Search results

Search results for ''


خبرلیجے زباں بگڑی۔۔۔ سید کی اردو نہ بگاڑیں۔۔۔ تحریر: اطہر ہاشمی

Bhatkallys Other

ماہنامہ سیارہ کے مدیر جناب حفیظ الرحمن احسن کا خط بنام محترم غازی علم الدین پڑھنے کا موقع ملا۔ گو کہ دوسروں کے خط پڑھنے کو اچھا نہیں سمجھا جاتا، لیکن یہ خطوط افادۂ عام کے لیے شائع ہوچکے ہیں۔ جناب احسن نے لکھا کہ جب وہ ماہنامہ سیارہ میں کام کررہے تھے تو رسالے کے مدیر نے انہیں نصیحت کی کہ ’’کبھی ’بسم اللہ ہی غلط ہوگئی‘ کا جملہ کسی تحریر میں نہ جانے دینا کہ یہ (محاورہ) اللہ کی توہین کے مترادف ہے‘‘۔ اس بات کا اعادہ ضروری ہے کہ ہم لوگ بلا سوچے سمجھے یہ کہہ ڈالتے ہیں، حالانکہ اللہ کے نام سے شروع کیا

یاد مجاز۔۔۔ تحریر: محمد رضا انصاری

Mufti Mohammed Raza Anasari Yadaun Kay Chiragh

[ یہ مضمون مارچ اننیس سو چھپپن کے ’نقوش ‘لاہور میں شائع ہوا تھا ،’مجاز ‘ کے  اچانک انتقال کے تین ماہ بعد ] ’مجاز ‘ کی آخری زیارت ،اسکے مرنے سے تقریبا ً پچیس گھنٹے قبل اور بیہوش ہونے سے چند گھنٹے پہلے اس طرح ہوئ کہ میں بس سے اتر کر ،تیزی  کے ساتھ اپنے دفتر جا رہا تھا ، رات کے پونے نو بجے تھے ،’مجاز ‘ اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ ’سینٹرل ہوٹل [امین آباد ] کے نیچے سڑک پر کھڑا ،حسب معمول خوش گپیوں میں مصروف تھا، اسکا رخ ہوٹل کی عمارت کی&

خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ ہنگام اور ہنگامہ۔۔۔ تحریر: اطہر علی ہاشمی

Bhatkallys Other

ایک واقعی بڑے ادیب، مضمون نگار، کالم نگار، مترجم اور شاعر، جو مرحوم ہوئے، ان کی ایک تحریر نظر سے گزری، جس میں ایک جملہ ہے ’’پُرشور اور پُرہنگام سڑک‘‘۔ ہنگام کے اس استعمال سے واضح ہے کہ مرحوم کو اس کا مطلب معلوم نہیں تھا اور انہوں نے اسے ہنگامہ کے معنوں میں استعمال کیا۔ مذکورہ تحریر 1953ء میں ایک معتبر جریدے میں شائع ہوئی، اور اب 2019ء میں شائع ہونے والی کتاب کا حصہ ہے۔ حیرت ہے کہ اس طویل عرصے میں کسی نے بھی اس کی تصحیح کرنے کی زحمت نہیں کی۔ یہ غلطی ہم سے بھی اُس وقت سرزد ہوئی تھی جب ایف اے کے سا

خبرلیجے زباں بگڑی--- دلیل عربی میں۔۔۔ تحریر: اطہر ہاشمی

Bhatkallys Other

عربی دانی کا دعویٰ تو کبھی نہیں رہا کہ ابھی تو اردو ہی ’’سیدھی‘‘ نہیں ہوئی، تاہم عربی کے وہ الفاظ جو اردو میں عام ہیں، دل چاہتا ہے کہ کبھی کبھی ان الفاظ کے لغوی معنی پر بھی روشنی ڈالی جائے۔ ان میں سے ایک لفظ ’’دلیل‘‘ ہے۔ اردو میں بہت عام ہے۔ وکلا عدالتوں میں دلیلیں دیتے ہیں۔ عام افراد بھی بحث مباحثے میں ایک دوسرے کو قائل کرنے کے لیے دلیل کا سہارا لیتے ہیں۔ یہ کام نہ آئے تو نوبت لاٹھی، ڈنڈے اور آتشیں اسلحے تک پہنچتی ہے، اور بدقسمتی سے یہ دلیل کام دکھا دیتی ہے۔ عام آدمی سے لے کر حکمرانوں تک ایس

دنیا بھر میں متون حدیث میں شائع شدہ پہلی کتاب... تحریر: مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی

Bhatkallys Other

نوٹ:  چند روز قبل علم و کتاب واٹس اپ گروپ  پر ایک استفسار آیا تھا کہ  مولانا نور الحسن راشد صاحب کے پاس موجود سنن نسائی کے نسخے کو کتب حدیث کی پہلی کتاب کہا جاتا ہے، کیا اس سے زیادہ  قدیم کوئی مطبوعہ کتاب کسی کے علم میں ہے، مطبوعہ کتابوں سے متعلق کتابوں کی تلاش کے بعد ہمیں  ڈاکٹر احمد خان کی کتاب معجم المطبوعات العربیۃ فی شبہ القارۃ الھندیۃ و الباکستانیۃ میں ایک دوسری کتاب کا اندراج ملا، اس کی اطلاع جب مولانا کو ملی تو بڑی محنت کے ساتھ سنن نسائی کے پہلے ایڈیش اور متعلقہ معلومات ایک مراسلہ میں ہم

قوم اب تقریر کے بجائے سخت قانون چاہتی ہے۔۔۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

پارلیمنٹ کا اجلاس بھی چل رہا ہے اور ملک میں باہر بھی وزیراعظم سے ہر طبقہ کے لوگ اپنے دل کی بات کہہ رہے ہیں۔ ملک میں ادب اور فلم کی دنیا کے 50 نامور حضرات نے وزیراعظم کی خدمت میں ایک کھلا خط بھیجا ہے۔ ان کو ماب لنچنگ کے خلاف سخت موقف اختیار کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ وزیراعظم نے ایسا نہیں ہے کہ اس کی مذمت نہ کی ہو لیکن جو طبقہ اس بیماری میں مبتلا ہے وہ وزیراعظم کی نصیحت اور درد بھری اپیل کو خاطر میں لانے والا نہیں ہے بلکہ متوجہ کرنے والوں کے نزدیک اس کے لئے سخت قانون بنانے کی ضرورت ہے۔ یہ کتنے ا

خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔غلَط اور غلْط۔۔۔ تحریر: اطہر علی ہاشمی

Bhatkallys Other

گزشتہ دنوں کراچی کی ایک جامعہ میں اردو زبان کے حوالے سے ایک سیمینار ہوا تھا جس میں خاص طور پر ٹی وی چینلوں پر بولی جانے والی غلط زبان پر توجہ دلائی گئی تھی۔ ٹی وی اینکرز غلط بولتے ہیں اور اُن سے سن کر نوجوان بھی غلط بولنے لگے ہیں۔ سردمہری کو سردمُہری (میم پر پیش) کہنا تو اب عام ہی ہوگیا ہے۔ ٹی وی چینل بول کے اینکر، جن کے نام میں اقبال آتا ہے، وہ بھی دھڑلے سے سردمہری پر مُہر لگا رہے تھے۔ لیکن اس سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جو دانشور، تجزیہ نگار قسم کے لوگ ٹی وی پروگراموں میں آتے ہیں وہ بھی غلط سلط بول

سچی باتیں۔۔۔حج کا موسم ۔۔۔ تحریر : مولانا عبد الماجد دریابادی

Bhatkallys Other

18-06-1926  حج کا موسم آگیا۔ دیار حبیبؐ کی زیارت کی گھڑی آگئی۔ دیوانوں کے جوش جنون کے تازہ ہونے کا زمانہ آن لگا۔ بچھڑے ہوؤں کے ملنے کا وقت آ پہونچا۔ جن جن کے نصیب میں تھا، وہ باوجود ہرطرح کی بے سروسامانی کے، اپنے دوردراز وطن سے چل کر، سخت گرمی کے موسم میں طویل سفر کی کلفتیں اُٹھاکر، عرب کے تمتماتے ہوئے آفتاب، حجاز کی جھُلسا دینے والی لُو، ریگستان کی تپتی ہوئی زمین کو برداشت کرتے، امیر وغریب، لاکھوں کی تعداد میں، سب ایک ہی قسم کا لباس پہنے، سب ایک ہی چادر اوڑھے، اور ایک ہی تہمد باندھے، اپنے ایک

کمارا سوامی کہاں سے کلیجہ لائیں۔۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی

Bhatkallys Other

ایک ہفتہ سے ہر اخبار کا ایک موضوع یہ ہے کہ کمارا سوامی کی حکومت رہے گی یا جائے گی؟ جبکہ ہر بات سے اندازہ ہورہا ہے کہ کرناٹک کی موجودہ حکومت جائے گی۔ 13 مہینے اتنے نہیں ہوتے کہ اس وقت کی باتیں سب بھول جائیں۔ ہمیں بھی یاد ہے اور آپ کو بھی یاد ہوگا کہ کمارا سوامی نے کانگریس کے 80 ممبروں کی حمایت کے خط کے ساتھ گورنر سے کہا تھا کہ ہمیں حکومت بنانے کا موقع دیا جائے۔ لیکن وزیراعظم نے گورنر سے کہا یا کہلایا کہ سب سے بڑی پارٹی ہونے کی وجہ سے بی جے پی کے اُمیدوار کو وزیراعلیٰ کا حلف دلایا جائے۔ عام دنوں ا

ہندوستان میں اردو کا دم آخریں؟--- تحریر: آصف جیلانی

Bhatkallys Other

ہندوستان کا مقتدر اردو سہ روزہ اخبار ’’دعوت‘‘ جو پینسٹھ سال پہلے دلی سے روزنامہ کے طور پر شائع ہونا شروع ہوا تھا پچھلے ہفتہ بند ہوگیا۔ وجہ مالی مشکلات اور قارئین کی تیزی سے کم ہوتی ہوئی تعداد بتائی گئی ہے۔ ’’دعوت‘‘ کا بند ہونا آج کے ہندوستان میںصرف اردو اخبارات کے بحران کا آئینہ دار نہیں ہے بلکہ ہندوستان میں اردو زبان کے دم آخریں کی تمہید ہے۔ اس وقت ہندوستان میں اردو جس سنگین بحران سے گزر رہی ہے اس کی تہِ تک پہنچنے کے لیے اس کے پس منظر کا ادراک ضروی ہے جو خاصہ طویل ہے۔ ڈیڑھ سو سال پہلے ہندو

خبر لیجے زباں بگڑی۔ شومی قسمت۔۔۔ تحریر: اطہر علی ہاشمی

Bhatkallys Other

  کرکٹ ورلڈ کپ جسے اہلِ عرب ’کاس العالم‘ کہتے ہیں، کا بخار خوب چڑھا اور اب اتار پر ہے۔ تاہم ابھی کچھ دن ذرائع ابلاغ میں چرچا رہے گا۔ ’کاس‘ عربی میں پیالے، کٹورے یا گلاس کو کہتے ہیں۔ اس کی ایک شکل ’کاسہ‘ اردو میں عام ہے، مثلاً کاسۂ سر، کاسۂ گدائی وغیرہ۔ میرتقی میرؔ کا پیر کسی کاسۂ سر پر جا پڑا تھا تو اُس نے میر صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ ’’میں بھی کبھو کسوکا سرِ پُر غرور تھا‘‘۔ کھوپڑیوں سے گفتگو کرنا شاعروں کا کمال ہے۔ ’کاسہ‘ فارسی کا لفظ ہے۔ ایک ترکیب ’کاسۂ چشم‘ بھی ہے، یعنی آنکھو

محسن کتابیں۔۔۔ تحریر: مولانا بدر الدین علوی

Bhatkallys Other

مولانا بدرالدین علوی             ولادت:علی گڑھ،۱۳۱۰ھ،مطابق ۱۸۹۳ء             معزز علوی سادات سے آپ کا تعلق تھا۔شروع میں انگریزی تعلیم حاصل کی،عربی بھی ساتھ ساتھ شروع کردی تھی،لیکن ۱۹۱۰ء میں پنجاب یونیورسٹی کے انٹرنس کے امتحان میں ناکامی کے بعد پوری طرح عربی کی طرف متوجہ ہوئے۔آپ استاذ العلماء مولانا لطف اللہ علی گڑھی کے آخری دور کے باکمال تلامذہ میں تھے۔          سنہ ۱۹۱۵ء میں لٹن لائیبریری ،ایم۔اے۔او کالج علی گڑھ میں عربی وفارسی سیکشن کے انچارج مقرر ہوئے،۱۹۲۰ء ۔۱۹۲۱ میں مدرسہ لطفیہ علی گڑھ می

خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ فرسا اور آسا ۔۔۔ تحریر: اطہر علی ہاشمی

Bhatkallys Other

علامہ اقبال کی حمد کا بہت مشہور مصرع  ہے۔ سروری زیبا فقط اس ذات بے ہمتا کو ہے طالب علمی کے زمانے میں یہ ’بے ہمتا‘ سمجھ میں نہیں آتا تھا، بلکہ نئی اردو کے مطابق سمجھ نہیں لگتی تھی یا سمجھ نہیں آتی تھی۔ اب بھی ممکن ہے کہ کچھ لوگوں کو بے ہمتا کا مطلب معلوم نہ ہو، اور ہمارے مخاطب ہم جیسے ہی ہیں، ان کے لیے عرض ہے کہ ’بے‘ فارسی میں نفی کا حرف ہے اور ’با‘ کی ضد ہے۔ مثلاً بے اختیار اور بااختیار۔ ’بے‘ کے سابقے کے ساتھ بے شمار الفاظ اردو میں عام ہیں۔ ’بے ہمتا‘ بھی فارسی ہے جس کا مطلب ہے ’’بے مثا

ایک پیکر صبر ووفاء کی جدائی۔ ڈاکٹر حسن باپا یم ٹی۔۔۔ قسط ۰۲۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری

Bhatkallys Other

سال ۱۹۷۱ء  کی انجمن گولڈن جوبلی بھٹکل کی تعلیمی و سماجی تاریخ کا ایک زرین واقعہ تھی، اس کے لئے بحیثیت کنوینر الحاج محی الدین منیری مرحوم کا انتخاب عمل میں آیا تھا، مرحوم ایک بہترین منتظم تھے، وہ نوجوانوں کو قریب کر کے ان سے کام لینے کاہنر جانتے تھے،وہ بھی زیادہ تر ممبئی ہی  میں اقامت پذیر ہوا کرتے تھے، لہذا  ممبئی جماعت سے وابستہ نوجوانوں سید خلیل الرحمں یس یم، ارشاد ، عبد اللہ دامودی وغیر ہ نے سونیر کی ذمہ داری لی ، یہ لوگ پڑھے لکھے ہونے کے  ساتھ ساتھ پرنٹنگ اور اشتہارات اکٹھا کرنے کے فن سے آگا

مصری صحافی کی کتاب اور شیخ الہند کی تصویر... تحریر: عبد المتین منیری۔ بھٹکل

Bhatkallys Other

WA:00971555636151 گزشتہ چار سال سے ہمارا ایک واٹس اپ گروپ علم وکتاب کےنام سے جاری ہے، اس میں برصغیر کے منتخب علماء، اہل قلم اور دانشور شامل ہیں، چند دن قبل گروپ کے معززممبر اور گجرات کے معروف عالم حدیث مولانا محمد طلحہ بلال منیار صاحب نے ایک پوسٹ کے ذریعہ توجہ مبذول کرائی تھی کہ کوئی بیس سال قبل جب وہ مکہ مکرمہ میں زیر تعلیم تھے، تومصری صحافی محمد عبد الرحمن الصباحی کی کتاب خمس سنین فی مغاور الاسر کے بارے میں سنا تھا کہ یہ صحافی حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی علیہ الرحمۃ مالٹا میں اسیر

ایک پیکر صبر ووفاء کی جدائی۔ ڈاکٹر حسن باپا یم ٹی...قسط ۰۱۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری

Bhatkallys Other

جون  ۱۷ کی  تاریخ تھی ،نماز مغرب کے بعد دبی کے القوز قبرستان میں ہمارے ایک دوست سے نماز جنازہ سے فارغ ہو کر ابھی ڈاکٹر حسن باپا یم ٹی  کی صحت کے بارے میں دریافت کرہی رہا تھا، کہ خبر آئی کہ ڈاکٹر یم ٹی صاحب اللہ کو پیارے ہو گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون ، ایک روز پہلے میں بھٹکل میں تھا، ان کے بعض خاص احباب وغیرہ سے ملاقات ہوئی تھی، لیکن ڈاکٹر صاحب کی علالت کی کوئی خبر اس وقت تک عام نہیں ہوئی تھی۔ خبر سنتے ہی آپ کا ہنستا مسکراتا، امید کی روشنی سے دمکتا کتابی چہرہ  نگاہوں کے سامنے گھومنے لگا،جب ب

حضرت شیخ الہند کی اکلوتی تصویر...تحریر: عبدالمتین منیری

Bhatkallys Other

گزشتہ چار سالوں سے علم وکتاب واٹس اپ گروپ جاری ہے، اس میں برصغیر کے منتخب علماء، دانشور اور اہل قلم شامل ہیں، اس میں طلبہ واساتذہ کے لئے مفید مواد پیش ہوتا رہتا ہے، اور مختلف فرمائشیں بھی آتی رہتی ہیں، علم وکتاب سے محبت رکھنے والے مولانا شبیر احمد میواتی بھی ابھی گزشتہ چند دنوں سے اس کے رکن رکین ہیں، گزشتہ دنوں ان کے توسط سے امیر شریعت حضرت مولانا منت اللہ رحمانی رحمۃ اللہ کے سفرنامہ حج سے ایک اقتباس موصول ہوا، جس میں مالٹا میں حضرت شیخ الہند کے  ساتھ رفیق زنداں ایک مصری صحافی محمد عبد الرحمن ال

خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ صحیح تو قسائی ہی ہے۔۔۔ تحریر: اطہر علی ہاشمی

Bhatkallys Other

گزشتہ شمارے (28 جون تا 4 جولائی) میں عبدالمتین منیری نے بھارت کے ایک بڑے عالم مولانا ڈاکٹر عبیداللہ قاسمی، سابق استاد دارالعلوم دیوبند، حال پروفیسر دہلی یونیورسٹی کا تبصرہ ہمارے کالم پر ارسال کیا ہے۔ سب سے پہلے تو اتنے بڑے عالم کی ہماری ناپختہ اور کچی پکی تحریروں پر توجہ اور انہیں کسی تبصرے کے قابل سمجھنا ہی ہمارے لیے باعثِ شرف ہے، جس کا شکریہ۔ ہم نہ عالم نہ استاد، تاہم مؤدبانہ عرض ہے کہ ان کا پہلا اعتراض ہے ’’جاری و ساری میں ’ساری‘ کو غلط کہنا اور اس کا معنی سرایت کرنے والا قرار دینا