور پرتشدد مہم 1966میں چلی تھی جس کے دوران آزاد ہندوستان کی تاریخ میں ملک کی پارلیمان پر پہلی بار دھاوا بولنے کی کوشش گؤ رکھشکوں نے ہی کی تھی،(اس کی تفصیل آگے آئے گی)۔لیکن ادھرگزشتہ تین سال سے جب سے مودی سرکار نے زمام حکومت سنبھالی ہے، تو گؤ رکھشا کے نام پر ملک کے مختلف حصوں میں تشدد کابدترین اوربے لگام تان

فلسطین پر اسرائیل کا پچاس سالہ تسلط ۔۔۔ از : آصف جیلانی

Bhatkallys Other

10جون کو ارض فلسطین پر اسرائیل کے تسلط کو پچاس سال پورے ہوگئے۔یہ بے حد ناقابل فہم اور نا قابل یقین بات ہے کہ عالم اسلام بلکہ پوری انسانیت ، آزادء ، جمہوریت اور انسانی حقوق کے علم بردار دور میں ، اتنے طویل تسلط ،پر کیوں خاموش ہے؟ تاریخ بھری پڑی ہے کہ قومیں اور ملک طویل عرصہ تک غیر ملکی تسلط میں محکوم رہے ہیں لیکن اس وقت آزادی اور انسانی حقوق کے جدید شعورکا سورج طلوع نہیں ہوا تھا۔ آج کے دور میں یہ کیوں کر ممکن ہے کہ ارض فلسطین اور فلسطینیوں کی محکومی کو برداشت کر لیا گیا اور فلسطینیوں کی آزا

سچی باتیں ۔ رحمتوں کا مہینہ ۔۔۔۔ : از : مولانا عبد الماجد دریابادی رحمۃ اللہ علیہ

Bhatkallys Other

                ھو شھراولہ رحمۃ،اوسطہ مغفرۃ،واٰخرہ عتق من النار"حدیث نبوی"                 یہ وہ ماہ مبارک ہے جس کا ابتدائی حصہ اللہ کی رحمت ہے درمیانی حصہ مغفرت ہے اور آخری حصہ آگ سے آزادی ہے ۔                 مبارک مہینہ ختم ہونے کو آیا عشرہ اول رحمت کے لیے مخصوص تھا آپ کے حصہ میں اس دولت میں سے کتنا آیا؟عشرہ دوم میں مغفرت ہی مغفرت تھی آپ نے اس خزانہ سے کتنا کمایا ؟عشرہ سوم میں آگ سے آزادی ا ور عذاب سے نجات ہی نجات ہے آپ اس حصہ کا استقبال کیوں کر رہے ہیں؟اس کے انعام اور بخششوں سے کس حد تک فا

اب یاد آئے مسلمان راہل گاندھی کو۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

کانگریس کو اب مسلمانوں کی ضرورت شدت سے محسوس ہورہی ہے۔ راہل گاندھی نے ملک بھر سے بچے کھچے مسلمان کانگریسیوں کو دہلی بلایا اور پرانی باتیں دہراکر 2019 ء کے پروگرام پر مشورہ کیا۔ راہل گاندھی، گاندھی، نہرو، آزاد کی مالا جپتے رہے جبکہ انہوں نے ان کی پرچھائیں بھی نہیں دیکھی۔ کانگریس کے دو رُخ ہیں، سیاست اور حکومت۔ سیاست میں تو گاندھی جی اور مولانا آزاد بہت کچھ تھے اور بہت کچھ رہے۔ لیکن حکومت میں پنڈت نہرو کے علاوہ ان دونوں کا کوئی کردار نہیں ہے۔ راہل گاندھی کو اگر دیکھنا اور معلوم کرنا ہے تو وہ نہرو

اش اش پر اعتراض ۔۔۔ از : اطہر ہاشمی

Bhatkallys Other

ایک عمومی غلطی واحد اور جمع کی نظر آتی ہے۔مثلاًایک جملہ ہے’’کثیر تعداد خدمات سر انجام دے رہے ہیں‘‘۔چونکہ تعداد واحد ہے خواہ کثیر ہی کیوں نہ ہو، چنا نچہ اس کے لیے ’’سر انجام دے رہی ہے ‘‘ہونا چاہیے۔مگرمذکورہ جملے میں نہ صرف جمع کا صیغہ آیا ہے بلکہ ’’تعداد ‘‘مؤنث کے بجائے مذکر ہوگئی ہے۔لکھنے والے عموماًاس کا خیال نہیں رکھتے ۔شاید بھول جاتے ہیں کہ جملے کا آغاز کیسے ہوا۔ ایک اور جملہ دیکھیے ’’آلِ سعود امریکی بلاک میں شامل ہیں‘‘۔آلِ سعودکے حوالے سے ’’شامل ہے‘‘ہونا چاہیے۔’’حوالے سے‘‘ کے بارے میں محترم

رمضان المبارک میں یوگی کے دو تحفے۔۔۔از: حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

اُترپردیش کے وزیر اعلیٰ نے یہ محسوس کرکے سرکاری چھٹیاں ضرورت سے زیادہ ہوگئی ہیں چند چھٹیوں کو منسوخ کیا۔ ہم ذاتی طور پر اُن لوگوں میں ہیں جو اتنی چھٹیوں کے ہمیشہ خلاف رہے جن سے سرکاری کام بھی متاثر ہوتے ہیں اور بچوں کی تعلیم پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کسی بڑے آدمی کی پیدائش کے دن چھٹی کیوں؟ میزائل مین ڈاکٹر عبدالکلام جو صدر جمہوریہ رہے انہوں نے وصیت کی تھی کہ میرے مرنے پر چھٹی نہ کی جائے بلکہ اور زیادہ کام کیا جائے۔ وزیر اعلیٰ یوگی نے جن چھٹیوں کو ختم کیا ہے ان میں ایک جمعۃ الوداع کی

صدر ایردوان ایک بار پھر آق پارٹی کے چیئرمین۔۔۔۔۔از:: ڈاکٹر فرقان حمید

Bhatkallys Other

یہ ایک حقیقت ہے کہ رجب طیب ایردوان کے بغیر جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی ( آق پارٹی) کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ پارٹی اُن کی محنت اور کاوشوں ہی کے نتیجے میں قائم ہوئی تھی ۔ 16 جنوری 1998ء میں رفاہ پارٹی کو ترکی کی آئینی عدالت کی جانب سے کالعدم قرار دئیے جانے کے بعد ملی نظریات کے حامل سیاستدانوں نے فضیلت پارٹی کے نام سے نئی جماعت کو تشکیل دیا لیکن اس نئی جماعت کی تشکیل کے فوراً بعد ہی جماعت کے اندر روایتی پالیسی اور جدید پالیسی کے حامل سیاستدانوں کے درمیان اختلافات پیدا ہونا شروع ہوگئے اور ان

سچی باتیں ۔ رمضان المبارک ۔۔۔ از : مولانا عبد الماجد دریابادی

Bhatkallys Other

و هو شهرُ الصَّبرِ و الصَّبرُ ثوابُه الجنَّةُ و هو شهرُ المواساةِ و هو شهرٌ يزادُ رزقُ المؤمنِ فيهِ مَنْ فطَّرَ صائمًا كانَ لَهُ عتقُ رقبةٍ و مغفرةٌ لذنوبِهِ قيلَ يا رسولَ اللهِ ليسَ كلُّنَا نجدُ ما يفطِّرُ الصائمَ قالَ يُعْطِي اللهُ هذَا الثَّوابَ لمَنْ فطَّرَ صائمًا على مَذْقَةِ لبنٍ أو تمرةٍ أو شربةِ ماءٍ و مَنْ أشبعَ صائمًا كانَ لَهُ مغفرةٌ لذنوبِهِ و سقَاهُ اللهُ مِن حوضِي شربةً لا يظمأُ حتَّى يدخلَ الجنَّةَ و كانَ لَهُ مثلُ أجرِهِ مِن غيرِ أنْ ينقصَ مِن أجرِهِ شيئًا و هو شهرٌ أوَّلُه رحمةٌ

قرض ہے یہ تم پہ چار پھولوں کا ۔۔ ساغر صدیقی ۔۔۔۔تحریر: فرزانہ ناز

Bhatkallys Other

   *ساغر کی زندگی پہ کوئی تبصرے  نہ کر*    *اک شمع جل رہی ہے سررہگزار زیست* یہ شعر پڑھتے ہی زندگی کی بے تبابیوں اور بے اعتنائیوں کا خیال آتا ہے اور چاروں طرف ایک اداسی کی سی کیفیت محسوس ہوتی ہے یوں تو اردو ادب کی تاریخ ایک جہاں اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے لیکن یہی تاریخ ساغر صدیقی کے سوانحی حالات کی بابت تہی داماں نظر آتی ہے اسی لئے اس عظیم شاعر کے بارے میں ہمارے پاس بہت مختصر معلومات ہیں وہ بھی ساغر کی اپنی بیان کردہ باتیں ہیں ۔     ساغر صدیقی1928ء میں انبالہ میں پیدا ہوئے وہ ماں کی مامتا او

نسیم بک ڈپو اور نسیم انہونوی صاحب --- تحریر فرزانہ اعجاز

Bhatkallys Other

ایک زمانہ تھا جب ہمارا لکھنؤ ایسا نہیں تھا ، جیسا اب نظر آتا ہے ۔اپنی نزاکت، لطافت ، نفاست اور مروت کی خوبیوں سے مہکتا گلستاں تھا جو حقیقی معنوں میں ’باغوں اور باغیچوں سے مزین تھا ، لاٹوش روڈ ہو، ٹھاکر گنج ہو ، چوک ہو یا اکبری دروازہ ،امین آباد ہو یا قیصر باغ ،سب کچھ واقعی باغ و بہار تھا ، اور جب چاروں طرف ’فردوس بریں ‘ کا نظارہ ہو تو اطراف سے اپنے اپنے فن کے باکمال لوگ بھی متوجہ ہوتے اور ’فردوس بر روۓ زمیں است ‘ کی طرف کا رخ کرتے  . ’اچھے زمانے ‘ کی باتیں ہیں کہ لکھنؤ میں کئی مشہور ’پرنٹنگ پر

ملک و ملت کے گلِ صدرنگ قاضی عدیل عباسی( آخری قسط)۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

’’میں 1924 ء میں جب علی گڑھ میں داخل ہوا تو میں نے اس گروہ کا غبار دیکھا۔ کارواں جاچکا تھا۔ اس گروہ کا لقب ’’گرینڈی پارٹی‘‘ تھا یہ لوگ لڑکوں کے لباس رہن سہن بات چیت کھانے پینے ہر چیز پر نگاہ رکھتے تھے۔ مثلاً کیا مجال تھی کہ کوئی طالب علم بلا اجازت پورا لباس پہنے کہیں سڑک پر یا بازار میں چلا جائے۔ یہ ناممکن تھا کہ کوئی ایسی چیز علی گڑھ یونیورسٹی کے احاطہ میں ہوجائے جو اس کی بدنامی کا باعث ہو۔ اس سلسلہ میں ایک اپنا واقعہ بیان کردوں اس سے صحیح اندازہ ہو جائے گا کہ ان لوگوں کی نگاہ کتنی معمولی باتوں

ملک و ملت کے گلِ صد رنگ قاضی عدیل عباسی (چوتھی قسط)۔۔۔از: حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

’’زمیندار کے ایڈیٹر کے ساتھ میرا نام پرنٹر پبلشر بھی درج کرادیا گیا جس کا مجھے اب علم ہوا۔ زمیندار کا طریقہ یہ تھا کہ پرنٹر پبلشر نہ جانے کتنے تھے۔ کہیں فضل محمد خاں انصاری کہیں قندھاری کہیں لالہ ڈونگر مل اور کہیں لالہ رام سرن دت یا حافظ سلطان احمد یا حافظ نظام الدین۔ مجھے جب مدیر مسؤل لکھتے تھے تو قاضی عدیل عباسی بی اے لکھتے تھے اور جب پرنٹر پبلشر لکھتے تھے تو صرف قاضی محمد عدیل لکھتے تھے۔ حالانکہ میں نے کبھی پرنٹر پبلشر کا ڈکلیئریشن نہیں دیا۔ اس کا نتیجہ تھا کہ میرے اوپر سات مقدمے 124-A میں قا

ہندوستان کے قائد ملت۔۔۔از: آصف جیلانی

Bhatkallys Other

ہندوستان کے قائد ملت جنہوں نے بے سہارا مسلمانوں کو سنبھالا اپریل1962میں ہندوستان کے عام انتخابات میں کیرالا کے من جیری حلقہ سے جنوبی ہند کے ایک ممتاز مسلم رہنما فتح یاب ہوئے تھے۔ میں دلی میں پارلیمنٹ کے قریب رائے سینا ہوسٹل میں رہتا تھا ، آس پاس اراکین پارلیمنٹ کے بنگلوں میں رہنے والے اراکین اسی راستہ سے پیدل پارلیمنٹ جاتے تھے۔ہوسٹل کی بالکونی سے یہ اراکین آتے جاتے نظر آتے تھے۔ ان میں سے بہت سے کھدر کے کرتے پاجامے۔ فلپ فلاپ چپل اور کلف لگی دھوتی میں ملبوس ہوتے تھے ، اور چند بوشرٹ اور پتلون پہ

مذبح کے لئے جانوروں کی فروخت پر پابندی۔۔ایک تیر سے کئی شکار (دوسری قسط)۔۔از: ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ

Bhatkallys Other

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے........... یہ جو ذبح کرنے کے لئے گائے کے سنتان سے منسلک تمام بڑے جانوروں کے ساتھ اونٹ کو عام مارکیٹ میں فروخت کرنے کی پابندی کا قانون لاگو کیا جانے والا ہے اس پر ملک کے مختلف علاقوں میں مختلف طبقات کی جانب سے احتجاج اور مخالفت کی آوازیں اٹھ رہی ہیں، اور اس مخالفت کو دبانے کی کوشش بھی سنگھ پریوار اور فاشسٹ تنظیموں کی طرف سے کی جارہی ہے۔ا یک طرف مدراس ہائی کورٹ نے اس قانون پر ایک مہینے کا عارضی امتناع لگایا ہے تو دوسری طرف کیرالہ ہائی کورٹ نے یہ کہتے ہوئے اس معاملے میں مداخ

ملک و ملت کے گلِ صدرنگ قاضی عدیل عباسی۔۔۔حفیظ نعمانی(تیسری قسط)۔

Bhatkallys Other

مولانا حسرت موہانی کے بارے میں لکھتے لکھتے قاضی صاحب فرماتے ہیں کہ ’’میں ابھی مولانا کی دُکان پر ہی تھا کہ ’’مدینہ‘‘ میں ایک مترجم کی ضرورت کا اشتہار نکلا۔ مولانا نے یہ خوب دیکھ لیا تھا کہ مجھے تجارت سے دلچسپی نہیں۔ میں کپڑے کی دُکان کو واقعی نہیں سمجھ پایا تھا اور دن بھر بیٹھا لمبے لمبے خطوط لکھا کرتا تھا جس سے مولانا بہت چڑتے تھے۔ میں نے وہ اخبار دکھاکر مولانا سے کہا کہ مولانا مدینہ اخبار کو آپ میری سفارش لکھ دیجئے۔ مولانا نے کہا کہ کبھی کوئی مضمون لکھا ہے اور اخبار میں چھپا ہے؟ میں نے کہا کہ