Search results

Search results for ''


تبصرہ کتب :1- اسلام ، انسانی حقوق کا پاسپان ۔۔۔ 02-مجلہ پیغام صائب 2017 ۔۔۔۔ تحریر : ملک نواز اعوان

Bhatkallys Other

نام کتاب:اسلام ،انسانی حقوق کا پاسبان مصنف: حضرت مولانا سید جلال الدین عمری حفظہ اللہ۔ امیر جماعت اسلامی ہند صفحات: 184 قیمت 90 روپے بھارتی ناشر:مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی 25 ڈی 307 ‘ دعوت نگر ابوالفضل انکلیو جامعہ نگر نئی دہلی 110025 بھارت فون نمبر:26984347/2698165۲ فیکس:26987858 ای میل:mmipub@nda.srl.net ویب گاہ:www.mmipublishers.net حضرت مولانا سید جلال الدین عمری حفظہ اللہ (پ:1935ء) عالم اسلام کے ایک جید عالم دین، بہترین خطیب، ممتاز محقق اور صاحبِ طرز مصنف کی حیثیت سے معرو

سچی باتیں ۔۔۔ نماز جمعہ ۔۔۔ تحریر : مولانا عبد الماجد دریابادی رحمۃ اللہ علیہ

Bhatkallys Other

یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِ اللّٰہِ وَذَرُ والْبَیع۔ یہ کسی بشر کا کلام نہیں ،سب کے پیدا کرنے والے اور پالنے والے کا کلام ہے ،پا رہ ۲۸سورۃ الجمعہ میں  ارشاد ہوتاہے کہ اے ایمان والو جب ہفتہ کا وہ دن آجائے جسے جمعہ کہتے  ہیں  اور نماز جمعہ کا وقت آجائے تواپنے سارے کام کاج چھوڑ کر اس نماز کی طرف لپکو اور ذروالبیع  کارو بار، لین دین ، معیشت وتجارت کے سارے مشاغل اتنی دیر کے لئے ملتوی کر دو  اور یہ نہ سمجھو کہ ہر ج کار

خبر لیجئے زباں بگڑی ۔۔۔ مرنج و مرنجان ۔۔۔ تحریر : اطہر ہاشمی

Bhatkallys Other

مرنجاں مرنج بہت عام سی اصطلاح ہے، اردو میں اکثر استعمال ہوتی ہے۔ لیکن اس کا مطلب اور محلِ استعمال کیا ہے، اس کے بارے میں ہمیں بھی تردد رہا۔ لغت کے مطابق تو یہ ’’مرنج مرنجاں‘‘ ہے جب کہ اردو میں اس کی ترتیب بدلی ہوئی دیکھی، یعنی مرنجاں پہلے آتا ہے اور مرنج و مرنجاں کے بیچ میں ایک واؤ بھی رکھا ہوا ہے، لیکن اردو میں عام طور پر واؤ کے بغیر اور مرنجاں مرنج ہی استعمال ہوتا ہے۔ فارسی کا لفظ ہے اور اس کا مطلب ہے وہ شخص جو ہر حالت میں خوش رہے۔ جیسے یہ مصرع انسان میں مرنج و مرنجاں عزیز ہے قرآن کریم کے

تبصرہ کتب ۔۔ بحر الفصاحت ۔حصہ چہارم ۔۔۔ تحریر : ملک نواز احمد اعوان

Bhatkallys Other

نام کتاب:بحرا لفصاحت  . حصہ چہارم  (تیسرا جزیرہ) علم الفصاحت و بلاغت مرتب:سید قدرت نقوی صفحات: 42 قیمت 450 روپے ناشر: ڈاکٹر تحسین فراقی، ناظم مجلسِ ترقی ادب 2کلب روڈ۔ لاہور فون : 042-99200856, 99200857 ای میل : majlista2014@gmail.com ویب سائٹ : www.mtalahore.com نام کتاب : بحرالفصاحت .حصہ پنجم  علم البیان مصنف : حکیم مولوی نجم الغنی خاں رام پوری صفحات : 240 قیمت 300 ناشر : ڈاکٹر تحسین فراقی ناظم مجلس ترقی ادب 2کلب روڈ۔ لاہور حکیم نجم الغنی خان رام پوری اپنے زمانے کی نابغہ روزگار ش

 اکتوبر 24 :  نامور شاعر جناب آغا شورش کاشمیری کا یومِ وفات ہے

Bhatkallys Other

از: ابوالحسن علی بھٹکلی آغا شورش کاشمیری کا نام عبدالکریم اور تخلص الفت تھا۔ وہ 14 اگست 1917ء کو امرتسر میں ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام نظام الدین تھا۔ انکے دادا بہتر روزگار کی تلاش میں لاہور آئے تھے، پھر پورا خاندان یہیں رہائش پذیر ہو گیا۔ شورش نوعمری میں ہی والدہ کے سایۂ عاطفت سے محروم ہو گئے۔ والدہ کی وفات کے بعد دادی نے ان کی پرورش کی۔ شورش کو بچپن سے لکھنے پڑھنے کا شوق تھا اور وہ بڑے محنتی طالب علم تھے۔ شورش نے 1932ء میں دیوسماج ہائی اسکول لاہور سے میٹرک کا امتحان

اکتوبر 24 ، 1991: اردو کی معروف افسانه نگار ادیبہ عصمت چغتائی کی برسی ہے

Bhatkallys Other

از: ابوالحسن علی بھٹکلی عصمت چغتائی کی پیدائش 21 اگست، 1915ء میں ہندوستان کے شہر بدایوں میں ہوئی۔ اور ۷۶ سال کی عمر میں ۱۹۹۱ء میں ان کا انتقال ہوگیا۔ فلمی سفر ضدی یہ فلم ۱۹۴۸ میں عصمت چغتائی نے لکھی تھی۔ ۱۹۵۰ میں آرزو فلم کے انھوں نے ڈاءیلاگ بھی لکھے اور اسکرین پلے بھی جب کہ کہانی بھی عصمت چغتائی کی ہی تھی۔ ۱۹۵۸ ء میں سونے کی چڑیا فلم کی کہانی بھی انھوں نے ہی لکھی۔ ۱۹۷۴ ء میں ایک فلم آئی تھی جس کا نام گرم ہوا تھا جو عصمت چغتائی کے ایک افسانہ کو بنیاد بنا کر بنائی گئی تھی۔ اس فل

اکتوبر 24 :-: نامور شاعر اور نغمہ نگار ساحر لدھیانوی کی برسی ہے

Bhatkallys Other

از: ابوالحسن علی بھٹکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ساحر کا اصل نا م عبدالحئی تھا، وہ 8 مارچ1921ء لدھیانہ کے ایک جاگیردار خاندان میں پیدا ہوئے۔ طالبِ علمی کے زمانے میں ہی ان کا شعری مجموعہ تلخیاں شائع ہوچکا تھا، جس نے اشاعت کے بعد دھوم مچا دی تھی۔ سن 1949 میں وہ لاہور سے بمبئی گئے اور اسی سال ان کی پہلی فلم 'آزادی کی راہ' ریلیز ہوئی۔ لیکن اصل شہرت موسیقار ایس ڈی برمن کے ساتھ 1950 میں فلم نوجوان میں ان کے لکھے ہوئے نغموں کو نصیب ہوئی ان میں سے ای

بہت مشکل ہے دنیا کا سنورنا۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

ہم تاریخ کے طالب علم نہیں ہیں اس لئے ہم نہیں بتاسکتے لیکن سنا ہے کہ اجودھیا کی عمر دو ہزار برس سے زیادہ نہیں ہے۔ اس لئے ہم نہیں بتا سکتے ہیں کہ یہ انسانیت کی دھرتی لاکھوں برس سے ہے یا اس وقت سے جب ایران سے آنے والے آریوں نے اسے انسانیت کی دھرتی بنا لیا۔ یہ بات تو ہر ہندو جو رام چندر جی کو بھگوان مانتا ہے وہ کہتا ہے کہ ان کا زمانہ لاکھوں برس پہلے تھا۔ اور یہ بھی سب مانتے ہیں کہ آج جو ملک پر حکومت کررہے ہیں یہ چار ہزار برس پہلے بھی ہندوستان میں نہیں تھے۔ اور جو تھے وہ اب ملک میں پہاڑوں کے دامن میں

اکتوبر 23 :  کو مشہور و معروف شاعر اور ادیب آنند نارائن ملاؔ کا یومِ پیدائش ہے

Bhatkallys Other

از؛ ابوالحسن علی بھٹکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ملاؔ صاحب 23 اکتوبر 1901ء کو لکھنؤ میں پیدا ہوۓ۔ والد کا نام جگت نرائن ملا تھا جو لکھنؤ کے مشہور وکیل تھے اور لکھنو کی اہم شخصیت تھے۔اردو اور فارسی کی تعلیم گھر پر حاصل کی۔1923 میں انگریزی میں ایم کیا۔1925 میں وکالت کا امتحان پاس کر کے لکھنو میں وکالت شروع کی۔ملا صاحب نے انگریزی میں شاعری 1917 میں شروع کی۔طالب علمی کے زمانے میں انیسؔ،غالبؔا اور علام اقبالؔ کے اشعار کے اردو ترجمے کۓ۔اس طرح سے عالمی ادب سے واقفیت کا موقع

اکتوبر 23 :  کو اردو کے نامور مزاح نگار کرنل محمد خان کی برسی ہے

Bhatkallys Other

از؛ ابوالحسن علی بھٹکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کرنل محمد خان پاکستان کےنامور مزاح نگار اور پاک فوج کے شعبۂ تعلیم کے ڈائریکٹر تھے۔ نیز انھوں نے برطانوی دور میں ہندوستانی فوج میں بھی کام کیا اور دوسری جنگ عظیم میں مشرق وسطیٰ اور برما کے محاذ پر خدمات انجام دیں۔ پاک فوج کی ملازمت کے دوران کرنل محمدخان نے کتاب بجنگ آمد تصنیف کی جو ایک مزاحیہ سوانح ہے، ان کی اس کتاب کو اردو ادب میں سنگِ میل کی حیثیت حاصل ہے۔ اسی کتاب "بجنگ آمد" کی کامیابی کے بعد انھیں ارد

خبر لیجئے زباں بگڑی ۔۔۔ یہ صنادید کیا ہے ؟ ۔۔۔ تحریر : اطہر ہاشمی

Bhatkallys Other

کراچی سے شائع ہونے والا ماہ نامہ ’’قومی زبان‘‘ زبان کی خدمت تو کرہی رہا ہے لیکن جنہوں نے اردو زبان کی خدمت کی، اُن کا تعارف بھی کرا رہا ہے۔ تقریباً ہر شمارے میں مشاہیر میں سے کسی کے بارے میں سرورق کے ساتھ بھرپور معلومات بھی ہوتی ہیں۔ غالب سے لے کر مولوی عبدالحق تک اور اب سرسید احمد خان۔ اکتوبر 2017ء کا شمارہ سرسید احمد خان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ انجمنِ ترقی اردو پاکستان کی طرف سے سرسید کی دو سو سالہ سالگرہ کے حوالے سے اُن کی چار کتب کی اشاعت کی جارہی ہے جن میں سے ایک ’’آث

 اکتوبر 19 :  کو معروف شاعر مجاز لکھنوی کا یوم پیدائش ہے

Bhatkallys Other

از؛ ابوالحسن علی بھٹکلی  -------------------------------------------------------------- مجاز19 اکتوبر 1911ء کو قصبہ رودولی ضلع بارہ بنکی میں پیدا ہوئے۔ نام اسرارالحق اور مجاز تخلص اختیار کیا۔ حصول تعلیم کے لیے لکھنوآئے اور یہاں سے ہائی اسکول پاس کیا۔ لکھنو کی مخصوص تہذیب اور شعر و ادب کی سرزمین ہونے پر ان کو لکھنو سے اس قدر لگائو ہوا کہ اپنے تخلص میں لکھنوجوڑ لیا اور مجاز لکھنوی کے نام سے مشہور و معروف ہوئے۔ 1935ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے کر کے 1936ء میں دہلی ریڈیو اسٹیشن سے شائع

 اکتوبر 17 :  نامور شاعر مرزا یاس یگانہؔ ‘ غالب شکن’ کا یومِ پیدائش ہے

Bhatkallys Other

از: ابوالحسن علی بھٹکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یاسؔ یگانہ کا نام تو بہت ہی طویل ہے ،یعنی مرزا واجد حسین یاس ؔیگانہ چنگیزی لکھنوی ثم عظیم آبادی،لیکن اُن کو اپنے یکتا ہونے کا احساس تھا، اسی لیے اُنھوں نے لکھا: کلامِ یاسؔ سے دنیا میں ایک آگ لگی یہ کون حضرتِ آتشؔ کا ہم زباں نکلا اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یگانہؔ اپنی شاعری میں یگانہ تھے۔ اُنھوں نے ہمیشہ وہ راہ ترک کر دی، جو پہلے سے مستعمل تھی۔ اس لیے لکھنؤ سکول میں آتشؔ کے بعد یگانہؔ ہی سب سے منفرد

اکتوبر 16 :  ممتاز اردو شاعر، ادیب، براڈ کاسٹر، نقاد اور مفسر قرآن حمید نسیم کی برسی ہے

Bhatkallys Other

از: ابوالحسن علی بھٹکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حمید نسیم 16 اکتوبر 1920ء کو شاہ پور ضلع ڈلہوزی میں پیدا ہوئے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے ریڈیو پاکستان سے وابستگی اختیار کی اور ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ریڈیو پاکستان کے عہدے تک پہنچے۔ بعدازاں انہوں نے پی آئی اے آرٹس اکیڈمی کی سربراہی سنبھال لی۔ وہ ڈرامے اور موسیقی کا بہت اعلیٰ ذوق رکھتے تھے۔ تاہم ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے علوم اسلامی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیا۔ حمید نسیم کے شعری مجموعوں میں دود تحیر، جست جنوں اور

  اکتوبر 13:  کو ممتاز مصنف ، ڈراما نگارامتیاز علی تاج  کا یومِ ولادت ہے

Bhatkallys Other

از: ابوالحسن علی بھٹکلی وہ13 اکتوبر 1900ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید ممتاز علی دیوبند ضلع سہارنپور کے رہنے والے تھے جو خود بھی ایک بلند پایہ مصنف تھے۔ تاج کی والدہ بھی مضمون نگار تھیں۔ تاج نے ابتدائی تعلیم لاہور میں حاصل کی۔ سنٹرل ماڈل اسکول سےمیٹرک  اور گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے کی سند حاصل کی۔ انہیں بچپن ہی سے علم و ادب اور ڈراما سے دلچسپی تھی ۔ ابھی تعلیم مکمل بھی نہیں کر پائے تھے کہ ایک ادبی رسالہ ’’ کہکشاں‘‘ نکالنا شروع کردیا۔ ڈراما نگاری کا شوق کالج میں پیدا ہوا۔ گورنم

اکتوبر 13:  کو نامور شاعر امیرالشعراء منشی امیر احمد صاحب امیرؔمینائی داغؔ دہلوی کے ہم عصر کی برسی ہے

Bhatkallys Other

از؛ ابوالحسن علی بھٹکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنی غزل " سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ" کے لئے مشہور ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ امیرؔ اور داغؔ رام پور میں ایک طویل مدت تک ساتھ رہے۔ان میں بڑا خلوص تھا۔ایک دوسرے سے محبت رکھتے تھے اور ایک دوسرے کی عزت کرتے تھے۔ داغؔ کے نزدیک امیرؔ اور ان کے کلام کا کیا مرتبہ تھا وہ صنم خانہٗ عشق کے قطعہٗ ربایات تاریخ طباعت کے ان اشعار میں ملاحظہ کیجیےٗ یہ کلام ایسا کلام اتنا کلام ہے نشان مصحفیؔ شان اسیرؔ محو ہ

اکتوبر12: معروف شاعر ندا فاضلی کا یومِ پیدائش ہے

Bhatkallys Other

از: ابوالحسن علی بھٹکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ندا فاضلی کا اصلی نام مقتدا حسن تھا وہ 12 اکتوبر 1938 میں بھارتی ریاست گوالیار میں پیدا ہوئے تھے۔ بالی وڈ کی فلمی دنیا کے لیے بعض یادگار گیت تخلیق کرنے کے علاوہ ان کے لکھے گئے دوہوں اور غزلوں کو جگجیت سنگھ نے لاکھوں لوگوں تک پہنچایا۔ان کے والد بھی شاعر تھے جو 1960 میں مذہبی فسادات کے دوران مارے گئے۔ ان کے خاندان کے باقی افراد پاکستان منتقل ہو گئے لیکن ندا ہندوستان ہی میں رہے۔ وہ اپنے والدِ گرامی کے جنازے میں بھی شرکت نہ کر سکے، جس

بھٹکل نامدھاری سنگھا اپنے لیڈروں کی حمایت میں۔۔کیا ہم ایسا نہیں کرسکتے؟! (پہلی قسط)۔۔۔از: ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ 

Bhatkallys Other

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے........... کچھ دنوں پہلے بلدیہ کی دکانوں کی نیلامی سے شروع ہونے والا تنازعہ اور اس کے بعد بگڑتا ہوا ماحول ابھی سرد ہوتا نظر نہیں آتا۔دن بدن اس کے سیاسی، سماجی، فرقہ وارانہ اور قانونی رنگ سامنے آتے جارہے ہیں۔ اس مسئلے کی جڑ اور اس سے متعلقہ تمام تفصیلات کا احاطہ میں نے اپنے سابقہ مضامین میں کیا ہے۔ اب اس مسئلے کے حوالے سے چند روز قبل ایک نیا زاویہ جو ابھر کر سامنے آیا ہے ، یعنی دو چار نوجوان لیڈروں کی گرفتاری کے خلاف پورے نامدھاری طبقے نے سیاسی پارٹیوں سے اپنی وابستگی کو