Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors
Abdul Haleem Mansoor
Abdul Majid Daryabadi
Abdul Mateen Muniri
Abdur Raqeeb M.J Nadwi
Ahmed Hatib Siddiqui
Asif Jilani
Athar Hashmi
Bhatkallys
Dr Badrul Hasan Qasmi
Dr Haneef Shabab
Dr. F Abdur Rahim
Dr. Tahir Masud
Hafiz Naumani
Kaldip Nayar
Masoom Muradabadi
Masud Ahmed Barkati
Mohammed Mateen Khalid
Muhammed Furqan
Nizamuddin Nadwi
Riyazur Rahman Akrami Nadwi
Suhail Anjum
جب حضور آئے (۷) کعبہ نور سے معمور ہو گیا۔۔۔ مولانا اشرف علی تھانوی رح
" آپ کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ بنت وہب سے روایت ہے کہ جب آپ حمل میں آئے تو ان کو خواب میں بشارت دی گئی کہ تم اس امت کے سردار کے ساتھ حاملہ ہوئی ہو جب وہ پیدا ہوں تو یوں کہنا اعیذہ بالواحد من شر کل حاسد اور اس کا نام محمد رکھنا۔ نیز حمل رہنے کے وقت آپ کی والدہ ماجدہ نے ایک نور دیکھا جس سے شہر بصری علاقہ شام کے محل ان کو نظر آئے۔ &n
جب حضور آئے (۶) ملک و ملکوت میں محفل میلاد۔۔۔ مولانا احمد رضا خان بریلوی رح
' جب زمانہ ولادت شریف کا قریب آیا، تمام ملک و ملکوت میں محفل میلاد تھی۔ عرش پر محفل میلاد، فرش پر محفل میلاد، ملائکہ میں مجلس میلاد ہو رہی تھی۔ خوشیاں مناتے حاضر آئے ہیں، دولہا کا انتظار ہو رہا ہے، جس کے صدقے میں یہ ساری بارات بنائی گئی ہے۔ سبع سماوات میں عرش و فرش پر دھوم مچی ہے۔ ذرا انصاف کرو، تھوڑی سی مجازی قوت والا اپنی مراد حاصل ہونے پر، جس کا مدت سے انتظار ہو، کیا کچھ خوشی کا سامان نہ کرے گا؟ وہ عظیم مقتدا، جو چھ ہزار برس بیشتر بلکہ لاکھوں برس سے ولادت محبوب کے پیش خیمے تیا
جب حضور آئے (۵) فضائیں جھوم اٹھیں۔۔۔ احسان بی اے
"ابھرتے ہوئے سورج کی نرم سنہری شعاعیں لپک لپک کر اور بڑھ بڑھ کر مقدس کعبہ کے غلاف پر اپنے کنوارے بوسے نچھاور کر رہی تھیں، نیلے آسمان کی نیم قوس میں تنی ہوئی سنہری دھوپ سے بہت اونچے نیلے خلاؤں کے عین وسط میں کعبہ کے مقدس کبوتر نقطوں کی طرح گڑے ہوئے معلوم ہوتے تھے، لیکن مکہ ابھی تک نیم خوابی کے عالم میں اونگھ رہا تھا، آج کسی قافلہ کو نہیں آنا تھا، اس لئے مکہ کی آبادی نے اپنے گھروں سے نکلنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی، مکے کے امیر تاجر حریر
جب حضور آئے (۴) عروس کائنات کی مانگ میں موتی بھر گئے۔۔۔۔ مولانا ابو الکلام آزاد
"رات لیلۃ القدر بنی ہوئی نکلی اور خیرمن الف شہر کی بانسری بجاتی ہوئی ساری کائنات میں پھیل گئی۔ موکلان شب قدر نے من کل امر سلام کی سیجیں بچھا دیں۔ ملائیکان ملاء اعلیٰ نے تنزیل الملائکۃ والروح فیہا کی شہنائیاں شام سے بجانی شروع کر دیں۔ حوریں باذن ربہم کے پروانے ہاتھوں میں لے کر فردوس سے چل کھڑی ہوئیں اور ھی حتی مطلع الفجر کی میعادی اجازت نے فرشتگان مغرب کو دنیا میں آنے کی رخصت دے دی۔ تارے نکلے اور طلوع ماہتاب سے پہلے عروس کائنات کی مانگ میں موتی بھر کر غائب ہو گئے۔ چاند نکلا اور اس نے فضائے ع
جب حضور آئے (۳ )قیصر و کسریٰ کے خود ساختہ نظاموں میں زلزلہ۔۔۔۔ مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رح
" انسانیت سرد لاشہ تھی جس میں کہیں روح کی تپش، دل کا سوز اور عشق کی حرارت باقی نہیں رہی تھی۔ انسانیت کی سطح پر خود رو جنگل اگ آیا تھا، ہر طرف جھاڑیاں تھیں، جن میں خونخوار درندے اور زہریلے کیڑے تھے یا دلدل تھیں، جس میں جسم سے لپٹ جانے والی اور خون چوسنے والی جونکیں تھیں۔ اس جنگل میں ہر طرح کا خوفناک جانور، شکاری پرندہ اور دلدلوں میں ہر قسم کی جونک پائی جاتی تھیں لیکن آدم زادوں کی اس بستی میں کوئی آدمی نظر نہیں آتا تھا۔ دفعتاً انسانیت کے اس سرد جسم میں خون کی ایک رو دوڑی، نبض میں حرکت اور
جب حضور آئے (۲) تمام انسانوں کے لئے رحمت۔۔۔۔ مولانا سید ابو الاعلی مودودی رح
" ١٢/ ربیع الاول اللہ تعالیٰ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا جنم دن ہے جو زمین پر بسنے والے تمام انسانوں کے لئے رحمت بن کر آئے، اور وہ اصول اپنی ساتھ لائے جن کی پیروی میں ہر فرد انسانی، ہر قوم و ملک اور تمام نوع انسانی کے لئے یکساں فلاح اور سلامتی ہے۔ یہ دن اگر چہ ہر سال آتا ہے، مگر اب کے سال یہ ایسے نازک موقع پر آیا ہے جب کہ زمین کے باشندے ہمیشہ سے بڑھ کر اس دانائے کامل کی رہنمائی کے محتاج ہیں۔ معلوم نہیں مسٹر برنارڈ شا نے اچھی طرح جان بوجھ کر کہا تھا یا بغیر جانے بوجھے۔ مگر جو کچھ اس ن
جب حضور آئے (۱) زمشرق تا مغرب منور ہوگیا۔۔۔ حافظ ابن کثیر
محمد بن اسحاق کا بیان ہے کہ حضرت آمنہ رسول الله کی والدہ نے ذکر کیا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حمل کے دوران مجھے کسی نے کہا، تیرے شکم میں اس امت کا سید ہے۔جب وہ پیدا ہو تو کہنا میں پناہ مانگتی ہوں، ایک اللہ کے ساتھ، ہر حسد کرنے والے سے، ہر بدخو انسان سے، دفاع کرنے والا میرا دفاع کرے، بے شک وہ حمید اور ماجد کے پاس ہے۔ یہاں تک کہ میں اس کو دیکھوں کہ وہ مشاہد و مجالس میں آئے اور علامت یہ ہے کہ پیدائش کے وقت اس کے ہمراہ ایک نور خارج ہوگا جس سے شام کے علاقہ بصری‘‘ کے محلات
کیجروال حکومت اور ملی پالیسی۔۔۔۔ عبد المتین منیری
کیجروال حکومت اور ملی پالیسی ودود ساجد بڑے منجھے ہوئے صحافی ہیں، اور اپنے کالموں میں امت اسلامیہ ہندیہ جذبات کی درست نمائندگی کرتے ہیں ودود ساجد نے کیجریوال کو اپنے ایک کالم میں جو آئینہ دکھایا ہےاسکی درستگی اپنی جگہ، لیکن الیکشن کے وقت مسلمانوں نے جو فیصلہ کیا تھا وہ بھی درست تھا، اگر دہلی میں مرکزی پارٹی نہ ہارتی تو صورت حال اس سے بہت زیادہ خراب ہوتی ، فرعونیت کا مزید بول بالا ہوتا، یہاں یوپی سے بد تر صورت حال ہوتی،کیونکہ تقسیم ہند کے فورا بعد نہرو اور پٹیل کی کیبینٹ نے فیصلہ کیا تھا کہ دہ
آن لائن دینی تعلیم، چند گزارشات۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری
نصاب تعلیم کے محدود دائرے میں آن لائن تدریس کے سلسلے میں مثبت اور منفی آراء سامنے آرہی ہیں، اس سلسلے میں ہمارے ذہن میں بھی چند باتیں آرہی ہیں۔ ۔ ہمارے دینی نظام تعلیم کا ایک بڑا نقص یہ ہے کہ جو طلبہ یہاں تعلیم پاتے ہیں، وہ زیادہ تر اپنی معاشی صورت حال یا والدین کی خواہش کے تحت آتے ہیں، اور جب وہ سن شعور کو پہنچتے ہیں، تو پھر ان کے سامنے اپنی تعلیم کو جاری رکھنے کے علاوہ دوسرا آپشن نہیں ہوتا۔ چونکہ یہ تعلیم ان کی اختییاری نہیں ہوتی لہذا انہیں اس سے کوئی خاص دلچسپی نہیں ہوتی ، اور کوئی بھی
معاف کرنا مسلمان سمجھ کر پیٹ دیا تھا۔۔۔از:سہیل انجم
”ہاں جی کہاں جا رہے ہو؟“ ”جی اسپتال جا رہا ہوں“۔ ”کیوں اسپتال کیوں جا رہے ہو؟“ ”جی میں شوگر اور بلڈ پریشر کا پرانا مریض ہوں، مجھے دواؤں کی اشد ضرورت ہے“۔ ”تمہیں پتہ نہیں کہ کرونا وائرس کی وجہ سے شہر میں پابندیاں نافذ ہیں؟“ ”جی پتا ہے لیکن کیاں کروں کہ مجھے دواؤں کی ضرورت ہے، اسی لیے اسپتال جا رہا تھا“۔ ”اچھا اگر اپنا بھلا چاہتے ہو تو فوراً واپس جاؤ“۔ ”دیکھیے! مجھے تو دوا ہر حال میں لینی ہے ورنہ میری طبیعت بہت خراب ہو جائے گی“۔ ”زبان چلاتا ہے“ اور پھر پول
اللہ یہ کیسی عید، پروردگار ایسی عید پھر کبھی نہ آئے... ظفر آغا
اللہ، یہ کیسی عید آئی پروردگار! نہ مسجد میں نماز، نہ بازار میں خریداری، نہ چاند رات کی بے چینی، نہ وہ گلے ملنا اور نہ ہی وہ گلے مل کر عطر سے معطر ہو جانا... کچھ بھی تو نہیں۔ گھروں میں بند، سیوئیاں بھی بے مزہ۔ وہ شام کی دعوتیں، وہ گھر گھر جا کر عید ملنا، سب خواب ہو گیا۔ ارے رمضان بھی بس یوں ہی سادہ سا کٹ گیا۔ نا تراویح اور نہ ہی وہ افطار کی رونق۔ اس بار تو جیسے دنیا ہی بدل گئی۔ ایسے میں بھلا عید کی خوشی کیسی اور کوئی عید منائے بھی تو کیسے! عجب عالم ہے اس کورونا وائرس کی وبا سے دنیا کا۔ اور
مذہب اور قومیت۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی
یہ تقریرلکھنئوریڈیواسٹیشن سےجولائی1951ءمیں نشرہوئی،اس میں مولانا نے مذہب اورقومیت کے صحیح حدود بڑے توازن کے ساتھ بیان کیے ہیں، اورایک ایسےلائحہ عمل کی طرف نشان دہی کی ہے جس پرچل کربلاکسی تشویش اورذہنی اضطراب کے اچھی زندگی کامیابی سے گذاری جاسکتی ہے۔ڈاکٹر زبیر احمد صدیقی -------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- "لڑکوں اورنوجوانوں کے لیے توخیرسنی سنائی ہے، لیکن آج کے بڑے بوڑھوں کے لیے 1919ء کی تحریک خلافت وترک موالات آنک
عید الفطر کا پیغام۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابابادی رحمۃ اللہ علیہ
لکھنوریڈیواسٹیشن کی دعوت پرکی گئی ، مولانا مرحوم کی15 منٹ کی یہ تقریر 13نومبر 1939ءکونشرکی گئی۔اس میں قرآن وحدیث کی روشنی میں عیدالفطر کی خصوصیات کااحاطہ لکھنوی سلیس روزمرہ میں کیاگیاہے۔ اللہ اکبر اللہ اکبر لاالٰہ الّااللہ واللہ اکبراللہ اکبر ولِلّٰہ الحمد!آپ نے سنا، یہ ہرمحلّہ سے اورہرگوشہ سے، ہرسڑک سے اورہرچوراہے سے تکبیرکی آوازیں کیسی چلی آرہی ہیں، گویا خدائے واحد کا کلمہ پڑھنے لگے ریت کے ذرّے اورخاک کے بگولے، اوراپنے رب کانام جپنے لگے مکانوں کے درودیواراوردرختوں کے برگ وبار!آپ نے دیکھا یہ
سچی باتیں۔۔ عید کی خوشیوں کے اصلی حقدار۔۔۔ تحریر : مولانا عبد الماجد دریابادی
1927-03-28 عید آرہی ہے۔ آپ کے بچّے (خدا آپ کا سایہ اُن کے سروں پر عرصے تک قائم رکھے) خو ش ہورہے ہیں، کہ نئے نئے رنگین کپڑے پہننے کو ملیں گے، طرح طرح کی مٹھائیاں اور اچھے اچھے کھانے کھانے میں آئیں گے اور عیدگاہ میں نئے نئے کھلونے خرید کریں گے۔ آپ کو اپنے بچوں کی خوشیاں مبارک۔ لیکن یہ بھی کبھی آپ نے سوچاہے، کہ اِن مٹھائیوں اور کھانوں کی لذت کے لَمحوں تک، اور کپڑوں اور کھلونوں کی خوشی کتنی دیر تک قائم رہ سکتی ہے؟ کپڑے مَیلے ہوں گے، کھلونے ٹوٹیں گے، اور مٹھائیاں حلق کے نیچے اُتر جائیں گی۔ اپن
خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ زبان کی کساد بازاری۔۔۔ تحریر: اطہر علی ہاشمی
اردو سیکشن میں دیکھیں آج کل ایک نیا املا پڑھنے میں آرہا ہے مثلاً بلکل، کلعدم، بلخصوص، بلیقین وغیرہ۔ ایک بینک کے بڑے سے اشتہار میں بھی ’’بلکل‘‘ پڑھا۔ یہ کیا لاعلمی ہے، املا آسان کیا جارہا ہے، یا دانستہ بگاڑا جارہا ہے؟ برسوں سے جو املا رائج ہے اسے بدلنے کی شعوری کوشش کی جارہی ہے؟ شاید یہ وجہ ہوکہ بچے ’بالکل‘ کو ’’بال۔ کل‘‘ پڑھتے ہیں۔ عربی حروف کا املا بدلنے کی کوشش رشید حسن خان نے کی تھی جن کا ایک مقصد تھا۔ انھوں نے ’اعلیٰ‘ کو ’’اعلا‘‘ اور ’ادنیٰ‘ کو ’’ادنا‘‘ کردیا، اور اب کہیں کہیں یہ استعمال می
علمائے سلف (۲) افلاس ۔ تحریر مولانا حبیب الرحمن خان شروانی
انسان کا حوصلہ پست کرنے والی اور ہمت کی کمر توڑ دینے والی دنیا میں کوئی چیز غالباً افلاس سے بڑھ کر نہیں ہے۔ مفلسی میں پھنس کر آ دمی عزم کا استحکام اور ارادے کی استواری بالکل کھو بیٹھتا ہے، اور دل و دماغ کی شگفتگی جو تمام بلند خیالیوں کا سر چشمہ ہے قطعاً معدوم ہو جاتی ہے۔ اگر ایک سر سبز چمن کی سیرابی کے سارے ذرائع مسدود کردیے جائیں تو وہ مایۂ بہجت سراپا وحشت بن جائے گا ، اور ظاہر ہے کہ جس چمن کے نشو نما یافتہ گلبن جل ہَیزُمِ خشک ( ہَیزُم خشک : سوکھی لکڑی ، جلانے کی لکڑی ۔ ( نوراللغات) ) ہو
شیخ الحدیث حضرت مولانا سعید احمد پالنپوری کا حادثہ وفات۔۔۔۔ نایاب حسن
مضمون اردو سیکش میں ملاحظہ فرمائیںانگلیاں فگار اپنی،خامہ خوں چکاں اپنا (استاذِ محترم کی یاد میں) نایاب حسن دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث اور کئی نسلوں کے معلم و مربی ،استاذ الاساتذہ حضرت مفتی سعید احمد پالنپوری آج صبح قضائے الہی سے وفات پا گئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔ دل مغموم ہے ،آنکھیں نم ہیں،ذہن پر رنج و غم کے بادل منڈلا رہے ہیں ۔ میں نے ان کی وفات کی خبر قدرے تاخیر سے دیکھی اور دیکھتے ہی ان سے منسوب زمانۂ طالب علمی کی کتنی ہی یادیں ذہن کے پردے پر جھلملانے لگیں ۔ کیا شگفتہ و شاندار انس
سچی باتیں۔۔۔ اولاد کی تربیت۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی
1925-05-08 اولاد کی تربیت اگرآپ خود صاحب اولاد ہیں، یا آپ کے کسی عزیز یا دوست کی اولاد آپ کی نگرانی میں ہے، توآپ نے کبھی ان کی تربیت کی طریقوں پر غور فرمایاہے؟ آپ نے کبھی اندازہ کیاہے، کہ اس سے کتنی اہم ذمہ داریاں آپ پر عائد ہوتی ہیں؟ اور یہ کہ آپ ان ذمہ داریوں کو کس حد تک پوراکررہے ہیں؟ ان بچوں کی آئندہ زندگیوں کا بننا یا بگڑنا، سنورنا یا اُجڑنا، ایک بڑی حد تک آپ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ ہر بچہ دنیا میں فطرت سلیم کے ساتھ قدم رکھتاہے، اس کو سیدھی راہ سے ہٹاکر غلط راستوں پر ڈالنے والے عمومً