Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors
Abdul Haleem Mansoor
Abdul Majid Daryabadi
Abdul Mateen Muniri
Abdur Raqeeb M.J Nadwi
Ahmed Hatib Siddiqui
Asif Jilani
Athar Hashmi
Bhatkallys
Dr Badrul Hasan Qasmi
Dr Haneef Shabab
Dr. F Abdur Rahim
Dr. Tahir Masud
Hafiz Naumani
Kaldip Nayar
Masoom Muradabadi
Masud Ahmed Barkati
Mohammed Mateen Khalid
Muhammed Furqan
Nizamuddin Nadwi
Riyazur Rahman Akrami Nadwi
Suhail Anjum
ستمبر 10: آج معروف شاعر، ادیب، نقاد، ناول نگاراور کالم نگار انیس ناگی کا یومِ پیدائش ہے
از: ابوالحسن علی بھٹکلی معروف شاعر، ادیب، نقاد، ناول نگار، کالم نگار انیس ناگی 10ستمبر 1939ء کو شیخوپورہ میں مولوی ابراہیم ناگی کے گھر پیدا ہوئے۔ انکا خاندانی نام یعقوب علی ناگی اور قلمی نام انیس ناگی تھا۔اردو کے معروف افسانہ نگار منٹو پر انکا بے شمار کام ہے اور انکے ناولوں میں اہم ترین ناول ‘‘زوال‘‘ ہے جس میں ایک ڈھلتی عمر کے بیوروکریٹ کے بتدریج بے رحمانہ ذہنی اور جسمانی انتشار کو بڑے موثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ انکا دوسرا مقبول ناول ‘‘دیوار کے پیچھے‘‘ ہے جسے اردو میں ناول کی نئی رو
ہر بگاڑ کے پیچھے حکومت کا ہاتھ ہوتا ہے۔۔۔از: حفیظ نعمانی
ہر مذہب میں کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اپنی اور دوسروں کی عاقبت سنوارنے کے لئے دنیا سے تعلق ختم کرکے یا تو گوشہ نشیں ہوجاتے ہیں یا گمراہ انسانوں کو راہِ راست پر لانے کے لئے انہیں بتاتے ہیں کہ سیدھا راستہ کون سا ہے؟ ہندوستان میں جب مسلمان آئے اور ان کے ساتھ یا بعد میں وہ بزرگ اور اولیاء آئے جو دنیا ترک کرکے انسانوں کو راہِ راست دکھانے کا کام کررہے تھے تو انہوں نے یہ دیکھا کہ ہندوستان میں جو مذہبی دنیا کی رنگینیوں سے منھ موڑکر اور راجہ مہاراجہ کی حکومت کی سرحد سے باہر اپنا ڈیرہ بنائے بیٹھے ہیں اور ج
تبصرہ کتب : ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی ، بحیثیت اقبال شناس ----تحریر: ملک نواز احمد اعوان
نام کتاب : ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی ، بحیثیت اقبال شناس مصنف : پروفیسرڈاکٹر ہارون الرشید تبسم صفحات : 248 قیمت 1000 روپے ناشر : مقبول اکیڈمی 199 سرکلر روڈ چوک اردو بازار‘ لاہور فون نمبر : 042-37324164 042-37233165 برائے رابطہ : پاکستان ادب اکادمی سرگودھا 319-Y علامہ اقبال کالونی سرگودھا فون نمبر : 048-3711717 ای میل : drharoousgd@gmail.com پروفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم (پ:12 اکتوبر1955ئ) سابق صدر شعبہ اردو گورنمنٹ انبالہ مسلم کالج سرگودھا ایم فل (اقبالیات 1993ئ)، پی ایچ ڈی (ا
تلفظ کی قرقی ۔۔۔۔ تحریر : اطہر ہاشمی
گزشتہ دنوں ہر ٹی وی چینل پر رینجرز کے ایک افسر کا نام ’قمبر رضا‘ چل رہا تھا۔ اخبارات نے بھی یہی شائع کیا، اور ممکن ہے کہ یہ افسر اگر کبھی اردو میں اپنا نام لکھتے ہوں تو اسی طرح لکھتے ہوں، یہ ان کی مرضی ہے۔ لیکن یہ نام ’’قنبر‘‘ (ق ن ب ر) ہے، قمبر نہیں۔ یہ حضرت علیؓ کے غلام کا نام تھا جس پر لوگ یہ نام رکھتے ہیں۔ ایک شہر کا نام بھی قنبر علی خان ہے اور اخباروں میں وہ بھی قمبر شائع ہوتا ہے۔ دراصل عربی میں کسی لفظ کے بیچ میں ’ن‘ اور ’ب‘ ایک ساتھ آئیں تو تلفظ ’م‘ کا ہوجاتا ہے جیسے مسجد کا منبر یا عنبر۔
فرقہ پرستی اور جانبداری کی بدترین تصویر۔۔از: حفیظ نعمانی
اخبار کی رپورٹ کے مطابق ’’6 دسمبر 1992 ء کو بابری مسجد کی مسماری کے بعد ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کا انتقام لینے کے لئے ممبئی میں سلسلہ وار بم دھماکے 12 مارچ 1993 ء کو ہوئے۔‘‘ یہ بیان سی بی آئی کا بتایا گیا ہے۔ بابری مسجد کی شہادت اور ممبئی کے بم دھماکوں میں تین مہینے 6 دن کا فرق ہے۔ اور ان تین مہینوں میں ملک کے ہر اس شہر میں فرقہ وارانہ فساد نہیں بلکہ ان تمام مسلمانوں پر ہندوؤں نے حملے کئے جو مسجد کی شہادت پر احتجاج کرنے کیلئے سڑک پر آئے۔ ممبئی میں بم دھماکے بیشک ہوئے لیکن وہ انتقام لینے کے
وقت ہر ظلم تمہارا تمہیں لوٹا دے گا ۔۔۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی
پورے ملک میں عظیم صحافی گوری لنکیش کے قتل کے خلاف احتجاج ہورہا ہے اور عدالت عظمیٰ نے ریاستی حکومتوں کو حکم دیا ہے کہ وہ جلد از جلد اپنی ریاست میں گؤ رکشکوں کے خلاف ٹاسک فورس بنائیں اور سینئر پولیس افسروں کو اس میں لگائیں۔ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو بھی یاد دلایا ہے کہ وہ تشدد کے واقعات کو صرف نظم و نسق کا معاملہ کہہ کر اپنا دامن نہیں بچاسکتی کیونکہ مرکزی حکومت کو آئین کی دفعہ 356 کے تحت یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ریاستی حکومتوں کو ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے ہدایت دے سکے۔ جس وقت دستور بنا تھا
نرم روی ، اخلاص و محبت کے پیکر ...مولانا مفتی محمد اشرف علی باقوی علیہ الرحمۃ
تحریر : عبد المتین منیری ۔ بھٹکل ۔ کرناٹک ammuniri@gmail.com دس روز قبل فون آیا تھا کہ منیری صاحب آپ کیسے ہیں ؟ بھٹکل سے جانے کی ہمیں اطلاع بھی نہیں ملی ،صحت کا کیا حال ہے؟اور مجھ پر شرم کے مارے گھڑوں پانی پڑ گیا ، فروری میں ہمارا بنگلور میں آپریشن ہوا تھا تو سفر کی تکان کے باوجود بنگلور پہنچتے ہی دیکھنے اسپتال آگئے تھے ، بنگلور سے بھٹکل پہنچا تو وہاں بھی خیر خیریت دریافت کرنے کے لئے فون آیا ۔ مولانا بہت عظیم تھے ، اور ہمارا کوئی ایسا مقام نہیں تھا کہ آپ کو صرف خیر خیریت کے لئے وقت
ستمبر 09 :-:نامور شاعر اکبر الہٰ آبادی کی برسی ہے
از: ابوالحسن علی بھٹکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اکبر سید گھرانے کے فرد تھے۔اکبر کی پیدائش سید تفغل حسین کے دو بیٹے ہوۓ۔بڑے بیٹے اکبر حسین(اکبر الہٰ آبادی) اور چھوٹے بیٹے اکبر حسن۔اکبر الہٰ آبادی 1261ھ میں پیدا ہوۓ۔ان کا سال پیدائش بلاتفاق یہی ہے اور اس کے قطعی ثبوت موجود ہیں۔ان کے فرزند عشرت حسین کے بقول ان کا تاریخی نام خورشید عالم تھا حسن نظامی نے ان لفظوں میں اس تاریخی نام کی تصدیق کی ہے۔خورشید عالم نام کا حضرت اکبر نے مجھ سے ذکر فرمایا تھا اور ک
ستمبر09 :-: ممتاز شاعر " شاعر رومان" اخترؔ شیرانی کی برسی ہے
از: ابوالحسن علی بھٹکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بیسویں صدی کے جن اردو شعرا نے رومانوی شاعر کی حیثیت سے نام پیدا کیا ان میں اختر شیرانی کو غیر معمولی حیثیت حاصل ہے۔ اختر شیرانی کا اصل نام محمد داؤد خان تھا۔ وہ 4مئی 1905 کو بھارتی ریاست راجستھان کے علاقے ٹونک میں پیدا ہوئے۔ وہ چھوٹی عمر میں ہی لاہور چلے آئے۔ انہوں نے منشی فاضل اور ادبی فاضل کیا، یہ عربی اور فارسی کی ڈگریاں تھیں۔ اپنے والد کی تمام تر کاوشوں کے باوجود وہ اپنی تعلیم جاری نہ رکھ سکے اور ک
ابھی تک تن اردو ہی میں پڑے ہوئے ہو ۔۔۔۔ تحریر : ندیم صدیقی
جامعہ ملیہ اسلامیہ (دہلی) کے پروفیسر خالد محمود معروف ہی نہیں ایک امتیازی تشخص کے حامل ادیب و شاعر ہیں۔ اخبار کےلئے ان سے ایک گفتگو ہو رہی تھی تو انہوں نے ایک افسوس ناک بات ہمیں سنائی۔ کہنے لگے:’’ جب میں پی ایچ ڈی کر رہا تھا تو میرے کمرے میں اُردو کی کتابیں بکھری ہوئی تھی کہ اسی دوران ہمار ے ہاں ایک بزرگ رشتے دارخاتون کا آنا ہوا، اتفاق سے وہ میرے کمرے میں تشریف لائیں اور جب اُنہوں نے میرے اِرد گرد اُردو کی کتابیں بکھری ہوئی دیکھیں تو اُن کے منہ سے برجستہ جو جملہ نکلا وہ میرے لئے ناقابلِ فراموش
دُکھ سہیں بی فاختہ اور کوّ ے انڈے کھائیں ۔۔۔از:حفیظ نعمانی
دہلی میں یہ بات عام تھی کہ مسز شیلا دکشت نے پندرہ برس مسلسل اس لئے حکومت کی کہ انہوں نے دلی والوں کو میٹرو کا تحفہ دیا تھا۔ لکھنؤ میں کامیابی کے اس فارمولے کو اگر یہ سن کر ہی اپنایا گیا تو یہ اس لئے غلط ہے کہ لکھنؤ کو دہلی بننے میں ابھی پچاس برس لگیں گے۔ جب کبھی دہلی جانا ہوا تو ہم جیسے لکھنؤ والے کو محسوس ہوا کہ ایک دن میں صرف ایک دوست سے ہی ملا جاسکتا ہے۔ دہلی میں کسی جگہ کے بارے میں یہ کہنا کہ چالیس کلومیٹر ہے ایسا ہی ہے جیسے لکھنؤ میں کوئی کہہ دے کہ دس منٹ کا راستہ ہے۔ دہلی میں ہمارے ایک بیٹ
ٹک ٹک دیدیم ۔۔۔ تحریر : فرزانہ اعجاز
انسان جب اس دنیا میں آتا ہے تو اسکا ذہن مکمل طور پر ایک سادہ سلیٹ یا ایک سادہ ورق کے مانند ہوتا ہے ۔پھر گزرتا ہوا وقت اس سادہ کاغذ یا سادہ سلیٹ پر حالات اور واقعات کی آڑی ترچھی لکیریں کبھی گہری اور کبھی ہلکی لکیریں اور نقش و نگارکی بہت واضح تصاویر بناتا چلا جاتا ہے ، اکثر یہ لکیریں یا تصویریں دھندھلا جاتی ہیں اور کچھ تا زندگی ایسی واضح اور نمایاں رہتی ہیں کہ ’آج ہی کی بات ‘ محسوس ہوتی ہیں ۔ دوسرے کسی بھی انسان کی طرح ہم بھی سادہ سلیٹ کی طرح اس دنیا میں آۓ ۔ فرق صرف یہی ہے کہ ایک مختلف ماحول میں
سچی باتیں ۔۔۔ عزت کا معیار۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی مرحوم
کلام مجید ،سورۂ توبہ میں ایک آیت میں اُن اہلِ کتاب سے جو اللہ کے دشمن ہیں،جنگ کرنے کا حکم وارد ہوا ہے،اور آیۂ پاک کا خاتمہ ان الفاظ پر ہوا ہے، حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ۔ یہاں تک کہ وہ جزیہ دینا منظور کریں،اور ذلیل ہوکررہیں،’’صَاغِرُوْن‘‘کے مفہوم میں وہ لوگ داخل ہیں،جو دب کر،محکوم ہوکر،پست وگمنام ہو کر رہیں۔اس حالت میں کون لوگ ہیں؟آیۂ کریمہ کے شروع کے الفاظ ہیں: الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّه
لکیریں کھینچ دینا پھر لکیروں کو مٹا دینا۔۔۔۔ از:حفیظ نعمانی
ذیقعدہ کے آخری ہفتہ سے یہ فکر روز بروز بڑھ رہی تھی کہ عیدالاضحی کیسے منائی جائے گی؟ حکومت کی طرف سے نہ کوئی بیان تھا اور نہ مسلم تنظیموں کی طرف سے کوئی آواز ہر طرف سکوت اور سناٹا تھا۔ عازمین حج کے معاملہ میں جو حکومت کا رویہ رہا وہ قابل تعریف کہا جائے گا۔ کئی برس سے خادم الحجاج کا مسئلہ اختلاف کی وجہ سے پھنسا ہوا تھا اسے بھی حکومت نے صاف کردیا اور مرکزی حج کمیٹی کا وہی فیصلہ باقی رکھا کہ مسلمان سرکاری ملازم ہی جائیں گے۔ آخر میں اُترپردیش کے خادموں کا مسئلہ اٹک گیا کہ حکومت ان کا خرچ ادا کرے۔ اور
جناب اب کتابیں کون پڑھتا ہے ۔۔۔۔ تحریر : ندیم صدیقی
غالب اکادیمی(دہلی) کے ایک سمینارسے فارغ ہوکر ہم اسی کے دفتر میں اکادیمی سیکریٹری عقیل صاحب کے ساتھ بیٹھے تھے ، ہم سے پہلے الہ ٰ آباد کے ایک ادیب اور میرٹھ کے ایک پروفیسر وہاں سے اٹھ کر گئے تھے۔ کرسی پر ہماری نظر پڑی تو وہاں ایک کتاب دیکھی جو الہ آباد والے ادیب کی تصنیف تھی اور میرٹھ کے پروفیسر صاحب کو ہدیہ کی گئی تھی نیچے الہ آباد والے ادیب کے دستخط نے سارا راز کھول دیا۔ ہم نے عقیل صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے عرض کی کہ۔۔۔ ’’ پروفیسر صاحب تو یہ کتاب یہاں بھول گئے۔ ‘‘ عقیل صاحب نے پہلے ت
ستمبر 05 :-: اردو کے مایہ ناز ادیب ابو الفضل صدیقی کا یومِ پیدائش ہے
از: ابوالحسن علی بھٹکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابوالفضل صدیقی اردو زبان کے وہ ممتاز، منفرد اور صاحبِ اسلوب افسانہ نگار ہیں، جن کے ذکر کے بغیر بقول ڈاکٹر جمیل جالبی ’’تاریخِ ادب مکمل نہیں ہو سکتی۔‘‘ ابوالفضل صدیقی نے بڑی فعال، بھرپور، غم و الم، نشیب و فراز، اقبال و زوال سے پُر ایک سچی حقیقی زندگی گزاری۔ انھوں نے زندگی کے تمام رخ اور انداز دیکھے، ہر طرح اور طور سے اسے برتا اور بڑی بالغ نظری سے ان سے سبق حاصل کیا۔ ان کا مشاہدہ گہرا تھا اور قدرت نے انھیں
ستمبر 04:-: عہد حاضر کے سب سے بڑے مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی صاحب کا یومِ پیدائش ہے
از: ابوالحسن علی بھٹکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مشتاق احمد یوسفی ایک رجحان ساز اور صاحب اسلوب مزاح نگار ہیں، یوسفی صاحب اردو کے مزاحیہ ادب کا ایک ایسا نام ہیں جنھیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ آپ کے بارے میں اگر میں (ناچیز) یہ کہوں کہ آپ مزاح کی امتیازی اور جداگانہ روایت کے موجد بھی ہیں اور آخری رکن بھی۔ انھوں نے بلاشبہ اردو ادب کو مزاح کے میدان میں بے پایاں عزت دی۔ اردو مزاح کا کوئی بھی دور ان کے بغیر ناممکن ہے، یوسفی صاحب اردو زبان وادب کے صف اول کے ادیبوں
ستمبر 04 : ممتاز شاعر غلام محمد قاصر کا یومِ پیدائش ہے
از: ابوالحسن علی بھٹکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غلام محمد قاصر 4 ستمبر 1941ء کو پہاڑپور، ڈیرہ اسماعیل خان کے مقام پر پیدا ہوئے تھے۔ وہ ایک خوش گو شاعر تھے اور ان کے شعری مجموعے تسلسل، آٹھواں آسمان بھی نیلا ہے اور دریائے گماں اردو کے اہم شعری مجموعوں میں شمار ہوتے ہیں۔ غلام محمد قاصر کی کلیات بھی ’’اک شعر ابھی تک رہتا ہے‘‘ کے نام سے اشاعت پذیر ہوچکی ہے۔انہوں نے پاکستان ٹیلی وژن کے لئے بھی کئی ڈرامے تحریر کئے جو ناظرین میں بے حد مقبول ہوئے۔ 20 فروری 1999