Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors
Abdul Haleem Mansoor
Abdul Majid Daryabadi
Abdul Mateen Muniri
Abdur Raqeeb M.J Nadwi
Ahmed Hatib Siddiqui
Asif Jilani
Athar Hashmi
Bhatkallys
Dr Badrul Hasan Qasmi
Dr Haneef Shabab
Dr. F Abdur Rahim
Dr. Tahir Masud
Hafiz Naumani
Kaldip Nayar
Masoom Muradabadi
Masud Ahmed Barkati
Mohammed Mateen Khalid
Nizamuddin Nadwi
Riyazur Rahman Akrami Nadwi
Suhail Anjum
خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ اردو تھا جس کا نام۔۔۔ تحریر: اطہر ہاشمی
۔14 اگست کو پاکستان کا یومِ آزادی منایا گیا، لیکن ہر سال کی طرح اِس بار بھی یہ ابہام رہا کہ ’’کون سا سال؟‘‘ کسی اخبار نے 72 واں لکھا تو کسی نے 73 واں۔ یہی صورتِ حال اشتہارات میں بھی رہی۔ تقریبات کے دعوت ناموں میں بھی ترجیح 72 ویں یوم یا جشنِ آزادی کو دی گئی۔ سیدھی سی بات ہے کہ پاکستان 14 اگست 1947ء کو آزادا ہوا تھا اور یہ پہلا یومِ آزادی تھا۔ اب خود حساب لگا لیں کہ اس برس کون سا یوم آزادی بنتا ہے۔ اس طرح 73 واں یومِ آزادی بنتا ہے۔ یا پھر طے کرلیں کہ 14 اگست 1947ء کو یومِ آزادی نہیں تھا۔ ت
نامور فقیہ شیخ محمد مختار سلامی کی رحلت۔۔۔تحریر: ڈاکٹر بدرالحسن قاسمی۔ الکویت
دوشنبہ ۱۹؍اگست ۲۰۱۹ء کو تیونس کے سابق مفتی اعظم بلند پایہ فقیہ اور نامور عالم دین شیخ محمد مختار سلامی اس دنیا سے رخصت ہوگئے اور۹۴؍سال کی عمر میں انہوں نے اپنی جان جان آفریں کے سپرد کردی، إنا للہ وإنا إلیہ راجعون۔ مختلف سمیناروں، فقہی کانفرنسوں اور کویت، جدہ، مکہ مکرمہ اور دبئی منعقد ہونے والی علمی مجلسوں میں شرکت کی وجہ سے مرحوم شیخ سے ایک طرح کا قریبی تعلق پیدا ہوگیا تھا وہ فقہ مالکی پر عبور رکھنے کے ساتھ جدید مسائل کے حل کا بھی خاص ذوق اور سلیقہ رکھتے تھے اور کانفرنسوں میں پوری حاضر دماغی سے
محسن کتابیں۔۔۔ تحریر: مولانا سید طلحہ حسنی یم ۔ اے
مولانا سید طلحہ حسنی ایم۔اے ولادت:ٹونک،۱۳۰۸ھ ، مطابق ۱۸۹۰ء آپ رائے بریلی کے قطبی حسنی سادات میں سے تھے۔آپ کے والد سید محمد حضرت سید احمد شہیدؒ کے بھانجے مولوی سید محمد علی مصنف’’مخزن احمدی‘‘ کے حقیقی پوتے تھے۔محلہ قافلہ ٹونک میں پیدا ہوئے۔وہیں ابتدائی تعلیم پائی۔۱۹۰۰ء میں لکھنؤ آئے،اور دارالعلوم ندوۃ العلماء میں داخل ہوکر کئی سال تک تعلیم حاصل کی،پھر ٹونک جاکر مدرسہ ناصریہ میں مولانا سیف الرحمٰن مہاجر کابلی اور مولانا حیدر حسن ؒخان ٹونکی سے علوم کی تکمیل کی۔پنجاب یونیور
خبرلیجے زباں بگڑی۔۔۔ سید کی اردو نہ بگاڑیں۔۔۔ تحریر: اطہر ہاشمی
ماہنامہ سیارہ کے مدیر جناب حفیظ الرحمن احسن کا خط بنام محترم غازی علم الدین پڑھنے کا موقع ملا۔ گو کہ دوسروں کے خط پڑھنے کو اچھا نہیں سمجھا جاتا، لیکن یہ خطوط افادۂ عام کے لیے شائع ہوچکے ہیں۔ جناب احسن نے لکھا کہ جب وہ ماہنامہ سیارہ میں کام کررہے تھے تو رسالے کے مدیر نے انہیں نصیحت کی کہ ’’کبھی ’بسم اللہ ہی غلط ہوگئی‘ کا جملہ کسی تحریر میں نہ جانے دینا کہ یہ (محاورہ) اللہ کی توہین کے مترادف ہے‘‘۔ اس بات کا اعادہ ضروری ہے کہ ہم لوگ بلا سوچے سمجھے یہ کہہ ڈالتے ہیں، حالانکہ اللہ کے نام سے شروع کیا
یاد مجاز۔۔۔ تحریر: محمد رضا انصاری
[ یہ مضمون مارچ اننیس سو چھپپن کے ’نقوش ‘لاہور میں شائع ہوا تھا ،’مجاز ‘ کے اچانک انتقال کے تین ماہ بعد ] ’مجاز ‘ کی آخری زیارت ،اسکے مرنے سے تقریبا ً پچیس گھنٹے قبل اور بیہوش ہونے سے چند گھنٹے پہلے اس طرح ہوئ کہ میں بس سے اتر کر ،تیزی کے ساتھ اپنے دفتر جا رہا تھا ، رات کے پونے نو بجے تھے ،’مجاز ‘ اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ ’سینٹرل ہوٹل [امین آباد ] کے نیچے سڑک پر کھڑا ،حسب معمول خوش گپیوں میں مصروف تھا، اسکا رخ ہوٹل کی عمارت کی&
خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ ہنگام اور ہنگامہ۔۔۔ تحریر: اطہر علی ہاشمی
ایک واقعی بڑے ادیب، مضمون نگار، کالم نگار، مترجم اور شاعر، جو مرحوم ہوئے، ان کی ایک تحریر نظر سے گزری، جس میں ایک جملہ ہے ’’پُرشور اور پُرہنگام سڑک‘‘۔ ہنگام کے اس استعمال سے واضح ہے کہ مرحوم کو اس کا مطلب معلوم نہیں تھا اور انہوں نے اسے ہنگامہ کے معنوں میں استعمال کیا۔ مذکورہ تحریر 1953ء میں ایک معتبر جریدے میں شائع ہوئی، اور اب 2019ء میں شائع ہونے والی کتاب کا حصہ ہے۔ حیرت ہے کہ اس طویل عرصے میں کسی نے بھی اس کی تصحیح کرنے کی زحمت نہیں کی۔ یہ غلطی ہم سے بھی اُس وقت سرزد ہوئی تھی جب ایف اے کے سا
خبرلیجے زباں بگڑی--- دلیل عربی میں۔۔۔ تحریر: اطہر ہاشمی
عربی دانی کا دعویٰ تو کبھی نہیں رہا کہ ابھی تو اردو ہی ’’سیدھی‘‘ نہیں ہوئی، تاہم عربی کے وہ الفاظ جو اردو میں عام ہیں، دل چاہتا ہے کہ کبھی کبھی ان الفاظ کے لغوی معنی پر بھی روشنی ڈالی جائے۔ ان میں سے ایک لفظ ’’دلیل‘‘ ہے۔ اردو میں بہت عام ہے۔ وکلا عدالتوں میں دلیلیں دیتے ہیں۔ عام افراد بھی بحث مباحثے میں ایک دوسرے کو قائل کرنے کے لیے دلیل کا سہارا لیتے ہیں۔ یہ کام نہ آئے تو نوبت لاٹھی، ڈنڈے اور آتشیں اسلحے تک پہنچتی ہے، اور بدقسمتی سے یہ دلیل کام دکھا دیتی ہے۔ عام آدمی سے لے کر حکمرانوں تک ایس
دنیا بھر میں متون حدیث میں شائع شدہ پہلی کتاب... تحریر: مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی
نوٹ: چند روز قبل علم و کتاب واٹس اپ گروپ پر ایک استفسار آیا تھا کہ مولانا نور الحسن راشد صاحب کے پاس موجود سنن نسائی کے نسخے کو کتب حدیث کی پہلی کتاب کہا جاتا ہے، کیا اس سے زیادہ قدیم کوئی مطبوعہ کتاب کسی کے علم میں ہے، مطبوعہ کتابوں سے متعلق کتابوں کی تلاش کے بعد ہمیں ڈاکٹر احمد خان کی کتاب معجم المطبوعات العربیۃ فی شبہ القارۃ الھندیۃ و الباکستانیۃ میں ایک دوسری کتاب کا اندراج ملا، اس کی اطلاع جب مولانا کو ملی تو بڑی محنت کے ساتھ سنن نسائی کے پہلے ایڈیش اور متعلقہ معلومات ایک مراسلہ میں ہم
قوم اب تقریر کے بجائے سخت قانون چاہتی ہے۔۔۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی
پارلیمنٹ کا اجلاس بھی چل رہا ہے اور ملک میں باہر بھی وزیراعظم سے ہر طبقہ کے لوگ اپنے دل کی بات کہہ رہے ہیں۔ ملک میں ادب اور فلم کی دنیا کے 50 نامور حضرات نے وزیراعظم کی خدمت میں ایک کھلا خط بھیجا ہے۔ ان کو ماب لنچنگ کے خلاف سخت موقف اختیار کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ وزیراعظم نے ایسا نہیں ہے کہ اس کی مذمت نہ کی ہو لیکن جو طبقہ اس بیماری میں مبتلا ہے وہ وزیراعظم کی نصیحت اور درد بھری اپیل کو خاطر میں لانے والا نہیں ہے بلکہ متوجہ کرنے والوں کے نزدیک اس کے لئے سخت قانون بنانے کی ضرورت ہے۔ یہ کتنے ا
خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔غلَط اور غلْط۔۔۔ تحریر: اطہر علی ہاشمی
گزشتہ دنوں کراچی کی ایک جامعہ میں اردو زبان کے حوالے سے ایک سیمینار ہوا تھا جس میں خاص طور پر ٹی وی چینلوں پر بولی جانے والی غلط زبان پر توجہ دلائی گئی تھی۔ ٹی وی اینکرز غلط بولتے ہیں اور اُن سے سن کر نوجوان بھی غلط بولنے لگے ہیں۔ سردمہری کو سردمُہری (میم پر پیش) کہنا تو اب عام ہی ہوگیا ہے۔ ٹی وی چینل بول کے اینکر، جن کے نام میں اقبال آتا ہے، وہ بھی دھڑلے سے سردمہری پر مُہر لگا رہے تھے۔ لیکن اس سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جو دانشور، تجزیہ نگار قسم کے لوگ ٹی وی پروگراموں میں آتے ہیں وہ بھی غلط سلط بول
سچی باتیں۔۔۔حج کا موسم ۔۔۔ تحریر : مولانا عبد الماجد دریابادی
18-06-1926 حج کا موسم آگیا۔ دیار حبیبؐ کی زیارت کی گھڑی آگئی۔ دیوانوں کے جوش جنون کے تازہ ہونے کا زمانہ آن لگا۔ بچھڑے ہوؤں کے ملنے کا وقت آ پہونچا۔ جن جن کے نصیب میں تھا، وہ باوجود ہرطرح کی بے سروسامانی کے، اپنے دوردراز وطن سے چل کر، سخت گرمی کے موسم میں طویل سفر کی کلفتیں اُٹھاکر، عرب کے تمتماتے ہوئے آفتاب، حجاز کی جھُلسا دینے والی لُو، ریگستان کی تپتی ہوئی زمین کو برداشت کرتے، امیر وغریب، لاکھوں کی تعداد میں، سب ایک ہی قسم کا لباس پہنے، سب ایک ہی چادر اوڑھے، اور ایک ہی تہمد باندھے، اپنے ایک
کمارا سوامی کہاں سے کلیجہ لائیں۔۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی
ایک ہفتہ سے ہر اخبار کا ایک موضوع یہ ہے کہ کمارا سوامی کی حکومت رہے گی یا جائے گی؟ جبکہ ہر بات سے اندازہ ہورہا ہے کہ کرناٹک کی موجودہ حکومت جائے گی۔ 13 مہینے اتنے نہیں ہوتے کہ اس وقت کی باتیں سب بھول جائیں۔ ہمیں بھی یاد ہے اور آپ کو بھی یاد ہوگا کہ کمارا سوامی نے کانگریس کے 80 ممبروں کی حمایت کے خط کے ساتھ گورنر سے کہا تھا کہ ہمیں حکومت بنانے کا موقع دیا جائے۔ لیکن وزیراعظم نے گورنر سے کہا یا کہلایا کہ سب سے بڑی پارٹی ہونے کی وجہ سے بی جے پی کے اُمیدوار کو وزیراعلیٰ کا حلف دلایا جائے۔ عام دنوں ا
ہندوستان میں اردو کا دم آخریں؟--- تحریر: آصف جیلانی
ہندوستان کا مقتدر اردو سہ روزہ اخبار ’’دعوت‘‘ جو پینسٹھ سال پہلے دلی سے روزنامہ کے طور پر شائع ہونا شروع ہوا تھا پچھلے ہفتہ بند ہوگیا۔ وجہ مالی مشکلات اور قارئین کی تیزی سے کم ہوتی ہوئی تعداد بتائی گئی ہے۔ ’’دعوت‘‘ کا بند ہونا آج کے ہندوستان میںصرف اردو اخبارات کے بحران کا آئینہ دار نہیں ہے بلکہ ہندوستان میں اردو زبان کے دم آخریں کی تمہید ہے۔ اس وقت ہندوستان میں اردو جس سنگین بحران سے گزر رہی ہے اس کی تہِ تک پہنچنے کے لیے اس کے پس منظر کا ادراک ضروی ہے جو خاصہ طویل ہے۔ ڈیڑھ سو سال پہلے ہندو
خبر لیجے زباں بگڑی۔ شومی قسمت۔۔۔ تحریر: اطہر علی ہاشمی
کرکٹ ورلڈ کپ جسے اہلِ عرب ’کاس العالم‘ کہتے ہیں، کا بخار خوب چڑھا اور اب اتار پر ہے۔ تاہم ابھی کچھ دن ذرائع ابلاغ میں چرچا رہے گا۔ ’کاس‘ عربی میں پیالے، کٹورے یا گلاس کو کہتے ہیں۔ اس کی ایک شکل ’کاسہ‘ اردو میں عام ہے، مثلاً کاسۂ سر، کاسۂ گدائی وغیرہ۔ میرتقی میرؔ کا پیر کسی کاسۂ سر پر جا پڑا تھا تو اُس نے میر صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ ’’میں بھی کبھو کسوکا سرِ پُر غرور تھا‘‘۔ کھوپڑیوں سے گفتگو کرنا شاعروں کا کمال ہے۔ ’کاسہ‘ فارسی کا لفظ ہے۔ ایک ترکیب ’کاسۂ چشم‘ بھی ہے، یعنی آنکھو
محسن کتابیں۔۔۔ تحریر: مولانا بدر الدین علوی
مولانا بدرالدین علوی ولادت:علی گڑھ،۱۳۱۰ھ،مطابق ۱۸۹۳ء معزز علوی سادات سے آپ کا تعلق تھا۔شروع میں انگریزی تعلیم حاصل کی،عربی بھی ساتھ ساتھ شروع کردی تھی،لیکن ۱۹۱۰ء میں پنجاب یونیورسٹی کے انٹرنس کے امتحان میں ناکامی کے بعد پوری طرح عربی کی طرف متوجہ ہوئے۔آپ استاذ العلماء مولانا لطف اللہ علی گڑھی کے آخری دور کے باکمال تلامذہ میں تھے۔ سنہ ۱۹۱۵ء میں لٹن لائیبریری ،ایم۔اے۔او کالج علی گڑھ میں عربی وفارسی سیکشن کے انچارج مقرر ہوئے،۱۹۲۰ء ۔۱۹۲۱ میں مدرسہ لطفیہ علی گڑھ می
خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ فرسا اور آسا ۔۔۔ تحریر: اطہر علی ہاشمی
علامہ اقبال کی حمد کا بہت مشہور مصرع ہے۔ سروری زیبا فقط اس ذات بے ہمتا کو ہے طالب علمی کے زمانے میں یہ ’بے ہمتا‘ سمجھ میں نہیں آتا تھا، بلکہ نئی اردو کے مطابق سمجھ نہیں لگتی تھی یا سمجھ نہیں آتی تھی۔ اب بھی ممکن ہے کہ کچھ لوگوں کو بے ہمتا کا مطلب معلوم نہ ہو، اور ہمارے مخاطب ہم جیسے ہی ہیں، ان کے لیے عرض ہے کہ ’بے‘ فارسی میں نفی کا حرف ہے اور ’با‘ کی ضد ہے۔ مثلاً بے اختیار اور بااختیار۔ ’بے‘ کے سابقے کے ساتھ بے شمار الفاظ اردو میں عام ہیں۔ ’بے ہمتا‘ بھی فارسی ہے جس کا مطلب ہے ’’بے مثا
ایک پیکر صبر ووفاء کی جدائی۔ ڈاکٹر حسن باپا یم ٹی۔۔۔ قسط ۰۲۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری
سال ۱۹۷۱ء کی انجمن گولڈن جوبلی بھٹکل کی تعلیمی و سماجی تاریخ کا ایک زرین واقعہ تھی، اس کے لئے بحیثیت کنوینر الحاج محی الدین منیری مرحوم کا انتخاب عمل میں آیا تھا، مرحوم ایک بہترین منتظم تھے، وہ نوجوانوں کو قریب کر کے ان سے کام لینے کاہنر جانتے تھے،وہ بھی زیادہ تر ممبئی ہی میں اقامت پذیر ہوا کرتے تھے، لہذا ممبئی جماعت سے وابستہ نوجوانوں سید خلیل الرحمں یس یم، ارشاد ، عبد اللہ دامودی وغیر ہ نے سونیر کی ذمہ داری لی ، یہ لوگ پڑھے لکھے ہونے کے ساتھ ساتھ پرنٹنگ اور اشتہارات اکٹھا کرنے کے فن سے آگا
مصری صحافی کی کتاب اور شیخ الہند کی تصویر... تحریر: عبد المتین منیری۔ بھٹکل
WA:00971555636151 گزشتہ چار سال سے ہمارا ایک واٹس اپ گروپ علم وکتاب کےنام سے جاری ہے، اس میں برصغیر کے منتخب علماء، اہل قلم اور دانشور شامل ہیں، چند دن قبل گروپ کے معززممبر اور گجرات کے معروف عالم حدیث مولانا محمد طلحہ بلال منیار صاحب نے ایک پوسٹ کے ذریعہ توجہ مبذول کرائی تھی کہ کوئی بیس سال قبل جب وہ مکہ مکرمہ میں زیر تعلیم تھے، تومصری صحافی محمد عبد الرحمن الصباحی کی کتاب خمس سنین فی مغاور الاسر کے بارے میں سنا تھا کہ یہ صحافی حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی علیہ الرحمۃ مالٹا میں اسیر