Search results

Search results for ''


نومبر 21 :-: اردو کے معروف اور معتبر غزل گو شاعر جناب اطہر نفیس کی برسی ہے

Bhatkallys Other

از: ابوالحسن علی بھٹکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مزار پر انہی کا یہ شعر تحریر ہے: وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا، اب اس کا حال بتائیں کیا کوئی مہر نہیں، کوئی قہر نہیں، پھر سچا شعر سنائیں کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کنور اطہر علی خاں کی پیدائش علی گڑھ کے قصبہ پٹل کے ایک معزز خاندان میں22فروری سنہ 1933کو ہوئی تھی۔ ان کی ابتدائی تعلیم علی گڑھ میں ہی ہوئی۔علی گڑھ کے قصبہ پٹل سے ہجرت کر کے وہ سنہ 1949میں کراچی چلے گئے تھے او روہاں مشہور اخبار ” جنگ “ کے انتظامی شعبے سے واب

نومبر 20: کو اردو کے مقبول ترین شاعر فیض احمد فیضؔ کا برسی ہے

Bhatkallys Other

از: ابوالحسن علی بھٹکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فیضؔ کے اجداد کا سلسلہ نسب سہارنپور کے راجپوت فرمانروا" سین پال" سے ملتا ہے۔ اُن کے پردادا کا نام سر بلند خاں اور دادا کا نام صاحبزادہ خاں تھا ۔ فیضؔ کی ہمشیرہ اختر جمال ایک انٹرویو میں بتاتی ہیں: " کسی زمانے میں ایک راجپوت راجہ ہوا کرتا تھا اس کا نام سین پال تھا۔اس کا تعلق سہارنپور سے تھا۔ اس کی اولاد میں ایک نے اسلام قبول کر لیا۔ ہمارے والد کا تعلق اسی شاخ سے ہے۔ہمارے پردادا کا نام سر بلند خاں اور

کل مورخہ 19 نومبر رومانی لہجے کے ممتاز شاعر سلام مچھلی شہری کا یوم وفات ہے

Bhatkallys Other

از: ابوالحسن بھٹکلی --------------------------------------------------------------- ان کا اصل نام عبدالسلام اور تخلص سلام تھا۔ سلام مچھلی شہری یکم جولائی 1921 کو مچھلی شہر، ضلع جون پور (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ پہلے قرآن حفظ کرایا گیا۔ 1935 میں ڈسٹرکٹ بورڈ اور مڈل اسکول سے آٹھویں درجے کا امتحان دیا اور اچھے نمبروں سے کامیابی حاصل کی۔ طالب علمی کے زمانے سے نظم و نثر لکھنے لگے تھے۔ ملازمت کا آغاز الہٰ آباد یونیورسٹی کے کتب خانے سے ہوا۔ 1943 میں آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ ہوگئے۔ اس دوران وہ لکھن

نومبر 18 : اردو زبان کو علمی سرمائے سے مالا مال کرنے والے نامور ادیب علامہ شبلی نعمانی کی برسی ہے

Bhatkallys Other

از: ابوالحسن علی بھٹکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علامہ شبلی نعمانی کا اصل نام محمد شبلی تھا تاہم حضرت امام ابو حنیفہ کے اصل نام نعمان بن ثابت کی نسبت سے انہوں نے اپنا نام شبلی نعمانی رکھ لیا تھا۔ وہ 1857ء میں اعظم گڑھ کے ایک نواحی قصبے میں پیدا ہوئے۔ آپ کی تعلیم بڑے اچھے ماحول اور اپنے عہد کے اعلیٰ ترین درس گاہوں میں ہوئی۔ 1982ء میں وہ علی گڑھ کالج کے شعبۂ عربی سے منسلک ہوگئے، یہاں انہیں سرسید احمد خان اور دوسرے علمی اکابر کی صحبت میسر آئی، جس نے ان کے ذوق کو نکھارنے میں اہم کردار ادا ک

 نومبر 16 : کلاسیکل اردو شاعری کے استاد ملک الشعراء شیخ محمد ابراھیم ذوقؔ کی برسی ہے

Bhatkallys Other

از: ابوالحسن علی بھٹکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حیات ذوقؔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاۓ ذوقؔ ۔ساری سوانح عمری تو اس شعر میں کہہ گۓ لائی حیات،آۓ قضا لے چلے چلی چلے اپنی خوشی آۓ نہ اپنی خوشی چلے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دلّی، جو کئی بار اجڑی کئی بار بسی، اسی دلی میں کابلی دروازے کے پاس ایک چھوٹا سا مکان تھا. جس میں شیخ رمضان نامی معتبر اور با لیاقت شخص رہتا تھا. کنبہ لمبا چوڑا نہ تھا اس لیے قلیل آمدنی میں بھی آسودہ ر

نومبر 12 : اردو کے معروف شاعر اور نغمہ نگار احمد راہی کا یومِ پیدائش ہے

Bhatkallys Other

از: ابوالحسن علی بھٹکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 12 نومبر 1923ء پنجابی کے نامور شاعر اور فلمی نغمہ نگار احمد راہی کی تاریخ پیدائش ہے۔احمد راہی کا اصل نام غلام احمد تھا اور وہ امرتسر میں پیدا ہوئے تھے۔ 1946ء میں ان کی ایک اردو نظم آخری ملاقات افکار میں شائع ہوئی جو ان کی پہچان بن گئی۔ اس کے بعد ان کا کلام برصغیر کے مختلف ادبی جرائد کی زینت بننے لگے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ لاہور میں قیام پذیر ہوئے اور ماہنامہ سویرا کے مدیر مقرر کئے گئے۔ 1953ء میں پ

بدلتے حالات کے تناظر میں، سیاسی داؤ پیچ کا استعمال وقت کی اہم ضرورت۔۔۔از: نقاش نائطی

Bhatkallys Other

گذشتہ ریاستی انتخاب میں مجلس اصلاح و تنظیم بهٹکل کے قومی امیدوار عنایت اللە شاہ بندری کا انتخاب لڑنا، اور اس ریاستی انتخاب میں اپنی ہار کے باوجود ایک قدآور سیاسی لیڈر کی حیثیت سے ابھرنے میں انکا کامیاب ہونا، اس بات کی دلیل ہے کہ ڈرتے ڈرتے ہی صحیح قوم نے  بنا شرط کانگریس کی  تائید میں قومی ووٹ ڈالنے کے بجائے،کانگریس سے برگشتہ ہوکر، سیکیولر جنتا دل کے تائید کردہ قومی امیدوار کو الیکشن میں لڑانے کا قومی فیصلہ، وقت کا صحیح ترین فیصلہ تها. نہ صرف ذاتی طور پر انہیں سیاسی فائدہ ہوا بلکہ سابقہ دو دہوں ک

کانگریس کو حیاتِ نو بھی مودی دے رہے ہیں۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

2015-16 ء میں کون سوچ سکتا تھا کہ گجرات یا کسی بھی بی جے پی حکومت والی ریاست میں امت شاہ اور پارٹی کے خلاف کوئی کانوں میں بات بھی کرسکتا ہے۔ پورے ملک پر وزیر اعظم نریندر مودی کا سایہ تھا اور دوسرا چہرہ امت شاہ کا سمجھا جاتا تھا جن کو بی جے پی کے بزرگ لیڈر اور نامور صحافی ارون شوری نے بھی پورا آدمی تسلیم کیا تھا۔ گجرات کے الیکشن کے بارے میں خیال یہ تھا کہ وزیر اعظم تو دہلی میں بیٹھے رہیں گے اور امت شاہ گجرات کے دو تین چکر لگاکر دفتر میں بیٹھ کر اُمیدواروں کی لسٹ بنا دیں گے اور وزیر اعظم کی آخری ن

غصہ حکومت پر اُتارا جائے تاریخ پر نہیں۔۔۔از: حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

ہم نے بچپن میں دیکھا تھا کہ تعلیم یافتہ اور شریفوں کے سماج میں سنیما گفتگو کا موضوع نہیں ہوتا تھا اور یہ تو سب کو یاد ہوگا کہ اگر ایک فلم بن کر آگئی تو سال دو سال وہ جس سنیما گھر میں لگ گئی وہیں لگی رہی اور اپنے ساتھ کے بچوں کو فلم کا نام یاد رہتا تھا اور یہ کوئی نہیں جانتا تھا کہ جن کرداروں نے کام کیا ہے وہ کون ہیں اور ان کی کیا خصوصیت ہے؟ اگر کوئی چیز شرک تھی تو وہ صرف یہ کہ یہ تفریح ہے اور اس کا کام ہنسنا ہنسانا ہے۔ یا رونا رُلانا۔ ٹی وی کا تو تصور بھی نہیں تھا ریڈیو تھا تو وہ بہت بڑے لوگوں

تبصرہ کتب ۔۔۔ سہ ماہی الصدیق صوابی ۔۔۔ تحریر: ملک نواز احمد اعوان + محمود عالم صدیقی

Bhatkallys Other

نام مجلہ:سہ ماہی ’’الصدیق‘‘ صوابی جلد1، شمارہ 4 ،جولائی تا ستمبر مدیر مسؤل:حضرت مولانا عبدالرؤف بادشاہ مدیر:منفعت احمد معاون مدیر:محمد اسلام حقانی صفحات:136 قیمت فی شمارہ 80 روپے ناشر:دفتر سہ ماہی الصدیق معھدالصدیق للدراسات الاسلامیہ بام خیل۔ صوابی، خیبرپختون خوا۔ پاکستان فون نمبر:0313-9803280 ای میل:alsiddiq2016@gmail.com یہ سہ ماہی ’’الصدیق‘‘ صوابی کا چوتھا شمارہ ہے جو معہد الصدیق سے شائع ہوتاہے۔ معمدالصدیق کا تعارف درج ذیل ہے: ’’جس جگہ بیٹھ کر پڑھا پڑھایا جاتا ہے اسے عربی زبان م

سچی باتیں ۔۔۔ دشمنی کا سدِّ باب۔۔۔ تحریر : مولانا عبد الماجد دریابادی مرحوم

Bhatkallys Other

قرآن مجید کے چھبیسویں  پارہ میں  ایک سورہ حجرات ہے اس میں  ارشاد ہوتا ہے کہ ؂ اِنَّمَا الْمُؤْ مِنُوْنَ اِخْوَۃٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْکُمْ وَاتَّقُوْااللّٰہَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُونَ۔ سب مسلمان آپس میں  بھائی ہیں  سو اپنے بھائیوں  کے درمیا ن صلح کرا دیا کرو اور اللہ سے تقویٰ اختیار کئے رہوتا کہ تم پر رحم کیا جائے۔ گویا مقصود بندوں  کو نزولِ رحمت سے خبر دینا ہے اور جو شرطیں  نزولِ رحمت کی ہیں  انھیں  بیان کردینا یعنی ہر ایک مسلمان کو بھائی سمجھنا اور یہ سمجھ کر مسلمانوں  میں  باہم ملا

حکومت اور عدالتوں کا دوستانہ میچَ۔۔۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

الہ آباد ہائی کورٹ اور اس کی لکھنؤ بینچ حکومت کو آٹھ مہینے میں کئی بار ہدایت دے چکی ہے کہ غیرقانونی مذبح کے نام پر جو حکومت نے پورے اُترپردیش میں ہر مذبح کو تاراج کردیا وہ اس کی تلافی میں بھی اپنا فرض ادا کرے اور وہ کروڑوں شہری جو گوشت کھانا چاہتے ہیں یا جو گوشت، کھال اور جانوروں کا کاروبار کرتے ہیں ان کا روزگار واپس کرے۔ 15 نومبر کو ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور ایک جج کی بینچ نے حکومت کے ایڈوکیٹ جنرل کو پھٹکار لگائی اور حکم دیا کہ آئندہ پیشی 28 نومبر کو پوری تیاری اور معلومات کے ساتھ حاضر ہوکر بت

خبر لیجئے زباں بگڑی ۔۔۔ اوچھے کا تیتر۔۔۔ : تحریر : اطہر ہاشمی

Bhatkallys Other

معین کمالی صاحب بڑے سینئر صحافی اور اہلِ علم و اہلِ قلم ہیں۔ گزشتہ دنوں انہوں نے روزنامہ ’’امت‘‘ میں اپنے مضمون کو ’’ایتر کے گھر تیتر‘‘ کا عنوان دیا۔ اس طرح انہوں نے ایک ایسے محاورے یا ضرب المثل کا احیا کیا ہے جس سے اب بہت کم لوگ واقف ہوں گے، حالانکہ یہ بڑا جامع اور بامعنی محاورہ ہے۔ ہم اس کی دوسری صورت سے خوب واقف ہیں جو یہ ہے ’’اوچھے کا تیتر، باہر باندھوں کہ بھیتر‘‘۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری کسی اوچھی حرکت پر ہمارے والد مرحوم ہم کو یہی کہا کرتے تھے۔ بہت عرصے بعد یہ ’’ایتر کے گھر تیتر‘‘ سام

اب بے قراری کی وجہ سمجھ سے باہر ہے۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

شاید دنیا کا یہ اکیلا ایسا مسئلہ ہے جس پر ہر دن ایک نیا بیان آجاتا ہے اور ہر دن ایک نیا لیڈر اپنی تجویز بغل میں دبائے سامنے آجاتا ہے۔ یہ بات پہلی بار کب کہی گئی اور کس نے کہی اس کا ذکر تو کوئی کرتا نہیں لیکن آزادی کے بعد سب سے پہلے بابری مسجد میں ہی مورتیاں رکھ کر یہ کہا گیا کہ بابر کے زمانہ میں ان کے صوبیدار میرباقی نے رام مندر کو توڑکر یہ مسجد بنائی تھی۔ مورتیاں رکھنے اور انہیں وہاں سے ہٹانے، اس مسجد میں سرکاری تالا ڈالنے اور تالا کھولنے کا جو ڈرامہ بھی ہوا ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ مسجد میں اذان

موت اس کی ہے کرے جس پہ زمانہ افسوس۔۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

طبیعت تو آج بھی اس قابل نہیں ہے کہ وہ تمام ضروری باتیں کہہ دوں جو گذشتہ تین ہفتوں میں کوشش کے باوجود نہ کہہ سکا۔ لیکن مولانا اسلم قاسمی مرحوم کا حادثہ ارتحال ایسا نہیں ہے کہ آج بھی تماشہ دیکھتا رہوں۔ دارالعلوم دیوبند کے سابق مہتمم حضرت مولانا قاری طیب صاحبؒ کے بڑے سے چھوٹے بیٹے مولانا اسلم قاسمی تھے اور بڑے مولانا سالم قاسمی۔ دارالعلوم کے اندر ایک حادثہ کے بعد حضرت مہتمم صاحب نے مجلس شوریٰ سے درخواست کی کہ عمر کی وجہ سے اب میں اس کی ضرورت محسوس کررہا ہوں کہ نام کی حد تک مہتمم تو میں رہوں لیکن ذم

خانوادہ قاسمی کی روایتوں کے امین ۔۔ حضرت مولانا محمد اسلم قاسمی علیہ الرحمۃ۔۔۔ تحریر: راحت علی صدیقی قاسمی

Bhatkallys Other

 خانوادہ قاسمی مختلف حیثیتوں سے عظمت کا حامل ہے، مدارس کا قیام، دین کا تحفظ، تصوف و سلوک میں بلند پایہ خدمات،تصنیف و تالیف کی دنیا میں لا زوال کارنامے ، صفحات پر علوم و معارف کے چراغ روشن کرنا ، تدریس میں ادق ترین مسائل کو سہل تر بنا کر پیش کرنا، طلبہ کی سہولتوں پر حد درجہ توجہ دینا ، وقت کی پکار پر لبیک کہنا، علوم و معارف کے میٹھے چشمے جاری کرنا، سادہ مزاجی، سنجیدگی اور متانت اس خانوادہ سے وابستہ ہر شخص کی سرشت میں داخل ہے، اس خانوادہ کی نرالی شان ہے، یہ فیصلہ سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر نہیں ب

بھٹکل حلقے میں کیا مسلم امیدوار کی جیت حقیقت بن سکتی ہے؟۔۔۔۔از:  ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ 

Bhatkallys Other

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے...........  haneefshabab@gmail.com کرناٹکا اسمبلی الیکشن کے دن جیسے جیسے قریب آتے جارہے ہیں، سیاسی گہماگہمی بھی اپنی رفتار پکڑنے لگی ہے۔ الیکشن کے موسم میں ایک پارٹی سے دوسری پارٹی کے کیمپ کی طرف ہجرت کرنے والے سیاسی پرندوں نے بھی اپنے پرتولنااور اڑانیں بھرنا شروع کردیا ہے۔گرم سیاسی توے پر اپنے مفادات کی روٹیاں سینکنے والوں نے بھی آٹاگوندھنے کی کارروائی کا آغاز کردیاہے۔ظاہر ہے کہ ایسی حالت میں ایک زمانے سے نادرالمثال ملی اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے علاقے کے مسلمانو

تبصرہ کتب : تذکار رفیع ۔۔۔ تحریر : ملک نواز احمد اعوان

Bhatkallys Other

نام کتاب:تذکارِ رفیع (ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی: حیات و خدمات) ترتیب و تہذیب:ڈاکٹر ظفر حسین ظفر ایسوسی ایٹ پروفیسر شعبہ اردو علامہ اقبال یونیورسٹی۔ اسلام آباد صفحات:304 قیمت 500 روپے فون : +92 322 5177413 ای میل:alfathpublications@gmail.com تقسیم کنندہ:وی پرنٹ بک پروڈکشنز +92-345-1138927 +92-300-5192543 ای میل:vprint.vp@gmail.com ویب گاہ:www.vprint.com.pk وی پرنٹ392-A ،گلی نمبر 5-A ، لین نمبر 5 گلریز ہاؤسنگ اسکیم 2- راولپنڈی تذکارِ رفیع بہت ہی عمدہ کتاب ہے جو ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی ک