Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors

















سچی باتیں۔۔۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا مخلص کون؟۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی
1925-08-21 ماہِ محرم ختم ہوگیا، حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے حالات زندگی آپ مختلف طریقوں سے سُن چکے، واقعات کربلا آپ اچھی طرح پڑھ چکے، ان تمام معلومات، اس ساری واقفیت، کے بعد آپ ک عقل، آپ کے ضمیر، آپ کی دیانت کا کیا فیصلہ ہے، کہ دَور موجودہ میں امام مظلومؓ کے سچے دوستدار، شہید ؓکربلا سے دلی محبت رکھنے والے کون لوگ ہیں؟ آیا وہ لوگ جو اُن کے طریقہ پر چلنا چاہتے ہیں، جو اُن کے نمونۂ زندگی کو اپنے سامنے رکھے ہوئے ہیں، جو اُن کی مبارک زندگی کی روشنی میں اپنا ہر قدم اُٹھانا چاہتے ہیں؟ یا وہ لوگ، جو
استادِ محترم مولانا عبدالعلیم ندوی مرحوم کی یاد میں ۔قسط- ۰۱- از : محمد راشد شیخ.کراچی
تقسیم برصغیر سے قبل برصغیر کے تین تعلیمی ادارے اپنی تعلیم ،تربیت اور دیگر محاسن کے لیے معروف تھے۔یہ ادارے دارالعلوم دیوبند، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ اور دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو تھے۔تقسیم کے نتیجے میں یہ ادارے تو ہندوستان ہی میں رہ گئے اور آج تک تعلیمی خدمات انجام دے رہے ہیں اور تینوں سو سال سے زائد قدیم ہو چکے ہیں۔ تقسیم سے قبل کشمیر سے راس کماری اور مدراس سے پشاور تک تقریباً ہر علاقے کے طلبہ وہاں تعلیم حاصل کرتے بلکہ بیرون ممالک کے بھی۔ان ادا
عظیم معلم، مربی اور اولین معتمد جامعہ ۔ قسط ۰۱- تحریر: عبدالمتین منیری
یہ مضمون ۱۹۷۹ء میں مولانا عبد الحمید ندوی علیہ الرحمۃ کی رحلت کے بعد نقش نوائط ممبئی میں قسط وار شائع ہوا تھا، پھر اسے بانی جامعہ ڈاکٹر علی ملپاعلیہ الرحمۃ اور حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی دامت برکاتھم سرپرست جامعہ کی موجود گی میں سنہ ۱۹۹۸ء جامعہ آباد میں منعقدہ سیمنار میں پیش کیا گیا تھا۔ استاذ محترم مولاناعبدالحمیدصاحب ندوی رحمۃ اللہ علیہ کا ذکرخیرہو اوراس کاآغازانجمن حامی مسلمین کے تذکرہ سے نہ ہوکیوں کرممکن ہے! بھٹکل میں اسلامی نشأۃ ثانیہ کی داغ بیل تویہیں پرڈالی گئی تھی، تعلیمی بی
سچی باتیں۔۔۔ واقعہ کربلا کی اہمیت کا پہلو؟ ۔۔۔ تحریر:مولانا عبد الماجد دریابادی
14-08-1925 محرّم ومراسم محرّم کے متعلق آپ ان صفحات میں کئی ہفتوں سے مسلسل مضامین پڑھ رہے ہیں، کیا ان مضامین سے امام مظلوم کی یاد دلوں سے مٹانا مقصود ہے؟ کیا یہ مضامین اس غرض سے لکھے گئے ہیں، کہ لوگوں کے دلوں میں امام حسین علیہ السلام کی وقعت وعظمت باقی نہ رہے؟ خدانخواستہ ان مضامین سے کوئی اس قسم کا مقصد تھا، یا برعکس اس کے، یہ تھا ، کہ واقعۂ کربلا کی پوری اہمیت ذہن نشین ہو، امام مظلوم ک ایثار وسرفروشی کا نقش دلوں پر اور گہرا ہو، اور اب تک جن نادانیوں کی بناپر، عشرۂ محرم کو ضائع کیاجاتارہاہے،
سچی باتیں ۔۔۔ماتم کس کا کریں؟ ۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریا بادی
۰۷-۰۸-۱۹۲۵ء ہندوستان میں کئی سال سے مسئلہ خلافت کا جوچرچا آپ سن رہے ہیں، اور جس کی بابت چند سال اُدھر بہت جوش وخروش تھا، جو اب دھیما ہوگیاہے، کیا یہ مسئلہ جدید ونوپیداتھا؟ کیا اس ’’شورش‘‘ کو آج کل کے چند مولویوں نے گڑھ لیاتھا؟ کیا یہ سارا ’’شروفساد‘‘ خلافت کمیٹیوں کا پیدا کیاہواتھا؟ کیا یہ ’’ غل وشور‘‘ شوکت علی ومحمد علی نے خواہ مخواہ برپاکررکھاتھا؟ کیا یہ ساری تحریک محض ایک ’’سیاسی شورش‘‘ تھی؟ کیا مذہبی حیثیت سے آپ کی نظر میں اس کی کوئی اہمیت نہ تھی؟ کیا بحیثیت ایک مسلم کے، آپ کے لئے اس می
خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ اردو اور نفاذ اردو ۔۔۔ تحریر : اطہر علی ہاشمی
۔7 ستمبر کو جمعیت الفلاح نے ’’پاکستان میں نفاذِ اردو‘‘ کے عنوان سے ایک پروگرام کا انعقاد کیا، جس میں کئی اہلِ علم و ادب حضرات نے خطاب کیا۔ ہم نے صرف سننے پر اکتفا کیا کہ ایسے ماہرینِ لسانیات کے سامنے کیا منہ کھولتے۔ یوں بھی یہ کھٹکا رہتا ہے کہ ہم جو دوسروں کی غلطیاں پکڑتے ہیں ہماری زبان سے کوئی غلط لفظ، کوئی غلط تلفظ نکل گیا تو ’’خود میاں فضیحت‘‘ کا مصداق ٹھیریں گے۔ اس کا تجربہ کئی بار ہوچکا ہے۔ ایک محفل میں اچانک ایک صاحب نے ہمیں ’بابا اردو‘ سمجھ کر پوچھ لیا کہ ’’سبزۂ نورستہ‘‘ کا

ماہر القادری کی آخری سانسیں۔۔۔ تحریر : ڈاکٹر عبد اللہ عباس ندوی
" ماہر صاحب کو موت مکہ لائی تھی ۔ " "میں تو کہتا ہوں کہ مشاعرہ ہوا ہی اسی لیے تھا کہ ماہر صاحب کو جنت المعلیٰ میں جگہ مل جائے " "اللہ بخشے بڑی اچھی موت پائی " جی ہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جمعہ بارہ مئی کو مغرب اور عشا کے درمیان جنت المعلیٰ کے اس حصے میں جہاں حاجی امداللہ صاحب مہاجر مکی کی قبر ہے ماہر صاحب کو دفن کیا گیا واپسی میں دفن کرنے والے آپس میں یہی باتیں کر رہے تھے " اس سے ٹھیک پچیس گھنٹے قبل شب جمعہ کو ماہر صاحب اپنے میزبان راؤ محمد اختر صاحب کے یہاں سے اس مشاعرہ میں جانے کی تیاری کر رہے ت
حضرت مولانا سید انظر شاہ کشمیری کا نثری بیانیہ۔۔۔ تحریر: مفتی محمد ساجد کھجناوری
احقر کاتب الحروف کے مطالعہ کی میزپر یکتائے روزگار محدث اور سحر طراز نثر نگار مولانا سید انظر شاہ مسعودی کشمیری ؒ (متوفی ۲۶؍اپریل ۲۰۰۸ء ) کے شاداب قلم فیض رقم کی مرہون سردست دوکتابیں لالہ وگل اور نقش دوام پیش نظرہیں ، جن کی افادیت کا جادو گردشِ شام وسحر اور مرورِ ایام کے باوصف سرچڑھ کر بول رہاہے۔ اول الذکر کتاب کے مشمولات ان زائد از ساٹھ کاروانِ دین ودانش کا تذکرہ جمیل ہے جن کے پڑھنے اور سننے سے خزاں رسیدہ چمن میں بہار ِنو عود کرآتی ہے اور گلشن حیات کا پتہ پتہ مسکرانے لگتاہے، ان اصحاب تذکرہ افرا
محسن کتابیں۔۰۱۔ تحریر: پروفیسر سید نواب علی
پروفیسر سید نواب علی ولادت:لکھنؤ،۱۲۹۴ھ،مطابق ۱۸۷۷ء نیوتنی ضلع اناؤ اصل وطن تھا۔لکھنؤ میں پیدائش ہوئی،جہاں آپ کے والد فرخند علی رضوی وکالت کرتے تھے۔۱۸۹۲ء میں اناؤ ہائی اسکول سے میٹرک کیا،اور ۱۸۹۳ء میں کیننگ کالج لکھنؤ میں داخل ہوئے،اور ۱۹۰۰ء میں یہیں سے ایم۔اے اور بی۔ٹی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ آپ کے خاندان مین شیعہ اور سنی عقائد و روایات قدر مشترک کی حیثیت رکھتی تھیں۔والد صاحب اور دادا صاحب شیعہ تھے اور چچا سنی۔آپ نے سنی مذہب اختیار کیا،جس کی وجہ سے آپ کو گھروالوں کی طرف سے بہت مشقت جھیلنی
رشیدیت و ندویت کا عطر مجموعہ...تحریر: مولانا شاہ اجمل فاروق ندوی
؍ ۷/اگست ۲۰۱۹ کو مغرب کے قریب موبائل پر یہ خبر پڑھی کہ جامعہ اشرف العلوم رشیدی، گنگوہ میں تفسیر و حدیث کے استاد اور جامعہ کے ماہانہ ترجمان صدائے حق کے معاون مدیربرادرِ محترم مولانا عبدالواجد رشیدی ندوی کا انتقال ہوگیا۔ خبر پڑھ کر دل دھک سے رہ گیا۔ دو تین بار پڑھا۔ ہوسکتا ہے کوئی اور عبدالواجد ہوں۔ لیکن خبر اتنی واضح تھی کہ کسی ادنیٰ شبہے کی گنجائش نہ رہی۔ اناللہ و انا الیہ راجعون پڑھ کر حسب توفیق ایصال ثواب کیا۔ بعد میں برادر گرامی قدر مولانا محمد ساجد کھجناوری سے حادثے کی تفصیلات بھی
خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔شُکیب‘ شَکیب یا شِکیب ۔۔۔ اطہر علی ہاشمی
ایک بہت بزرگ اور عالم شخصیت نے ایک محفل میں بتایا کہ شکیب میں شین پر پیش ہے یعنی شُکیب۔ ہم تو اب تک اسے بالفتح (شین پر زبر کے ساتھ) پڑھتے رہے لیکن شُکیب پہلی بار سنا تو تجسس پیدا ہوا، جسے دور کرنے کے لیے لغات کا جائزہ لیا۔ لغت کے مطابق شین پر پیش ہے نہ زبر بلکہ زیر (بالکسر) ہے یعنی شِکیب۔ فارسی کا لفظ اور مذکر ہے۔ مطلب ہے صبر، تحمل، بردباری۔ اسی سے شکیبائی ہے لیکن یہ مونث ہے۔ داغؔ کا شعر ہے: ضعف نے ایسا بٹھایا اس کی بزمِ ناز میں میں نے یہ جانا مجھے حاصل شِکیبائی ہوئی گزشتہ دنوں ایک صاحبِ علم

محمد حسن عسکری - پیغمبر ادب۔۔۔ تحریر: ڈاکٹر طاہر مسعود
محمد حسن عسکر ی اردو کی ادبی دنیا کے سب سے باخبر، بابصیرت اور سب سے متنازع نقاد تھے۔ انھوں نے اردو ادب اور ادیبوں پر جو اثرات مرتب کیے، اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ کہنے کو وہ مردم بیزار اور کم گو، خود کو لیے دیے رہنے والے ادیب تھے۔ لیکن حقیقتاً ایسا نہیں تھا۔ انھوں نے اپنے زمانے کے جن جواں سال ادیبوں کی جس طرح تربیت کی، انھیں اپنا ادبی نقطہ نظر وضع کرنے میں جس طرح فیض پہنچایا، ادب کو کُل وقتی سرگرمی بنانے میں جیسی مدد کی، کوئی شبہ نہیں کہ ایسا ادبی استاد پھر اردو ادب کو میسر نہ آیا۔ ان کے

سچی باتیں۔۔۔مقصد شہادت ۔۔۔ تحریر:مولانا عبد الماجد دریابادی
۳۱-۰۷-۱۹۲۵ آپ نے کبھی یہ سوچاہے، کہ امام حسینؓ علیہ السلام نے دشتِ کربلا میں اپنی اور اپنے عزیزوں کی جان کیوں دے دی؟ کیا کوئی جائداد کا جھگڑاتھا؟ کیا زروزمین کا کوئی قضیہ درپیش تھا؟ کیا کوئی خانگی نزاع چلی آرہی تھی؟ معاملہ صرف حق وایمان کا تھا، اور انھوں نے مال وجائداد کے واسطے نہیں، خدا کی راہ میں اپنی جان دے دی۔ لیکن خدا کی بھی بہت سی راہیں ہیں، ان میں سے کسی خاص مقصد کے لئے وہ شہید ہوئے؟ کیا حج کی روک ٹوک تھی؟ کیا نماز کی ممانعت تھی؟ کیا کوئی مسجد مسمار کی جارہی تھی؟ کہ کچھ نہ تھا۔ بلکہ ای
محسن کتابیں۔۔۔ تحریر: مولانا سعید احمد اکبرآبادی
مولانا سعید احمد اکبرآبادی ولادت:آگرہ،۱۳۲۶ھ ،مطابق ۱۹۰۸ء مولانا سعید احمد اکبرآبادی کا آبائی وطن بچھرایوں ضلع مرادآباد تھا۔ان کے والد سرکاری ملازمت کی وجہ سے اکبرآباد (آگرہ) میں مقیم تھے،وہیں مولانا کی پیدائش ہوئی،اور اسی نسبت سے اکبر آبادی مشہور ہوئے۔مولانا حفظ الرحمٰن سیوہاروی،مولانا اکبرآبادی کے ماموں زاد بھائی تھے۔عربی اور انگریزی تعلیم ساتھ ساتھ شروع ہوئی،پھر دارالعلوم دیوبند میں داخل ہوکر وہاں سے سند فراغ حاصل کی۔اس کے بعد اورینٹل کالج لاہور سے مولوی فاضل کا امتحان دیا۔تحصیل علم

سچی باتیں۔۔۔ محرم کی تقریبات ۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی
۲۶/۰۷/۱۹۲۵ محرّم کا چاند طلوع ہوچکا۔ مسلمانوں کے گھرگھر میں ایک نئی چہل پہل پیدا ہوگئی۔ گویا عید اور عید قرباں کی طرح، بلکہ اُن سے بھی بڑھ کر مُحرم بھی کسی مذہبی جشن وتقریب کا نام ہے! عید صرف ایک دن کے لئے آتی ہے، محرّم کی تقریب پورے دس دن تک قائم رہتی ہے! عید کے دن سوئیاں پکتی ہیں، محرم میں اس سے کہیں زیادہ لذیذ وپُرتکلف حلوے، شیرمال، ملیدہ، شربت، اور بجائے پان کے خوشبودار مصالحہ کا اہتمام ہوتاہے! عید میں صرف صبح کے وقت دوگانہ پڑھنا ہوتاہے، محرّم میں عشرہ بھر برابر مجلسوں کا سلسلہ قائم رہتاہ
خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ اردو تھا جس کا نام۔۔۔ تحریر: اطہر ہاشمی
۔14 اگست کو پاکستان کا یومِ آزادی منایا گیا، لیکن ہر سال کی طرح اِس بار بھی یہ ابہام رہا کہ ’’کون سا سال؟‘‘ کسی اخبار نے 72 واں لکھا تو کسی نے 73 واں۔ یہی صورتِ حال اشتہارات میں بھی رہی۔ تقریبات کے دعوت ناموں میں بھی ترجیح 72 ویں یوم یا جشنِ آزادی کو دی گئی۔ سیدھی سی بات ہے کہ پاکستان 14 اگست 1947ء کو آزادا ہوا تھا اور یہ پہلا یومِ آزادی تھا۔ اب خود حساب لگا لیں کہ اس برس کون سا یوم آزادی بنتا ہے۔ اس طرح 73 واں یومِ آزادی بنتا ہے۔ یا پھر طے کرلیں کہ 14 اگست 1947ء کو یومِ آزادی نہیں تھا۔ ت
نامور فقیہ شیخ محمد مختار سلامی کی رحلت۔۔۔تحریر: ڈاکٹر بدرالحسن قاسمی۔ الکویت
دوشنبہ ۱۹؍اگست ۲۰۱۹ء کو تیونس کے سابق مفتی اعظم بلند پایہ فقیہ اور نامور عالم دین شیخ محمد مختار سلامی اس دنیا سے رخصت ہوگئے اور۹۴؍سال کی عمر میں انہوں نے اپنی جان جان آفریں کے سپرد کردی، إنا للہ وإنا إلیہ راجعون۔ مختلف سمیناروں، فقہی کانفرنسوں اور کویت، جدہ، مکہ مکرمہ اور دبئی منعقد ہونے والی علمی مجلسوں میں شرکت کی وجہ سے مرحوم شیخ سے ایک طرح کا قریبی تعلق پیدا ہوگیا تھا وہ فقہ مالکی پر عبور رکھنے کے ساتھ جدید مسائل کے حل کا بھی خاص ذوق اور سلیقہ رکھتے تھے اور کانفرنسوں میں پوری حاضر دماغی سے

محسن کتابیں۔۔۔ تحریر: مولانا سید طلحہ حسنی یم ۔ اے
مولانا سید طلحہ حسنی ایم۔اے ولادت:ٹونک،۱۳۰۸ھ ، مطابق ۱۸۹۰ء آپ رائے بریلی کے قطبی حسنی سادات میں سے تھے۔آپ کے والد سید محمد حضرت سید احمد شہیدؒ کے بھانجے مولوی سید محمد علی مصنف’’مخزن احمدی‘‘ کے حقیقی پوتے تھے۔محلہ قافلہ ٹونک میں پیدا ہوئے۔وہیں ابتدائی تعلیم پائی۔۱۹۰۰ء میں لکھنؤ آئے،اور دارالعلوم ندوۃ العلماء میں داخل ہوکر کئی سال تک تعلیم حاصل کی،پھر ٹونک جاکر مدرسہ ناصریہ میں مولانا سیف الرحمٰن مہاجر کابلی اور مولانا حیدر حسن ؒخان ٹونکی سے علوم کی تکمیل کی۔پنجاب یونیور
