Search results

Search results for ''


نومبر 07 :-: نامور  شاعر اور برصغیر پاک و ہند کے آخری مغل فرماں روا بہادر شاہ ظفرّ کا یوم وفات ہے

Bhatkallys Other

از: ابوالحسن علی بھٹکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہادر شاہ ظفرؔ کا پورا نام ابو ظفر سراج الدین محمد بہادر شاہ تھا۔ان کی ولادت ان کے والد اکبر شاہ ثانی کے زمانہ ولی عہدی میں ان کی ہندو بیوی لال بائی کے بطن سے ہوئی۔ظفرؔ کی تاریخ پیدائش 28 شعبان 1189ھ مطابق 14 اکتوبر 1775ء ہے۔وہ ہفتے کے روز غروبِ آفتاب کے وقت پیدا ہوۓ تھے۔ابو ظفرؔ ان کا تاریخی نام تھا۔جس کے اعداد 1189 ہوتے ہیں۔اپنے تاریخی نام ابو ظفرؔ کی رعایت سے ہی انھوں نے اپنا تخلص ظفرؔ رکھا تھا۔بہادر شاہ ظفرؔ کے جد امجد شاہ اول(ابنِ

Gujarat elections: Muslims account for 10% population but have just 2 MLAs

Bhatkallys Other

Ahmedabad: The Gujarat Assembly elections are scheduled to be held on December 9 and 14. However Gujarat assembly has seen a sharp dip in Muslim representation over the last three decades, thanks to the religious polarisation in the state. As reported by News18, Muslims account for 10% of the state’s population, but only two people from the minority community were elected as MLAs in the 182-member Assembly in the 2012 elections. This amounts to just 1% of the total legislative strength. De

 نومبر 05 :-: اردو کے ممتاز شاعر، ادیب اور ڈرامہ نگار عدیم ہاشمی کی برسی ہے

Bhatkallys Other

از: ابوالحسن علی بھٹکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اردو کے ممتاز شاعر، ادیب اور ڈرامہ نگار عدیم ہاشمی کی تاریخ پیدائش یکم  اگست1946ء ہے۔ عدیم ہاشمی کا اصل نام فصیح الدین تھا اور وہ بھارت کے شہر ڈلہوزی میں پیدا ہوئے تھے۔ عدیم ہاشمی کا شمار اردو کے جدید شعرا میں ہوتا تھا۔ ان کے متعدد شعری مجموعے شائع ہوئے جن میں ترکش، مکالمہ، فاصلے ایسے بھی ہوں گے، میں نے کہا وصال، مجھے تم سے محبت ہے، چہرا تمہارا یاد رہتا ہے، کہو کتنی محبت ہے اور بہت نزدیک آتے جارہے ہو کے نام سرفہرست ہیں۔ انہوں نے پاکستان ٹیلی و

نومبر 05 :  کو معروف شاعر فضل احمد کریم فضلی کا یومِ پیدائش ہے

Bhatkallys Other

از: ابوالحسن علی بھٹکلی ---------------------------------------------------------- اصل نام سید فضل احمد کریم نقوی اور تخلص فضلی تھا۔ 5 نومبر 1906 ء کو اعظم گڑھ (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ ان کا آبائی وطن الہ آباد تھا۔ خاندان کے سارے افراد علم دوست اور شعرو سخن کا ذوق رکھتے تھے۔ ان کے والد سید فضل رب فضل اپنے عہد کے خوشگوارشعرأ میں شمارکیے جاتے تھے۔ اس طرح فضلی صاحب کو شعر و سخن کا ذوق ورثہ میں ملا۔ فضلی صاحب کم عمری ہی میں غالب، ذوق، اکبراور اقبال سے متعارف ہو چکے تھے۔ پھر والد محترم کی وجہ سے بہ

نومبر 04 : اردو کی نامور افسانہ نگار اور  برصغیر پاک و ہند کی اولین ہوا باز خاتون حجاب امتیاز علی کا یومِ پیدائش ہے

Bhatkallys Other

از: ابوالحسن علی بھٹکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اردو کی نامور افسانہ نگار حجاب امتیاز علی 4 نومبر 1908ء کوحیدرآباد دکن میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کے والد سید محمد اسماعیل نظام دکن کے فرسٹ سیکریٹری تھے اور والدہ عباسی بیگم اپنے دور کی نامور اہل قلم خاتون تھیں۔ حجاب امتیاز علی نے عربی، اردو اور موسیقی کی تعلیم حاصل کی اور مختلف ادبی رسالوں میں افسانہ نگاری کا آغاز کیا۔ابتدا میں وہ حجاب اسماعیل کے نام سے لکھا کرتی تھیں اور ان کی تحریریں زیادہ تر تہذیب نسواں میں ش

نومبر 03 :-: معروف شاعر میراجی کی برسی ہے

Bhatkallys Other

از: ابوالحسن علی بھٹکلی ----------------------------------------------------------- ﻣﯿﺮﺍﺟﯽ ، ﺟﻦ ﮐﺎ ﺍﺻﻞ ﻧﺎﻡ ﻣﺤﻤﺪ ﺛﻨﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﮭﺎ ۔ ﻣﻨﺸﯽ ﻣﺤﻤﺪ ﻣﮩﺘﺎﺏ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ 25 ﻣﺌﯽ 1921 ﮐﻮ ﻻﮨﻮﺭ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺪﺍﮨﻮﺋﮯ۔ ﭘﮩﻠﮯ ” ﺳﺎﺣﺮﯼ “ ﺗﺨﻠﺺ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﯾﮏ ﺑﻨﮕﺎﻟﯽ ﻟﮍﮐﯽ ” ﻣﯿﺮﺍﺳﯿﻦ “ ﮐﮯﯾﮏ ﻃﺮﻓﮧ ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮨﻮ ﮐﺮ ” ﻣﯿﺮﺍﺟﯽ “ ﺗﺨﻠﺺ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ۔ ﻣﯿﺮﺍﺟﯽ ﮐﯽ ﺫﺍﺕ ﺳﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﻭﺍﺑﺴﺘﮧ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺫﺍﺕ ﻋﺎﻡ ﺁﺩﻣﯽ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﻓﺴﺎﻧﮧ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺭﮦ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ۔ ﺍُﻥ ﮐﺎ ﺣﻠﯿﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺣﺮﮐﺎﺕ ﻭ ﺳﮑﻨﺎﺕ ﺍﯾﺴﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﯾﻮﮞ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﻣﻼﻣ

تبصرہ کتب ۔۔۔ مقالات عبد الستار صدیقی +تذکار رفیع ۔۔۔۔ تحریر : ملک نواز احمد اعوان

Bhatkallys Other

نام کتاب:مقالات عبدالستار صدیقی .جلد اوّل مرتب:مسلم صدیقی صفحات: 316 قیمت 400 روپے ناشر:ڈاکٹر تحسین فراقی۔ ناظم مجلس ترقی ادب لاہور فون نمبر:042-99200856 042-99200857 ای میل:majlista2014@gmail.com مجلس ترقی ادب سے کچھ عرصہ پہلے مقالاتِ عبدالستار صدیقی جلد دوم کی اشاعت ہوئی تھی جس کا تعارف ہم نے فرائیڈے اسپیشل میں کرایا تھا۔ اب جلد اول بھی مجلس نے طبع ۔کرادی ہے۔ ڈاکٹر تحسین فراقی صاحب فرماتے ہیں ’’اردو کے ممتاز اور نامور ماہرِ لسانیات عبدالستار صدیقی (1885۔1972ء) اپنے کثیراللسانی پس منظر

سچی باتیں ۔۔۔ نزول رحمت ۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی رحمۃ اللہ علیہ

Bhatkallys Other

وَاَقِیْمُوْا  الصَّلوٰۃَوَاٰتُوْا الزَّکٰوۃَ وَاَطِیْعُوْا لرَّسُوْلَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْن۔ نور۔ع۔۸ نماز کے پابند رہو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو اور رسول کی اطاعت کرتے رہو کہ ان سے تم پر رحم کیا جائے گا۔ رحمتِ حق کا تعلق صر ف عالمِ آخرت ہی سے نہیں ،اس مادی وناسوتی دنیا سے بھی ہے اوررحمتِ حق کے مفہوم میں  وہاں  کی مغفرت و نجات کے علاوہ یہاں  کا چین اور آرام ،فلاح اور بہبود ،ترقی اور اقبال مندی،سب کچھ داخل و شامل ہے، ارشاد ہوتاہے کہ اس رحمتِ حق کی کشش کا ذریعہ اور نسخہ یہ ہے کہ نمازیں پابندی ک

خبر لیجئے زباں بگڑی ۔ ۔۔ لیت و لعل کا پوسٹ مارٹم۔۔۔ تحریر : اطہر ہاشمی

Bhatkallys Other

دبئی سے محترم عبدالمتین منیری کے توسط سے سید محسن نقوی کا بڑا تفصیلی محبت نامہ موصول ہوا ہے۔ اس میں انہوں نے پچھلے کالم کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’’وضاحت پوری نہیں ہوئی‘‘۔ چنانچہ انہوں نے کام پورا کردیا۔ اس طرح اِس ہفتے ہمیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں پڑی، اور ضرورت پڑگئی تو محترمہ عابدہ رحمانی کے استفسار کا جواب دینے کی کوشش کریں گے۔ عبدالمتین منیری بھٹکلی سے گزارش ہے کہ ’’گزرگاہِ خیال‘‘ سے جس کا بھی گزر ہو اُس کے شہر کا نام ضرور دے دیا کریں۔ سید محسن نقوی کا تعلق بھارت سے ہے اور وہ اس سے پہلے بھی راب

یکم نومبر:  جدید شاعری کے پیش رو معروف اصلاح پسند بچوں کے شاعر اسمٰعیل میرٹھی کا یومِ وفات ھے

Bhatkallys Other

از: ابوالحسن علی بھٹکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تاریخ پیدائش : 12 نومبر 1844ء تاریخ وفات : 01 نومبر 1917 ء مولانا اسمٰعیل میرٹھی،12نومبر 1844 عیسوی کو میرٹھ میں پیدا ہوئے۔ اب یہ محلہ اسمٰعیل نگر کے نام سے موسوم ہے۔ آپ کے والد کا نام شیخ پیر بخش تھا اور یہی آپکے پہلے استاد بھی تھے۔ اس دور کے رواج کے مطابق مولانا نے ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی ۔ پہلے فارسی اور پھر دس برس کی عمر میں ناظرہ قرآن مجید کی تعلیم مکمل کی۔1857 کی جنگِ آزادی کی تحریک کے وقت 1

کل 31 اکتوبر خوبصورت لب و لہجے کے معروف شاعر وفا حجازی کا یومِ وفات ہے

Bhatkallys Other

------------------------------------------------------------- سال پیدائش ۔ امرتسر ۔ نامعلوم تاریخ وفات ۔ کبیروالا ۔ 31 اکتوبر 1984ء کبیروالا کی سرزمین ھر دور مین ادبی لحاظ سے ھمیشہ زرخیز رھی ھے ۔ بیدل حیدری ، خادم رزمی اور وفا حجازی اپنے دور کے اردو اور پنجابی ادب کی نامور شخصیات تھے ۔ طالب بٹالوی ، قمر رضا شہزاد ، فیصل ھاشمی ساغر مشہدی ، حسنین اصغر تبسم اور منیر راھی جیسے معروف شاعروں کا تعلق بھی اسی سرزمین کبیروالا سے ھے ۔ وفا حجازی کا اصل نام عطاء الرحمٰن تھا ۔ آپ کی والدہ محترمہ کا تعلق

اکتوبر 31 :  اردو اور پنجابی کی ممتاز باغی شاعرہ سارا شگفتہ کا یوم پیدائش ہے

Bhatkallys Other

از: ابوالحسن علی بھٹکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اردو اور پنجابی کی ممتاز شاعرہ سارا شگفتہ 31 اکتوبر 1954ء کو گوجرانوالہ میں پیدا ہوئی تھیں، وہ پنجابی اور اردو دونوں میں شاعری کرتی تھیں، ان کی شاعری کی مرغوب صنف نثری نظم تھی جو ان کے ایک الگ اسلوب سے مرصع تھی۔ سارا شگفتہ کی پنجابی شاعری کے مجموعے بلدے اکھر، میں ننگی چنگی اور لکن میٹی اور اردو شاعری کے مجموعے آنکھیں اور نیند کا رنگ کے نام سے اشاعت پذیر ہوئے۔ ان کی ناگہانی موت نے ان کی زندگی اور شاع

اکتوبر 31 :-: پنجابی زبان کی نامور شاعرہ، مسلمہ ادیبہ اور افسانہ نگار امرتا پریتم کی برسی ہے

Bhatkallys Other

از : ابوالحسن علی بھٹکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ امرتا پریتم گوجرانوالہ میں پیدا ہوئیں۔ ان کی سو سے زائد کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں شاعری کے علاوہ کہانیوں کے مجموعے، ناول اور تنقیدی مضامین کے انتخابات بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ہندوستان اور پاکستان کے بٹوارے پر ان کے ایک ناول پنجر پر اسی نام سے فلم بھی بن چکی ہے۔ وہ بھارتی ایوان ِ بالا کی رکن رہی ہیں اور انہیں پدم شری کا اعزاز بھی حاصل ہو ا اس کے علاوہ انہیں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ اور دیگر اعزازات بھی حاصل ہو ئے جن میں پنجابی ادب کے لیے گی

صومالیہ میں ترکی کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ۔۔۔۔از: فرحین شیخ

Bhatkallys Other

تین دہائیوں سے جاری خانہ جنگی کے خوفناک مناظر نے صومالیہ کو ایک تھیٹر بنا دیا ہے،کچھ لوگ یہ مناظر دیکھ کر خوشی سے تالیاں پیٹتے ہوئے اپنی حیوانی نفسیات کی تسکین کرتے ہیں، توکچھ لوگ انگلیاں دانتوں میں داب کر دانستہ نظریں پھیر لیتے ہیں اورکچھ خوف کے مارے آنکھیں موند کر، دہشت اور وحشتناک مناظر سے وقتی طور پر خود کو باہر محسوس کرکے مطمئن کرلیتے ہیں۔ نائن الیون کے بعد دہشت گردی کی جنت بننے والا صومالیہ جو عرصہ دراز سے مصنوعی طور پر پیداکردہ اور’’خودغرضی ساختہ ‘‘ قحط کا بھی شکار ہے، اب وہاں ترکی کی م

بھٹکل نامدھاری سنگھا اپنے لیڈروں کی حمایت میں۔۔کیا ہم ایسا نہیں کرسکتے؟! )دوسری اور آخری قسط)۔۔از: ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ

Bhatkallys Other

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے........... بھٹکل اسمبلی حلقے کا نامدھاری طبقہ بحیثیت مجموعی ایک زمانے سے بظاہر ہی سہی کانگریس، جنتا دل اور اس طرح کی دوسری سیکیولر پارٹیوں سے وابستگی کے لئے جاناجاتارہا ہے۔لیکن پولیس کے ہاتھوں اس طبقے کے چند نوجوان قائدین کی گرفتاری اوران پر لگائے گئے سنگین الزامات کے خلاف جس طرح سڑک اورسرکاری دفاترپرنامدھاریوں نے متحدہ مورچہ سنبھالا اوراپنی سیاسی وسماجی قیادت کے سلسلے میں جس سنجیدگی اور مؤثر حکمت عملی کا مظاہرہ کیا ہے وہ یقیناًلائق ستائش ہے۔کیونکہ جن نوجوان لیڈران کی گر

اکتوبر 30: آج اردو کی نامور شاعرہ محترمہ ثمینہ راجا کی برسی ہے

Bhatkallys Other

از: ابوالحسن علی بھٹکلی  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ثمینہ راجا 11 ستمبر 1961ء کو رحیم یار خان میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے اردو زبان و ادب میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ عملی زندگی میں انہوں نے کئی اہم شعبوں میں خدمات انجام دیں۔ پاکستان ٹیلی ویژن میں انہوں نے علم و ادب کے فروغ کے لیے بھر پور کردار ادا کیا۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے زیرِ اہتمام کامیاب اردو مشاعروں کا انعقاد ان کی فعال، ہر دل عزیز اور مؤثر شخصیت کا مرہون منت تھا۔ انہوں نے عالمی شہرت کے حامل ادیبو

  اکتوبر 29: نامور شاعر صباؔ اکبر آبادی کی برسی ہے

Bhatkallys Other

از: ابوالحسن علی بھٹکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صبا اكبرآبادي كا تعلق اس سرزمين سے هے جهاں كي مٹّي فنونِ لطيفه كے لئے زرخيز ماني جاتي هے۔يه وهي سرزمين هے جس نے فنِ تعمير كي بهترين اور لاثاني مثال تاج محل اور فنِ شاعري كي بے نظير مثال غزليات غالب دنيا كے سامنے پيش كي جا سكتي هے۔ تاج محل اگر دنيا كا ساتواں عجوبه هے تو٫٫ ديوانِ غالب٬٬بقول بجنوري ايك الهامي كتاب هے۔ اسي مٹّي سے مير تقي مير اور عوامي شاعري كا بلند مرتبت شاعر نظير اكبر آبادي كا بھي ت

کتنے حسیں افق سے ہویدا ہوئی ہے تو۔۔۔۔۔از: سہیل انجم

Bhatkallys Other

سپریم کورٹ کے وکیل اسد علوی نے دشنام طرازی پر اپنے شاندار کالم، مطبوعہ روزنامہ انقلاب، 28 اکتوبر، سے خاکسار کے قلم کو مہمیز لگا دی۔ انھوں نے بہت ہی خوبصورت انداز میں سماج، ادب اور گالیوں کے باہمی رشتے پر اظہار خیال کرکے ایک خوابیدہ موضوع کو بیدار کر دیا۔ انھوں نے غالب، چرکین اور کیف بھوپالی کے حوالوں سے اپنی بات کو مزین کیا اور عزیز حسن بقائی کے ماہنامہ ’پیشوا‘ کے گالی نمبر کا بھی حوالہ دیا۔ چرکین کی شاعری یا اردو اور دیگر زبانوں میں برازیات کی شاعری پر پھر کبھی اظہار خیال ہوگا،