Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors
Abdul Haleem Mansoor
Abdul Majid Daryabadi
Abdul Mateen Muniri
Abdur Raqeeb M.J Nadwi
Ahmed Hatib Siddiqui
Asif Jilani
Athar Hashmi
Bhatkallys
Dr Badrul Hasan Qasmi
Dr Haneef Shabab
Dr. F Abdur Rahim
Dr. Tahir Masud
Hafiz Naumani
Kaldip Nayar
Masoom Muradabadi
Masud Ahmed Barkati
Mohammed Mateen Khalid
Muhammed Furqan
Nizamuddin Nadwi
Riyazur Rahman Akrami Nadwi
Suhail Anjum
کورونا سے پہلے بُھکمری مار ڈالے گی... سہیل انجم
’’کورونا سے بڑا خطرہ بھوک ہے۔ اگر کورونا سے بچ بھی گئے تو بھوک نگل لے گی‘‘۔ یہ اور ایسے جملے آج کل ان مزدوروں کی زبانی سننے کو مل رہے ہیں جو دہلی، ممبئی، کولکاتا، چنئی اور ایسے ہی دوسرے شہروں سے بے یار و مددگار اپنے اپنے گھروں کو لوٹنے پر مجبور ہیں۔ وہ یو پی، بہار بنگال سے اپنے گھر چھوڑ کر ان شہروں میں اس لیے آئے تھے کہ اپنے اور اپنے خاندان کے پیٹ کی آگ بجھا سکیں گے۔ محنت مزدوری کریں گے۔ چند پیسے ملیں گے اور دو نوالے حلق کے نیچے اتریں گے۔ لیکن 21 روزہ لاک ڈاؤن نے ان کی زندگی کو ہی لاک ڈاؤن
خدارا گھر بیٹھیے، ورنہ اللہ حافظ!... ظفر آغا
دلوں میں دہشت، آنکھوں میں وحشت، دماغوں میں خوف، سڑکوں پر ہُو کا عالم، اسپتالوں میں ملک الموت کا سایہ، دکانیں بند، بازار خالی، سامانوں کی قلت، ریل گاڑیاں معطل، ہوائی جہاز ہوائی اڈوں پر خاموش کھڑے... بس چرند و پرند کی آوازیں اس سناٹے میں زندگی کا احساس دلاتیں۔ باقی تو یہ جانیے کہ سارے عالم پر موت کا سایہ طاری ہے۔ انسان ایسا بے بس کہ شاہ و گدا سب لاچار۔ برطانیہ کے شہزادے پرنس چارلس اور وہاں کے وزیر اعظم کورونا کے شکار۔ کینیڈا کے صدر سب سے الگ تھلگ۔ امریکہ پر اس وقت کورونا کا قہر عروج پر ہ
خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ قرنطینہ کہاں سے آیا۔۔۔ تحریر: اطہر ہاشمی
آج کل ہر جگہ ’’قرنطینہ‘‘ کا چرچا ہے۔ بعض لوگوں کا گمان ہے کہ یہ عربی کا لفظ ہے جو انگریزی میں کورنٹائن ہوگیا ہے۔ شاید اس کی وجہ قرنطینہ میں ’ق‘ اور ’ط‘ کی موجودگی ہے۔ ’ط‘ عام طور پر عربی کے الفاظ میں استعمال ہوتا ہے۔ تاہم قرنطینہ عربی سے نہیں آیا۔ یہ اطالوی زبان کا لفظ ہے اور اس کی اصل QUARANTINA ہے جو QURANTA سے ماخوذ ہے۔ اس کا مطلب ہے چالیس۔ ابتدا میں قرنطینہ کی مدت 40 دن ہوتی تھی۔ اب یہ مدت بیماری کی نوعیت پر منحصر ہے۔ یورپ کی بیشتر زبانوں میں یہی اطالوی لفظ تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ مستعمل
خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ ’’کے حوالے سے’’ غلط ہے۔۔۔ تحریر: اطہر ہاشمی
ماہرِ لسانیات محترم پروفیسر غازی علم الدین نے ’’ہمارے حوالے سے‘‘ گرفت کی ہے۔ وہ اس سے پہلے بھی توجہ دلا چکے ہیں، لیکن جس طرح ٹی وی چینلوں اور اخبارات میں غلطیاں پختہ ہوگئی ہیں، اسی طرح شاید ہم بھی پختہ ہوچکے ہیں۔ تاہم پروفیسر صاحب کا شکریہ واجب ہے اور آئندہ خیال رکھیں گے۔ وہ میرپور آزاد کشمیر سے لکھتے ہیں کہ ’’آج فرائیڈے اسپیشل کے کچھ پرانے شمارے دیکھ رہا تھا۔ ’’خبر لیجے زباں بگڑی‘‘ میری دل چسپی کا کالم ہے۔ آپ کی قابلِِ قدر تحریروں میں کہیں کہیں ’’کے حوالے سے‘‘ کا استعمال میرے نزدیک
اہل علم کی محسن کتابیں۔۔۔۱۳۔۔۔ مولانا شاہ حلیم عطا سلونی
مولانا شاہ حلیم عطاسلونی ولادت: سلون،(ضلع رائے بریلی،یوپی) ۱۳۱۱ ھ،مطابق ۱۸۹۳ھ سلون کے مشہور خانوادہ کریمیہ کے قابل فخر فرزند تھے۔ تین سو سال سے خانقاہ کریمیہ آباد ہے۔ نسلاً آپ فاروقی تھے۔ آپ نے اپنے چچا شاہ حسام عطا کے زیر تربیت پرورش پائی اور اپنے برادر بزرگ مولانا شاہ نعیم عطا صاحب سے علم حدیث کی تحصیل کی، مولانا شاہ حلیم عطا عبقری ذہن و دماغ کے مالک تھے، آپ قوت حافظہ، وسعت مطالعہ، کثرت معلومات اور علمی استحضار میں دور حاضر کی زندہ مثالوں میں تھے،گویاچلتی پھرتی لائبریری تھے۔علم و مطالع
خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ کِلکل یا کَل کَل؟۔۔۔ تحریر: اطہر علی ہاشمی
انور شعور بہت اچھے شاعر ہی نہیں، زبان و بیان پر بھی پورا عبور رکھتے ہیں۔ ایک اخبار میں روزانہ قطعہ لکھتے ہیں، اور یہ کوئی آسان کام نہیں۔ جمعرات 5 مارچ کو ان کا قطعہ پڑھا جس کا ایک شعر تھا:۔ فقط مہنگائی سے ہے گھر میں کل کل میاں بیوی میں ناچاقی نہیں ہے گھروں میں جو کل کل ہورہی ہے اس کی وجہ مہنگائی ہی ہے۔ تاہم ’کل کل‘ کے دونوں کاف پر بڑے اہتمام سے زبر لگایا گیا ہے یعنی بروزن دلدل۔ ہم سمجھے کہ اپنی قابلیت جھاڑنے کا موقع مل گیا کہ کِل کِل کے دونوں کاف بالکسر ہیں اور زبر لگانے کا سہو
پاکستان جاگیرداری نظام کے چنگل میں۔۔۔ آصف جیلانی
بہت کم لوگ اس بات پر یقین کریں گے کہ جاگیر دارانہ نظام کی تاریخ 5ہزار سال پرانی ہے۔ تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ اس استیصالی نظام کا آغاز اولین انسانی تہذیب کے مرکز، جنوبی عراق میں 2750 سال قبل مسیح ہوا تھا۔ جنوبی عراق اس زمانے میں URUK کہلاتا تھا۔ فرات اور دجلہ کے درمیانی علاقے میں سمیری بادشاہوں کی حکمرانی تھی جنہوں نے اس علاقے میں بارہ شہر بسائے تھے۔ اس علاقے کا دیو قامت بے حد طاقت ور بادشاہ گلگ میش تھا جس نے اپنے شہر کے اردگرد چھ میل لمبی دیوار تعمیر کی تھی۔ عوام کے دفاع اور تحفظ کے اس اقدام ک
سچی باتیں۔۔۔ شادی کی رسومات۔۔۔تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی
1925-02-20 آپ کو اپنے خاندان ، وطن، اور برادری کی شادیوں میں شرکت کا بارہا موقع ملاہوگا۔ آپ نے کبھی یہ خیال کیا، کہ مسلمان لڑکے یا لڑکی کی شادی کا یہی طریقہ ہوناچاہئے؟ آپ کے رسول مقبولؐ، حبیب کبریا، جنہیں ہمارے اورآپ کے عقیدے میںد ونوں جہاں کی عزت ودولت، سرداری وبادشاہی سب کچھ حاصل تھی، بن بیاہے نہ تھے، باقی سب نکاح مرتبۂ رسالت پر فائز ہوچکنے کے بعد ہی کئے تھے، مگر حضورؐ کے کسی نکاح میں وہ دھوم دھام، وہ طویل سلسلۂ رسوم، اور وہ جشن منایاگیا ، جسے آج ہم میں سے ہرمعمولی شخص بھی شادی کے وق
خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ بنات النعش کا ثریا سے عقد منسوخ۔۔۔ اطہر علی ہاشمی
گزشتہ شمارے میں بنات النعش کے حوالے سے امریکہ سے جناب کمال ابدالی نے نہ صرف معلومات میں اضافہ کیا بلکہ بنات النعش کا ایک نام عقد ثریا لکھنے پر اس سے اختلاف کیا ہے۔ ان کی بات صحیح ہے، لیکن اس میں ہمارا قصور نہیں۔ اس مغالطے میں مولانا غلام رسول مہر (مرحوم) نے ڈالا ہے۔ انہوں نے دیوانِ غالب کی شرح میں غالب کے بنات النعش گردوں والے شعر کی تشریح کرتے ہوئے اس کا ایک نام عقد ثریا لکھا ہے۔ ہم نے اس پر اعتبار کیا، ورنہ اردو کی لغات میں بنات النعش اور عقد ثریا الگ الگ ہیں۔ لغت کے مطابق عقد ثریا میں 6 ستا
سچی باتیں۔۔۔ ماہ رجب کی رسومات ۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی
13-02-1925 اسلامی دنیا میں یہ مہینہ رجب کے نام سے موسوم ہے ، ایک ضعیف روایت یہ پھیلی ہوئی ہے کہ رسول خدا ﷺ کی معراج مبارک اسی مہینہ میں ہوئی تھی۔ بہت سے مسلمان اس روایت کو مان کر ، اس مہینہ میں طرح طرح کی خوشی کرتے ، اور بہت سی رسمیں بجا لاتے ہیں۔ اول تو یہ روایت ہی ثبوت کو نہیں پہنچی ہے، لیکن جو لوگ اس کے ماننے ہی پر زور دے رہے ہیں ، ذرا وہ اپنے دل میں سوچیں، کہ اس کے ماننے کے بعد خوشی منانے کا کیا طریقہ ہونا چاہئے۔ آیا وہی جس کے وہ عادی ہیں ، یا کچھ اور ! ایسا نہ ہو کہ ہم خوشی منانے کا کوئی
لفظ کمال کا کمال۔۔۔ تحریر: آصف جیلانی
یکم دسمبر 1965کو جب میرا بی بی سی لندن کی اردو سروس سے رشتہ استوار ہوا تھا تو اُس وقت زبان کے لحاظ سے امجدعلی صاحب اور خالد حسن قادری صاحب نہایت مقتدر ماہر مانے جاتے تھے جن سے میں نے براڈکاسٹنگ کے ہنر کے علاوہ زبان کے معاملہ میں بھی فیض حاصل کیا۔ شام کو پروگرام سے فارغ ہوکر کینٹین میں خالد حسن قادری صاحب کے ساتھ بیٹھ کر اردو کے الفاظ کے جادو اور اسرار و رموز پر گفتگو رہتی تھی اور بات سے بات نکلتی تھی۔ ایک شام پروگرام میں مارک ٹلی کے تبصرے کے بارے میں میں نے کہا کہ بڑے کمال کا تبصرہ تھا۔ قادری ص
سچی باتیں۔۔۔ غلطیوں کا ازالہ۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی
1925-03-16 مسلمانوں کی جنتری میں اس مبار ک مہینہ کا نام شعبانؔ ہے۔ اسے مبارک اس لئے کہاگیاہے ، کہ رسول خدا ﷺ نے اسے ایک خاص عبادت، روزہ کے لئے چن لیاتھا۔ صحیح حدیثوں میں اس مہینے کے روزوں کی بڑی فضیلتیں اور برکتیں وارد ہوئی ہیں۔ اور بعض میں آیاہے ، کہ بعد رمضان کے فرض روزوں کے، رسول خداﷺ جس ماہ میں سب سے زیادہ روزہ رکھتے تھے، وہ یہی ماہ شعبان ہے۔ اسی ماہ کے وسط میں ایک رات ایسی آتی ہے، جس کی بابت یہ روایت آئی ہے ، کہ آپ اس میں اٹھ کر قبرستان تشریف لے جاتے، اور مُردہ مسلمانوں کے حق میں دعا
دہلی فساد: کیا ہم اپنے گریبان میں جھانکنے کے لیے تیار ہیں؟... سہیل انجم
راقم الحروف نے بہت پہلے اپنے ایک مضمون میں یہ اندیشہ ظاہر کیا تھا کہ شہریت ترمیمی قانون کی حمایت اور مخالفت کے نام پر دہلی میں فساد کرانے کی سازش رچی جا رہی ہے۔ راقم کا یہ اندیشہ درست ثابت ہوا اور دہلی کے شمال مشرقی علاقے کو آگ اور خون کے دریا میں تبدیل کر دیا گیا۔ یہ گنتی اب فضول ہے کہ فسادات میں کتنے مرے اور کتنے زخمی ہوئے۔ اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا دہلی کے امن پسند طبقات اور بالخصوص مسلمانوں نے فسادات کے اندیشے کو نظرانداز کر دیا تھا۔ حالانکہ جس طرح جامعہ ملیہ اسلامیہ
خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ خاصا خاصّہ۔۔۔ تحریر: اطہر ہاشمی
کچھ الفاظ ایسے ہیں جن کے بارے میں کئی بار توجہ دلائی گئی ہے، لیکن تحریر و تقریر میں غلط ہی استعمال ہورہے ہیں۔ تحریر سے مراد اخبارات، اور تقریر سے اشارہ ٹی وی چینلز کی طرف ہے۔ مثلاً ایک بڑا اچھا پروگرام ’’حسبِ حال‘‘ آتا ہے جس میں زبان و بیان کا خیال رکھا جاتا ہے، تاہم اگر اوسط (او۔سط) کو اوسط بروزن حیرت نہ کہا جائے تو اور اچھا۔ اسی طرح بعض سیارے ہیں جن کا تلفظ غلط کیا جاتا ہے جیسے ’مِرّیخ‘۔ اس میں ’م‘ بالکسر ہے، بالضم نہیں۔ ’عُطارِد‘ کا تلفظ تو ہم بھی غلط ہی کرتے ہیں، خاصا مشکل ہے۔ عطارد میں پ
انسانِ کامل ۔ ذاکر صاحب۔۔۔ تحریر: آصف جیلانی
میں اپنے آپ کو بے حد خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ میں نے ذاکر صاحب کے زیر شفقت آنکھ کھولی جو نہ صرف اعلی ترین ماہر تعلیم تھے بلکہ ہندوستان کی سیاست کے بھی درخشاں ستارے تھے ۔ انہوں نے اپنا بے مثل سفر ، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شیخ الجامعہ کے عہدہ سے شروع کیا ، آزادی کے بعد انہیں بحران زدہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو سنبھالا دینے کے لئے وایس چانسلر مقرر کیا گیا ، پھر صوبہ بہار کے گورنر کے فرایض سونپے گئے اور اس کے بعد ہندوستان کے نائب صدر کے عہدہ پر فایز کیا گیا اور یہ سفر ہندوستان کی جمہوریہ کے صدر کے اع
خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ سَیر، سیر اور سِیر۔۔۔ تحریر: اطہر ہاشمی
ایک قاری نے استفسار کیا ہے کہ پچھلے شمارے میں لاش اور نعش کا فرق تو سمجھ میں آگیا، لیکن یہ ’’بنات النعش‘‘ کیا ہے؟ بنات تو لڑکیوں کو کہتے ہیں، تو پھر نعش کی لڑکیاں کہاں سے آگئیں؟ انہوں نے غالب کا یہ شعر بھی پیش کردیا کہ:۔ تھیں بنات النعش گردوں دن کو پردے میں نہاں شب کو ان کے جی میں کیا آئی کہ عریاں ہوگئیں موصوف کے خیال میں یہ اگر بنات یا بیٹیاں ہیں تو خواہ کسی کی ہوں، غالب کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ ان کے لیے عریاں کا لفظ استعمال کرتے، گو کہ انہوں نے ان بنات کو رات کے وقت عریاں کیا ہے۔ ان ک
عدم تشدد کے علم بردار ، باشا خان۔۔۔ تحریر: آصف جیلانی
آج بادشاہ خان، عبدالغفار خان کی بتیسویں برسی ہے، اس موقع پر ان کی یادوں کا ہجوم امڈ آیا ہے۔ بلاشبہ یہ میرے لئے ایک اعزاز تھا کہ مجھے عدم تشدد کے علم برداررہنما کی میزبانی اوران کی صحبت نصیب ہوئی جس کی یادیں ایک طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھی گراں قدر خزینہ کی طرح میرے ساتھ ہیں اور گلاب کی طرح تازہ ہیں۔ یہ 1946 کے اوایل کی بات ہے جب میں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ابتدائی جماعت کا طالب علم تھا اور بچوں کی اقامت گا ہ محمود منزل کا مانیٹر تھا۔جامعہ سے بادشاہ خان کا دیرینہ تعلق تھا۔ وہ جب بھی دلی آتے وہ
خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ پول کھلتی ہے یا کھلتا ہے؟۔۔۔ تحریر: اطہر ہاشمی
ایک ٹی وی چینل پر خاتون کسی مقابلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہہ رہی تھیں ’’ہارنا ایک نظر نہ بھایا‘‘۔ محاورہ ہے ’ایک آنکھ نہ بھانا‘۔ محاوروں میں تبدیلی نہیں کی جاتی، گو کہ نظر کا تعلق بھی آنکھ ہی سے ہے۔ آنکھ سے متعلق اردو میں بہت سے محاورے رائج ہیں مثلاً ’’اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہ آنا، دوسرے کی آنکھ کا تنکا دیکھنا‘‘، یہ کام عام طور پر سیاست میں ہوتا ہے۔ آنکھیں ٹھنڈی ہونا یا کرنا، آنکھ لڑجانا، آنکھ بھر آنا، آنکھ اٹھانا، آنکھ اٹھا کر نہ دیکھنا، آنکھیں چرانا، آنکھیں چار ہونا سمیت آنکھ پر ک