Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors
Abdul Haleem Mansoor
Abdul Majid Daryabadi
Abdul Mateen Muniri
Abdur Raqeeb M.J Nadwi
Ahmed Hatib Siddiqui
Asif Jilani
Athar Hashmi
Bhatkallys
Dr Badrul Hasan Qasmi
Dr Haneef Shabab
Dr. F Abdur Rahim
Dr. Tahir Masud
Hafiz Naumani
Kaldip Nayar
Masoom Muradabadi
Masud Ahmed Barkati
Mohammed Mateen Khalid
Muhammed Furqan
Nizamuddin Nadwi
Riyazur Rahman Akrami Nadwi
Suhail Anjum
جیتنے والا گھوڑا لاؤ کی لعنت نے ملک کو تباہ کردیا....از: حفیظ نعمانی
آزادی کے وقت عام لوگوں میں سیاسی شعور اس لئے نہیں تھا کہ وہ ایک ایسی حکومت میں زندگی گذار رہے تھے جو ہزاروں میل دور سے آئے ہوئے ان انگریزوں کے ہاتھ میں تھی جن کے اور ہمارے درمیان کوئی چیز مشترک نہیں تھی۔ اور یہ بھی نئی بات تھی کہ اتنا بڑا ہندوستان جس کی آبادی اس وقت 36 کروڑ تھی اسے ایک دن میں ہی آزادی ملنا تھی اگر قسطوں میں آزادی ملتی اور پہلے مغربی حصہ آزاد ہوتا پھر سال دو سال کے بعد شمالی ہوتا تو مشرقی اور جنوبی حصہ میں آباد لوگ وہاں کے لوگوں سے یہ معلوم کرلیتے کہ انہوں نے حکومت کا نظام کیسا ب
تنظیم میڈیا ورکشاپ۔ مثبت سمت میں بڑھتے قدم۔ کیا ایک بڑی چھلانگ لگانا ممکن ہے! (تیسری قسط)۔۔۔از:ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے........... پچھلی قسط میں ہم نے فیلڈ میں موجود بھٹکلی مسلم صحافیوں کے ساتھ ساتھ ان کا بھی ذکر کیا جو صحافتی ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد عملاً اس پیشے یا مہم سے وابستہ نہیں ہوپائے ہیں۔یا پھر صحافتی میدان کا عملی تجربہ ہونے کے باوجود میڈیا کے محاذ پر ہمارا جو اہم مشن اور مقصد ہے اس کو پورا کرنے کے سلسلے میں پوری طرح سرگرم عمل نہیں ہوسکے ہیں۔ ٹھیک ہے کہ ہم میں سے کچھ لوگ اردو جرنلزم میں یا پھر سوشیل میڈیا پر اپنی زبان میں ہمارے شہر سے متعلق کچھ سرگرمی دکھاتے ہوں، لیکن ہمارا نشا
خبر لیجے زباں بگڑی ۔۔۔ کام کا دائرہ کار ۔۔۔ تحریر : اطہر ہاشمی
کہتے ہیں کہ خطائے بزرگاں گرفتن خطا است، لیکن اب ہم خود بزرگ ہوگئے ہیں اس لیے کوئی ہرج نہیں۔ یہ ہرج بھی عجیب لفظ ہے اور عموماً ’ہرج‘ اور ’حرج‘ میں گڑبڑ ہوجاتی ہے۔ ہرْج (را ساکن) عربی کا لفظ ہے اور مطلب ہے شورش، ہنگامہ، دنگا، فتنہ، نقصان، خسارہ، خلل، وقفہ، ڈھیل، دیرٍ۔ اردو میں بفتح ’ر‘ یعنی ہَرج مستعمل ہے اور عموماً نقصان کے معنیٰ میں آتا ہے، جیسے آپ کی وجہ سے میرا بڑا ہرج ہوا، یا فلاں کام کرنے میں ہرج ہی کیا ہے! عدالتی معاملات میں یہ کہا جاتا ہے کہ ’’ہرجہ، خرچہ ادا کرنا ہوگا‘‘۔ یہ اس صورت می
موبائیل میرا ،کرنسی میری اورفائدہ ان کا۔۔۔۔از:محمد الیاس بھٹکلی ندوی
کچھ ماہ قبل بنگلور میں برادر م مولوی یوسف بیگ صاحب ندوی کی اسکوٹر پر اپنی قیام گاہ سے صبح دس بجے جامع مسجد سٹی آتے ہوئے میرا موبائیل راستہ میں کہیں گرگیا اور مجھے اس کا پتہ بھی نہیں چلا،میں بہت دیر تک اس خوش فہمی میں رہاکہ اللہ کا شکر ہے کہ آج مجھے اپنے کاموں میں خلل ڈالنے والی باربار بجنے والی گھنٹی سے نصف یوم تک چھٹی ملی ہے لیکن میری یہ وقتی خوشی اس وقت کافور ہوئی جب میں نے ظہر بعد کسی کام سے فون کرنے کے لیے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا تو معلوم ہواکہ وہ کب کا مجھ سے روٹھ کر کسی اور کی خدمت میں پہنچ
ملک کے موجودہ حالات میں امکانات کی روشنی بھی ہے۔۔۔از: مولانا یحیٰ نعمانی
ملک کے حالات کی ایک تصویر تو آپ کو میڈیا سے ملتی ہے، جو دکھاتی ہے کہ ملک میں مسلمانوں سے نفرت اورغصہ بھر گیا ہے۔ آئے دن کے واقعات اس کی گواہی دیتے ہیں۔ شدت ونفرت اور غضب وانتقام پسندی کی یہ آگ اصل میں تو انتہا پسند تنظیموں کی لگائی ہوئی تھی ہی، لیکن ہر لمحے مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا کرنے والا مواد نشر کر کے اس کو طوفانی شکل دینے کا کام بے ضمیرمیڈیاانجام دے رہا ہے۔ اور سرمایہ داروں کی لوٹ اور حکومت کی بد کرداریوں کو چھپانے اور مظلوم طبقات کی جد وجہد دبانے کے لیے بکاؤ میڈیا اور سیاسی پارٹیاں آگ ب
’’ ۔۔۔مگر کم بخت۔۔ آزاد۔۔ ہوگیا ‘‘ ۔۔۔۔۔۔از: ندیم صدیقی
روزنامہ’’ ممبئی اُردو نیوز‘‘ کا تازہ کالم ’’شب و روز‘‘ ہم ہندوستانی مسلمانوں میں ایک طبقہ تھا جو اپنے آپ کو پیدائشی کانگریسی کہا کرتا تھا(ہو سکتا ہے اب بھی ہو)، وہ سب سے پہلے کانگریسی ہوتے تھے پھر کچھ اور اُن کی وضع قطع بھی ایسی ہوتی تھی کہ دیکھ کر لگتا تھا کہ واقعی یہ گاندھیائی فکر و عمل کے آدمی ہوںگے مگر یہ معاملہ ہم مسلمانوں کے عام ظاہر و باطن جیسا ہی ہوتا تھا ، یہ لوگ اپنی قوم ملت کے وفادار ہوتے تھے یا نہیں مگر کانگریسی آقاؤں کے جاں نثار غلام ضرورہوتے تھے۔ ان کی وفاداریاں کس درجے
اتنی نہ بڑھا پاکیِ داماں کی حکایت۔۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی
یہ اچھا ہوا یا برا یہ تو ہم نہیں جانتے لیکن یہ حقیقت ہے کہ نہ ہمیں کسی نے وزیر بنایا اور نہ ہم نے بننا چاہا۔ اس لئے ہم یہ نہیں جانتے کہ جسے وزیر بنایا جاتاہے اور جو محکمہ اسے دیا جاتا ہے اس کے ذمہ صرف اس محکمہ کے ذریعہ ملک اور قوم کی خدمت ہوتی ہے یا اس سے اس کے علاوہ پارٹی کے کام یا اپنے لیڈر کی شان میں جھوٹا سچا قصیدہ بھی پڑھنا ہوتا ہے؟ ہم برسوں سے مختار عباس نقوی کو وزیر بنا دیکھ رہے ہیں سیاسی زبان میں وہ بی جے پی کا مسلم چہرہ ہیں۔ اور اس لئے جب ایک دوسرے مسلم چہرہ پر نوخیز لڑکیوں نے تیز انداز
اللہ کی رحمت سے مایوسی کفر ہے۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی
اکتوبر جسے برسوں سے مسلم یونیورسٹی کے سابق طلباء سرسید ڈے کے طور پر مناتے ہیں اور کئی برس سے لکھنؤ میں وہ سب سے زیادہ اہمیت حاصل کرتا جارہا ہے اسی تقریب میں اس سال کانگریس کے ایک ممتاز لیڈر غلام نبی آزاد مہمان خصوصی تھے۔ جنہوں نے بہت کچھ کہنے کے دوران یہ بھی کہہ دیا کہ ایک زمانہ میں کانگریس کے اُمیدواروں کی 95 فیصدی درخواستوں میں اپنے حلقہ میں تقریر کرنے کیلئے غلام نبی آزاد کا پروگرام رکھنے کا مطالبہ ہوتا تھا اب وہ گھٹ کر 20 فیصدی رہ گیا ہے۔ ان کی تقریر کے اس جملہ پر ممتاز صحافی افتخار گیلانی ن
تنظیم میڈیا ورکشاپ۔ مثبت سمت میں بڑھتے قدم۔ کیا ایک بڑی چھلانگ لگانا ممکن ہے! (دوسری قسط )۔۔۔۔از: ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے........... میں نے سابقہ قسط میں صحافت یا جرنلزم کے میدان میں بھٹکلی مسلم نوجوانوں کی شرکت اور فعالیت کے تعلق سے کچھ اشارے کیے تھے اور سوا ل اٹھایا تھا کہ کیا صحافتی میدان میں ملّی مفاد اور مسلمانوں کے کاذ کو اجاگر کرنے کی جدوجہدمیں ہمارا رول اطمینان بخش یا امید افزا ہے! اور یہ احساس ظاہر کیا تھا کہ اس کا مثبت جواب دینا ذرا مشکل ہے۔ اسی سوال کا جواب پانے کے لئے زمینی حقائق کا جائزہ لینا ضروری ہے جس کے لئے صحافتی میدان میں مواقع اورہماری سرگرمیوں کا تجزیہ کیاجانا چاہیے۔ مجل
خبر لیجئے زباں بگڑی ---راز افشاں ہوگئے ۔۔۔ تحریر :اطہر علی ہاشمی
گزشتہ دنوں جسارت کے صفحہ اوّل پر ایک خبر میں ’’استفادہ حاصل کرنا‘‘ شائع ہوا ہے۔ ہم اپنے ساتھیوں کو سمجھا رہے تھے کہ استفادہ میں حاصل کرنے کا مفہوم شامل ہے، چناں چہ استفادہ کرنا کافی ہے، کہ اسی وقت ہمارے بہت محترم منصفِ اعلیٰ (چیف جسٹس) جسٹس ثاقب نثار کی تقریر ٹی وی چینل پر آنے لگی (20 اکتوبر)۔ وہ بھی استفادہ حاصل کررہے تھے۔ اب اس لفظ کو عدالتِ عظمیٰ کا فیصلہ قرار دینا چاہیے۔ ایم کیو ایم کے ایک دھڑے کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار بہت اچھی اردو بولتے ہیں لیکن اپنے ایک خطاب میں وہ ’’دست بدستہ‘‘ معافی
سچی باتیں ۔۔۔ نفسیات بشری ۔۔۔ تحریر : مولانا عبد الماجد دریابادی مرحوم
اللہم انی استغفرك مما تبت الیک منه ثم عدت فیه واستغفرك لما اعطیتک من نفسی ثم لم اوف لک بہ واستغفرک النعم التی تقویت بھا علی معصیتی و استغفرک لکل خیر اردت بہ الیک تخالطنی فیہ ما لیس لك اے اللہ میں تجھ سے معافی چاہتا ہوں اس گناہ سے جس سے میں نے توبہ کی اور پھر لوٹ کر اس میں بڑا اور میں تجھ سے معافی چاہتا ہوں اس چیز کے بارے میں جس کا میں نے تجھ سے وعدہ کیا اور پھر اسے پورا نہ کیا اور میں تجھ سے معافی چاہتا ہوں اس نیکی کے بارے میں کہ اسے میں نے خالص تیرے ہی لئے کرنا چاہیے
الہ آباد کو اب سابق الہ آباد لکھا جائے گا۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی
اُترپردیش کی حکومت نے دھرم کا ایک بہت بڑا قرض اُتار دیا یعنی الہ آباد کا نام بدل کر پریاگ راج کردیا۔ حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس کا نام ہمیشہ سے پریاگ راج ہی تھا مسلمانوں نے اس کا نام تبدیل کردیا تھا۔ اس شہر میں گنگا جمنا اور سرسوتی کا سنگم ہوتا ہے جسے پریاگ راج کہا جاتا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ الہ آباد اسٹیشن اور یونیورسٹی کا نام بھی اب تبدیل کردیا جائے گا۔ یہ تبدیلی مغل سرائے اسٹیشن جیسی سادہ نہیں ہے الہ آباد ایک طرح سے ریاست کا لکھنؤ کے بعد دوسرا مرکزی شہر سمجھا جاتا ہے ہائی کورٹ بھی ال
خبر لیجے زباں بگڑی ۔۔۔ وہ قرض جو واجب تھے ۔۔۔ تحریر : اطہر علی ہاشمی
قوم کتنی مقروض ہے یہ سب کو معلوم ہے، لیکن ہم پر قارئین کا قرض چڑھا ہوا ہے اور ہم تو کسی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پاس بھی نہیں جاسکتے کہ یہ مکڑی کا ایسا جالا ہے جس میں کمزور پھنس جاتا اور طاقت ور اسے توڑ ڈالتا ہے، چنانچہ اپنا قرض آپ ہی اتارتے ہیں۔ اسلام آباد سے عبدالخالق بٹ کی رگِ ظرافت ’’ہاتھوں سے پائمال‘‘ پڑھ کر پھڑک اٹھی، چنانچہ انہوں نے بھی ردا جمایا ہے، لکھتے ہیں کہ ’’ہاتھوں سے پائمال پڑھ کر صورتِ حال کو تصور میں لائے تو ایک پل کے لیے دل دہل گیا اور ٹرانسپلانٹ کے عمل سے
تنظیم میڈیا ورکشاپ۔ مثبت سمت میں بڑھتے قدم۔ کیا ایک بڑی چھلانگ لگانا ممکن ہے! (پہلی قسط)۔۔۔از:ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے........... الحمدللہ مجلس اصلاح و تنظیم کی طرف سے منعقدہ صحافتی کارگاہ (جرنلزم ورکشاپ) بحسن و خوبی کامیابی سے ہمکنار ہوا جس کا اندازہ شاندارختتامی اجلاس( n veledictory functio)سے ہوا۔ دراصل اس ہفتے میں LGBTQکمیونٹی سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے پس منظر میں مضمون لکھنے کے پروسیس میں تھا، لیکن تنظیم کے میڈیا ورکشا پ کے اختتامی اجلاس میں شرکت اور کچھ مقررین کے خطابات سننے کے بعدمیڈیا میں مسلم نمائندگی مسائل کے موضوع کو ہی ترجیح دینے کا ارادہ کرلیا ۔لہٰذا اسی حوالے سے آئ
غیرتمند کو اُنگلی اُٹھنے سے پہلے استعفیٰ دے دینا چاہئے۔۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی
ہم صحافی تو نہ پہلے تھے نہ آج ہیں لیکن اس خاندان میں پیدا ہونے کا اسے اثر کہا جائے گا جہاں سے ہماری پیدائش کے تین سال کے بعد والد نے ایک ماہنامہ رسالہ نکالنا شروع کیا تھا۔ اور ہم جب کھیلنے کی عمر میں آئے تو اپنے ہم عمر بچوں کے ساتھ وہیں کھیلتے تھے کہ رسالہ تیار ہوگیا اسے لفافہ میں بند کردیا اس پر ٹکٹ لگا دیا اور پورے ملک میں بھیج دیا۔ اور ایسے ہی کھیل کھیلتے کھیلتے رسالہ بھی نکالا اخبار بھی نکالے اور پریس کو بھی روزی روٹی کا ذریعہ شاید اسی شوق میں بنا لیا۔ اور دوستوں میں یہ بات مشہور ہوگئی کہ حف
کیا جنگوں کی وجہ، مذہب ہے؟۔۔۔۔از: آصف جیلانی
وہ لوگ جو مذہب کے بارے میں تشکیک میں الجھے ہوئے ہیں، وہ بڑے یقین سے دعویٰ کرتے ہیں کہ جنگوں کی اصل وجہ مذہب ہے۔ اپنے اس دعوے کے حق میں وہ سولہویں صدی میں فرانس میں کیتھولک اور پرٹسٹنٹ فرقوں کے درمیان آٹھ جنگوں کی مثال پیش کرتے ہیں جو 36 سال تک جاری رہیں۔ پھر یہ صلیبی جنگوں کا ذکر کرتے ہیں جو کم و بیش ایک صدی تک جاری رہیں اور موجودہ دور کی دہشت گردی کی لہر کی وجہ مذہب قررار دیتے ہیں۔ دنیا کی تاریخ اس بات کی شہادت نہیں دیتی کہ تمام بڑی جنگوں کے پس پشت بنیادی محرک مذہب تھا اس کے برعکس دنیا میں زیا
سچی باتیں ۔۔۔ موسیقی اور اسلام ۔۔۔ تحریر : مولانا عبد الماجد دریابادی مرحوم
موسیقی یونان میں نصاب تعلیم کا ایک اہم جزو تھی(گروٹ کی ہسٹری آف گریس جلد 8 صفحہ 311)کوئی تعلیم مکمل نہ سمجھی جاتی،جب تک موسیقی نہ آ جاتی۔ ”فلاسفہ موسیقی کو اس کے قدیم ووسیع معنی نیز جدید و محدود معنوں میں دونوں طرح تربیت سیرت کا ایک خاص تعلیمی عنصر قرار دیتے تھے“ (انسائیکلوپیڈیا برناٹیکا جلد 16 صفحہ 3) اور موسیقی کے اس شرف و منزلت کو تنہا یونان ہی میں کیوں محدود رکھیئے مصر میں، بابل میں، ہندوستان میں، کس قدیم تہذیب اور کس جاہلی تمدن میں گانے بجانے کا مرتبہ ہٹیا، اور راگ مالا کا مقام ن
خبر لیجے زباں بگڑی - ایک جید عالم کی سند ۔۔۔۔ تحریر : اطہر ہاشمی
نہایت محترم اور جیّد عالم حضرت مفتی منیب الرحمن نے تو ہمیں دنیا میں مشہور کردیا، بہت شکریہ۔ انہوں نے ہمیں مخاطب کرکے روزنامہ دنیا میں (6 اور 7 اکتوبر) بہت جامع مضمون تحریر کیا ہے۔ یہ پورا مضمون فرائیڈے اسپیشل کے اسی شمارے میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ ہمیں تو خوشی اس بات کی ہے کہ اتنے بڑے عالم نے ہمیں درخور اعتنا جانا۔ ہم چپکے چپکے ان سے کسب علم کرتے رہتے ہیں اس طرح وہ بالواسطہ ہمارے استاد ہوئے۔ یہ ان کا انکسار ہے کہ وہ زبان و بیان کی اصلاح کے شعبے میں مبتدی ہیں اور ہمیں ’’متخصص‘‘ سمجھتے ہیں۔ اس مشک