Search results

Search results for ''


جناب اطہر ہاشمی کے نام ۔۔۔ مفتی منیب الرحمن

Bhatkallys Other

حیدر علی آتش کا شعر ہے لگے منہ بھی چڑھانے، دیتے دیتے گالیاں صاحب زباں بگڑی تو بگڑی تھی، خبر لیجے دہن بگڑا اس شعر سے استفادہ کرتے ہوئے روزنامہ جسارت کے چیف ایڈیٹر جنابِ اطہر ہاشمی نے فرائیڈے اسپیشل میں اپنے کالم کا عنوان باندھا ہے:’’خبر لیجے زباں بگڑی‘‘، اس میں وہ زبان وبیان کی اصلاح کا فریضہ انجام دیتے ہیں ۔دورِ حاضر میں اردو زبان کے تحفظ کے لیے یہ وقت کی اہم ضرورت ہے ،کاش کہ ہماری جامعات میں شعبۂ اردو کے اساتذہ وطلبہ اور صحافت سے وابستہ لوگ ان تحریروں سے استفادہ کریں ۔ ’’خبر لیجے زبا

مجلس اصلاح و تنظیم کے لئے ایوارڈمبارک ہو۔۔مگر ان ریمارکس کا کیا؟!۔۔۔۔۔۔از:ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ 

Bhatkallys Other

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے...........  بھٹکل کے مسلمانوں کے لئے اس ہفتے یقیناًدل خوش کردینے والی خبر یہ رہی کہ ٹائمز گروپ کے تحت چلنے والے کنڑا روزنامے وجئے کرناٹکا نے شمالی کرناٹکا کے جن 39اداروں کو ایوارڈ سے نوازا اس میں مسلمانوں کے باوقار اور معروف مرکزی ادارے مجلس اصلاح و تنظیم کا نام بھی شامل رہا۔حالانکہ ایک صدی سے قائم مجلس اصلاح و تنظیم کے ذریعے کی جارہی مخلصانہ خدمات اب کسی ایوارڈ اور اعزاز کی محتاج نہیں ہیں۔ کیونکہ ایک زمانہ اس کے بے لوث کارناموں پر گواہ ہے اور اہلِ نظر و اہلِ دل نے اس کے

ہم پر انگریزی کیسے مسلط ہوئی ۔۔۔ آصف جیلانی

Bhatkallys Other

برطانیہ کے مشہور تاریخ دان لارڈ مکالے 1834 سے 1838 تک ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے بورڈ آف کنٹرول کے سیکرٹری تھے۔ 1835میں انہوں نے برطانوی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا ’’ میں نے ہندوستان کے طول و عرض کا سفر کیا ہے اور ہندوستان کی فضا میں سانس لی ہے۔ میں نے اس دوران ایک شخص بھی نہیں دیکھا جو بھک منگا اور چور ہو۔ اس ملک میں اتنی دولت دیکھی ہے، اتنی اعلیٰ اخلاقی قدریں دیکھی ہیں اور اعلیٰ قابلیت کے لوگ دیکھے ہیں۔ ہم اس ملک کو اس وقت تک فتح نہیں کر سکتے جب تک کہ ہم اس قوم کی ریڑھ کی ہڈی کو

خبر لیجے زباں بگڑی ۔۔۔ ہاتھ میں ید بیضا۔۔۔ تحریر : اطہر علی ہاشمی

Bhatkallys Other

شہرِ اقتدار اسلام آباد سے ایک قاری نے اعتراض کیا ہے کہ پچھلے شمارے میں کسی بے نام شاعر کے ہاتھوں پامالی پر تو آپ نے پکڑ کی ہے لیکن ایسی بدحواسیاں تو بڑے نامور شاعروں سے بھی سرزد ہوئی ہیں، مثال کے طور پر عبیداللہ علیم کا یہ شعر ملاحظہ فرمائیے کن ہاتھوں کی تعمیر تھا میں کن قدموں سے پامال ہوا عبیداللہ علیم بڑے شاعروں میں شمار ہوتے ہیں اور ان کے کئی مجموعے موجود ہیں، اور یہ دعویٰ بھی کہ ’’پہلا شاعر میرؔ ہوا اور اس کے بعد میں‘‘۔ ان سے کسی نے نہیں پوچھا کہ ’’قدموں سے پامال‘‘ کیسے ہوتے ہیں۔ ظاہر

کیا ہماری اجتماعی زندگی میں کسی طوفان کے اشارے مل رہے ہیں؟۔۔۔۔از: ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ

Bhatkallys Other

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے...........   پچھلے کچھ دنوں سے مجلس اصلاح وتنظیم کی اجتماعی قیادت اور مختلف علاقوں کے چند نوجوانوں کا تصادم عوامی منظر نامے پر کچھ ایسے اشارے دے رہا ہے کہ جس کے بارے میں سوچ کر ہی دل و دماغ پریشان ہوجاتے ہیں۔یہ سچ ہے کہ افراد ہی کی طرح قوموں کی اجتماعی زندگی میں بھی نشیب و فراز آتے رہتے ہیں۔اختلاف رائے مخالفت میں اورکسی فیصلے سے متفق نہ ہوناآپسی ناچاقیوں کا روپ بھی لیتے رہتے ہیں۔ لیکن افرادِ قوم اگرقرآنی حکم کے مطابق سیسہ پلائی ہوئی دیوار (بُنیانِ مرصوص) بننے کے بجائے بن

خبر لیجے زباں بگڑی --- ہاتھوں سے پائمال کرنا ۔۔۔۔ تحریر : اطہر علی ہاشمی

Bhatkallys Other

شعر تو خوب ہے، آپ بھی سنیے ، یا پڑھیے کوئی تو بات ہوگی جو کرنے پڑے ہمیں اپنے ہی خواب، اپنے ہی ہاتھوں سے پائمال اس شعر میں ’ہی۔ہی‘ کی معیوب تکرار سے قطع نظر ’’ہاتھوں سے پائمال‘‘ کرنے کا جواب نہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ شاعر کو پائمال کا مطلب نہیں معلوم۔ ’پامال‘ یا ’پائمال‘ کا مطلب ہے ’’پیروں سے روندنا، کچلنا‘‘۔ ’پا‘ کا مطلب ’پیر‘ ہے۔ شاعری میں پائے کوب کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے یعنی پیروں سے کوٹنا، لاتیں مارنا وغیرہ۔ اب یہ کوئی شاعر ہی بتائے کہ ہاتھوں سے پیروں کا کام کیسے لیا جاتا ہے؟ اور پھر خواب

سچی باتیں ۔۔۔ کلمہ توحید کی اہمیت ۔۔۔ مولانا عبد الماجد دریابادی

Bhatkallys Other

        بعثَنا رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم إلى الحُرَقَةِ، فصَبَّحْنا القومَ فهزَمْناهم، ولَحِقْتُ أنا ورجلٌ من الأنصارِ رجلًا منهم : فلما غَشِيناه قال : لا إلهَ إلا اللهُ، فكَفَّ الأنصاريُّ عنه، فطَعَنْتُه برُمحي حتى قَتَلْتُه، فلما قَدِمْنا بلَغ النبيَّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم فقال : ( يا أسامةُ، أقَتَلْتَه بعد ما قال لا إلهَ إلا اللهُ ) . قُلْتُ : كان مُتَعَوِّذًا، فما زال يُكَرِّرُها، حتى تَمَنَّيْتُ أني لم أكُنْ أسلَمْتُ قبلَ ذلك اليومِ  (بخاری باب بعثۃ النبی صلی اللّٰہ علیہ و سلم

بربط دل کے تاروں کو چھیڑنے والا شاعر ۔ ڈاکٹر محمد حسین فطرت ۔۔۔۔ تحریر : عبد المتین منیری

Bhatkallys Other

Whatsapp:00971555636151   ستمبر 19 کی صبح ابھی مسجد وں سے اللہ اکبر کی صدائیں بلند نہیں ہوئی تھیں ، خبر آئی کی محمد حسین فطرت صاحب اب ہم میں نہیں رہے ، رات دیڑھ بجے انہوں نے داعی اجل کو لبیک کہا اور سب کو چھوڑ کر دائمی سفر پر روانہ ہوگئے ۔ ان کی عمر اس وقت (۸۴) سال تھی ۔آپ نے مورخہ  جون ۱۹۳۲ء اس دنیائے رنگ و بو میں حاجی عبد القادر شینگیری مرحوم کے گھرمیں جنم لیا تھا۔ آپ کی رحلت کے ساتھ بھٹکل میں اردو شعرو ادب کا ایک عہد اختتام کو پہنچا جس کا آغاز بھی آپ ہی سے ہوا تھا۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ پہلے

کرناٹکا کی مخلوط ریاستی حکومت پر لٹکتی ’آپریشن کنول۔۳‘ کی تلوار۔۔۔از:ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ 

Bhatkallys Other

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے...........  ایسا لگ رہا ہے کہ کرناٹکا کی ریاستی مخلوط حکومت اور زعفرانی کنول میں چل رہی سیاسی بقا کی جنگ اپنے نقطۂ عروج کو پہنچ چکی ہے اور آئندہ چند دنوں کے اندرکوئی دھماکہ خیز نتیجہ سامنے آنے والا ہے۔ ریاست کے سیاسی منچ پر کھیلے جارہے اس ڈرامے کا آخری سین کس کے لئے المیہ(Tragedy) بنے گا اور کس کے لئے خوشگوار اختتام(Happy Ending) بن کر سامنے آئے گا ،یہ دیکھنا دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا ۔محسوس یہ ہورہا ہے کہ ’آپریشن کنول ۔۳ ‘ کی افواہوں کے بیچ دن بدن کروٹ لیتے ہوئے حالات نے

Court holds fastest trial in Madhya Pradesh, sentences rape accused to death in 3 days

Bhatkallys Other

India’s judicial system has been criticised for a long time due to its pace. And the criticism is justified because it took five brutal years for the Supreme Court to uphold the death sentences in the Nirbhaya case. Additionally, the time that’s being taken on the Kathua case is already taking its toll as evidences are being botched. However, a court in Madhya Pradesh might’ve ignited some hope among Indians. According to Hindustan Times, a court in Datia, Madhya Pradesh held a three day tria

سچی باتیں ۔۔۔ مومن فاسق ۔۔۔ تحریر : مولانا عبد الماجد دریابادی رحمۃ اللہ علیہ

Bhatkallys Other

         عن عمر بن الخطاب  ان رجلا علی عہد النبی صلی اللّٰہ علیہ و سلم کان اسمہ عبد اللّٰہ کان یلقب حمار، کان یضحک رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و سلم قد جلدہ فی الشراب فاتی بہ یوما فامر بہ فاجلدہ فقال رجل من القوم اللّٰھم العنہ ما یؤتی بہ فقال النبی صلی اللّٰہ علیہ و سلم لا تلعنوہ فو اللّٰہ ما علمت الا اللّٰہ یحب اللّٰہ ورسولہ ۔بخاری ، الحدود         حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص نام عبداللہ تھا اور وہ حمار کے لقب سے مشہور تھے اور وہ

شیعہ اہل علم اور اہل قلم اپنا فرض ادا کررہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

یہ 2013 ء کی بات ہے، قمری مہینہ ذی الحجہ کا ہی تھا کہ عزیز محترم خواجہ انورالدین پروپرائٹر نامی پریس کا فون آیا کہ آپ تو قیصر باغ میں ہیں ہم جیسے لوگ جو پرانے لکھنؤ میں ہیں ان پر کل کیا بیت جائے کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ افسوس اس کا ہے کہ ماحول خراب کرنے کی ذمہ داری سنی حضرات پر ہے۔ اور یہ کوئی نئی تنظیم ہے جس کا تعلق پاٹانالہ سے نہیں ہے۔ ہم تو سوچتے ہیں کہ دو مہینے کے لئے بیٹے کے پاس دوبئی چلے جائیں؟ یہ پوری بات سن کر میرے جیسے آدمی پر جو گذری ہوگی اس کے ذکر سے فائدہ کیا۔ اس گفتگو کے دو دن کے بعد م

یوپی کے عظیم اتحاد کی حفاظت سب مل کر کریں گے۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

اترپردیش میں عظیم اتحاد کے خاکہ کی شہرت ایسی گولی نہیں ہے جسے سب حلق سے اتارلیں، اس اتحاد کے ایک فریق کانگریس کے اہم لیڈر کپل سبل نے کل منورنجن بھارتی سے صاف الفاظ میں کہا کہ ان کے وزیراعظم راہل گاندھی ہیں۔ اور ابھی کسی اتحاد کا خاکہ پوری طرح تیار نہیں ہے۔ سبل صاحب خود راجیہ سبھا کے ممبر کانگریس کے بل پر نہیں ہیں بلکہ دوسری پارٹیوں کی دوست نوازی کا صلہ ہیں۔ انہیں 2017 ء میں صوبائی اسمبلی کے اتحاد میں صرف 7 سیٹوں پر کامیابی ملی تھی جس کا سبب اکھلیش یادو نہیں تھے راج ببر اور غلام نبی آزاد تھے جو ا

بھٹکل فسادات اور جگن ناتھ شیٹی کمیشن میں دلچسپ معرکہ! (آٹھویں اور آخری قسط)۔۔۔از:ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ 

Bhatkallys Other

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے...........  (گزشتہ سے پیوستہ....) تحقیقاتی کمیشن میں ڈاکٹر چترنجن سے ہمارے وکلاء کی جرح کا آخری دن تھا۔ الحمدللہ اس جرح کے دوران ممکنہ حد تک ڈاکٹر کو گھیرنے اور سنگھ پریوار کے مسلم دشمن نظریا ت کا پرچار کرکے بھٹکل کے امن و امان بگاڑ کر ہندوؤں اور مسلمانوں کے بیچ نفرت کے بونے اور فسادات برپا کرنے کا ذمہ دار ٹھہرانے کی پوری کوشش کی گئی۔ڈاکٹر چترنجن نے بھی سوالات کے اس گھیرے سے بچ کر نکلنے پوری کوشش کی توبعض مقامات پر ان سے کوئی جواب بن نہیں پڑا اور صرف الزامات کی تردید

سچی باتیں ۔۔۔ عورت سے مصافحہ ۔۔۔ مولانا عبد الماجد دریابادی رحمۃ اللہ علیہ

Bhatkallys Other

          قال معمرٌ: فأخبرَني ابنُ طاووسٍ، عن أبيهِ، قالَ: ما مَسَّت يدُ رسولِ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ يدَ امرأةٍ إلَّا امرَأةً يملِكُها - جامع الترمذی کتاب التفسیر           جامع ترمذی، حدیث کی مشہورومستند کتابوں میں سے ہے،  اس میں  معمرروایت کرتے ہیں ابن طاؤس سے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے  کبھی زندگی بھر کسی عورت کے ہاتھ کو مس کیا ہی نہیں، بجز اپنی بیوی صاحبوں کے۔            راوی نے  "امراۃ یملکھا" (بجز  اس عورت کے جو آپ کے ملک میں تھی) کہہ کر عالم انسانیت کی جو ناقابل

Rajasthan Judge recites emotional hard-hitting poem while sentencing a rapist to death

Bhatkallys Other

In a country where crimes against women are increasing at an alarming rate, we came across another barbaric one on August 2. A 22-year-old man in Rajasthan’s Jhunjhunu district was found guilty of raping a 3-year-old minor girl. The man responsible for the brutal act was slammed with a death sentence Friday by a POCSO court in Jhunjhunu under Section 376AB of IPC which was introduced under The Criminal Law Amendment Act, 2018 last month and has a provision for a death sentence for the rape of

خبر لیجے زباں بگڑی ۔۔۔ سناؤنی آگئی ۔۔۔ تحریر : اطہر علی ہاشمی

Bhatkallys Other

بعض پڑھے لکھے لوگ بھی ’برخاست‘ کا املا درخواست کی طرح کرتے ہیں یعنی برخواست۔ برسبیلِ تذکرہ درخواست کا تلفظ بھی درخاست ہے۔ اس کا وائو خاموش رہتا ہے جیسے خویش اور خواب وغیرہ۔ تلفظ خیش اور خاب ہوگا۔ فرائیڈے اسپیشل کے ایک پرانے شمارے میں مرحوم رسا چغتائی کے بارے میں صحافیوں کے استاد اور ادیب طاہر مسعود کا ایک جملہ تھا ’’سناؤنی موت کی آگئی‘‘۔ بڑا اچھا اور ادبی جملہ تھا لیکن لفظ سناونی شاید نئے لوگوں کے لیے نامانوس ہوگیا ہے چنانچہ پروف ریڈر یا کسی ایڈیٹر نے اسے آسان بنادیا کہ ’’بلاوا موت کا آگیا‘‘۔ ا

داغی ممبر حکومت اور سپریم کورٹ ۔۔۔از: حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

پورے سال میں عید کا دن ایسا ہوتا ہے کہ میرے اپنے بیٹے بیٹیاں، پوتے پوتیاں، نواسے نواسیاں اور پرنواسے پرنواسیاں جو ہندوستان میں ہیں وہ میرے پاس ہوتے ہیں۔ ان میں وہ بہوئیں بھی شامل ہیں جن کو بہو بناکر لایا تھا اور بیٹی بناکر رکھے ہوئے ہوں۔ اللہ رب کریم کا کرم ہے کہ ان کی تعداد چالیس سے زیادہ ہے۔ اگر عید کے اس دن جب میرا ہر چھوٹا میرے پاس ہو کوئی غیر آئے اور لان میں کھڑا ہوکر مجھے پھٹکارنے لگے کہ ہم نے تم سے معلوم کیا تھا کہ تمہارے بچوں میں کون کون بیمار ہے اور وہ کس کس مرض کا مریض ہے؟ جس کا جواب