Search results

Search results for ''


خبر لیجئے زباں بگڑی ۔۔۔ غلطہائے مضامین ۔۔۔ تحریر: اطہر ہاشمی

Bhatkallys Other

حضرت ماہرالقادری (مرحوم) پر یہ مصرع صادق آتا ہے کہ ’’ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں‘‘۔ انھوں نے اپنے رسالے ’فاران‘ میں متعدد کتابوں پر تبصرے کیے ہیں اور کسی کو بخشا نہیں ہے۔ انھوں نے ابوالاثر حفیظ جالندھری، جوش ملیح آبادی ہی کیا، سید سلیمان ندوی کی پکڑ بھی کی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ماہرالقادری کی کتابیں ’’ہماری نظر میں‘‘ (دو جلدیں)، اور ’’یادِرفتگاں‘‘ (دو جلدوں میں) جناب طالب الہاشمی نے مرتب کی اور ان کی اشاعت کا اہتمام کیا۔ لیکن کتابوں پر تبصرے میں طالب ہاشمی کی کتاب ’’سیرتِ عبداللہ بن زب

بھٹکل فسادات اور جگن ناتھ شیٹی کمیشن میں دلچسپ معرکہ! (چوتھی قسط) ۔۔۔۔از:ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ 

Bhatkallys Other

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے...........  کمیشن کے روبرو سوال وجواب کا منظر نامہ بھٹکل فسادات کے پس پردہ پوری ملت اسلامیہ کو گھیرے میں لینے اور اسلام اور مسلمانوں کو ہی جنگ و جدال اور فسادات کی اصل جڑ ثابت کرنے کی کوشش میں بدل گیا تھا۔ قارئین کو اس بات کاکچھ اندازہ اس قسط سے بھی ہوجائے گااورمزید قسطوں میں اسے کھل کر محسوس کیاجاسکے گا۔سنگھ پریوار کے ایک ہی وکیل نے پوری طرح محاذ سنبھال لیا تھا اور یکے بعد دیگرے ترکش سے اپنے تیر چھوڑتا جارہا تھا اور الحمدللہ میں بھی پوری یکسوئی کے ساتھ دفاعی محاذ پر جما

عبد اللہ دامودی ۔۔۔ ایک باصلاحیت کارکن ۔۔۔ تحریر : عبد المتین منیری ۔ بھٹکل

Bhatkallys Other

WA:+971555636151 عید الفطر کے دوسرے روزپتہ چلا کہ عبد اللہ دامودی صاحب چنئی سے آئے ہوئے ہیں۔ تو بندر روڈ پر ان کی رہائش کی طرف ہمارے قدم بڑھ گئے ۔ دو ماہ قبل اچانک خبر آئی تھی کہ آپ کی پیٹھ میں درد کی ٹیس اٹھی تھی ، اور ڈاکٹروں نے تشخیص کی تھی کہ ان کی ہڈیوں میں اندر تک کینسر سرایت کرگیا ہے ۔ انہیں فورا بنگلورسے لے جاکر چنئی میں عائشہ اسپتال میں داخل کردیا گیا ہے ، اور ان کی صحت بڑی تشویشناک ہوگئی ہے ۔ گھر پہنچا تو آپ آرام کرسی پر لیٹے تھے ، چہرے پر وہی بشاشت رواں دواں تھی جو آپ کی پہچان تھی ،

ہندوستان سے دوستی کی شرط کشمیر کو بھول جاؤ۔۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

کشمیر کا مسئلہ تین فریقوں کے درمیان کا نہیں دو فریقوں کا ہے۔ راجہ کے زمانہ میں کشمیر کے سب سے بڑے لیڈر شیخ محمد عبداللہ اور غلام عباس تھے۔ شیخ صاحب کی دوستی پنڈت نہرو سے تھی اور غلام عباس مسلم لیگ کے لوگوں کے قریب تھے۔ اس دوستی کے ہم بھی گواہ ہیں جب قومی آواز اخبار کی عمر ایک سال ہوئی تھی تو اس کی سالگرہ منائی گئی تھی اور دوسرے دن اخبار میں جو فوٹو چھپا تھا اس میں پنڈت نہرو درمیان میں تھے داہنی طرف شیخ عبداللہ اور بائیں طرف ایڈیٹر حیات اللہ انصاری تھے۔ ملک کی تقسیم کے بعد جب ریاستوں کو اختیار د

FB alerted police of minor girl’s suicidal post, they managed to save her in 30 mins

Bhatkallys Other

Social media can be a dangerous place sometimes. But other times, it can be the only place where someone can share their desperate cry for help. And these days, with the cases of cyber crimes, bullying and suicide amongst the youth on the rise, more and more authorities are keeping an eye out for any such cries for help, whether overt or covert. And this might have just helped save the life of a girl from Assam. Thanks to the timely action of Facebook authorities, the Assam Police was able to

ڈاکٹر رقیہ جعفری کی یاد میں ۔۔۔۔ تحریر : عبدا لمتین منیری ۔ بھٹکل

Bhatkallys Other

ammuniri@gmail.com آج 29 /جولائی  2018ء محترمہ ڈاکٹر رقیہ جعفری کی رحلت کی خبر سن کر دلی صدمہ ہوا ۔ وہ ہمارے محسن صدیق محمد جعفری مرحوم کی رفیق حیات تھیں ۔یہ جو کہا جاتا ہے کہ جوڑیاں آسمان پر بنتی ہیں  یہ جوڑی  اس کے مصداق تھی ۔  جعفری صاحب نے 2005 میں 63 سال کی عمر میں داعی اجل کو لبیک کہا ۔ اپنے شوہر نامدار کے بعد آپ  تیرہ سال بقید حیات رہیں ۔ اس  دوران آپ نے جعفری صاحب کی یاد دلوں میں زندہ رکھنے کے لئے بھرپور جتن کئے ، اور مرحوم کے مشن کو جاری رکھنے  کی  بساط بھر کوشش کرتی رہیں۔ایک وفا شعار

تصویر کا دوسرا رُخ۔۔۔۔۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

ت پاکستان کے بننے والے وزیراعظم عمران خان نے اپنی پارٹی کی اکثریت کی خبر کے بعد جو پہلا خطاب کیا ہے اس سے صاف محسوس ہورہا تھا کہ وہ خوشی سے اپنے قابو میں نہیں ہیں۔ انہوں نے سب سے اہم اعلان یہ کیا کہ وہ وزیراعظم ہاؤس میں نہیں رہیں گے۔ سرکار کے نام پر فضول اخراجات کو کم سے کم کریں گے ہر صوبہ کے گورنر ہاؤس کو خالی کراکے انہیں ہوٹل بنا دیں گے تاکہ ان کی آمدنی سے عوام کا فائدہ ہو۔ وزیراعظم ہاؤس کو بھی کسی فلاحی یا تعلیمی کام کیلئے وقف کردیں گے۔ اور جس قدر ممکن ہوسکے گا عوام کے پیسوں کو کم سے کم خرچ

آب بیتی الحاج محی الدین منیری ۔۔21۔۔۔ بھٹکل کا پہلا حافظ ۔۔۔ تحریر : عبد المتین منیری

Bhatkallys Other

M:00971555636151             بمبئی کے محمدعلی روڈ پر واقع چونا بھٹی  مسجد میں قاری فیروز مرحوم ایک زمانے میں بچوں کو قرآن حفظ کرایا کرتے تھے، یہاں پر دیوبند کے ایک جید عالم و فاضل مولانامحفوظ الرحمن کا بھی درس ہوا کرتا تھا، قاری فیروزاور میں نے ایک ساتھ۱۹۵۱ء میں حج کیا تھا، دوران حج ہم ساتھ ہی رہتے، اسی دوران سفر میں آپ کی رحلت ہوئی،قاری صاحب کا ہماری قوم پر ایک بڑا احسان ہے جس کا ذکر یہاں پر ضروری سمجھتا ہوں۔              میرے ایک دوست تھے قادر بادشاہ صاحب، ان سے میری بڑی بے تکلفی تھی، وہ ہمی

خبر لیجئے زباں بگڑی ۔۔۔ بمع کے ساتھ۔۔۔ تحریر : اطہر ہاشمی

Bhatkallys Other

کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز کی طرف سے اخباروں میں ایک اشتہار چھپا ہے جس کا ایک جملہ قابلِ توجہ ہے ’’اپنی درخواست بمعہ تمام جملہ کوائف کے ساتھ…‘‘ سی پی این ای مدیرانِ اخبارات کا ایک بہت معتبر ادارہ ہے۔ مدیروں کی ذمے داری زبان کی حفاظت اور صحیح زبان سکھانا بھی ہے۔ غالباً مذکورہ اشتہار کسی مدیر کی نظر سے نہیں گزرا۔ جملے میں ’’بمع‘‘ اور ’’کے ساتھ‘‘ مضحکہ خیز ہے۔ اوّل تو بمع کی جگہ ’’مع‘‘ کافی تھا، اس پر مستزاد ’’کے ساتھ‘‘۔ جب کہ بمع یا مع کا مطلب ہی ’’کے ساتھ‘‘ ہے۔ زبان کی ایسی غلطیاں اگر سی

اچھے تو کیا آئے برے بلکہ زیادہ برے دن آگئے۔۔۔۔۔ از:حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

وزیراعظم کو یاد ہوگا کہ چند روز پہلے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے بڑے درد کے ساتھ فرمایا تھا کہ۔ اس دیش میں ہو کیا رہا ہے؟ ان کی فکر بھیڑ کی حکمرانی اور دو دو کوڑی کے آدمی کے ہاتھ میں قانون دیکھنے کے بعد کی تھی۔ عمر میں وزیراعظم ہم سے کافی چھوٹے ہیں۔ انہوں نے وہ نہیں دیکھا جو ہم نے دیکھا ہے کہ انگریز جب ہندوستان کی حکومت ملک والوں کو دے کر گئے ہیں تو حالت یہ تھی کہ وزیر خزانہ جس تجوری کو دیکھتے تھے وہ خالی تھی یا اس میں ردّی کاغذ بھرے تھے۔ انگریزوں کے زمانہ میں ضرورت کی ہر چیز یورپ سے آتی تھی جو اُ

بھٹکل فسادات اور جگن ناتھ شیٹی کمیشن میں دلچسپ معرکہ! (تیسری قسط) ۔۔۔از:ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ 

Bhatkallys Other

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے...........  (....گزشتہ سے پیوستہ) آج کل سنگھی ذہنیت اور ہندوتواوادی سادھوسنتوں کے اجلاس سے خطاب کرتی ہوئی ایک خاتون کا ویڈیو وائرل ہوگیا جس میں اسلام پر جم کر حملہ کیا گیا ہے۔ یہ طرزفکرکسی ایک سادھو یا سادھوی کی سنک یا خر دماغی نہیں ہے ، بلکہ یہی آر ایس ایس کی اصل آئیڈیا لوجی ہے۔ آر ایس ایس کی طرف سے اپنے کیڈر کی انہی خطوط پر ذہن سازی برسہا برس سے کی جارہی ہے۔اور زندگی کے ہر شعبے میں اس طرح کے تربیت یافتہ زعفرانی بریگیڈس اور اراکین موجود ہیں۔اس کا سابقہ جگن ناتھ شیٹی کمی

کانگریس زیادہ خوش فہمی کا شکار نہ ہو۔۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

کانگریس ورکنگ کمیٹی نے 21 جولائی کی میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا تھا کہ عام انتخابات سے پہلے مختلف ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات بھی یکساں خیالات رکھنے والی پارٹیوں کے ساتھ مل کر لڑنے اور ان سے تال میل کرنے کی ذمہ داری صدر مسٹر راہل گاندھی کے سپرد کردی گئی ہے۔ بعد میں پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ ملک کی 12 ریاستوں میں کانگریس کو 150 سیٹیں مل سکتی ہیں اور پچاس سیٹیں ان صوبوں سے مل سکتی ہیں جہاں اتحاد کرکے پارٹی الیکشن لڑے گی۔ اس کے بعد یہ کہا کہ کانگریس الیکشن میں راہل گاندھی کے چہرہ کو وزیراعظ

اندھیرے میں اُجالے کی کرن۔۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

موجودہ حکومت پر عدم اعتماد کی تحریک بظاہر بہت بڑے فرق سے ناکام ہوگئی لیکن جو ہوا اس سے اندازہ نہیں یقین ہے کہ اس کے ذریعہ جو حاصل کرنا تھا وہ کم از کم کانگریس کو حاصل ہوگیا۔ صرف پچاس مہینے پرانی بات ہے کہ نریندر مودی نام کے لیڈر نے اچانک اپنی پہلی انتخابی تقریر میں ایک بار نہیں بار بار کہا کہ بھارت کو کانگریس مکت بنانا ہے۔ ہماری عمر اور گراں گوشی کا نتیجہ یہ تھا کہ پہلی بار سنا تو ہم سمجھ ہی نہ سکے کہ کیا کہہ رہے ہیں؟ اور پھر جب شری مودی نے اسے تکیۂ کلام بنالیا تو ہم بھی کانگریس کی طرف سے اتنے ز

آب بیتی الحاج محی الدین منیری ۔20۔ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی علیہ الرحمہ سے تعلق بیعت

Bhatkallys Other

تحریر : عبد المتین منیری  M : 00971555636151              سہارنپور کے سفر میں حضرت رائے پوری کے یہاں رات گزارکر صبح کے وقت حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمۃاللہ  علیہ کی مجلس میں حاضر ہوا ، یہ ناشتے کا وقت تھا چالیس پچاس افراد گھیرا ڈالے بیٹھے تھے، پاکستان سے چند  مقتدر شخصیات بھی آئی ہوئی تھیں، بھوپال میں تبلیغی جماعت کے امیر مولاناعمران خان ندوی بھی موجود تھے حضرت شیخ نے مجلس میں مجھ سے مخاطب ہو کر فرمایا منیری صاحب! اس محفل میں کسی کے ساتھ اگرا متیازی سلوک کیا جائے تو کیا اس م

سچی باتیں ۔۔۔ وطن سے محبت ۔۔۔ تحریر : مولانا عبد الماجد دریابادی مرحوم

Bhatkallys Other

عن ابن عباس قال قال رسول اللّٰہ المکة ما اطیبک بلد واحبک الی ولو ان قومی اخرجونی منك ما سکنت غیرك حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ(مکہ سے ہجرت کے وقت)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے مکہ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ تو کتنا پاکیزہ اور مجھے کتنا پیارا شہر ہے۔ اگر میری قوم نے مجھے نکلنے پر مجبور نہ کردیا ہوتا تو میں تجھے چھوڑکہیں اور جاکر (ہرگز) نہ بستا۔         یہ روایت جامع ترمذی کی ہے زرقانی وغیرہ سیر کی کتابوں میں بھی اسی مضمون کی روایات ہیں، زبان مبارک سے مکہ کی محبت ومحبوبیت کے یہ الفا

خبر لیجئے زباں بگڑی ۔۔۔ نہ ہی کا استعمال ۔۔۔ تحریر : اطہر ہاشمی

Bhatkallys Other

ابوالاثر حفیظ جالندھری کو کسی نے یہ شعر سنایا دیکھا جو تیر کھا کے کمین گاہ کی طرف اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی حفیظ صاحب نے پوچھا ’’یہ کس کا شعر ہے؟‘‘ کہا ’’آپ ہی کا تو ہے‘‘۔ کہنے لگے ’’میں نے تو یہ کہا تھا ’’دیکھا جو کھا کے تیر کمین گاہ کی طرف‘‘۔ اس شعر کا چرچا یوں ہوا کہ اے این پی کے رہنما غلام احمد بلور نے سانحہ یکہ توت کے پس منظر میں یہ شعر پڑھا ہے اور اسی طرح پڑھا جیسا عوام کی زبان پر چڑھا ہوا ہے۔ مگر حفیظ نے اسے اپنا شعر تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ غلط العوام شع

تبصرہ کتب : باتیں مشفق خواجہ کیں ۔۔۔ تحریر : ملک احمد اعوان

Bhatkallys Other

نام کتاب: باتیں مشفق خواجہ کی (مکتوبات مشفق خواجہ بنام تحسین فراقی) مرتب: ڈاکٹر حمیرا ارشاد صفحات: 360روپے قیمت 600 روپے ناشر: رنگِ ادب پبلی کیشنز۔ آفس نمبر 5 ،کتاب مارکیٹ اردو بازار۔ کراچی فون: 021-32761100 0345-2610434 ای میل: rangeadab@yahoo.com www.facebook.com/rangeadab ڈاکٹر تحسین فراقی کے نام جناب مشفق خواجہ کے 202 خطوط اس کتاب میں جمع کردیے گئے ہیں، اور یہ کام ڈاکٹر صاحب کی ایک شاگرد ڈاکٹر حمیرا ارشاد صاحبہ صدر شعبہ اردو لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی کے ہاتھوں مکمل

بھٹکل فسادات اور جگن ناتھ شیٹی کمیشن میں دلچسپ معرکہ! (دوسری قسط )۔۔۔۔۔از:ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ 

Bhatkallys Other

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے...........  (...گزشتہ سے پیوستہ)یہ بات بھی ذہن میں ضرور رہے کہ کمیشن کے رو برو سوالات کے جواب میں اور خصوصاً مخالف وکیلوں کے الزامات Suggestions کے جواب میں صرف انکار یا اقرار کرنا ہوتا ہے۔ زیادہ تفصیل سے بات رکھنے کا موقع بھی نہیں ملتا اور تفصیل میں جانے کے چکّر میں آدمی خود ہی اپنے جال میں پھنسنے کاپورا خطرہ رہتاہے۔جبکہ مخالف پارٹی کے وکیلوں کی طرف سے الزامات اور سوالات، گواہوں کو کمزور کرنے، اشتعال دلانے اور ان کی زبان سے اپنے مطلب کے جوابات حاصل کرنے کی غرض سے ہی کئے