Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors
Abdul Haleem Mansoor
Abdul Majid Daryabadi
Abdul Mateen Muniri
Abdur Raqeeb M.J Nadwi
Ahmed Hatib Siddiqui
Asif Jilani
Athar Hashmi
Bhatkallys
Dr Badrul Hasan Qasmi
Dr Haneef Shabab
Dr. F Abdur Rahim
Dr. Tahir Masud
Hafiz Naumani
Kaldip Nayar
Masoom Muradabadi
Masud Ahmed Barkati
Mohammed Mateen Khalid
Muhammed Furqan
Nizamuddin Nadwi
Riyazur Rahman Akrami Nadwi
Suhail Anjum
آب بیتی الحاج محی الدین منیری علیہ الرحمۃ ۔08- شیخ التبلیغ ،مولانا محمد الیاس کاندھلوی کی خدمت میں
بقلم : عبد المتین منیری ۔ بھٹکل M : 00971555636151 علی گڑھ جانے کے لئے کانپور اسٹیشن پر گاڑی بدلنی پڑتی تھی ، ابھی ہم اسٹیشن ہی پر تھے کہ ایک طرف مولانا علی میاں سات آٹھ علماء کے ساتھ نظر آئے ، مولانا سے سرسری سا تعارف پہلے سے تھا، وہ جانتے تھے کہ میں بھٹکل سے ہوں اور مولانا خواجہ بہاؤ الدین اکرمی سے میری رشتہ داری ہے، مولانا خواجہ صاحب ندوہ میں ایک دو سال ان کے شریک درس رہے تھے۔ جب میں نے مولانا کو سلام کیا تو پوچھا کہاں جارہے ہو منیری صاحب؟ میں انہیں علی گڑھ امتحان کے ارادہ س
آب بیتی الحاج محی الدین منیری علیہ الرحمۃ -07-ادارہ تعلیمات اسلام میں داخلہ
تحریر : عبد المتین منیری میری ابھی شادی ہوچکی تھی ، تعلیم نامکمل ہونے کا احساس دل میں شدت سے ستانے لگا اور اس کا خبط سرپرسوار ہوگیا ۔ محی الدین مومن اس وقت بمبئی میں رہتے تھے ، انہیں ساتھ لے کر لکھنو روانہ ہوگیا۔ اس وقت مولانا عبدالحمید ندوی بھٹکل چھوڑ چکے تھے ، لکھنو کے محلہ نظیرآباد میں انہوں نے کپڑے کی ایک دکان لگائی تھی ، میں مولانا کے پاس نظیر آباد جاکر اترا، اور تعلیم مکمل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ یہ مولانا عمران خان ندوی مرحوم کے دارالعلوم ندوۃ العلماء میں اہتمام کا دور تھ
بھارتی چیف جسٹس کے مواخذے کی تحریک۔۔۔از: کلدیپ نیئر
یہ محض تکبر اور غرور کی بات ہے۔ درست کہ چیف جسٹس دیپک مشرا نے الہ آباد ہائی کورٹ کے جج نارائن شکلا کو لکھنو میں قائم پراسد ایجوکیشن ٹرسٹ پر مقدمہ چلانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ ٹرسٹ ایک میڈیکل کالج بھی چلاتا ہے۔ لیکن یہ قانون کی کوئی ایسی خلاف ورزی نہیں ہے جس کے نتیجے میں بھارت کے چیف جسٹس کا مواخذہ کیا جائے۔ کانگریس پارٹی اس معاملے میں تقسیم کا شکار ہے لیکن چونکہ اس کے صدر راہول گاندھی نے چیف جسٹس کے خلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے حتٰی کہ سابق وزیراعظم منموہن سنگھ‘
بد نصیب شاعر،کم نصیب کہانی نگار ۔۔ احمد ھمیش ۔۔۔ تحریر : ڈاکٹر طاہر مسعود
یہ اُن دنوں کی بات ہے جب کراچی امن و شانتی کا شہر ہوتا تھا۔ راتیں جاگتی تھیں، شام کو سمندر سے بہہ کر آنے والی ہوائیں دل کو اداسی اور احساسِ تنہائی سے بھر دیتی تھیں۔ میں ملیر سعود آباد میں رہتا تھا، کالج کا طالب علم تھا۔ اکثر میں بھوری آنکھوں اور دہکتے ہوئے سرخ و سپید چہرے والے پستہ قامت شخص کو سامنے سڑک سے گزرتے دیکھتا تھا۔ کچھ کھویا کھویا سا، اپنے اندر ڈوبا ہوا یہ آدمی راہ چلتے ہوئے بھی اِدھر اُدھر متلاشی نظروں سے دیکھتا، دوسروں سے الگ تھلگ بڑا اکیلا اکیلا سا لگتا تھا۔ میں نے اسے جب بھی دیک
خبر لیجئے زباں بگڑی ۔۔۔ تنقید سے پہلے تحقیق کا مشورہ ۔۔۔ تحریر : اطہر علی ہاشمی
-ہم یہ جو کچھ لکھتے ہیں اپنے صحافی بھائیوں کے لیے لکھتے ہیں جن میں سے اکثر غلطیوں میں پختہ ہوتے جارہے ہیں۔ پہلے بھی اعتراف کرچکے ہیں کہ نہ ہم ماہر لسانیات ہیں اور نہ ہی کسی قسم کی تحقیق سے تعلق ہے۔ ایک بڑے ادیب احمد ہمیش کی دختر نیک اختر انجلا ہمیش نے بھی مشورہ دیا ہے کہ تنقید سے پہلے تحقیق کرلیا کریں۔ لیکن ہم تنقید ہی کہاں کرتے ہیں! ہمیں خوشی اس بات کی ہے کہ انجلا ہمیش نے بھی ہمیں قابل توجہ سمجھا۔ یہ 1978-79ء کی بات ہوگی جب احمد ہمیش اپنے مخصوص حلیے میں اپنے چند دوستوں سے ملنے کے لیے جسارت کے د
ڈاکٹر چترنجن قتل کے بدلے میں مسلم لیڈروں کی سپاری؟! (چوتھی قسط)۔۔۔۔از:ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے........... (گزشتہ سے پیوستہ) پولیس حراست سے باہر نکلنے کے بعد ہم لوگوں نے اعلیٰ حکام کے پاس مقامی پولیس افسران کے خلاف باضابطہ شکایت کی جس کے نتیجے میں ہمیں بلاوجہ حراست میں لیے جانے کی تحقیقات کا حکم جاری ہوا۔ غالباً اس وقت کے ڈی آئی جی ویسٹرن رینج کے ذریعے تحقیقات کروائی گئی تھی۔ تحقیقاتی افسر کے سامنے ہم نے پولیس کے اس نازیبا اور غیر قانونی رویے کے خلاف بیان درج کروائے۔ مگر پولیس نے تحقیقاتی افسر کے پاس عجیب اور مضحکہ خیز وضاحت کی کہ ڈاکٹر چترنجن قتل کی وجہ سے مسلم
آب بیتی الحاج محی الدین منیری علیہ الرحمۃ -06- انجمن سے استعفی ۔۔۔ بقلم : عبد المتین منیری
میں نے انجمن میں بحیثیتِ مدرس دو سال خدمت انجام دی ، جب میںہائی اسکول میں پڑھاتا تھا میری کل تنخواہ بائیس روپیہ تھی ، میں نے انجمن انتظامیہ کو درخواست دی کہ گھریلو ذمہ داریوں کے پیش نظر میری تنخواہ بہت کم ہے ، لہذا میری تنخواہ میں اضافہ کرکے اسے تیس روپیہ ماہانہ کیا جائے۔ مجلس انتظامیہ کے محی الدین صاحبان میری درخواست پر غورکرنے کے لئے جمع ہوگئے اور مجھ سے جرح شروع کی کہ کیاتمھارے بڑے بھائی کماتے نہیں ہیں، جو تنخواہ میں اضافہ کی درخواست لے کر آئے ہو؟ تمھارے مصارف کیا ہیں
سچی باتیں ۔ منکرین حق کی ذہنیت ۔۔۔ تحریر : مولانا عبد الماجد دریابادی
یَعْلَمُوْنَ ظَاہِراً مِنْ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَھُمْ عَنِ الْآخِرَۃِ ھُمْ غٰفِلُوْنَ ہ اَوَلَمْ یَتَفَکَّرُوْا فِیٓ اَنْفُسِھِمْ مَّا خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَھُمَآ اِلَّا بِالْحَقِّ وَاَجَلٍ مُّسَمًّی وَاِنَّ کَثِیْراً مِّنَ النَّاسِ بِلِقَاءِی رَبِّھِمْ لَکٰفِرُوْنَ ہ اَوَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عٰقِبَۃُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھَمْ کَانُوْٓااَشَدَّ مِنْھُمْ قُوَّۃً وَاَثَارُوْا الْاَرْضَ وَعَمَرُوْھَآ اَکْثَرَ مِمَّا ع
آب بیتی الحاج محی الدین منیری علیہ الرحمۃ -05 - طالب علمانہ شرارتیں ۔۔۔ بقلم : عبد المتین منیری
طلبہ کو امتحان کے دنوں میں فکر دامن گیر رہتی ہے کہ کس طرح سوالات حاصل کئے جائیں ۔ ہمیں بھی یہی فکر لگی رہتی تھی ، امتحان کے قریبی ایام میں ہم بھی اساتذہ کو سوالات کے لئے تنگ کیا کرتے، انجمن میں ایک استاد ہوا کرتے تھے جن کانام﴿ نائینن﴾ تھا۔ ہم ساتھیوںنے ان کے پرچے چرانے کی سازش رچائی اور ایک رات ان کے کمرے کا تالہ کھولنے میں کامیابی حاصل کرلی ۔ لیکن مشکل یہ آپڑی کہ تالہ بند نہ کرسکے۔ لہذا منڈلی علاقہ میں سوئے ہوئے لوہار کا دروازہ کھٹکھٹایا جو انگیٹھی میںلوہے کو جلاتااور ہتھوڑا مارمارک
خبر لیجئے زباں بگڑی ۔۔۔ نمک پاشی چھڑکنا۔۔۔ تحریر : اطہر ہاشمی
ملتان سے ایک خط خلیجی ملک سے ہوتا ہوا پہنچا ہے۔ ملتان کے جناب خادم علی ہاشمی براہِ راست ہمیں بھیج دیتے۔ بہرحال یہ عبدالمتین منیری، بھٹکل کے ذریعے ہم تک آیا ہے۔ عبدالمتین منیری نے اطلاع دی ہے کہ ملتان سے بزرگ محقق و مصنف خادم علی ہاشمی صاحب کا تبصرہ آپ کے کالم پر موصول ہوا، جسے آپ کی اطلاع کے لیے فارورڈ کیا جارہا ہے۔ خادم علی ہاشمی لکھتے ہیں ”اطہر ہاشمی صاحب کا کالم میرے جیسے بوڑھے طوطوں کے لیے بھی سبق آموز ہے۔ بہت سے الفاظ جنہیں یہ خاکسار استعمال کرتا آیا ہے، اُن کی اصلاح ہوجاتی رہی ہے۔ آپ کے
وہ رات۔۔۔ جب رکن اسمبلی ڈاکٹر چترنجن کا قتل ہوا! (تیسری قسط………..از:ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے........... (....گزشتہ سے پیوستہ) جب ہمیں دوسرے کمرے میں منتقل کیا گیاتو جنرل سکریٹری تنظیم جناب یحییٰ دامودی نے بتایا کہ رات جس وقت پولیس نے مجھے اپنے گھر سے اٹھایاتھا تو اسی وقت انہوں نے بنگلورو میں ایڈیشنل ڈائریکٹرجنرل آف پولیس (لاء اینڈ آر ڈر)ایس سی برمن سے فون پر رابطہ قائم کیا تھااور یہاں کی صورتحال بتائی تھی۔ اس پر ڈی آئی جی نے انہیں یقین دلایا تھا کہ ہم لوگ پریشان نہ ہوں ۔وہ صبح تک بھٹکل پہنچ جائیں گے اور مجھے پولیس حراست سے چھوڑنے کے بارے میں کارروائی کریں گے
آب بیتی الحاج محی الدین منیری علیہ الرحمۃ 4- مولانا عبد الحمید ندوی کا انداز تربیت
تحریر : عبد المتین منیری انجمن میں حاجی حسن مرحوم کی صدارت اور آئی ایس صدیق کی صدر مدرسی کے دورمیں مولانا عبدالحمید ندوی ؒ کا بحیثیتِ مدرس تقرر ہواتھا۔ آپ کا دینیات، اردو زبان، اقبالیات میں علمی مقام بہت بلند تھا۔ وہ میرے استاد تھے۔ اور جب میں پڑھانے لگا تب بھی وہ پڑھا تے تھے، انہیں مجھ سے دلی لگاؤ تھا۔ ہمارا ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہوتا تھا۔ وقت کے اکابر علماء سے آپ کی مراسلت تھی ۔ دینی ذوق پیدا کرنے کے لئے عموماً وہ علامہ سید سلیمان ندویؒ، مولانا اشرف علی تھانوی ؒ ، مولانا عبدالماجد دری
خبر لیجئے زباں بگڑی ۔۔۔ قومی زبان اور خسرو پر تحقیق ۔۔۔ تحریر : اطہر ہاشمی
ہم اپنے ساتھیوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ ایک ہی جملے میں ’تا‘ کے ساتھ ’تک‘ نہیں آنا چاہیے، جیسے ’’صبح تا شام تک‘‘۔ لیکن ہمارے ایک نوجوان ساتھی نے بڑے معتبر ادبی رسالے ’قومی زبان‘ کا تازہ شمارہ (اپریل۔2018ء) ہمارے سامنے رکھ دیا۔ اس میں ایک صاحب جاوید احمد خورشید کا تحقیقی مضمون فیض کے استاد، اردو، عربی اور فارسی کے شاعر و ناول نگار پروفیسر سید جمیل واسطی کے بارے میں ہے۔ مضمون میں تین جگہ ’تا‘ کے ساتھ ’تک‘ جلوہ فرما ہے(صفحہ 47، 48)۔ لکھتے ہیں ’’پروفیسر واسطی نے 1932ء تا1936ء تک گورنم
آب بیتی الحاج محی الدین منیری علیہ الرحمۃ -03- انجمن میں تدریس۔۔۔ بقلم : عبد المتین منیری
یہ وہ زمانہ تھا جب انجمن میں انگریزی چوتھی جماعت تک تعلیم ہوتی تھی ۔ پانچویں جماعت یعنی نویں کا ابھی آغاز نہیں ہواتھا ، چوتھی جماعت میں کامیابی ملنے کے بعد باہر جاکر مزید اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی استطاعت مجھ میں نہیں تھی۔ لہذا اسی پر قناعت کرتے ہوئے انجمن میں دینیات کے مدرس کی حیثیت سے میری تقرری ہوگئی ۔ اور پہلی جماعت سے چوتھی جماعت تک دینیات پڑھانے کی ذمہ داری سونپی گئی ۔ اس کے دوسرے سال انگریزی پانچویں جماعت کا انجمن میں آغاز ہوا۔ میں نے ذمہ داران سے پانچویں جماعت میں
کتابوں کے بوجھ تلے دبدتی معصومیت!۔۔۔۔از:شیخ خالد زاہد
لفظ بوجھ کے آتے ہی ایک اکتاہٹ سی طاری ہونا شروع ہوجاتی ہے ، یوں تو بوجھ کی بے تحاشہ اقسام ہیں اور ہماری نئی نسل کیلئے توہر کام ہی بوجھ کی مد میں جاتا ہے ۔ اس دور کے جہاں اور بہت سارے دکھ ہیں ان میں سے یہ بھی ایک بہت تکلیف دہ عمل ہے کہ نئی نسل کی زندگی میں بیزاریت کا عنصر بہت واضح دیکھائی دے رہا ہے۔ بوجھ تو احسانوں کا بھی ہوتا ہے جسے ساری زندگی ہی لادے لادے پھرنا پڑتا ہے ، دوسرا ہر وہ وزن جسے آپ اپنی خوشی سے نا اٹھانا چاہتے ہوں وہ بوجھ بن جاتا ہے ۔ آج اس ترقی یافتہ دور میں والدین کی ترجیحات میں ا
آب بیتی الحاج محی الدین منیری علیہ الرحمۃ -02- سفر زندگی کا آغاز ۔۔۔ بقلم : عبد المتین منیری
اپنی ڈائری میں میرے والد مرحوم کی تحریر کے مطابق میں نے مورخہ ۱۸ ربیع الاول ۱۳۳۸ھ اس دنیا میں آنکھیں کھولیں ، اسکول میں یہ تاریخ ۱۷مارچ ۱۹۱۹ء لکھی ہوئی ہے۔ ابتداء میں ہمارے گھریلو معاشی حالات تنگ دستی کا شکار تھے ۔ غربت ہم پر سایہ فگن تھی ۔ حالات ایسے نہ تھے کہ باقاعدگی سے اسکول میں تعلیم جاری رکھ سکتا ، ابھی میں عمر کے دسویں سال میں تھا کہ تلاش معاش کے لئے دوتین سال پڑھ کر مجھے بمبئی کا سفر کرناپڑا، طبیعت میں بڑی چنچلاہٹ تھی ، یکسو ہوکر کام کرنے کی عادت نہ تھی ، لہذا ای
وہ رات۔۔۔ جب رکن اسمبلی ڈاکٹر چترنجن کا قتل ہوا (دوسری قسط) ۔۔۔از:ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے........... وہ 10اپریل 1996کی ایک عام رات تھی۔ ڈاکٹر چترنجن کی جیت کو ابھی سال دیڑھ سال ہی ہواتھا۔ چونکہ پارلیمانی انتخاب کی مہم چل رہی تھی اس لئے حالات کا جائزہ لینے کے لئے اوربھٹکل فسادات کی تحقیقات کے لئے قائم جگن ناتھ شیٹی کمیشن میں چل رہے معاملات پر غور وفکر کے لئے ہم تنظیم کے کچھ ذمہ داران خاص کر سید محی الدین برمار ، یحییٰ دامودی اور میںآپس میں مل بیٹھنے کا کوئی نہ کوئی موقع نکال لیا کرتے تھے۔ اکثر و بیشتر رات عشاء کے بعدتنظیم کے جنرل سکریٹری جناب یحییٰ دامودی کا م
سچی باتیں ۔۔۔ دو راستے ۔۔۔ تحریر : مولانا عبد الماجد دریابادی
سورۂ یٰسین میں ایک شخص اپنے ہم قوموں سے وقت کے پیغمبروں پر ایمان لانے کی سفارش کرتاہے اور پیغمبروں کا وصف مشترک یہ بتاتاہے کہ یہ وہ حضرات جو اپنی شبانہ روز کی مشغولیت کی کوئی اجرت نہیں مانگتے (قَالَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوْا الْمُرْسَلِیْن اِتَّبِعُوْا مَنْ لَّا یَسْئَلُکُمْ اَجْرًا) اپنی دن رات کی خدمات کا کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتے اسی طرح سورۂ شعراء میں حضرت نو ح علیہ السلام ، حضرت ھود علیہ السلام،حضرت صالح علیہ السلام، حضرت لوط علیہ السلام، حضرت شعیب علیہ السلام پانچ انبیاء جلیل القدر کی