Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors
Abdul Haleem Mansoor
Abdul Majid Daryabadi
Abdul Mateen Muniri
Abdur Raqeeb M.J Nadwi
Ahmed Hatib Siddiqui
Asif Jilani
Athar Hashmi
Bhatkallys
Dr Badrul Hasan Qasmi
Dr Haneef Shabab
Dr. F Abdur Rahim
Dr. Tahir Masud
Hafiz Naumani
Kaldip Nayar
Masoom Muradabadi
Masud Ahmed Barkati
Mohammed Mateen Khalid
Muhammed Furqan
Nizamuddin Nadwi
Riyazur Rahman Akrami Nadwi
Suhail Anjum
بڑے بھائی نے اپنا فرض ادا کردیا۔۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی
تین دن کی غیرحاضری کا کسے کسے جواب دیں، ہر بار محبت کرنے والے یہ سمجھتے ہیں کہ لکھنے والا بیمار ہوگیا۔ جبکہ زندگی میں اور بھی نہ جانے کتنے مسائل ایسے ہیں جو ہاتھوں میں ہتھکڑی ڈال دیتے ہیں۔ اور یہ میں کس سے کہوں کہ یہ محبت ہی میری کمر تھامے ہوئے ہے ورنہ یہ عمر ایسی نہیں ہے کہ اپنے پیاروں کی محبت میں تلوار لے کر نکلا جائے۔ ان تین دنوں میں قدرت نے وہ دکھایا جو پروردگار بار بار زبان سے نکلوا رہا تھا کہ اہل خانہ ہی نہیں تعلق والے بھی پریشان تھے کہ دیکھئے کیا ہو؟ اور یہ ٹوٹا پھوٹا آپ کا بھائی سب سے ا
خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ گندہ دھندہ۔۔۔ تحریر: اطہر علی ہاشمی
آئیے، آج پہلے اپنا جائزہ لیں۔ منگل 27نومبر کے جسارت کے ادارتی صفحے کے ایک مضمون کی سرخی ہے ’’گندہ ہے پر دھندہ ہے یہ‘‘۔ ’گندہ‘ اور ’دھندہ‘ دونوں الفاظ ہندی کے ہیں اور ان کے آخر میں ’ہ‘ (ہائے ہوز) نہیں بلکہ الف ہے، یعنی ’گندا‘ اور ’دھندا‘۔ اس کی پہچان ذرا مشکل ہے کہ کہاں ’ہ‘ آنی چاہیے اور کہاں ’ا‘۔ ہندی الفاظ میں عموماً یہ گول ’ہ‘ نہیں آتی، لیکن یہ کیسے معلوم ہو کہ لفظ ہندی کا ہے یا کسی اور زبان کا؟ یہ تو سکہ بند ادیبوں کو پڑھنے یا لغت دیکھنے ہی سے معلوم ہوسکتا ہے۔ لیکن یہ ’’سکہ بند‘‘ کی ترکی
میڈیا کے مختلف رنگ... ایک رول ماڈل جو بن گیا عبرت کی مثال! (پانچویں اور آخری قسط)۔۔۔۔از: ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے........... میڈیا کے موضوع کو طول دینا شائد کچھ قارئین کے لئے دلچسپی کا باعث نہ رہے۔ لیکن میں اس موضوع پر ذراتفصیل سے بات کرنے کی کوشش اس توقع سے کی گئی کہ میڈیامیں دلچسپی رکھنے والے دو چار نوجوانوں کی بھی اس سے تھوڑی بہت رہنمائی ہوجائے اور کچھ بنیادی باتیں ان پر واضح ہوجائیں تو میری محنت کا پھل مجھے مل جائے گا۔ سابقہ قسط میں سوشیل میڈیا پر ہمارے نوجوانوں اور عام گروپس کی سرگرمیوں کا حقیقت پسندانہ جائزہ لینا کچھ لوگوں کو ناگوار گزرا۔ حالانکہ اس حقیقت نگاری کو پسند کرنے و
دیکھو کیا گذرے ہے قطرہ پہ گہر ہونے تک ۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی
اگر کوئی اکثریت نہیں بہت بڑی اکثریت میں ہے اور اس کی تائید کرنے والے زرخرید اور اندھے ہیں تو پھر یہ سوچنے کی ضرورت نہیں کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔بال ٹھاکرے والی شیوسینا کے ممبر پارلیمنٹ سنجے راوت نے ایک بیان مارا ہے کہ ہم نے بابری مسجد 17 منٹ میں گرادی تھی (یہ الگ بات ہے کہ وہ 17 منٹ دن بھر چلتے رہے تھے) تو قانون بنانے میں کتنا وقت لگتا ہے؟ ہمیں یہ تو نہیں معلوم کہ ان کی تعلیم کیا ہے اور یہ بات وہ کس سے معلوم کررہے ہیں کہ قانون بنانے میں کتنا وقت لگتا ہے؟ اور یہ اس خبر کے تین دن کے بعد کہہ رہے ہیں ک
خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ یوٹرن یا رجعت قہقری ۔۔۔ اطہر علی ہاشمی
آج کل ذرائع ابلاغ میں یو۔ٹرن کا بڑا چرچا ہے، اور ہر ایک اپنی سمجھ کے مطابق اس کے معانی نکال رہا ہے۔ اس کے لیے اردو میں ایک لفظ ہے جو کم کم استعمال ہوتا ہے لیکن کبھی کبھی پڑھنے میں آجاتا ہے، اور یہ لفظ ہے ’’رجعت قہقری‘‘۔ بنیادی طور پر تو یہ دونوں الفاظ عربی کے ہیں، تاہم رجعت اردو میں بہت عام ہے۔ قہقری کا تلفظ ایسا ہے کہ حلق چھل جائے، اس لیے اس کا استعمال کم ہے مگر اردو لغات میں موجود ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یو۔ٹرن کا یہ بڑا جامع ترجمہ ہے۔ لغت کے مطابق مونث ہے اور مطلب ہے ’’الٹے قدموں پھرنا، اس طرح و
تن ہمہ داغ داغ شد۔۔۔از: مولانا محمد الیاس جاکٹی ندوی
بدن زخموں سے چُور چُور ہے اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے :۔ آج جب رات کو لیٹنے کے لیے بستر پر گیا تو بہت دیر تک نیند نہیں آئی،غیر محسوس بے چینی وبے قراری ساتھ نہیں چھوڑ رہی تھی، گزشتہ تین دنوں میں عالم اسلام میں پیش آنے والے مختلف اندوہناک واقعات کے تصور ہی سے اپنے کمزور ایمان کے احساس کے باوجود دل ودماغ متاثرتھا، وہ کیا پریشان کُن واقعات تھے جنھوں نے میری آنکھوں سے بہت دیر تک نیند کو کوسوں دور کردیاتھا، آپ بھی سن لیجیے اور شریکِ غم ہوجائیے:۔ جب معمول کے مطابق کل میں نے فجر بعد تازہ عالم
ہوا سے لڑائی ایودھیا پر چڑھائی۔۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی
رام مندر کے نام پر ایودھیا میں 25 نومبر کو دھرم سبھا میں لاکھوں ہندوؤں کو بلاکر کس کو دھمکانا اور کس پر دباؤ ڈباؤ ڈالنا ہے یہ تو حکومت جانے۔ ہم تو صرف یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ ملک میں ہندوؤں کی حکومت ہے اور ہندو بھی وہ ہیں جو اپنی مسلم دشمنی کو ملک کے ہر حصہ میں دکھاتے ہوئے حکومت کی کرسی تک آئے ہیں تو پھر وہ رام مندر کا مطالبہ کس سے کرنے کے لئے آرہے ہیں؟ بات بی جے پی کی ہو، وشوہندو پریشد کی ہو، آر ایس ایس کی ہو یا شیوسینا کی سب صرف رام مندر رام مندر کی بات کرتے ہیں جبکہ اصل مسئلہ زمین کے اس ٹک
اب دیکھو کیا دکھائے نشیب و فراز دہر۔۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی
اتنے بڑے ملک میں نہ جانے کتنے لوگ اس بات پر حیران ہوں گے کہ دس برس ڈاکٹر منموہن سنگھ وزیراعظم بن کر ملک پر حکومت کرکے چلے گئے اور ایک بار بھی نہ ان کا مسئلہ سپریم کورٹ میں آیا نہ الیکشن کمیشن سے کوئی غلط کام کرانے کا ان پر الزام لگا۔ یہ تو گول گول اور بند بند الفاظ میں مخالفوں نے کہا کہ حکومت سی بی آئی سے غلط کام لے رہی ہے لیکن یہ الزام نہیں لگا کہ کسی کو جال میں پھانس کر جیل بھیج دیا ہو یا کسی کی بیوی بیٹی پر جھوٹے الزام لگوائے ہوں یا ذلیل کرنے کی نیت سے تلاشی کے چھاپے ڈلوائے ہوں۔ اور دس برس می
مسلم نام مٹانے کی مہم۔۔۔۔۔از:حسام صدیقی
الٰہ آباد کا نام پریاگ راج، فیض آباد کا ایودھیا اورمغل سرائے کا نام دین دیال اپادھیائے کرنے کے پیچھے کوئی ثقافتی وجہ نہیں بلکہ مسلم دشمنی ہے۔ ابھی مظفر نگر، آگرہ، اعظم گڑھ، غازی پور، شاہجہاں پور، مرادآباد، غازی آباد اور لکھنؤ سمیت ان درجنو ں شہروں کے نام بھی تبدیل کئے جانے ہیں جنہیں مسلمانوں نے بسایا تھا یا مسلمانوں سے ان کا کوئی خاص تعلق رہا ہے۔ وزیراعلیٰ آدتیہ ناتھ یوگی کو مسلمانوں اور مسلم ناموں سے نفرت ہے یہ بات کسی سے چھپی نہیں ہے۔ ابھی تو وہ اترپردیش کے مالک بن چکے ہیں جب گورکھپور س
نوٹ بندی سے ہر سطح پر نقصان۔۔۔۔از:حسام صدیقی
وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعہ بغیر سوچے سمجھے ایک تغلقی فیصلے سے ہوئی نوٹ بندی کے دو سال ہوچکے ہیں آٹھ نومبر کو کانگریس نے پورے ملک میں نوٹ بندی سے ہوئے نقصانات سے عام لوگوں کو با خبر کرنے کے لئے خصوصی مہم چلائی تو بھارتیہ جنتا پارٹی اس کی مودی سرکار کی جانب سے ایک بار پھر وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے مورچہ سنبھالتے ہوئے دعویٰ کیا کہ نوٹ بندی سے ملک کو کوئی نقصان نہیں بلکہ بہت بڑے پیمانے پر فائدہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ٹیکس دینے والوں کی تعداد میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ،دوسرا بڑا فائدہ
خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ شہر ابلاغ میں لکڑ ہارے۔۔۔ تحریر : اطہر علی ہاشمی
شاعر نے کہا تھا جانے کن جنگلوں سے در آئے شہرِ تنقید میں لکڑہارے یہ کسی نقاد پر شاعر کی برہمی کا اظہار تھا۔ شعر غالباً رسا چغتائی مرحوم کا ہے۔ تنقید تو کم کم لوگ پڑھتے اور ان سے کم سمجھتے ہیں، لیکن ذرائع ابلاغ ٹی وی چینلز اور اخبارات تو ہر اُس شخص کی دست رس میں ہیں جو حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتا ہے، گو کہ یہ تعداد بھی کم ہوتی جارہی ہے کہ حالاتِ حاضرہ آج بھی وہی ہیں جو 50 سال پہلے تھے۔ ذرائع ابلاغ، ابلاغ کے بجائے زبان کا بیڑا غرق کررہے ہیں۔ داغؔ نے تو کہا تھا کہ اردو ہے جس کا نام ہمیں جان
ملک کی تقسیم کا ذمہ دار کون۔۔۔۔۔۔ از:حفیظ نعمانی
ڈاکٹر منظور احمد آئی پی ایس میرے عزیز ترین دوست، کرم فرما اور محسن ہیں۔ میں ان کی کسی بات سے اختلاف کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا لیکن ان سے منسوب اخبارات میں ایک بات ایسی چھپی ہے جس کی وضاحت نہ کرنا میرے نزدیک گناہ ہے۔ ڈاکٹر منظور نے بارہ بنکی میں امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد کے یوم پیدائش پر بولتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کا تقسیم ہند میں کوئی نمایاں کردار نہیں تھا۔ یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ چند مسلمان اس تحریک کے ہمنوا ضرور تھے۔ اور یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ کانگریس ورکنگ کمیٹی میں جب تقس
میڈیا میں بڑھتے قدم....اگر میڈیاہاؤس کا قیام ممکن نہیں ہے تو پھر ہمیں کیا کرنا چاہیے! (چوتھی قسط)۔۔۔از:ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے........... جب ہم میڈیا میں ہماری پیش قدمی کا جائزہ لیتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ آج میڈیاکی دنیاکا حال ہی عجب ہوگیا ہے۔الیکٹرانک اور سوشیل پلیٹ فارمس پر جوآن لائن میڈیا کی گنگا بہہ رہی ہے اس میں بدقسمتی سے ہر ایرا غیرا نتھو خیرا نہانے کے لئے اتر پڑا ہے۔بس جس کے پاس ایک سمارٹ فون ہے وہ میڈیا پرسن بن گیا ہے۔مقامی سطح پر وہاٹس ایپ گرو پ چلانے والے ’ایڈمنس‘ بھی میڈیا والے ہو گئے ہیں۔ کسی واقعے یا eventکو فیس بک پر لائیو اسٹریمنگ کرنے والے اور یوٹیوب چینل بناکر الٹے سیدھے ویڈ
مسلمانوں کو اب تو مذاق سے توبہ کرلینا چاہئے......از: حفیظ نعمانی
یادش بخیر 1967 ء کے آس پاس ایک جماعت مسلم مجلس بھی ہوا کرتی تھی جو اپنا جلوہ دکھاکر برسوں ہوگئے صرف نام اور آفس تک محدود ہوکر رہ گئی ہے۔ اگر حافظہ غلطی نہیں کررہا ہے تو 1969 ء یا اس کے بعد اس کی سرگرمیاں بس نام کی حد تک رہ گئی تھیں لیکن یہ ہمیشہ ہوا ہے کہ الیکشن صوبائی ہو یا مرکزی اس کا ڈھول بجتے ہی مسلم مجلس کے وارثوں کو اپنے وجود کا ثبوت دینے کے لئے کچھ نہ کچھ کرنا پڑتا ہے۔ اور تازہ ثبوت وہ ہے جو دارالشفاء کے اے بلاک کے کامن ہال میں ایک سیمینار کرکے دیا گیا جس کی صدارت چیئرمین پالیمنٹری بورڈ
دعا اور بددعا مسلمان کے پاس ہیں تو خوف کس کا۔۔۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی
پاک پروردگار نے فرمایا کہ ’’مجھ سے مانگو میں تمہیں دوں گا‘‘ ہم جتنا بھی شکر ادا کریں وہ کم ہے اس پروردگار کا جس نے ہمیں ایسے خاندان میں پیدا کیا اور ایسا ماحول عطا کیا کہ دعا اور بددعا کے بارے میں یقین ہے کہ اللہ کے بندوں کے لئے ان سے زیادہ بڑا ہتھیار کوئی نہیں ہے۔ ہم اپنے خاندان کی کوئی بات نہیں کریں گے جبکہ وہ خود ایک کالم میں بھی پوری نہیں ہوں گی۔ بات صرف ایک دعا اور ایک بددعا کی ہے جن میں ایک اپنی آنکھوں کے سامنے کی ہے اور دوسری ہے تو پاکستان کی لیکن راوی معتبر ہے۔ لکھنؤ میں تبلیغی جماعت کے
Real-life Sheldon Cooper? This 10 YO Hyderabad kid gives lessons to B.Tech & M.Tech students
There are two types of people who succeed in this tenacious journey called life. While some pick hard work and determination as their weapons to prevail, the others are just blessed with extraordinary talent. And Mohammed Hassan Ali, a young kid from Andhra Pradesh, definitely belongs to the second lot. Mohammad Hasan Ali is one such gifted soul, who gives lessons to BTech and MTech students in the city of Hyderabad. And believe it or not, he is just 10 years old. Like any other boy of his ag
مسئلہ بھگوان رام کا نہیں بھگوان ووٹ کا ہے۔۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی
بابری مسجد رام مندر تنازعہ کے بارے میں سپریم کورٹ کے اقدام پر آر ایس ایس کی طرف سے ایک غیرذمہ دارانہ بیان یہ آیا کہ اگر حق ملکیت کے بارے میں سپریم کورٹ نے فوراً فیصلہ نہیں کیا تو وہ 1992 ء جیسی تحریک چلائیں گے۔ 1992 ء میں جو غنڈہ گردی ہوئی اسے تحریک کا نام دینا اس کا مذاق اُڑانا ہے۔ انتہائی مستحکم عمارتیں گرانا اور جو اس پر دُکھ اور رنج کا اظہار کرے اسے قتل کردینا دُکانیں لوٹنا آگ لگانا اگر تحریک ہے تو پھر غنڈہ گردی کیا ہے؟ اس مقدمہ کا دوسرا فریق مسلمان ہے۔ سنی وقف بورڈ، جمعیۃ علماء ہند اور مسل
خبر لیجے زباں بگڑی ۔۔۔ یہ عاصیہ کون ہے ؟ ۔۔۔ تحریر: اطہر علی ہاشمی
آجکل توہینِ رسالت کے حوالے سے عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کا چرچا ہر طرف ہے۔ لیکن ملعونہ کا نام کیا ہے، آسیہ یا عاصیہ؟ عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے میں تو اس کی تشریح ’’گناہ گار سے زیادہ گناہ گار‘‘ یعنی عاصی کی مونث قرار دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے چیف جسٹس صاحبشیکسپیئر کو بھی گھسیٹ لائے ہیں۔ ہمارے معزز جج حضرات چونکہ قانون کی کتابیں انگریزی میں پڑھتے ہیں اس لیے ان کو ’آسیہ‘ اور ’عاصیہ‘ کا فرق معلوم نہیں ہوگا۔ لیکن حیرت تو وہ معاہدہ دیکھ کر ہوئی جو تحریک لبیک اور وفاقی حکومتِ پاکستان و صوبائی حکومتِ پنجاب کے