Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors
Abdul Haleem Mansoor
Abdul Majid Daryabadi
Abdul Mateen Muniri
Abdur Raqeeb M.J Nadwi
Ahmed Hatib Siddiqui
Asif Jilani
Athar Hashmi
Bhatkallys
Dr Badrul Hasan Qasmi
Dr Haneef Shabab
Dr. F Abdur Rahim
Dr. Tahir Masud
Hafiz Naumani
Kaldip Nayar
Masoom Muradabadi
Masud Ahmed Barkati
Mohammed Mateen Khalid
Nizamuddin Nadwi
Riyazur Rahman Akrami Nadwi
Suhail Anjum
ایک پیکر صبر ووفاء کی جدائی۔ ڈاکٹر حسن باپا یم ٹی...قسط ۰۱۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری
جون ۱۷ کی تاریخ تھی ،نماز مغرب کے بعد دبی کے القوز قبرستان میں ہمارے ایک دوست سے نماز جنازہ سے فارغ ہو کر ابھی ڈاکٹر حسن باپا یم ٹی کی صحت کے بارے میں دریافت کرہی رہا تھا، کہ خبر آئی کہ ڈاکٹر یم ٹی صاحب اللہ کو پیارے ہو گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون ، ایک روز پہلے میں بھٹکل میں تھا، ان کے بعض خاص احباب وغیرہ سے ملاقات ہوئی تھی، لیکن ڈاکٹر صاحب کی علالت کی کوئی خبر اس وقت تک عام نہیں ہوئی تھی۔ خبر سنتے ہی آپ کا ہنستا مسکراتا، امید کی روشنی سے دمکتا کتابی چہرہ نگاہوں کے سامنے گھومنے لگا،جب ب
حضرت شیخ الہند کی اکلوتی تصویر...تحریر: عبدالمتین منیری
گزشتہ چار سالوں سے علم وکتاب واٹس اپ گروپ جاری ہے، اس میں برصغیر کے منتخب علماء، دانشور اور اہل قلم شامل ہیں، اس میں طلبہ واساتذہ کے لئے مفید مواد پیش ہوتا رہتا ہے، اور مختلف فرمائشیں بھی آتی رہتی ہیں، علم وکتاب سے محبت رکھنے والے مولانا شبیر احمد میواتی بھی ابھی گزشتہ چند دنوں سے اس کے رکن رکین ہیں، گزشتہ دنوں ان کے توسط سے امیر شریعت حضرت مولانا منت اللہ رحمانی رحمۃ اللہ کے سفرنامہ حج سے ایک اقتباس موصول ہوا، جس میں مالٹا میں حضرت شیخ الہند کے ساتھ رفیق زنداں ایک مصری صحافی محمد عبد الرحمن ال
خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ صحیح تو قسائی ہی ہے۔۔۔ تحریر: اطہر علی ہاشمی
گزشتہ شمارے (28 جون تا 4 جولائی) میں عبدالمتین منیری نے بھارت کے ایک بڑے عالم مولانا ڈاکٹر عبیداللہ قاسمی، سابق استاد دارالعلوم دیوبند، حال پروفیسر دہلی یونیورسٹی کا تبصرہ ہمارے کالم پر ارسال کیا ہے۔ سب سے پہلے تو اتنے بڑے عالم کی ہماری ناپختہ اور کچی پکی تحریروں پر توجہ اور انہیں کسی تبصرے کے قابل سمجھنا ہی ہمارے لیے باعثِ شرف ہے، جس کا شکریہ۔ ہم نہ عالم نہ استاد، تاہم مؤدبانہ عرض ہے کہ ان کا پہلا اعتراض ہے ’’جاری و ساری میں ’ساری‘ کو غلط کہنا اور اس کا معنی سرایت کرنے والا قرار دینا
کاروان حیات کی آخری منزل۔۔۔ مولانا عبد الرحمن مظاہری کی وفات ۔۔۔ تحریر: ڈاکٹر بدر الحسن قاسمی۔
‘‘کاروان زندگی’’ ‘‘کاروان حیات’’ ‘‘میری زندگی’’ ‘‘نقش حیات’’ جو بھی عنوان اختیار کیجئے، ‘‘زندگی’’ رہنے والی چیز نہیں ہے بغیر آپ کے طلب یا اختیار کے مل گئی ہے آپ نے اعزہ واقارب دوست اور احباب جمع کئے ہوں یا خدم وحشم اور محافظ دستے تشکیل دیئے ہوں بغیر آپ کی مرضی اور خواہش معلوم کئے ایک دن آپ سے رخصت بھی ہوجائے گی بلکہ آپ خود ہی اس کے ساتھ دوسری دنیا کے لئے رخت سفر باندھ لیں گے۔ بقول اکبر: ایک ہی کام سب کو کرنا ہے یعنی جینا ہے اور مرنا ہے (کل من علیھا فان) اور (کل نفس ذائقۃ الموت) کا حاصل بھی
ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا چاہئے۔۔۔۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی
جون کی آخری تاریخوں میں تبریز انصاری کے قتل اور اس کی نئی نویلی دولھن کے بارے میں جب یہ معلوم ہوا کہ دونوں نہ صرف یتیم ہی تھے بلکہ یسیر بھی تھے تو نہ چاہنے کے باوجود کچھ ایسے الفاظ قلم سے نکل گئے جس نے جذبات کو بھڑکا دیا۔ وہ مضمون جس جس اخبار میں چھپا اس کے پڑھنے والوں کے دلوں پر آرے چل گئے اور انہوں نے اس بیوہ کی محبت میں ایسے ایسے مشورہ دیئے جن پر وہی عمل کرسکتا ہے جو اُن کے قریب رہتا ہو۔ ہم نے مضمون کی ابتدا دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خاں صاحب کی پیشکش کو پڑھ کر کی تھی جو دہلی میں ر
اگر بات وعدہ پر آئے تو ہم تیار نہیں ہیں۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی
بابری مسجد اور رام جنم بھومی تنازعہ کو حل کرنے والی وہ کمیٹی جو سپریم کورٹ کی ہدایت پر تصفیہ کی جستجو کررہی ہے اس کے کسی رُکن نے سنی وقف بورڈ کے چیئرمین اور بعض ذمہ دار مسلمانوں سے ان کی رائے معلوم کرنا چاہی ہے۔ ہم نے گذشتہ سال اس مسئلہ پر ایک مضمون لکھا تھا اسے اودھ نامہ میں چند روز پہلے پھر شائع کرایا گیا ہے تاکہ اس سے بھی کوئی روشنی لی جائے۔ ہمارے علم میں بعض ذمہ دار مسلمانوں کا یہ فیصلہ آیا ہے کہ اگر بابری مسجد سے مسلمان دستبردار ہوجائیں تو اس کی کیا ضمانت ہے کہ اس کے بعد ان مسجدوں سے دستبرد
محسن کتابیں۔۔۔تحریر۔۔۔ میاں بشیر احمد،آکسن
میاں بشیر احمد، آکسن ولادت : لاہور رمضان ۱۰-۱۳۱۰ھ مطابق مارچ ۱۰- ۱۸۹۳ء باغبان پورہ لاہور کے رہنے والے تھے۔ابتدائی تعلیم گاؤں میں حاصل کرنے کے بعد سنٹرل ماڈل اسکول سے ۱۹۰۸ء میں انٹرنس کیا،۱۹۱۰ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے ایف۔اے کرکے آکسفورڈ گئے،اور ۱۹۱۳ء میں تاریخ میں بی۔اے آنرز کی ڈگری حاصل کی۔۱۹۱۴ء میں لندن سے بیرسٹری کاا متحان پاس کیا،وہاں سے واپس آکر اسلامیہ کالج لاہور میں تاریخ کے استاد مقرر ہوئے۔۱۹۲۲ء میں لاہور ہی سے اپنے والد جسٹس شاہ دین ہمایوں کی یاد میں ماہنامہ’’ہمایوں‘‘ جاری کیا،ج
ڈاکٹر تحسین فراقی، کالم نویسی سے دانشوری تک--- ڈاکٹر طاہر مسعود
ڈاکٹر تحسین فراقی کی شخصیت پر قلم اُٹھاتے ہوئے مجھے سوچنا پڑ رہا ہے۔ ایسا کم ہی ہوتا ہے۔ سوچنا اس لیے پڑ رہا ہے کہ ان سے شناسائی کو دوستی میں بدلے ہوئے اب کئی دہائیاں بیت چکی ہیں۔ اتنی مدت میں حالات و واقعات میں اتنے نشیب و فراز آئے ہیں۔ ہمارے کئی مشترکہ دوست اور کرم فرما جو ہمارے درمیان رشتۂ اخوت و انسیت کو مزید مضبوط و مستحکم کرنے کا سبب تھے، وہ بھی ہمیں چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہوئے جیسے سراج منیر، مشفق خواجہ، ڈاکٹر وحید قریشی۔ اور اب یوں بھی ادب کی دُنیا میں نظر اُٹھا کے دیکھیں تو خاک سی اُڑتی
خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ دیوالیہ یا دوالا۔۔۔ تحریر: اطہر علی ہاشمی
آج کل ایک لفظ ’’دیوالیہ‘‘ کا بڑا چرچا ہے۔ ’’ملک دیوالیہ ہونے لگا تھا، ہم نے بچالیا‘‘۔ ایسے نعرے لگ رہے ہیں جو نعرے ہی ہیں۔ لیکن یہ ’’دیوالیہ‘‘ کیا ہے؟ دراصل یہ لفظ ’دوالا‘ ہے اور ہم ایک عرصے تک یہی سنتے آئے ہیں ’’فلاں کا دوالا پٹ گیا‘‘ (بکسراول)۔ اس کی اصل ’دیوا‘ یعنی چراغ ہے۔ ہندی کا لفظ ہے لیکن اردو، پنجابی میں عام ہے۔ اس کا دوسرا حصہ ’آلا‘ ہے جس کا مطلب ہے طاق۔ تو مطلب یہ ہوا ’’طاق میں رکھا چراغ‘‘۔ پہلے دستور تھا کہ جب کسی دکان دار، تاجر وغیرہ کو ٹوٹا، گھاٹا آتا تھا تو وہ دن کو اپنی دکان
خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ جاری و ساری ۔۔۔ یہ ساری کیا ہے؟۔۔۔ تحریر: اطہر علی ہاشمی
ہم لوگ ایسے کئی الفاظ بڑے اطمینان سے استعمال کرتے ہیں جن کا مفہوم معلوم ہوتا ہے، چنانچہ استعمال درست ہوتا ہے۔ ان میں سے ایک لفظ ’ساری‘ ہے جو عموماً ’جاری‘ کے ساتھ آتا ہے۔ اکیلے آتے ہوئے شاید گھبراتا ہے، یعنی ’جاری و ساری‘۔ اب جاری کا مطلب تو ہر کوئی جانتا ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ ’ساری‘ کیا ہے؟ لغت کے مطابق ’ساری‘ عربی کا لفظ اور اسم صفت ہے۔ اس کا مطلب ہے: اثر کرنے والا، سرائیت کرنے والا۔ علاوہ ازیں اردو میں ساری، سارا کا مونث بھی ہے۔ یہ ہندی سے آیا ہے اور اسم صفت ہے۔ مثلا ’’ساری خدائی ایک طرف،
محسن کتابیں۔۔۔03۔۔۔ تحریر: مولانا مناظر احسن گیلانی
جاننے والے،دیوبند وخیر آبادی لاگ ڈانٹ سے واقف ہیں۔سینے پر پتھر رکھ کر اس مدرسے میں داخل ہوا۔خدا جزائے خیر دے غزالی کو،اسیرِابن سینا وباقر کو،اس نے حضرت شیخ الہند کے حلقۂ حدیث میں پہنچا دیا۔کچھ دن کشمکش میں گزرے،عجب کٹھن دن تھے،آخر میں جس کی غلامی کی سرفرازی نصیب ہوئی،تعجب سے سنیے گا،کہ تین مہینے تک اس کے مصافحے سے کراھۃً یا احتقاراً محروم رہا!ایمان و یقین کے الفاظ سے آشنا تھا،لیکن حقیقت سے بیگانہ،حق تعالی کا ہزار ہزار شکر ہے کہ اس دولت کی سعادت میسر آئی۔اب تک مولانا محمد قاسم ؒ کے متعلق سنا تھاک
خبر لیجئے زباں بگڑی۔۔۔ مکتب فکر یا مکتبہ فکر۔۔۔ تحریر: اطہر علی ہاشمی
مکتب ِفکر یا مکتبۂ فکر؟ اس معاملے میں ہم اکثر بچل جاتے ہیں۔ بڑے معروف ادیبوں کو ’’مکتبۂ فکر‘‘ لکھتے ہوئے پڑھا اور بولتے ہوئے سنا، اس لیے ہم گڑبڑا جاتے ہیں کہ صحیح کیا ہے۔ ’مکتبِ فکر‘‘ اصل میں اسکول آف تھاٹ کا ترجمہ ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اسکول کو مکتب ہی کہتے ہیں۔ بقول شاعر: مکتبِ عشق کا دستور نرالا دیکھا اُس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا ’مکتب‘ عربی زبان کا لفظ ہے اور مطلب ہے: درس گاہ، لکھنے پڑھنے کی جگہ، اسکول، مدرسہ وغیرہ۔ جمع اس کی ’مکاتب‘ ہے۔ ’مکتبِ فکر‘ یا ’مکتبِ خیال‘ کا مطلب ہوا: کسی
محسن کتابیں۔۔۔02۔۔۔ تحریر: مولانا مناظر احسن گیلانی
اس ہوش ربائی داستان سرائی کی طوالت سے میں نے قصداً کام لیا ہے،کیونکہ اپنے ان ہی ذاتی تجربات کی بنیاد پر ،میں ان مسموم ادبی کتابوں اور رسالوں کو نوخیز بچوں اور نوجوانوں کے لئے سم قاتل قرار دیتا ہوں،جو حشراتی کیڑوں کی طرح آج آسمان و زمین سے ہر ہر گھر میں برس رہے ہیں،بچوں سے آگے بڑھ کر ،بچیوں تک کی تباہی و بربادی میں ،بے پناہ طوفانوں کاکام کر رہے ہیں،نسلیں برباد ہورہی ہیں، اور گھرانے اجڑ رہے ہیں،مگر اس شکل میں کہ ان کاغذی سانپوں اور بچھوؤںسے،ماں باپ بخوشی اپنے بچوں کوڈسا رہے ہیں،حکومت مدد کر رہی ہے
خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ بغیر ہمزہ کے ’گاے‘ اور’ چاے‘۔۔۔۔تحریر :اطہر علی ہاشمی
پاکستان میں روزِ اوّل سے اردو کو قومی زبان تسلیم کرنے کے بعد سے اس کے عملی نفاذ کی کوشش جاری ہے جو اب تک تو ناکام ہے۔ بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے اردو کو قومی زبان قرار دیا تھا۔ 1973ء کے آئین میں بھی ایسا ہی کچھ ہے، چنانچہ 2015ء میں عدالتِ عظمیٰ نے بھی حکم جاری کیا کہ دفتری زبان اردو ہوگی، لیکن خود عدالتوں میں اس کا اطلاق نہیں ہوسکا۔ گزشتہ دنوں عدالتِ عالیہ لاہور کے ایک شجیع جج نے اردو میں فیصلہ لکھا۔ ممکن ہے بعد میں اس کا ترجمہ انگریزی میں کرایا گیا ہو۔ عدالتوں کے فیصلے انگریزی میں
محسن کتابیں۔۔۔01۔۔۔ تحریر: مولانا مناظر احسن گیلانی
مولانا سید مناظر احسن گیلانی ولادت:استھانوں(ضلع پٹنہ) جو مولانا کا ننھیال تھا۔ مورخہ۹ربیع الاول ۱۳۱۰ھ ،مطابق ۲ اکتوبر ۱۸۹۲ء عالم باعمل،فاضل بے بدل،حضرت مولانا سید مناظر احسن گیلانی،اپنے گوناگوں کمالات اور متعدد صفات کی وجہ سے دور حاضر میں برصغیر کے ان علماء میں سے تھے،جن کو انگلیوں پر گنا جاسکتا ہے،بقول مولانا دریابادیؒ:دور حاضر کے طبقہ علماء کے خواص میں نہیں،بلکہ اخص الخواص میں تھے۔ آپ گیلانی (ضلع نالندہ ،بہار)کے مشہور خاندان سادات حسینیہ واسطی
خبر لیجئے زباں بگڑی۔۔۔ فی الوقت کے لئے ۔۔۔ تحریر: اطہر ہاشمی
ٹی وی چینلز پر خبروں کے اختتام پر ایک جملہ کہا جاتا ہے ’’فی الوقت کے لیے اتنا ہی…‘‘ جملہ صحیح تو ہے لیکن اس میں ’’کے لیے‘‘ زائد ہے۔ اسے نکال دیں تو مفہوم بھی پورا ہوجائے گا اور جملہ چست ہوجائے گا، یعنی ’’فی الوقت اتنا ہی‘‘ یا ’’فی الحال اتنا ہی‘‘۔ ’فی‘ عربی کا لفظ ہے اور اس کے متعدد معانی ہیں۔ یہ حرف جار ہے اور مطلب ہے: بیچ میں، ہر ایک کے لیے، ہر آدمی اور ہر چیز کے لیے جیسے فی کس، فی من، فی صدی۔ علاوہ ازیں نقص، کمی، غلطی، عیب، کھوٹ (اردو میں ’فی نکالنا‘ کا مطلب عیب نکالنا، رہ جانا، ہونا کے ساتھ)
محسن کتابیں 02 تحریر: مولانا عبید اللہ سندھی
اس کے بعد میری محسن کتابوں میں ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ہے،جس کے زور سے میں قرآن سمجھا،حدیث سمجھا،فقہ سمجھا۔حجۃ اللہ کو میں ایک مرکزی حیثیت سے اپنی محبوب کتاب مانتا ہوں،ورنہ شاہ صاحب کی ہر سطر میری محسن ہے۔حجۃ اللہ کے بعد شاہ صاحب کی کتابوں میں سے ’’الفوز الکبیر‘‘، فتح الرحمٰن،بدور بازغہ کی بہت زیادہ اہمیت میرے دماغ میں ہے۔ محسن کتابوں کے سلسلے میں اگر میں ان دو کتابوں کے بعد کوئی کتاب لکھوا سکتا ہوں،تو وہ مولانا شہیدؒ کی عبقات ہے،جس نے حجۃاللہ کے مقدمے کا کام دیا۔ شاہ صاحب کی تصنیفات ک
بھٹکل کے پہلے حافظ قرآن۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری
TEL: +971555636151 مورخہ ۷ فروری ۲۰۱۱ء کے سورج کے غروب ہونے کے ساتھ ہی خبر آئی کہ ہمارے استاد مولانا حافظ اقبال ندوی صاحب کی زندگی کا سورج بھی غروب ہوگیا ، وہ اب ہم میں نہیں رہے۔ ابھی تین ماہ قبل تعطیلات گذارنے کے لئے وطن جانا ہوا تھا تو آپ کی زیارت کے لئے گھر پر حاضری ہوئی تھی، جسم کا ایک ڈھانچہ رہ گیا تھا، چہرہ سکڑ کر پنجربن گیا تھا، ہوش و حواس کہاں تھے کہ بات کرتے ؟ جو پہنچانتے اور سلام کا جواب دیتے ؟ایک لاشہ تھا جو چارپائی پر خاموش پڑا تھا، آنکھوں میں آنسو آگئے اور سامنے ۱۹۶۴ء