Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors
Abdul Haleem Mansoor
Abdul Majid Daryabadi
Abdul Mateen Muniri
Abdur Raqeeb M.J Nadwi
Ahmed Hatib Siddiqui
Asif Jilani
Athar Hashmi
Bhatkallys
Dr Badrul Hasan Qasmi
Dr Haneef Shabab
Dr. F Abdur Rahim
Dr. Tahir Masud
Hafiz Naumani
Kaldip Nayar
Masoom Muradabadi
Masud Ahmed Barkati
Mohammed Mateen Khalid
Muhammed Furqan
Nizamuddin Nadwi
Riyazur Rahman Akrami Nadwi
Suhail Anjum
کانگریس کی بھارتی سیاست میں اہمیت نہیں رہی۔۔۔۔۔از: کلدیپ نیئر
پرناب مکھرجی ایسا شخص ہے جس کے تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ تعلقات اور روابط ہیں۔ پارلیمنٹ کے رکن کے طور پر وہ اعلیٰ ترین مناصب پر رہے ہیں حتیٰ کہ اپنی ایک سیاسی پارٹی بھی قائم کی جس میں ان کے چند سیاسی دوست بھی شامل تھے۔ تاہم مسٹر مکھرجی ہر لحاظ سے ایک سیلف میڈ شخص ہیں جنہوں نے سیاسی میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ انھیں آر ایس ایس نے ناگپور میں واقع اپنے ہیڈکوارٹر میں آکر کارکنوں سے خطاب کی دعوت دی جسے مکھرجی نے قبول کرلیا۔ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھگوت نے کہا ہے کہ پرناب مکھ
آب بیتی الحاج محی الدین منیری ۔ 13- دویادگار الیکشن ۔۔۔ تحریر : عبد المتین منیری
غالباً ۱۹۳۷ء میں ایک اہم الیکشن ہو ا تھا۔ جناب آئی ایس صدیق مرحوم ضلع کے مسلم نمائندے کی حیثیت سے اس میں کھڑے ہوئے تھے۔ اور ان کے مقابل عبدالکریم کتور نامی دھارواڑ کے ایک وکیل تھے۔ وطن سے باہر مقیم افراد قوم نے آکر آئی ایس صدیق کی حمایت میں ووٹ ڈالا۔ اس کے لئے ہمیں بڑی جدوجہد کرنی پڑی۔الیکشن کا بھوت سرپرسوار ہو تو کچھ سجھائی نہیں دیتا۔ کافی خرچ آیا۔ چونکہ مسلمانوں کے زیادہ تر ووٹ بھٹکل ہی میں تھے تو ہمارے افراد نے یہیں رہ کر مختلف جگہوں پر نگرانی کی۔ عبدالکریم کتور نے کم
کیرانہ اور نور پور کو سلام۔۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی
گورکھ پور اور پھول پور سے الیکشن ہارنے کے بعد وزیراعلیٰ یوگی مہاراج کچھ اس طرح کا تاثر دے رہے تھے جیسے وہ نیند میں تھے اور اکھلیش دبے قدموں آیا اور دونوں سیٹیں چراکر لے گیا اور وہ کیرانہ اور نور پور میں بی جے پی کا پرچم لہراکر حساب برابر کردیں گے۔ اور حساب برابر کرنے کے لئے جتنے حربے ہوسکتے تھے وہ آزمائے اب تک اکثر جگہ سے یہ شکایت آتی تھی کہ مسلم علاقوں میں پولنگ کے عملہ کا رویہ یہ ہوتا ہے کہ وہ سست پولنگ کراتے ہیں جتنی دیر میں سو ووٹ پول ہوسکتے ہیں بمشکل پچاس ہوتے ہیں لیکن یہ پہلی بار ہوا کہ سی
سچی باتیں ۔۔۔ حسن اخلاق ۔۔۔ تحریر : مولانا عبد الماجد دریابادی مرحوم
فَبِمَا نَقْضِھِمْ مِیْثَا قَھُمْ لَعَنّٰھُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوْبَھُمْ قٰسِیَۃً یُحَرِّفُوْنَ الْکَلِمَ عِنْ مَّوَاضِعِہِ وَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّاذُکِّرُوْا بِہِ وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰی خَآئِنَۃٍ مِّنْھُمْ اِلِّا قَلِیْلاً مِّنْھُمْ فَاعْفُ عَنْھُمْ وَاصْفَحْ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۔مائدہ۔ع۔۳ سو ان کی عہد شگنی کے باعث ہم نے ان پر لعنت کی (یعنی اپنی رحمت سے دور کردیا) اور ان کے قلوب سخت کردیئے وہ لفظوں کو ان کے مقام سے بدل دیتے ہیں جو کچھ انھیں نصیحت کی گئی تھی اس کا ایک
کیادینی حمیت کے بغیر ملّت کی سیاسی ترجمانی ممکن ہے؟!۔۔۔از: ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے........... مسلمانوں کو سیاسی طور پربااختیار اور empowerکرنے کے سلسلے ملک بھر میں میں مختلف ملّی ، سماجی و فلاحی تنظیمیں سرگرم عمل ہیں۔ جب الیکشن کا موسم آتا ہے تو ان اداروں کی سرگرمیاں تیز سے تیز تر ہوجاتی ہیں۔ یقیناًایسے تمام ادارے، تنظیمیں اور گروہ اپنے مقصد میں انتہائی مخلص ہوتے ہیں اور ان کا سارا زور کسی طرح مسلم سیاسی نمائندگی کی شرح بڑھانے اور سیکیولر قسم کے غیر مسلم سیاسی لیڈروں کو کامیاب کرتے ہوئے ملّی کاذ کو تقویت پہنچانے کی طرف ہواکرتا ہے ۔اس بارکرناٹکا اسمبلی
احسان فراموشوں نے پیٹرول سستا کرنے کا احسان بھی نہیں مانا۔۔۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی
الیکشن ایسے نہیں ہوتا کہ رات کو فیصلہ ہو اور صبح سے ووٹ ڈالنا شروع ہوجائیں اور وہ تمام ووٹر ووٹ دے دیں جنہوں نے مہینوں غور و فکر کے بعد ذہن بنایا تھا۔ کیرانہ پارلیمانی سیٹ کے بارے میں 250 سیٹوں کے متعلق تو ڈی ایم کی رپورٹ تھی کہ مشینیں خراب ہوئیں اُمیدوار کی طرف سے اس سے بہت زیادہ مشینوں کے خراب ہونے کا دعویٰ کیا گیا اور اسے الیکشن کمشنر نے بھی تسلیم کیا کہ گرمی کے اثر سے مشینیں خراب ہوئی تھیں اور انہوں نے وہی کیا جو ہر حکومت کراتی ہے کہ صرف 73 بوتھوں پر دوبارہ پولنگ کرادی اور ووٹروں کی دلچسپی ک
پاکستان میں بھی قرآن عظیم کی بے حرمتی۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی
گذشتہ 35 سال سے میرے بڑے بیٹے شمعون نعمانی مدینہ منورہ میں ہیں وہاں ان کے ایک دوست بھی تھے جو اب کویت میں ایک ذمہ دار افسر ہیں۔ وہ جب مدینہ میں تھے تب بھی پابندی سے نیٹ پر اودھ نامہ پڑھتے تھے اور اب کویت میں بھی ان کی دلچسپی برقرار ہے۔ انہوں نے میاں شمعون کو تراویح سے متعلق ہمارے مضامین پڑھ کر ایک عبرت ناک واقعہ اس فرمائش کے ساتھ لکھ کر بھیجا ہے کہ وہ اسے میرے پاس بھیج دیں اور اودھ نامہ میں شائع کردیں۔ ہم نے جو لکھا ہے اس میں ایک مرتبہ پاکستان کو شامل کیا تھا اس کی وجہ یہ ہے کہ تراویح میں قرآن
Flavored to tradition: India’s food streets that come alive during Ramadan
Piety reigns supreme in the month of Ramadan. It is also a month where certain landmark localities in major cities in India transform into culinary delights. As the sound of the dusk prayers rent the evening air, signaling the end of fasting, the food localities at these places present a spectacle of a food festival. Delicious aromas waft through the air. These are not the usual places for Iftar snacks but places where people, Muslims and non-Muslims alike, come to feast on the delights to choo
خبرلیجئے زباں بگڑی ۔۔۔ فاجعہ اور فاجئہ۔۔۔ تحریر : اطہر ہاشمی
عربی کا لفظ ہے اور الف کے نیچے زیر ہے۔ یہ روزے کی ضد ہے۔ تاہم ہمارے کئی ساتھی اب بھی الف پر زبر لگا کر اَفطار کرتے ہیں، چنانچہ ان کی اطلاع کے لیے ’’نشرِ مکرر‘‘۔ افطار زیر سے ہو یا زبر سے، مزے کا ہونا چاہیے، ورنہ غالب جیسے لوگ کہیں گے کہ جس پاس روزہ کھول کے کھانے کو کچھ نہ ہو روزہ اگر نہ کھائے تو ناچار کیا کرے ظاہر ہے کہ یہ مرزا کی بہانے بازی تھی، کیونکہ وہ پیے بغیر نہیں رہ سکتے تھے، اور اس کے لیے اُن کے پاس کچھ نہ کچھ ہوتا تھا۔ روزہ نہ رکھنے پر ان ہی کا ایک جملہ ہے ’’شیطان غالب ہے‘‘۔ اردو می
ہمیں بھی راہل گاندھی سے کچھ کہنا ہے۔۔۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی
حسن کمال نہ صرف منجھے ہوئے صحافی ہیں وہ شاعر بھی ہیں اور مفکر بھی اور سماجی مصلح بھی انہوں نے کانگریس کے جواں سال صدر راہل گاندھی کو ایک کھلا خط لکھا ہے۔ اور یہ لکھ دیا ہے کہ وہ اُردو نہ جاننے کی بناء پر خود تو پڑھ نہیں سکتے لیکن ان کی یہ توقع خدا کرے پوری ہوجائے کہ کانگریس کے ایک ترجمان م افضل جو خود اردو کے پرانے صحافی ہیں وہ اس خط کو سنادیں یا اس کی روح کشید کرکے ان کو بتادیں۔ حسن کمال کی غزل میں اضافہ تو نہیں، اسی بحر میں ہم خود کچھ کہنے یا لکھنے کے بارے میں کئی دن سے سوچ رہے تھے راہل گاندھ
عبداللہ گل کی غلطی
ترکی کے سابق وزیر خارجہ اور وزیر اعظم احمد داؤد اولو نے ۲۶؍اپریل کو ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں برملا اعلان کیا ہے کہ انہوں نے جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (اے کے پی) کی بنیادی رکنیت سے دست بردار ہونے کے بارے میں کبھی سوچا بھی نہیں۔ پارٹی نے رجب طیب ایردوان کو صدارتی امیدوار قرار دیا ہے اور وہ انتخابات میں ایردوان کی غیر مشروط حمایت کریں گے۔ احمد داؤد اولو کے بارے میں بہت سے حلقے طرح طرح کی قیاس آرائیاں کر رہے تھے۔ ایک عشرے قبل یونیورسٹی پروفیسر احمد داؤد اولو کو رجب طیب ایردوان نے سیاست میں حصہ
بات پھر تراویح کی۔۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی
ہماری اخباری برادری کو کیا ہوگیا ہے کہ اسے بھی خبر سمجھا جارہا ہے اور اپنے اخبار میں چھاپا جارہا ہے کہ فلاں مسجد میں پانچ پارے کا دَور ختم ہوا۔ جب ہر اُردو اخبار میں چھپ چکا تھا کہ کس مسجد میں کس وقت نماز ہوگی اور تراویح میں کتنا قرآن شریف پڑھا جائے گا تو اسی حساب سے اسے ختم تو ہونا ہی تھا۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اخبارات بھی پانچ پارے پڑھنے کو ایک کارنامہ تسلیم کررہے ہیں جبکہ میں عرض کرچکا ہوں اور پھر عرض کررہا ہوں کہ اگر جس مسجد میں پانچ پارے تراویح میں پڑھے گئے ہیں اور وہاں 11:30 بجے نماز خ
آب بیتی الحاج محی الدین منیری -12- وطن سے محبت ۔۔۔ تحریر : عبد المتین منیری
تلاش معاش میں قوم کے جوافراد کراچی گئے ان میں کولا محی الدین مرحوم کی شخصیت نرالی تھی ، صدر علاقہ میں ان کا وسیع وعریض گلزار ہوٹل تھا۔ جس میں کھانے کی سو (100)میزیں رکھی ہوئی تھیں۔ ان دنوں روزانہ کاروبار دس ، پندرہ ہزار روپئے سے کیا کم رہاہوگا۔ میں نے قوم کے بڑے بڑے مہمان نواز دیکھے ہیں ۔ لیکن ایسا مہمان نواز میری نظر سے نہیں گذرا۔ جو بھی آتا ان کے یہاں ٹہرتا۔ تقسیمِ ہندسے قبل کراچی میں جا کر بسنے والے قوم کے وہ واحد شخص تھے۔ ویسے تو وہ تعلیم یافتہ نہیں تھے۔ باوجود اس کے ان کے اثر و
خبرلیجئے زباں بگڑی ۔۔۔ بجائے خود یا بذات خود ۔۔۔ تحریر : اطہر علی ہاشمی
ہم ایک عرصے سے اس الجھن میں ہیں کہ بذات خود اور بجائے خود میں کیا فرق ہے اور ان کا محل استعمال کیا ہے۔ ماہنامہ قومی زبان میں ایک بڑے ادیب کا جملہ پڑھا ’’یہ پرے (رسائل و جرائد) بذات خود ایک ادارہ تھے۔‘‘ عرصہ پہلے ہمیں ایک استاد نے بتایا کہ ’’بذات خود‘‘ کا استعمال کسی زندہ مخلوق کے ساتھ کرتے ہیں جس میں ذات کا دخل ہو۔ اور اگر بے جان چیز ہے تو بہتر ہے کہ ’’بجائے خود‘‘ استعمال کیا جائے۔ یعنی اگر رسائل و جرائد کا ذکر ہے تو ان کے لیے بجائے خود کا استعمال مناسب ہوگا۔ مگر جب بڑے بڑے لکھاری اس کا اہتمام ن
جانشین حکیم الاسلام جنہوں نے ستر سال علوم نبوت کی مسند سجائی۔ 02
02- جانشین حکیم الاسلام جنہوں نے ستر سال علوم نبوت کی مسند سجائی۔ مولانا محمد سالم قاسمی علیہ الرحمۃ تحریر : عبد المتین منیری ammunir@gmail.com آپ کی زندگی میں سب سے کٹھن وقت اس وقت آیا جب آپ کے والد ماجد کے ساتھ آپ کو بھی اپنے آباء و اجداد کے قائم کردہ گہوارہ علم سے الگ ہونا پڑا ، یہاں آپ نے بولنا سیکھا تھا ، اس سایہ درخت کی ٹھنڈی چھاؤں میں زندگی کے پچپن سال گزارے تھے ، آستانہ قاسمی اس کے سامنے ہی واقع تھا ، اس وقت دل پر کیا گزرتی ہوگی جب آپ پر اس کے دروازے بند کر دئے گئے ہوں ۔ اللہ کا شک
کیا کرناٹک سے لگے گی مودی کے زعفرانی سیاسی گھوڑے کو لگام ؟!۔۔۔از:ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے........... خدا خدا کرکے کرناٹک کا سیاسی ناٹک اپنے اختتام کو پہنچا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ناٹک کے کلائمیکس میں پردہ گرنے کے بجائے ڈراپ سین آگیا ۔ پہلی بار گورنر واجو بھائی والا کی مہربانی سے پردہ نیچے کی طرف اترنے ہی لگا تھا اور زعفرانی بریگیڈ لڈو پیڑے بانٹنے کی تیاریاں کرہی رہا تھا کہ سپریم کورٹ کی مداخلت نے بی جے پی کے لئے اس ناٹک کے اختتام کو طربیہ سے المیہ کی طرف موڑ دیا۔اس کے بعد اس ہائی اولٹیج ڈرامے کا کلائمیکس ہوااور پردہ گرا تو پھر کانگریس اور جے ڈی ایس کے لئے شادی
کیا اس گھر کو گھر کے چراغ سے آگ لگے گی۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی
شاید پہلے روزہ کو جو مضمون ہم نے لکھا تھا اس میں نمازی مسلمانوں سے درخواست کی تھی کہ ہم سب کے اختیار میں یہ تو نہیں ہے کہ ہر حافظ قرآن کو اس بات پر آمادہ کرسکیں کہ وہ تراویح میں جب قرآن پڑھے تو اس طرح پڑھے کہ سننے والوں کی سمجھ میں بھی آجائے لیکن یہ تو ہوسکتا ہے کہ مسجد کے متولی صاحب یا کمیٹی ہو تو اس کے صدر سے درخواست کریں کہ آپ حافظ صاحب کو پابند کریں کہ اللہ کے کلام کو اس طرح پڑھا جائے جو اس کی عظمت کا تقاضہ ہے۔ یہ تو ہم نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ ہمیں پنی مسجد کی کمیٹی کے صدر صاحب کو
تراویح میں قرآن عظیم سے کھلواڑ۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی
20 مئی کے روزنامہ انقلاب میں صفحہ 4 پر سب سے اوپر 6 کالمہ سرخی کے تحت گونڈہ کی ایک خبر چھپی ہے کہ وہاں جامع مسجد خواجہ غریب نواز میں مدرسہ کے پرنسپل قاری محمد الیاس مشاہدی تراویح میں قرآن شریف سنا رہے ہیں جو یومیہ 6 پارے کے حساب سے 5 راتوں میں ہی تراویح میں مکمل قرآن سنا دیں گے۔ کم وقت میں پورا قرآن سننے والوں کا اژدہام دیکھنے کو ملا۔ پوری مسجد بھری ہونے کے باوجود مسجد کے باہر بھی نمازیوں کے لئے انتظام کیا گیا تھا۔ لوگ آس پاس کے مکانوں کی چھت پر بھی جانماز بچھاکر تراویح میں قرآن سن رہے ہیں۔ آپ