Search results

Search results for ''


مسعود احمد برکاتی ایک بامقصد زندگی کا استعارہ... تحریر : ڈاکٹر طاہر مسعود

Bhatkallys Other

مسعود احمد برکاتی نے جنہیں بالعموم اُن کے رفقا ’’برکاتی صاحب‘‘ کہا کرتے تھے، اس دنیائے رنگ و بو سے آخر آخر کو اپنا منہ موڑ لیا اور ربِّ حقیقی سے جا ملے۔ وہ بہت عرصے سے بیمار تھے اور دفتر وغیرہ بھی پابندیٔ اوقات سے جانے کی جو ساری عمر عادت رہی، اس سے بھی مستغنی کردیے گئے تھے۔ ان کا شمار بلاشبہ اُن شخصیات میں کیا جاسکتا ہے جنہیں ’’محسنِ قوم‘‘ کا لقب دیا جائے تو ہر طرح بجا ہوگا، اس لیے کہ انھوں نے ہمدرد فائونڈیشن کے رسالے ’’ہمدرد نونہال‘‘ کے ذریعے نصف صدی سے بھی زیادہ عرصے تک کم از کم پانچ نسلوں کی

Anti-Muslim violence takes new turn; likes of Shambhu Lal are ‘manufactured’ in saffron lab

Bhatkallys Other

A wave of apprehensions prevails among minorities following the brutal killing of Afrazul Islam in Rajasthan. A question which is haunting the minds of all, especially minorities is, does Indian democracy have no place for minorities especially Muslims? Anti-Muslim riots and violence are not new to India but today they have taken a new turn. The situation has become so worse that the culprits are feeling proud of themselves after carrying out such barbarism. They feel that it is their obligation

محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی۔۔۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

کالجوں کے ہاسٹل اور جیلوں کی حوالات میں تھوڑا سا فرق ہوتا ہے۔ ہاسٹل سے ہر دن لڑکے باہر جاسکتے ہیں اور دن میں کئی بار جاسکتے ہیں لیکن جیل میں جب آگئے تو یا تو عدالت کے طلب کرنے پر باہر جاسکتے ہیں یا رِہا ہونے کے بعد۔ کیرالہ کے ایک گاؤں کی رہنے والی (آکھلا) نام کی ایک لڑکی جو پانچ سال کے غور و فکر کے بعد مسلمان ہوئی اور اس نے اپنا نام ہادیہ رکھا اس کی کہانی بھی ایک ہاسٹل سے شروع ہوتی ہے۔ وہ تمل ناڈو کے ایک ہومیو پیتھک کالج کے ہاسٹل میں ایک سال رہنے کے بعد ایک کرایہ کے کمرہ میں رہنے لگی جس میں دو م

پچیس سال پہلے کی وہ سرد راتیں اور جیل یاترا (پہلی قسط)۔۔۔۔۔از: ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ

Bhatkallys Other

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے...........  جب بھی دسمبر کے مہینے میں رات دیر گئے تک کچھ علمی و ادبی کام ختم کرکے میں گھر کے لیے نکلتا ہوں اور شدید سردی کا عالم ہوتا ہے ۔تو یادوں کے جھروکے میں دودہائیوں قبل کی ایسی ہی رگوں کو کاٹتی ٹھنڈاور برفانی راتیں در آتی ہیں، اور اس کے ساتھ ہی لہو لہو موسم کے چند کرب انگیز مناظر ابھرنے لگتے ہیں، جو رات بھر کے اضطراب اور کشمکش کا سبب بن جاتے ہیں۔ ایسا بھی نہیں کہ یہ کرب اور اضطراب پورے سال میں صرف دسمبر کے مہینے میں پیدا ہوتا ہے، بلکہ 93 مسلم کش فسادات کے دوران ہما

خبرلیجئے زباں بگڑی ۔۔۔ شُکیب‘ شَکیب یا شِکیب۔۔۔ تحریر: اطہر ہاشمی

Bhatkallys Other

ایک بہت بزرگ اور عالم شخصیت نے ایک محفل میں بتایا کہ شکیب میں شین پر پیش ہے یعنی شُکیب۔ ہم تو اب تک اسے بالفتح (شین پر زبر کے ساتھ) پڑھتے رہے لیکن شُکیب پہلی بار سنا تو تجسس پیدا ہوا، جسے دور کرنے کے لیے لغات کا جائزہ لیا۔ لغت کے مطابق شین پر پیش ہے نہ زبر بلکہ زیر (بالکسر) ہے یعنی شِکیب۔ فارسی کا لفظ اور مذکر ہے۔ مطلب ہے صبر، تحمل، بردباری۔ اسی سے شکیبائی ہے لیکن یہ مونث ہے۔ داغؔ کا شعر ہے: ضعف نے ایسا بٹھایا اس کی بزمِ ناز میں میں نے یہ جانا مجھے حاصل شِکیبائی ہوئی گزشتہ دنوں ایک صاحبِ علم

Jashn-e-Rekhta shows Urdu is not only alive but rocking

Bhatkallys Other

New Delhi: Jashn-e-Rekhta began with much fanfare on Friday, at Major Dhyan Chand Stadium close to India Gate. The fourth edition of Jashn-e-Rekhta festival, a celebration of Urdu in the capital shows that a language that was nearly declared dead has come back from the brink. The fourth edition of Jashn-e-Rekhta saw a bunch of singers, orators and storytellers. They enthralled the audience with Urdu poetry, banter, ghazal and qawwali. There are four bazms, Mahfil-e-Khana, Bazm-e-Khayal, Da

گجرات نے جنگ آزادی کی قیادت کی ہے ،فرقہ پرست طاقتوں کو آگے بڑھنا سے روکنا بھی اس کی اہم ذمہ داری.........  نقطہ نظر :ڈاکٹر منظور عالم

Bhatkallys Other

گجرات انتخابات کی تاریخ قریب آچکی ہے ،ممکن ہے جس وقت آپ یہ مضمون پڑھ رہے ہوں اس کے ایک دن بعد گجرات میں رائے شماری کا سلسلہ شروع ہوجائے ،9 اور 14 دسمبر کو دو مرحلوں میں ووٹنگ ہونی ہے جبکہ 18 دسمبر کو نتائج کا اعلان کیا جائے گا ۔گجرات کے رواں انتخابات پر پورے ہندوستان کی نظر ہے ،خاص طور پر حکمراں جماعت بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی گجرات انتخابات جس انداز سے لڑرہے ہیں اس سے پتہ چل رہاہے کہ یہ صوبائی انتخاب کے بجائے لوک سبھا کا الیکشن ہے ،عام انتخاب ہورہاہے جس کیلئے معمولی کارکنا ن سے ل

اولادکی نیک نامی میں والدین کا منفی و مثبت کردار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔از:محمد الیاس بھٹکلی ندوی 

Bhatkallys Other

تصویر کے دورخ تصویر کا پہلارخ:۔ چند سال پہلے کی بات ہے، ہمارے ایک قریبی شناسا بزرگ کا انتقال ہوا، اگرچہ عالم نہیں تھے لیکن انتہائی دینداراورتہجدگذار،نماز باجماعت اورتکبیراولی تک کے پابند،ان کے کل چھ بچے تھے، انتقال سے پہلے وہ جس اذیت ناک کرب والم میں تھے اوراپنے بچوں سے متعلق فکرمندتھے اس میں ہم سب کے لیے عبرت تھی، ان کی تین بچیوں کی شادیاں ہوگئی تھیں لیکن لڑکے ابھی غیرشادی شدہ تھے، ان میں سے چھوٹے دوان کے لیے بدنامی کاسبب بن گئے تھے اورپورے محلے اورگاؤں کے لوگ ان سے تنگ آگئے تھے ،وہ آخر تک ر

امریکہ کی دھمکی کتنی حقیقت کتنا فسانہ:۔۔۔۔۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

پاکستان اسلام اور مسلمانوں کے نام پر بنا تھا اسے بنانے والے سب کے سب وہ تھے جن کی صرف زبان پر اسلام تھا۔ ہم اس زمانہ میں بریلی میں رہتے تھے اور جس محلہ میں رہتے تھے وہ تھا تو چھوٹا مگر پورے محلہ میں مسلمان تھے اور سب کے سب پاکستان کے حامی تھے لیکن ان کا اسلام سے اتنا تعلق تھا کہ پانچوں نماز کے وقت وہ پاکستان کے حق میں بحث تو کرتے تھے لیکن چند غریبوں کے علاوہ نماز کے لئے مسجد کوئی نہیں جاتا تھا ان کی نماز جمعہ اور عیدین تک محدود تھی۔ جمعیۃ علماء کے بڑے اور چھوٹے عالم اپنی سی کوشش کرتے تھے کہ انہ

نصف صدی گزارنے والے تارکین کی واپسی ۔۔۔از: عبد الستارخان

Bhatkallys Other

آج سعودی اس قابل ہوگئے ہیں کہ اپنا ملک خود چلا سکیں تو انہیں اب غیر ملکیوں کی ضرورت نہیں رہی سعودی عرب نے جب غیرملکیوں کے مرافقین پر فیس عائد کی اور اس کا باقاعدہ اعلان ہوا اور پھر کچھ عرصے  بعد مرافقین اور تابعین کی خوش فہمیاں دور ہوگئیں اور یقین ہوگیا کہ یہ کڑوا گھونٹ ہر اس شخص کو پینا ہے جس کے ساتھ اس کی فیملی مقیم ہے ، اس وقت میں نے فیس بک پر ایک پوسٹ شیئر کی تھی جو  ایک سوال تھا کہ مرافقین پر فیس لاگو ہونے کے بعد اب آپ کیا کریں گے؟  اس پر  لوگوں نے مختلف جوابات دیئے اور سوال در سوال کا سل

بھٹکل میں سیاسی گرگٹ کے بدلتے رنگ۔۔جاری ہے اندرونی جنگ!..... از: ڈاکٹر حنیف شباب (دوسری اور آخری قسط )

Bhatkallys Other

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے...........  بات چل رہی تھی بھٹکل میں سیاسی گرگٹ کے بدلتے رنگوں کی۔جس میں خاص اور نمایاں پہلومسلم امیدوار میدان میں اتارنے کے حق میں اور موجودہ ایم ایل اے کی مخالفت میں بنایا جارہا ماحول ہے۔ سیاسی طور پر مسلم نمائندگی کو ابھارنے یا تقویت دینے کی ضرورت پر کوئی دو رائے ہوہی نہیں سکتی۔ مگر حقائق اور اعداد وشمار کی روشنی میں جو سوال کھڑے کیے جارہے ہیں اس پر کوئی بھی معقول جواب کسی کی بھی طرف سے سامنے نہیں آرہا ہے۔ یا تو کچی عمر میں اپنے آپ کو پکے سیاسی ماہر سمجھنے کی نادانی ک

گجرات کا الیکشن تاریخ بنائے گا۔۔۔۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

وزیر اعظم مودی جی نہ سوال سننے کے عادی ہیں اور نہ جواب دینے کے وہ 13 برس گجرات کے وزیر اعلیٰ رہے اس زمانہ میں اگر حزب مخالف کانگریس کے کسی لیڈر نے کوئی سوال کرلیا تو اس کا جواب ٹال گئے یا سوال کرنے والے کو جھڑک دیا۔ انہوں نے 13 برس ایسے حکومت کی ہے جیسے چین میں آزادی کے بعد ماؤزی تنگ اور چو این لائی نے کی کہ دنیا میں اس وقت ہر ملک کے سربراہ کی زبان پر ہوتا تھا کہ اگر یہ معلوم ہوجائے کہ ماؤ کے دل میں کیا ہے تو دنیا کے آدھے مسئلے حل ہوجائیں۔ شہرت تو یہ بھی ہے کہ جب تک مودی جی گجرات کے وزیر اعلیٰ

ہادیہ کے جذبۂ ایمانی کو سلام۔۔۔۔۔از: سہیل انجم

Bhatkallys Other

خلفۂ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ دائرہ اسلام میں داخل ہونے سے قبل پیغمبر اسلام محمد ﷺ کے جانی دشمن تھے۔ ایک روز ان کو بہت غصہ آیا۔ انھوں نے اللہ کے رسول کو قتل کر دینے کی ٹھان لی۔ ننگی تلوار لے کر نکل پڑے۔ راستے میں نعیم نامی ایک شخص سے ان کی ملاقات ہوئی۔ انھوں نے پوچھا کیا بات ہے بہت غصے میں ہو کہاں جا رہے ہو؟ انھوں نے کہا کہ محمد (ﷺ) نے پورے مکہ کو خلفشار میں ڈال رکھا ہے، میں آج ان کو قتل کرکے اس قصے کو ختم کر دینا چاہتا ہوں۔ نعیم نے کہا کہ وہاں جانے سے پہلے ذرا اپنی بہن کے گھر چلے جاؤ۔ ان

خبر لیجئے زباں بگڑی ۔۔۔ محض تفنن طبع ۔۔۔ تحریر : اطہر ہاشمی

Bhatkallys Other

محض تفننِ طبع - اطہرعلی ہاشمی - December 1, 2017 محمد طارق غازی ایک بڑے صحافی ہیں۔ اردو، عربی، فارسی اور انگریزی پر عبور حاصل ہے۔ انہوں نے اپنی پہچان بڑے زوروں سے منوائی ہے لیکن ان کے اجداد کا حوالہ بھی بڑا بھرپور ہے۔ علمی و ادبی خانوادے سے تعلق ہے اور ایک نہایت معتبر حوالہ حکیم الاسلام قاری محمد طیب مہتمم دارالعلوم دیوبند کا ہے جو موصوف کے نانا تھے۔ اتفاق سے قاری صاحب کی زیارت کا شرف ہمیں بھی حاصل رہا جب وہ لاہور میں جامعہ اشرفیہ کی نئی عمارت کے افتتاح پر تشریف لائے تھے۔ خود طارق غازی سے جدہ

بھٹکل میں سیاسی گرگٹ کے بدلتے رنگ۔۔جاری ہے اندرونی جنگ! (پہلی قسط )از: ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ 

Bhatkallys Other

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے...........  میں نے سابقہ مضمون میں بھٹکل میں مسلم امیدوار کے انتخابی اکھاڑے میں اتارنے کے سلسلے میں کچھ تجزیہ پیش کیاتھا اور اپنے طور پر ممکنہ کوشش کی تھی کہ اس سے ہمارے سماجی قائدین اور سیاسی امیدواروں تک کوئی ایسا سگنل جائے جس سے وہ نئی حکمت عملی اپناسکیں اور سیاسی شطرنج کی بساط پر کوئی نئی یا ترمیم شدہ چال چل سکیں۔اس کے بعد ذاتی طور پر اس مضمون پر جو بہت سارے مثبت اور حوصلہ افزاتبصرے موصو ل ہوئے ،سوشیل میڈیا کے مختلف گروپس میں جتنے منفی اور مثبت کمینٹس سامنے آئے اور ی

This madrasa in Agra has 202 Hindu students and offers Maths, English

Bhatkallys Other

Agra: The sight must be cheerful where an Islamic madrasa offers education to students belonging to other faiths and teaches them subjects of their choice. Breaking all stereotypes, Moinul Islam Madarsa Darautha offers Hindu students subjects like Mathematics, English for almost a decade. Apart from Urdu, Arabic and Farsi, subjects like English, Hindi, Mathematics, Science and Computer Science are taught in this Islamic institute, quotes India Today. The madrasa was established in 1958

گجرات میں چار لڑکے مودی کیلئے مسئلہ۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

گجرات کے الیکشن کے بارے میں خبروں سے ہٹ کر جو تبصرے ہورہے ہیں انہوں نے وزیر اعظم کی نیند اُڑادی ہے۔ ہم جب الیکشن کے میدان میں رہے ہم سے زیادہ صحیح اندازہ دوسرا نہیں کرپاتا تھا۔ آج ہم جب سفر کے قابل ہی نہیں تو اندازہ کیا ظاہر کریں۔ ایک بات جو ہم نے ہمیشہ محسوس کی وہ یہ تھی کہ اگر مقابلہ غریب اور امیر کا ہو کمزور اور بااثر کا ہو تو عام آدمی کی حمایت حاصل کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ اور جو بااثر ہوتے ہیں وہ غرور میں بھول جاتے ہیں کہ ووٹ ایک آدمی کا ایک ہی ہوتا ہے۔ 1963 ء میں وہ الیکشن تاریخ ساز تھا جس می

ہندوستان کا میڈیا اتنا ڈرپوک کیسے ہوگیا ۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

یہ بات ہفتوں سے تذکرہ میں تھی کہ 20 نومبر کو پورے ملک کے کسان جو اپنے اپنے صوبہ سے پیدل آرہے ہیں وہ دہلی میں جمع ہوں گے اور حکومت سے جواب طلب کریں گے کہ 2014 ء اور اس کے بعد ہر صوبائی الیکشن کے موقع پر جو کسانوں سے وعدے کئے گئے تھے وہ کیا ہوئے؟ اور کیوں آج بھی کسان خودکشی کررہے ہیں؟ ہندوستان کا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پوری طرح سے حکومت کا غلام بن چکا ہے چار مہینے کی جدوجہد کے بعد جو پورے ملک کے ہزاروں کسان اپنے پروگرام کے مطابق 20 نومبر کو رام لیلا میدان پہونچ گئے تب بھی پورے دن ہم نے ہر چینل