Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors
Abdul Haleem Mansoor
Abdul Majid Daryabadi
Abdul Mateen Muniri
Abdur Raqeeb M.J Nadwi
Ahmed Hatib Siddiqui
Asif Jilani
Athar Hashmi
Bhatkallys
Dr Badrul Hasan Qasmi
Dr Haneef Shabab
Dr. F Abdur Rahim
Dr. Tahir Masud
Hafiz Naumani
Kaldip Nayar
Masoom Muradabadi
Masud Ahmed Barkati
Mohammed Mateen Khalid
Muhammed Furqan
Nizamuddin Nadwi
Riyazur Rahman Akrami Nadwi
Suhail Anjum
محسن کتابیں۔۔۔ مولانا عبد الباری ندوی- 01-
مولانا عبدالباری صاحب ندویؒ ولادت:گدیا۔ ضلع بارہ بنکی ،یوپی مورخہ ۱۴ذی الحجہ ۱۳۰۶ ھ،مطابق ۱۱ اگست ۱۸۸۹ ء آپ بارہ بنکی کے ایک خوشحال اور دین دار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔آپ کے والد حکیم عبدالخالق صاحب اپنے وقت کے مشہور شیخ طریقت، اور حضرت مولانا محمد نعیم فرنگی محلی کے خلیفۂ مجاز تھے۔والد صاحب نے حصول علم کے لئے دار العلوم ندوۃ العلماء میں داخل کیا،ندوہ ابھی ابتدائی مرحلے میں تھا،والد صاحب کو وہاں کی تعلیمی و تربیتی حالت سے اطمینان نہ ہواتومولانا ادریس صا
جوش نہیں صرف ہوش سے ووٹ ڈالیے، ورنہ.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔..از:۔ظفر آغا
سنہ 2019 کا لوک سبھا چناؤ معمولی چناؤ نہیں ہے۔ بلکہ اقلیتوں کے لیے یہ چناؤ موت و زندگی کے بیچ کا فیصلہ ہے۔ یاد ہے پچھلے سنہ 2014 کے چناوی کیمپین کے دوران نریندر مودی نے گجرات فسادات کے بارے میں کیا کہا تھا۔ جب ان سے ایک صحافی نے یہ سوال کیا کہ ان کو 2002 کے گجرات قتل عام پر افسوس ہے کہ نہیں۔ ان کا جواب تھا کہ انھیں ’’ان فسادات پر اتنا ہی افسوس ہے جتنا ایک کتے کے پلے کے کار سے کچل کر مر جانے پر ہوتا ہے‘‘۔ تب ہی تو مودی حکومت کے دوران اقلیتوں کو کتے کی طرح مارا گیا اور حکومت خاموش تما
خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ تغیّر اور تغییر ۔۔۔ تحریر: اطہر ہاشمی
اب تک تو ’تعینات‘ (تعی نات) ہی سنتے اور پڑھتے آئے تھے، تاہم اب ٹی وی چینلوں پر اس کا مختلف تلفظ سننے میں آرہا ہے، یعنی ’ی‘ پر تشدید کے ساتھ ’’تعیّنات‘‘ (تعیونات) کہا جارہا ہے۔ نوراللغات کے مطابق تعینات بروزن رسیدات ہے۔ تعیّن عربی کا لفظ اور مذکر ہے۔ مطلب ہے: مخصوص ہونا، مقرر ہونا، تقرر، مطلق کے خلاف۔ لغت کے مطابق تعیناتی (تعی ناتی) اردو کا لفظ ہے، کرنا، ہونا کے ساتھ آتا ہے، اور مطلب وہی ہے یعنی تقرر، تعین۔ اردو میں یہ مونث ہے۔ ایک اور لفظ ہے ’تعیین‘۔ اس میں دو ’ی‘ آتی ہیں۔ عربی کا یہ لفظ مونث ہے
فیض احمد فیض کے ایک سو آٹھویں یوم پیدایش پر...تحریر: آصف جیلانی
کہیں تو بہر خدا آج ذکر یار چلے میں اپنے آپ کو بے حد خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ میں نے اپنی صحافتی زندگی کا سفر روزنامہ امروز کراچی سے شروع کیا جس کے چیف ایڈیٹر فیض احمد فیض تھے۔ جنوری 1953میں جب میں نے امروز میں کام شروع کیا تو اس وقت فیض صاحب راولپنڈی سازش کیس میں حیدر آباد سندھ کی جیل میں قید تھے ۔ انہیں 1951کے اوایل میں پاکستان کی کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ سجاد ظہیر ، جنرل اکبر خان اور دوسرے فوجی افسرون کے ساتھ لیاقت علی خاں کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کے الزام میں گرفتار کیا گیاتھا۔ ۵ جنوری 19
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی پر قاتلانہ حملہ ۔۔۔ تحریر: مولانا ڈاکٹر بدر الحسن القاسمی
عصر حاضر کے علمائے دین میں حضرت مولانا محمد تقی عثمانی صاحب کو رب کائنات نے خصوصی امتیاز بخشا ہے ان کا خاص میدان اسلامی فقہ ہے لیکن حدیث، تفسیر اور دیگر اسلامی فنون میں بھی ان کی مہارت مسلم ہے اور ان کے علمی کارناموں، جدید فقہی مسائل میں ان کی تحقیقات، تدریسی، تصنیفی اور اصلاحی کوششوں کے آثار کو دیکھا جائے تو بلاشبہ وہ ‘‘شیخ الاسلام’’ کے لقب کے مستحق ہیں اور ان کا وجود امت مسلمہ کی فقہی وفکری رہنمائی کے لئے بے حد ضروری ہے اور ان کے بارے میں وہ بات کہی جاسکتی ہے جو حضرت امام احمد بن حنبلؒ نے اپنے
محسن کتابیں۔ قسط : 02 ۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی
اب دل مسلمان صوفیہ کے اقوال واحوال میں بھی لگنے لگا تھا،کشف وکرامت کے ذکر پر اب یہ نہ ہوتا کہ بے ساختہ ہنسی آجاتی،بلکہ تلاش اس قسم کے ملفوظات و منقولات کی رہنے لگی۔فارسی اور اردو کتابیں بہت سی اس سلسلے میں پڑھ ڈالیں۔مسلمان تو اب بھی نہ تھا،لیکن طغیان اور عداوت کا زور ٹوٹ چکا تھا،محسن کتابو ں کے سلسلے میں محسن شخصیتوں کا ذکر یقیناًبے محل ہے،لیکن اتنا کہے بغیر آگے نہیں بڑھا جاتاکہ اس دور میں دو یا تین زندہ ہستیاں بھی ایسی تھیں جن سے طبیعت رفتہ رفتہ اور بہت تدریجی رفتار سے سہی،لیکن بہرحال اصلاحی ا
قرۃ العین حیدر کے روبرو۔۔۔ تحریر آصف جیلانی
اردو کی ممتاز ناول نویس اور افسانہ نگار قرۃ العین حیدر کو ہم سے جدا ہوئے ۱۲ سال گذر گئے۔ انہوں نے اردو میں ناول نگاری کو ایک نئی جہت ، وسعت اور گہرائی کے ساتھ ایک نیا اسلوب بخشاہے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ وہ چھ دہائیوں سے زیادہ عرصہ تک اردو ادب کے افق پر چھائی رہیں۔ ان کا تخلیقی سف 1944سے شرو ع ہوا تھا جب کہ ان کا پہلا افسانہ رسالہ ہمایوں میں شایع ہوا تھا اور اس کے تین سال بعد ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ۔ستاروں سے آگے ۔منظر عام پر آیا تھا۔ 1949 میں ان کا پہلا ناول ۔ میرے بھی صنم خانے۔ شایع ہو
خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ شوگا، شگہ یا شقہ؟ ۔۔۔ تحریر: اطہر علی ہاشمی
نوجوان صحافی احسان کوہاٹی ’سیلانی‘ کے نام سے اخبارامت میں مضامین لکھتے ہیں اور خوب لکھتے ہیں۔ کوہاٹ سے تعلق ہونے کے باوجود اردو پر عبور ہے۔ آج کل ترکی کی سیر پر نکلے ہوئے ہیں اور کسی دوست کے ’’شوگے‘‘ میں ٹھیرے ہوئے ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ترکی زبان میں ’’شوگا‘‘ فلیٹ یا اپارٹمنٹ کو کہتے ہیں۔ یہ ترکی زبان کا نہیں، عربی کا لفظ ہے۔ اور ہرچند کہ عربی میں ’’گ‘‘ نہیں ہے لیکن یہ حرف شاید مصر سے آگیا ہے، گوکہ وہاں بھی عربی ہی بولی جاتی ہے۔ مصر میں ’ج‘ کو ’گ‘ کرلیا گیا تو سعودی عرب میں ’ق‘ کو ’گ‘ میں بدل
یوپی ایس سی امتحانات، مسلم امیدواروں کی کامیابی اورمسلم قوم۔۔۔از:۔ محمد علم اللہ، نئی دہلی
ہندوستانی مسلمان بہت جذباتی واقع ہوئے ہیں، ممکن ہے اس کا سبب آزادی کے بعد سے ملک میں ان کے ساتھ جاری ظلم و تشدد ہو یا پھران کی اپنی پسماندگی، بے بضاعتی اور بے وقعتی_ یہ ایک الگ بحث کا موضوع ہے۔ دیکھنے میں اکثر یہی آیا ہے کہ ہندستانی مسلمانوں کو کہیں بھی اگر تھوڑی سی امید کی کوئی کرن نظر آتی ہے تو اس کے لئے وہ پلکیں بچھانا شروع کر دیتے ہیں، خوشی سے سرشار قوم اس پر سب کچھ نچھاور کرنے کو تیار ہو جاتی ہے، ایسے افراد کی کامیابی کے ہر جگہ چرچے ہوتے ہیں۔ یہ بہت اچھی اور خوش آئند بات ہے لیکن تکلیف اس و
محسن کتابیں۔ قسط : 01۔۔۔ تحریر : مولانا عبد الماجد دریابادی
مولانا عبدالماجد دریابادیؒ ولادت:دریاباد، ضلع بارہ بنکی،یوپی تاریخ:۱۶۔ شعبان ۱۳۰۹ ھ ،مطابق ۱۶ ۔مارچ ۱۸۹۲ ء مفسر قرآن،ادیب شہیر،مولانا عبدالماجد دریابادیؒ کا تعلق دریاباد ضلع بارہ بنکی (یوپی)کے قد وائی خاندان سے تھا۔کیننگ کالج لکھنؤ سے بی۔اے کیا،طالب علمی ہی سے مطالعے کی عادت نہیں ،لت پڑگئی تھی۔ہر قسم کا مطالعہ کرتے۔اسی زمانہ میں تشکک وارتیاب سے لے کر الحاد ودہریت کے مرحلوں سے گزرے،پھر اللہ نے صحیح اسلام کی طرف باز گشت کی توفیق عطا فرمائی۔کالج کی زندگی ہی میں خاصی عربی سیکھ لی ت
خبرلیجے زباں بگڑی۔۔۔ ہر کسی پر جائز اعتراض۔۔۔ تحریر: اطہر ہاشمی
کچھ نام ایسے ہیں جن کا یا تو املا بگڑ گیا یا تلفظ۔ مثلاً ’ہاجرہ‘ عموماً ’’حاجرہ‘‘ پڑھنے میں آتا ہے، یا ’طہٰ ‘کو ’’طحہٰ‘‘ لکھا جارہا ہے، اور وہ بھی غلط املا کررہے ہیں جن کا یہ نام ہے۔ اس پر پہلے بھی توجہ دلائی گئی تھی۔ اب ایک نام مہوش ہے جس کا تلفظ بگاڑ دیاگیا ہے۔ یہ نام مہ وَش ہے، وائو پر زبر ہے۔ لیکن جن خواتین کا یہ نام ہے وہ بھی وِش (wish) کردیتی ہیں۔ جسارت میں 29 مارچ کو ایک بابا جی نے اپنے کالم میں نکتہ آفرینی کی ہے کہ نام میں سے ’مہ‘ نکال دیا جائے تو یہ انگریزی کا وِش بن جائے گا، جب کہ ای
محسن کتابیں۔۔۔ علامہ سید سلیمان ندوی
علامہ سید سلیمان ندویؒ ولادت: دیسنہ، بہار 23 صفر۱۳۰۲ھ/ 13 دسمبر ۱۸۸۴ء مفخرہ ہندوستان،محقق دوراں،علامۂ زمانہ،فاضل یگانہ،مؤرخ کبیر،ادیب شہیر حضرت مولانا سید سلیمان ندویؒ کا تعلق حسینی سادات سے تھا۔ سنہ ۱۹۰۱ء میں دارالعلوم ندوۃ العلماء میں داخلہ لیا،اور ۱۹۰۷ء میں فراغت پائی،پھر الندوہ کے سب ایڈیٹر،اور ندوہ میں عربی ادب کے استاد مقرر ہوئے۔اس کے بعد کلکتہ جاکر مولانا آزاد کے ساتھ الہلال کی ادارت میں شریک رہے۔۱۹۱۴ ء کے آغاز میں دکن کالج پونہ میں فارسی کے اسسٹنٹ پروفی
خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ "فی الواقعی" اور "امر واقعی"۔۔۔ تحریر: اطہر علی ہاشمی
ہمارے ایک بہت سینئر صحافی جن سے ہم نے بہت کچھ سیکھا، وہ اپنے اداریے میں عموماً ’’فی الواقعیٖٖ‘‘ لکھتے تھے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جب تصحیح کے بعد اُن کی تحریر دوبارہ اُن کے سامنے آتی تو وہ تصحیح کی تصحیح کرکے دوبارہ ’’فی الواقعی‘‘ لکھ دیتے تھے، جب کہ یہ لفظ ’فی الواقعٖ‘ ہے۔14 مارچ کے ایک اخبار میں نوجوان کالم نگار محمد بلال غوری نے ’’من حیث المجموعی‘‘ لکھ کر فی الواقعی کی یاد تازہ کردی۔ کالم کے ساتھ شائع ہونے والی تصویر سے ظاہر ہے کہ محمد بلال غوری جوان ہیں، اُن کے پاس اپنی تصحیح کے لیے وقت ہے۔ اس
محسن کتابیں۔۔۔ تحریر: نواب صدر یارجنگ، مولانا حبیب الرحمن شروانی
مئی، 26/ 1946 ء دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو نواب صدر یار جنگ مولانا حبیب الرحمٰن خان شروانیؒ ولادت:بھیکن پور،ضلع علی گڑھ شعبان، 28/1283ھ- مطابق ۵/جنوری 1867 مشہور افغانی خاندان شروانی سے آپ کا تعلق تھا،خاندانی رئیس تھے،بھیکن پور ضلع علی گڑھ آپ کی موروثی ریاست تھی۔دوسرے اساتذہ کے علاوہ خاص طور پر استاذالعلماء مولانا لطف اللہ علی گڑھی سے علم کی تحصیل کی۔عربی تعلیم ہی کے زمانہ میں انگریزی کی تحصیل کی تھی،اس سے اچھی طرح واقف تھے،حضرت مولانا فضل رحمٰن گنج مرادابادی سے اجازت
مسلمانوں کی سیکولرسیاسی قیادت کاخاتمہ کانگریس کابنیادی ایجنڈا۔۔۔۔۔۔ازـشمس تبریز قاسمی
خبر در خبر عام انتخابات 2019 میں کانگریس اور دیگر سیکولر پارٹیاں بی جے پی کو شکست دینے کے بجائے مسلم قیادت والی پارٹیوں کو ختم کرنے کے مشن پر کام کررہی ہیں ۔2014 میں بی جے پی حکومت بننے کے بعد ہر محاذ پر یہ بات ہوتی رہی کہ 2019 کا عام الیکشن تمام سیکولر پارٹیاں متحدہوکر لڑیں گی ۔بی جے پی کی شکست اس کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔ تاہم الیکشن کی تاریخوں کا اعلان ہونے کے بعد سیکولر پارٹیوں میں وہ جوش اور جذبہ نظر نہیں آرہاہے اس کے باوجود کانگریس نے کچھ ریاستوں میں وہاں کی علاقائی پارٹیوں کے ساتھ اتحاد کرل
خبر لیجے۔۔۔رقیق حملے۔۔۔ تحریر: اطہر علی ہاشمی
ہم اپنی ’’مشیخت‘‘ کے زعم میں غلطی کربیٹھتے ہیں لیکن خدا کا شکر ہے کہ گرفت کرنے اور فوراً تصحیح کرنے والے میسر ہیں جو اوقات یاد دلانے میں تکلف نہیں کرتے۔ گزشتہ شمارے میں ہم نے لکھا تھا کہ معرّب اور معّرِب میں معانوی فرق ہے۔ کبھی کسی لغت میں پڑھا تھا کہ معّرِب (رابالکسر) کا مطلب ہے: عربی بنایا گیا، یا جس لفظ کو تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ عربی بنالیا ہو۔ اور معرَّب (را پر زبر) کا مطلب ہے: عرب سے تعلق رکھنے والا۔ اب یاد نہیں کہ یہ کس لغت میں دیکھا تھا۔ تاہم عربی کے بڑے فاضل جناب نورالبشر نے فوری گرفت ک
سچی باتیں۔۔۔ شادی کی رسومات ۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی
02/02/1925 آپ کو اپنے خاندان، وطن، اور برادری کی شادیوں میں شرکت کا بارہا موقع ملاہوگا۔ آپ نے کبھی یہ خیال کیا، کہ مسلمان لڑکے یا لڑکی کی شادی کا یہی طریقہ ہوناچاہئے؟ آپ کے رسول مقبولؐ، حبیب کبریا، جنہیں ہمارے اورآپ کے عقیدے میں د ونوں جہاں کی عزت ودولت، سرداری وبادشاہی سب کچھ حاصل تھی، بن بیاہے نہ تھے، باقی سب نکاح مرتبہئ رسالت پر فائز ہوچکنے کے بعد ہی کئے تھے، مگر حضورؐ نے کسی نکاح میں وہ دھوم دھام، وہ طویل سلسلہئ رسوم، اور وہ جشن منایاگیا، جسے آج ہم میں سے ہرمعمولی شخص بھی شادی کے وقت، اپنے
محسن کتابیں۔۔۔ پیش لفظ۔۔۔ تحریر: مولانا محمد عمران خان ندوی ازہری
انسانی سیرت کی پاکیزگی،اخلاق کی بلندی اور کردار کا وا حد مؤثرحد ذریعہ اچھی صحبت ہے۔اسلام سے پہلے بھی جس دور کو ہم جاہلیت کے دور سے تعبیر کرتے ہیں یہ اصو ل متفق علیہ تھا ،مشہور جاہلی شاعر طرفہ اپنے معلقہ میں کہتا ہے: عن المرء لاتسئل وأبصر قرینہ فان القرین باالمقارن مقتدیٰ اذا کنت فی قوم فصاحب خیارھم ولا تصحب الأردیٰ فتردیٰ مع الردی(یعنی اگر تم کو کسی شخص کے متعلق تحقیق مقصود ہو تو اس شخص کی تحقیق نہ کرو،بلکہ اس کے ہم نشینوں کو دیکھو،کیونکہ دوست اپنے ہم نشینوں کا متبع ہو