Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors
Abdul Haleem Mansoor
Abdul Majid Daryabadi
Abdul Mateen Muniri
Abdur Raqeeb M.J Nadwi
Ahmed Hatib Siddiqui
Asif Jilani
Athar Hashmi
Bhatkallys
Dr Badrul Hasan Qasmi
Dr Haneef Shabab
Dr. F Abdur Rahim
Dr. Tahir Masud
Hafiz Naumani
Kaldip Nayar
Masoom Muradabadi
Masud Ahmed Barkati
Mohammed Mateen Khalid
Muhammed Furqan
Nizamuddin Nadwi
Riyazur Rahman Akrami Nadwi
Suhail Anjum
مسعود احمد برکاتی ایک بامقصد زندگی کا استعارہ... تحریر : ڈاکٹر طاہر مسعود
مسعود احمد برکاتی نے جنہیں بالعموم اُن کے رفقا ’’برکاتی صاحب‘‘ کہا کرتے تھے، اس دنیائے رنگ و بو سے آخر آخر کو اپنا منہ موڑ لیا اور ربِّ حقیقی سے جا ملے۔ وہ بہت عرصے سے بیمار تھے اور دفتر وغیرہ بھی پابندیٔ اوقات سے جانے کی جو ساری عمر عادت رہی، اس سے بھی مستغنی کردیے گئے تھے۔ ان کا شمار بلاشبہ اُن شخصیات میں کیا جاسکتا ہے جنہیں ’’محسنِ قوم‘‘ کا لقب دیا جائے تو ہر طرح بجا ہوگا، اس لیے کہ انھوں نے ہمدرد فائونڈیشن کے رسالے ’’ہمدرد نونہال‘‘ کے ذریعے نصف صدی سے بھی زیادہ عرصے تک کم از کم پانچ نسلوں کی
Anti-Muslim violence takes new turn; likes of Shambhu Lal are ‘manufactured’ in saffron lab
A wave of apprehensions prevails among minorities following the brutal killing of Afrazul Islam in Rajasthan. A question which is haunting the minds of all, especially minorities is, does Indian democracy have no place for minorities especially Muslims? Anti-Muslim riots and violence are not new to India but today they have taken a new turn. The situation has become so worse that the culprits are feeling proud of themselves after carrying out such barbarism. They feel that it is their obligation
محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی۔۔۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی
کالجوں کے ہاسٹل اور جیلوں کی حوالات میں تھوڑا سا فرق ہوتا ہے۔ ہاسٹل سے ہر دن لڑکے باہر جاسکتے ہیں اور دن میں کئی بار جاسکتے ہیں لیکن جیل میں جب آگئے تو یا تو عدالت کے طلب کرنے پر باہر جاسکتے ہیں یا رِہا ہونے کے بعد۔ کیرالہ کے ایک گاؤں کی رہنے والی (آکھلا) نام کی ایک لڑکی جو پانچ سال کے غور و فکر کے بعد مسلمان ہوئی اور اس نے اپنا نام ہادیہ رکھا اس کی کہانی بھی ایک ہاسٹل سے شروع ہوتی ہے۔ وہ تمل ناڈو کے ایک ہومیو پیتھک کالج کے ہاسٹل میں ایک سال رہنے کے بعد ایک کرایہ کے کمرہ میں رہنے لگی جس میں دو م
پچیس سال پہلے کی وہ سرد راتیں اور جیل یاترا (پہلی قسط)۔۔۔۔۔از: ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے........... جب بھی دسمبر کے مہینے میں رات دیر گئے تک کچھ علمی و ادبی کام ختم کرکے میں گھر کے لیے نکلتا ہوں اور شدید سردی کا عالم ہوتا ہے ۔تو یادوں کے جھروکے میں دودہائیوں قبل کی ایسی ہی رگوں کو کاٹتی ٹھنڈاور برفانی راتیں در آتی ہیں، اور اس کے ساتھ ہی لہو لہو موسم کے چند کرب انگیز مناظر ابھرنے لگتے ہیں، جو رات بھر کے اضطراب اور کشمکش کا سبب بن جاتے ہیں۔ ایسا بھی نہیں کہ یہ کرب اور اضطراب پورے سال میں صرف دسمبر کے مہینے میں پیدا ہوتا ہے، بلکہ 93 مسلم کش فسادات کے دوران ہما
خبرلیجئے زباں بگڑی ۔۔۔ شُکیب‘ شَکیب یا شِکیب۔۔۔ تحریر: اطہر ہاشمی
ایک بہت بزرگ اور عالم شخصیت نے ایک محفل میں بتایا کہ شکیب میں شین پر پیش ہے یعنی شُکیب۔ ہم تو اب تک اسے بالفتح (شین پر زبر کے ساتھ) پڑھتے رہے لیکن شُکیب پہلی بار سنا تو تجسس پیدا ہوا، جسے دور کرنے کے لیے لغات کا جائزہ لیا۔ لغت کے مطابق شین پر پیش ہے نہ زبر بلکہ زیر (بالکسر) ہے یعنی شِکیب۔ فارسی کا لفظ اور مذکر ہے۔ مطلب ہے صبر، تحمل، بردباری۔ اسی سے شکیبائی ہے لیکن یہ مونث ہے۔ داغؔ کا شعر ہے: ضعف نے ایسا بٹھایا اس کی بزمِ ناز میں میں نے یہ جانا مجھے حاصل شِکیبائی ہوئی گزشتہ دنوں ایک صاحبِ علم
Jashn-e-Rekhta shows Urdu is not only alive but rocking
New Delhi: Jashn-e-Rekhta began with much fanfare on Friday, at Major Dhyan Chand Stadium close to India Gate. The fourth edition of Jashn-e-Rekhta festival, a celebration of Urdu in the capital shows that a language that was nearly declared dead has come back from the brink. The fourth edition of Jashn-e-Rekhta saw a bunch of singers, orators and storytellers. They enthralled the audience with Urdu poetry, banter, ghazal and qawwali. There are four bazms, Mahfil-e-Khana, Bazm-e-Khayal, Da
گجرات نے جنگ آزادی کی قیادت کی ہے ،فرقہ پرست طاقتوں کو آگے بڑھنا سے روکنا بھی اس کی اہم ذمہ داری......... نقطہ نظر :ڈاکٹر منظور عالم
گجرات انتخابات کی تاریخ قریب آچکی ہے ،ممکن ہے جس وقت آپ یہ مضمون پڑھ رہے ہوں اس کے ایک دن بعد گجرات میں رائے شماری کا سلسلہ شروع ہوجائے ،9 اور 14 دسمبر کو دو مرحلوں میں ووٹنگ ہونی ہے جبکہ 18 دسمبر کو نتائج کا اعلان کیا جائے گا ۔گجرات کے رواں انتخابات پر پورے ہندوستان کی نظر ہے ،خاص طور پر حکمراں جماعت بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی گجرات انتخابات جس انداز سے لڑرہے ہیں اس سے پتہ چل رہاہے کہ یہ صوبائی انتخاب کے بجائے لوک سبھا کا الیکشن ہے ،عام انتخاب ہورہاہے جس کیلئے معمولی کارکنا ن سے ل
اولادکی نیک نامی میں والدین کا منفی و مثبت کردار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔از:محمد الیاس بھٹکلی ندوی
تصویر کے دورخ تصویر کا پہلارخ:۔ چند سال پہلے کی بات ہے، ہمارے ایک قریبی شناسا بزرگ کا انتقال ہوا، اگرچہ عالم نہیں تھے لیکن انتہائی دینداراورتہجدگذار،نماز باجماعت اورتکبیراولی تک کے پابند،ان کے کل چھ بچے تھے، انتقال سے پہلے وہ جس اذیت ناک کرب والم میں تھے اوراپنے بچوں سے متعلق فکرمندتھے اس میں ہم سب کے لیے عبرت تھی، ان کی تین بچیوں کی شادیاں ہوگئی تھیں لیکن لڑکے ابھی غیرشادی شدہ تھے، ان میں سے چھوٹے دوان کے لیے بدنامی کاسبب بن گئے تھے اورپورے محلے اورگاؤں کے لوگ ان سے تنگ آگئے تھے ،وہ آخر تک ر
امریکہ کی دھمکی کتنی حقیقت کتنا فسانہ:۔۔۔۔۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی
پاکستان اسلام اور مسلمانوں کے نام پر بنا تھا اسے بنانے والے سب کے سب وہ تھے جن کی صرف زبان پر اسلام تھا۔ ہم اس زمانہ میں بریلی میں رہتے تھے اور جس محلہ میں رہتے تھے وہ تھا تو چھوٹا مگر پورے محلہ میں مسلمان تھے اور سب کے سب پاکستان کے حامی تھے لیکن ان کا اسلام سے اتنا تعلق تھا کہ پانچوں نماز کے وقت وہ پاکستان کے حق میں بحث تو کرتے تھے لیکن چند غریبوں کے علاوہ نماز کے لئے مسجد کوئی نہیں جاتا تھا ان کی نماز جمعہ اور عیدین تک محدود تھی۔ جمعیۃ علماء کے بڑے اور چھوٹے عالم اپنی سی کوشش کرتے تھے کہ انہ
نصف صدی گزارنے والے تارکین کی واپسی ۔۔۔از: عبد الستارخان
آج سعودی اس قابل ہوگئے ہیں کہ اپنا ملک خود چلا سکیں تو انہیں اب غیر ملکیوں کی ضرورت نہیں رہی سعودی عرب نے جب غیرملکیوں کے مرافقین پر فیس عائد کی اور اس کا باقاعدہ اعلان ہوا اور پھر کچھ عرصے بعد مرافقین اور تابعین کی خوش فہمیاں دور ہوگئیں اور یقین ہوگیا کہ یہ کڑوا گھونٹ ہر اس شخص کو پینا ہے جس کے ساتھ اس کی فیملی مقیم ہے ، اس وقت میں نے فیس بک پر ایک پوسٹ شیئر کی تھی جو ایک سوال تھا کہ مرافقین پر فیس لاگو ہونے کے بعد اب آپ کیا کریں گے؟ اس پر لوگوں نے مختلف جوابات دیئے اور سوال در سوال کا سل
بھٹکل میں سیاسی گرگٹ کے بدلتے رنگ۔۔جاری ہے اندرونی جنگ!..... از: ڈاکٹر حنیف شباب (دوسری اور آخری قسط )
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے........... بات چل رہی تھی بھٹکل میں سیاسی گرگٹ کے بدلتے رنگوں کی۔جس میں خاص اور نمایاں پہلومسلم امیدوار میدان میں اتارنے کے حق میں اور موجودہ ایم ایل اے کی مخالفت میں بنایا جارہا ماحول ہے۔ سیاسی طور پر مسلم نمائندگی کو ابھارنے یا تقویت دینے کی ضرورت پر کوئی دو رائے ہوہی نہیں سکتی۔ مگر حقائق اور اعداد وشمار کی روشنی میں جو سوال کھڑے کیے جارہے ہیں اس پر کوئی بھی معقول جواب کسی کی بھی طرف سے سامنے نہیں آرہا ہے۔ یا تو کچی عمر میں اپنے آپ کو پکے سیاسی ماہر سمجھنے کی نادانی ک
گجرات کا الیکشن تاریخ بنائے گا۔۔۔۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی
وزیر اعظم مودی جی نہ سوال سننے کے عادی ہیں اور نہ جواب دینے کے وہ 13 برس گجرات کے وزیر اعلیٰ رہے اس زمانہ میں اگر حزب مخالف کانگریس کے کسی لیڈر نے کوئی سوال کرلیا تو اس کا جواب ٹال گئے یا سوال کرنے والے کو جھڑک دیا۔ انہوں نے 13 برس ایسے حکومت کی ہے جیسے چین میں آزادی کے بعد ماؤزی تنگ اور چو این لائی نے کی کہ دنیا میں اس وقت ہر ملک کے سربراہ کی زبان پر ہوتا تھا کہ اگر یہ معلوم ہوجائے کہ ماؤ کے دل میں کیا ہے تو دنیا کے آدھے مسئلے حل ہوجائیں۔ شہرت تو یہ بھی ہے کہ جب تک مودی جی گجرات کے وزیر اعلیٰ
ہادیہ کے جذبۂ ایمانی کو سلام۔۔۔۔۔از: سہیل انجم
خلفۂ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ دائرہ اسلام میں داخل ہونے سے قبل پیغمبر اسلام محمد ﷺ کے جانی دشمن تھے۔ ایک روز ان کو بہت غصہ آیا۔ انھوں نے اللہ کے رسول کو قتل کر دینے کی ٹھان لی۔ ننگی تلوار لے کر نکل پڑے۔ راستے میں نعیم نامی ایک شخص سے ان کی ملاقات ہوئی۔ انھوں نے پوچھا کیا بات ہے بہت غصے میں ہو کہاں جا رہے ہو؟ انھوں نے کہا کہ محمد (ﷺ) نے پورے مکہ کو خلفشار میں ڈال رکھا ہے، میں آج ان کو قتل کرکے اس قصے کو ختم کر دینا چاہتا ہوں۔ نعیم نے کہا کہ وہاں جانے سے پہلے ذرا اپنی بہن کے گھر چلے جاؤ۔ ان
خبر لیجئے زباں بگڑی ۔۔۔ محض تفنن طبع ۔۔۔ تحریر : اطہر ہاشمی
محض تفننِ طبع - اطہرعلی ہاشمی - December 1, 2017 محمد طارق غازی ایک بڑے صحافی ہیں۔ اردو، عربی، فارسی اور انگریزی پر عبور حاصل ہے۔ انہوں نے اپنی پہچان بڑے زوروں سے منوائی ہے لیکن ان کے اجداد کا حوالہ بھی بڑا بھرپور ہے۔ علمی و ادبی خانوادے سے تعلق ہے اور ایک نہایت معتبر حوالہ حکیم الاسلام قاری محمد طیب مہتمم دارالعلوم دیوبند کا ہے جو موصوف کے نانا تھے۔ اتفاق سے قاری صاحب کی زیارت کا شرف ہمیں بھی حاصل رہا جب وہ لاہور میں جامعہ اشرفیہ کی نئی عمارت کے افتتاح پر تشریف لائے تھے۔ خود طارق غازی سے جدہ
بھٹکل میں سیاسی گرگٹ کے بدلتے رنگ۔۔جاری ہے اندرونی جنگ! (پہلی قسط )از: ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے........... میں نے سابقہ مضمون میں بھٹکل میں مسلم امیدوار کے انتخابی اکھاڑے میں اتارنے کے سلسلے میں کچھ تجزیہ پیش کیاتھا اور اپنے طور پر ممکنہ کوشش کی تھی کہ اس سے ہمارے سماجی قائدین اور سیاسی امیدواروں تک کوئی ایسا سگنل جائے جس سے وہ نئی حکمت عملی اپناسکیں اور سیاسی شطرنج کی بساط پر کوئی نئی یا ترمیم شدہ چال چل سکیں۔اس کے بعد ذاتی طور پر اس مضمون پر جو بہت سارے مثبت اور حوصلہ افزاتبصرے موصو ل ہوئے ،سوشیل میڈیا کے مختلف گروپس میں جتنے منفی اور مثبت کمینٹس سامنے آئے اور ی
This madrasa in Agra has 202 Hindu students and offers Maths, English
Agra: The sight must be cheerful where an Islamic madrasa offers education to students belonging to other faiths and teaches them subjects of their choice. Breaking all stereotypes, Moinul Islam Madarsa Darautha offers Hindu students subjects like Mathematics, English for almost a decade. Apart from Urdu, Arabic and Farsi, subjects like English, Hindi, Mathematics, Science and Computer Science are taught in this Islamic institute, quotes India Today. The madrasa was established in 1958
گجرات میں چار لڑکے مودی کیلئے مسئلہ۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی
گجرات کے الیکشن کے بارے میں خبروں سے ہٹ کر جو تبصرے ہورہے ہیں انہوں نے وزیر اعظم کی نیند اُڑادی ہے۔ ہم جب الیکشن کے میدان میں رہے ہم سے زیادہ صحیح اندازہ دوسرا نہیں کرپاتا تھا۔ آج ہم جب سفر کے قابل ہی نہیں تو اندازہ کیا ظاہر کریں۔ ایک بات جو ہم نے ہمیشہ محسوس کی وہ یہ تھی کہ اگر مقابلہ غریب اور امیر کا ہو کمزور اور بااثر کا ہو تو عام آدمی کی حمایت حاصل کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ اور جو بااثر ہوتے ہیں وہ غرور میں بھول جاتے ہیں کہ ووٹ ایک آدمی کا ایک ہی ہوتا ہے۔ 1963 ء میں وہ الیکشن تاریخ ساز تھا جس می
ہندوستان کا میڈیا اتنا ڈرپوک کیسے ہوگیا ۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی
یہ بات ہفتوں سے تذکرہ میں تھی کہ 20 نومبر کو پورے ملک کے کسان جو اپنے اپنے صوبہ سے پیدل آرہے ہیں وہ دہلی میں جمع ہوں گے اور حکومت سے جواب طلب کریں گے کہ 2014 ء اور اس کے بعد ہر صوبائی الیکشن کے موقع پر جو کسانوں سے وعدے کئے گئے تھے وہ کیا ہوئے؟ اور کیوں آج بھی کسان خودکشی کررہے ہیں؟ ہندوستان کا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پوری طرح سے حکومت کا غلام بن چکا ہے چار مہینے کی جدوجہد کے بعد جو پورے ملک کے ہزاروں کسان اپنے پروگرام کے مطابق 20 نومبر کو رام لیلا میدان پہونچ گئے تب بھی پورے دن ہم نے ہر چینل