Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors
Abdul Haleem Mansoor
Abdul Majid Daryabadi
Abdul Mateen Muniri
Abdur Raqeeb M.J Nadwi
Ahmed Hatib Siddiqui
Asif Jilani
Athar Hashmi
Bhatkallys
Dr Badrul Hasan Qasmi
Dr Haneef Shabab
Dr. F Abdur Rahim
Dr. Tahir Masud
Hafiz Naumani
Kaldip Nayar
Masoom Muradabadi
Masud Ahmed Barkati
Mohammed Mateen Khalid
Muhammed Furqan
Nizamuddin Nadwi
Riyazur Rahman Akrami Nadwi
Suhail Anjum
آب بیتی الحاج محی الدین منیری ۔19-حضرت مولانا عبد القادر رائے پوری کی خدمت میں ۔۔۔ تحریر : عبد المتین منیری
M:00971555636151 اس کے واقعہ کے کچھ عرصہ بعد حضرت شیخ الحدیث مولانا محمدزکریا کاندھلوی ؒ کی خدمت میں سہارنپور حاضری ہوئی ۔ وہاں پرمجھے معلوم ہوا کہ حضرت مولانا رائے پوری ؒبے ہٹ ہاؤ س میں ٹہرے ہوئے ہیں۔ مولانا رائے پوری اس دور میں روحانیت کے امام تسلیم کئے جاتے تھے ، بڑے بڑے جید علماء آپ کے سامنے زانو تہہ کرتے تھے۔ مولانا سید ابوالحسن علی ندوی نے آپ کے حالات زندگی پر ایک کتاب لکھی ہے۔ حضرت کی یہاں پرموجودگی کی خبر سے مجھے آپ کی ملاقات کا شوق پیدا ہوا۔ چونکہ میں حضرت شیخ کا مہمان تھا
میں تمہیں کیسے بتاؤں کیا کہوں۔۔۔۔۔ از:حفیظ نعمانی
کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے مسلم دانشوروں کے ساتھ دو گھنٹے کی ایک ملاقات میں ’’ہاں کانگریس مسلمانوں کی پارٹی ہے‘‘ کہا یا نہیں کہا اس پر بلاوجہ کی بحث چھڑ گئی ہے۔ اگر انہوں نے جوش میں آکر یہ کہا بھی تھا تو سب جانتے ہیں کہ اس کا کہنا نہ کہنا برابر ہے۔ ان کی والدہ محترمہ گذشتہ دنوں بڑے دُکھ کے ساتھ یہ کہہ چکی ہیں کہ کانگریس کو مسلمانوں کی پارٹی کہا جانے لگا ہے۔ صدر کانگریس کیا کہتے ہیں اور کون کیا کہتا ہے یہ بحث ہی فضول ہے۔ اگر وزیر اعظم کہہ دیں کہ بی جے پی مسلمانوں کی پارٹی ہے تو کیا کسی کو یقین
MP Court gives ₹1 Lakh to accused who already spent 12 years in jail for false charges
India will complete 71 years of independence from British rule this August. And seven decades is ample time to figure out a country’s laws, set guidelines for our citizens and weed out crime occurring in each state. However, going by our present condition, India’s lawmakers look like they still don’t have proper solutions, because of which innocent lives are being ripped apart. According to Live Law, the case of two accused people was placed before the Madhya Pradesh High Court. However, Just
خبر لیجئے زباں بگڑی ۔۔۔ قاموس الفصاحت اور ماہر القادری۔۔۔ تحریر : اطہر ہاشمی
حضرتِ ماہرالقادری (مرحوم) بجائے خود ایک لغت تھے، لیکن اردو کی کوئی لغت ایسی نہیں جو غلطیوں سے پاک ہو۔ یہ غلطیاں عموماً کتابت کی ہیں جسے سہوِ کاتب کہا جاتا تھا، اب یہ کمپوزر کے سر جاتی ہیں۔ ماہرالقادری نے ’’ہماری نظر میں‘‘ کے عنوان سے مختلف موضوعات پر نثر اور نظم میں لکھی گئی 76 کتابوں پر فاضلانہ تبصرے کیے ہیں اور تبصرے کا حق ادا کردیا۔ اس تبصرے کی لپیٹ میں ’قاموس الفصاحت‘ بھی آگئی ہے جو سید محمد محمود رضوی مخمور اکبر آبادی کی تالیف ہے، اور بقول مصنف اردو زبان کی کہاوتوں، محاوروں اور ’’روز مروں‘
بھٹکل فسادات اور جگن ناتھ شیٹی کمیشن میں دلچسپ معرکہ! (پہلی قسط ) ۔۔۔۔۔از: ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے........... سماجی زندگی کے سفر میں کچھ واقعات اورحادثات ایسے ہوتے ہیں کہ قصۂ پارینہ ہونے کے باوجود گاہے بگاہے انہیں یاد کرنا اور نئی نسلوں کے سامنے انہیں پیش کرنا ضروری ہوتا ہے، تاکہ آنے والے زمانے کے لئے وہ اس سے سبق حاصل کریں اور ایسی تدابیر اختیار کریں کہ اگر خدانخواستہ تاریخ پھر سے اپنے آپ کو دہرانے پر آجائے تو وہ اس کا سامنا کرنے کے لئے پہلے سے ہی تیار ہوں۔فارسی کا بہت ہی مشہور شعر ہے: تازہ خواہی داشتن گر داغ ہائے سینہ را گاہے گاہے باز خواں ایں دفترِ پارینہ را یع
آب بیتی الحاج محی الدین منیری ۔ 18 ۔ نہ کچھ کام آئے جناب منیری ۔۔۔ تحریر : عبد المتین منیری
M:00971555636151 شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی ؒ کا جب بھی حج کا سفرہوتا۔ صابو صدیق مسافر خانہ ضرور تشریف لاتے ، میری ان سے ملاقاتیں رہتیں ، ان کی مجالس میں اٹھنا بیٹھنا ہوتا۔ آپ کے ایک خلیفہ تھے مولانا عبدالمنان صاحب۔ دہلی میں کوئی دینی مدرسہ چلاتے تھے۔ ایک مرتبہ جب حضرت مدنی ؒ سفرِ حج پر جانے لگے تو انہیں بھی حضرت کی معیت میں سفر کا شوق چراّیا۔ ان کی زبان میں بڑی روانی تھی ، عربی اور اردو دونوں زبانوں میں یہ شعر کہتے تھے۔ ایسا چرب زبان شخص اپنی عمر میں میں نے کم ہی دیکھا ہے۔
مودی۔ایردوان، تقابلی جائزہ
بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے اب تک پوری ریاست کو اُس طرح مٹھی میں نہیں لیا ہے جس طرح ترکی کے صدر ایردوان نے لے رکھا ہے پھر بھی دونوں کے درمیان چند ایک معاملے میں موازنہ تو کیا جاسکتا ہے۔ ایک حقیقت تو یہ ہے کہ رجب طیب ایردوان کم و بیش پندرہ سال سے اقتدار میں ہیں۔ اس اعتبار سے مودی اُن سے گیارہ سال پیچھے ہیں۔ سیاسی رہنماؤں کے درمیان موازنہ عام طور پر متوازن نہیں ہوتا۔ اس کا بنیادی سبب ہے کہ ان کے حالات مختلف ہوتے ہیں۔ ترک رہنما ایردوان بھارتی وزیر اعظم سے گیارہ سال پہلے ایوان اقتدار میں دا
جو نوکر کو بگاڑے گا وہ خود کل پچھتائے گا۔۔۔۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی
دہلی کی نازک حکومت اور مرکز کی دیوقامت حکومت کے درمیان تنازعہ اس وقت کا نہیں ہے جب نریندر مودی صاحب وزیراعلیٰ تھے بلکہ اس وقت کا ہے جب وہ 280 سیٹیں جیت کر ایک مضبوط حکومت بنا چکے تھے اور پورے طور پر ہریانہ کو فتح کرچکے تھے اور بڑی حد تک مہاراشٹر میں پاؤں جما چکے تھے۔ 2014 ء کے لوک سبھا الیکشن کے بعد ہریانہ اور مہاراشٹر فتح کرکے وہ دہلی آئے تو اسے ایک کھیل سمجھا جہاں دس سال کی منموہن حکومت کی سرپرستی میں پندرہ سال سے مسز شیلا دکشت راج کررہی تھیں۔ مودی جی نے سمجھا تھا کہ وہ دکشت حکومت کو پھونکوں س
ان تہی دستوں کے ہاتھوں میں نہ چادر ہے نہ خاک۔۔۔۔ از: حفیظ نعمانی
وزیراعظم کے لئے ہر گٹھ بندھن کی خبر ایسی ہوتی ہے جیسے ملک پر کسی نے حملہ کردیا ہو۔ وہ فوراً اقتدار کی لالچ کا الزام لگا دیتے ہیں اور محاذ بنانے کی کوشش کرنے والے لیڈروں کو کتابلی سانپ چھچھوندر نائی اور بندر غرض کہ جتنی گالیاں ہوسکتی ہیں دے ڈالتے ہیں۔ ان کے من کی بات یہ ہے کہ اپنے کو سیکولر کہنے والی ہر پارٹی الگ الیکشن لڑے اور مسلمانوں اور سیکولر ہندوؤں کے ووٹ تقسیم ہوجائیں اور ان کو اگر 25 فیصدی بھی ووٹ ملیں تب بھی حکومت ان کی بن جائے۔ کیا 2014 ء میں جو کچھ نریندر مودی نام کے لیڈر نے نعرے دیئے
خبر لیجے زباں بگڑی ۔۔۔ پھوٹی پڑی روشنی ۔۔۔ تحریر : اطہر ہاشمی
ہم تو اپنی کوشش میں لگے ہوئے ہیں لیکن بڑے بڑے علما، فضلا، ٹی وی چینلز اور اہلِ قلم بالٹیاں لیے کھڑے ہیں اور پانی پھیر نہیں رہے بلکہ اوندھا رہے ہیں۔ حالانکہ سوائے لاہور کے، پورے ملک میں پانی کی شدید قلت ہے۔ کراچی میں تو پانی کو ترسے عوام رہنمائوں پر خالی گھڑے پھوڑ رہے ہیں، حالانکہ محاورہ تو ہے ’’بادل دیکھ کر گھڑے پھوڑنا‘‘۔ بادل ہیں کہ کراچی کے ساحل سے اٹھ کر کہیں اور جا برستے ہیں، بقول شاعر: دشتِ بے آب نے دیکھے ہیں وہ کالے بادل جو کہیں اور برسنے کو اِدھر سے گزرے لاہور کا پیرس تو ڈوب گیا
جو جان بوجھ کر کرے اُسے کیا سمجھانا۔۔۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی
یہ آج کی بات نہیں، کئی دن پرانی ہے کہ مسٹر اسد الدین اویسی نے ہاپوڑ کے ایک جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں بیٹر کے مسلمانوں سے یہ نہیں کہتا کہ وہ یہاں بیٹھ کر آنسو بہائیں بلکہ میں ان کا ضمیر جھنجھوڑنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے اس تقریر میں سیکولرازم کا نام لینے والوں کو منافق بتاتے ہوئے کہا کہ وہ لوگ مسلمانوں پر مظالم کے سب سے بڑے ذمہ دار ہیں۔ جو سیکولرازم کا دعویٰ کرتے ہیں۔ تقریر کا کافی حصہ نقل کرکے انقلاب کے فاضل ایڈیٹر شکیل شمسی نے۔ ’’نہیں اویسی صاحب نہیں‘‘ کے عنوان سے بہت ہی درد بھرے اند
آب بیتی الحاج محی الدین منیری علیہ الرحمۃ -17- تجوری کی کنجی ۔۔۔ بقلم : عبد المتین منیری
صابو صدیق مسافر خانہ بمبئی میں ایک ایسی جگہ تھی جہاں پر ہندوستان بھر سے علماء و مسلم قائدین آتے تھے۔ میرا آفس اس کے روم نمبر ۱۲ میں واقع تھا۔ یہیں پر میرا اٹھنا بیٹھنا ہوتا۔ احمد غریب اپنی دکان پر رہتے ، اسی دوران ہمیں خیال آیا کہ حاجیوں کو ہوائی جہاز سے بھیجنے کا انتظام ہونا چاہئے۔ اب تک ہندوستانی حاجی پانی جہاز سے حج پر جاتے تھے۔ ابھی ہوائی جہاز کا سلسلہ شروع نہیں ہواتھا ۔ احمد غریب کا کہنا تھا کہ یہ انتظام ہمیں اپنے ہاتھوںمیں لینا چاہئے۔ پھر کیا تھا میرے آفس میں بکنگ شروع ہوگئی ۔
Maharashtra couple requests books as wedding gifts, uses them to set up a library
Weddings around the world have been going on for centuries. It’s the first step of getting married to one’s significant other and beginning a new life. That’s why initially gifts were a way to provide the married couple with every necessary item they’d need before they could start buying things for themselves. However, recently we’ve diverged from that tradition. Nowadays, gifts have become an afterthought. Some buy it at the last moment out of courtesy. Others simply recycle them because the
خبرلیجئے زباں بگڑی ۔۔۔ خبر لیجئے چلن بگڑا۔۔۔ تحریر: اطہر ہاشمی
فرائیڈے اسپیشل کے تازہ شمارے (22 تا 28 جون) میں پروفیسر آسی ضیائی مرحوم کی کتاب ’’درست اردو‘‘ پر ملک نواز احمد اعوان کا تبصرہ شائع ہوا ہے۔ آسی ضیائی کے صاحبزادے نے لکھا ہے کہ وہ اردو زبان کی صحت کے حوالے سے بہت فکرمند رہتے تھے جس کی وجہ سے وہ تقریباً ہر ملنے والے (خصوصاً اپنے گھر کے افراد) کی زبان کی اصلاح کرتے رہتے تھے۔ یہ بڑے حوصلے کی بات ہے خاص طور پر اپنے گھر والوں کی زبان درست کرنا۔ ہم تو گھر والی کے طعنوں سے سہم کر باز آگئے۔ رہے بچے، تو وہ اپنی ہی زبان بولتے ہیں۔ آسی ضیائی لکھتے ہیں کہ ’’
اقلیتی طلبہ کے لئے اسکالرشپ۔۔والدین درخواست دینے سے پہلے ضرور سوچیں ! ۔۔۔۔از:ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے........... گرمی کی چھٹیاں ختم ہونے کے بعد عصری اسکول دوبارہ کھل گئے ہیں۔ بچوں کی کتابیں ، اسٹیشنری اور یونیفارم کی خریداری کے سلسلے میں اسکولوں اور بازاروں میں بڑی گھماگھمی چل رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک اور ہلچل بھی تیز ہورہی ہے اور وہ ہے سرکار کے اقلیتی محکمہ کی جانب سے فراہم کی جانے والی پری میٹرک اور پوسٹ میٹرک اسکالرشپ حاصل کرنے کے لئے دستاویزات تیار کرنے اور درخواستیں جمع کرنے کی کوشش میں ایک جگہ سے دوسری جگہ بھاگ دوڑ کرنا۔اکثر سماجی خدمت گار قسم کے خیرخواہ اور کچھ
اگر حکومت کرنا ہے تو اس کے تقاضے پورے کرنا پڑیں گے۔۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی
کل ہند ہندو مہاسبھا کے صدر سوامی چکرپانی نے شری شری روی شنکر سے گفتگو کرتے ہوئے گائے کے نام پر مسلمانوں کے قتل کے واقعات کو پاگل پن قرار دیا ہے اور اس کی ذمہ داری مرکزی حکومت پر ڈالی ہے۔ سوامی جی نے کہا ہے کہ جب مسلمان گائے کشی کے لئے قانون بنانے پر راضی ہی تو حکومت قانون کیوں نہیں بناتی؟ سوامی چکرپانی نے شری شری روی شنکر سے کہا کہ تمام مذاہب کے رہنماؤں کی ایک میٹنگ بلائی جائے جس میں اس طرح کے تمام ایشو پر تبادلہ خیال ہونا چاہئے۔ سوامی جی نے صحیح کہا ہے کہ ہمیں یہ فکر ستا رہی ہے کہ یہ ملک کہاں ج
دامن پر خون کے داغ زبان پر عدم تشدد۔۔۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی
وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے 45 ویں من کی بات ایڈیشن میں کہا کہ تشدد اور ظلم سے کسی مسئلہ کو حل نہیں کیا جاسکتا۔ جیت ہمیشہ امن اور عدم تشدد کی ہی ہوتی ہے۔ دو دن پہلے وزیراعظم کے یہ الفاظ سن کر دماغ میں گدگدی ہونے لگی کہ وزیراعظم کے سامنے آئینہ رکھ دیا جائے۔ پھر مہاتما گاندھی کی ایک بات یاد آئی کہ ۔ انہوں نے ایک جگہ لکھا ہے کہ کسی سخت خط کے جواب میں میرے قلم سے بھی کوئی ایسا لفظ نکل جاتا ہے جو اس کا جواب ہوتا ہے اور میرے خیالات کا ترجمان۔ لیکن بعد میں اسے پڑھتا ہوں تو خیال ہوتا ہے کہ اس سے اسے تک
عبد القادر دامدا ابو ۔ ایک بے ضرر انسان ایک مخلص خادم دین... تحریر : عبد المتین منیری ۔ بھٹکل
WA:00971555636151 آج مورخہ 27 جون کی شام عبد القادر دامدا ابو ،اللہ کو پیارے ہوگئے ، انہوں نے عمرعزیز کے 85 سال اس دنیائے فانی میں گزارے ۔ بعد عشاء جنازہ اٹھا ، اور اپنی آخری آرام گاہ کی طرف روانہ ہوا۔ سخت بارش کے باوجود جامع مسجد نماز جنازہ پڑھنے والوں سے بھری ہوئی تھی ۔ جو اللہ کے بندوں میں آپ کی مقبولیت کی علامت تھی۔ مولانا محمد اقبال ملاصآحب کی زبانی جب نماز جنازہ کی پہلی تکبیر بلند ہوئی ، تو دل پر عجیب کیفیت طاری ہوئی ، آج سے چوالیس سال قبل کے جامعہ آباد کے مناظر سامنے گھومنے لگے ، مولان