Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors
Abdul Haleem Mansoor
Abdul Majid Daryabadi
Abdul Mateen Muniri
Abdur Raqeeb M.J Nadwi
Ahmed Hatib Siddiqui
Asif Jilani
Athar Hashmi
Bhatkallys
Dr Badrul Hasan Qasmi
Dr Haneef Shabab
Dr. F Abdur Rahim
Dr. Tahir Masud
Hafiz Naumani
Kaldip Nayar
Masoom Muradabadi
Masud Ahmed Barkati
Mohammed Mateen Khalid
Muhammed Furqan
Nizamuddin Nadwi
Riyazur Rahman Akrami Nadwi
Suhail Anjum
دہلی اور اطراف کا ایک مختصر علمی سفر۔ ۰۲- تحریر: عبد المتین منیری۔ بھٹکل
یکم دسمبر کو ہم دہلی پہنچےتھے تو ہمارے میزبان مفتی ساجد صاحب بنگلور میں ہزار میل دور اپنے ایک پیشگی مقررہ پروگرام میں مصروف تھے، آخروہاں انہیں کہاں چین آتا ؟۔روح دہلی میں اٹکی ہوئی تھی، سخت سردی میں رات دو بجے دہلی پہنچے، اور صبح تڑکے اپنے رفیق سفر مفتی ندیم احمد قاسمی صاحب کے ساتھ ہوٹل پہنچ گئے، کڑاکے کی سردی میں سفر کی تکان کو دور کرنے کا بھی خیال نہیں رکھا، اور آٹھ بجے جب کہ ابھی ہوٹل کھلے نہیں تھے، ناشتہ کرواکر گاڑی پر سفر کی اولین منزل کاندھلہ کی طرف روانہ ہو گئے۔ راستے میں پانی پت اور ک
جامعہ کی چنگاری جو شعلہ بن گئی... سہیل انجم
کیا کسی نے سوچا تھا کہ جامعہ ملیہ سے اٹھنے والی احتجاج کی چنگاری شعلہ جوالہ بن جائے گی اور حکومت کی فسطائیت کے خلاف پورے ملک میں لوگ بغاوت کر دیں گے اور ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ کیا حکومت نے سوچا تھا کہ وہ جس آگ پر ہاتھ تاپنے کی کوشش کر رہی ہے وہ اس کے دامن کو بھی پکڑ لے گی اور پھر اس آگ پر قابو پانا اس کے لیے ناممکن سا ہو جائے گا۔ حکومت نے جب جموں و کشمیر سے دفعہ 370 کا خاتمہ کیا اور اسے متعدد پابندیوں میں جکڑ دیا تو اس کے خلاف بہت زیادہ
خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ خود مختیاری۔۔۔ تحریر: اطہر علی ہاشمی
۔14 دسمبر کو صبح ہی صبح ایک قاری جناب ابوالقاسم کا فون آگیا۔ جیسا اُن کا نام ہے ویسی ہی آواز بھی زوردار ہے۔ انھیں کبھی دیکھا نہیں، بس سنا ہی سنا ہے اور وہ بھی اُس وقت جب کہیں کوئی غلطی ہوجاتی ہے۔ اس لحاظ سے تو دن میں کئی بار فون آنا چاہیے، لیکن وہ طرح دے جاتے ہوں گے۔ ان کی آواز پہچانتے ہی بے ساختہ پوچھا ’’اب کیا غلطی ہوگئی؟‘‘ کہنے لگے ’’آج کے ادارتی صفحے پر ملک الطاف حسین نے اپنے مضمون میں لکھا ہے ’’افغانستان کی آزادی اور خود مختیاری‘‘۔ یہ مختیاری کیا ہوتی ہے؟‘‘ یہ ’’مختیاری‘‘ یا ’’مختیارکار‘‘
کیا یہ مسلمانوں کو دو نمبر کے شہری بنانے کی تیاری ہے؟... سہیل انجم
اس وقت پورے ملک میں طوفان آیا ہوا ہے۔ جگہ جگہ احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں اور نئے شہریت قانون کے خلاف لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ حکومت اپنی طاقت کے بل بوتے پر ان مظاہروں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے لیکن ان کو جتنا دبایا جا رہا ہے وہ اتنی ہی شدت سے تیز ہوتے جا رہے ہیں۔ دراصل یہ حکومت کے ظلم و جبر اور ایک سیکولر ہندوستان کو ہندو راشٹر بنانے کی کوشش کے خلاف ایک عوامی ہُنکار ہے۔ نریندر مودی کا پہلا دور حکومت ترقیاتی سرگرمیوں اور سوچھتا ابھیان، اجولا اسکیم اور دیگر اسکیموں
دہلی اور اس کے اطراف کا ایک مختصر علمی سفر۔۰۱- تحریر: عبد المتین منیری
بروز بدھ مورخہ ۴ دسمبر کی شام پانچ بجے جب اسپائس جٹ کا طیارہ منگلور ہوائی اڈے پر ایک جھٹکے کے ساتھ اترا تو ایسا لگا کہ کوئی خواب ادھورا ہی درمیان سے ٹوٹ گیا ہو، اور بات کچھ ایسی ہی تھی، علم وکتاب گروپ کے نادیدہ احباب سے ملاقات کی جو خواہش عرصے سے دل میں تڑپ رہی تھی، اسے پورا کرنے کے لئے ۳۰ /نومبر کی صبح نوبجے ہم دہلی کے ہوائی اڈے پر دبی سےجاکر اترے تھے، ارادہ تھا کہ علم وکتاب کی بزم سجانے والے باذوق رفیق مولانا مفتی محمد ساجد کھجناروی صاحب سے بھی بالمشافہ ملاقات کا شرف حاصل کیا جائے، اوران کی رف
سچی باتیں ۔۔۔ حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رح کی وصیت۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی
1925-10-06 میں تمہیں وصیت کرتاہوں ، کہ اللہ کی اطاعت کرتے رہنا، او راُس کی راہ میں پرہیز گاری پر قائم رہنا، اور شریعتِ ظاہر کے احکام کی پابندی کرنا، اور اپنے سینے کو آفات نفس سے محفوظ رکھنا، اور اپنے نفس میں سخاوت وجواں مردی قائم رکھنا، اور کشادہ رو رہنا، اور عطا کے لائق چیزوں کو عطا کرتے رہنا، اور لوگوں کی سختیوں کو برداشت کرنا، اور بزرگوں کے مرتبہ کا لحاظ رکھنا، اور اپنے بھائی بندوں کے ساتھ اچھا برتاؤ رکھنا، اور اپنے چھوٹوں کو نصیحت کرتے رہنا، اور اپنے دوستوں سے لڑائی نہ کرنا، اور ایثار و
خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ دلی کی عدالت بمقابلہ اردو۔۔۔ تحریر: اطہر علی ہاشمی
اردو زبان ہندوستان میں پیدا ہوئی، وہیں پلی بڑھی۔ دہلی، لکھنؤ اس کے بڑے دبستان سمجھے جاتے تھے۔ لیکن اب یہیں اس کو ’’ستی‘‘ کیا جارہا ہے۔ گزشتہ دنوں دہلی کی عدالت نے پولیس ایف آئی آر میں اردو کے الفاظ کو مشکل قرار دے کر انہیں نکالنے کا حکم دیا ہے اور پولیس کی سرزنش بھی کی ہے۔ کبھی اردو زبان پورے ہندوستان میں رابطے کی زبان سمجھی جاتی تھی، تاہم ہندوئوں نے اسے صرف مسلمانوں کی زبان قرار دیا۔ چنانچہ اس کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک ہورہا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ عدالت نے اس لفظ کا متبادل نہیں بتایا ا
اسلامیہ اینگلو اردو ھائی اسکول میں سفلی درجات کے طلبہ کے لیے ادبی مقابلوں کا انعقاد
بھٹکل: 12 دسمبر، 19 (بھٹکلیس نیوز بیورو) اسلامیہ اینگلو اردوہائی اسکول (آئی اے یو ایچ ایس) میں سفلی گروپ کے مابین ادبی مقابلے منعقد ہوئے جس میں چھٹی جماعت سے آٹھویں جماعت تک کے طلباء کے مابین قرآت حمد ،اردو ،کنڑا،انگریزی زبان کاتقریری مقابلہ کے ساتھ دینیات تقریر کا بھی مقابلہ ہوا ۔ اس نشست کاآغاز محمد مستقیم ابن غوث کھومی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا مہمانوں کااستقبال جناب عبدالناصر خان نے کیا تو مہمان خصوصی کا تعارف مولاناسید مبشر برماور ندوی نے کیااسکے بعد مقابلوں کا آغاز ہوا ان جملہ مقابلو
چراغ آخر شب۔ حفیظ نعمانی۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری ۔ بھٹکل
حفیظ نعمانی کی رحلت کے ساتھ اردو صحافت کا ایک زرین عہد ختم ہوگیا ، مرحوم صحافت کے زرین دور کی اس نسل سے تعلق رکھتے تھے جنہوں نے تقسیم ہند کے بعد کے پر آشوب دور میں مسلمانوں کی رہنمائی کی اور ان کی ہمت بندھائی، اس کے لئے انہوں نے قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں، اس نسل کے صحافت کے عظیم میناروں میں مولانا محمد مسلم ، مولانا عثمان فارقلیط، مفتی رضا انصاری فرنگی محلی، جمیل مہدی مرحوم کے نام یاد آرہے ہیں، سنہ ۱۹۶۰ اور ۱۹۷۰ کی دہائی میں ندائے ملت کے ذریعہ آپ نے ملت کی رہنمائی کی ، یہ دور ہندومسلم فسادا
سچی باتیں۔ حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رح کی بزرگی کا راز۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی
1925-10=30 شیخ سعدیؒ کی مشہور ومعروف کتاب گلستاںؔ سے کون واقف نہیں، اس کے دوسرے باب کی تیسری حکایت میں، وہ الفاظ ذیل درج فرماتے ہیں ’’عبد القادر گیلانیؒ رادیدند رحمۃ اللہ علیہ در حرم کعبہ روئے برحصاتہا وہ بود، و می گفت اے خدا وند بخشاے، واگر مستوجب عقوبتم، مراروز قیامت، نابینا برانگیز تاومدارے نیکاں شرمسار نہ باشم روے بر خاک عجز می گویم ہر سحر گہ کہ بادمی آید اے کہ ہرگز فرامشت نہ کنم ہیچت از بندہ یا دمی آید عبد القادر گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کو لوگوں نے دیکھا، کہ حرم کعبہ میں کنکریوں پر م
خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ نیا کٹّا کھولنا۔۔۔ تحریر: اطہر علی ہاشمی
ایک باراں دیدہ سیاست دان نے گزشتہ دنوں مشورہ دیا ہے کہ ’’نیا کٹّا‘‘ نہ کھولا جائے۔ یہ کٹّا کون ہے جو پہلے کبھی ہٹا، کٹا تھا… اس کی تفصیل میں جاکر ہم کوئی سیاسی کٹا نہیں کھولنا چاہتے، چنانچہ لفظ ’’کٹا‘‘ کی بات کرتے ہیں۔ اردو میں استعمال ہونے والے جن الفاظ میں ’’ٹ‘‘ آجائے، سمجھ لیں کہ یہ ہندی سے درآمد کردہ ہیں لیکن اردو میں یہ کثیر المعنیٰ ہیں۔ مذکورہ سیاست دان نے کٹا کھولنے کی جو بات کی ہے تو پنجابی میں اس کا مطلب چھوٹی بوری یا تھیلہ ہے، جیسے آٹے کا کٹا ۔اس کو انگریزی اصطلاح کے مطابق ’’پنڈور
سادھوی پرگیہ پر اتنی مہربانیاں کیوں؟... سہیل انجم
جب پارلیمانی انتخابات کے دوران بھوپال سے بی جے پی کی امیدوار سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر نے شہید ہیمنت کرکرے کی شان میں گستاخی کی تھی اور کہا تھا کہ ان کے ’شراپ‘ کی وجہ سے ان کی موت ہوئی اور پھر انھوں نے گاندھی جی کے قاتل ناتھورام گوڈسے کو دیش بھکت قرار دیا تھا تو اپنی ایک انتخابی تقریر میں وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ وہ دل سے پرگیہ ٹھاکر کو معاف نہیں کر پائیں گے۔ ان کے علاوہ بی جے پی صدر امت شاہ نے بھی سادھوی کے بیان کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ ان کے خلاف پارٹی تادیبی کارروائی
قوم کو جگانے والا شاعر۔۔۔ اعجاز رحمانی۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری۔ بھٹکل
ammuniri@gmail.com یہ ۱۹۸۰ کے موسم سرماکی ایک ٹھنڈی شام تھی، دبی کریک پر واقع عالیشان ہوٹل شیراٹون کے وسیع وعریض ہال میں دبی کی تاریخ کے پہلے عالمی اردو مشاعرے کی محفل سجی تھی،اس میں اس وقت کے برصغیر کے مایہ ناز اور بزرگ شعراء شریک تھے، ان میں کلیم احمد عاجز، حفیظ میرٹھی، جگن ناتھ آزاد، فنا نظامی کانپوری، شاعر لکھنوی، قتیل شفائی، کلیم عثمانی، اقبال صفی پوری، احمد ندیم قاسمی، دلاور فگار، سید اقبال عظیم، جیسے عظیم شاعرحاضر تھے ، یہ مشاعرے کی تاریخ کا ایک ایسا معیاری مشاعرہ تھا، جس کے بعدنہ صرف
خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ ٹڈیوں کی کڑھائی۔۔۔ تحریر: اطہر ہاشمی
گزشتہ دنوں کراچی پر بھی ٹڈی دل کا حملہ ہوا تو سندھ کے وزیر زراعت نے مشورہ دیا کہ لوگ ٹڈیاں پکڑ کر ان کی بریانی بنائیں، کڑاہی بنا کر کھائیں۔ اُمید ہے کہ انہوں نے خود بھی اس پر عمل کیا ہوگا۔ لیکن لطیفہ یہ ہوا کہ بیشتر اخبارات نے کڑاہی کو ’’کڑھائی‘‘ لکھا۔ ایک اخبار نے درمیان کی راہ نکالی اور ’’کڑائی‘‘ لکھ دیا۔ ہم نے اپنے ساتھی سے پوچھا کہ جب کڑھائی لکھا ہے تو اس کے ساتھ ’’سلائی‘‘ بھی لکھا جائے، کیونکہ عموماً سلائی، کڑھائی ایک ساتھ آتے ہیں، اور ’کڑاہی‘ کا کوئی تعلق ’’کڑھائی‘‘ سے نہیں ہے۔ کڑاہی بڑی
دبئی میں بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی کا ۲۴ واں اجلاس... تحریر: مولانا بدر الحسن قاسمی ۔ کویت
نئے مسائل کے بارے میں فقہاء امت کا فیصلہ مورخہ ۴، ۵، اور ۶؍ نومبر ۲۰۱۹ء کو دبی میں ‘‘مجمع الفقہ الاسلامی الدولی’’ یا بین الاقوامی فقہ اکیڈمی کا ۲۴واں اجلاس طے تھا جبکہ ۲۲ اکتوبر کو میں ہندوستان آگیا تھا اس لئے دوبارہ پھر ڈھائی ہزار کیلومیٹر سے زائد مسافت طے کرکے دبی جانا پڑا جہاں سے کویت کی مسافت تھوڑی ہی رہ جاتی ہے۔ اجلاس میں مسلم ملکوں کے نمائندوں، مستقل ممبران اور خبراء وخبیرات کی خاصی تعداد شریک ہوتی ہے اور اکیڈمی کے صدر عالیجناب امام حرم شیخ صالح بن حمید اور جنرل سکریٹری ڈاکٹر عبد السلام
کیا رام مندر تعمیر ہونے سے روکا جا سکتا ہے!... ظفر آغا
نریندر مودی دور حکومت میں ایودھیا معاملے میں جو فیصلہ آ سکتا تھا، ویسا ہی فیصلہ آیا ہے۔ یوں بھی اس سلسلے میں سپریم کورٹ سے اس سے زیادہ توقع ہونی بھی نہیں چاہیے تھی۔ کیونکہ یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ بابری مسجد کا انہدام بھی سپریم کورٹ کی نگرانی میں ہی ہوا تھا۔ یاد دہانی کے لیے سنہ 1992 میں بابری مسجد گرائے جانے سے قبل جو واقعات پیش آئے تھے ان کا ذکر یہاں ضروری ہے۔ جب اس وقت بی جے پی کے صدر لال کرشن اڈوانی نے رتھ یاترا پر سوار ہو کر ایودھیا میں کارسیوا پر جانے کا اعلان کیا تو یہ معاملہ
خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ پَل، پِل اور پُل۔۔۔ تحریر: اطہر ہاشمی
گزشتہ دنوں کئی اخبارات میں ’’دل کا وال‘‘ شائع ہوا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ لوگ دلوں میں وال یعنی دیوار اٹھا لیتے ہیں، لیکن دل میں بجائے خود کوئی وال یعنی دیوار نہیں ہوتی۔ اصل میں یہ لفظ والو ہے۔ حیرت ہے کہ ہمارے صحافی بھائی اس لفظ سے ناآشنا ہیں، اور اگر بتائیں تو اسے ’’والو‘‘ بروزن آلو اور خالو پڑھتے اور حیران ہوتے ہیں۔ اس والو کا ذکر پانی کی پائپ لائن کے حوالے سے بھی آتا ہے جہاں کوئی والو مین بھی ہوتا ہے۔ اسے بھی ہمارے بھائی وال مین ہی لکھتے ہیں۔ انگریزی کے الفاظ بگاڑے جائیں تو خوشی ہوتی ہے کہ صرف
سچی باتیں۔۔۔ ہمارا عمل کیسا رہا؟--- تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی
1925-10-16 ربیع الاول کا مہینہ ختم ہوگیا۔ جس مہینہ میں دنیا کے لئے آخری اور انتہائی پیام لانے والا دنیا میں آیاتھا، اُس کی آخری تاریخ آگئی۔ اب گیارہ مہینے تک پھراسی بابرکت مہینہ کی آمد کا انتظار دیکھنا ہوگا، اور اس درمیان میں خد امعلوم کتنی زندگیاں ختم ہوچکیں گی قبل اس کے کہ دوسروں کو حساب دنیا پڑے ، ذرا آئیے، ہم اور آپ مل کرخود اپنا اپنا حساب لیں۔ ہمارے سرور وسردارؐ نمازیں بہت کثرت سے پڑھتے تھے، ہم نے اس مہینہ میں کوئی نماز ترک تو نہیں کی؟ فرض نمازوں کے علاوہ، وہ نماز تہجد پابندی واہتمام کے س