Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors
Abdul Haleem Mansoor
Abdul Majid Daryabadi
Abdul Mateen Muniri
Abdur Raqeeb M.J Nadwi
Ahmed Hatib Siddiqui
Asif Jilani
Athar Hashmi
Bhatkallys
Dr Badrul Hasan Qasmi
Dr Haneef Shabab
Dr. F Abdur Rahim
Dr. Tahir Masud
Hafiz Naumani
Kaldip Nayar
Masoom Muradabadi
Masud Ahmed Barkati
Mohammed Mateen Khalid
Muhammed Furqan
Nizamuddin Nadwi
Riyazur Rahman Akrami Nadwi
Suhail Anjum
سچی باتیں۔۔۔ مسلمان کون؟۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی
09-01-1925 مسلمان کون ہے؟ خدا کا قانون بتاتاہے کہ وہی جو سارے جہانوں کے رب کا کہنا مانے۔ کام تو یہ کچھ بڑا اور کٹھن نہیں ہے، پر دیکھو اور دل کو ٹٹولو تو جان جاؤ گے کہ رب کاکہنا ماننے والے کتنے ہیں اور نہ ماننے ولے کتنے۔ مگر جو کہنا مانتے ہیں وہ بھی مسلمان کہتے جاتے ہیں اور جو نہیں مانتے لوگ ان کو بھی مسلمان ہی جانتے ہیں۔شاید رب کا کہنا ماننے کا مطلب لوگوں نے نہیں سمجھا۔ رب کا کہنا ماننے کا کیا مطلب ہے؟ یہی کہ رب نے جو قانون بھیجا ہے اس کے موافق سب کام کئے جائں۔ بات تو یہ بھی بڑی سہل ہے مگر م
خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ خط و کتابت اور پتہ۔۔۔ تحریر: اطہر علی ہاشمی
امریکہ سے خوش فکر شاعر غالب عرفان نے پچھوایا ہے کہ کیا ’’کمرۂ امتحان‘‘ کی ترکیب درست ہے؟ ہم چونکہ بار بار کمرۂ امتحان میں داخل ہوچکے ہیں اس لیے ہمارے خیال میں تو یہ ترکیب صحیح ہے، یہ اور بات کہ کمرۂ امتحان میں کیسی گزری۔ اس استفسار سے توجہ ’’کمرہ‘‘ پر گئی کہ یہ کس زبان کا لفظ ہے۔ کمرے ہر گھر میں ہوتے ہیں، ایک، دو یا زیادہ۔ کبھی خیال ہی نہیں آیا کہ اس کا مطلب کیا ہوسکتا ہے۔ کسی کی کمر حد سے تجاوز کرجائے تو اسے مزاحاً کمرہ کہہ دیا جاتا ہے۔ ویسے تو یہ دنیا بجائے خود کمرۂ امتحان ہے، لیکن کم
وہ شب گزیدہ سحر۔۔۔ تحریر: آصف جیلانی
میں نے آنکھ مسلم قوم پرست تعلیمی ادارہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں کھولی جہاں میرے والد اور والدہ دونوں تدریس سے منسلک تھے۔ میں اپنے پ کو بے حد خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ میری پرورش اس ادارہ میں ہوئی جو ڈاکٹر ذاکر حسین، ڈاکٹر محمد مجیب، ڈاکٹر عابد حسین، مولانا اسلم جیراج پوری اور کیلاٹ صاحب ایسے ممتاز ماہرین تعلیم اور دانشوروں کی کہکشاں سے درخشاں تھا۔ آزادی کے وقت بھڑکنے والے خونریز فرقہ وارانہ فسادات کے دوران کانگریس کا ہم نوا تعلیمی ادارہ جامعہ محاصرے میں تھا۔اس وقت میں ساتویں جماعت میں تھا اور میری عم
اجملؔ سلطان پوری کی سب رنگ شعری جہتیں
(شاعرِ اسلام اجملؔ سلطان پوری کی وفات پر خراجِ عقیدت پیش کرتی ہوئی اک تحریر) ٭از قلم : ڈاکٹر محمد حسین مشاہدؔ رضوی ، مالیگاؤں ( انڈیا) اجملؔ سلطان پوری کی سب رنگ شعری جہتیں (1353ھ - 1935ء /1441ھ - 2020ء) اجملؔ سلطان پوری سرزمینِ بھارت کے وہ عظیم نعت گو شاعر اور اہل سنت و جماعت کے ایسے مایۂ ناز نقیب گذرے ہیں جو اکابر علما و مشائخ خصوصاً سید ی مفتی اعظم ہند، حضورمحدث اعظم ہند ، حضور مجاہد ملت ، حضور حافظِ ملت ، حضور پاسبانِ ملت علیہم الرحمہ وغیرہم کے منظورِ نظر تھے۔ اُن کا پورا ن
خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ یہ مشتری کون ہے؟۔۔۔ تحریر: اطہر علی ہاشمی
ایک قاری نے سوال کیا ہے کہ اداریے میں ’’دو الفاظ ’کہہ ومہ‘ پڑھے، لیکن ان کا استعمال سمجھ میں نہیں آیا، گوکہ ان دو لفظوں کے معانی معلوم ہیں یعنی کہہ جیسے کہنا۔ ایک شعر ہے:۔ مجھ سے مت کہہ ’’تُو ہمیں کہتا تھا اپنی زندگی‘‘ زندگی سے بھی مرا جی ان دنوں بیزار ہے دیکھا آپ نے، ہم بھی شعر سے دلیل دے سکتے ہیں۔ اسی طرح ’مہ‘ کا مطلب معلوم ہے کہ چاند کو کہتے ہیں جیسے مہ وَش، مہ جبیں، مہ لقا وغیرہ۔ مگر اداریے میں جن معانوں میں استعمال ہوا ہے وہ مختلف ہیں۔‘‘ ان کا مخمصہ بجا ہے۔ دراصل ’کہہ ومہ‘ کے وہ
دہلی و اطراف کا ایک مختصر علمی سفر۔ ۹- آخری قسط ۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری۔ بھٹکل
مورخہ ۴ / دسمبر کی صبح ہم مظاہر علوم جدید سےپرتکلف ناشتہ کرکے نکلے، ہماری آئندہ منزل خانقاہ رائے پور تھی،خواہش تھی کہ اگر مولانا مفتی حکیم عبد اللہ مغیثی صاحب موجود ہوں اور وقت ساتھ دے تو اجراڑہ بھی ہو آئیں،لیکن ایک تو اجراڑہ کا راستہ دوسرا تھا اور کی مسافت بھی دور پڑتی تھی، اور یہ اطلاع بھی ملی کہ مولانا مغیثیی صاحب دہلی کے لئے روانہ ہوگئے ہیں،علاوہ ازیں ہمارے رفیق سفر مولوی عبد المعز منیری کی بھی دہلی ایرپورٹ سے اسی روز شام کے جہاز سے دبی روانگی تھی ، لہذا اجراڑہ کو سفر سے خارج کردیا گیا۔
خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ خواجہ سرا کی وبا۔۔۔ تحریر :اطہر ہاشمی
کچھ برقی اور ورقی لطیفے۔ آج کسی چینل کا نام کیا دینا، لیکن خبر عجیب ہے اور سوشل میڈیا پر اس کا چرچا بھی ہے۔ خبریں سنانے والی خاتون نے یہ تشویش ناک خبر دی کہ چمن میں خواجہ سرا کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے جس کی وجہ سے 5 بچے ہلاک ہوچکے ہیں۔ سننے والے حیران تھے کہ یہ کون سی وبا ہے جو بچوں کو ہلاک کررہی ہے! خاتون نے پہلے تو کھُسرے کی وبا کہا، پھر خیال آیا کہ کھسرا کہنے سے اس مخلوق کی دل آزاری ہوگی، چنانچہ کھسرے کا مہذب ترجمہ کردیا: خواجہ سرا۔ یہ بات قابلِ تعریف ہے کہ خاتون نیوز ریڈر کو یہ معلوم ت
دہلی اور اطراف کا ایک مختصر علمی سفر۔ ۰۸۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری۔ بھٹکل
مانک مئو سے ہماری اگلی منزل جامعہ مظاہر علوم سہارنپو ر جدید تھی، عشاء سے کچھ پہلے ہم یہاں پہنچے، مولانا سید محمد شاہد مظاہری صاحب نے بڑی محبتوں سے خیر مقدم کیا ، اور ہمارے رہنے کا انتظام فرمایا، آپ کے فرزند مولانا مفتی سید محمد صالح الحسنی صاحب علم وکتاب گروپ کے ممبر ہیں ، اور ولد سر لابیہ کے مصداق، ان کا رات میں کہیں پروگرام تھا ، ان سے نماز فجر کے بعد ملاقات ہوئی،یہاں پر مولانا عبد اللہ خالد خیر آبادی ، مولانا ظہیر الھدی نور قاسمی ، اور مولانا محمد معاویہ سعدی صاحب سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا،
دہلی واطراف کا ایک مختصر علمی سفر ۔ ۰۷ ۔ تحریر:عبد المتین منیری۔ بھٹکل
ammuniri@gmail.com علم وکتاب گروپ میں سے دیوبند میں مفتی محمد اللہ خلیلی صاحب، ویب ایڈیٹر دارالعلوم۔ مفتی محمد نوشاد نوری صاحب، مفتی امانت علی قاسمی وغیرہ احباب سے شرف ملاقات حاصل ہوا ، البتہ مفتی محمد انوار خان بستوی صاحب سے ملاقات نہ ہونے کا افسوس ہوا ، موصوف اس وقت عمرےپر تھے۔ دیوبند سے ہمارے قافلہ کی اگلی منزل سرزمین گنگوہ تھی،مغلیہ دور کے عظیم صوفی بزرگ شیخ عبد القدوس گنگوہی کی نسبت اسی مردم خیز قصبے کی طرف ہے،آپ کی طرف منسوب اس خانوادے کے افراد قدوسی کہلاتے ہیں، مشہور شخصیات میں مولانا
سب کچھ نارمل ہے تو 36 وزرا کیوں جا رہے ہیں کشمیر؟... سہیل انجم
جموں و کشمیر سے دفعہ 370 کے خاتمے کو پانچ ماہ سے زیادہ ہو گئے ہیں۔ ان پانچ مہینوں میں کشمیر کے لوگوں نے جو دکھ جھیلا ہے اس کا اندازہ باہر کے لوگ نہیں لگا سکتے۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ کشمیر کو بغیر دیواروں والی ایک جیل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ وہاں کے 80-85 لاکھ افراد اس جیل کے قیدی ہیں۔ ان کی زبانوں اور مواصلات پر پہرے بٹھا دیئے گئے ہیں۔ ہزاروں افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ اب اگر چہ رفتہ رفتہ کچھ لوگوں کو رہا کیا جا رہا ہے لیکن اب بھی بہت بڑی تعداد میں لوگ جیلوں میں بند ہیں۔
خبرلیجے زباں بگڑی۔۔۔ بنگالی ’ج‘ کو ’ز ‘سے بدل دیتے ہیں۔۔۔ تحریر: اطہر ہاشمی
پیر 13 جنوری کے تمام اخبارات میں، اور نیوز چینلز پر بھی بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے صدر کا نام ’نظم الحسن‘ دیا گیا ہے۔ ہمارے نوجوان صحافیوں کو شاید یہ معلوم نہیں کہ بنگالی میں ’ج‘ ’ز‘ یا ’ظ‘ (Z) سے بدل جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ خبر انگریزی میں آئی ہے چنانچہ ’نجم الحسن‘ نظم الحسن ہوگیا۔ نظم الحسن بنگالی میں بھی بے معنی ہے۔ یہ واقعہ دہرانا شاید بے وقت نہ ہو کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے پہلے ڈھاکا میں ایک بڑا مشاعرہ ہوا جس میں استاد جلیل مانکپوری بھی شامل تھے۔ ان کے ایک ساتھی نے کہا کہ اب دیکھیے، آپ ک
دہلی اور اطراف کا ایک مختصر علمی سفر۔ ۰۶۔ تحریر: عبد المتین منیری۔ بھٹکل
صبح دس بجے شاہ منزل میں مولانا نسیم اختر شاہ کے یہاں حاضری ہوئی، آپ مولانا ازہر شاہ قیصرمرحوم سابق مدیر مجلہ دارالعلوم کے خلف الرشید ہیں ، اور اپنے والد کے نقش قدم پر قلم کو سنبھالے ہوئے ہیں، کئی ایک کتابوں کے مصنف ہیں، جنہیں علمی اور ادبی حلقوں میں پذیرائی حاصل ہے، بڑی اپنائیت اور محبت سے ملے۔ یہاں سے ہمیں وقف دارالعلوم جانا تھا۔ یہاں مولانا محمد سفیان قاسمی صاحب مہتمم وقف اور مولانا محمد اسلام قاسمی صاحب وغیرہ احباب نے پرتپاک خیر مقدم کیا ، دارالعلوم کی عمارتوں اور حضرت حکیم الاسلام محمد ط
خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ بھیڑ کا چھتہ۔۔۔ تحریر: :اطہر ہاشمی
گزشتہ کالم (3 تا 9جنوری) میں ہم نے استادِ محترم اور ماہرِ لسانیات غازی علم الدین کے مضمون کے عنوان کے حوالے سے ’’اہمال‘‘ کا مطلب معلوم کیا تھا اور اپنے طور پر اس کا مطلب نکال لیا تھا۔ پروفیسر صاحب نے ازراہِ مہربانی ٹیلی فون کے ذریعے بتایا کہ یہ ’مہمل‘ سے ہے۔ یہ سامنے کی بات تھی جو ہمارے سامنے نہیں آئی، حالانکہ ان کی تحریر کے اقتباس میں بھی یہ واضح ہے کہ ’’علاوہ کو ذومعنی، مہمل اور مبہم بنادیے جانے…‘‘ یعنی اہمال کا مطلب ہے مُہمَل بنانا۔ اس میں پہلے میم پر پیش اور دوسرے پر زبر ہے۔ ایک ٹی وی چینل
دہلی و اطراف کا ایک مختصر علمی سفر۔۰۵۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری۔ بھٹکل
دسمبر ۳ تاریخ کی نماز فجر جامع الرشید کے روح فرزا ماحول میں ادا ہوئی ، جس کے بعد ملتے ملاتے مہمان خانے پہنچے، جہاں بتایا گیا کہ مولانا عبد الخالق مدراسی صاحب نائب مہتمم دار العلوم صاحب سے ساڑھے سات بجے ناشتہ پر ملاقات طے ہے، اور مولانا کے پاس ساڑھے سات کا مطلب ہوتا ہے سات بج کر تیس منٹ، نہ ایک منٹ آگے نہ ایک منٹ پیچھے۔ دارالعلوم کی اہم شخصیات میں ابتک ہماری مولانا کی ملاقات سے محرومی چلی آرہی تھی، شاید اس کا سبب کچھ اپنی ہی طرف سے کوتاہی رہی ہوگی، کیونکہ مولانا انتظام و انصرام ، مالیات اور
دہلی اور اطراف کا ایک مختصر علمی سفر۔ ۰۴--- تحریر: عبد المتین منیری۔ بھٹکل
دہلی سے کاندھلہ کے راستے آپ دیوبند کو نکلیں تو راستے میں ان مقامات سے گذر ہوتا ہے ، جن کے چپوں چپوں پر امت کی ان کہی داستانیں چھپی ہوئی ملتی ہیں، یہ وہ سرزمین ہے جس کے تذکرےکے بغیر آزادی وطن اور اصلاح امت کی تاریخ کے ابواب مکمل نہیں ہوسکتے ، کاندھلہ سے گذرے تو راستے میں شاملی آیا جس کے میدان پر جدجہد آزادی کی اولین داستان قلم بند کی گئی تھی، اور پھر تھانہ بھون ، ایک ویرانہ جسے حضرت حکیم الامت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے اصلاح امت کا عظیم مرکز بنادیاتھا، جس کی خوشبو ایک صدی
دہلی اور اطراف کا ایک مختصر علمی سفر۔ ۰۳۔ تحریر: عبد المتین منیری
کاندھلہ میں پہلی مرتبہ جائیں اور صرف دو تین گھنٹے ٹہریں، تو شاید یہ بات بدذوقی کی علامت شمار ہوگی، کیونکہ کاندھلہ ایسی سرزمین نہیں کہ اس پر سے ایسے سرسری نگاہیں ڈال کر گزرا جائے، یہاں سے دہلی تک پھیلا ہوا زمین کا چپہ چپہ ۱۸۵۷ کی جنگ آزادی کے شہیدوں کے خون سے سینچا ہوا ہے، مولوی ارشد قاسم بتا رہے تھے کہ حضرت جی منزل کے سامنے واقع مسجد میں گزشتہ کئی صدیوں سے اللہ والے نماز پنچگانہ اداکرتے آرہے ہیں ، یہاں حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ، حضرت شاہ اسماعیل شہید اور تحریک مجاہدین کے جملہ رہنما سجدہ
A Talk with Cognitive personality
A wit enlightening conversation with Mr. (American) Mohsin Shabdandari; time served personality and a well known Industrialist. He was the first president of Jamatul muslimeen, Jamia Islamia Bhatkal, and a significant Patron of Anjuman Hami-e-Muslimeen. He also worked as an executive member of East Asiatic, Metal box(Global companies) in Chennai, Guest lecturer of Calicut University for 2 Years and started Steel industry in Calicut. He is one of the founder of Aysha hospital, Madras, pre
غلامی ہرگز تسلیم نہیں لیکن احتجاج پُرامن ہو... ظفر آغا
ہر ظلم کی ایک انتہا ہوتی ہے لیکن اتر پردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ کے ظلم کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ صوبہ کی پولس یوگی کے حکم کے مطابق اتر پردیش کے مسلمانوں پر وہ قہر ڈھا رہی ہے جس کو ویڈیو پر دیکھ کر اور سن کر ظالم سے ظالم شخص بھی لرز جائے۔ 20 دسمبر کو جمعہ کے روز شہریت قانون کے خلاف مسلم علاقوں میں جو احتجاج ہوا اس میں خود حکومت کے مطابق اب تک 22-20 افراد کے مارے جانے کی خبر ہے۔ پولس یہ جھوٹ بول رہی ہے کہ اس کی گولی سے کوئی نہیں مرا ہے۔ لیکن ہمارے رپورٹر نے میرٹھ میں مارے جانے والے بچوں کے