Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors
Abdul Haleem Mansoor
Abdul Majid Daryabadi
Abdul Mateen Muniri
Abdur Raqeeb M.J Nadwi
Ahmed Hatib Siddiqui
Asif Jilani
Athar Hashmi
Bhatkallys
Dr Badrul Hasan Qasmi
Dr Haneef Shabab
Dr. F Abdur Rahim
Dr. Tahir Masud
Hafiz Naumani
Kaldip Nayar
Masoom Muradabadi
Masud Ahmed Barkati
Mohammed Mateen Khalid
Muhammed Furqan
Nizamuddin Nadwi
Riyazur Rahman Akrami Nadwi
Suhail Anjum
خبر لیجے زباں بگڑی ۔۔۔ تار، مذکر یا مونث ؟ ۔۔۔ تحریر : اطہر علی ہاشمی
اردو میں ہم ایسے کئی الفاظ بے مُحابا استعمال کرتے ہیں جن کا مفہوم اور محل واضح ہوتا ہے لیکن کم لوگ جن میں ہم بھی شامل ہیں‘ ان الفاظ کے معانی پر غور کرتے ہیں۔ اب اسی لفظ ’’بے مُحابا‘‘ کو دیکھ لیجیے، استعمال صحیح کیا ہے لیکن اگر ’’بے‘‘ ہے تو ’’محابا‘‘ بھی کچھ ہوگا۔ ’’بے‘‘ تو فارسی کا حرفِ نفی ہے، یعنی بغیر مُحابا کے… اور مُحابا کی شکل کہہ رہی ہے کہ یہ عربی ہے۔ عربی میں اس کے کئی معانی ہیں مثلاً لحاظ، مروت، پاسداری، صلح، اطاعت، فروگزاشت، ڈر، خوف، احتیاط۔ اردو میں بے مُحابا عموماً بے خوف و خطر یا بل
قوم مسلم کا خونِ شہیداں آخرکب رنگ لائے گا ؟! (پہلی قسط)۔۔۔۔۔از: ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے........... 2018 ء کے آخری مہینے میں ہندوستان کے امن اور جمہوریت پسند عوام کے لئے دو خوشگوارواقعات پیش آئے۔ایک تو سیاسی منظر نامے میں ہلکے ہلکے ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں نے آمد بہار کی طرف اشارے کیے اور جمہوریت نواز گروہوں نے اس وقت کچھ راحت کی سانس لی جب فاشزم کی اندھیری رات میں چند جگمگاتے سے تارے نظر آنے لگے جو نئی صبح کے نمودار ہونے کے امکانات کا احساس دلارہے تھے۔ دوسری بات یہ ہوئی کہ دہلی ہائی کورٹ نے اندرا گاندھی کے قتل کے ردعمل میں ہوئے سکھ مخالف فسادات کے ایک ملزم سج
ہار برداشت کرنا کانگریس سے سیکھو۔۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی
زیادہ پرانی بات نہیں ہے کہ آسام کی مردم شماری کے رجسٹر کے اعتبار سے ایک خبر میڈیا نے پھیلائی کہ 40 لاکھ بنگلہ دیش کے رہنے والے 1971 ء کے زمانہ میں چوری چھپے آسام میں آگئے۔ ان گھس پیٹھیوں کو حکومت آسام واپس بھیج دے گی۔ یہ تو بتانے کی ضرورت نہیں کہ آسام میں بی جے پی کی حکومت ہے۔ یہ خبر کیا اُڑی کہ امت شاہ جیسے مزاج کے نیتا کے دل میں لڈو پھوٹ گئے اور انہوں نے اُٹھتے بیٹھتے چالیس لاکھ گھس پیٹھیوں بنگلہ دیشیوں یعنی مسلمانوں کو آسام سے نکلتا ہوا دیکھنے کا پروگرام بنالیا۔ اس کے بعد ہر شہر کے اور ہر جلس
تین صوبوں نے ملک کی سوچ بدل دی۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی
پانچ ریاستوں کے وہ الیکشن جن کو اکثر لوگوں نے پارلیمانی الیکشن کا سیمی فائنل کہا اور لکھا اس میں بی جے پی کے صفر پر آؤٹ ہونے سے وزیراعظم مودی اور بی جے پی کے صدر امت شاہ کی اس شہرت کو ختم کردیا ہے کہ وہ الیکشن جتانے کی مشین ہیں۔ اور پانچ میں سے تین اہم ریاستوں میں کانگریس کی جیت نے راہل گاندھی کی ٹانگوں میں قد اونچا کرنے کیلئے بانس باندھ دیئے ہیں۔ 11 دسمبر سے پہلے ملک میں جو کچھ ہوا تھا اس کو اگر پیش نظر رکھا جائے تو مودی اور راہل کا مقابلہ شیر اور بکری کا سمجھا جارہا تھا۔ ان تین ریاستوں میں کام
صرف تین صوبوں کی جیت سے بدہضمی!.....از: حفیظ نعمانی
ملک کی آزادی کے ساتھ ساتھ گروپ بندی بھی ملک کو تحفہ میں ملی۔ حکومت کے بنتے ہی معلوم ہوگیا کہ کانگریس کا ایک گروپ سردار پٹیل کو وزیراعظم بنانا چاہتا تھا اور گاندھی جی نے نہرو کو بنوا دیا۔ ناتھو رام گوڈسے نے جو کیا وہ اسی گروپ بندی کا مظاہرہ تھا۔ اور پھر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پورے ملک میں کانگریس دو خانوں میں بٹ گئی۔ اترپردیش میں پنڈت گووند ولبھ پنت کو وزیراعلیٰ بنانا صرف پٹیل گروپ کا دباؤ تھا۔ اگر پنت جی وزیراعلیٰ نہ بنتے تو بابری مسجد شہید نہ ہوتی۔ نومبر اور دسمبر میں ہونے والے پانچ ریاستوں کے
Meet Bhatkal man whose Calligraphic work were displayed at Islamic Calligraphy exhibition in Japan
Bhatkal 15 December 2018: (Bhatkallys News Bureau) Muhib Kola, a young man from Bhatkal had keen interest in arts like Calligraphy and others right since his childhood, but as he grew up he says, he was disconnected with it, only to reignite the flames in 2015, which eventually led to his interest in Islamic cultural arts during his stay in Bengaluru. Ever since then, for past three years, his interest and stature as an calligraphy artist has grown stronger and stronger day in and day out, so
کیا تبلیغی اجتماع کی قیمت 10 کروڑ ہے؟۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی
ماہنامہ الفرقان لکھنؤ کے دسمبر کے شمارہ میں مدیر الفرقان مولانا سجاد نعمانی نے نگاہ اوّلیں کے زیرعنوان تبلیغی جماعت کو موضوع بنایا ہے۔ اس مضمون میں انہوں نے جماعت یا تبلیغ کے کام کا پس منظر بیان کرنے کیلئے مولانا ابوالحسن علی ندوی کی اہم کتاب اور حضرت مولانا یوسف حضرت جیؒ کو خراج عقیدت پیش کرنے والا الفرقان کا خصوصی شمارہ حضرت جی نمبر سے اقتباسات نقل کرکے بتایا ہے کہ تبلیغی جماعت کیا تھی اور اس کا اصل مقصد کیا تھا اور اسے فتنہ پروروں سے بچانے کیلئے بزرگوں نے کیا کیا؟ اسی رسالہ کے صفحہ 20 پر مولا
خبر لیجے زباں بگڑی ۔۔۔ رضا علی عابدی کی تشویش۔۔۔ تحریر: اطہر علی ہاشمی
جیسے پچھلے کالم میں لکھا تھا کہ عربی میں ’مَحبت‘ کے میم پر زبر ہے جیسا کہ سورہ طٰہٰ میں ہے کہ ’’میں نے اپنی طرف سے تجھ (موسیٰ) پر مَحبت طاری کردی۔ ’’القَیتُ علیک مَحبۃً‘‘ (39) اسی طرح عربی کے اور بھی کئی الفاظ ہیں جو اردو میں آگئے ہیں مگر ان کا تلفظ بدل گیا ہے۔ عجیب بات ہے کہ یُوسُف علیہ السلام کے تذکرے کے لیے قرآن کریم میں سورہ یُوسف ہے۔ عام مسلمان قرآن کریم پر ایک نظر ڈالتے ہیں، اور کچھ نہیں تو سورتوں کے نام ضرور پڑھ لیتے ہیں۔ لیکن پنجاب میں ’یُوسُف‘ کا تلفظ عموماً غلط کیا جاتا ہے اور ’’یوس
آنے والے چار مہینے ملک کی تقدیر کا فیصلہ کریں گے۔۔۔۔۔۔ از:حفیظ نعمانی
2017 ء میں اُترپردیش کے الیکشن کے بعد کس کی ہمت تھی جو زبان سے کہہ سکے کہ دس سال تک نریندر مودی کو کوئی ٹکر دینے کی بات چھیڑ کے دیکھے۔ یہ عوام کی دل سے نکلی فریاد اور مودی اور شاہ کا فرعونیت کے نشہ میں غرق ہونے کی سزا ہے جو قادر مطلق نے دی ہے۔ کانگریس بحیثیت پارٹی اور راہل بحیثیت لیڈر صرف مقابلہ کی بات کرنے کے قابل تھے مقابلہ کی نہیں۔ جن تین بی جے پی کی ریاستوں میں اس کا صفایا کیا ہے وہ عوام ہیں اور وہ ہے جس نے کہا ہے کہ ’انا انّ عندی منکر القلوب‘ (بیشک میں ٹوٹے ہوئے دلوں کے پاس ہوں) اب سب سے ا
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے(مولانا اسرار الحق قاسمی کے سانحہ ارتحال رپر خصوصی مضمون)۔۔۔۔از:فیصل فاروق
معروف عالم دین اور رکن پارلیمنٹ مولانا اسرارالحق قاسمی کی دورۂ قلب پڑنے سے اچانک انتقال کی خبر سن کر بیحد افسوس ہوا۔ حالیہ دِنوں میں ملک کے حالات جس تیزی سے بدل رہے ہیں، اُس پر وہ کافی فکرمند تھے۔ اُن کی رحلت قوم و ملت کا نہ قابلِ تلافی نقصان ہے جس کی بھرپائی مستقبل قریب میں نظر نہیں آتی۔ اُن کی طبیعت میں ملنساری اور انکساری کا جوہر بہت نمایاں تھا۔ مشکل ترین حالات میں بھی کبھی پریشان نہ ہونا مولانا کی امتیازی پہچان تھی۔ آپ نے اپنی تقریروں اور تحریروں کے ذریعہ ملت کی رہبری و رہنمائی فرمائی۔
نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کی سزا کا عمل شروع۔۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی
صحیح تاریخ اور سال تو یاد نہیں لیکن یہ یاد ہے کہ لکھنؤ کے سی بی گپتا ڈاکٹر سمپورنانند کے بعد وزیراعلیٰ بنے تھے۔ اس زمانہ میں ہمارا راجہ احمد مہدی (پیرپور) کے گھر سے اچھا تعلق تھا راجہ صاحب کی بہن سکینہ باجی ولی عہد رام پور مرتضیٰ علی خاں کی بیگم تھیں اور احمد بھائی کے تعلق کی وجہ سے ہمیں بھی حفیظ بھائی کہتی تھیں۔ ایک دن ان کا پیر پور ہاؤس سے فون آیا کہ کل اگر دن میں فرصت ہوسکے تو ایک گھنٹہ کے لئے آجایئے۔ ہم گئے تو انہوں نے جو فرمائش کی اسے سن کر حیران رہ گئے۔ کہنے لگیں کہ یہ آپ کے بھانجے مراد می
First of the season; Seasonal fruit fig makes its way to Bhatkal market, here's Bhatkallys.com's guide for shopping perfect figs
Bhatkal 10 December 2018: (Bhatkallys News Bureau) Seasonal fruit fig is out in the Bhatkal market, as the first lot of the fruit arrived in the market earlier last week, much to the delight of the lovers of the fruit and its full of fibre and calcium juice. The cost of the fruit in Bhatkal markets ranges from Rs. 140-170 and is available in most of the local fruit shops in the town. According to one of the local fruit vendor, these fruits mainly arrive from Chennai to coastal Karnataka, a
جہاں جس کی حکومت ہے وہ اپنا سکہ چلا رہا ہے۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی
اندرا گاندھی پرتشٹھان میں 6 دسمبر کو اترپردیش کھادی مہوتسو 2018 ء کا وزیراعلیٰ یوگی نے افتتاح کیا اور اس کے بعد گائے پر منحصر معیشت کے فائدوں پر روشنی ڈالی انہوں نے کہا گائے کے فروغ اور تحفظ کے لئے فنڈ کی نہیں عزم کی کمی ہے۔ اسی پروگرام میں بہار کے گری راج سنگھ جو مودی سرکار میں نائب وزیر ہیں اور جن کا محبوب موضوع گائے کا موت (ewr) اور گوبر ہے وہ بھی موجود تھے۔ وہ برسوں سے گائے کے موت (ewr) کو فروخت کرنے کی ڈیریاں بنانے کی بات کرتے رہے ہیں اور اب جبکہ ان کی سرکار کے جانے کا وقت آگیا اس وقت تک گا
بابری مسجد انہدام کی ایک اور برسی گزرگئی۔۔۔۔از: ! ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے........... ہندوستانی تاریخ کے سیاہ 6دسمبرکا دن پھر ایک بار کیلنڈر کے صفحے پر آیا جب چارسوسالہ بابری مسجد کوحکومت اور محافظ دستوں کے ناک کے نیچے زمین بوس کردیاگیا تھا اور یہ دن ہماری زندگی سے بالکل اسی طرح چپ چاپ سرک گیا جس طرح پچھلی دددہائیوں سے گزرتا رہا ہے۔ 1992سے 2018 تک 26 سال کا عرصہ کبھی امیدوں کی شمعیں جلاتا رہاہے تو کبھی خوف ودہشت کی دستکیں دیتا رہا ہے۔اب تو حالت یہ ہوگئی ہے کہ پورے ملک کے تقریباً ساڑھے سترہ کروڑ مسلمان اپنی قیادت کی ڈھیلی پڑتی ہوئی گرفت اور مخال
تہ بند، تہمد اور تہمت۔۔۔خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔تہ بند ، تہمد اور تہمت ۔۔۔ تحریر: اطہر علی ہاشمی
تہ بند، تہمد اور تہمت - اطہرعلی ہاشمی - December 7, 2018 فيس بک پر شیئر کیجئیے ٹویٹر پر ٹویٹ کريں محترم پروفیسر عنایت علی خان نے اپنے فکر انگیز مضمون ’’کل شب جہاں میں نکلا‘‘ (4 دسمبر) میں تہ بند یا تہمد کے لیے ’’تہمت‘‘ (بروزن زحمت، رحمت) استعمال کیا ہے۔ ایک بڑے بزرگ شاعر اور آفاقی ادیب نے ہم پر طنز کیا تھا کہ آپ کے مرشد سید مودودیؒ نے تہمد کو تہمت لکھا ہے۔ کاش ہمیں سید مودودیؒ کو مرشد بنانے کا شرف حاصل ہوتا۔ لیکن لغت کے اعتبار سے تہمت بھی صحیح ہے اور دِلّی والے تہمت ہی کہتے ہیں۔ اس پر ماہ
۔۔۔ ورنہ خدا جانے کیا ہوتا ۔۔۔از:حفیظ نعمانی
اب سے پہلے اشارے چاہے جتنے صاف ہوں یہ لکھنا دیانت داری نہیں تھی کہ بلندشہر میں گائے کے نام پر جو کچھ کیا گیا وہ صرف تبلیغی جماعت کے عالمی اجتماع میں بھگدڑ مچانے کے لئے کیا گیا تھا۔ جن لوگوں کے اس سازش میں نام آرہے ہیں اور ان کا جیسی پارٹیوں سے تعلق ہے وہ اگر پورے معاملے سے واقف ہوتے تو نہ جانے کیا ہوچکا ہوتا؟ بجرنگ دل یا نام نہاد گؤ رکشک تو یہ جانتے ہیں کہ اگر کہیں لاکھ دو لاکھ آدمیوں کو جمع کرنا ہوتو مہینوں پہلے سے پوسٹر، بینر اور لیڈروں کے بیان آنا شروع ہوجاتے ہیں اور پھر سارے ٹی وی چینل ہر کا
چار گاندھی تین مودی ایک سدھو؟۔۔۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی
پنجاب کے وزیر نوجوت سنگھ سدھو اپنے مزاج کی وجہ سے ہمیشہ سرخیوں میں رہے ہیں۔ وہ جب کرکٹ کے کھلاڑی تھے تو چھکے مارنے کی وجہ سے سرخیوں میں رہتے تھے اس کے بعد جب کمنٹیٹر ہوئے تو دوسرے کے موزوں اور اپنے ناموزوں شعروں کی وجہ سے توجہ بٹورتے رہے۔ سیاست میں آئے تو کامرانی نے قدم چومے امرتسر کی سیٹ سے لڑے اور کامیاب ہوئے۔ وزیراعظم بننے سے پہلے مودی جی نے ان کی امرتسر کی سیٹ لے کر ارون جیٹلی کو دے دی جو راجیہ سبھا کے ممبر تھے اور سدھو کو راجیہ سبھا کا ممبر بنا دیا۔ دیکھا تو نہیں سنا ہے کہ شیر دوسروں کا مار
سکون قلب کے متلاشی ۔ عبد اللہ یوسف علی۔۔۔ تحریر: آصف جیلانی
ایک اکیاسی سالہ ، لاغر ،مخبوط الحواس ، مفلس شخص، جو کئی سال سے وسطی لندن کی سڑکوں پر بے مقصد گھومتا پھرتا نظر آتا تھا ، ۱۹۵۳کے دسمبر میں جب کہ کڑاکے کی سردی پڑ رہی تھی، ویسٹ منسٹر میں ایک عمارت کے دروازے کی سیڑھیوں پر ، کس مپرسی کے عالم میں پڑا ہوا تھا۔ پولس نے اسے فوراََ ویسٹ منسٹر ہسپتال داخل کردیا۔ دوسرے روز ہسپتال سے فارغ کرنے کے بعد اسے چیلسی میں بوڑھے لوگوں کی پناہ گاہ بھیج دیا گیا۔ ۱۰ دسمبر کو اس مفلس پر دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا۔ اس شخص کا کوئی عزیز رشتہ دار اس کی میت لینے نہیں