Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors
Abdul Haleem Mansoor
Abdul Majid Daryabadi
Abdul Mateen Muniri
Abdur Raqeeb M.J Nadwi
Ahmed Hatib Siddiqui
Asif Jilani
Athar Hashmi
Bhatkallys
Dr Badrul Hasan Qasmi
Dr Haneef Shabab
Dr. F Abdur Rahim
Dr. Tahir Masud
Hafiz Naumani
Kaldip Nayar
Masoom Muradabadi
Masud Ahmed Barkati
Mohammed Mateen Khalid
Nizamuddin Nadwi
Riyazur Rahman Akrami Nadwi
Suhail Anjum
مولانا محمد غزالی خطیبی ۔۔۔ امت کا درد جن کا زاد راہ تھا ۔01 ۔۔۔۔ تحریر : عبد المتین منیری
رمضان المبارک کی ۲۳ویں طاق رات ، جس کے شب قدر ہونے کے امکانات روشن ہیں ، شب جمعہ کی جس کے بارے میں صادق و امین نے فرمایا کہ۔﴿ جو شخص جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات کو فوت ہوتا ہے اللہ اسے قبر کے فتنے سے محفوظ رکھتے ہیں﴿ترمذی﴾ ۔ اس رات کے مبارک ہونے میں اب کیا شک رہ جاتا ہے؟ ۔ اسی بابرکت رات کو تراویح کے بعد مولانا محمد غزالی خطیبی صاحب نے گھر والوں کو جمع کیا ، اجتماعی دعا مانگی ، جس میں عفو در گزر اور معافی کی طلب غالب تھی ، تہجد پڑھی ، سحری کے بعد آنکھ لگی تو سینے میں کچھ درد سامحسو
پوری دنیا میں ایک ہی دن عید کی کوشش کا انجام ۔۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی
ہمارے سامنے سوشل میڈیا کے ذریعہ ملک بھر میں نشر کی گئی ایک تقریر ہے۔ دو دن پہلے کا ایک اخبار اور سوشل میڈیا کے ذریعہ دوسری تقریر ہے۔ پہلی تقریر جو ہمیں سنائی گئی اس میں لکھنؤ عیدگاہ کے امام پوری دنیا کے مسلمانوں کو مبارکباد دے رہے تھے کہ انہوں نے اتفاق رائے سے 17 مئی کو روزہ رکھا جو برسوں کے بعد دیکھنے میں آیا ہے اور وہ کل آٹھ جون کو دنیا بھر میں جمعۃ الوداع کی نماز پڑھیں گے۔ اخبار کی چار کالمہ سرخی ہے کہ کیا رمضان کی طرح ہی دو عیدیں بھی منائی جائیں گی؟ یہ سوال کرنے والے سید طارق تجاری، سراج الد
آب بیتی ۔ الحاج محی الدین منیری ۔14 - انجمن خدام النبی سے زندگی کا نیا موڑ ۔ ۔۔ تحریر : عبد المتین منیری
ء1947 میں مجھ پر بیکاری کا دور شروع ہوا۔ مرحوم عبدالقادر حافظکا سے میرے قدیمی روابط تھے۔ میں نے ان سے درخواست کی کہ میں اس وقت بے کارہوں، کوئی اچھی سی ملازمت دلادیں۔ اس زمانے میں حاجی حسن علی پیر ابراہیم کا بمبئی میں بڑا شہرہ تھا۔ مسلمانوںمیں ان کی بڑی اہمیت تھی ۔ تقسیمِ ہند کے بعد محمد علی جناح جب ہندوستان چھوڑ گئے تو انہوںنے اسماعیل چندریگر کو یہاں پر اپنا جانشین بنایا، جب چندریگر بھی پاکستان جا کر وزیر بن گئے تو حاجی حسن علی انڈین مسلم لیگ کے صدر بن گئے ۔ چندریگر بھی بمبئی سے تھے۔
IPS officer’s selfless act of providing free coaching to UPSC aspirants deserves a salute
Admit it, every one of us has dreamed of studying in the finest college in the country and making an illustrious career out of it. However, breaking into the college of your choice is no easy task and you will have to cross the gruesome test of competitive exams. Its a fierce battle among crores of students in the country and only a few lucky ones get the college they are aiming at. However, here we are with a praiseworthy step taken by an IPS officer who has come forward to help some of thes
After 34 years of service, former Assam DGP is now teaching Maths to school kids
People say teaching is one of the most gratifying professions ever. While I have never had the pleasure of doing so, I understand what they mean when they say so. I’m sure we can all agree that whatever we are today, big or small, is mainly thanks to all of those individuals who taught us in school and college. And to think that often, in our crazy misunderstood youth phase, we’ve never actually understood their true value. But that’s what makes our teachers even more special. Good teachers a
خبر لیجے زباں بگڑی ۔ ’’لیجے‘‘ یا’’ لیجیے‘‘؟۔۔۔ تحریر : اطہر ہاشمی
اس بار بیرونی ممالک سے کچھ طویل مراسلات ملے ہیں جن سے نہ صرف ہماری معلومات میں اضافہ ہوا بلکہ کام آسان ہوگیا۔ پہلے کراچی سے محترم محفوظ احمد رحمانی کے محبت نامے کا ذکر۔ انہوں نے لکھا ہے کہ عرصے سے محسوس کررہا تھا اور توقع کررہا تھا کہ کوئی اہلِ زبان یا خود اطہر ہاشمی اپنے کالم ’زباں بگڑی‘ پر ایک نظر ڈال لیتے۔ عنوان میں ’لیجے‘ لکھا ہے لیکن نقطے نہیں ہیں، یعنی ’لیجیے‘ کا سرا لگایا ہے تو نقطے ضروری ہیں۔ مجھے دونوں کا فرق ضرور تحریر کریں اور معنی اگر مختلف ہوں تو وہ بھی لکھ دیں۔ مزید یہ کہ عرصہ ہوا
ملت کو اختلاف کا ایک ہتھیار اور مل گیا۔۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی
یہ شاید 2004 ء کی بات ہے ہم نے جمعہ کی نماز ایک مسجد میں پڑھی جس میں امام صاحب نے خطبہ میں ’’پڑھا الوداع و الوداع یا شہر رمضان الوداع‘‘ ہم خطبہ کے دوران کیا کہتے۔ نماز کے بعد ہم نے امام صاحب سے معلوم کیا کہ کیا کل روزہ نہ رکھا جائے؟ انہوں نے کہا کہ میں سمجھا نہیں۔ یہ سوال آپ مجھ سے کیوں کررہے ہیں۔ میں نے خطبہ کا حوالہ دیا اور عرض کیا کہ عربی میں شہر کے معنیٰ مہینہ ہوتے ہیں آپ نے خطبہ میں یا شہر رمضان الوداع کہا ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ رمضان کا مہینہ وداع ہوگیا؟ انہوں نے چھپی ہوئی خطبہ کی کتاب مج
وہ بدنصیب ہے جو آخری عشرہ میں بھی محروم رہے۔۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی
رمضان المبارک کا عشرۂ رحمت اور مغفرت ختم ہوتے اب آخری عشرہ ’’دوزخ سے نجات‘‘ شروع ہورہا ہے۔ یہ وہ عشرہ ہے جس میں بہت بڑے گناہگار خطرناک مجرم اللہ قادر مطلق کے کھلے نافرمان بھی اگر سچے دل سے توبہ کریں اور توبہ کے بعد باقی زندگی اپنی توبہ پر قائم رہیں تو اُن کو بھی دوزخ کی سزا سے نجات مل جائے گی۔ 30 ویں پارہ کے آخر میں جو چھوٹی چھوٹی سورتیں ہیں ان میں ایک چھوٹی سورۃ ’’الہمز‘‘ ہے اسے جب جب پڑھتا ہوں لرز جاتا ہوں اس کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔ بڑی خرابی اور بربادی ہے ہر ایسے شخص کے لئے جو ہنسی اُڑاتا
2019ء کے ووٹوں اور نوٹوں کی فصل پر سب کی نگاہ۔۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی
جامع مسجد دہلی کے امام مولوی احمد بخاری نے وزیراعظم کو خط لکھ کر اُن سے مسلمانوں کے حالات کے بارے میں گفتگو کرنے کا وقت مانگا تو خبروں کے مطابق وزیراعظم کی طرف سے چار مہینے کے بعد جواب آیا اور انہوں نے خود احمد بخاری سے ملت کے مسائل اور ان کا حل پوچھا۔ وزیراعظم نے جواب میں کہا کہ پہلے آپ میٹنگ کا ایجنڈہ بتائیں اور جب ملاقات کے لئے آئیں تو جن مسائل کو لائیں ان کا حل بھی ساتھ لائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آپ تنہا نہ آئیں مسلم عمائدین کے وفد کے ساتھ آئیں۔ مولانا احمد بخاری نے اپنے خط اور جواب کے بار
روزہ کی حفاظت بھی اتنی ہی اہم ہے۔۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی
برادر عزیز سید وقار مہدی رضوی نے روزہ افطار آج شام 4 بجے لکھ کر دل کا درد ملت کے سامنے رکھ دیا۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ یا اس طرح کی پارٹیاں روزہ کے ساتھ ایک طرح کا مذاق ہے۔ میرے اپنے ذہن کی بات یہ ہے کہ روزہ وہ ایسی اکیلی عبادت ہے جس کے بارے میں پاک پروردگار نے فرمایا ہے کہ ’’الصوم لی وانا اجری بہی‘‘ روزہ میرے لئے ہے اور اس کا بدلہ میں ہی دوں گا۔ یہ بات مالک دو جہاں نے نہ نماز کے بارے میں فرمائی نہ زکوٰۃ کے بارے میں نہ حج کے بارے میں اور حد یہ ہے کہ نہ جہاد اور شہادت کے بارے میں جبکہ ہر عبادت اللہ کے
کانگریس کی بھارتی سیاست میں اہمیت نہیں رہی۔۔۔۔۔از: کلدیپ نیئر
پرناب مکھرجی ایسا شخص ہے جس کے تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ تعلقات اور روابط ہیں۔ پارلیمنٹ کے رکن کے طور پر وہ اعلیٰ ترین مناصب پر رہے ہیں حتیٰ کہ اپنی ایک سیاسی پارٹی بھی قائم کی جس میں ان کے چند سیاسی دوست بھی شامل تھے۔ تاہم مسٹر مکھرجی ہر لحاظ سے ایک سیلف میڈ شخص ہیں جنہوں نے سیاسی میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ انھیں آر ایس ایس نے ناگپور میں واقع اپنے ہیڈکوارٹر میں آکر کارکنوں سے خطاب کی دعوت دی جسے مکھرجی نے قبول کرلیا۔ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھگوت نے کہا ہے کہ پرناب مکھ
آب بیتی الحاج محی الدین منیری ۔ 13- دویادگار الیکشن ۔۔۔ تحریر : عبد المتین منیری
غالباً ۱۹۳۷ء میں ایک اہم الیکشن ہو ا تھا۔ جناب آئی ایس صدیق مرحوم ضلع کے مسلم نمائندے کی حیثیت سے اس میں کھڑے ہوئے تھے۔ اور ان کے مقابل عبدالکریم کتور نامی دھارواڑ کے ایک وکیل تھے۔ وطن سے باہر مقیم افراد قوم نے آکر آئی ایس صدیق کی حمایت میں ووٹ ڈالا۔ اس کے لئے ہمیں بڑی جدوجہد کرنی پڑی۔الیکشن کا بھوت سرپرسوار ہو تو کچھ سجھائی نہیں دیتا۔ کافی خرچ آیا۔ چونکہ مسلمانوں کے زیادہ تر ووٹ بھٹکل ہی میں تھے تو ہمارے افراد نے یہیں رہ کر مختلف جگہوں پر نگرانی کی۔ عبدالکریم کتور نے کم
کیرانہ اور نور پور کو سلام۔۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی
گورکھ پور اور پھول پور سے الیکشن ہارنے کے بعد وزیراعلیٰ یوگی مہاراج کچھ اس طرح کا تاثر دے رہے تھے جیسے وہ نیند میں تھے اور اکھلیش دبے قدموں آیا اور دونوں سیٹیں چراکر لے گیا اور وہ کیرانہ اور نور پور میں بی جے پی کا پرچم لہراکر حساب برابر کردیں گے۔ اور حساب برابر کرنے کے لئے جتنے حربے ہوسکتے تھے وہ آزمائے اب تک اکثر جگہ سے یہ شکایت آتی تھی کہ مسلم علاقوں میں پولنگ کے عملہ کا رویہ یہ ہوتا ہے کہ وہ سست پولنگ کراتے ہیں جتنی دیر میں سو ووٹ پول ہوسکتے ہیں بمشکل پچاس ہوتے ہیں لیکن یہ پہلی بار ہوا کہ سی
سچی باتیں ۔۔۔ حسن اخلاق ۔۔۔ تحریر : مولانا عبد الماجد دریابادی مرحوم
فَبِمَا نَقْضِھِمْ مِیْثَا قَھُمْ لَعَنّٰھُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوْبَھُمْ قٰسِیَۃً یُحَرِّفُوْنَ الْکَلِمَ عِنْ مَّوَاضِعِہِ وَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّاذُکِّرُوْا بِہِ وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰی خَآئِنَۃٍ مِّنْھُمْ اِلِّا قَلِیْلاً مِّنْھُمْ فَاعْفُ عَنْھُمْ وَاصْفَحْ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۔مائدہ۔ع۔۳ سو ان کی عہد شگنی کے باعث ہم نے ان پر لعنت کی (یعنی اپنی رحمت سے دور کردیا) اور ان کے قلوب سخت کردیئے وہ لفظوں کو ان کے مقام سے بدل دیتے ہیں جو کچھ انھیں نصیحت کی گئی تھی اس کا ایک
کیادینی حمیت کے بغیر ملّت کی سیاسی ترجمانی ممکن ہے؟!۔۔۔از: ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے........... مسلمانوں کو سیاسی طور پربااختیار اور empowerکرنے کے سلسلے ملک بھر میں میں مختلف ملّی ، سماجی و فلاحی تنظیمیں سرگرم عمل ہیں۔ جب الیکشن کا موسم آتا ہے تو ان اداروں کی سرگرمیاں تیز سے تیز تر ہوجاتی ہیں۔ یقیناًایسے تمام ادارے، تنظیمیں اور گروہ اپنے مقصد میں انتہائی مخلص ہوتے ہیں اور ان کا سارا زور کسی طرح مسلم سیاسی نمائندگی کی شرح بڑھانے اور سیکیولر قسم کے غیر مسلم سیاسی لیڈروں کو کامیاب کرتے ہوئے ملّی کاذ کو تقویت پہنچانے کی طرف ہواکرتا ہے ۔اس بارکرناٹکا اسمبلی
احسان فراموشوں نے پیٹرول سستا کرنے کا احسان بھی نہیں مانا۔۔۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی
الیکشن ایسے نہیں ہوتا کہ رات کو فیصلہ ہو اور صبح سے ووٹ ڈالنا شروع ہوجائیں اور وہ تمام ووٹر ووٹ دے دیں جنہوں نے مہینوں غور و فکر کے بعد ذہن بنایا تھا۔ کیرانہ پارلیمانی سیٹ کے بارے میں 250 سیٹوں کے متعلق تو ڈی ایم کی رپورٹ تھی کہ مشینیں خراب ہوئیں اُمیدوار کی طرف سے اس سے بہت زیادہ مشینوں کے خراب ہونے کا دعویٰ کیا گیا اور اسے الیکشن کمشنر نے بھی تسلیم کیا کہ گرمی کے اثر سے مشینیں خراب ہوئی تھیں اور انہوں نے وہی کیا جو ہر حکومت کراتی ہے کہ صرف 73 بوتھوں پر دوبارہ پولنگ کرادی اور ووٹروں کی دلچسپی ک
پاکستان میں بھی قرآن عظیم کی بے حرمتی۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی
گذشتہ 35 سال سے میرے بڑے بیٹے شمعون نعمانی مدینہ منورہ میں ہیں وہاں ان کے ایک دوست بھی تھے جو اب کویت میں ایک ذمہ دار افسر ہیں۔ وہ جب مدینہ میں تھے تب بھی پابندی سے نیٹ پر اودھ نامہ پڑھتے تھے اور اب کویت میں بھی ان کی دلچسپی برقرار ہے۔ انہوں نے میاں شمعون کو تراویح سے متعلق ہمارے مضامین پڑھ کر ایک عبرت ناک واقعہ اس فرمائش کے ساتھ لکھ کر بھیجا ہے کہ وہ اسے میرے پاس بھیج دیں اور اودھ نامہ میں شائع کردیں۔ ہم نے جو لکھا ہے اس میں ایک مرتبہ پاکستان کو شامل کیا تھا اس کی وجہ یہ ہے کہ تراویح میں قرآن
Flavored to tradition: India’s food streets that come alive during Ramadan
Piety reigns supreme in the month of Ramadan. It is also a month where certain landmark localities in major cities in India transform into culinary delights. As the sound of the dusk prayers rent the evening air, signaling the end of fasting, the food localities at these places present a spectacle of a food festival. Delicious aromas waft through the air. These are not the usual places for Iftar snacks but places where people, Muslims and non-Muslims alike, come to feast on the delights to choo