Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors

















محسن کتابیں۔۔۔ تحریر: مولانا اعزاز علی امروہوی۔۔۔ قسط ۰۳
دارالعلوم دیوبند سے فارغ ہونے کے بعد حضرت شیخ الہند قدس سرہٗ نے نے مدرسہ نعمانیہ واقع پورینی ضلع بھاگلپور کے مدرس ادبی کے لئے مامور فرمایا، تو وہاں کچھ موقع مل گیا کہ قومی مدارس کی غیر درسی کتابوں کا مطالعہ کروں۔ اس زمانے میں میں نے مفصل کو بھی دیکھا۔ اور اوضح المسالک کا مطالعہ بھی کیا، اور اسی زمانے میں الفیہ کی شرح ابن عقیل کو بھی دیکھا۔ زمخشری کی علمی عظمت کا مقتضا یہ ہے کہ میں مفصلکے مقابلے میں کسی کتاب کا نام نہ لوں، مگر اس وقت جو عرض کرنا ہے، وہ یہ ہے کہ مجھ کو دلچسپی کس سے ہ
عبد اللہ لنکا ۔ قوم کے ایک حوصلہ مند فرد کا فراق۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری۔ بھٹکل
کوئی دس ماہ قبل ۱۳ دسمبر کو نوائط محفل کی ایک نشست تھی، احباب کی اطلاع پر کہ عبد اللہ لنکا صاحب بھی اس میں شرکت کرنے والے ہیں میں بھی ان کو ایک نظر دیکھنے کے لئے شام گئے حاضر ہوا ، لنکا صاحب ایک کرسی پر اٹھا کر لائے گئے ، وہ کئی سالوں سے صاحب فراش تھے، خود سے اٹھ بیٹھ نہیں سکتے تھے، اس دور ان ان پر ایسے وقفے باربار آتے تھے جب وہ کسی کو پہنچاننا بھی مشکل ہوتا، اب جو لائے گئے تو ہشاش بشاش تھے، اپنے چاہنے والوں پہچاننے کا اشارہ بھی دے رہے تھے، شاید یہ بجھتی ہوئی شمع کی آخر ی لو تھی ، جو بھڑکی ا

عظیم معلم، مربی اور اولین معتمد جامعہ۔ ۰۵۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری۔ بھٹکل
مولانا عبد الحمید ندوی کوجامعہ چھوڑے ایک عشرہ بیت چکا تھا، اس عرصہ میں مولانا کا دوبارہ بھٹکل آنا نہیں ہوا، البتہ منیری صاحب ودیگرمتعلقین سے مراسلتی ربط و تعلق برقرار رہا، ۱۹۷۷ء میں جامعہ اپنی تاریخ کے ایک بدترین بحران سے دوچارہوا اوراپنے عظیم القدرمہتمم کے ساتھ ساتھ قربانی دینے والے چند قیمتی اساتذہ کی تدریسی خدمات سے بھی محروم ہوگیا، ان اساتذہ میں وہ بھی شامل تھے جن کے ہاتھوں میں آئندہ جامعہ کی باگ ڈوردینے کی غرض سے مولانا نے خصوصی تربیت کی تھی، ان ہی ایام میں مولانا کی شریک حیات داغ مفا
این آر سی: ڈریے مت اور ٹھنڈے دماغ سے دفاع کیجیے ... ظفر آغا
کل رات ایک ہندی ٹی وی نیوز چینل پر وزیر داخلہ امت شاہ کا ایک انٹرویو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ امت شاہ بنگال کے دورے پر تھے۔ وہاں ایک انٹرویو میں گفتگو کے دوران وہ این آر سی کے معاملے پر جواب دے رہے تھے۔ اپنے چھوٹے سے انٹرویو میں امت شاہ نے جو بات کہی وہ نہ صرف چونکا دینے والی تھی بلکہ غیر قانونی اور غیر آئینی بات بھی تھی۔ جب ان سے این آر سی کے بارے میں صحافی نے کہا کہ بنگال میں اس معاملے پر خوف پھیل گیا ہے تو ان کا جواب یہ تھا کہ اس سلسلے میں ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن اس سلسلے می
سچی باتیں ۔۔۔ قبوں سے زیادہ اہم اسلام کی حفاظت۔۔۔ از: مولانا عبد الماجد دریا بادی
1925-09-11 آپ کو یاد ہے ، کہ سرور کائناتﷺ کی روحِ پاک نے جب جسد عنصری سے اپنے مرکز اصلی کی جانب پرواز کی ہے تواس کے فورًا بعد اکثر اجل صحابہ کرام کس شغل میں مشغو ل ہوگئے تھے؟ حضرت صدیقؓ ، حضرت فاروقؓ، اور جماعت مہاجرین وانصار کے اکثر فدایان رسولؐ معًا کس کام میںلگ گئے تھے؟ کیا حضورؐ کی تجہیز وتکفین میں؟ کیا جسم مبارک کے غسل دینے میں؟ کیا دفن ونماز جنازہ میں؟ سیرت نبوی کی کوئی سی بھی کتاب اُٹھا کر دیکھ لیجئے، تو معلوم ہوگا ، کہ اکثر صحابہؓ ان میں سے کسی کام میں مشغول نہ ہوئے، بلکہ تجہیز وتکفین ک
خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ سہو کتابت۔۔۔ تحریر: اطہر ہاشمی
محترم نواز احمد اعوان علم دوست شخصیت ہیں۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ قیمتی کتابیں بلا تردد تقسیم کرتے ہیں کہ شاید دوسروں میں بھی مطالعہ کا ذوق پیدا ہو۔ بیشتر صحافی کتابیں خرید کر نہیں پڑھتے اور جو مفت میں مل جائیں ان کی قدر ’’مالِ مفت‘‘ کی طرح کرتے ہیں۔ نواز احمد اعوان جب تک کراچی میں رہے یہ نادر تحفے بھیجتے رہے لیکن لاہور جا کر بھی وہ علم تقسیم کرنے سے باز نہیں آئے۔ ہماری تو دعا ہے کہ وہ اس عادت سے کبھی باز نہ آئیں۔ وہ جو کتابیں عطیہ کرتے ہیں ان کا موضوع عموماً اردو زبان و ادب ہے۔ ارد
محسن کتابیں۔۔۔ تحریر: مولانا اعزاز علی امروہوی۔۔۔ قسط ۰۲
حفظ قرآن سے فراغت کے وقت میری عمر کیا تھی، مجھ کو صحیح یاد نہیں ہے، اس قدر ضرور یاد ہے، کہ بعض بعض لوگ میری موجودگی، میں میری طرف اشارہ کر کے فرمایا کرتے تھے کہ منشی جی(والد مرحوم) نے ازراہ تفاخر اس کو حافظ مشہور کر دیا ہے، ورنہ ایسے صغیر السن بچے کا حافظ ہونا ممکن ہی نہیں ہے!۔ ان صاحبوں کا یہ کہنا کچھ زیادہ غلط بھی نہ تھا، انہیں میرے حفظ قرآن کی حقیقت اس سے معلوم ہو سکتی ہے کہ پہلی دفعہ قرآن شریف تراویح میں سنانے کی تکلیف آج بھی مجھ کو یاد ہے، کہ رمضان المبارک میں سحو
ڈاکٹر عطیہ خلیل عرب۔۔۔ قسط -۰۲--- از: محمد راشد شیخ
علامہ خلیل عرب تمام عمر عربی کے فروغ کے لیے کوشاں رہے ،انھیں شاگردوں میں صحیح عربی ذوق پیدا کرنے کی صلاحیت تھی ۔علامہ کی عربی کے فروغ کی کوششوںکا ذکر مولانا ماہر القادری نے بھی اپنے رسالے فاران بابت اکتوبر ۱۹۶۶ء میں ان الفاظ میں کیا تھا ’’ایک ملاقات میں درس نظامی سے ہٹ کر نئے انداز پر عربی پڑھانے کا ذکر آیااور اس کے بعد علامہ خود غریب خانے پر تشریف لے آئے،عربی نصاب کی کتاب بھی ان کے ساتھ تھی،ہاتھ کے ہاتھ پڑھائی شروع ہوگئی۔چند دن بعد جناب ظفر احمد انصاری کے مکان پر صاحب موصوف،
عظیم معلم، مربی اور اولین معتمد جامعہ۔ ۰۴۔... تحریر: عبد المتین منیری
جامعہ کا قیام ایسے وقت میں ہواجب کہ جماعتی اختلاف کا گھاؤ بھٹکل کے جسم سے ابھی رس رہاتھا، آپ کی نبض شناسی نے اس ادارے کووحدت کاایک نشان بنادیا، ’’خذ ماصفا ودع ماکدر‘‘آپ کامطمح نظررہا، وہ تحریک خلافت کے پروردہ تھے، اختلاف مسلک ومذہب کوبھلا کرمسلمانوں کوایک پلیٹ فارم پرلانے والی ایسی ملی تحریک برصغیرنے نہ پہلے دیکھی ، نہ اس کے بعد ۔ مولانا کا یہی جذبہ تھا جس کے تحت مولانانے اپنے عزیزترین شاگردوں اورجامعہ کی اولین نسل کومولانا محمداسماعیل اکرمی علیہ الرحمہ عرف دھاکلو بھاؤ خلفو قا
ڈاکٹر عطیہ خلیل عرب۔۔۔ قسط -۰۱---- از : محمد راشد شیخ
اگر ہم بر صغیر پاک و ہند کے نامور خاندانوں کے حالات کا مطالعہ کریں تو علم ہوگا کہ پاک و ہند کی دینی و علمی تاریخ میں ایک خاندان ایسا بھی ہے جسے عربی زبان و ادب کا خاص ذوق عطا ہوا اور جس خاندان کے افراد نے عرب سے یہاں منتقل ہوجانے کے باوجودڈیڑھ صدی سے زائد عرصے تک نہ صرف عربی زبان سے اہل زبان جیسا تعلق برقرار رکھا بلکہ عربی کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کیا۔اس خاندان کے افراد اپنے نام کے ساتھ ’’عرب‘‘ کا لاحقہ طویل عرصے سے استعمال کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر عطیہ خلیل عرب مرحومہ اسی خاندان کی ایک نامور ہستی
خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔خصم شوہر، یا دشمن۔۔۔ تحریر: اطہرہاشمی
محترم عبدالمتین منیری ایک خلیجی ریاست سے کبھی کبھی ہماری خبر لیتے رہتے ہیں۔ ان کا 22 ستمبر 2017ء کا ایک محبت نامہ اچانک سامنے آگیا۔ اس میں ایک دلچسپ واقعے کا اعادہ کرنے میں کوئی ہرج ہے نہ حرج۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم جمالیہ عربک کالج، مدراس سے حاصل کی جہاں ذریعہ تعلیم عربی ہے۔ ان کے ایک استاد نے بتایا کہ ’’گول ’ۃ‘ لگانے سے صیغہ مذکر بدل کر مؤنث ہوجاتا ہے‘‘، تو ہم نے بھرے مجمع میں ایک استاد سے دریافت کیا کہ ’’ہل امک حیتہ‘‘ یعنی کیا آپ کی والدہ حية (زندہ) ہیں۔ انہوں نے ’’حی‘‘ پر گول ’ۃ‘ بڑھا کر مؤن
سچی باتین۔۔۔ عظمت کا مطلب؟۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی
1925-09-25 آپ اگر مسلمان ہیں، اگر کلمۂ لاالہ الہ اللہ محمد رسول اللہ پر ایمان رکھتے ہیں، اگر اپنے تئیں امت محمدیہؐ میں داخل سمجھتے ہیں، تو آپ کے نزدیک دنیا کا سب سے بڑا انسان کون ہوسکتاہے؟ کیا آپ کا کوئی دوست؟ کوئی عزیز؟ کوئی بزرگ خاندان؟ کوئی رئیس؟ کوئی بادشاہ؟ کوئی درویش؟ کوئی عالم؟کوئی امام؟ آپ کا اُستاد؟ آپ کا مرشد؟ کوئی مصنف؟ کوئی واعظ؟ کوئی شاعر؟ کوئی ادیب؟ آپ کے خدا نے سب سے بڑا انسان اپنے آخری رسولؐ کو بناکر بھیجاہے، سب سے زیادہ بزرگی وفضیلت اُس وجود پاک کے حصہ میں رکھ دی، جس کے ذریعہ س
محسن کتابیں۔۔۔ تحریر: مولانا اعزاز علی امرہوی۔ قسط ۰۱
مولانا اعزاز علی امروہوی ولادت: بدایوں،یکم محرم ۱۳۰۱ھ مطابق /۲ نومبر ۱۸۸۳ء مشہور تاریخی قصبہ امروہہ( ضلع مراد آباد )کے رہنے والے تھے، مولانا کی عمر ابھی بہت چھوٹی تھی کہ والد صاحب کا بسلسلۂ ملازمت شاہ جہاں پور میں تبادلہ ہوا،یہیں انہوں نے بچپن میں قرآن مجید حفظ کیااور اپنے والد صاحب ہی سے فارسی کی تعلیم حاصل کی،عربی کی ابتدائی تعلیم مدرسہ’’ گلشن فیض‘‘ تلہر( ضلع شاہجہاں پور )میں، مولانا مقصود علی خان سے حاصل کی ،اور متوسط درجے تک مدرسہ عین العلم شاہجہانپور میں، مولانا م
عظیم معلم،مربی اور اولین معتمد جامعہ - ۰۳- تحریر: عبد المتین منیری
جامعہ اسلامیہ بھٹکل کا قیام انجمن ستارہ حسنات اور مدرسہ اسلامیہ کے بند ہونے، پرائمری تعلیم کا نظم ونسق قوم کے ہاتھوں سے مکمل طورپرختم ہونے، بورڈ اسکول کی ناقص کا رکردگی اورتقسیم ہند کے بعد فروغ پانے والے قومی بگاڑنے بھٹکل میں ایک دینی مدرسہ کے قیام کی تحریک کوجنم دیا، اوراﷲ تعالی نے جناب ڈاکٹرملپاعلی صاحب کوتوفیق دی کہ اس تحریک کوآگے بڑھائیں، آپ نے دل درد مند رکھنے والے اپنے دوسرے رفقاء کے ساتھ اس سلسلہ میں مشورہ کیا کہ اگر
خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ چولہے پر چڑھی ہنڈیا، افروختہ۔۔۔ تحریر : اطہر علی ہاشمی
اردو میں استعمال ہونے والے کچھ الفاظ ایسے ہیں جن کے لغوی معنیٰ کچھ اور ہوتے ہیں اور ان کا مفہوم کچھ اور ہوتا ہے۔ ایسے الفاظ زیادہ تر عربی اور فارسی کے ہیں جو اردو میں آئے ہیں، مثال کے طور پر ’’برافروختہ‘‘۔ اس کا مطلب ’’غصے میں بھرا ہوا‘‘ لیا جاتا ہے۔ فارسی کا لفظ ہے لیکن اس کے لغوی معنیٰ ہیں ’’آگ پر رکھا ہوا، جلتا ہوا‘‘۔ آگ پر تو ہنڈیا بھی رکھی جاتی ہے لیکن اسے کوئی برافروختہ نہیں کہتا۔ ’بر‘ سابقہ ہے جس کے متعدد معنیٰ ہیں۔ عربی میں ’بّر‘ بحر کی ضد ہے یعنی خشکی، بیابان، زمین وغیرہ۔ ایک م
عظیم معلم ومربی، اور اولین معتمد جامعہ ۔ قسط ۰۲۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری
مولانا ندوی نے ندوۃالعلماء میں اس سال داخلہ لیا جس سال بھٹکل میں انجمن حامی مسلمین کی بنا پڑی، اتفاقاً مولانا کے شاگرد رشید الحاج محی الدین منیری مرحوم کاسال ولادت بھی یہی ہے، آپ نے مولانا عبدالحی حسنی ؒ کی نظامت کے تین سال دیکھے ، یہ وہ زمانہ تھاجب کہ مولانا آزادکے ’الھلال ‘کی گونج ابھی فضاؤں میں باقی تھی، یہ تحریک خلافت کانقطہ عروج تھا، اورکہنے لگی ’’جی اماں بیٹا جان خلافت پہ دے دو‘‘کانعرہ مستانہ وطن کے ہرسودلوں کوگرمارہاتھا، آزادی کا بگل بج رہا تھا اورپورا ملک آتش فشاں کے مانند
استادِ محترم مولانا عبدالعلیم ندوی مرحوم کی یاد میں ۔ قسط ۰۲۔ ۔۔ از : محمد راشد شیخ ۔کراچی
۔بعض اوقات مولانا کلاس میں اپنے عہد شباب اور دور طالب علمی کے قصے بڑے پرلطف انداز میں بیان کرتے۔ان کی شخصیت میں ایک عجب طرح کی بے تکلفی تھی جس کی بنا پرمولانا کا موڈ دیکھ کرہم طلبہ بھی مولانا سے ہر طرح کے سوالات کرتے۔ ایک مرتبہ ایسی ہی گفتگو کے دوران ایک طالب علم نے پوچھا ’’کیا مولاناسیّد سلیمان ندویؒ آپ کے استاد تھے؟‘‘ مولانا نے کڑک کر جواب دیا ’’سیّد سلیمان ندوی ہمارے استاد تھے نہیں، ہمارے استاد ہیں‘‘۔ استاد ہیں پر خوب زور دیا۔ ۔طلبہ کی ذہنی تربیت کے لیے مولانا اپنی زندگی کے واقعات بھی بڑے د
خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ لغت ،مذکر یا مونث؟۔۔۔ تحریر: اطہر علی ہاشمی
کشمیر کے مسئلے پر ایک جملہ عموماً سننے میں آتا ہے اور فرائیڈے اسپیشل کے ایک اداریے میں بھی جگہ پا گیا کہ ’’کشمیر پر کسی تیسرے ثالث کی ضرورت…‘‘ ضرورت ہے یا نہیں، یہ الگ مسئلہ ہے، لیکن ’’تیسرا ثالث‘‘ تو خود ایک مسئلہ ہے کہ ثالث کہتے ہی تیسرے کو ہیں۔ کہیں کوئی دوسرا ثالث اور چوتھا ثالث نہ لکھ دے۔ ثلث کا مطلب ہے تیسرا حصہ۔ عیسائیوں کا عقیدہ تثلیت تو سنا ہی ہوگا۔ لغت مذکر ہے یا مونث، ہم ایک عرصے سے اُلجھن میں ہیں۔ ایک بار لکھ دیا تھا کہ یہ مذکر ہے ایک ماہرِ لسانیات نے ڈانٹ دیا کہ کیا اس میں تائے تا