Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors
Abdul Haleem Mansoor
Abdul Majid Daryabadi
Abdul Mateen Muniri
Abdur Raqeeb M.J Nadwi
Ahmed Hatib Siddiqui
Asif Jilani
Athar Hashmi
Bhatkallys
Dr Badrul Hasan Qasmi
Dr Haneef Shabab
Dr. F Abdur Rahim
Dr. Tahir Masud
Hafiz Naumani
Kaldip Nayar
Masoom Muradabadi
Masud Ahmed Barkati
Mohammed Mateen Khalid
Muhammed Furqan
Nizamuddin Nadwi
Riyazur Rahman Akrami Nadwi
Suhail Anjum
نیّرِ تاب دار تھا نہ رہا.... کلدیپ نیر جدید ہندوستان میں کئی تاریخی اور اہم واقعات کے گواہ تھے۔۔۔از:فیصل فاروق
حالیہ دِنوں کئی ایسی عظیم شخصیتیں ہم سے رخصت ہوئیں جنہوں نے اپنی ادبی اور صحافتی سرگرمیوں کی وجہ سے قارئین کا ایک وسیع حلقہ بنا لیا تھا۔ اُنہی محترم شخصیات میں سے ایک کلدیپ نیر بھی ہیں۔ کلدیپ نیر طویل مدت سے بیمار چل رہے تھے اور ۹۵/سال کی عمر میں اِس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ آزاد ہندوستان کی صحافت کے اہم ستون کلدیپ نیر نہ صرف عظیم صحافی بلکہ ایک عظیم انسان تھے۔ اُن کی خاص بات یہ تھی کہ وہ ہندوستان کے بٹوارے سے لے کر نریندر مودی کے عروج تک کے تاریخ ساز عہد کے چشم دید گواہ تو تھے ہی بلکہ اُنہوں ن
خبر لیجے زباں بگڑی ۔۔۔ دوران سعی اچک کر جانا ۔۔۔ تحریر : اطہر ہاشمی
پچھلے سے پچھلے شمارے میں عبدالخالق بٹ نے ہند اور ہندو کے حوالے سے تحقیقی مقالہ لکھ ڈالا ہے۔ ہندو کالے کو کہتے ہیں، اس پر شیخ ابراہیم ذوق کا ایک شعر سن لیجیے: خط بڑھا، کاکل بڑھے، زلفیں بڑھیں، گیسو بڑھے حسن کی سرکار میں جتنے بڑھے ہندو بڑھے پہلے مصرع میں جن چار چیزوں کا ذکر ہے وہ سب کالی ہوتی ہیں، کم از کم جوانی میں۔ پھر تو چونڈا سفید ہوجاتا ہے۔ کہاں کی زلفیں اور گیسو۔ شعر استاد کا ہے لیکن کبھی یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ ذوقؔ کے محبوب کا ’خط‘ سے کیا تعلق؟ اگر وہ کاکلوں اور زلفوں والا ہے تو اس ک
بھٹکل فسادات اور جگن ناتھ شیٹی کمیشن میں دلچسپ معرکہ! (ساتویں قسط)۔۔۔از:ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ
(گزشتہ سے پیوستہ) جب کمیشن میں میری حاضری ہوئی تھی اور سنگھ پریوار کے وکیلوں کے ساتھ دلچسپ معرکہ چلا ہواتھا تو شاید دوسرے دن بھٹکل سے ہمارے مزید کچھ گواہان کی ٹیم کمیشن کے سامنے حاضر ہونے کے لئے تنظیم کی طرف سے بنگلورو پہنچی تھی۔ اس میں 1993کے فسادات کے دوران شدید زخمی ہونے والے مولانا علی سکری اکرمی صاحب مرحوم کے علاوہ جناب ایس ایم عبدالقادرصاحب اور دیگرکچھ احباب تھے۔ جناب ثناء اللہ گوائی کے بقول اس دوران انہوں نے بھی کمیشن کی کارروائی ملاحظہ کی تھی۔ ہمارے نقطۂ نظر سے جناب مولانا علی سکری اکرمی
Telugu IAS Officer saves 2 lakh people in Alleppey during Kerala flood with quick thinking
Often times we find ourselves complaining about inefficient government officials for everything that’s wrong with the way our country is run. They are written off as lazy corrupt men and women who don’t care about doing their jobs right. And to be fair, this is true in many cases. However, credit should be given where it is due and that’s what we’re going to do today. This is Krishna Teja Mylavarapu. He is a Telugu IAS officer who serves as the sub-collector of Alappuzha district in Kerala.
خبر لیجے زباں بگڑی ۔ تمہیں اور ہمیں ۔۔۔ تحریر : اطہر علی ہاشمی
ہم پنجابی محاورے کے مطابق شہتیراں نوں جپھے (شہتیروں سے معانقہ) کے اہل ہرگز نہیں ہیں۔ جناب عطا الحق قاسمی بڑے کینڈے کے ادیب و شاعر ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ ان کو پڑھ پڑھ کر تو ہم نے اپنی اردو صحیح کی۔ کچھ سال قبل انہوں نے اپنے ایک دوست کی یاد میں کالم لکھا جس کا عنوان ہے ’’تمہی سوگئے داستاں کہتے کہتے‘‘۔ اصل مصرع ہے ’’ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے‘‘۔ اس میں حسبِ موقع ترمیم کرنی تھی تو مناسب تھا کہ ’’ہمیں‘‘ کی جگہ ’’تمہیں‘‘ استعمال کرتے۔ تمہیں (ضمیر حاضر) لغت سے باہر کا لفظ نہیں ہے۔ اردو کا ایک محاورہ
کیا اللہ کریم نے دوسرا کرکرے پیدا کردیا۔۔۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی
ممبئی میں اے ٹی ایس نے وہی کیا ہے جو اسی شہر میں اس سے پہلے ایک بہت نیک نام پولیس افسر ہیمنت کرکرے نے کیا تھا۔ اے ٹی ایس نے بھی مسٹر کرکرے کی طرح دایاں بایاں دیکھ کر گردن پر ہاتھ ڈالا ہے۔ اور ایک مشہور تنظیم سناتن سنستھا کے پھیلے ہوئے جال کے تار ملانے کی کوشش کی ہے۔ اس نے جتنا پکڑا ہے اور جن منصوبوں کو ناکام بنایا ہے اس پر اگر اے ٹی ایس بروقت ہاتھ نہ ڈال دیتی تو نہ جانے کہاں کہاں کیا کیا ہوگیا ہوتا؟ اور ان دھماکوں کے الزام میں نہ جانے کتنے مسلمان پہلے جہنم کے عذاب سے گذر چکے ہوتے اور اب جیل میں
اگر اب بھی نہ جاگے تو۔۔۔۔۔۔از: محمد الیاس ندوی بھٹکلی
ملت اسلامیہ تاریخ کے نازک موڑ پر *ہوش اڑادینے والے واقعات* :۔ ۱) آج یوم عرفہ ہے اور کل انشاء اللہ عیدالأضحی کا دن ، ظاہر بات ہے کہ عید کی شادمانی اور گھروالوں کے ساتھ پرُ سکون ماحول میں عیدمنانے اور قربانی کے تصور ہی سے اس عظیم نعمت کے حصول پر اللہ رب العزت کا پیشگی شکراداکرتے ہوئے جسم کا رواں رواں سجدہ ریز ہ ہورہاہے، لیکن فجر بعد کچھ دیرآرام کے بعد جب آنکھ کھلتی ہے تو برادرِ گرامی مولانا شمس الدین صاحب بجلی قاسمی( جنرل سکریٹری جمعیت العلماء کرناٹک )کے ایک فون سے ہوش اڑادینے والے
یادیں یادیں لہو میں ڈوبی یادیں۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی
ہوسکتا ہے میری طرح اور بھی کچھ لوگ ہوں جو سوچ رہے ہوں کہ پنڈت نہرو نے جو انتقال سے صرف چند دن پہلے شیخ محمد عبداللہ کو رِہا کراکے دہلی بلایا اور اپنا کوئی پیغام لے کر پاکستان بھیجا اور شیخ کی واپسی سے پہلے ہی وہ دنیا چھوڑ گئے۔ اس کے بعد شاستری جی کو تو زندگی نے موقع ہی نہیں دیا لیکن ان کی لخت جگر اندرا گاندھی تو برسوں وزیراعظم رہیں انہوں نے یا ان کے بعد کانگریس کے بننے والے وزراء اعظموں نے کیوں سنجیدگی سے یہ کوشش نہیں کی کہ پڑوسی ملک پاکستان سے تعلقات ہر اعتبار سے اچھے ہوجائیں۔ اور یہ جذبہ اٹل ج
ہندوتا کے متعصبوں میں گھرا شاعر۔اٹل بہاری واجپائی... تحریر : آصف جیلانی
ہندوستان کے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے اس دنیا سے اٹھ جانے کی خبر سن کر مجھے 1959کے وہ دن یاد آگئے جب مجھے ان کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملاتھا ۔ میں دلی میں پارلیمنٹ سے ایک پتھر کی مار کے فاصلے پر رائے سینا ہوسٹل میں رہتا تھا۔ میرے پڑوس میں اٹل بہاری واجپائی کی ہمشیرا رہتی تھیں اور تقریبا ہر شام واجپائی ان سے ملنے آتے تھے اور اس موقع پر اچھی خاصی محفل جمتی تھی ۔ مجھے بھی اس محفل میں شامل ہونے کا کئی بار موقع ملا۔ اس محفل میں واجپائی نہایت شستہ اردو میں بات کرتے تھے اور غالب، میر اور فیض
خبر لیجے زباں بگڑی ۔۔۔ ہند ، ہندو اور چوکھٹ ۔۔۔ تحریر : اطہر ہاشمی
پاکستان کی بیرونی امداد تو کھٹائی میں پڑ گئی ہے لیکن ہمیں اس کالم کے لیے وافر بیرونی امداد مل رہی ہے، اتنی کہ ہمیں کچھ لکھنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آرہی۔ پہلی امداد اسلام آباد کے نوخیز دانشور عبدالخالق بٹ کی طرف سے موصول ہوئی ہے۔ انہوں نے 10 اگست 2018ء کے شمارے میں شائع ہونے والے کالم کے چند نکات پر توجہ دلائی ہے۔ لکھتے ہیں: ’’1۔ راقم نے اپنے مکتوب میں ’’ہندستان‘‘ درج کیا تھا جو بعد از اشاعت ’’ہندوستان‘‘ ہوگیا ہے۔ محققین کے نزدیک ’’ہندستان‘‘ کو ترجیح حاصل ہے۔ اس کی سادہ سی دلیل یہ ہے کہ اس خطے کو
بھٹکل فسادات اور جگن ناتھ شیٹی کمیشن میں دلچسپ معرکہ! (چھٹی قسط)۔۔۔۔از:ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے........... (گزشتہ سے پیوستہ .....) پچھلے دنوں رابطہ تعلیمی ایوارڈ اجلاس میں شرکت کے لئے نائب وزیراعلیٰ کرناٹک ڈاکٹر جی پرمیشورا بھٹکل تشریف لائے تھے تو یہاں کے نومنتخب رکن اسمبلی سنیل نائک نے انہیں میمورنڈم پیش کرتے ہوئے جو مطالبات رکھے تھے ان میں دو باتیں خاص توجہ طلب ہیں۔ ایک تو جسٹس جگن ناتھ شیٹی کمیشن اور جسٹس رامچندریا کمیشن کی رپورٹ کو منظر عام پر لانے کی مانگ ہے۔ دوسرے شہر کے اطراف میں چیک پوسٹ قائم کرکے ’ہتھیاروں کی اسمگلنگ‘ روکنے کا مطالبہ ہے۔مزے کی بات تو ی
71 سالہ کشیدگی بدستور برقرار۔۔۔از:کلدیپ نیئر
بھارت کی آزادی سے تین دن قبل یعنی 12 اگست 1947ء کو میرے والد نے، جو ڈاکٹر تھے، ہم تینوں بھائیوں کو طلب کیا اور پوچھا ہمارا پروگرام کیا ہے۔ میں نے بتایا کہ میں پاکستان میں ہی رہنا چاہتا ہوں جیسے بہت سے مسلمان بھارت میں ہی رہیں گے۔ میرے بڑے بھائی نے، جو امرتسر میں ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کر رہا تھا مداخلت کرتے ہوئے کہا، کہ مغربی پنجاب میں مسلمان ہندوؤں کو گھر خالی کرنے کے لیے کہیں گے جس طرح کہ مشرقی پنجاب میں ہندو مسلمانوں کو نکلنے کے لیے کہیں گے، میں نے کہا یہ کس طرح ممکن ہے۔ اگر ہندو گھر خالی
خبر لیجئے زباں بگڑی ۔۔۔ مچھلی بازار کا شور ۔۔۔ تحریر : اطہر علی ہاشمی
ایک مضمون نما افسانے میں یہ دل چسپ جملہ نظر سے گزرا ’’چوکھٹ کی دہلیز… لیکن اتنی اونچی نہیں کہ ہاتھ اس تک نہ پہنچ پاتے۔‘‘ جملے سے ظاہر ہے کہ موصوفہ کو چوکھٹ کا مطلب ہی نہیں معلوم، نہ یہ معلوم ہے کہ چوکھٹ اور دہلیز ایک ہی چیز ہے۔ چوکھٹ اونچی نہیں ہوتی بلکہ قدموں میں ہوتی ہے اور اسی کو دہلیز کہتے ہیں۔ دروازے کی نیچے کی لکڑی کو چوکھٹ کہتے ہیں، اس تک ہاتھ کیا پیر بھی پہنچ جاتے ہیں۔ ’’چوکھٹ کو چومنا‘‘ محاورہ ہے، اگر یہ اونچی ہو تو بڑا مسئلہ ہوجائے گا۔ کچھ دن پہلے ہی تو ایک سیاست دان اپنی اہلیہ کے سات
بھٹکل فسادات اور جگن ناتھ شیٹی کمیشن میں دلچسپ معرکہ! (پانچویں قسط) از:ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے........... (گزشتہ سے پیوستہ ) الحمدللہ سابقہ اقساط پر میرے کئی خیر خواہ علماء اور بزرگ قدردانوں نے شہر اور بیرون شہر سے اپنے ستائشی تاثرات سے نوازا۔ اس موضوع کی اہمیت اور اس کو جس مؤثر انداز میں ہینڈل کیا گیا ہے اس کو دیکھتے ہوئے اسے افادۂ عام کی خاطر کتابی شکل میں شائع کرنے کی نہ صرف تجویز دی بلکہ میرے دو بہت ہی ہمدرد اور قدردان علمائے کرام نے اس کے اخراجات میں اپنا مالی تعاون تک دینے کی پرخلوص پیش کش کی۔ اللہ انہیں اس جذبے کے لئے بہترین اجر سے نوازے۔ بہر حال اس دلچس
مسلم سینا کا نام لینا بھی طوفان کو دعوت دینا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی
ہم الحمد للہ نہ کم آمیز ہیں نہ مردم بے زار، بعض جسمانی معذوریوں کی وجہ سے تقریباً 15 سال سے خانہ قید جیسی زندگی گذار رہے ہیں۔ اپنے گھر کے سامنے مشہور رائے اُماناتھ بلی ہال ہے جہاں آئے دن کوئی علمی یا ادبی تقریب ہوتی ہے، جی چاہنے کے باوجود وہاں بھی سال میں دو چار بار ہی جانے کی ہمت ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ اچانک کسی کا مضمون سامنے آتا ہے یا کوئی اچھی غزل دل پر دستک دیتی ہے تو اپنے عزیز بھانجے میاں اویس سنبھلی سے معلوم کرنا پڑتا ہے کہ یہ کون ہے؟ اس لئے کہ وہ ہماری جیسی ہی دلچسپی کے ساتھ ادبی ماحول می
تری ذہنیت کا غم ہے غم بال و پر نہیں ہے۔۔۔۔۔ از:حفیظ نعمانی
جس خبر میں ایسا کوئی اشارہ ہو کہ مسلمانوں کو نقصان ہوگا یا وہ پریشان ہوں گے اسے گلے میں ڈھول ڈال کر ملک بھر میں بجانے کا ایک پارٹی نے اپنا دھرم بنا لیا ہے۔ شرم کی بات یہ ہے کہ سب سے زیادہ اسے اچھالنے والے وہ ہیں جن کو دنیا کی سب سے بڑی پارٹی کا صدر کہلانے کا شوق ہے۔ آسام میں برسوں سے یہ مسئلہ چھڑا ہوا ہے کہ آسام میں ایسے بھی لوگ ہیں جو آسامی نہیں ہیں یہ الجھن اس لئے پیدا ہوئی کہ ملک کی تقسیم کے وقت انصاف اور انسانیت نوازی کے بجائے نفرت کی چھری چل رہی تھی جب مسٹر جناح نے ملک کی تقسیم کے اپنے فیص
سچی باتیں ۔۔۔ بھوک ہڑتال ۔۔۔ تحریر : مولانا عبد الماجد دریابادی
صحیح مسلم جامع ترمذی، حدیث نبوی کی مشہور ترین, مستند ترین کتابوں میں سے ہیں. دونوں کی روایت ہے کہ عرب کے مشہور جنرل اور رسول کے مشہور صحابی سعدبن ابی وقاص رضی اللہ عنہ جب اپنی کم سنی میں اور رسولِ برحق کی شروع رسالت ہی میں ایمان لے آئے تو ان کی والدہ بہت بگڑیں (حلفت ام سعدان لاتکلمہ ابدا حتی یکفر بدینہ) اور اسی حالت میں قسم کھا بیٹھی کہ میں ہرگز تو تجھ سے بولوں چالوں گی نہیں جب تک تو اپنے اس نئے نرالے دین سے دست بردار نہ ہو جائے گا اور بولنا چالنا کیسا اس وقت تک نہ کھاؤں گی نہ پیوں گی،
عمران کی تاج پوشی سے پہلے ہی مخالف میدان میں۔۔۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی
ہندوستان اور پاکستان میں 71 سال کے بعد بھی بہت سی باتیں مشترک ہیں۔ ہندوستان میں بھی ہر الیکشن کے بعد حکمراں پارٹی پر بے ایمانی کرنے اور الیکشن کمیشن پر نظر انداز کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے بلکہ الیکشن کمیشن پر حکمراں پارٹی کی مدد کرنے کا الزام بھی لگایا جاتا ہے۔ اور یہی پاکستان میں ہوتا ہے۔ پانچ سال پہلے جب الیکشن ہوئے تھے تو نواز شریف پر الزام تھا کہ انہوں نے ووٹ ڈلوانے میں بھی بے ایمانی کرائی اور ووٹ شماری میں بھی۔ اب نواز شریف اور زرداری کی پارٹی عمران خان پر الزام لگا رہی ہے کہ فوج نے ان کے