Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors
Abdul Haleem Mansoor
Abdul Majid Daryabadi
Abdul Mateen Muniri
Abdur Raqeeb M.J Nadwi
Ahmed Hatib Siddiqui
Asif Jilani
Athar Hashmi
Bhatkallys
Dr Badrul Hasan Qasmi
Dr Haneef Shabab
Dr. F Abdur Rahim
Dr. Tahir Masud
Hafiz Naumani
Kaldip Nayar
Masoom Muradabadi
Masud Ahmed Barkati
Mohammed Mateen Khalid
Nizamuddin Nadwi
Riyazur Rahman Akrami Nadwi
Suhail Anjum
امریکہ کی دھمکی کتنی حقیقت کتنا فسانہ:۔۔۔۔۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی
پاکستان اسلام اور مسلمانوں کے نام پر بنا تھا اسے بنانے والے سب کے سب وہ تھے جن کی صرف زبان پر اسلام تھا۔ ہم اس زمانہ میں بریلی میں رہتے تھے اور جس محلہ میں رہتے تھے وہ تھا تو چھوٹا مگر پورے محلہ میں مسلمان تھے اور سب کے سب پاکستان کے حامی تھے لیکن ان کا اسلام سے اتنا تعلق تھا کہ پانچوں نماز کے وقت وہ پاکستان کے حق میں بحث تو کرتے تھے لیکن چند غریبوں کے علاوہ نماز کے لئے مسجد کوئی نہیں جاتا تھا ان کی نماز جمعہ اور عیدین تک محدود تھی۔ جمعیۃ علماء کے بڑے اور چھوٹے عالم اپنی سی کوشش کرتے تھے کہ انہ
نصف صدی گزارنے والے تارکین کی واپسی ۔۔۔از: عبد الستارخان
آج سعودی اس قابل ہوگئے ہیں کہ اپنا ملک خود چلا سکیں تو انہیں اب غیر ملکیوں کی ضرورت نہیں رہی سعودی عرب نے جب غیرملکیوں کے مرافقین پر فیس عائد کی اور اس کا باقاعدہ اعلان ہوا اور پھر کچھ عرصے بعد مرافقین اور تابعین کی خوش فہمیاں دور ہوگئیں اور یقین ہوگیا کہ یہ کڑوا گھونٹ ہر اس شخص کو پینا ہے جس کے ساتھ اس کی فیملی مقیم ہے ، اس وقت میں نے فیس بک پر ایک پوسٹ شیئر کی تھی جو ایک سوال تھا کہ مرافقین پر فیس لاگو ہونے کے بعد اب آپ کیا کریں گے؟ اس پر لوگوں نے مختلف جوابات دیئے اور سوال در سوال کا سل
بھٹکل میں سیاسی گرگٹ کے بدلتے رنگ۔۔جاری ہے اندرونی جنگ!..... از: ڈاکٹر حنیف شباب (دوسری اور آخری قسط )
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے........... بات چل رہی تھی بھٹکل میں سیاسی گرگٹ کے بدلتے رنگوں کی۔جس میں خاص اور نمایاں پہلومسلم امیدوار میدان میں اتارنے کے حق میں اور موجودہ ایم ایل اے کی مخالفت میں بنایا جارہا ماحول ہے۔ سیاسی طور پر مسلم نمائندگی کو ابھارنے یا تقویت دینے کی ضرورت پر کوئی دو رائے ہوہی نہیں سکتی۔ مگر حقائق اور اعداد وشمار کی روشنی میں جو سوال کھڑے کیے جارہے ہیں اس پر کوئی بھی معقول جواب کسی کی بھی طرف سے سامنے نہیں آرہا ہے۔ یا تو کچی عمر میں اپنے آپ کو پکے سیاسی ماہر سمجھنے کی نادانی ک
گجرات کا الیکشن تاریخ بنائے گا۔۔۔۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی
وزیر اعظم مودی جی نہ سوال سننے کے عادی ہیں اور نہ جواب دینے کے وہ 13 برس گجرات کے وزیر اعلیٰ رہے اس زمانہ میں اگر حزب مخالف کانگریس کے کسی لیڈر نے کوئی سوال کرلیا تو اس کا جواب ٹال گئے یا سوال کرنے والے کو جھڑک دیا۔ انہوں نے 13 برس ایسے حکومت کی ہے جیسے چین میں آزادی کے بعد ماؤزی تنگ اور چو این لائی نے کی کہ دنیا میں اس وقت ہر ملک کے سربراہ کی زبان پر ہوتا تھا کہ اگر یہ معلوم ہوجائے کہ ماؤ کے دل میں کیا ہے تو دنیا کے آدھے مسئلے حل ہوجائیں۔ شہرت تو یہ بھی ہے کہ جب تک مودی جی گجرات کے وزیر اعلیٰ
ہادیہ کے جذبۂ ایمانی کو سلام۔۔۔۔۔از: سہیل انجم
خلفۂ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ دائرہ اسلام میں داخل ہونے سے قبل پیغمبر اسلام محمد ﷺ کے جانی دشمن تھے۔ ایک روز ان کو بہت غصہ آیا۔ انھوں نے اللہ کے رسول کو قتل کر دینے کی ٹھان لی۔ ننگی تلوار لے کر نکل پڑے۔ راستے میں نعیم نامی ایک شخص سے ان کی ملاقات ہوئی۔ انھوں نے پوچھا کیا بات ہے بہت غصے میں ہو کہاں جا رہے ہو؟ انھوں نے کہا کہ محمد (ﷺ) نے پورے مکہ کو خلفشار میں ڈال رکھا ہے، میں آج ان کو قتل کرکے اس قصے کو ختم کر دینا چاہتا ہوں۔ نعیم نے کہا کہ وہاں جانے سے پہلے ذرا اپنی بہن کے گھر چلے جاؤ۔ ان
خبر لیجئے زباں بگڑی ۔۔۔ محض تفنن طبع ۔۔۔ تحریر : اطہر ہاشمی
محض تفننِ طبع - اطہرعلی ہاشمی - December 1, 2017 محمد طارق غازی ایک بڑے صحافی ہیں۔ اردو، عربی، فارسی اور انگریزی پر عبور حاصل ہے۔ انہوں نے اپنی پہچان بڑے زوروں سے منوائی ہے لیکن ان کے اجداد کا حوالہ بھی بڑا بھرپور ہے۔ علمی و ادبی خانوادے سے تعلق ہے اور ایک نہایت معتبر حوالہ حکیم الاسلام قاری محمد طیب مہتمم دارالعلوم دیوبند کا ہے جو موصوف کے نانا تھے۔ اتفاق سے قاری صاحب کی زیارت کا شرف ہمیں بھی حاصل رہا جب وہ لاہور میں جامعہ اشرفیہ کی نئی عمارت کے افتتاح پر تشریف لائے تھے۔ خود طارق غازی سے جدہ
بھٹکل میں سیاسی گرگٹ کے بدلتے رنگ۔۔جاری ہے اندرونی جنگ! (پہلی قسط )از: ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے........... میں نے سابقہ مضمون میں بھٹکل میں مسلم امیدوار کے انتخابی اکھاڑے میں اتارنے کے سلسلے میں کچھ تجزیہ پیش کیاتھا اور اپنے طور پر ممکنہ کوشش کی تھی کہ اس سے ہمارے سماجی قائدین اور سیاسی امیدواروں تک کوئی ایسا سگنل جائے جس سے وہ نئی حکمت عملی اپناسکیں اور سیاسی شطرنج کی بساط پر کوئی نئی یا ترمیم شدہ چال چل سکیں۔اس کے بعد ذاتی طور پر اس مضمون پر جو بہت سارے مثبت اور حوصلہ افزاتبصرے موصو ل ہوئے ،سوشیل میڈیا کے مختلف گروپس میں جتنے منفی اور مثبت کمینٹس سامنے آئے اور ی
This madrasa in Agra has 202 Hindu students and offers Maths, English
Agra: The sight must be cheerful where an Islamic madrasa offers education to students belonging to other faiths and teaches them subjects of their choice. Breaking all stereotypes, Moinul Islam Madarsa Darautha offers Hindu students subjects like Mathematics, English for almost a decade. Apart from Urdu, Arabic and Farsi, subjects like English, Hindi, Mathematics, Science and Computer Science are taught in this Islamic institute, quotes India Today. The madrasa was established in 1958
گجرات میں چار لڑکے مودی کیلئے مسئلہ۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی
گجرات کے الیکشن کے بارے میں خبروں سے ہٹ کر جو تبصرے ہورہے ہیں انہوں نے وزیر اعظم کی نیند اُڑادی ہے۔ ہم جب الیکشن کے میدان میں رہے ہم سے زیادہ صحیح اندازہ دوسرا نہیں کرپاتا تھا۔ آج ہم جب سفر کے قابل ہی نہیں تو اندازہ کیا ظاہر کریں۔ ایک بات جو ہم نے ہمیشہ محسوس کی وہ یہ تھی کہ اگر مقابلہ غریب اور امیر کا ہو کمزور اور بااثر کا ہو تو عام آدمی کی حمایت حاصل کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ اور جو بااثر ہوتے ہیں وہ غرور میں بھول جاتے ہیں کہ ووٹ ایک آدمی کا ایک ہی ہوتا ہے۔ 1963 ء میں وہ الیکشن تاریخ ساز تھا جس می
ہندوستان کا میڈیا اتنا ڈرپوک کیسے ہوگیا ۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی
یہ بات ہفتوں سے تذکرہ میں تھی کہ 20 نومبر کو پورے ملک کے کسان جو اپنے اپنے صوبہ سے پیدل آرہے ہیں وہ دہلی میں جمع ہوں گے اور حکومت سے جواب طلب کریں گے کہ 2014 ء اور اس کے بعد ہر صوبائی الیکشن کے موقع پر جو کسانوں سے وعدے کئے گئے تھے وہ کیا ہوئے؟ اور کیوں آج بھی کسان خودکشی کررہے ہیں؟ ہندوستان کا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پوری طرح سے حکومت کا غلام بن چکا ہے چار مہینے کی جدوجہد کے بعد جو پورے ملک کے ہزاروں کسان اپنے پروگرام کے مطابق 20 نومبر کو رام لیلا میدان پہونچ گئے تب بھی پورے دن ہم نے ہر چینل
Drug addict to a practicing Muslim- How an ex-bikie gave up crime
Brisbane: A jail is a punishment for a person committing crimes, but for Robbie it had turned out to be a place where he got Hidayah and accept Islam. Deep into the story, 5 years ago Robbie converted to Islam in jail while he had friendship with Imam Uzair – who runs Brisbane’s Holland Park Mosque. Unlike a typical muslim, Robbie’s external appearance shows his tattoos designs on his body and on shaven head. Robbie says that, one can find good practicing muslims in a mosque. On SBS’s T
حفیظ نعمانی نے اپنی زندگی بھی تاریخ میں درج کرادی ۔ مسلم یونیورسٹی نمبر ۔۔۔ تحریر : ندیم صدیقی
اُنیس سَو پینسٹھ کئی حوالے سے لوگوں کے ذہن میں ہونا چاہیے۔ ایک تو اسی سال ہند ۔پاک جنگ ہوئی تھی دوسری اہم بات یہ بھی کہ کانگریسی حکومت کے وزیر اعظم لعل بہادرشاستری کے کابینی وزیر تعلیم محمد علی کریم چھاگلہ نے شوشہ چھوڑا کہ ’’اگر میں وزیر تعلیم رہ گیا تو مسلم یونیورسٹی کا وائس چانسلر کسی غیر مسلم کو مقرر کر کے دِکھادوں گا۔‘‘ بات صرف اتنی ہی ہوتی تو شاید اس پر زیادہ توجہ نہ دی جاتی مگر چھاگلہ نے یہ بھی کہا تھا کہ ’’علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے نام سے لفظ ’ مسلم ‘ نکالنے کیلئے پارلیمنٹ میں بل(بھی) پ
‘Blood money’ arranged by a Muslim saved Arjunan from death
Malappuram: Sayed Munawwarali Shihab Thangal, younger son of former Indian Union Muslim League chief Sayed Mohammedali Shihab Thangal, saved two families by helping in arranging ‘Blood money’. Going deep into the story, Arjunan Athimuthu, 45, a construction worker from Thanjavur district in Tamil Nadu, is convicted of killing fellow worker Abdul Wajid, a labourer from Kerala’s Malappuram district. The incident happened in September 2013. Both of them were working in Kuwait. Arjunan was giv
تبصرہ کتب --- فکر سیاسی کی تشکیل جدید+رہنمائے تربیت ۔۔۔۔ تحریر : ملک نواز احمد اعوان
نام کتاب:فکرِ سیاسی کی تشکیلِ جدید سید احمد خان اور اقبال مصنف:ڈاکٹر معین الدین عقیل صفحات:96 قیمت 180 روپے ناشر:محمد سعید اللہ صدیق۔ مکتبہ تعمیر انسانیت اردو بازار لاہور ڈاکٹر معین الدین عقیل انتھک محنت اور تحقیق کے عادی استاد اور دانشور ہیں جن کی خصوصی دلچسپی برصغیر کی تاریخ ہے، اور اس میں مسلمانوں کے مقام اور حالات کا خصوصی مطالعہ ہے۔ انہوں نے اس مختصر کتاب میں سرسید اور علامہ اقبال کے افکار کا جائزہ لیا ہے۔ ڈاکٹر معین الدین عقیل تحریر فرماتے ہیں: ’’جنوبی ایشیا کے مسلمانوں نے اس خطے م
خبر لیجئے زباں بگڑی ۔۔۔ یہ ہراسگی ہراساں کررہی ہے ۔۔۔ تحریر : اطہر ہاشمی
حیدرآباد (سندھ) سے ایک صاحب فرحت سعیدی نے صحیح پکڑ کی ہے کہ گزشتہ کالم میں آپ نے کمالی صاحب کو اہلِ علم اور اہلِ قلم لکھا ہے۔ شاید یہ سہواً ہوا ہے۔ آپ کو صاحبِ علم اور صاحبِ قلم لکھنا چاہیے تھا۔ بہت درست ہے اور توجہ دلانے کا شکریہ۔ ’اہلیان‘ پر تنقید کرتے ہوئے ہم خود یہ لکھ چکے ہیں کہ اہل جمع کے لیے مخصوص ہے اور اہلیان غلط ہے، لیکن اس کا استعمال عام ہے جیسے اہلیانِ کراچی، اہلیانِ حیدرآباد، اہلیانِ جدہ وغیرہ۔ اس کی جگہ اہل کافی ہے۔ چنانچہ ’اہلِ علم‘ بھی اگر کسی فردِ واحد کے لیے استعمال کیا جائے تو
اجلاس کا تقاضہ اس سے کیا جائے جو اس کی اہمیت سمجھتا ہو ۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی
نومبر ختم ہونے کو ہے یعنی اس سال کا بس ایک مہینہ باقی ہے اور پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کا حکومت کے کسی وزیر کی زبان پر بھی ذکر نہیں ہے۔ حزب مخالف کے لیڈر غلام نبی آزاد اور آنند شرما نے پریس کانفرنس میں کہا کہ وزیر اعظم انتخابی مشین بن کر رہ گئے ہیں۔ وہ صرف یہ سوچتے رہتے ہیں کہ اگلی ریلی میں کیا کہنا ہے اور یہ دیکھتے رہتے ہیں کہ پہلے جو کہا تھا اس سے ووٹروں پر کتنا اثر ہوا؟ اب یہ بات زبانوں پر آرہی ہے کہ پارلیمنٹ میں جتنا کم کام اور جتنے کم دن اجلاس اس سال ہوا ہے اتنا تاریخ میں کبھی نہیں ہوا۔ ملک
نومبر 23:-؛ اردو کے نامور افسانہ نگار کرشن چندر کا یوم پیدائش ہے
از: ابوالحسن علی بھٹکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کرشن چندر اردو کے نامور افسانہ نگار تھے۔ ان کی پیدائش 23 نومبر 1914ء کو وزیر آباد، ضلع گجرانوالہ، پنجاب میں ہوئی تھی۔ ان کے والد گوری شنکر چوپڑا میڈیکل افسر تھے ۔ کرشن چندر کی تعلیم کا آغاز اردو اور فارسی سے ہوا تھا۔ اس وجہ سے اردو پر ان کی گرفت کافی اچھی تھی۔ انہوں نے 1929ء میں ہائی اسکول کی تعلیم مکمل کی۔ اس کےبعد 1935ء میں انگریزی سے ایم ۔اے۔ کیا۔ بعد ازاں انہوں نے قانون کی پڑھائی بھی کی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لاہور سے مح
نومبر 23: کو معروف اور اپنے دوہوں کے لیے مشہور شاعر جمیل الدین عالی کی تیسری برسی ہے
از: ابوالحسن علی بھٹکلی ------------------------------------------------------------- نوابزادہ مرزا جمیل الدین عالی، ہزہائی نس نواب سر امیر الدین احمد خان فرخ مرزا آف لوہارو کے ساتویں صاحبزادے ہیں۔ 20 جنوری 1925ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ کا نام سیّدہ جمیلہ بیگم تھا۔ جو نواب سر امیر الدین کی چوتھی بیوی اور اور سیّد خواجہ میر درد کی پڑپوتی تھیں۔ بارہ سال کی عمر میں عالی اپنے والد کے سایۂ شفقت سے محروم ہو گئے۔[2] 1940ء میں اینگلوعربک اسکول دریا گنج دہلی سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔[2] 19