Search results

Search results for ''


ساتویں پاس اُردو کا ایک عالِم اور ہمارا ڈگری یافتہ معاشرہ... تحریر : ندیم صدیقی

Bhatkallys Other

ہمارے عم محترم جو شاعر و ادیب تو نہیں مگر زبان اورشعر وادب سے ان کاکیسا شغف ہو سکتا ہے صرف اس واقعے سےآپ اندازہ لگا سکتے۔ ہم اُردو کی مجموعی صورتِ حال پر بات کررہے تھے۔ محترم انہماک سے سُن رہے تھے۔ اچانک اُن کے چہرے پرہماری نظر پڑی تو دیکھا کہ ایک تشویش اور اُداسی کی لہر ان کی آنکھوں میں تیر رہی ہے۔ جب آنکھیں چار ہوئیں تو وہ ہم سے کہنےلگے : کیا واقعی اُردو ختم ہو جائیگی۔؟۔۔۔ ہم نے ان کے سوال کا جواب یوں دیا :چچا ! آپ پانچ بھائی تھے جن میں سے چار بھائیوں کو ہم نے دیکھا کہ وہ اپنی زبان سے کتنے

ہم نہ سمجھیں تو یہ ہمارا قصور ہے۔۔۔۔۔۔ از:حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

صرف ایک مہینہ پہلے یہی حکومت تھی اور یہی ہندو تھے اور مسلمان، عیدالاضحی کے تین دن قربانی ہوتی رہی اور اکثر مقامات سے یہ اطلاع آئی کہ اتنے جانوروں کی قربانی تو برسوں سے نہیں ہوئی تھی لیکن کہیں سے ایک خبر بھی ایسی نہیں آئی کہ کہیں کچھ ہوگیا ہو۔ ایسا ایک مہینہ میں کیا ہوگیا کہ ٹی وی کے ہر اسٹیشن سے کان پور اور اس بلیا سے جہاں صرف 15 فیصدی مسلمان ہیں دو فرقوں میں فساد کی خبریں نشر ہوتی رہیں اور جگہ جگہ شعلے اٹھتے ہوئے اور پتھراؤ کے ساتھ بھگدڑ ہوتی رہی؟ تعزیہ اور علم کے جلوس پر ہندو مسلمان یا سنی شی

Meet IAS officer Iqbal Ahmad who becomes doctor to serve poor

Bhatkallys Other

Iqbal Ahmad, joined the civil services in 2010. He is now the district magistrate of Champawat district in Uttarakhand. The Kanpur-born Ahmad completed his MBBS from Kasturba Medical College, Mangalore in Karnataka in 2009. He was selected for Indian Administrative Service (IAS), the very next year. However he wanted to give free medical consultancy to the poor. He had to wait for another seven years to get registered with the Uttarakhand medical council. He got the registration on September

اکتوبر 01 :-: پاکستان کےنامور مزاح نگار، افسانہ نگار، مترجم، شاعر، نقاد، معلم اور سفارت کار کا یومِ پیدائش ہے

Bhatkallys Other

از: ابوالحسن علی بھٹکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سید احمد شاہ بخاری (پطرس بخاری) یکم اکتوبر 1898ء کو پشاور میں پیدا ہوئے ۔ اُن کے والد سید اسد اللہ شاہ پشاور میں ایک وکیل کے منشی تھے۔ ابتدائی تعلیم پشاور میں حاصل کی اور اس کے بعد گورنمنٹ کالج، لاہور میں داخل ہوئے ،وہ کالج کے ادبی مجلے ’’راوی‘‘ کے ایڈیٹر بھی رہے ۔پطرس یہاں سے ایم اے کرنے کے بعد انگلستان چلے گئے اور کیمبرج یونی ورسٹی سے انگریزی ادب میں ڈگری حاصل کی۔ وہاں کے اساتذہ کی رائے تھی کہ پطرس کا علم اس قدر فراخ اور وس

اکتوبر 01 :-: نامور شاعر اور نغمہ نگار مجروحؔ سلطان پوری کا یومِ ولادت ہے

Bhatkallys Other

از: ابوالحسن علی بھٹکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’اک دن بک جائے گا ماٹی کے مول‘‘ جیسے گانوں کے خالق مجروح سلطان پوری کا اصل نام اسرارالحسن خان تھا۔ وہ یکم اکتوبرسنہ1919 کو اتر پردیش کے ضلع سلطان پور میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد سب انسپکٹر تھے۔ مجروح نے صرف ساتویں جماعت تک اسکول میں پڑھا پھر عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کی اور سات سال کا کورس پورا کیا۔ درس نظامی کا کورس مکمل کرنے کے بعد عالم بنے، جس کے بعد لکھنؤ کے تکمیل الطب کالج سے یونانی طریقہ عل

اکتوبر01 :-: مشہور و معروف شاعر شکیبؔ جلالی کا یومِ ولادت ہے

Bhatkallys Other

از: ابوالحسن علی بھٹکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 12 نومبر 1966ء کو اس خبر نے کہ اردو کے صاحب اسلوب شاعر شکیب جلالی نے سرگودھا میں ٹرین کے نیچے آکر خودکشی کرلی ہے، پوری ادبی دنیا کو سوگوار کردیا نام سید حسن رضوی اور شکیب تخلص تھا۔یکم اکتوبر ۱۹۳۴ء کو علی گڑھ کے قصبہ جلالی میں پیدا ہوئے۔ دس سا ل کی عمر میں والدہ کا انتقال ایک حادثے میں ہوا۔ شکیب کے والد یہ صدمہ پرداشت نہ کرسکے اور اپنا ذہنی توازن کھوبیٹھے۔ شکیب کے کاندھوں پر چھوٹی سی عمر میں خاندان

منافرت پھیلانے والے بھگوا لیڈروں کے خلاف مقدمات ۔۔حقائق اور نتائج۔۔۔از: ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ 

Bhatkallys Other

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے........... haneefshabab@gmail.com کرناٹکا اسمبلی الیکشن کے دن جیسے جیسے قریب آتے جارہے ہیں، زعفرانی کیمپ میں شطرنج کی بساط پر چلنے کے لئے چالوں اور سازشوں کے منصوبے تیار ہونے لگے ہیں اور اس پر پورے جوش وخروش کے ساتھ عمل درآمد کے لئے بھگوا بریگیڈ کے شعلہ بیان مقررین نے ایک طرف اسٹیج سنبھا لا ہے تو دوسری طرف میڈیا اور خاص طور پر سوشیل میڈیا کے محاذ پر بھی زعفرانی ٹولہ پوری طرح سرگرم ہوگیا ہے۔اس کی تازہ ترین مثال پچھلے دنوں بھٹکل بلدیہ کی دکانوں کی نیلامی اور اس پس منظر

ستمبر 29: معروف شاعر محسن بھوپالی کا یومِ پیدائش ہے

Bhatkallys Other

از: ابوالحسن علی بھٹکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اردو کے معروف شاعر محسن بھوپالی کی تاریخ پیدائش 29 ستمبر 1932ء ہے۔ محسن بھوپالی کا اصل نام عبدالرحمن تھا اور وہ بھوپال کے قریب ضلع ہوشنگ آباد کے قصبے سہاگپور میں پیدا ہوئے تھے۔ 1947ء میں وہ اپنے والدین کے ہمراہ پاکستان آگئے اور لاڑکانہ میں سکونت پذیر ہوئے۔ این ای ڈی انجینئرنگ کالج کراچی سے سول انجینئرنگ میں ڈپلومہ کورس کرنے کے بعد وہ 1952ء میں محکمہ تعمیرات حکومت سندھ سے وابستہ ہوئے۔ اس ادارے سے ان کی یہ

ستمبر  28: و اردو کے ممتاز شاعر امیدؔ فاضلی کی برسی ہے

Bhatkallys Other

از: ابوالحسن علی بھٹکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اردو کے ممتاز شاعر امید فاضلی کا اصل نام ارشاد احمد تھا اور وہ 17 نومبر 1923ء کو ڈبائی ضلع بلند شہر میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم ڈبائی اور میرٹھ سے حاصل کی اور پھر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے گریجویشن کیا۔ 1944ء میں وہ کنٹرولر آف ملٹری اکائونٹس کے محکمے سے وابستہ ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد کراچی میں سکونت اختیار کی اور اسی محکمے سے وابستہ رہے۔ امید فاضلی اردو کے اہم غزل گو اور اہم مرثی

ستمبر 27: ممتاز کالم نگار ، نقاد اور شاعر ظفر اقبال کا یومِ پیدائش ہے

Bhatkallys Other

از: ابوالحسن علی بھٹکلی ظفر اقبال کا پہلا مجموعہ کلام ’’آب رواں‘‘ 1962ء میںشائع ہوا تھا جس کے شائع ہوتے ہی ظفر اقبال اردو کے صف اول کے شعرأ میں شمار ہونے لگے۔ اس کے بعد ان کے دیگر مجموعے گلافتاب، رطب و یابس، عہد زیاں،غبار آلود سمتوں کا سراغ، سر عام ، عیب و ہنر، ہے ہنومان، اطراف اور تفاوت کے نام سے شائع ہوئے۔ ان کی شاعری کی کلیات ’’اب تک‘‘ کے نام سے پانچ جلدوں میں شائع ہوچکی ہے، جس کی ہر جلد میں پانچ پانچ سو غزلیں شامل ہیں۔ ان کے کالموں کا مجموعہ ’’دال دلیہ‘‘ کے نام سے شائع ہواہے۔ ظفر اقبال

ستمبر 26: غلام بھیک نیرنگ کا یوم پیدائش ہے

Bhatkallys Other

از: ابوالحسن علی بھٹکلی غلام بھیک نیرنگ دورانہ، تحصیل و ضلع انبالہ میں 26 ستمبر 07 رمضان المبارک 1876ء کو پیدا ہوئے ۔ اصل نام غلام محی الدین تھا۔جسے دورانہ سے قریب ایک مقام ٹھسکہ کے ایک صوفی بزرگ جناب میراں بھیکھ سے عقیدت کی نسبت سے تبدیل کر کے غلام بھیک رکھا گیا ۔ نسبتاً سید تھے ۔ غلام بھیک نیرنگ کے جد اعلٰی سید عبدالکریم رضوی ترمذ سے آ کر 800ھ میں دورانہ مقیم ہوئے ۔ اس وقت سے یہ مقام غلام بھیک نیرنگ کا آبائی وطن ہے ۔ غلام بھیک نیرنگ کو میر نیرنگ بھی کہا جاتا ہے ۔ میر نیرنگ کے دادا سید فتح ع

طالبانِ بیعت کا نام تک نہیں ملتا۔۔۔ تحریر : ندیم صدیقی

Bhatkallys Other

تاریخ چٗوکتی نہیں وہ ظالم اور مظلوم دونوں پر توجہ کرتی ہے مگر ایسے کہ مظلوم کو اُبھار دیتی ہے اور ظالم کو کنارےلگا دیتی ہے اور کبھی تو اسے منہ بھی نہیں لگاتی ۔86۔ 1987کا زمانہ رہا ہوگا کہ مشہو رادیب و ناقد گوپی چند نارنگ نے ایک جلسے کا انعقاد کیا اور اُس وقت کے مرکزی وزیر ضیا ٔالرحمان انصاری اُس جلسے میں خاص طور پر مدعوکئے گئے موصوف نے اپنی تقریر کے دوران کہا کہ غالبؔ نے کیا خوب کہا ہے:(مثلاً) گر انتظار کٹھن ہے تو جب تلک اے دل کسی کے وعدۂ فردا کی گفتگو ہی سہی جلسے کےشرکامیں مشہور شاعر و نا

تبصرہ کتب۔۔۔02۔۔۔ تحریر : عبد الصمد تاجی

Bhatkallys Other

مجلہ:سالانہ ’’بنیاد‘‘ لاپور (7)   مجلہ دراسات اردو گرمانی مرکز زبان و ادب مہمان مدیر: ڈاکٹر نجیبہ عارف مدیر منتظم:ذی شان دانش صفحات:603، قیمت درج نہیں برائے رابطہ: لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (LUMS)، بالمقابل سیکٹر ’’یو‘‘ ڈی ایچ اے لاہور کینٹ 54792 فون نمبر: +92-42-111-115-867 ای میل bunyaad@lums.edu.pk ناشر: گرمانی مرکز زبان و ادب LUMS زیرنظر شمارہ ساتواں  ہے اور 2016ء کا ہے۔ سات حصوں میں منقسم ہے جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔ سابقہ شماروں کا تعارف ہم فرائیڈے اسپیشل میں کراچکے ہیں۔

تبصرہ کتب ۔۔۔ تحریر : عبد الصمد تاجی

Bhatkallys Other

کتاب   :       ہم کا استعارہ مصنف/مرتب: سید عون عباس صفحات:194۔ قیمت 200 روپے ملنے کا پتا:جہانِ حمد پبلی کیشنز کراچی 2/19 نوشین سینٹر اردو بازار کراچی یاور مہدی ایک شخص ہی نہیں بلکہ ایک ادارہ ہیں، اور ان کی کہانی گزشتہ آٹھ دہائیوں پر محیط ہے۔ آپ کے فن اور شخصیت پر غالباً پہلی کتاب 1998ء میں برادرِ محترم اویس ادیب انصاری نے مرتب کی جو بنام ’’یاور مہدی‘‘ جاوداں پبلشر نے شائع کی۔ 674 صفحات پر محیط یہ دستاویز ان محبتوں، عقیدتوں کی آئینہ دار ہے جن کا منبع یاور مہدی ہیں۔ مخدوم محی الدین کا یہ شعر

روہنگیا مسلمانوں کا مسئلہ اور بھارت۔۔۔۔از: کلدیپ نیئر !

Bhatkallys Other

کمیونسٹ لیڈر جیوتی باسو نے پچیس سال تک مغربی بنگال پر حکمرانی کی ہے۔ وہ فرقہ پرست قوتوں کے خلاف بڑی بے جگری سے لڑتے رہے لیکن یہ حیرت کی بات ہے کہ آر ایس ایس کسی طرح ریاست میں داخل ہو گئی بلکہ عملی طور پر ریاست پر قبضہ کر لیا۔ وزیراعلیٰ ممتا بینرجی کی ترنمول کانگریس اب ریاست پر اقتدار میں ہے لیکن اس کے بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنی جنگ ہار رہے ہیں۔ آر ایس ایس ریاست کے اندرونی علاقوں میں داخل ہو گئی ہے اور تقریباً ہر پارک میں صبح کی ورزشیں کراتی ہے۔ یہ کیسے ہوا اور کیوں ہوا اور کیونکر ہوا؟

خبرلیجئے زباں بگڑی ۔ کاکس یا کاسس بازار --- تحریر : اطہر ہاشمی

Bhatkallys Other

برعظیم پاک و ہند کے مشہور شہروں کے صحیح نام اب صحافیوں کی نوجوان نسل کو یاد بھی نہیں رہے، جب کہ چند برس پہلے تک یہ صورتِ حال نہیں تھی۔ آج کل روہنگیا مہاجروں کے حوالے سے بنگلادیش کے ایک شہر کا نام اخباروں میں ’’کاکس بازار‘‘ لکھا جارہا ہے۔ بنگلادیش کبھی پاکستان کا حصہ تھا اور مغربی پاکستان سے جانے والے سیّاح اس شہر کی سیاحت بھی کرتے تھے۔ اُن دنوں اس کا صحیح نام شائع ہوتا تھا جو کاسس بازار ہے (دو ’س‘ کے ساتھ)۔ یہ انگریزوں کا دیا ہوا نام ہے اور انگریزی میں اس کا املا Cox's ہے، یعنی کاسس یا کاکس کا ب

سچی باتیں ۔۔۔ ہجر جمیل۔۔۔ تحریر : مولانا عبد الماجد دریابادی مرحوم

Bhatkallys Other

  وَاصْبِرْ عَلیٰ مَا یَقُوْلُوْنَ وَاھْجُرْھُمْ ھَجْرًا جَمِیْلاً(مزمل)  اے پیغمبر یہ کافر تمھیں  جو کچھ  کہتے رہتے ہیں  اس پر صبر سے کا م لیتے رہو اور ان سے خو ب صورتی کے ساتھ الگ رہو۔  یہ حکم گناہوں  سے محفوظ و معصوم  پیمبر کو ملا تھا ،اور گستاخ و بدتمیز ،بدزبان و دریدہ دہن کافروں  کے مقابلہ پر ملا تھا،ارشاد ہوا تھا کہ ان کی ایذا رسانیوں   پر صبر کرتے رہو اور ان سے کنارہ کش رہو مگر محض کنارہ کش نہیں ،بلکہ خوب صورتی و خوش اسلوبی کے ساتھ۔ محض’’ہجر‘‘ نہیں  بلکہ ’’ہجرجمیل‘‘ اختیار رکھو،الگ اس طرح

پٹنے کی بے قراری (انشائیہ) ۔۔۔۔از: ریاض عظیم آبادی

Bhatkallys Other

پوجا کی وجہہ سے سبھی دفاتر بند تھے اور میں اشوک راج پتھ سے گزر رہا تھا۔اردو اکادمی کے دفتر کے سامنے کافی بھیڑ تھی اور سبھی لائن میں کھڑے تھے۔میں نے سلطان سے کہا اپنی گاڑی اکادمی میں لے چلو پتہ کرو یہ بھیڑ کیسی ہے۔اندر کا نظارہ دیکھا تو حیرت زدہ رہ گیا۔لائن میں کھڑے سبھی ادیب اور شاعر اور کچھ صحافی بھی تھے۔میں نے ایک سے پوچھا ۔۔۔ ’کیا بات ہے بھائی،کیا بریانی کی پیکٹ تقسیم ہونے والی ہے؟‘ ’نہیں ہم بریانی کے لیے نہیں بلکہ پٹنے کے لیے جمع ہیں۔‘ان میں سے ایک شاعر نے سمجھاتے کہا ’آپکو معلوم ہی ہے ک